صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
اٹھائیس_کا_چاند،اٹھارہ اونٹ اورخواجئہ علم و فن
تحقیق و تعاقب

اٹھائیس_کا_چاند،اٹھارہ اونٹ اورخواجئہ علم و فن

✍️ خلیفۂ حضور تاج الشریعہ مفتی رفیق الاسلام مد ظلہ العالی

اٹھائیس_کا_چاند،اٹھارہ اونٹ اورخواجئہ علم و فن

✍🏼محقق مسائل نادرہ،ماہر اجرام فلکیہ،خلیفئہ حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد رفیق الإسلام صاحب نوری منظری دیناجپوری کی علم و فکر،تحقیق و تدقیق اور دلائل و براہین سے لبریز ایک تحقیقی تحریر ارباب علم و دانش اور فکر و فن کی خدمت میں
آقائے نعمت سیدنا سرکار مفتئ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی پرنور ذات مجمع کرامات سے متعلق اٹھائیسویں چاند کا بھی ایک مشہور و معروف واقعہ بیان کیا جاتا ہے حضور کے مبارک دور میں ہی جس کا کافی شہرہ تھا خاص کر آخری چند سالوں میں بریلی کے زیادہ تر علماء کو اس کا اعتراف تھا بلکہ بیرون بریلی کے علماء کی بھی ایک بڑی اکثریت جس کی معترف تھی کہ سرکار مفتئ اعظم نے فرمایا کہ چاند فنا نہیں ہوتا بلکہ نظروں سے چھپ جاتاہے کافی بلندی سے وہ چھپاہوا چاند اٹھائیس تاریچ میں بھی نظر آسکتاہے ،،اور اس کی رویت کے لئے پاکستانی ہواباز جب فلائٹ سے کرئہ ہوا میں پرواز کر رہے تھے تو انھوں نے اس کا مشاہدہ بھی کیاآپ کے وصال مبارک کے بعد متعدد علماء نے جسے اپنے قلمی خزانے میں محفوظ بھی کیا مثلا ،، تذکرئہ مشائخ قادریہ،،کے حوالے سے منقول امام علم و فن نمبر میں ہے..... چاند دیکھکر روزہ رکھنے اور عید کرنے کا شرعی حکم ہے اور جہاں چاند نظر نہ آئے وہاں شہادت شرعی پر قاضئ شرع حکم دےگا، چاند کو سطح زمین یا ایسی جگہ سے جو زمین سے ملی ہوئ ہو وہاں سے دیکھنا چاہئے، رہا جہاز سے چاند دیکھنا تو یہ غلط ہے کیونکہ چاند غروب ہوتا ہے فنا نہیں ہوتا اس لئے کہیں 29 اور کہیں 30کو نظر آتاہے، اور اگر جہاز اڑاکر چاند دیکھنا شرط ہو تو بلندی پر جانے کے بعد 28،27 کو بھی چاند نظر آ سکتا ہے تو کیا 28،27 تاریخ کو بھی چاند کا حکم دیا جائیگا صفحہ 492۔
امام علم و فن خواجہ مظفر حسین علیہ الرحمۃ نے جس پرایک علمی مقالہ تحریر فرمایا اور تحقیق کی کہ یہ حکم اصول فلکیات سے مطابقت نہیں رکھتا ہے اور اسے عاداتِ تشکلات و مقرراتِ ماہرین کے خلاف قرار دیا، یقینا یہ آپ کا ایک اہم علمی شاہکار ہے جس کی وجہ سے سیدنا مفتئ اعظم علیہ الرحمۃ کے اس مقبول عام حکم میں کچھ حضرات کا اشتباہ کوئی بیجا نہیں لیکن اس واقعہ کی صحت کے قائل کو ،، نادان دوست،، کا خطاب دینا بھی دیانت و انصاف ہرگز نہیں ہے اور نہ ہی کسی علمی شخصیت کو یہ زیبا ہے کہ اس بنیاد پر کسی دوسرے کی تضحیک یا تذلیل کرےحضور خواجئہ علم و فن نے جہاں اس حکم پر اپنے شبہات کا اظہار کیا وہیں سیدنا علی المرتضیٰ کرمہ اللہ تعالی وجہہ الکریم کی طرف منسوب سترہ اونٹ میں ایک ملاکراسےاٹھارہ بنانے اور بلاکسر حصص متعینہ میں تقسیم کے واقعہ کی بھی تردید کی اور اس ایک اونٹ کی شرکت پر اپنے شبہات کوبھی بیان فرمایا۔
جبکہ بلاکسر تسع، ثلث اور نصف پر سترہ اونٹ کی تقسیم عقلا محال تھی اور چاند کے مسئلہ پر یہ استحالہ نہ عقلا ثابت اور نہ ہی شرعا اس پر کوئی استحالہ قائم فرمایا، جبکہ اختلاف مناظر کے لحاظ سے عادتا بھی خارج امکان نہیں شہنشاہ ہندوستان خواجئہ خواجگان حضور خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالی عنہ کے کاسئہ شہنشاہی میں انا ساگر کے سما جانے کو بھی عقلی عینک سے کوئی دیکھ نہیں سکتا ہے بلکہ عادتا اس کا استحالہ ہی ظاہر ہے لیکن کسی بھی سنی صحیح العقیدہ عالم دین نے خلافِ عادت اس واقعہ کو قابل تردید یا تشکیک بتانے کی ابھی تک جرأت نہیں کی اسی طرح آپ کے نعلین کا فضاؤں میں اڑنا اور جوگی کو راہ راست پر لانا بھی خلاف عادت ہے اس لئے اسے کرامتوں میں شمار کیا جاتاہے لہذا کسی بھی صاحب فضل و کمال شخصیت سے منسوب ایسے واقعات کو قابل تردید یا تشکیک کہنا کیونکر مناسب قرار دیا جائے جو نہ شرعا محال اور نہ عقلا محال ہاں جھوٹی نسبت کا حق کسی کو نہیں جبکہ حضور خواجئہ علم و فن کی علمی تحریر سے یہی ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک اس واقعہ کا ثبوت نہیں ہے اور عدمِ ثبوت ثبوتِ عدم نہیں.... اولا آپ نے اس فتوٰی کی طرز بیان کو واضح فرمایا خاص کر وہ جملہ جس کی نسبت سرکار مفتئ اعظم کی طرف تو بڑی بات ایک صحیح اردو داں کے لئے بھی باعث خفت ہے کہ یہاں یہ جملہ شرطیہ صرف بے معنی ہی نہیں بلکہ حقیقی رویت کے برخلاف ہے اور وہ جملہ یہ ہے کہ،، اگرجہاز اڑاکر چاند دیکھنا شرط ہو تو بلندی پر جانے کے بعد الخ
اس فضائی بلندی کی شرط کا یہاں کیا معنی سطح زمین سے رویت میں یہ شرط مفقود ہے پھر یہ جملہ خود سرکار مفتئ اعظم کے اس حکم کے خلاف ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ چاند کو سطح زمین یا ایسی جگہ سے جو زمین سے ملی ہوئی ہو وہاں سے دیکھنا چاہئےکہ فضائی بلندی کی شرط کا وجود یہاں نہیں ہے اور اس شرط کا قائل وہ تو ہو سکتاہے جو سطح زمین کی رویت کا ہی قائل نہ ہو اور فضائی بلندی کی شرط لگا دے تو پھر سرکار مفتئ اعظم نے ایسا کیوں فرمایا :اس بارے یہی انسب و اولٰی ہوگا جو خواجئہ علم و فن نے فرمایا کہ سرکار مفتئ اعظم کی طرف اس کی نسبت درست نہیں جبکہ اس فتوٰی کو اور حضرات نے بھی بیان کیا لیکن باختلاف الفاظ ہر ایک میں یہ جملہ نہیں ہے لہذا ممکن ہے کہ یہ کاتب یا ناقل کی زیادتی کا نتیجہ ہو! جیساکہ آپ کے فرمان کی اور ایک نقل یوں ہے،،شرعا سطح زمین پر چاند دیکھنا معتبر ہے اور جہاز پر سوار ہوکر 29تاریخ کو چاند نظر بھی آجائے تو یہ شرعا معتبر نہیں اس لئے کہ بادلوں کی تہوں سے اوپر جاکر 28،27 کو بھی چاند نظر آ سکتا ہے الخ(امام علم و فن نمبر صفحہ 462)
اس میں وہ شرطیہ جملہ نہیں ہےجبکہ اس طرح کی زیادتی اور نقصان سے شاذ و نادر ہی کوئی قلمکار محفوظ ہے میری نظروں کے سامنے بھی حضور خواجئہ علم و فن کے کچھ تحقیقی اور علمی مقالات موموجود ہیں جن. میں بعض ایسی غلطیاں دیکھنے کو ملیں جو حقیقت میں آپ کی ہرگز نہیں ہو سکتی ہیں بلکہ کتابت یا پھر نقل کا ہی کرشمہ نظر آتی ہیں لیکن ان فرو گزاشت کی وجہ سے یہ کہنا مناسب ہرگز نہیں کہ یہ حضور خواجہ صاحب کے مقالے ہی نہیں ہیں ۔
جہاں تک اصول فلکیات کی روشنی میں اسے دیکھنے کی بات ہے تو پھر اٹھائیس کو چاند کی رویت گرچہ عادۃ کچھ بعید لگ رہی ہے لیکن عقلا و شرعا اسے محال نہیں کہا جا سکتاہےاسے سمجھنے کے لئے چاند کے تغیر حالات و تشکلات قمر کی جانکاری اولین ذمہ داری ہے اس بارے میں تشریح کی یہ عبارت پیش نظر رکھیں
ویختلف اوضاعہ بالقرب والبعد عنھا ففی الاجتماع وجہہ المظلم الینا والمضئ الیھا(شرح التشریح صفحہ 51)یعنی سورج سے قرب یا بعد کی وجہ سے چاند کے حالات بدلتے رہتے ہیں اجتماع میں چاند کا تاریک حصہ ہماری طرف اور روشن حصہ سورج کی طرف ہوتاہے اس حالت میں چاند کے تاریک حصہ کو ہماری طرف ہونے کا مفہوم کوئی باہوش دانشور یہ نہیں بتائیگا کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں اس وقت چاند کا یہ تاریک حصہ ہماری طرف ہی ہوگا ہم چاہیں کرئہ ارض پر ہوں یاکرئہ ہوا پر یا پھر کسی اور سیارے پر کہ یہ محاق کی حالت زمین کے لئے ہے نہ کہ فضائی بلندی کی ہر ایک منزل کے لئےجبکہ زمین کے علاوہ باقی دونوں صورتوں میں یہ حالت صراحۃ باطل ہےلہذا سیدنا سرکار مفتئ اعظم علیہ الرحمۃ کی طرف منسوب یہ فرمان برحق ہےکہ چاند کی رویت زمین سے یا زمین سے متصل کسی جگہ سے ہو ورنہ فضائی بلندی کی رویت کا اگر اعتبار کرلیا جائے تو پھر چاند کے چھپ جانے کا سوال ہی نہیں ہوگا کہ اس بلندی کی کوئی حدبندی ہی نہیں ہے چاہے آدمی چاند پر ہی کیوں نہ چلاجائے پھر محاق کی صورت ایک خواب ہی رہےگی حالانکہ اہل زمین ہر ماہ اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں تو اس سے ظاہر ہوا کہ یہاں لفظ،، الینا،، کا مفہوم الی الارض ہے اور بالفرض وہاں چاند پر اگر کوئی چلاجائے تو پھر اس کا چاند کیساہوگا یہ بھی ایک تفصیل طلب بحث ہے لیکن یہاں اس کی ضرورت نہیں لہذا اس سے صرف نظر کرتے ہوئے ادھر آئیں کہ سطح قمر پر دو دائرے (دائرئہ نور اور دائرئہ رویت) سورج اور زمیں کے مابین جب ایک دوسرے پر منطبق ہو تو وہی حالت محاق ہے اور ان دونوں کے تقاطع سے ہی سبق قمر ہے پھر اسی سے رویت چاند کی ابتداء ہے
اسی کو تشریح میں یوں بتایا گیا واذا بعد عنھا یسیرا رأینا منہ قلیلااس ،،قلیل،، پر اس کی شرح میں ہے بقدر حادۃ مابین دائرتی النور والرویۃ لتقاطعھما بحادتین و منفرجتین و مواجہۃ نصفہ المضئ لمحاذاۃ الشمس لنا بقدر ھذہ الحادۃ(شرح التشریح صفحہ 52)
یہاں اس زاویہ حادہ کی قوس پر رویت اور نور دونوں کا اشتراک ہے جبکہ اس کے مقابل کا حادہ دونوں کے قبضہ سے باہر ہے نہ اس میں رویت کا دخل اور نہ ہی نور کا قبضہ حالانکہ منفرجہ میں سے ایک نور کے قبضہ میں اور دوسرا رویت کے تصرف میں ہے ۔یہ زاویہ حادہ ہر گھڑی ہر اٰن ترقی پذیر رہےگا یہاں تک کہ چاند 90 ڈگری کے فاصلہ پر آجائے جسے وقت تربیع کہا جاتاہے اور مشروطہ عامہ سالبہ کی مثال دی جاتی ہے کہ
لاشئ من القمر بمنخسف بالضرورۃ وقت التربیع اس کے بعد ہی حادہ منفرجہ میں اور منفرجہ حادہ میں بدل جائیگا اور یہ زیادتی 180 ڈگری کے فاصلہ تک برقرار رہے گی.....

رویت ہلال اور ماہرین ہیئت

شریعت طاہرہ نےچاندسے متعلق احکام کا دار و مدار اس کی رویت کو قرار دیاہے نہ کہ صرف سبق قمر کو ، ماہرین ہیئت نے ہر ایک فلک کی حرکت بتادی، سبعہ سیارہ کی چال کو بھی بے نقاب کردیا،ثوابت کے مخفی راز کو بھی واضح کیا، لیکن کسی نے بھی رویت ہلال پر لب کشائی کی جرأت نہیں کی اور نہ ہی اس پر قواعد وضع کئے کہ کس سال، کس مہینہ کے ہلال کی رویت کس دن اور کس بلد میں ہوگی، یہ ماہرین خوب واقف تھے کہ یہ رویت ان کے اختیار سے باہر ہے۔
امام اہلسنت فرماتے ہیں اہل تنجیم میں قرار پایا ہے، کہ جب تک چاند آٹھ درجے آفتاب سے دور نہیں ہوتا ہرگز نظر نہیں آتا، صرح بہ الفاضل الرومی اور جب بارہ درجے جدا ہوتا ہے ضرور نظر آتا ہے نص علیہ علامۃالشریف ،،،،،،،،پر صحیح مذہب میں اس کا کچھ اعتبار نہیں اگرچہ وہ ثقہ عادل ہوں
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، یا وہ کہیں آج رویت نہیں ہو سکتی کل یقینا تیس شعبان ہے پھر آج ہی رویت پر معتبر گواہی گزری فورا قبول کرلینگے، اور کچھ خیال نہ کرینگے، کہ بربنائے ہیئت تو آج رویت ناممکن تھی، گواہ نے دیکھنے میں غلطی کی، یا غلط کہا الخ۔فتاوٰی رضویہ جلد 4 صفحہ 575۔
فاضل رومی کے بیان سے صاف ظاہر ہے کہ درجات بروج میں نیرین کے مابین کم از کم آٹھ درجوں کا بعد لازم و شرط ہے یعنی آٹھ درجوں سے کم بعد استوا میں رویت ہلال محال ہے اور علامہ سید شریف کی صراحت سے ظاہر کہ بارہ درجوں کے اس بعد میں رویت ہلال ضرور ہوگی لیکن آٹھ اور بارہ کے درمیان چار درجوں کی مقدار کو ان حضرات نے ایام شک قرار دیاہے اس شک سے قطع نظر فاضل بریلوی نے صورت استحالہ پر یوں تبصرہ فرمایا ،،یاوہ(اہل تنجیم) کہیں کہ آج رویت نہیں ہو سکتی کل یقینا تیس شعبان ہے (اس لئے کہ غروب آفتاب کے وقت یہ بعد استوا آٹھ درجہ سے کم رہاجس میں رویت محال ہے) پھر آج ہی رویت پر معتبر گواہی گزری فورا قبول کرلینگے (اور اہل تنجیم کے استحالہ کو نظر اندازکردیا جائیگا لہذا شعبان 29 کا قرار پائیگا جسے یہ 30 شعبان بتارہے ہیں وہ رمضان کا پہلا دن ہوگا اس میں روزہ رکھنا فرض ہے )
اسی طرح اصول ہیئت نے بتایا کہ انتیس شعبان کو بوقت غروب آفتاب یہ بعد بارہ درجوں سے زائد ہوگاجس بعد پرعلامہ سیدشریف نے رویت ہلال کو ضروری بتایا لیکن کہیں سے اس رویت کی کوئی شہادت نہیں گزری تو شعبان تیس کا قرار پائیگا اگرچہ علم ہیئت ضروری اعتبار سے اسے رمضان کی پہلی تاریخ بتائے صاف واضح ہوا کہ جب ضرورت اور استحالہ کا یہ حال ہے تو پھر شک کا کیا عالم ہوگا؟ اس لئے تو سرکار اعلی حضرت مزید فرماتے ہیں !حکمائے یونان ان کے قواعد وضع کرچکے، خود بھی ان پر مطمئن نہیں، تصریح کرتے ہیں کہ احوال قمر کا آج تک انضباط نہ ہوا پھر ایسے شاک فی انہ شاک کی بات کا کیا اعتبار ‌۔فتاوٰئ رضویہ جلد 4صفحہ 575..

اٹھائیس کے چاند اور اس کے عدم اعتبار کے بارے میں

سیدناسرکار مفتئ اعظم کی طرف منسوب عبارت میں اٹھائیس کو بھی چاند نظر آیا جبکہ دیکھنے والے بلندی پر تھے اسی کو یا تو ناقابل یقین اور محال کہا گیا یاپھر پاکستانی ان علماء کا فتوٰی بتایا گیا جو علم ہیئت سے نابلد ہوں حالانکہ یہاں ایسے کسی استحالہ کا کوئی وجود نہیں ہے کہ چاند حجاب میں ہوتاہے نہ کہ فنا ہوتاہےاس پر مزید کہا گیا کہ جو چاند زمیں سے نظر نہ آئے تو بلندی سے اس کی رویت اور بھی دشوار ہےہاں زمین کی جس جگہ سے چاند کا نظر آنا دشوار ہو اسی کے اوپر فضائی بلندی سے اسی وقت اس کی رویت دشوار تر ہوگی۔
لیکن وہ چاند اگر اس سے مغربی مقام کا ہے اور دیکھنے والے مشرقی بلندی پر ہیں تو یہ دشواری باطل اہل ہیئت بھی اسی کے شاہد ہیں ممکن ہے کہ ایک مشرقی شہر میں چاند کا نظر آنا ماہرین ہیئت کے نزدیک محال تھا لیکن اس سے مغربی شہر کے لئے محال نہ ہو جیسا کہ امام اہلسنت نے قواعد فلکیہ کو بیان کرتے ہوئے زیچ سلطانی کی یہ عبارت پیش فرمائی اگر بعد معدل میان دہ درجہ و دوازدہ درجہ و بعد سوا ازدہ بیشتر باشد ہلال بتواں دید باریک اگر (نیرین) کے مابین بعد معدل دس بارہ درجوں کے درمیان ہو اور بعد سوا دس درجہ سے زائد ہو تو ہلال باریک نظر آسکتا ہے،بلکہ رویت ہلال کے لئے ان دونوں قیدوں کو شرط قرار دیا گیا ہے جیساکہ اس کی شرح میں علامہ برجندی نے فرمایا،تاہر دوشرط وجود نگیرد ہلال مرئی نشود، اس پر آپ کا فرمان ہے ایک درجہ حرکت وسطی چار دقیقہ میں ہے اور اس مدت میں سبق قمر دو دقیقہ بلکہ کبھی اس سے بھی زائد۔فتاوٰئ رضویہ جلد 4 صفحہ 631
یعنی ایک مقام میں چاند نظر نہ آیا کہ بعد نو درجہ انسٹھ دقیقے کا تھا جو نا کافی ہے کہ شرط رویت مفقود ہے اس سے مغرب میں دوسری آبادی ایک درجہ کے فاصلے پر ہے بمشکل ایک سو گیارہ کلو میٹر کے بعد پر جسے آفتاب چار منٹ میں طئے کرتا ہے اس چار منٹ میں نیرین کے درمیان دو دقیقے کا اور اضافہ ہوا شرط پائی گئی کہ یہ بعد دس درجے سے زائد ہوا اب یہاں رویت ہوئی پھر یہاں سے طریقئہ معہود کے مطابق اس رویت کا ثبوت مشرقی بلد میں ہوا وہاں کے قاضی نے بھی اس پر اعتماد کیا اس پر شرعا کوئ استحالہ نہیں اصول ہیئت کے مطابق یہ چاند جو مغربی آبادی میں نظر آیا ان ہی ماہرین کے مطابق بعد سوا کے وجودِ شرط کے بغیر مشرقی آبادی میں بھی نظر آسکتا ہےجبکہ دیکھنے والے دو ہزار فٹ کی بلندی پر ہوں کہ اس بلندی کا سورج چار منٹ کے بعد غروب ہوگایعنی اگرچہ یہ مشرقی آبادی کے اوپر ہے لیکن غروب آفتاب اور رویت ہلال میں اس کا حکم مغربی آبادی کی طرح ہے جبکہ نہ یہ گواہ مغربی آبادی کے ہیں اور نہ طریقئہ معہود کے حامل،یہی وجہ ہے کہ سرکار مفتئ اعظم نے اس کا اعتبار نہیں کیا اب اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں کہ اگر دلی میں چاند کی رویت ہوئی عام ازیں کہ وہاں یہ رویت عام ہو یا پھر بقدر ضرورت ،تو دلی میں اس کے نفوذ کو اولیت دی جائیگی اس رویت پر کانپور کے قاضئ شرع کے پاس جب تک وہاں سے شہادت شرعیہ یا استفاضہ کی صورت نہیں گزر جاتی تو اسے کوئ حق نہیں کہ اس پر احکام شرع نافذ کرے کہ یہاں نہ رویت ہوئی اور نہ دلی سے یہاں کوئی معتبر خبر آئی جبکہ بلندی سے چاند دیکھنے کا معاملہ بھی اسی طرح ہے کہ جہاں کا چاند ہے وہاں سے نہ کوئی شہادت ہے اور نہ کوئی خبر مستفیض تو پھر اس کا اعتبار کیوں کیا جائے۔

سبق قمر اور فضائی بلندی

اٹھائس تاریخ میں چاند نظر آسکتاہے یا نہیں اس پر اصول ہیئت اور دلائل فلکیات سے یہ دکھایا گیا ہے کہ اس تاریخ میں غروب آفتاب کے وقت چونکہ پوری طرح سے ماہتاب شمسی شعاعوں کی آغوش میں یوں چھپا ہوتاہے کہ نگاہوں میں وہ تاب نہیں کہ ان شمسی شعاعوں کا مقابلہ کر سکیں اور چاند کا دیدار کرسکیں یہاں جب زمین سے اسے دیکھنے میں شعاع بصری بے بس ہو جاتی ہے تو پھر فضائی بلندی میں تو شمسی شعاعیں اور بھی قوی تر ہونگی اس لئے کہ بلندی کی طرف ہر ایک اگلی منزل میں فضائی کثافت میں گراوٹ آتی جائیگی لہذا پھر زمین سے شعاع بصری کی اس بے بسی کے باوجود بلندی سے رویت ہلال کی امید رکھنا کہاں کی دانشمندی ہے۔
حضور خواجئہ علم و فن فرماتے ہیںمیں اشرفی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے بحمدہ تعالی تفسیروں کے حوالوں سے میرے موقف کی تائید فرمائی کہ 28/27 تاریخوں میں بوقت شام کہیں سے بھی چاند نظر نہیں آسکتا، امام علم و فن نمبر صفحہ 538..
حضور خواجئہ علم و فن کی یہ عظیم دور بینی ہے کہ آپ نے چاند کی اس رویت کو ،،بوقت شام،، کی قید سے مقید کردیا اور یقینا 27 کا چاند شام کے وقت روئے زمین کے کہیں سے بھی نظر نہیں آسکتاہے روئے زمین کی قید میں نے اس لئے بڑھائی تاکہ بالفرض جو لوگ سطح چاند پر قدم رکھنے والے ہیں وہ اس سے مستثنی ہوں کہ ان کے لئے چاند کو دیکھنا کسی بھی وقت خلاف ہیئت نہیں اور کسی مخصوص تاریخ کی بھی انھیں ضرورت نہیں لیکن بوقت فجر زمین سے اسی چاند کی رویت سے کسی کو انکار نہیں افق مشرق سے اوپر اس کا دیدار ہو سکتاہے سیدنا سرکار مفتئ اعظم کی طرف منسوب فتوٰی میں،بوقت شام کی قید میں نے نہیں دیکھی لہذا اس فتوٰی سے اس کا کوئی معارضہ نہیں جبکہ یہاں اسی کے ساتھ اٹھائیس کے چاند کا بھی تذکرہ ہے اور پاکستانی ہوا بازوں نے جس چاند کو دیکھا تھا وہ اٹھا ئیس کا ہی بتایا گیا ہے تو یہ چاند افق مشرق کا نہیں بلکہ افق مغرب کا ہی ہوسکتاہے اور وقت فجر میں نہیں بلکہ وقت مغرب کی بات ہی قرین قیاس ہے ۔اس کے بارے میں بھی حضور خواجئہ علم و فن نے یہی فرمایا جو ستائیس کے چاند کے بارے میں بتایا کہ شام کو یہ بھی نظر نہیں آسکتاہے اسی پر ناچیز کا تطفل ہے ۔
بالفرض اس فتوٰی میں اگر ،بوقت شام، کا یہ لفظ بھی ہو تو بھی کوئی استحالہ نہیں کہ اس کا مصداق صرف بعد غروب آفتاب ہوگا ایسا کوئی نہیں کہتاہے قرب غروب کو بھی شام کہا جاتا ہے اور اس میں چاند کا نظر آنا کوئی محال نہیں ہے ۔اگر چہ حضور خواجئہ علم و فن نے یہاں اس رویت کا بھی انکار کیا ہے لیکن ایک دوسرے مضمون میں آپ نے خود اٹھائیس تاریخ کے چاند کو دکھایا ہے۔
فرماتے ہیں : اگرچاند،سورج دونوں ہی کسی ایک چوراہے پر یا اس کے آس پاس پہنچ جائیں تو ایسی صورت میں سورج اور زمین کے درمیان چاند حائل ہونے کی وجہ سورج کی روشنی بتمامہ دھرتی پر نہیں پہنچ پاتی جسے ہم سورج گہن سے یاد کرتے ہیں اور یہ 29/28 اور30 تاریخ قمری ہی میں ہو سکتا ہے ۔،،ہلال اور اس کی رویت،، صفحہ 5۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
تو پھر ہم کیوں کہیں کہ حضور خواجئہ علم و فن نےثابت کر دکھایا ہے کہ اٹھائیس تاریخ کو بوقت شام افق مغرب پر چاند کو دیکھنا محال ہے یا پھر اس کے دکھجانے کے امکان کوخارج کر دیا ہے آپ کے فرمان سے صاف ظاہر ہے کہ سورج گہن میں اس کی روشنی کو روکنے والا بادل یا کوئی اور دوسرا سیارہ نہیں بلکہ چاند ہی ہے جسے زمین والے دیکھتے ہیں تو کیا سورج جب افق مغرب پر ہو تو اس میں گہن لگنا کوئی محال ہے؟
اگر اٹھائس تاریخ میں بوقت شام سورج میں گہن لگا جیساکہ آپ نے فرمایا تو اس پر بادل سا نظر آنے والا یہ چاند ہی تو ہے حضور خواجئہ علم و فن کےاس قدر روشن بیان کے باوجود ہم ان پر الزام کیوں رکھیں کہ آپ نے اٹھائیس تاریخ کو چاند دکھنے کے امکان کو خارج کردیا ہے
ہاں خواجہ صاحب نے اٹھائیس کے جس چاند کی رویت کا انکار کیاہے اس کی حالت یہ نہیں بلکہ دوسری ہے۔
یعنی آپ نے اس چاند کی رویت کا انکار کیا جو کسی مخصوص آبادی کےلئےغروب آفتاب کے وقت اٹھائیس تاریخ میں سورج سے اس قدر دوری پر نہیں تھا جو نظر آسکے اسی چاند کو اگر کوئی طیارہ کےذریعہ اسی مخصوص آبادی کے اوپر پہنچکر دیکھنا چاہے تو یہ ماہرین ہیئت کے نزدیک غیر ممکن ہے نہ کہ مطلقا چاند کا کسی بھی جگہ سے دکھنا،جبکہ اٹھائیس کا چاند تو صبح یا شام کبھی بھی نظر آ سکتا ہے کہ سورج کے گہن کا کوئی خاص وقت متعین نہیں ہے اس گہن کی تکمیل سے سبق قمر کی یہاں ابتداء ہے کہ چاند اور سورج میں بایک وقت دو طرح کی حرکتیں موجود رہتی ہیں ایک طبعی اور غربی جومشرق کو جاری ہے دوسری تبعی اور شرقی جو مغرب کو متوجہ ہے ان دونوں حرکتوں میں سے طبعی حرکت کی پیداوار سبق قمر ہے کہ نیرین کی یہ حرکت برابر نہیں بلکہ ان دونوں حرکتوں میں درجات و دقائق کے اعتبار سے کافی فاصلہ ہے کہ سورج اس حرکت میں جب تک ایک درجہ قطع کرتاہے چاند اسی مدت میں تیرہ درجے بائیس دقیقے آٹھ ثانیہ سے بھی زائد مسافت طئے کرچکا ہوتاہے کہ سورج کی یومیہ مسافت 59دقیقہ 8ثانیہ 21ثالثہ ہے اس کو چوبیس گھنٹے پر تقسیم سے ایک گھنٹہ کی مسافت دو دقیقہ ستائیس ثانیہ پچاس ثالثہ بر آمد ہوئی پھر منٹ کے لئے اس مقدار میں ایک درجہ کا انحطاط لیں تو یہ ایک منٹ میں شمسی حرکت طبعی ہے اور ایک درجہ کی حرکت وسطی تبعی چار منٹ میں ہے جیساکہ فتاوٰئ رضویہ. کے حوالہ سے گزرا لہذا ایک منٹ کی شمسی حرکت کو چار سے ضرب دینے پر ایک درجہ کی حرکت تبعی میں اس کی طبعی حرکت نو ثانیہ چھتیس ثالثہ آئی پھر اسے شمس و قمر کے مابین اس حرکت کے تناسب سے ضرب دینے پر اس میں چاند کی یہ مسافت دو دقیقہ آٹھ ثانیہ اور بتیس ثالثہ کی ہوئی اس سے حرکت شمس کو ساقط کریں تو بر آمد نتیجہ ایک دقیقہ اٹھاون ثانیہ چھپن ثالثہ سبق قمر آیا جو سورج کی تبعی حرکت ایک درجہ سے ظاہر ہے اور عموما بارہ سے پندرہ کلومیٹر کی فضائی بلندی پر طیارے پرواز کر رہے ہیں اس میں غروب آفتاب کے لئے زمین کے اس نصف قطر کی جستجو اولین ذمہ داری ہوگی ہوابازوں کی شعاع بصری نے سطح زمیں پر مغرب میں جس کے ساتھ زاویہ قائمہ بنایا ہے کہ روئے زمیں پر یہاں کا غروب آفتاب ان ہوا بازوں کا بھی غروب آفتاب ہے اور یہاں سے جس ہلال کی رویت بمشکل ہو سکی ہو یہ ہواباز بھی اس کی رویت بآسانی کرسکتے ہیں جبکہ بالعکس ضروری نہیں اس لئے کہ جب نیرین میں فاصلہ کم ہو تو چاند کی رویت میں دشواریاں پیدا کرنے والی اصل میں یہاں شعاع شمس ہے اور سطح زمین سے عالم لیل و نہار کی کثافت ان شعاعوں سے اس قدر مقابلہ کرنے میں ناکافی ہے جس سے وہ باریک ہلال بھی نظر آسکے اور جب تک یہ شعاع شمس کمزور ہوتی اس وقت تک چاند بھی زیر زمین پہنچ چکا ہوتاہے، کہ دونوں میں فاصلہ کم تھا، لیکن بلندی سے اس چاند کو دیکھنے والوں کو اس کثافت کا بھی تعاون حاصل ہے جو ان کی آنکھ اور اس نصف قطر کے درمیان خط شعاع بصری میں واقع ہے جس سے اس خط کا تقاطع زاویہ قائمہ پر ہوا ہے ، یہی وجہ ہے کہ رویت ہلال کا وقت شام کو ہی ہوتا ہے نصف النہار میں نہیں، چاہے اس وقت نیرین میں فاصلہ بارہ ڈگری سے بھی زائد ہوجائے، کہ اس وقت ہوائی کثافت صرف 45 میل طویل ہوتی ہے ، جبکہ غروب کے وقت یہ کثافت 598 میل سے بھی زیادہ طویل ہو جاتی ہے ، اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کثافت جس قدر طویل ہوگی ہلال کی رویت میں آسانی ہوگی....
بالفرض سطح زمین سے ایک طیارہ کی بلندی 15 کلومیٹرہے، اس پر سوار مسافروں کو رویت ہلال کے لئے مزید اس فضائی کثافت کا بھی تعاون حاصل رہےگا جس کا طول اس طیارہ سے اس نصف قطر زمین تک ہے جس نے ان کی شعاع بصری کو زاویہ قائمہ پر قطع کیا ہے یعنی غروب آفتاب کے وقت عالم نسیم میں اس نصف قطر سے ہوائے صافی تک 598 میل سے زائد کا فاصلہ تو پہلے سے ہی موجود تھا اس طیارہ کی بلندی نے اس میں اور جواضافہ کیا اس کی تحصیل میں 15 کلومیٹر اور نصف قطر زمین میں اس کے تناسب پر غور کریں جو 00238. ہے اس میں مرفوع کا الحاق، پھر اس کا اسکوائر
1.00976566 آیا بعد اسقاط مرفوع باقی کا جذر06903.ہے یہی ظل کثافت زائد ہے اس کی مقدار خط استوا میں قریب چار سو پینتیس کلومیٹر ہے سطح زمین کے598 میل میں اس 435 کلومیٹر کی طویل کثافت کا اور اضافہ ہوگا، شعاع شمسی اور شعاع بصری کی اس معرکہ آرائی میں یہ زائد کثافت شعاع بصری کے لئے مددگار ثابت ہوئی پھر ان کے لئے اس چاند کی رویت بھی ممکن ہوئی اہل ہیئت کے نزدیک جو غیر ممکن تھی حالانکہ یہ چاند ان کا اپنا نہیں ہے کہ جس مقام کی فضاء سے یہ مسافر چاند کو دیکھ رہے ہیں وہ اصول ہیئت کے مطابق نیچے سطح زمین سے ممکن ہی نہیں، بلکہ یہ جس مقام کا چاند ہے یہاں سے اس آبادی کا بعد خط استوا میں ساڑھے چارسو کلو میٹر سےبھی زائد ہے
کہ یہ بعد دائرئہ معدل میں تین ڈگری ستاون منٹ کا ہے اور اس کا وقت پندرہ منٹ اڑتالیس سکنڈ ہے، اس مدت میں سبق قمر قریب آٹھ دقیقہ ہے، اس سبق کے باوجود مغرب کے اس بعد میں بھی رویت ہلال آسان نہیں ہے کہ فضائی مسافروں کے پاس 435 کلومیٹر کا ایک ایسا فضائی خورد بین موجود تھا زمینی باشندوں کی دسترس سے جو باہر تھا ۔

اٹھائیس_کا_چاند،اٹھارہ اونٹ اورخواجئہ علم و فن

مضمون نگار: خلیفۂ حضور تاج الشریعہ مفتی رفیق الاسلام مد ظلہ العالی

اٹھائیس_کا_چاند،اٹھارہ اونٹ اورخواجئہ علم و فن

✍🏼محقق مسائل نادرہ،ماہر اجرام فلکیہ،خلیفئہ حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد رفیق الإسلام صاحب نوری منظری دیناجپوری کی علم و فکر،تحقیق و تدقیق اور دلائل و براہین سے لبریز ایک تحقیقی تحریر ارباب علم و دانش اور فکر و فن کی خدمت میں
آقائے نعمت سیدنا سرکار مفتئ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی پرنور ذات مجمع کرامات سے متعلق اٹھائیسویں چاند کا بھی ایک مشہور و معروف واقعہ بیان کیا جاتا ہے حضور کے مبارک دور میں ہی جس کا کافی شہرہ تھا خاص کر آخری چند سالوں میں بریلی کے زیادہ تر علماء کو اس کا اعتراف تھا بلکہ بیرون بریلی کے علماء کی بھی ایک بڑی اکثریت جس کی معترف تھی کہ سرکار مفتئ اعظم نے فرمایا کہ چاند فنا نہیں ہوتا بلکہ نظروں سے چھپ جاتاہے کافی بلندی سے وہ چھپاہوا چاند اٹھائیس تاریچ میں بھی نظر آسکتاہے ،،اور اس کی رویت کے لئے پاکستانی ہواباز جب فلائٹ سے کرئہ ہوا میں پرواز کر رہے تھے تو انھوں نے اس کا مشاہدہ بھی کیاآپ کے وصال مبارک کے بعد متعدد علماء نے جسے اپنے قلمی خزانے میں محفوظ بھی کیا مثلا ،، تذکرئہ مشائخ قادریہ،،کے حوالے سے منقول امام علم و فن نمبر میں ہے..... چاند دیکھکر روزہ رکھنے اور عید کرنے کا شرعی حکم ہے اور جہاں چاند نظر نہ آئے وہاں شہادت شرعی پر قاضئ شرع حکم دےگا، چاند کو سطح زمین یا ایسی جگہ سے جو زمین سے ملی ہوئ ہو وہاں سے دیکھنا چاہئے، رہا جہاز سے چاند دیکھنا تو یہ غلط ہے کیونکہ چاند غروب ہوتا ہے فنا نہیں ہوتا اس لئے کہیں 29 اور کہیں 30کو نظر آتاہے، اور اگر جہاز اڑاکر چاند دیکھنا شرط ہو تو بلندی پر جانے کے بعد 28،27 کو بھی چاند نظر آ سکتا ہے تو کیا 28،27 تاریخ کو بھی چاند کا حکم دیا جائیگا صفحہ 492۔
امام علم و فن خواجہ مظفر حسین علیہ الرحمۃ نے جس پرایک علمی مقالہ تحریر فرمایا اور تحقیق کی کہ یہ حکم اصول فلکیات سے مطابقت نہیں رکھتا ہے اور اسے عاداتِ تشکلات و مقرراتِ ماہرین کے خلاف قرار دیا، یقینا یہ آپ کا ایک اہم علمی شاہکار ہے جس کی وجہ سے سیدنا مفتئ اعظم علیہ الرحمۃ کے اس مقبول عام حکم میں کچھ حضرات کا اشتباہ کوئی بیجا نہیں لیکن اس واقعہ کی صحت کے قائل کو ،، نادان دوست،، کا خطاب دینا بھی دیانت و انصاف ہرگز نہیں ہے اور نہ ہی کسی علمی شخصیت کو یہ زیبا ہے کہ اس بنیاد پر کسی دوسرے کی تضحیک یا تذلیل کرےحضور خواجئہ علم و فن نے جہاں اس حکم پر اپنے شبہات کا اظہار کیا وہیں سیدنا علی المرتضیٰ کرمہ اللہ تعالی وجہہ الکریم کی طرف منسوب سترہ اونٹ میں ایک ملاکراسےاٹھارہ بنانے اور بلاکسر حصص متعینہ میں تقسیم کے واقعہ کی بھی تردید کی اور اس ایک اونٹ کی شرکت پر اپنے شبہات کوبھی بیان فرمایا۔
جبکہ بلاکسر تسع، ثلث اور نصف پر سترہ اونٹ کی تقسیم عقلا محال تھی اور چاند کے مسئلہ پر یہ استحالہ نہ عقلا ثابت اور نہ ہی شرعا اس پر کوئی استحالہ قائم فرمایا، جبکہ اختلاف مناظر کے لحاظ سے عادتا بھی خارج امکان نہیں شہنشاہ ہندوستان خواجئہ خواجگان حضور خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالی عنہ کے کاسئہ شہنشاہی میں انا ساگر کے سما جانے کو بھی عقلی عینک سے کوئی دیکھ نہیں سکتا ہے بلکہ عادتا اس کا استحالہ ہی ظاہر ہے لیکن کسی بھی سنی صحیح العقیدہ عالم دین نے خلافِ عادت اس واقعہ کو قابل تردید یا تشکیک بتانے کی ابھی تک جرأت نہیں کی اسی طرح آپ کے نعلین کا فضاؤں میں اڑنا اور جوگی کو راہ راست پر لانا بھی خلاف عادت ہے اس لئے اسے کرامتوں میں شمار کیا جاتاہے لہذا کسی بھی صاحب فضل و کمال شخصیت سے منسوب ایسے واقعات کو قابل تردید یا تشکیک کہنا کیونکر مناسب قرار دیا جائے جو نہ شرعا محال اور نہ عقلا محال ہاں جھوٹی نسبت کا حق کسی کو نہیں جبکہ حضور خواجئہ علم و فن کی علمی تحریر سے یہی ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک اس واقعہ کا ثبوت نہیں ہے اور عدمِ ثبوت ثبوتِ عدم نہیں.... اولا آپ نے اس فتوٰی کی طرز بیان کو واضح فرمایا خاص کر وہ جملہ جس کی نسبت سرکار مفتئ اعظم کی طرف تو بڑی بات ایک صحیح اردو داں کے لئے بھی باعث خفت ہے کہ یہاں یہ جملہ شرطیہ صرف بے معنی ہی نہیں بلکہ حقیقی رویت کے برخلاف ہے اور وہ جملہ یہ ہے کہ،، اگرجہاز اڑاکر چاند دیکھنا شرط ہو تو بلندی پر جانے کے بعد الخ
اس فضائی بلندی کی شرط کا یہاں کیا معنی سطح زمین سے رویت میں یہ شرط مفقود ہے پھر یہ جملہ خود سرکار مفتئ اعظم کے اس حکم کے خلاف ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ چاند کو سطح زمین یا ایسی جگہ سے جو زمین سے ملی ہوئی ہو وہاں سے دیکھنا چاہئےکہ فضائی بلندی کی شرط کا وجود یہاں نہیں ہے اور اس شرط کا قائل وہ تو ہو سکتاہے جو سطح زمین کی رویت کا ہی قائل نہ ہو اور فضائی بلندی کی شرط لگا دے تو پھر سرکار مفتئ اعظم نے ایسا کیوں فرمایا :اس بارے یہی انسب و اولٰی ہوگا جو خواجئہ علم و فن نے فرمایا کہ سرکار مفتئ اعظم کی طرف اس کی نسبت درست نہیں جبکہ اس فتوٰی کو اور حضرات نے بھی بیان کیا لیکن باختلاف الفاظ ہر ایک میں یہ جملہ نہیں ہے لہذا ممکن ہے کہ یہ کاتب یا ناقل کی زیادتی کا نتیجہ ہو! جیساکہ آپ کے فرمان کی اور ایک نقل یوں ہے،،شرعا سطح زمین پر چاند دیکھنا معتبر ہے اور جہاز پر سوار ہوکر 29تاریخ کو چاند نظر بھی آجائے تو یہ شرعا معتبر نہیں اس لئے کہ بادلوں کی تہوں سے اوپر جاکر 28،27 کو بھی چاند نظر آ سکتا ہے الخ(امام علم و فن نمبر صفحہ 462)
اس میں وہ شرطیہ جملہ نہیں ہےجبکہ اس طرح کی زیادتی اور نقصان سے شاذ و نادر ہی کوئی قلمکار محفوظ ہے میری نظروں کے سامنے بھی حضور خواجئہ علم و فن کے کچھ تحقیقی اور علمی مقالات موموجود ہیں جن. میں بعض ایسی غلطیاں دیکھنے کو ملیں جو حقیقت میں آپ کی ہرگز نہیں ہو سکتی ہیں بلکہ کتابت یا پھر نقل کا ہی کرشمہ نظر آتی ہیں لیکن ان فرو گزاشت کی وجہ سے یہ کہنا مناسب ہرگز نہیں کہ یہ حضور خواجہ صاحب کے مقالے ہی نہیں ہیں ۔
جہاں تک اصول فلکیات کی روشنی میں اسے دیکھنے کی بات ہے تو پھر اٹھائیس کو چاند کی رویت گرچہ عادۃ کچھ بعید لگ رہی ہے لیکن عقلا و شرعا اسے محال نہیں کہا جا سکتاہےاسے سمجھنے کے لئے چاند کے تغیر حالات و تشکلات قمر کی جانکاری اولین ذمہ داری ہے اس بارے میں تشریح کی یہ عبارت پیش نظر رکھیں
ویختلف اوضاعہ بالقرب والبعد عنھا ففی الاجتماع وجہہ المظلم الینا والمضئ الیھا(شرح التشریح صفحہ 51)یعنی سورج سے قرب یا بعد کی وجہ سے چاند کے حالات بدلتے رہتے ہیں اجتماع میں چاند کا تاریک حصہ ہماری طرف اور روشن حصہ سورج کی طرف ہوتاہے اس حالت میں چاند کے تاریک حصہ کو ہماری طرف ہونے کا مفہوم کوئی باہوش دانشور یہ نہیں بتائیگا کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں اس وقت چاند کا یہ تاریک حصہ ہماری طرف ہی ہوگا ہم چاہیں کرئہ ارض پر ہوں یاکرئہ ہوا پر یا پھر کسی اور سیارے پر کہ یہ محاق کی حالت زمین کے لئے ہے نہ کہ فضائی بلندی کی ہر ایک منزل کے لئےجبکہ زمین کے علاوہ باقی دونوں صورتوں میں یہ حالت صراحۃ باطل ہےلہذا سیدنا سرکار مفتئ اعظم علیہ الرحمۃ کی طرف منسوب یہ فرمان برحق ہےکہ چاند کی رویت زمین سے یا زمین سے متصل کسی جگہ سے ہو ورنہ فضائی بلندی کی رویت کا اگر اعتبار کرلیا جائے تو پھر چاند کے چھپ جانے کا سوال ہی نہیں ہوگا کہ اس بلندی کی کوئی حدبندی ہی نہیں ہے چاہے آدمی چاند پر ہی کیوں نہ چلاجائے پھر محاق کی صورت ایک خواب ہی رہےگی حالانکہ اہل زمین ہر ماہ اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں تو اس سے ظاہر ہوا کہ یہاں لفظ،، الینا،، کا مفہوم الی الارض ہے اور بالفرض وہاں چاند پر اگر کوئی چلاجائے تو پھر اس کا چاند کیساہوگا یہ بھی ایک تفصیل طلب بحث ہے لیکن یہاں اس کی ضرورت نہیں لہذا اس سے صرف نظر کرتے ہوئے ادھر آئیں کہ سطح قمر پر دو دائرے (دائرئہ نور اور دائرئہ رویت) سورج اور زمیں کے مابین جب ایک دوسرے پر منطبق ہو تو وہی حالت محاق ہے اور ان دونوں کے تقاطع سے ہی سبق قمر ہے پھر اسی سے رویت چاند کی ابتداء ہے
اسی کو تشریح میں یوں بتایا گیا واذا بعد عنھا یسیرا رأینا منہ قلیلااس ،،قلیل،، پر اس کی شرح میں ہے بقدر حادۃ مابین دائرتی النور والرویۃ لتقاطعھما بحادتین و منفرجتین و مواجہۃ نصفہ المضئ لمحاذاۃ الشمس لنا بقدر ھذہ الحادۃ(شرح التشریح صفحہ 52)
یہاں اس زاویہ حادہ کی قوس پر رویت اور نور دونوں کا اشتراک ہے جبکہ اس کے مقابل کا حادہ دونوں کے قبضہ سے باہر ہے نہ اس میں رویت کا دخل اور نہ ہی نور کا قبضہ حالانکہ منفرجہ میں سے ایک نور کے قبضہ میں اور دوسرا رویت کے تصرف میں ہے ۔یہ زاویہ حادہ ہر گھڑی ہر اٰن ترقی پذیر رہےگا یہاں تک کہ چاند 90 ڈگری کے فاصلہ پر آجائے جسے وقت تربیع کہا جاتاہے اور مشروطہ عامہ سالبہ کی مثال دی جاتی ہے کہ
لاشئ من القمر بمنخسف بالضرورۃ وقت التربیع اس کے بعد ہی حادہ منفرجہ میں اور منفرجہ حادہ میں بدل جائیگا اور یہ زیادتی 180 ڈگری کے فاصلہ تک برقرار رہے گی.....

رویت ہلال اور ماہرین ہیئت

شریعت طاہرہ نےچاندسے متعلق احکام کا دار و مدار اس کی رویت کو قرار دیاہے نہ کہ صرف سبق قمر کو ، ماہرین ہیئت نے ہر ایک فلک کی حرکت بتادی، سبعہ سیارہ کی چال کو بھی بے نقاب کردیا،ثوابت کے مخفی راز کو بھی واضح کیا، لیکن کسی نے بھی رویت ہلال پر لب کشائی کی جرأت نہیں کی اور نہ ہی اس پر قواعد وضع کئے کہ کس سال، کس مہینہ کے ہلال کی رویت کس دن اور کس بلد میں ہوگی، یہ ماہرین خوب واقف تھے کہ یہ رویت ان کے اختیار سے باہر ہے۔
امام اہلسنت فرماتے ہیں اہل تنجیم میں قرار پایا ہے، کہ جب تک چاند آٹھ درجے آفتاب سے دور نہیں ہوتا ہرگز نظر نہیں آتا، صرح بہ الفاضل الرومی اور جب بارہ درجے جدا ہوتا ہے ضرور نظر آتا ہے نص علیہ علامۃالشریف ،،،،،،،،پر صحیح مذہب میں اس کا کچھ اعتبار نہیں اگرچہ وہ ثقہ عادل ہوں
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، یا وہ کہیں آج رویت نہیں ہو سکتی کل یقینا تیس شعبان ہے پھر آج ہی رویت پر معتبر گواہی گزری فورا قبول کرلینگے، اور کچھ خیال نہ کرینگے، کہ بربنائے ہیئت تو آج رویت ناممکن تھی، گواہ نے دیکھنے میں غلطی کی، یا غلط کہا الخ۔فتاوٰی رضویہ جلد 4 صفحہ 575۔
فاضل رومی کے بیان سے صاف ظاہر ہے کہ درجات بروج میں نیرین کے مابین کم از کم آٹھ درجوں کا بعد لازم و شرط ہے یعنی آٹھ درجوں سے کم بعد استوا میں رویت ہلال محال ہے اور علامہ سید شریف کی صراحت سے ظاہر کہ بارہ درجوں کے اس بعد میں رویت ہلال ضرور ہوگی لیکن آٹھ اور بارہ کے درمیان چار درجوں کی مقدار کو ان حضرات نے ایام شک قرار دیاہے اس شک سے قطع نظر فاضل بریلوی نے صورت استحالہ پر یوں تبصرہ فرمایا ،،یاوہ(اہل تنجیم) کہیں کہ آج رویت نہیں ہو سکتی کل یقینا تیس شعبان ہے (اس لئے کہ غروب آفتاب کے وقت یہ بعد استوا آٹھ درجہ سے کم رہاجس میں رویت محال ہے) پھر آج ہی رویت پر معتبر گواہی گزری فورا قبول کرلینگے (اور اہل تنجیم کے استحالہ کو نظر اندازکردیا جائیگا لہذا شعبان 29 کا قرار پائیگا جسے یہ 30 شعبان بتارہے ہیں وہ رمضان کا پہلا دن ہوگا اس میں روزہ رکھنا فرض ہے )
اسی طرح اصول ہیئت نے بتایا کہ انتیس شعبان کو بوقت غروب آفتاب یہ بعد بارہ درجوں سے زائد ہوگاجس بعد پرعلامہ سیدشریف نے رویت ہلال کو ضروری بتایا لیکن کہیں سے اس رویت کی کوئی شہادت نہیں گزری تو شعبان تیس کا قرار پائیگا اگرچہ علم ہیئت ضروری اعتبار سے اسے رمضان کی پہلی تاریخ بتائے صاف واضح ہوا کہ جب ضرورت اور استحالہ کا یہ حال ہے تو پھر شک کا کیا عالم ہوگا؟ اس لئے تو سرکار اعلی حضرت مزید فرماتے ہیں !حکمائے یونان ان کے قواعد وضع کرچکے، خود بھی ان پر مطمئن نہیں، تصریح کرتے ہیں کہ احوال قمر کا آج تک انضباط نہ ہوا پھر ایسے شاک فی انہ شاک کی بات کا کیا اعتبار ‌۔فتاوٰئ رضویہ جلد 4صفحہ 575..

اٹھائیس کے چاند اور اس کے عدم اعتبار کے بارے میں

سیدناسرکار مفتئ اعظم کی طرف منسوب عبارت میں اٹھائیس کو بھی چاند نظر آیا جبکہ دیکھنے والے بلندی پر تھے اسی کو یا تو ناقابل یقین اور محال کہا گیا یاپھر پاکستانی ان علماء کا فتوٰی بتایا گیا جو علم ہیئت سے نابلد ہوں حالانکہ یہاں ایسے کسی استحالہ کا کوئی وجود نہیں ہے کہ چاند حجاب میں ہوتاہے نہ کہ فنا ہوتاہےاس پر مزید کہا گیا کہ جو چاند زمیں سے نظر نہ آئے تو بلندی سے اس کی رویت اور بھی دشوار ہےہاں زمین کی جس جگہ سے چاند کا نظر آنا دشوار ہو اسی کے اوپر فضائی بلندی سے اسی وقت اس کی رویت دشوار تر ہوگی۔
لیکن وہ چاند اگر اس سے مغربی مقام کا ہے اور دیکھنے والے مشرقی بلندی پر ہیں تو یہ دشواری باطل اہل ہیئت بھی اسی کے شاہد ہیں ممکن ہے کہ ایک مشرقی شہر میں چاند کا نظر آنا ماہرین ہیئت کے نزدیک محال تھا لیکن اس سے مغربی شہر کے لئے محال نہ ہو جیسا کہ امام اہلسنت نے قواعد فلکیہ کو بیان کرتے ہوئے زیچ سلطانی کی یہ عبارت پیش فرمائی اگر بعد معدل میان دہ درجہ و دوازدہ درجہ و بعد سوا ازدہ بیشتر باشد ہلال بتواں دید باریک اگر (نیرین) کے مابین بعد معدل دس بارہ درجوں کے درمیان ہو اور بعد سوا دس درجہ سے زائد ہو تو ہلال باریک نظر آسکتا ہے،بلکہ رویت ہلال کے لئے ان دونوں قیدوں کو شرط قرار دیا گیا ہے جیساکہ اس کی شرح میں علامہ برجندی نے فرمایا،تاہر دوشرط وجود نگیرد ہلال مرئی نشود، اس پر آپ کا فرمان ہے ایک درجہ حرکت وسطی چار دقیقہ میں ہے اور اس مدت میں سبق قمر دو دقیقہ بلکہ کبھی اس سے بھی زائد۔فتاوٰئ رضویہ جلد 4 صفحہ 631
یعنی ایک مقام میں چاند نظر نہ آیا کہ بعد نو درجہ انسٹھ دقیقے کا تھا جو نا کافی ہے کہ شرط رویت مفقود ہے اس سے مغرب میں دوسری آبادی ایک درجہ کے فاصلے پر ہے بمشکل ایک سو گیارہ کلو میٹر کے بعد پر جسے آفتاب چار منٹ میں طئے کرتا ہے اس چار منٹ میں نیرین کے درمیان دو دقیقے کا اور اضافہ ہوا شرط پائی گئی کہ یہ بعد دس درجے سے زائد ہوا اب یہاں رویت ہوئی پھر یہاں سے طریقئہ معہود کے مطابق اس رویت کا ثبوت مشرقی بلد میں ہوا وہاں کے قاضی نے بھی اس پر اعتماد کیا اس پر شرعا کوئ استحالہ نہیں اصول ہیئت کے مطابق یہ چاند جو مغربی آبادی میں نظر آیا ان ہی ماہرین کے مطابق بعد سوا کے وجودِ شرط کے بغیر مشرقی آبادی میں بھی نظر آسکتا ہےجبکہ دیکھنے والے دو ہزار فٹ کی بلندی پر ہوں کہ اس بلندی کا سورج چار منٹ کے بعد غروب ہوگایعنی اگرچہ یہ مشرقی آبادی کے اوپر ہے لیکن غروب آفتاب اور رویت ہلال میں اس کا حکم مغربی آبادی کی طرح ہے جبکہ نہ یہ گواہ مغربی آبادی کے ہیں اور نہ طریقئہ معہود کے حامل،یہی وجہ ہے کہ سرکار مفتئ اعظم نے اس کا اعتبار نہیں کیا اب اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں کہ اگر دلی میں چاند کی رویت ہوئی عام ازیں کہ وہاں یہ رویت عام ہو یا پھر بقدر ضرورت ،تو دلی میں اس کے نفوذ کو اولیت دی جائیگی اس رویت پر کانپور کے قاضئ شرع کے پاس جب تک وہاں سے شہادت شرعیہ یا استفاضہ کی صورت نہیں گزر جاتی تو اسے کوئ حق نہیں کہ اس پر احکام شرع نافذ کرے کہ یہاں نہ رویت ہوئی اور نہ دلی سے یہاں کوئی معتبر خبر آئی جبکہ بلندی سے چاند دیکھنے کا معاملہ بھی اسی طرح ہے کہ جہاں کا چاند ہے وہاں سے نہ کوئی شہادت ہے اور نہ کوئی خبر مستفیض تو پھر اس کا اعتبار کیوں کیا جائے۔

سبق قمر اور فضائی بلندی

اٹھائس تاریخ میں چاند نظر آسکتاہے یا نہیں اس پر اصول ہیئت اور دلائل فلکیات سے یہ دکھایا گیا ہے کہ اس تاریخ میں غروب آفتاب کے وقت چونکہ پوری طرح سے ماہتاب شمسی شعاعوں کی آغوش میں یوں چھپا ہوتاہے کہ نگاہوں میں وہ تاب نہیں کہ ان شمسی شعاعوں کا مقابلہ کر سکیں اور چاند کا دیدار کرسکیں یہاں جب زمین سے اسے دیکھنے میں شعاع بصری بے بس ہو جاتی ہے تو پھر فضائی بلندی میں تو شمسی شعاعیں اور بھی قوی تر ہونگی اس لئے کہ بلندی کی طرف ہر ایک اگلی منزل میں فضائی کثافت میں گراوٹ آتی جائیگی لہذا پھر زمین سے شعاع بصری کی اس بے بسی کے باوجود بلندی سے رویت ہلال کی امید رکھنا کہاں کی دانشمندی ہے۔
حضور خواجئہ علم و فن فرماتے ہیںمیں اشرفی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے بحمدہ تعالی تفسیروں کے حوالوں سے میرے موقف کی تائید فرمائی کہ 28/27 تاریخوں میں بوقت شام کہیں سے بھی چاند نظر نہیں آسکتا، امام علم و فن نمبر صفحہ 538..
حضور خواجئہ علم و فن کی یہ عظیم دور بینی ہے کہ آپ نے چاند کی اس رویت کو ،،بوقت شام،، کی قید سے مقید کردیا اور یقینا 27 کا چاند شام کے وقت روئے زمین کے کہیں سے بھی نظر نہیں آسکتاہے روئے زمین کی قید میں نے اس لئے بڑھائی تاکہ بالفرض جو لوگ سطح چاند پر قدم رکھنے والے ہیں وہ اس سے مستثنی ہوں کہ ان کے لئے چاند کو دیکھنا کسی بھی وقت خلاف ہیئت نہیں اور کسی مخصوص تاریخ کی بھی انھیں ضرورت نہیں لیکن بوقت فجر زمین سے اسی چاند کی رویت سے کسی کو انکار نہیں افق مشرق سے اوپر اس کا دیدار ہو سکتاہے سیدنا سرکار مفتئ اعظم کی طرف منسوب فتوٰی میں،بوقت شام کی قید میں نے نہیں دیکھی لہذا اس فتوٰی سے اس کا کوئی معارضہ نہیں جبکہ یہاں اسی کے ساتھ اٹھائیس کے چاند کا بھی تذکرہ ہے اور پاکستانی ہوا بازوں نے جس چاند کو دیکھا تھا وہ اٹھا ئیس کا ہی بتایا گیا ہے تو یہ چاند افق مشرق کا نہیں بلکہ افق مغرب کا ہی ہوسکتاہے اور وقت فجر میں نہیں بلکہ وقت مغرب کی بات ہی قرین قیاس ہے ۔اس کے بارے میں بھی حضور خواجئہ علم و فن نے یہی فرمایا جو ستائیس کے چاند کے بارے میں بتایا کہ شام کو یہ بھی نظر نہیں آسکتاہے اسی پر ناچیز کا تطفل ہے ۔
بالفرض اس فتوٰی میں اگر ،بوقت شام، کا یہ لفظ بھی ہو تو بھی کوئی استحالہ نہیں کہ اس کا مصداق صرف بعد غروب آفتاب ہوگا ایسا کوئی نہیں کہتاہے قرب غروب کو بھی شام کہا جاتا ہے اور اس میں چاند کا نظر آنا کوئی محال نہیں ہے ۔اگر چہ حضور خواجئہ علم و فن نے یہاں اس رویت کا بھی انکار کیا ہے لیکن ایک دوسرے مضمون میں آپ نے خود اٹھائیس تاریخ کے چاند کو دکھایا ہے۔
فرماتے ہیں : اگرچاند،سورج دونوں ہی کسی ایک چوراہے پر یا اس کے آس پاس پہنچ جائیں تو ایسی صورت میں سورج اور زمین کے درمیان چاند حائل ہونے کی وجہ سورج کی روشنی بتمامہ دھرتی پر نہیں پہنچ پاتی جسے ہم سورج گہن سے یاد کرتے ہیں اور یہ 29/28 اور30 تاریخ قمری ہی میں ہو سکتا ہے ۔،،ہلال اور اس کی رویت،، صفحہ 5۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
تو پھر ہم کیوں کہیں کہ حضور خواجئہ علم و فن نےثابت کر دکھایا ہے کہ اٹھائیس تاریخ کو بوقت شام افق مغرب پر چاند کو دیکھنا محال ہے یا پھر اس کے دکھجانے کے امکان کوخارج کر دیا ہے آپ کے فرمان سے صاف ظاہر ہے کہ سورج گہن میں اس کی روشنی کو روکنے والا بادل یا کوئی اور دوسرا سیارہ نہیں بلکہ چاند ہی ہے جسے زمین والے دیکھتے ہیں تو کیا سورج جب افق مغرب پر ہو تو اس میں گہن لگنا کوئی محال ہے؟
اگر اٹھائس تاریخ میں بوقت شام سورج میں گہن لگا جیساکہ آپ نے فرمایا تو اس پر بادل سا نظر آنے والا یہ چاند ہی تو ہے حضور خواجئہ علم و فن کےاس قدر روشن بیان کے باوجود ہم ان پر الزام کیوں رکھیں کہ آپ نے اٹھائیس تاریخ کو چاند دکھنے کے امکان کو خارج کردیا ہے
ہاں خواجہ صاحب نے اٹھائیس کے جس چاند کی رویت کا انکار کیاہے اس کی حالت یہ نہیں بلکہ دوسری ہے۔
یعنی آپ نے اس چاند کی رویت کا انکار کیا جو کسی مخصوص آبادی کےلئےغروب آفتاب کے وقت اٹھائیس تاریخ میں سورج سے اس قدر دوری پر نہیں تھا جو نظر آسکے اسی چاند کو اگر کوئی طیارہ کےذریعہ اسی مخصوص آبادی کے اوپر پہنچکر دیکھنا چاہے تو یہ ماہرین ہیئت کے نزدیک غیر ممکن ہے نہ کہ مطلقا چاند کا کسی بھی جگہ سے دکھنا،جبکہ اٹھائیس کا چاند تو صبح یا شام کبھی بھی نظر آ سکتا ہے کہ سورج کے گہن کا کوئی خاص وقت متعین نہیں ہے اس گہن کی تکمیل سے سبق قمر کی یہاں ابتداء ہے کہ چاند اور سورج میں بایک وقت دو طرح کی حرکتیں موجود رہتی ہیں ایک طبعی اور غربی جومشرق کو جاری ہے دوسری تبعی اور شرقی جو مغرب کو متوجہ ہے ان دونوں حرکتوں میں سے طبعی حرکت کی پیداوار سبق قمر ہے کہ نیرین کی یہ حرکت برابر نہیں بلکہ ان دونوں حرکتوں میں درجات و دقائق کے اعتبار سے کافی فاصلہ ہے کہ سورج اس حرکت میں جب تک ایک درجہ قطع کرتاہے چاند اسی مدت میں تیرہ درجے بائیس دقیقے آٹھ ثانیہ سے بھی زائد مسافت طئے کرچکا ہوتاہے کہ سورج کی یومیہ مسافت 59دقیقہ 8ثانیہ 21ثالثہ ہے اس کو چوبیس گھنٹے پر تقسیم سے ایک گھنٹہ کی مسافت دو دقیقہ ستائیس ثانیہ پچاس ثالثہ بر آمد ہوئی پھر منٹ کے لئے اس مقدار میں ایک درجہ کا انحطاط لیں تو یہ ایک منٹ میں شمسی حرکت طبعی ہے اور ایک درجہ کی حرکت وسطی تبعی چار منٹ میں ہے جیساکہ فتاوٰئ رضویہ. کے حوالہ سے گزرا لہذا ایک منٹ کی شمسی حرکت کو چار سے ضرب دینے پر ایک درجہ کی حرکت تبعی میں اس کی طبعی حرکت نو ثانیہ چھتیس ثالثہ آئی پھر اسے شمس و قمر کے مابین اس حرکت کے تناسب سے ضرب دینے پر اس میں چاند کی یہ مسافت دو دقیقہ آٹھ ثانیہ اور بتیس ثالثہ کی ہوئی اس سے حرکت شمس کو ساقط کریں تو بر آمد نتیجہ ایک دقیقہ اٹھاون ثانیہ چھپن ثالثہ سبق قمر آیا جو سورج کی تبعی حرکت ایک درجہ سے ظاہر ہے اور عموما بارہ سے پندرہ کلومیٹر کی فضائی بلندی پر طیارے پرواز کر رہے ہیں اس میں غروب آفتاب کے لئے زمین کے اس نصف قطر کی جستجو اولین ذمہ داری ہوگی ہوابازوں کی شعاع بصری نے سطح زمیں پر مغرب میں جس کے ساتھ زاویہ قائمہ بنایا ہے کہ روئے زمیں پر یہاں کا غروب آفتاب ان ہوا بازوں کا بھی غروب آفتاب ہے اور یہاں سے جس ہلال کی رویت بمشکل ہو سکی ہو یہ ہواباز بھی اس کی رویت بآسانی کرسکتے ہیں جبکہ بالعکس ضروری نہیں اس لئے کہ جب نیرین میں فاصلہ کم ہو تو چاند کی رویت میں دشواریاں پیدا کرنے والی اصل میں یہاں شعاع شمس ہے اور سطح زمین سے عالم لیل و نہار کی کثافت ان شعاعوں سے اس قدر مقابلہ کرنے میں ناکافی ہے جس سے وہ باریک ہلال بھی نظر آسکے اور جب تک یہ شعاع شمس کمزور ہوتی اس وقت تک چاند بھی زیر زمین پہنچ چکا ہوتاہے، کہ دونوں میں فاصلہ کم تھا، لیکن بلندی سے اس چاند کو دیکھنے والوں کو اس کثافت کا بھی تعاون حاصل ہے جو ان کی آنکھ اور اس نصف قطر کے درمیان خط شعاع بصری میں واقع ہے جس سے اس خط کا تقاطع زاویہ قائمہ پر ہوا ہے ، یہی وجہ ہے کہ رویت ہلال کا وقت شام کو ہی ہوتا ہے نصف النہار میں نہیں، چاہے اس وقت نیرین میں فاصلہ بارہ ڈگری سے بھی زائد ہوجائے، کہ اس وقت ہوائی کثافت صرف 45 میل طویل ہوتی ہے ، جبکہ غروب کے وقت یہ کثافت 598 میل سے بھی زیادہ طویل ہو جاتی ہے ، اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کثافت جس قدر طویل ہوگی ہلال کی رویت میں آسانی ہوگی....
بالفرض سطح زمین سے ایک طیارہ کی بلندی 15 کلومیٹرہے، اس پر سوار مسافروں کو رویت ہلال کے لئے مزید اس فضائی کثافت کا بھی تعاون حاصل رہےگا جس کا طول اس طیارہ سے اس نصف قطر زمین تک ہے جس نے ان کی شعاع بصری کو زاویہ قائمہ پر قطع کیا ہے یعنی غروب آفتاب کے وقت عالم نسیم میں اس نصف قطر سے ہوائے صافی تک 598 میل سے زائد کا فاصلہ تو پہلے سے ہی موجود تھا اس طیارہ کی بلندی نے اس میں اور جواضافہ کیا اس کی تحصیل میں 15 کلومیٹر اور نصف قطر زمین میں اس کے تناسب پر غور کریں جو 00238. ہے اس میں مرفوع کا الحاق، پھر اس کا اسکوائر
1.00976566 آیا بعد اسقاط مرفوع باقی کا جذر06903.ہے یہی ظل کثافت زائد ہے اس کی مقدار خط استوا میں قریب چار سو پینتیس کلومیٹر ہے سطح زمین کے598 میل میں اس 435 کلومیٹر کی طویل کثافت کا اور اضافہ ہوگا، شعاع شمسی اور شعاع بصری کی اس معرکہ آرائی میں یہ زائد کثافت شعاع بصری کے لئے مددگار ثابت ہوئی پھر ان کے لئے اس چاند کی رویت بھی ممکن ہوئی اہل ہیئت کے نزدیک جو غیر ممکن تھی حالانکہ یہ چاند ان کا اپنا نہیں ہے کہ جس مقام کی فضاء سے یہ مسافر چاند کو دیکھ رہے ہیں وہ اصول ہیئت کے مطابق نیچے سطح زمین سے ممکن ہی نہیں، بلکہ یہ جس مقام کا چاند ہے یہاں سے اس آبادی کا بعد خط استوا میں ساڑھے چارسو کلو میٹر سےبھی زائد ہے
کہ یہ بعد دائرئہ معدل میں تین ڈگری ستاون منٹ کا ہے اور اس کا وقت پندرہ منٹ اڑتالیس سکنڈ ہے، اس مدت میں سبق قمر قریب آٹھ دقیقہ ہے، اس سبق کے باوجود مغرب کے اس بعد میں بھی رویت ہلال آسان نہیں ہے کہ فضائی مسافروں کے پاس 435 کلومیٹر کا ایک ایسا فضائی خورد بین موجود تھا زمینی باشندوں کی دسترس سے جو باہر تھا ۔
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

خلیفۂ حضور تاج الشریعہ مفتی رفیق الاسلام مد ظلہ العالی

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
37
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 4
Kalam 1

آئینے میں کھڑا ہوا ایک اجنبی(صدیوں کے جھروکوں سے)

چاند کا سفر

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 45

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 98 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 81 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 63 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 36 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

8 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
45
زمرجات
ادبیات 79
شخصیات اسلاف واخلاف 53
اصلاح معاشرہ 47
تحقیق و تعاقب 34
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 22
سیرت النبی ﷺ 22
تاثرات 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
رد دیوبندیت ووہابیت 12
متفرقات 12
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 9
رد بدمذہباں 6
عبادات 5
رضویات 5
ترغیبات 5
تاریخی حقائق 4
حکایات 4
فقہ، اصول فقہ 4
مبارک شب وروز 4
حدیث واہمیت حدیث 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
اوراد و وظائف 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
ماہ و سال 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢