صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں – قطب شمالی کا چھ ماہ نو دن کا دن — ایک فلکیاتی تحقیق
تحقیق و تعاقب

جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں – قطب شمالی کا چھ ماہ نو دن کا دن — ایک فلکیاتی تحقیق

✍️ خلیفۂ حضور تاج الشریعہ مفتی رفیق الاسلام مد ظلہ العالی

جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں
امام اہلسنت سیدنا سرکار اعلیحضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ارشاد ہےقطب شمالی میں چھ مہینے نو دن کا دن اور نو دن سے کم چھ مہینے کی رات ، اور قطب جنوبی میں بالعکس، اس لئے کہ اوج آفتابی شمالی ہے اور حضیض جنوبی،،،،،،، کوکب کے طلوع اور غروب حرکت شرقیہ فلکیہ سے نہیں بلکہ صرف اپنی حرکت خاصہ سے (فتاوائے رضویہ جلد 11ص38)
یہ امام احمد رضا کی ایک مختصر عبارت ہے، جو بیشمار علمی معدنیات سے بھرپور ہے، اہل بصیرت ہی اس کی پرنور گہرائیوں کا کچھ اندازہ بتا سکتے ہیں، میری بے بضاعتی کی کثافت کو روند کرجو جھلکیات بھی میرے خوابیدہ احساسات کو بیدار کرتی ہیں، اور اس عبارت میں مخفی معدنیات کی جو کرنیں جلوہ گر ہوتی ہیں ، وہ بھی ہند کے راجہ میرے خواجہ کے ،کاسہ میں انا ساگر، کا نمونہ پیش کرتی ہیں،فرماتے ہیں، قطب شمالی میں چھ مہینے نو دن کا دنہمارا مشاہدہ تو یہ ہے کی مشرق سے سورج طلوع کرتاہے، اور مغرب میں غروب ہوتاہے اسی طلوع اور غروب کے درمیان دن کا وجود ہے جبکہ اس کے مقابلہ میں یعنی غروب اور طلوع کے درمیان رات ہے، جب رات و دن کا تعلق اس طلوع اور غروب سے ہے تو وہ انسان جو خط استوٰی پر نہیں بلکہ اس سے شمال یا جنوب میں ہو ہمیشہ اس کا دن اعتدالی نہیں ہوگا، بلکہ کبھی دن رات سے چھوٹا ہوگا اور کبھی بڑا، اس زیادتی اور نقصان کی مقدار کا تعین اس انسان کا عرض بلد کرےگا، یعنی خط استوٰی سے اس انسان کی دوری بتائےگی کہ دن کتنا بڑا ہوگا یا کتنا چھوٹا، سورج جب اعتدال سے انقلاب کا رخ کرے، اور وہ انقلاب موافق عرض انسان ہو تو اس کا دن بڑا ہوگا، اور یہ زیادتی روز بروز ترقی پذیر رہیگی، مثلا سورج انقلاب شمال میں ہے اور انسان بھی عرض شمالی میں تو 20مارچ کے بعد 21جون تک اس کا دن بڑھتا جائیگا اس کے بعد گھٹنا شروع کریگا اور 22ستمبر کے بعد پھر اعتدال میں آئیگا۔
20مارچ سے 21جون تک دن میں جو زیادتی ہو گی پھر اعتدال تک اس میں جو نقصان ہوگا، اسی کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے امام احمد رضا فرماتے ہیں،، قطب شمالی میں نو دن چھ مہینے کا دن،، یعنی خط استوٰی سے شمال کی طرف جس طرح عرض بڑھتا جائیگا اسی طرح دن بھی بڑا ہوتا جائیگا اور اس عرض کے بڑھنے کا یہ تسلسل جب تمام میل شمس کے مطابق تک رسائی کریگا تو سورج غروب ہی نہیں کریگا،
اور یہ عرض کم از کم ساڑھے 66 درجہ کا ہوگا، کہ 22،21جون میں یہان کا سورج غروب ہی نہیں کریگا، یہاں سے قطب شمالی تک دن طویل سے طویل تر ہوتا جائیگا، کہ اور آگے کی رات پہلے سے ہی غائب ہو چکی ہوگی، ساڑھے 66 درجہ سے نوے درجہ قطب شمالی تک ہر اگلے قدم میں دن کی مقدار بڑھتی جائیگی، کرئہ زمیں کے لئے جس کی انتہاء قطب شمالی ہے، یہاں خود جہت کو لالے پڑے ہیں یہاں شمال ہے نہ جنوب ، جنوب تو نقطئہ سمت القدم میں چلا گیا اور شمال سمت الراس میں، یہاں نہ مشرق ہے اور نہ مغرب، جب شرق و غرب ہی نہیں تو پھر طلوعِ شمس اور اس کے غروب کا کیا معنی، یہ اس لئے ہے کہ اس کا دائرئہ افق دائرئہ معدل پر منطبق ہوگا سورج کا کنارہ بالائے افق نظر آئے تو دن ہے ورنہ رات، جبکہ مفروض آبادی قطب شمال میں ہے تو پھر اس کے سورج کا کنارہ معدل سے انقلاب شمالی کی طرف تجاوز کریگا تب ہی وہ کنارہ بالائے افق نظر آ سکتاہے ورنہ نہیں۔
لہذا یہاں کے دن و رات کا تعلق مشرق و مغرب سے نہیں بلکہ اعتدال کے حصئہ بالا و زیرین سے ہے، اس لئے تو اعلی حضرت نے فرمایا،، کوکب کے طلوع اور غروب حرکت شرقیہ فلکیہ سے نہیں بلکہ صرف اپنی حرکت خاصہ سے اور بلا تردد یہی انقلاب شمالی و انقلاب جنوبی بھی ہے، ہمارے مشاہدات میں موسم چار ہیں جبکہ بعض ماہرینِ فلکیات نے خط استوٰی میں آٹھ موسموں کو بیان کیا ہے، جو در حقیقت انھیں چار کی طرف مائل ہیں، ربیع، خریف، صیف اور شتاء،
شتاء کے بعد ربیع اور صیف کے بعد خریف۔ان چاروں موسموں نے دائرۃ البروج کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ہر ایک حصہ میں تین تین مہینے آئے، ان چاروں میں ربیع اور صیف ہمارے لئے شمالی ہیں جبکہ خریف اور شتاء جنوبی، کہ ہم شمالی ہیں اور جنوبی ممالک کے لئے بالعکس، دائرۃ البروج کے اس انقسام کو پیش نظر رکھیں تو ایک شبہ کا ظہور یقینی ہے کہ جب دو موسم جنوبی اور دو شمالی ، اور تین سو پینسٹھ دن پونے چھ گھنٹے کی یہ پوری مسافت ہے، لہذا ربیع اور صیف کی مدت قریب ایک سو پونے تراسی دن کی ہونی چاہئے نہ کہ اس حصہ میں خریف اور شتاء کے مقابلہ میں چھ مہینے پر بھی نو دن زائد؟ اسی احتمالی شبہ کے ازالہ میں امام احمد رضا نے فرمایا،، اس لئے کہ اوج آفتابی شمالی ہے اور حضیض جنوبی۔
اوج میں چونکہ زمین سے بعد بڑھتا ہے اور حضیض میں قرب لہذا اوج کی زیادتی کے ساتھ ساتھ دائرئہ یومیہ کی وسعت بھی زائد ہوگی اور وسعت و رقبہ کی زیادتی سے دائرہ کی مسافت بھی بڑھتی جائےگی، نتیجۃ دن و رات کا مجموعہ چوبیس گھنٹے سے زائد ہوگا یہی وجہ ہے کہ دائرہ یومیہ کی صبح و شام میں اوقات کی زیادتی و نقصان میں تعادل و تناظر کے باوجود نصف النہار ایک ہی جگہ برقرار نہیں رہتاہے، بلکہ بدلتا جاتا ہے، کہ سورج کی تبعی حرکت اگرچہ مسافت کے لحاظ سے ہمیشہ ایک ہی ہے لیکن درجات و دقائق کے لحاظ سے ایک ہرگز نہیں، اس کا مشاہدہ ہمیں اوقاتِ نصف النہار، نصف اللیل، طلوع اور غروب میں بھی بخوبی ہو رہاہے، اوج چونکہ شمالی ہے، لہذا اس اوج میں زیادتی کے ساتھ ساتھ سورج کی تبعی چال میں درجات و دقائق کے لحاظ سے سست روی آتی جائےگی، اور قطب شمالی کا دن بڑا ہوتا جائیگا اسی کے مدنظر امام احمد رضا نے فرمایا قطب شمالی میں چھ مہینے نو دن کا دنیعنی دونو انقلابی دنوں کے مابین اٹھارہ اعتدالی دنوں کا فاصلہ ہوگا، ظاہر ہوا کہ قطب شمالی کا ایک دن ہمارے ایک سو اکانوے دنوں کے برابر ہے، اس کے باوجود اس دن کا بڑھنا اسی مقدار تک محدود نہیں بلکہ یہ دن تو اہل نجوم کا ہے اس میں پورا سورج اب بھی نظر آتا رہے گا ، اہل عرف کو اس سے کیا تعلق کہ یہ نجومی دن تو اس وقت شروع ہوا تھا جب ایک سو اکانوے دن پہلے مرکزشمس کا انطباق نقطئہ اعتدال پر ہوا تھا، پھر ایک سو اکانوے دن بعد اسی انطباق پر آیا تو اہل نجوم کے نزدیک قطب شمالی کا سورج غروب ہو گیا اور قطب جنوبی کا دن شروع ہوا لیکن اہل عرف کے نزدیک یہ دن اور بھی بڑا ہوگا، اسی کی تعلیم دیتے ہوئے فاضل بریلوی نے فرمایاپھر یہ نہار و لیل تنجیمی ہے عرفی لیجئے تو نصف قطر آفتاب اور حصئہ انکسار بڑھکر مقدار نہار میں اور بہت سے دن بڑھ جائینگے، اور نہار شرعی کے لئے اور اٹھارہ درجے کا انحطاط لیجئے تو کئی مہینے مقدار نہار میں شامل یہاں نہار نجومی کے علاوہ سرکار اعلیحضرت نے اور دو دنوں کا تذکرہ فرمایا نہار عرفی اور نہار شرعی، نجومی دن میں طلوع اور غروب کے وقت نصف قطر شمس بالائے افق تھا، اس کا اعتبار شریعت کو ہے نہ ہی عرف کو، جبکہ عرفی دن نجومی دن سے بڑا ہوتا ہے اور شرعی دن تو عرفی دن سے بھی بڑا ہے، عرفی دن میں وہ نصف قطر شمس بھی زیرین افق ہو، جو نجومی نہار میں بالائے افق تھا پھر بھی وہ وقت دن کا حصہ ہے،
اہل عرف میں افق حسی پر سورج کا کوئی بھی کنارہ نظر آئے تو وہ جزء نہار ہے نہ کہ جزء لیل، لہذا اہل عرف کا اعتبار کریں تو اس میں اور بھی کئی دن شامل ہو جائینگے، اس لئے فاضل بریلوی نے فرمایا ،، یہ نہار و لیل تنجیمی ہے عرفی لیجئے تو نصف قطر آفتاب اور حصئہ انکسار مقدار نہار میں شامل ہوکر اور بھی بہت سے دن بڑھ جائینگے یہ نصف قطر شمس تو وہی ہے، سورج کا جو نصف حصہ نجومی دن میں بالائے افق تھا، یہ بھی زیر زمین چلا جائے پھر بھی سورج نظر آئیگا، اس لئے کہ آنکھوں کی شعاعیں جب ہوائے کثیف کو عبور کرتے ہوئے ہوائے صافی میں گزرتی ہیں تو ان دونوں کے ملتقی پر ان شعاعوں میں انکسار ہوتا ہے، اس لئے زیر زمین ہونے کے باوجو سورج ہمیں نظر آتا رہتاہے، جیسے شیشہ کے سامنے شعاعوں میں انکسار کی وجہ سے ہم اپنے پیچھے کی چیزوں کو بھی دیکھ لیتے ہیں، فضاؤں میں اس انکسار کی مقدار امام احمد رضا نے 33دقیقہ فلکیہ بتائی ہے، اس کا وقت دو منٹ بارہ سیکنڈ ہے نصف قطر شمس کے علاوہ آفتاب میں اس 33دقیقے کا انحطاط اور ہو تو ہی وہ رات کا حصہ ہوگا، اور قطب کا افق جب معدل پر منطبق ہے تو نصف قطر شمس اور اس 33دقیقے کا میل جنوبی ہو گا تب ہی عرفی دن کا خاتمہ ہوگا، لہذا شمالی دن میں اور کئی دن شامل ہوکر یہ ایک دن قریب 200اعتدالی دنوں کے برابر ہو جائیگا۔اسی لئے فاضل بریلوی نے فرمایا کہ، عرفی دن لیجئے تو الخ
اس شمالی دن کی زیاتی اب بھی نہیں رکے گی، نہار نجومی سے ہمیں کوئی غرض نہیں اور عرفی دن بھی ہمیں کافی نہیں کہ طلوع صبح صادق سے ہی ہمارے شرعی دن کی ابتداء ہے، یعنی شرع مطہر میں وقت فجر دن کا حصہ ہے رات کا نہیں جبکہ اہل نجوم اور اہل عرف اسے رات کا حصہ مانتے ہیں دن کا نہیں، ہمیں تو اپنا دن بتانا ہے نہ کہ ان دونوں کا؟
اس لئے امام اہلسنت آگے فرماتے ہیں اور نہار شرعی کے لئے اٹھارہ درجے کا انحطاط لیجئے تو کئی مہینے مقدار نہار میں شامل الخاب اس شمالی دن میں گھنٹے اور دن بڑھنے کا سوال نہیں بلکہ مہینے بڑھینگے، لہذا شرعی عینک سے دیکھیں تو یہ ایک نہار شمالی اعتدالی آٹھ مہینے سے بھی بڑا ہوگا، بہر حال یہ دن نجومی لیں عرفی لیں یا پھر شرعی، کرئہ زمیں کے نصف شمال میں دفعۃ واحدۃ اس میں یہ افزودگی نہیں ہوتی ہے، وہ آبادیا خط استوٰی سے جنکی دوریاں بڑھتی جاتی ہیں، اور قطب شمال سے قرب بڑھتاہے، تو میل شمالی کے ساتھ ساتھ دن بھی ان آبادیوں کا بڑا ہوتا جائیگا، یہاں تک کہ عرض 49درجہ شمالی میں 22،21،20 جون کو عشاء کا وقت بھی نہیں ملے گا، عرض 49درجہ سے بھی زیادہ ہو تو رات اور بھی چھوٹی ہوتی جائیگی، ساڑھے 66درجہ کے عرض کا سورج ان تینوں تاریخوں میں غروب ہی نہیں ہوگا، پھر یہاں سے آگے قطب شمالی کی طرف اور قدم بڑھاؤ تو بالائے افق جو اس کی افق سے انتھائی قرب کی منزل ہے اس میں بھی دوری بڑھتی جائیگی، اور یہ افزود گی قطب شمالی میں تمام ہوگی یہیں کا دن سب سے بڑا ہوگا، اللہ تعالی اس عظیم مجدد و محقق کے روضئہ پرانوار پر اپنی رحمتوں کی گہرباری کرے اور اس کے فیوض و برکات کی دولت سے ہم مفلسوں کو بھی مالا مال کرے۔آمین
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
تمھاری شان میں جو کچھ کہوں اس سے سوا تم ہو
قسیمِ جام عرفاں اے شہِ احمد رضا تم ہو
محمد رفیق الاسلام نوری منظری دیناجپوری
الجامعۃ العربیہ غوثیہ شکوریہ بلہور کانپور یوپی

جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں – قطب شمالی کا چھ ماہ نو دن کا دن — ایک فلکیاتی تحقیق

مضمون نگار: خلیفۂ حضور تاج الشریعہ مفتی رفیق الاسلام مد ظلہ العالی

جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں
امام اہلسنت سیدنا سرکار اعلیحضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ارشاد ہےقطب شمالی میں چھ مہینے نو دن کا دن اور نو دن سے کم چھ مہینے کی رات ، اور قطب جنوبی میں بالعکس، اس لئے کہ اوج آفتابی شمالی ہے اور حضیض جنوبی،،،،،،، کوکب کے طلوع اور غروب حرکت شرقیہ فلکیہ سے نہیں بلکہ صرف اپنی حرکت خاصہ سے (فتاوائے رضویہ جلد 11ص38)
یہ امام احمد رضا کی ایک مختصر عبارت ہے، جو بیشمار علمی معدنیات سے بھرپور ہے، اہل بصیرت ہی اس کی پرنور گہرائیوں کا کچھ اندازہ بتا سکتے ہیں، میری بے بضاعتی کی کثافت کو روند کرجو جھلکیات بھی میرے خوابیدہ احساسات کو بیدار کرتی ہیں، اور اس عبارت میں مخفی معدنیات کی جو کرنیں جلوہ گر ہوتی ہیں ، وہ بھی ہند کے راجہ میرے خواجہ کے ،کاسہ میں انا ساگر، کا نمونہ پیش کرتی ہیں،فرماتے ہیں، قطب شمالی میں چھ مہینے نو دن کا دنہمارا مشاہدہ تو یہ ہے کی مشرق سے سورج طلوع کرتاہے، اور مغرب میں غروب ہوتاہے اسی طلوع اور غروب کے درمیان دن کا وجود ہے جبکہ اس کے مقابلہ میں یعنی غروب اور طلوع کے درمیان رات ہے، جب رات و دن کا تعلق اس طلوع اور غروب سے ہے تو وہ انسان جو خط استوٰی پر نہیں بلکہ اس سے شمال یا جنوب میں ہو ہمیشہ اس کا دن اعتدالی نہیں ہوگا، بلکہ کبھی دن رات سے چھوٹا ہوگا اور کبھی بڑا، اس زیادتی اور نقصان کی مقدار کا تعین اس انسان کا عرض بلد کرےگا، یعنی خط استوٰی سے اس انسان کی دوری بتائےگی کہ دن کتنا بڑا ہوگا یا کتنا چھوٹا، سورج جب اعتدال سے انقلاب کا رخ کرے، اور وہ انقلاب موافق عرض انسان ہو تو اس کا دن بڑا ہوگا، اور یہ زیادتی روز بروز ترقی پذیر رہیگی، مثلا سورج انقلاب شمال میں ہے اور انسان بھی عرض شمالی میں تو 20مارچ کے بعد 21جون تک اس کا دن بڑھتا جائیگا اس کے بعد گھٹنا شروع کریگا اور 22ستمبر کے بعد پھر اعتدال میں آئیگا۔
20مارچ سے 21جون تک دن میں جو زیادتی ہو گی پھر اعتدال تک اس میں جو نقصان ہوگا، اسی کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے امام احمد رضا فرماتے ہیں،، قطب شمالی میں نو دن چھ مہینے کا دن،، یعنی خط استوٰی سے شمال کی طرف جس طرح عرض بڑھتا جائیگا اسی طرح دن بھی بڑا ہوتا جائیگا اور اس عرض کے بڑھنے کا یہ تسلسل جب تمام میل شمس کے مطابق تک رسائی کریگا تو سورج غروب ہی نہیں کریگا،
اور یہ عرض کم از کم ساڑھے 66 درجہ کا ہوگا، کہ 22،21جون میں یہان کا سورج غروب ہی نہیں کریگا، یہاں سے قطب شمالی تک دن طویل سے طویل تر ہوتا جائیگا، کہ اور آگے کی رات پہلے سے ہی غائب ہو چکی ہوگی، ساڑھے 66 درجہ سے نوے درجہ قطب شمالی تک ہر اگلے قدم میں دن کی مقدار بڑھتی جائیگی، کرئہ زمیں کے لئے جس کی انتہاء قطب شمالی ہے، یہاں خود جہت کو لالے پڑے ہیں یہاں شمال ہے نہ جنوب ، جنوب تو نقطئہ سمت القدم میں چلا گیا اور شمال سمت الراس میں، یہاں نہ مشرق ہے اور نہ مغرب، جب شرق و غرب ہی نہیں تو پھر طلوعِ شمس اور اس کے غروب کا کیا معنی، یہ اس لئے ہے کہ اس کا دائرئہ افق دائرئہ معدل پر منطبق ہوگا سورج کا کنارہ بالائے افق نظر آئے تو دن ہے ورنہ رات، جبکہ مفروض آبادی قطب شمال میں ہے تو پھر اس کے سورج کا کنارہ معدل سے انقلاب شمالی کی طرف تجاوز کریگا تب ہی وہ کنارہ بالائے افق نظر آ سکتاہے ورنہ نہیں۔
لہذا یہاں کے دن و رات کا تعلق مشرق و مغرب سے نہیں بلکہ اعتدال کے حصئہ بالا و زیرین سے ہے، اس لئے تو اعلی حضرت نے فرمایا،، کوکب کے طلوع اور غروب حرکت شرقیہ فلکیہ سے نہیں بلکہ صرف اپنی حرکت خاصہ سے اور بلا تردد یہی انقلاب شمالی و انقلاب جنوبی بھی ہے، ہمارے مشاہدات میں موسم چار ہیں جبکہ بعض ماہرینِ فلکیات نے خط استوٰی میں آٹھ موسموں کو بیان کیا ہے، جو در حقیقت انھیں چار کی طرف مائل ہیں، ربیع، خریف، صیف اور شتاء،
شتاء کے بعد ربیع اور صیف کے بعد خریف۔ان چاروں موسموں نے دائرۃ البروج کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ہر ایک حصہ میں تین تین مہینے آئے، ان چاروں میں ربیع اور صیف ہمارے لئے شمالی ہیں جبکہ خریف اور شتاء جنوبی، کہ ہم شمالی ہیں اور جنوبی ممالک کے لئے بالعکس، دائرۃ البروج کے اس انقسام کو پیش نظر رکھیں تو ایک شبہ کا ظہور یقینی ہے کہ جب دو موسم جنوبی اور دو شمالی ، اور تین سو پینسٹھ دن پونے چھ گھنٹے کی یہ پوری مسافت ہے، لہذا ربیع اور صیف کی مدت قریب ایک سو پونے تراسی دن کی ہونی چاہئے نہ کہ اس حصہ میں خریف اور شتاء کے مقابلہ میں چھ مہینے پر بھی نو دن زائد؟ اسی احتمالی شبہ کے ازالہ میں امام احمد رضا نے فرمایا،، اس لئے کہ اوج آفتابی شمالی ہے اور حضیض جنوبی۔
اوج میں چونکہ زمین سے بعد بڑھتا ہے اور حضیض میں قرب لہذا اوج کی زیادتی کے ساتھ ساتھ دائرئہ یومیہ کی وسعت بھی زائد ہوگی اور وسعت و رقبہ کی زیادتی سے دائرہ کی مسافت بھی بڑھتی جائےگی، نتیجۃ دن و رات کا مجموعہ چوبیس گھنٹے سے زائد ہوگا یہی وجہ ہے کہ دائرہ یومیہ کی صبح و شام میں اوقات کی زیادتی و نقصان میں تعادل و تناظر کے باوجود نصف النہار ایک ہی جگہ برقرار نہیں رہتاہے، بلکہ بدلتا جاتا ہے، کہ سورج کی تبعی حرکت اگرچہ مسافت کے لحاظ سے ہمیشہ ایک ہی ہے لیکن درجات و دقائق کے لحاظ سے ایک ہرگز نہیں، اس کا مشاہدہ ہمیں اوقاتِ نصف النہار، نصف اللیل، طلوع اور غروب میں بھی بخوبی ہو رہاہے، اوج چونکہ شمالی ہے، لہذا اس اوج میں زیادتی کے ساتھ ساتھ سورج کی تبعی چال میں درجات و دقائق کے لحاظ سے سست روی آتی جائےگی، اور قطب شمالی کا دن بڑا ہوتا جائیگا اسی کے مدنظر امام احمد رضا نے فرمایا قطب شمالی میں چھ مہینے نو دن کا دنیعنی دونو انقلابی دنوں کے مابین اٹھارہ اعتدالی دنوں کا فاصلہ ہوگا، ظاہر ہوا کہ قطب شمالی کا ایک دن ہمارے ایک سو اکانوے دنوں کے برابر ہے، اس کے باوجود اس دن کا بڑھنا اسی مقدار تک محدود نہیں بلکہ یہ دن تو اہل نجوم کا ہے اس میں پورا سورج اب بھی نظر آتا رہے گا ، اہل عرف کو اس سے کیا تعلق کہ یہ نجومی دن تو اس وقت شروع ہوا تھا جب ایک سو اکانوے دن پہلے مرکزشمس کا انطباق نقطئہ اعتدال پر ہوا تھا، پھر ایک سو اکانوے دن بعد اسی انطباق پر آیا تو اہل نجوم کے نزدیک قطب شمالی کا سورج غروب ہو گیا اور قطب جنوبی کا دن شروع ہوا لیکن اہل عرف کے نزدیک یہ دن اور بھی بڑا ہوگا، اسی کی تعلیم دیتے ہوئے فاضل بریلوی نے فرمایاپھر یہ نہار و لیل تنجیمی ہے عرفی لیجئے تو نصف قطر آفتاب اور حصئہ انکسار بڑھکر مقدار نہار میں اور بہت سے دن بڑھ جائینگے، اور نہار شرعی کے لئے اور اٹھارہ درجے کا انحطاط لیجئے تو کئی مہینے مقدار نہار میں شامل یہاں نہار نجومی کے علاوہ سرکار اعلیحضرت نے اور دو دنوں کا تذکرہ فرمایا نہار عرفی اور نہار شرعی، نجومی دن میں طلوع اور غروب کے وقت نصف قطر شمس بالائے افق تھا، اس کا اعتبار شریعت کو ہے نہ ہی عرف کو، جبکہ عرفی دن نجومی دن سے بڑا ہوتا ہے اور شرعی دن تو عرفی دن سے بھی بڑا ہے، عرفی دن میں وہ نصف قطر شمس بھی زیرین افق ہو، جو نجومی نہار میں بالائے افق تھا پھر بھی وہ وقت دن کا حصہ ہے،
اہل عرف میں افق حسی پر سورج کا کوئی بھی کنارہ نظر آئے تو وہ جزء نہار ہے نہ کہ جزء لیل، لہذا اہل عرف کا اعتبار کریں تو اس میں اور بھی کئی دن شامل ہو جائینگے، اس لئے فاضل بریلوی نے فرمایا ،، یہ نہار و لیل تنجیمی ہے عرفی لیجئے تو نصف قطر آفتاب اور حصئہ انکسار مقدار نہار میں شامل ہوکر اور بھی بہت سے دن بڑھ جائینگے یہ نصف قطر شمس تو وہی ہے، سورج کا جو نصف حصہ نجومی دن میں بالائے افق تھا، یہ بھی زیر زمین چلا جائے پھر بھی سورج نظر آئیگا، اس لئے کہ آنکھوں کی شعاعیں جب ہوائے کثیف کو عبور کرتے ہوئے ہوائے صافی میں گزرتی ہیں تو ان دونوں کے ملتقی پر ان شعاعوں میں انکسار ہوتا ہے، اس لئے زیر زمین ہونے کے باوجو سورج ہمیں نظر آتا رہتاہے، جیسے شیشہ کے سامنے شعاعوں میں انکسار کی وجہ سے ہم اپنے پیچھے کی چیزوں کو بھی دیکھ لیتے ہیں، فضاؤں میں اس انکسار کی مقدار امام احمد رضا نے 33دقیقہ فلکیہ بتائی ہے، اس کا وقت دو منٹ بارہ سیکنڈ ہے نصف قطر شمس کے علاوہ آفتاب میں اس 33دقیقے کا انحطاط اور ہو تو ہی وہ رات کا حصہ ہوگا، اور قطب کا افق جب معدل پر منطبق ہے تو نصف قطر شمس اور اس 33دقیقے کا میل جنوبی ہو گا تب ہی عرفی دن کا خاتمہ ہوگا، لہذا شمالی دن میں اور کئی دن شامل ہوکر یہ ایک دن قریب 200اعتدالی دنوں کے برابر ہو جائیگا۔اسی لئے فاضل بریلوی نے فرمایا کہ، عرفی دن لیجئے تو الخ
اس شمالی دن کی زیاتی اب بھی نہیں رکے گی، نہار نجومی سے ہمیں کوئی غرض نہیں اور عرفی دن بھی ہمیں کافی نہیں کہ طلوع صبح صادق سے ہی ہمارے شرعی دن کی ابتداء ہے، یعنی شرع مطہر میں وقت فجر دن کا حصہ ہے رات کا نہیں جبکہ اہل نجوم اور اہل عرف اسے رات کا حصہ مانتے ہیں دن کا نہیں، ہمیں تو اپنا دن بتانا ہے نہ کہ ان دونوں کا؟
اس لئے امام اہلسنت آگے فرماتے ہیں اور نہار شرعی کے لئے اٹھارہ درجے کا انحطاط لیجئے تو کئی مہینے مقدار نہار میں شامل الخاب اس شمالی دن میں گھنٹے اور دن بڑھنے کا سوال نہیں بلکہ مہینے بڑھینگے، لہذا شرعی عینک سے دیکھیں تو یہ ایک نہار شمالی اعتدالی آٹھ مہینے سے بھی بڑا ہوگا، بہر حال یہ دن نجومی لیں عرفی لیں یا پھر شرعی، کرئہ زمیں کے نصف شمال میں دفعۃ واحدۃ اس میں یہ افزودگی نہیں ہوتی ہے، وہ آبادیا خط استوٰی سے جنکی دوریاں بڑھتی جاتی ہیں، اور قطب شمال سے قرب بڑھتاہے، تو میل شمالی کے ساتھ ساتھ دن بھی ان آبادیوں کا بڑا ہوتا جائیگا، یہاں تک کہ عرض 49درجہ شمالی میں 22،21،20 جون کو عشاء کا وقت بھی نہیں ملے گا، عرض 49درجہ سے بھی زیادہ ہو تو رات اور بھی چھوٹی ہوتی جائیگی، ساڑھے 66درجہ کے عرض کا سورج ان تینوں تاریخوں میں غروب ہی نہیں ہوگا، پھر یہاں سے آگے قطب شمالی کی طرف اور قدم بڑھاؤ تو بالائے افق جو اس کی افق سے انتھائی قرب کی منزل ہے اس میں بھی دوری بڑھتی جائیگی، اور یہ افزود گی قطب شمالی میں تمام ہوگی یہیں کا دن سب سے بڑا ہوگا، اللہ تعالی اس عظیم مجدد و محقق کے روضئہ پرانوار پر اپنی رحمتوں کی گہرباری کرے اور اس کے فیوض و برکات کی دولت سے ہم مفلسوں کو بھی مالا مال کرے۔آمین
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
تمھاری شان میں جو کچھ کہوں اس سے سوا تم ہو
قسیمِ جام عرفاں اے شہِ احمد رضا تم ہو
محمد رفیق الاسلام نوری منظری دیناجپوری
الجامعۃ العربیہ غوثیہ شکوریہ بلہور کانپور یوپی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

خلیفۂ حضور تاج الشریعہ مفتی رفیق الاسلام مد ظلہ العالی

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
30
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 4
Kalam 1

چاند کا سفر

سیرت غوث الثقلین اور ان کے علمی و روحانی کمالات

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 45

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 98 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 81 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 63 | Poetry: 60
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 36 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

8 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
45
زمرجات
ادبیات 79
شخصیات اسلاف واخلاف 53
اصلاح معاشرہ 47
تحقیق و تعاقب 34
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 22
سیرت النبی ﷺ 22
تاثرات 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
رد دیوبندیت ووہابیت 12
متفرقات 12
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 9
رد بدمذہباں 6
عبادات 5
رضویات 5
ترغیبات 5
تاریخی حقائق 4
حکایات 4
فقہ، اصول فقہ 4
مبارک شب وروز 4
حدیث واہمیت حدیث 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
اوراد و وظائف 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
ماہ و سال 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢