صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
وہ باتیں جو کہی نہ جا سکیں (صدیوں کے جھروکوں سے)
ادبیات

وہ باتیں جو کہی نہ جا سکیں (صدیوں کے جھروکوں سے)

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

وہ باتیں جو کہی نہ جا سکیں (صدیوں کے جھروکوں سے)
انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے، مگر ہر بات زبان تک نہیں پہنچ پاتی۔ کچھ احساسات دل کی گہرائیوں میں جنم لیتے ہیں، آنکھوں کی دہلیز تک آتے ہیں، ایک لمحے کو ٹھہرتے ہیں اور پھر خاموشی کی چادر اوڑھ کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ کچھ الفاظ ہونٹوں تک آ کر اس لیے رک جاتے ہیں کہ شاید وقت مناسب نہیں تھا، شاید سامنے والا سمجھنے والا نہیں تھا، یا شاید دل کو خوف تھا کہ جو بات برسوں سے سینے میں محفوظ ہے، اسے ایک لمحے کی بے احتیاطی کہیں بکھیر نہ دے۔
زندگی میں کتنی ہی باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم کہنا چاہتے ہیں، مگر کہہ نہیں پاتے۔ کسی سے کہنا ہوتا ہے کہ تمہاری موجودگی ہمارے لیے کتنی قیمتی تھی؛ کسی سے کہنا ہوتا ہے کہ تمہاری جدائی نے ہمیں اندر سے کتنا بدل دیا؛ کسی سے معذرت کرنی ہوتی ہے، مگر انا راستہ روک لیتی ہے؛ کسی کا شکریہ ادا کرنا ہوتا ہے، مگر لفظ چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔ اور کبھی کسی سے صرف اتنا کہنا ہوتا ہے: تمہیں کھونا نہیں چاہتے تھے۔ مگر یہ چند لفظ بھی دل کی سرحد پار نہیں کر پاتے۔
کچھ باتیں زبان سے نہیں، آنکھوں سے کہی جاتی ہیں۔ ایک نظر میں برسوں کی محبت سمٹ آتی ہے، ایک خاموشی میں کئی شکایتیں دم توڑ دیتی ہیں، ایک مسکراہٹ کے پیچھے کتنے آنسو چھپے ہوتے ہیں، یہ صرف وہی جانتا ہے جس نے کبھی دل کو لفظوں سے زیادہ خاموشی میں بولتے دیکھا ہو۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ خاموش شخص کے پاس کہنے کو کچھ نہیں، حالاں کہ حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔ کبھی خاموشی الفاظ کی کمی نہیں، جذبات کی کثرت ہوتی ہے۔ جب دل میں بہت کچھ ہو تو زبان بے بس ہو جاتی ہے۔ جیسے سمندر اپنی تمام لہروں کے باوجود اپنے اندر کی گہرائی بیان نہیں کر سکتا، ویسے ہی انسان بھی اپنے دل کے ہر راز کو لفظوں کا لباس نہیں پہنا سکتا۔
کچھ باتیں اس لیے نہیں کہی جاتیں کہ کہیں رشتہ نہ ٹوٹ جائے۔ ہم ناراض ہوتے ہیں، مگر شکایت نہیں کرتے؛ دکھ پہنچتا ہے، مگر شکوہ نہیں کرتے؛ کسی کی بات دل میں تیر کی طرح اتر جاتی ہے، مگر ہم مسکرا کر گزر جاتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک جملہ شاید برسوں کی قربت کو ایک لمحے میں اجنبی بنا دے، اس لیے ہم اپنی زبان کو خاموشی کی زنجیر پہنا دیتے ہیں۔
اور کبھی ہم اس لیے بھی خاموش رہتے ہیں کہ ہمیں یقین ہوتا ہے، وہ خود سمجھ جائے گا۔
مگر زندگی کا ایک بڑا المیہ یہی ہے کہ ہر شخص دل کی زبان نہیں پڑھ سکتا۔ ہر خاموشی کا مطلب محبت نہیں ہوتا، ہر مسکراہٹ اطمینان نہیں ہوتی، ہر میں ٹھیک ہوں کے پیچھے واقعی ٹھیک ہونا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہم اپنے دل کا دروازہ کھولے بغیر چاہتے ہیں کہ دوسرا شخص اندر کی دنیا دیکھ لے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہماری آنکھوں میں چھپی نمی پڑھ لے، لہجے میں اترتی تھکن محسوس کر لے اور خاموشی میں چھپی فریاد سن لے۔ مگر انسان آخر انسان ہے؛ وہ دل کا حال جاننے والا نہیں۔
اسی لیے کچھ رشتے غلط فہمیوں کی دھند میں گم ہو جاتے ہیں۔ دونوں طرف محبت ہوتی ہے، مگر اظہار نہیں ہوتا؛ دونوں کو انتظار ہوتا ہے، مگر پہل کوئی نہیں کرتا؛ دونوں کے دل میں شکایت ہوتی ہے، مگر گفتگو نہیں ہوتی۔ یوں ایک چھوٹی سی خاموشی آہستہ آہستہ ایک لمبی دوری بن جاتی ہے، اور پھر ایک دن انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جسے صرف ایک جملے سے بچایا جا سکتا تھا، وہ ایک عمر کی خاموشی کی نذر ہو گیا۔
کتنی عجیب بات ہے کہ ہم اجنبیوں سے گفتگو کے لیے موضوع تلاش کرتے ہیں اور اپنوں سے بات کرنے کے لیے موقع! پھر وہ موقع بھی اکثر انا، مصروفیت یا غلط فہمی کی نذر ہو جاتا ہے۔
کاش ہم سمجھ سکیں کہ ہر بات کا وقت ہوتا ہے۔ محبت کا اظہار بھی وقت مانگتا ہے، معذرت بھی، شکریہ بھی اور اپنائیت بھی۔ بعض الفاظ اگر وقت پر کہہ دیے جائیں تو مرہم بن جاتے ہیں، اور وہی الفاظ دیر سے ادا ہوں تو صرف یاد بن کر رہ جاتے ہیں۔
کسی نے اچھا سلوک کیا ہے تو اسے بتا دیجیے کہ آپ کو اس کی قدر ہے۔ کسی نے آسانی پیدا کی ہے تو اس کا شکریہ ادا کیجیے۔ کسی سے محبت ہے تو محبت کو صرف دل کی الماری میں بند نہ رکھیے۔ کسی سے غلطی ہوئی ہے تو درگزر کرنے میں دیر نہ کیجیے۔ اور اگر کوئی آپ کے لیے اہم ہے تو اسے یہ جاننے کا حق دیجیے کہ وہ آپ کے دل میں کہاں کھڑا ہے۔
ہم اکثر محبت کو محسوس کرنے کے باوجود اس کا اظہار نہیں کرتے، جیسے محبت کا اظہار کمزوری ہو۔ حالاں کہ محبت چھپانے سے بڑی نہیں ہوتی، کہنے سے کم نہیں ہوتی۔ ایک سادہ سا تم میرے لیے اہم ہو، ایک مختصر سا اپنا خیال رکھنا، ایک مخلصانہ مجھے تمہاری فکر ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے جملے کسی کے پورے دن کو بدل سکتے ہیں۔
اور پھر کچھ باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ہم اپنے آپ سے نہیں کہہ پاتے۔ ہم تھک جاتے ہیں مگر خود کو مضبوط دکھاتے رہتے ہیں۔ دل ٹوٹتا ہے مگر خود کو تسلی دیتے ہیں۔ آنکھیں بھیگتی ہیں مگر چہرے پر مسکراہٹ سجا لیتے ہیں۔ ہم دوسروں کے لیے حوصلہ بنتے بنتے کبھی یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں بھی کسی کے دو لفظوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں بھی کبھی یہ سننے کی خواہش ہوتی ہے کہ تم اکیلے نہیں ہو۔
شاید اسی لیے بعض لوگ بظاہر بہت خوش اور اندر سے بہت خاموش ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں پر دن کی روشنی ہوتی ہے، مگر دل کے کسی گوشے میں شام اتر چکی ہوتی ہے۔ وہ محفل میں ہنستے ہیں، باتیں کرتے ہیں، دوسروں کو خوش رکھتے ہیں، مگر ان کے اندر ایک ایسا کمرہ بھی ہوتا ہے جس کا دروازہ وہ کسی کے سامنے نہیں کھولتے۔ وہاں کچھ یادیں رکھی ہوتی ہیں، کچھ نام، کچھ چہرے، کچھ خط، کچھ وعدے، کچھ شکایتیں اور بہت سی وہ باتیں جو کہی نہ جا سکیں۔
وقت گزرتا رہتا ہے۔ لوگ بدل جاتے ہیں، راستے بدل جاتے ہیں، ملاقاتیں کم ہو جاتی ہیں اور بعض چہرے صرف یادوں کی تصویروں میں باقی رہ جاتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ کچھ ان کہے جملے وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے۔ وہ دل کے کسی کونے میں اسی طرح تازہ رہتے ہیں جیسے بارش کے بعد مٹی کی خوشبو۔ کبھی تنہائی میں اچانک خیال آتا ہے کہ کاش اس دن ہم نے وہ بات کہہ دی ہوتی؛ کاش اس وقت ایک بار روک لیا ہوتا؛ کاش معذرت میں دیر نہ کی ہوتی؛ کاش شکایت کو خاموشی کے حوالے نہ کیا ہوتا؛ کاش محبت کو اظہار کا راستہ دیا ہوتا۔
مگر کاش زندگی کا سب سے خاموش لفظ ہے۔ اس میں پچھتاوے کی پوری داستان سمائی ہوتی ہے، مگر اسے بدلنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ اس لیے جو بات آج کہی جا سکتی ہے، اسے کل پر نہ ٹالیے۔ زندگی کسی کے انتظار میں نہیں ٹھہرتی۔ وقت کسی کے لیے اپنی رفتار نہیں بدلتا۔ جو لوگ آج ہمارے پاس ہیں، ضروری نہیں کہ کل بھی ہمارے ساتھ ہوں۔ بعض ملاقاتیں آخری ملاقات ہوتی ہیں اور ہمیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔
اس لیے اپنے عزیزوں کو بتا دیجیے کہ آپ ان سے محبت کرتے ہیں۔ والدین کو بتا دیجیے کہ ان کی دعائیں آپ کے لیے کتنی قیمتی ہیں۔ دوستوں کو بتا دیجیے کہ ان کی رفاقت نے زندگی کے کتنے مشکل راستے آسان کیے ہیں۔ کسی ناراض شخص کو منانا ہے تو آج ہی منا لیجیے۔ کسی سے معافی مانگنی ہے تو انا کو ایک طرف رکھ دیجیے۔ کسی کا شکریہ ادا کرنا ہے تو الفاظ کو ہونٹوں تک آنے دیجیے۔ کیونکہ زندگی کے اختتام پر شاید ہمیں اپنے کہے ہوئے بہت سے الفاظ یاد نہ رہیں، مگر وہ باتیں ضرور یاد رہ جائیں گی جو دل میں تھیں اور زبان تک نہ آ سکیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آخرکار انسان کے پاس یادوں کے سوا رہ بھی کیا جاتا ہے؟ اور یادوں کی دنیا میں سب سے بھاری بوجھ وہ الفاظ ہوتے ہیں جو دل نے برسوں سنبھال کر رکھے، مگر کبھی زبان پر نہ لا سکا۔ کاش ہر شخص یہ سمجھ سکے کہ بعض اوقات ایک جملہ ایک رشتہ بچا لیتا ہے، ایک معذرت ایک دل جوڑ دیتی ہے، ایک شکریہ کسی کی محنت کو معنی دے دیتا ہے، اور محبت کے چند سادہ الفاظ کسی کے اندھیرے دن میں چراغ بن جاتے ہیں۔
اس لیے دل میں بہت کچھ ہے تو کہہ دیجیے۔
محبت ہے تو اظہار کیجیے۔
شکریہ ہے تو ادا کیجیے۔
معذرت ہے تو مانگ لیجیے۔
فکر ہے تو بتا دیجیے۔
اور کسی کی کمی محسوس ہوتی ہے تو اسے خبر کر دیجیے۔
کہنے میں دیر نہ کیجیے؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت گزر جائے، فاصلے بڑھ جائیں، راستے جدا ہو جائیں اور پھر ہمارے پاس صرف یہی رہ جائے:
وہ باتیں جو کہی نہ جا سکیں۔
(ماخوذ از نجمیؔ کی ڈائری)

وہ باتیں جو کہی نہ جا سکیں (صدیوں کے جھروکوں سے)

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

وہ باتیں جو کہی نہ جا سکیں (صدیوں کے جھروکوں سے)
انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے، مگر ہر بات زبان تک نہیں پہنچ پاتی۔ کچھ احساسات دل کی گہرائیوں میں جنم لیتے ہیں، آنکھوں کی دہلیز تک آتے ہیں، ایک لمحے کو ٹھہرتے ہیں اور پھر خاموشی کی چادر اوڑھ کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ کچھ الفاظ ہونٹوں تک آ کر اس لیے رک جاتے ہیں کہ شاید وقت مناسب نہیں تھا، شاید سامنے والا سمجھنے والا نہیں تھا، یا شاید دل کو خوف تھا کہ جو بات برسوں سے سینے میں محفوظ ہے، اسے ایک لمحے کی بے احتیاطی کہیں بکھیر نہ دے۔
زندگی میں کتنی ہی باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم کہنا چاہتے ہیں، مگر کہہ نہیں پاتے۔ کسی سے کہنا ہوتا ہے کہ تمہاری موجودگی ہمارے لیے کتنی قیمتی تھی؛ کسی سے کہنا ہوتا ہے کہ تمہاری جدائی نے ہمیں اندر سے کتنا بدل دیا؛ کسی سے معذرت کرنی ہوتی ہے، مگر انا راستہ روک لیتی ہے؛ کسی کا شکریہ ادا کرنا ہوتا ہے، مگر لفظ چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔ اور کبھی کسی سے صرف اتنا کہنا ہوتا ہے: تمہیں کھونا نہیں چاہتے تھے۔ مگر یہ چند لفظ بھی دل کی سرحد پار نہیں کر پاتے۔
کچھ باتیں زبان سے نہیں، آنکھوں سے کہی جاتی ہیں۔ ایک نظر میں برسوں کی محبت سمٹ آتی ہے، ایک خاموشی میں کئی شکایتیں دم توڑ دیتی ہیں، ایک مسکراہٹ کے پیچھے کتنے آنسو چھپے ہوتے ہیں، یہ صرف وہی جانتا ہے جس نے کبھی دل کو لفظوں سے زیادہ خاموشی میں بولتے دیکھا ہو۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ خاموش شخص کے پاس کہنے کو کچھ نہیں، حالاں کہ حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔ کبھی خاموشی الفاظ کی کمی نہیں، جذبات کی کثرت ہوتی ہے۔ جب دل میں بہت کچھ ہو تو زبان بے بس ہو جاتی ہے۔ جیسے سمندر اپنی تمام لہروں کے باوجود اپنے اندر کی گہرائی بیان نہیں کر سکتا، ویسے ہی انسان بھی اپنے دل کے ہر راز کو لفظوں کا لباس نہیں پہنا سکتا۔
کچھ باتیں اس لیے نہیں کہی جاتیں کہ کہیں رشتہ نہ ٹوٹ جائے۔ ہم ناراض ہوتے ہیں، مگر شکایت نہیں کرتے؛ دکھ پہنچتا ہے، مگر شکوہ نہیں کرتے؛ کسی کی بات دل میں تیر کی طرح اتر جاتی ہے، مگر ہم مسکرا کر گزر جاتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک جملہ شاید برسوں کی قربت کو ایک لمحے میں اجنبی بنا دے، اس لیے ہم اپنی زبان کو خاموشی کی زنجیر پہنا دیتے ہیں۔
اور کبھی ہم اس لیے بھی خاموش رہتے ہیں کہ ہمیں یقین ہوتا ہے، وہ خود سمجھ جائے گا۔
مگر زندگی کا ایک بڑا المیہ یہی ہے کہ ہر شخص دل کی زبان نہیں پڑھ سکتا۔ ہر خاموشی کا مطلب محبت نہیں ہوتا، ہر مسکراہٹ اطمینان نہیں ہوتی، ہر میں ٹھیک ہوں کے پیچھے واقعی ٹھیک ہونا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہم اپنے دل کا دروازہ کھولے بغیر چاہتے ہیں کہ دوسرا شخص اندر کی دنیا دیکھ لے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہماری آنکھوں میں چھپی نمی پڑھ لے، لہجے میں اترتی تھکن محسوس کر لے اور خاموشی میں چھپی فریاد سن لے۔ مگر انسان آخر انسان ہے؛ وہ دل کا حال جاننے والا نہیں۔
اسی لیے کچھ رشتے غلط فہمیوں کی دھند میں گم ہو جاتے ہیں۔ دونوں طرف محبت ہوتی ہے، مگر اظہار نہیں ہوتا؛ دونوں کو انتظار ہوتا ہے، مگر پہل کوئی نہیں کرتا؛ دونوں کے دل میں شکایت ہوتی ہے، مگر گفتگو نہیں ہوتی۔ یوں ایک چھوٹی سی خاموشی آہستہ آہستہ ایک لمبی دوری بن جاتی ہے، اور پھر ایک دن انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جسے صرف ایک جملے سے بچایا جا سکتا تھا، وہ ایک عمر کی خاموشی کی نذر ہو گیا۔
کتنی عجیب بات ہے کہ ہم اجنبیوں سے گفتگو کے لیے موضوع تلاش کرتے ہیں اور اپنوں سے بات کرنے کے لیے موقع! پھر وہ موقع بھی اکثر انا، مصروفیت یا غلط فہمی کی نذر ہو جاتا ہے۔
کاش ہم سمجھ سکیں کہ ہر بات کا وقت ہوتا ہے۔ محبت کا اظہار بھی وقت مانگتا ہے، معذرت بھی، شکریہ بھی اور اپنائیت بھی۔ بعض الفاظ اگر وقت پر کہہ دیے جائیں تو مرہم بن جاتے ہیں، اور وہی الفاظ دیر سے ادا ہوں تو صرف یاد بن کر رہ جاتے ہیں۔
کسی نے اچھا سلوک کیا ہے تو اسے بتا دیجیے کہ آپ کو اس کی قدر ہے۔ کسی نے آسانی پیدا کی ہے تو اس کا شکریہ ادا کیجیے۔ کسی سے محبت ہے تو محبت کو صرف دل کی الماری میں بند نہ رکھیے۔ کسی سے غلطی ہوئی ہے تو درگزر کرنے میں دیر نہ کیجیے۔ اور اگر کوئی آپ کے لیے اہم ہے تو اسے یہ جاننے کا حق دیجیے کہ وہ آپ کے دل میں کہاں کھڑا ہے۔
ہم اکثر محبت کو محسوس کرنے کے باوجود اس کا اظہار نہیں کرتے، جیسے محبت کا اظہار کمزوری ہو۔ حالاں کہ محبت چھپانے سے بڑی نہیں ہوتی، کہنے سے کم نہیں ہوتی۔ ایک سادہ سا تم میرے لیے اہم ہو، ایک مختصر سا اپنا خیال رکھنا، ایک مخلصانہ مجھے تمہاری فکر ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے جملے کسی کے پورے دن کو بدل سکتے ہیں۔
اور پھر کچھ باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ہم اپنے آپ سے نہیں کہہ پاتے۔ ہم تھک جاتے ہیں مگر خود کو مضبوط دکھاتے رہتے ہیں۔ دل ٹوٹتا ہے مگر خود کو تسلی دیتے ہیں۔ آنکھیں بھیگتی ہیں مگر چہرے پر مسکراہٹ سجا لیتے ہیں۔ ہم دوسروں کے لیے حوصلہ بنتے بنتے کبھی یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں بھی کسی کے دو لفظوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں بھی کبھی یہ سننے کی خواہش ہوتی ہے کہ تم اکیلے نہیں ہو۔
شاید اسی لیے بعض لوگ بظاہر بہت خوش اور اندر سے بہت خاموش ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں پر دن کی روشنی ہوتی ہے، مگر دل کے کسی گوشے میں شام اتر چکی ہوتی ہے۔ وہ محفل میں ہنستے ہیں، باتیں کرتے ہیں، دوسروں کو خوش رکھتے ہیں، مگر ان کے اندر ایک ایسا کمرہ بھی ہوتا ہے جس کا دروازہ وہ کسی کے سامنے نہیں کھولتے۔ وہاں کچھ یادیں رکھی ہوتی ہیں، کچھ نام، کچھ چہرے، کچھ خط، کچھ وعدے، کچھ شکایتیں اور بہت سی وہ باتیں جو کہی نہ جا سکیں۔
وقت گزرتا رہتا ہے۔ لوگ بدل جاتے ہیں، راستے بدل جاتے ہیں، ملاقاتیں کم ہو جاتی ہیں اور بعض چہرے صرف یادوں کی تصویروں میں باقی رہ جاتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ کچھ ان کہے جملے وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے۔ وہ دل کے کسی کونے میں اسی طرح تازہ رہتے ہیں جیسے بارش کے بعد مٹی کی خوشبو۔ کبھی تنہائی میں اچانک خیال آتا ہے کہ کاش اس دن ہم نے وہ بات کہہ دی ہوتی؛ کاش اس وقت ایک بار روک لیا ہوتا؛ کاش معذرت میں دیر نہ کی ہوتی؛ کاش شکایت کو خاموشی کے حوالے نہ کیا ہوتا؛ کاش محبت کو اظہار کا راستہ دیا ہوتا۔
مگر کاش زندگی کا سب سے خاموش لفظ ہے۔ اس میں پچھتاوے کی پوری داستان سمائی ہوتی ہے، مگر اسے بدلنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ اس لیے جو بات آج کہی جا سکتی ہے، اسے کل پر نہ ٹالیے۔ زندگی کسی کے انتظار میں نہیں ٹھہرتی۔ وقت کسی کے لیے اپنی رفتار نہیں بدلتا۔ جو لوگ آج ہمارے پاس ہیں، ضروری نہیں کہ کل بھی ہمارے ساتھ ہوں۔ بعض ملاقاتیں آخری ملاقات ہوتی ہیں اور ہمیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔
اس لیے اپنے عزیزوں کو بتا دیجیے کہ آپ ان سے محبت کرتے ہیں۔ والدین کو بتا دیجیے کہ ان کی دعائیں آپ کے لیے کتنی قیمتی ہیں۔ دوستوں کو بتا دیجیے کہ ان کی رفاقت نے زندگی کے کتنے مشکل راستے آسان کیے ہیں۔ کسی ناراض شخص کو منانا ہے تو آج ہی منا لیجیے۔ کسی سے معافی مانگنی ہے تو انا کو ایک طرف رکھ دیجیے۔ کسی کا شکریہ ادا کرنا ہے تو الفاظ کو ہونٹوں تک آنے دیجیے۔ کیونکہ زندگی کے اختتام پر شاید ہمیں اپنے کہے ہوئے بہت سے الفاظ یاد نہ رہیں، مگر وہ باتیں ضرور یاد رہ جائیں گی جو دل میں تھیں اور زبان تک نہ آ سکیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آخرکار انسان کے پاس یادوں کے سوا رہ بھی کیا جاتا ہے؟ اور یادوں کی دنیا میں سب سے بھاری بوجھ وہ الفاظ ہوتے ہیں جو دل نے برسوں سنبھال کر رکھے، مگر کبھی زبان پر نہ لا سکا۔ کاش ہر شخص یہ سمجھ سکے کہ بعض اوقات ایک جملہ ایک رشتہ بچا لیتا ہے، ایک معذرت ایک دل جوڑ دیتی ہے، ایک شکریہ کسی کی محنت کو معنی دے دیتا ہے، اور محبت کے چند سادہ الفاظ کسی کے اندھیرے دن میں چراغ بن جاتے ہیں۔
اس لیے دل میں بہت کچھ ہے تو کہہ دیجیے۔
محبت ہے تو اظہار کیجیے۔
شکریہ ہے تو ادا کیجیے۔
معذرت ہے تو مانگ لیجیے۔
فکر ہے تو بتا دیجیے۔
اور کسی کی کمی محسوس ہوتی ہے تو اسے خبر کر دیجیے۔
کہنے میں دیر نہ کیجیے؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت گزر جائے، فاصلے بڑھ جائیں، راستے جدا ہو جائیں اور پھر ہمارے پاس صرف یہی رہ جائے:
وہ باتیں جو کہی نہ جا سکیں۔
(ماخوذ از نجمیؔ کی ڈائری)
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
30
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 63
Kalam 60
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

کبھی کبھی خاموشی بھی بولتی ہے(صدیوں کے جھروکوں سے)

مووی اور ویڈیو کا شرعی حکم کے عنوان سے مفتی شازلی القادری صاحب کے مضمون کا تحقیقی جواب

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 45

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 98 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 81 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 63 | Poetry: 60
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 36 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

8 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
45
زمرجات
ادبیات 79
شخصیات اسلاف واخلاف 53
اصلاح معاشرہ 47
تحقیق و تعاقب 34
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 22
سیرت النبی ﷺ 22
تاثرات 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
رد دیوبندیت ووہابیت 12
متفرقات 12
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 9
رد بدمذہباں 6
عبادات 5
رضویات 5
ترغیبات 5
تاریخی حقائق 4
حکایات 4
فقہ، اصول فقہ 4
مبارک شب وروز 4
حدیث واہمیت حدیث 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
اوراد و وظائف 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
ماہ و سال 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢