صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
واقعات رضویہ ( رضوی سمندر کے درخشندہ جواہر)
تاثرات

واقعات رضویہ ( رضوی سمندر کے درخشندہ جواہر)

✍️ Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

واقعات رضویہ ــــ رضوی سمندر کے درخشندہ جواہر
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین سیدنا ومولانا محمد وآلہ وأصحابہ أجمعین۔
تہذیبوں کی عمریں عمارتوں سے نہیں، روایتوں سے ناپی جاتی ہیں؛ اور روایتیں بھی وہی جو صداقت کے قالب میں ڈھلی ہوں، جن کے ریشے تحقیق کے ہاتھوں بُنے گئے ہوں، اور جن کے ہر لفظ پر امانت کا پہرہ ہو۔ اقوام کی تاریخ اگر ان کی اجتماعی یادداشت ہے تو اہلِ ایمان کی تاریخ اس سے کہیں بڑھ کر ان کے ایمان، ان کے مزاج اور ان کے فکری تشخص کی آئینہ دار بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف نے کسی واقعے کو محض اس لیے قبول نہیں کیا کہ وہ زبان زدِ عام تھا، بلکہ اس کی نسبت، اس کی سند اور اس کے مأخذ کو اس باریک بینی سے جانچا کہ علمِ روایت خود ایک مستقل فن بن گیا، اور تحقیق محض ایک وصف نہیں بلکہ دیانتِ علمی کا دوسرا نام قرار پائی۔
افسوس کہ ہر عہد اپنے ساتھ کچھ آزمائشیں بھی لاتا ہے۔ موجودہ دور کی سب سے بڑی علمی آزمائش شاید یہی ہے کہ معلومات کی فراوانی نے تحقیق کی ضرورت کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ زبانیں بہت ہیں مگر چھاننے والی نگاہیں کم، قلم بے شمار ہیں مگر ذمہ داری کا احساس نایاب۔ ایک واقعہ اگر کسی مجلس میں داد و تحسین سمیٹ لے تو اگلے ہی دن وہ ہزاروں زبانوں پر ہوتا ہے، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کی نسبت ایسی مقدس ہستیوں کی طرف کر دی جاتی ہے جن کی ساری زندگی حق و صدق، دیانت و تقویٰ اور شریعت کی پاسبانی میں بسر ہوئی۔ یوں ایک بے اصل حکایت رفتہ رفتہ تاریخ کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے اور ایک غیر ثابت قصہ عقیدت کا عنوان بن جاتا ہے۔
یہ صورتِ حال صرف ایک علمی لغزش نہیں بلکہ امانتِ دین کے باب میں ایک نہایت نازک معاملہ ہے۔ اس لیے کہ جب روایت کا دامن تحقیق سے خالی ہو جائے تو اعتماد کی بنیادیں بھی متزلزل ہونے لگتی ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں شکوک جنم لیتے ہیں، سنجیدہ مزاج اہلِ علم خاموش ہو جاتے ہیں، اور مخالفین کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ شاید مذہبی سرمایہ محض جذبات کی آبیاری سے قائم ہے، دلیل و برہان سے نہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اہلِ سنت کا علمی سرمایہ صدیوں کی عرق ریزی، ضبطِ روایت اور نقد و تحقیق کا وہ بحرِ بے کراں ہے جس کے سامنے افسانہ طرازی کی کوئی حیثیت نہیں۔
اگر اس عہدِ پراگندگی میں کسی ایک شخصیت کو علمی احتیاط، وسعتِ مطالعہ، دقتِ نظر اور امانتِ روایت کا استعارہ کہا جائے تو وہ بلا تردد امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذاتِ گرامی ہے۔ آپ کا امتیاز صرف یہ نہیں کہ آپ اپنے عہد کے عظیم فقیہ تھے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے علم کے ہر گوشے میں اس معیارِ تحقیق کو زندہ کیا جس کی بنیاد پر صدیوں تک اہلِ علم کے فیصلے قائم رہتے ہیں۔ آپ کے قلم سے نکلنے والا ہر لفظ مطالعے کی گہرائی، مراجع کی وسعت اور دیانتِ علمی کی ایسی روشن دلیل ہوتا ہے کہ قاری بے اختیار محسوس کرتا ہے کہ یہاں جذبات نہیں، بلکہ دلائل بول رہے ہیں؛ یہاں تقلیدِ کورکورانہ نہیں، بلکہ تحقیق اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔
اعلیٰ حضرت کی تصانیف کا مطالعہ کرنے والا بخوبی جانتا ہے کہ آپ کسی روایت کو محض شہرت کی بنیاد پر قبول نہیں فرماتے، بلکہ اس کے اصل مآخذ تک پہنچتے ہیں، متعدد کتب کا تقابل کرتے ہیں، ائمہ و محدثین کے اقوال کا استحضار کرتے ہیں، اور پھر ایک ایسا فیصلہ رقم فرماتے ہیں جس کے پیچھے علم کی صدیوں پر محیط روایت کھڑی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تحریریں وقتی ذوق کا سرمایہ نہیں، بلکہ علمی دنیا کے لیے مستقل حوالہ بن چکی ہیں۔
لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ اعلیٰ حضرت کا علمی ذخیرہ ایک وسیع سمندر کی مانند ہے۔ اس سمندر میں فقہ بھی ہے، حدیث بھی، تفسیر بھی، عقائد بھی، تاریخ بھی، سیرت بھی، مناظرات بھی، اور ان ہی کے درمیان بے شمار ایسے ایمان افروز، بصیرت افروز اور سبق آموز واقعات بھی بکھرے ہوئے ہیں جو مختلف کتابوں، رسائل اور فتاویٰ کے صفحات میں منتشر ہیں۔ ان جواہرِ پارینہ تک ہر شخص کی رسائی آسان نہیں۔ ہر طالبِ علم کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ہزاروں صفحات پر مشتمل رضوی لٹریچر کا بالاستیعاب مطالعہ کرے، ہر خطیب کے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہر واقعے کی اصل تلاش میں متعدد جلدیں کھنگالتا پھرے، اور ہر قاری اس علمی ریاضت کا متحمل نہیں ہو سکتا جس کا تقاضا اصل مصادر سے استفادہ کرتا ہے۔
یہیں سے ایک ایسی علمی خدمت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو صرف ترتیب نہ ہو، بلکہ انتخاب بھی ہو؛ صرف جمع آوری نہ ہو، بلکہ تحقیق بھی ہو؛ صرف نقل نہ ہو، بلکہ امانت کی پاسداری بھی ہو۔ ایسی خدمت جس میں منتشر موتیوں کو ایک لڑی میں پرو دیا جائے، مگر ان کی اصل آب و تاب برقرار رہے؛ جس میں واقعات کو اس طرح یکجا کر دیا جائے کہ قاری کو سہولت بھی میسر آئے اور اعتماد بھی۔خوش آئند امر یہ ہے کہ اس ضرورت کو محض محسوس ہی نہیں کیا گیا، بلکہ اسے عملی صورت بھی عطا کی گئی۔ حضور استاذ گرامی ذی وقار حضرت علامہ و مفتی محمد شاعر رضا دارجلنگوی صاحب قبلہ ادام اللہ اقبالہ نے اسی احساسِ ذمہ داری کو اپنا علمی فریضہ سمجھا۔ انہوں نے محض ایک مرتب کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک امینِ علم کی حیثیت سے اعلیٰ حضرت کی تصانیف میں منتشر واقعات کو تلاش کیا، ان کے مراجع کا لحاظ رکھا، ان کی اصل تعبیر کو محفوظ رکھا، اور انہیں ایسی ترتیب کے ساتھ یکجا کیا کہ یہ مجموعہ محض واقعات کا دفتر نہیں رہا بلکہ رضوی تحقیقات کی ایک روشن کھڑکی بن گیا، جہاں سے قاری براہِ راست امامِ اہلِ سنت کے علمی ذوق کی جھلک دیکھ سکتا ہے۔
یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ واقعاتِ رضویہ محض ایک کتاب نہیں، بلکہ رضوی لٹریچر تک رسائی کا ایک منظم دروازہ ہے۔ یہ ان اہلِ ذوق کے لیے مشعلِ راہ ہے جو واقعات کو محض سنانے کے لیے نہیں، بلکہ ان کی صحت، ان کے مآخذ اور ان کے علمی وزن کے ساتھ بیان کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے صفحات پر نگاہ دوڑاتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے منتشر علمی خزانے کو نہایت سلیقے سے ایک ہی صندوق میں محفوظ کر دیا گیا ہو، تاکہ ہر طالبِ علم ضرورت کے وقت بلا تکلف اس سے استفادہ کر سکے۔
اہلِ علم جانتے ہیں کہ تالیف سے کہیں زیادہ دشوار مرحلہ انتخاب کا ہوتا ہے۔ کتاب لکھ دینا نسبتاً آسان ہے، مگر ہزاروں صفحات کے درمیان سے ان موتیوں کو چننا جو اصل موضوع سے مناسبت بھی رکھتے ہوں، سند کے اعتبار سے قابلِ اعتماد بھی ہوں، عبارت کے سیاق سے ہم آہنگ بھی ہوں اور نقل کے بعد بھی اپنے اصل مفہوم پر قائم رہیں۔ یہ وہ خدمت ہے جس کے لیے صرف وقت کافی نہیں ہوتا، بلکہ غیر معمولی علمی بصیرت، مسلسل صبر اور امانتِ قلم درکار ہوتی ہے۔
آج جب منبر و محراب، درس گاہ اور قلم، سب کے سب مستند مراجع کے محتاج ہیں، اس نوعیت کی تصنیفات نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ ایک خطیب اگر اس کتاب کو اپنا رفیقِ مطالعہ بنا لے تو اس کے بیان میں اعتماد پیدا ہوگا؛ ایک طالبِ علم اسے پڑھے تو اس کے ذوقِ تحقیق کو جلا ملے گی؛ اور ایک مصنف اس سے رجوع کرے تو اس کی تحریر بے اصل حکایات کے غبار سے محفوظ رہے گی۔
یہ کتاب دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ امامِ اہلِ سنت کا علمی گلستان آج بھی زندہ ہے، مگر اس کے پھول وہی چن سکتا ہے جو صبر کے ساتھ اس میں اترنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ حضور استاذ گرامی دامت فیوضھم العالیہ نے اسی مشقت کو اپنی سعادت سمجھا اور اس گلستان کی خوشبو کو عام کرنے کی ایک مبارک سعی فرمائی۔ یہ خدمت کسی فرد کی نہیں، ایک علمی روایت کی خدمت ہے؛ کسی کتاب کی نہیں، بلکہ امانتِ علم کی حفاظت کا ایک روشن باب ہے۔
ایسے دور میں جبکہ تحقیق کی آواز اکثر شورِ خطابت میں دب جاتی ہے، کتاب واقعاتِ رضویہ خاموشی کے ساتھ یہ پیغام دیتی ہے کہ علم کی اصل عزت شہرت میں نہیں، بلکہ صحت میں ہے؛ بیان کی اصل قوت جذبات میں نہیں، بلکہ صداقت میں ہے؛ اور قلم کی حقیقی آبرو اسی وقت باقی رہتی ہے جب وہ امانت کے بوجھ کو دیانت کے ساتھ اٹھائے۔دل آویز امر یہ بھی ہے کہ یہ گراں قدر کاوش ابھی اپنے سفر کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ واقعاتِ رضویہ کی یہ پہلی جلد، رضوی تصانیف کے ایک محدود حصے کے عمیق مطالعے کا ثمرۂ شیریں ہے۔ جب چند کتب کے دامن سے چنے ہوئے یہ علمی جواہر اتنی دلکشی، جامعیت اور افادیت کے ساتھ یکجا ہو سکتے ہیں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رضوی لٹریچر کے وسیع سمندر سے آئندہ جلدوں میں کس قدر نادر موتی اہلِ علم کی جھولی میں آئیں گے۔ امید ہی نہیں بلکہ حسنِ ظن ہے کہ یہ مبارک سلسلہ اسی ذوقِ تحقیق اور اسی شانِ امانت کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا، اور اربابِ علم یکے بعد دیگرے ان علمی خزانوں سے مستفیض ہوتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اس علمی خدمت کا ایک اور قابلِ تحسین پہلو یہ ہے کہ اس کتاب مستطاب کو محض اہلِ ثروت تک محدود نہیں رہنے دیا گیا، بلکہ علماء، ائمہ، مدرسین اور خصوصاً طلبۂ علومِ دینیہ کی سہولت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس عظیم علمی ذخیرے کی قیمت نہایت معمولی، صرف ۲۵۰ روپے مقرر فرمائی گئی ہے۔
لہٰذا اربابِ علم، ائمۂ مساجد، خطباء، مدرسین، طلبۂ مدارس، اہلِ قلم اور رضوی لٹریچر سے شغف رکھنے والے تمام حضرات کی خدمت میں نہایت اخلاص کے ساتھ گزارش ہے کہ اس کتاب کو اپنی ذاتی لائبریری کی زینت ضرور بنائیں۔ یہ صرف خریدی جانے والی ایک کتاب نہیں، بلکہ علمی ذوق کی آبیاری، تحقیقی مزاج کی تربیت اور منبر و قلم کی امانت کی حفاظت کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ امید ہے کہ جو شخص اس سے رشتہ جوڑے گا، وہ روایت کو تحقیق کے آئینے میں دیکھنے کا سلیقہ بھی سیکھے گا اور بیان کی ذمہ داری کو بھی پہلے سے زیادہ محسوس کرے گا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بارگاہِ ربِّ کریم میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گراں قدر خدمت کو شرفِ قبول عطا فرمائے، حضور استاذ گرامی ذی وقار حضرت علامہ مفتی محمد شاعر رضا دارجلنگوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی کے علم و عمل میں روز افزوں برکتیں نازل فرمائے، اس کتاب کو خواص و عوام دونوں کے لیے سرچشمۂ خیر بنائے، اور اسے ان اعمالِ صالحہ میں شمار فرمائے جن کا فیض نسلوں تک جاری رہتا ہے۔ وما توفیقی الا باللہ علیہ توكلت و الیہ انیب۔
حضور استاذ گرامی دامت برکاتہم کی بارگاہ کا ایک ادنی خادم
محمد شعیب خان نجمی ؔرضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف 06307364323

واقعات رضویہ ( رضوی سمندر کے درخشندہ جواہر)

مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

واقعات رضویہ ــــ رضوی سمندر کے درخشندہ جواہر
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین سیدنا ومولانا محمد وآلہ وأصحابہ أجمعین۔
تہذیبوں کی عمریں عمارتوں سے نہیں، روایتوں سے ناپی جاتی ہیں؛ اور روایتیں بھی وہی جو صداقت کے قالب میں ڈھلی ہوں، جن کے ریشے تحقیق کے ہاتھوں بُنے گئے ہوں، اور جن کے ہر لفظ پر امانت کا پہرہ ہو۔ اقوام کی تاریخ اگر ان کی اجتماعی یادداشت ہے تو اہلِ ایمان کی تاریخ اس سے کہیں بڑھ کر ان کے ایمان، ان کے مزاج اور ان کے فکری تشخص کی آئینہ دار بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف نے کسی واقعے کو محض اس لیے قبول نہیں کیا کہ وہ زبان زدِ عام تھا، بلکہ اس کی نسبت، اس کی سند اور اس کے مأخذ کو اس باریک بینی سے جانچا کہ علمِ روایت خود ایک مستقل فن بن گیا، اور تحقیق محض ایک وصف نہیں بلکہ دیانتِ علمی کا دوسرا نام قرار پائی۔
افسوس کہ ہر عہد اپنے ساتھ کچھ آزمائشیں بھی لاتا ہے۔ موجودہ دور کی سب سے بڑی علمی آزمائش شاید یہی ہے کہ معلومات کی فراوانی نے تحقیق کی ضرورت کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ زبانیں بہت ہیں مگر چھاننے والی نگاہیں کم، قلم بے شمار ہیں مگر ذمہ داری کا احساس نایاب۔ ایک واقعہ اگر کسی مجلس میں داد و تحسین سمیٹ لے تو اگلے ہی دن وہ ہزاروں زبانوں پر ہوتا ہے، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کی نسبت ایسی مقدس ہستیوں کی طرف کر دی جاتی ہے جن کی ساری زندگی حق و صدق، دیانت و تقویٰ اور شریعت کی پاسبانی میں بسر ہوئی۔ یوں ایک بے اصل حکایت رفتہ رفتہ تاریخ کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے اور ایک غیر ثابت قصہ عقیدت کا عنوان بن جاتا ہے۔
یہ صورتِ حال صرف ایک علمی لغزش نہیں بلکہ امانتِ دین کے باب میں ایک نہایت نازک معاملہ ہے۔ اس لیے کہ جب روایت کا دامن تحقیق سے خالی ہو جائے تو اعتماد کی بنیادیں بھی متزلزل ہونے لگتی ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں شکوک جنم لیتے ہیں، سنجیدہ مزاج اہلِ علم خاموش ہو جاتے ہیں، اور مخالفین کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ شاید مذہبی سرمایہ محض جذبات کی آبیاری سے قائم ہے، دلیل و برہان سے نہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اہلِ سنت کا علمی سرمایہ صدیوں کی عرق ریزی، ضبطِ روایت اور نقد و تحقیق کا وہ بحرِ بے کراں ہے جس کے سامنے افسانہ طرازی کی کوئی حیثیت نہیں۔
اگر اس عہدِ پراگندگی میں کسی ایک شخصیت کو علمی احتیاط، وسعتِ مطالعہ، دقتِ نظر اور امانتِ روایت کا استعارہ کہا جائے تو وہ بلا تردد امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذاتِ گرامی ہے۔ آپ کا امتیاز صرف یہ نہیں کہ آپ اپنے عہد کے عظیم فقیہ تھے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے علم کے ہر گوشے میں اس معیارِ تحقیق کو زندہ کیا جس کی بنیاد پر صدیوں تک اہلِ علم کے فیصلے قائم رہتے ہیں۔ آپ کے قلم سے نکلنے والا ہر لفظ مطالعے کی گہرائی، مراجع کی وسعت اور دیانتِ علمی کی ایسی روشن دلیل ہوتا ہے کہ قاری بے اختیار محسوس کرتا ہے کہ یہاں جذبات نہیں، بلکہ دلائل بول رہے ہیں؛ یہاں تقلیدِ کورکورانہ نہیں، بلکہ تحقیق اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔
اعلیٰ حضرت کی تصانیف کا مطالعہ کرنے والا بخوبی جانتا ہے کہ آپ کسی روایت کو محض شہرت کی بنیاد پر قبول نہیں فرماتے، بلکہ اس کے اصل مآخذ تک پہنچتے ہیں، متعدد کتب کا تقابل کرتے ہیں، ائمہ و محدثین کے اقوال کا استحضار کرتے ہیں، اور پھر ایک ایسا فیصلہ رقم فرماتے ہیں جس کے پیچھے علم کی صدیوں پر محیط روایت کھڑی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تحریریں وقتی ذوق کا سرمایہ نہیں، بلکہ علمی دنیا کے لیے مستقل حوالہ بن چکی ہیں۔
لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ اعلیٰ حضرت کا علمی ذخیرہ ایک وسیع سمندر کی مانند ہے۔ اس سمندر میں فقہ بھی ہے، حدیث بھی، تفسیر بھی، عقائد بھی، تاریخ بھی، سیرت بھی، مناظرات بھی، اور ان ہی کے درمیان بے شمار ایسے ایمان افروز، بصیرت افروز اور سبق آموز واقعات بھی بکھرے ہوئے ہیں جو مختلف کتابوں، رسائل اور فتاویٰ کے صفحات میں منتشر ہیں۔ ان جواہرِ پارینہ تک ہر شخص کی رسائی آسان نہیں۔ ہر طالبِ علم کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ہزاروں صفحات پر مشتمل رضوی لٹریچر کا بالاستیعاب مطالعہ کرے، ہر خطیب کے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہر واقعے کی اصل تلاش میں متعدد جلدیں کھنگالتا پھرے، اور ہر قاری اس علمی ریاضت کا متحمل نہیں ہو سکتا جس کا تقاضا اصل مصادر سے استفادہ کرتا ہے۔
یہیں سے ایک ایسی علمی خدمت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو صرف ترتیب نہ ہو، بلکہ انتخاب بھی ہو؛ صرف جمع آوری نہ ہو، بلکہ تحقیق بھی ہو؛ صرف نقل نہ ہو، بلکہ امانت کی پاسداری بھی ہو۔ ایسی خدمت جس میں منتشر موتیوں کو ایک لڑی میں پرو دیا جائے، مگر ان کی اصل آب و تاب برقرار رہے؛ جس میں واقعات کو اس طرح یکجا کر دیا جائے کہ قاری کو سہولت بھی میسر آئے اور اعتماد بھی۔خوش آئند امر یہ ہے کہ اس ضرورت کو محض محسوس ہی نہیں کیا گیا، بلکہ اسے عملی صورت بھی عطا کی گئی۔ حضور استاذ گرامی ذی وقار حضرت علامہ و مفتی محمد شاعر رضا دارجلنگوی صاحب قبلہ ادام اللہ اقبالہ نے اسی احساسِ ذمہ داری کو اپنا علمی فریضہ سمجھا۔ انہوں نے محض ایک مرتب کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک امینِ علم کی حیثیت سے اعلیٰ حضرت کی تصانیف میں منتشر واقعات کو تلاش کیا، ان کے مراجع کا لحاظ رکھا، ان کی اصل تعبیر کو محفوظ رکھا، اور انہیں ایسی ترتیب کے ساتھ یکجا کیا کہ یہ مجموعہ محض واقعات کا دفتر نہیں رہا بلکہ رضوی تحقیقات کی ایک روشن کھڑکی بن گیا، جہاں سے قاری براہِ راست امامِ اہلِ سنت کے علمی ذوق کی جھلک دیکھ سکتا ہے۔
یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ واقعاتِ رضویہ محض ایک کتاب نہیں، بلکہ رضوی لٹریچر تک رسائی کا ایک منظم دروازہ ہے۔ یہ ان اہلِ ذوق کے لیے مشعلِ راہ ہے جو واقعات کو محض سنانے کے لیے نہیں، بلکہ ان کی صحت، ان کے مآخذ اور ان کے علمی وزن کے ساتھ بیان کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے صفحات پر نگاہ دوڑاتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے منتشر علمی خزانے کو نہایت سلیقے سے ایک ہی صندوق میں محفوظ کر دیا گیا ہو، تاکہ ہر طالبِ علم ضرورت کے وقت بلا تکلف اس سے استفادہ کر سکے۔
اہلِ علم جانتے ہیں کہ تالیف سے کہیں زیادہ دشوار مرحلہ انتخاب کا ہوتا ہے۔ کتاب لکھ دینا نسبتاً آسان ہے، مگر ہزاروں صفحات کے درمیان سے ان موتیوں کو چننا جو اصل موضوع سے مناسبت بھی رکھتے ہوں، سند کے اعتبار سے قابلِ اعتماد بھی ہوں، عبارت کے سیاق سے ہم آہنگ بھی ہوں اور نقل کے بعد بھی اپنے اصل مفہوم پر قائم رہیں۔ یہ وہ خدمت ہے جس کے لیے صرف وقت کافی نہیں ہوتا، بلکہ غیر معمولی علمی بصیرت، مسلسل صبر اور امانتِ قلم درکار ہوتی ہے۔
آج جب منبر و محراب، درس گاہ اور قلم، سب کے سب مستند مراجع کے محتاج ہیں، اس نوعیت کی تصنیفات نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ ایک خطیب اگر اس کتاب کو اپنا رفیقِ مطالعہ بنا لے تو اس کے بیان میں اعتماد پیدا ہوگا؛ ایک طالبِ علم اسے پڑھے تو اس کے ذوقِ تحقیق کو جلا ملے گی؛ اور ایک مصنف اس سے رجوع کرے تو اس کی تحریر بے اصل حکایات کے غبار سے محفوظ رہے گی۔
یہ کتاب دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ امامِ اہلِ سنت کا علمی گلستان آج بھی زندہ ہے، مگر اس کے پھول وہی چن سکتا ہے جو صبر کے ساتھ اس میں اترنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ حضور استاذ گرامی دامت فیوضھم العالیہ نے اسی مشقت کو اپنی سعادت سمجھا اور اس گلستان کی خوشبو کو عام کرنے کی ایک مبارک سعی فرمائی۔ یہ خدمت کسی فرد کی نہیں، ایک علمی روایت کی خدمت ہے؛ کسی کتاب کی نہیں، بلکہ امانتِ علم کی حفاظت کا ایک روشن باب ہے۔
ایسے دور میں جبکہ تحقیق کی آواز اکثر شورِ خطابت میں دب جاتی ہے، کتاب واقعاتِ رضویہ خاموشی کے ساتھ یہ پیغام دیتی ہے کہ علم کی اصل عزت شہرت میں نہیں، بلکہ صحت میں ہے؛ بیان کی اصل قوت جذبات میں نہیں، بلکہ صداقت میں ہے؛ اور قلم کی حقیقی آبرو اسی وقت باقی رہتی ہے جب وہ امانت کے بوجھ کو دیانت کے ساتھ اٹھائے۔دل آویز امر یہ بھی ہے کہ یہ گراں قدر کاوش ابھی اپنے سفر کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ واقعاتِ رضویہ کی یہ پہلی جلد، رضوی تصانیف کے ایک محدود حصے کے عمیق مطالعے کا ثمرۂ شیریں ہے۔ جب چند کتب کے دامن سے چنے ہوئے یہ علمی جواہر اتنی دلکشی، جامعیت اور افادیت کے ساتھ یکجا ہو سکتے ہیں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رضوی لٹریچر کے وسیع سمندر سے آئندہ جلدوں میں کس قدر نادر موتی اہلِ علم کی جھولی میں آئیں گے۔ امید ہی نہیں بلکہ حسنِ ظن ہے کہ یہ مبارک سلسلہ اسی ذوقِ تحقیق اور اسی شانِ امانت کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا، اور اربابِ علم یکے بعد دیگرے ان علمی خزانوں سے مستفیض ہوتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اس علمی خدمت کا ایک اور قابلِ تحسین پہلو یہ ہے کہ اس کتاب مستطاب کو محض اہلِ ثروت تک محدود نہیں رہنے دیا گیا، بلکہ علماء، ائمہ، مدرسین اور خصوصاً طلبۂ علومِ دینیہ کی سہولت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس عظیم علمی ذخیرے کی قیمت نہایت معمولی، صرف ۲۵۰ روپے مقرر فرمائی گئی ہے۔
لہٰذا اربابِ علم، ائمۂ مساجد، خطباء، مدرسین، طلبۂ مدارس، اہلِ قلم اور رضوی لٹریچر سے شغف رکھنے والے تمام حضرات کی خدمت میں نہایت اخلاص کے ساتھ گزارش ہے کہ اس کتاب کو اپنی ذاتی لائبریری کی زینت ضرور بنائیں۔ یہ صرف خریدی جانے والی ایک کتاب نہیں، بلکہ علمی ذوق کی آبیاری، تحقیقی مزاج کی تربیت اور منبر و قلم کی امانت کی حفاظت کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ امید ہے کہ جو شخص اس سے رشتہ جوڑے گا، وہ روایت کو تحقیق کے آئینے میں دیکھنے کا سلیقہ بھی سیکھے گا اور بیان کی ذمہ داری کو بھی پہلے سے زیادہ محسوس کرے گا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بارگاہِ ربِّ کریم میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گراں قدر خدمت کو شرفِ قبول عطا فرمائے، حضور استاذ گرامی ذی وقار حضرت علامہ مفتی محمد شاعر رضا دارجلنگوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی کے علم و عمل میں روز افزوں برکتیں نازل فرمائے، اس کتاب کو خواص و عوام دونوں کے لیے سرچشمۂ خیر بنائے، اور اسے ان اعمالِ صالحہ میں شمار فرمائے جن کا فیض نسلوں تک جاری رہتا ہے۔ وما توفیقی الا باللہ علیہ توكلت و الیہ انیب۔
حضور استاذ گرامی دامت برکاتہم کی بارگاہ کا ایک ادنی خادم
محمد شعیب خان نجمی ؔرضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف 06307364323
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
31
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 35
Kalam 39
Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
زمرہ جات

محبت رسول صلی اللہ علیہ و سلم

کیا وہ سفید پرندہ پھر کبھی لوٹے گا؟

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 29 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
تاثرات 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
سیرت النبی ﷺ 9
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
رد دیوبندیت ووہابیت 5
تحقیق و تعاقب 5
مبارک شب وروز 4
متفرقات 4
خیر وخبر 4
عبادات 4
دفاع اہل سنت 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
رضویات 3
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢