صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
واقعاتِ رضویہ: منفرد علمی کارنامہ
تاثرات

واقعاتِ رضویہ: منفرد علمی کارنامہ

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

واقعاتِ رضویہ: منفرد علمی کارنامہ
اللّٰہ تعالیٰ نے اس امت کو ایک عظیم شرف عطا فرمایا کہ اس کے دین کی بنیاد محض جذبات یا حکایات پر نہیں، بلکہ مضبوط دلائل، صحیح روایات اور معتبر اسناد پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محدثینِ کرام نے ایک ایک روایت کی جانچ میں اپنی عمریں صَرف کر دیں، تاکہ رسولِ اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم، صحابۂ کرام رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور اکابرِ دین کی طرف کوئی غیر ثابت بات منسوب نہ ہو۔
مگر افسوس! آج ہمارے معاشرے میں ایسی بہت سی باتیں زبان زدِ عام ہو چکی ہیں جو حقیقت سے زیادہ شہرت رکھتی ہیں۔ لوگ انہیں اتنی کثرت سے سنتے ہیں کہ وہ انہیں دین کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ تحقیق کی جائے تو ان کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ملتی۔
مثلاً بعض ایسی احادیث بیان کرتے ہیں محدثین نے اسے حدیث ثابت نہیں مانا۔ اسی طرح بعض مجالس میں حضرت سیدنا ابو البشر آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق ایسی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں جن کا معتبر روایات میں وجود نہیں، یا واقعۂ معراج کی ایسی جزئیات بیان کی جاتی ہیں جو صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔ بعض خطباء جنگوں اور تاریخی واقعات میں جذبات پیدا کرنے کے لیے ایسے مکالمے، اشعار اور مناظر نقل کرتے ہیں جن کی کوئی مستند اصل نہیں ملتی، مگر سامع انہیں یقینی تاریخ سمجھ لیتے ہیں۔
یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ بعض مشہور قصے مختلف بزرگوں یا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف منسوب کر دیے جاتے ہیں، حالانکہ وہ صرف عوامی روایات ہوتے ہیں، مستند تاریخی حقائق نہیں۔ رفتہ رفتہ یہی غیر ثابت حکایات لوگوں کے ذہنوں میں اصل تاریخ کی جگہ لے لیتی ہیں۔
ایک سچے داعی، خطیب اور قلمکار کی شان یہ نہیں کہ وہ ہر مشہور قصہ بیان کر دے، بلکہ اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پہلے تحقیق کرے، پھر بیان کرے۔ اگر کسی روایت کی صحت مشتبہ ہو تو اس کی وضاحت بھی کر دے، کیونکہ دین کی خدمت کا مطلب صرف لوگوں کو رلانا یا جذبات ابھارنا نہیں، بلکہ انہیں حقائق سے آگاہ کرنا بھی ہے۔
پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے۔ [صحیح مسلم، مقدمہ]
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی تقاریر، تحریروں اور گفتگو میں صرف وہی واقعات بیان کریں جو معتبر اور قابلِ اعتماد ہوں۔ جذبات وقتی اثر چھوڑتے ہیں، مگر تحقیق ہمیشہ دین کی حفاظت کرتی ہے۔ سچی روایت دلوں میں اعتماد پیدا کرتی ہے، جبکہ غیر ثابت قصے رفتہ رفتہ دین کے بارے میں غلط فہمیاں جنم دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف نے ”پہلے تحقیق، پھر تقریر“ کو اپنا شعار بنایا، اور یہی طرزِ عمل آج بھی دین کی صحیح خدمت کا ضامن ہے۔
اگرچہ ظاہراً یہ کام مشکل اور محنت سے پُر ہے مگر طلبہ، علماء، ائمہ و خطباء کے لیے پیکرِ خلوص و محبت، تلمیذ و خلیفۂ حضور تاجِ شریعت، ماہرِ نحو حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی حفظه اللّٰہ تعالیٰ (استاد و مفتی: جامعۃ الرضا، بریلی شریف) نے اس کام کو نہایت آسان فرما دیا ہے۔ مستند واقعات و حکایات کو یکجا فرما دیا ہے۔ کبھی تو پڑھ کر لگے کہ کام اچھا ہے مگر معمولی سی بات ہے، مگر نہیں! ہے معمولی نہیں بلکہ غیر معمولی کارنامہ ہے۔ پہلی وجہ تو یہی کہ
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
دوسری وجہ جو استاذ گرامی وقار کی کارش پر چار چاند لگا رہی ہے وہ یہ کہ خلیفۂ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ نے فتاویٰ رضویہ شریف، ملفوظاتِ سرکار اعلیٰ حضرت و دیگر تصنیفات و کا بالاستیعاب مطالعہ فرمانا شروع کیا اور جیسے جیسے واقعات ملتے گئے تحریر کرتے گئے اور بالآخر شرکائے بدر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا فیضان حاصل کرتے ہوئے 313/مستند واقعات و حکایات کو جمع کرکے اپنی تالیف مکمل کی اور نام ”واقعاتِ رضویه“ رکھا جس کی پہلی جلد الحمدللّٰه تعالیٰ کتابت و طباعت کے مرحلے سے گزر کر منصۂ شہود پر آ گئی ہے۔ مجددِ دین و ملت، حضور سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی تصنیفات و تالیفات میں موجود واقعات کو یکجا دیکھنے کا اور مطالعہ کرکے امت کے سامنے پیش کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔
تیسری وجہ جو تلمیذِ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان کے کام کو منفرد بنا رہی ہے وہ یہ کہ امامِ اہلسنّت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی تصنیفات و تالیفات پر سالوں سے کام ہوتا آ رہا ہے اور سرکارِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کے علمی بحر سے موتیاں اہل علم حاصل کرکے دینِ حق کی خدمت کر رہے ہیں۔ مسائل و فضائل پر کام ہوا مگر واقعات کو جمع کرنا یہ میرے استاذ گرامی وقار اور ان کی تالیف کی انفرادیت ہے۔
علماء و خطباء کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور فرمانا چاہیے تاکہ امت کے سامنے مستند روایات پیش کریں اور خود کو بھی بے عزت ہونے سے بچائیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللّٰہ تعالیٰ حضرت استاذ گرامی وقار حفظه اللّٰہ تعالیٰ کی اس علمی خدمت و بارگاہِ اقدس میں درجۂ قبولیت عطا فرمائے اور مفیدِ عوام و خواص بنائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
تلمیذ و خادمِ مفتی محمد شاعر رضا قادری صاحب قبلہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جماعت-سادسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
٢١؍جولائی ؁٢٠٢٦ء بروز منگل
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
69
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

خوابوں سے حقیقت تک

محبت رسول صلی اللہ علیہ و سلم

واقعاتِ رضویہ: منفرد علمی کارنامہ - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

واقعاتِ رضویہ: منفرد علمی کارنامہ

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

واقعاتِ رضویہ: منفرد علمی کارنامہ

اللّٰہ تعالیٰ نے اس امت کو ایک عظیم شرف عطا فرمایا کہ اس کے دین کی بنیاد محض جذبات یا حکایات پر نہیں، بلکہ مضبوط دلائل، صحیح روایات اور معتبر اسناد پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محدثینِ کرام نے ایک ایک روایت کی جانچ میں اپنی عمریں صَرف کر دیں، تاکہ رسولِ اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم، صحابۂ کرام رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور اکابرِ دین کی طرف کوئی غیر ثابت بات منسوب نہ ہو۔

مگر افسوس! آج ہمارے معاشرے میں ایسی بہت سی باتیں زبان زدِ عام ہو چکی ہیں جو حقیقت سے زیادہ شہرت رکھتی ہیں۔ لوگ انہیں اتنی کثرت سے سنتے ہیں کہ وہ انہیں دین کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ تحقیق کی جائے تو ان کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ملتی۔
مثلاً بعض ایسی احادیث بیان کرتے ہیں محدثین نے اسے حدیث ثابت نہیں مانا۔ اسی طرح بعض مجالس میں حضرت سیدنا ابو البشر آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق ایسی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں جن کا معتبر روایات میں وجود نہیں، یا واقعۂ معراج کی ایسی جزئیات بیان کی جاتی ہیں جو صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔ بعض خطباء جنگوں اور تاریخی واقعات میں جذبات پیدا کرنے کے لیے ایسے مکالمے، اشعار اور مناظر نقل کرتے ہیں جن کی کوئی مستند اصل نہیں ملتی، مگر سامع انہیں یقینی تاریخ سمجھ لیتے ہیں۔

یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ بعض مشہور قصے مختلف بزرگوں یا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف منسوب کر دیے جاتے ہیں، حالانکہ وہ صرف عوامی روایات ہوتے ہیں، مستند تاریخی حقائق نہیں۔ رفتہ رفتہ یہی غیر ثابت حکایات لوگوں کے ذہنوں میں اصل تاریخ کی جگہ لے لیتی ہیں۔
ایک سچے داعی، خطیب اور قلمکار کی شان یہ نہیں کہ وہ ہر مشہور قصہ بیان کر دے، بلکہ اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پہلے تحقیق کرے، پھر بیان کرے۔ اگر کسی روایت کی صحت مشتبہ ہو تو اس کی وضاحت بھی کر دے، کیونکہ دین کی خدمت کا مطلب صرف لوگوں کو رلانا یا جذبات ابھارنا نہیں، بلکہ انہیں حقائق سے آگاہ کرنا بھی ہے۔

* پیارے آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:*
“كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ”
آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے۔” [صحیح مسلم، مقدمہ]”

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی تقاریر، تحریروں اور گفتگو میں صرف وہی واقعات بیان کریں جو معتبر اور قابلِ اعتماد ہوں۔ جذبات وقتی اثر چھوڑتے ہیں، مگر تحقیق ہمیشہ دین کی حفاظت کرتی ہے۔ سچی روایت دلوں میں اعتماد پیدا کرتی ہے، جبکہ غیر ثابت قصے رفتہ رفتہ دین کے بارے میں غلط فہمیاں جنم دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف نے ”پہلے تحقیق، پھر تقریر“ کو اپنا شعار بنایا، اور یہی طرزِ عمل آج بھی دین کی صحیح خدمت کا ضامن ہے۔
اگرچہ ظاہراً یہ کام مشکل اور محنت سے پُر ہے مگر طلبہ، علماء، ائمہ و خطباء کے لیے پیکرِ خلوص و محبت، تلمیذ و خلیفۂ حضور تاجِ شریعت، ماہرِ نحو حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی حفظه اللّٰہ تعالیٰ (استاد و مفتی: جامعۃ الرضا، بریلی شریف) نے اس کام کو نہایت آسان فرما دیا ہے۔ مستند واقعات و حکایات کو یکجا فرما دیا ہے۔ کبھی تو پڑھ کر لگے کہ کام اچھا ہے مگر معمولی سی بات ہے، مگر نہیں! ہے معمولی نہیں بلکہ غیر معمولی کارنامہ ہے۔ پہلی وجہ تو یہی کہ

@ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

دوسری وجہ جو استاذ گرامی وقار کی کارش پر چار چاند لگا رہی ہے وہ یہ کہ خلیفۂ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ نے فتاویٰ رضویہ شریف، ملفوظاتِ سرکار اعلیٰ حضرت و دیگر تصنیفات و کا بالاستیعاب مطالعہ فرمانا شروع کیا اور جیسے جیسے واقعات ملتے گئے تحریر کرتے گئے اور بالآخر شرکائے بدر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا فیضان حاصل کرتے ہوئے 313/مستند واقعات و حکایات کو جمع کرکے اپنی تالیف مکمل کی اور نام *”واقعاتِ رضویه“* رکھا جس کی پہلی جلد الحمدللّٰه تعالیٰ کتابت و طباعت کے مرحلے سے گزر کر منصۂ شہود پر آ گئی ہے۔ مجددِ دین و ملت، حضور سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی تصنیفات و تالیفات میں موجود واقعات کو یکجا دیکھنے کا اور مطالعہ کرکے امت کے سامنے پیش کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔

تیسری وجہ جو تلمیذِ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان کے کام کو منفرد بنا رہی ہے وہ یہ کہ امامِ اہلسنّت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی تصنیفات و تالیفات پر سالوں سے کام ہوتا آ رہا ہے اور سرکارِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کے علمی بحر سے موتیاں اہل علم حاصل کرکے دینِ حق کی خدمت کر رہے ہیں۔ مسائل و فضائل پر کام ہوا مگر واقعات کو جمع کرنا یہ میرے استاذ گرامی وقار اور ان کی تالیف کی انفرادیت ہے۔

علماء و خطباء کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور فرمانا چاہیے تاکہ امت کے سامنے مستند روایات پیش کریں اور خود کو بھی بے عزت ہونے سے بچائیں۔

اللّٰہ تعالیٰ حضرت استاذ گرامی وقار حفظه اللّٰہ تعالیٰ کی اس علمی خدمت و بارگاہِ اقدس میں درجۂ قبولیت عطا فرمائے اور مفیدِ عوام و خواص بنائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

تلمیذ و خادمِ مفتی محمد شاعر رضا قادری صاحب قبلہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جماعت-سادسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
٢١؍جولائی ؁٢٠٢٦ء بروز منگل

Scan this QR code to read online:

QR Code