صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
لفظوں میں چھپی دنیا
ادبیات

لفظوں میں چھپی دنیا

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

لفظوں میں چھپی دنیا
علم کی باتیں (٤)
کبھی کسی پرانی کتاب کو کھولیے۔ گرد سے اٹے ہوئے سرورق کو دیکھیے، زرد پڑے ہوئے صفحات کو پلٹیے، اور پھر کسی ایک سطر پر ٹھہر جائیے۔ بظاہر سامنے صرف چند الفاظ ہوں گے؛ چند حروف، جو سیاہی سے کاغذ پر رکھ دیے گئے ہیں۔ مگر انہی چند لفظوں میں نہ جانے کتنے زمانے، کتنی کہانیاں اور کتنے احساسات سانس لے رہے ہوتے ہیں۔
لفظوں کا عجیب معاملہ ہے۔ وہ خود کہیں نہیں جاتے، مگر پڑھنے والے کو کہیں کا کہیں پہنچا دیتے ہیں۔ ایک جملہ پڑھتے ہی آدمی اپنے موجودہ وقت سے نکل کر کسی گزرے ہوئے زمانے میں جا پہنچتا ہے۔ کسی سفر کی روداد پڑھتا ہے تو ایسے لگتا ہے جیسے خود راستے میں چل رہا ہو۔ کسی جنگ کا حال پڑھتا ہے تو آنکھوں کے سامنے میدان کا منظر آجاتا ہے۔ کسی شاعر کا شعر پڑھتا ہے تو اس کے تخیلات کی طرف ذہن چلا جاتا ہے۔
اور شاید لفظوں کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ ہر شخص کے لیے ایک ہی معنی نہیں رکھتے۔
”گھر“ ایک لفظ ہے، مگر جس نے اپنا گھر چھوڑا ہو، اس کے لیے یہ لفظ صرف تین حروف نہیں۔ اس میں ایک صحن، کچھ چہرے، بچپن کی آوازیں اور بے شمار یادیں چھپی ہوتی ہیں۔
”بارش“ ایک لفظ ہے، مگر کسی کے لیے بھیگی ہوئی مٹی کی خوشبو، کسی کے لیے کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوا بچپن، اور کسی کے لیے کسی عزیز کے ساتھ گزرا ہوا ایک لمحہ۔
لفظ وہی ہے، مگر دنیا ہر شخص کی اپنی ہے۔
کبھی کسی کی زبان سے صرف اتنا سنائی دیتا ہے: ”میں ٹھیک ہوں۔“
بات ختم ہوگئی۔ مگر ضروری نہیں کہ کہانی بھی ختم ہو گئی ہو۔ ممکن ہے اس مختصر جملے کے پیچھے بہت سی ایسی باتیں ہوں جنہیں کہنے کے لیے الفاظ ہی نہ مل رہے ہوں۔ انسان کبھی کبھی بہت کچھ محسوس کرتا ہے اور صرف چند لفظ کہہ پاتا ہے۔ باقی سب اس کی خاموشی میں رہ جاتا ہے۔
اسی لیے لفظوں کو صرف ان کے ظاہر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ بعض اوقات ایک چھوٹا سا لفظ اپنے پیچھے ایک لمبی داستان لیے ہوتا ہے۔
ایک کتاب کے کسی صفحے پر کسی شخص کا نام لکھا ہے۔ ہمارے لیے وہ محض ایک نام ہے، مگر شاید وہ شخص کبھی زندہ تھا، اس کے بھی خواب تھے، اس کے بھی دوست تھے، اس نے بھی کسی کو چاہا تھا، کسی سے اختلاف کیا تھا، کچھ پایا تھا، کچھ کھویا تھا۔ اب وہ دنیا میں نہیں، مگر اس کا نام ایک صفحے پر باقی ہے۔ ہم اس نام کو پڑھتے ہیں اور یوں ایک خاموش انسان دوبارہ ہمارے سامنے آجاتا ہے۔
یہ لفظوں کی طاقت ہے کہ وہ گزرے ہوئے لوگوں کو دوبارہ گفتگو کا موقع دے دیتے ہیں۔
اسی طرح ایک کتاب صرف معلومات کا مجموعہ نہیں ہوتی۔ وہ اپنے زمانے کی گواہی بھی ہوتی ہے۔ اس کے صفحات بتاتے ہیں کہ لوگ کیسے سوچتے تھے، کیا پسند کرتے تھے، کن مشکلات سے گزرتے تھے، کن چیزوں کو اہم سمجھتے تھے۔ یوں کبھی کبھی ایک کتاب پڑھتے ہوئے ہم کسی شخص سے نہیں بلکہ پورے زمانے سے ملاقات کر رہے ہوتے ہیں۔
اور پھر قلم ہے، جو ان دنیاؤں کو محفوظ کرتا ہے۔
انسان کی آواز ایک لمحے کے بعد ختم ہوجاتی ہے، مگر قلم اسے وقت کے پار پہنچا سکتا ہے۔ ایک شخص چلا جاتا ہے، مگر اس کے الفاظ رہ جاتے ہیں۔ مجلس بکھر جاتی ہے، مگر گفتگو کتاب میں محفوظ رہتی ہے۔ آنکھیں بند ہوجاتی ہیں، مگر انسان کی فکر صفحات پر کھلی رہتی ہے۔
اسی لیے اچھا لکھنے والا صرف جملے نہیں بناتا، وہ احساسات، خیالات اور تجربات کو محفوظ کرتا ہے۔
لیکن لفظوں کی یہ دنیا جتنی خوب صورت ہے، اتنی ہی ذمہ داری بھی مانگتی ہے۔ ایک لفظ کسی کو سنبھال سکتا ہے اور ایک لفظ گرا سکتا ہے۔ ایک جملہ برسوں پرانی ناراضگی ختم کر سکتا ہے اور ایک جملہ برسوں کا تعلق توڑ سکتا ہے۔ بعض زخم ہاتھ سے نہیں لگتے، زبان سے لگتے ہیں اور بعض مرہم دوا سے نہیں، صرف ایک نرم لفظ سے مل جاتے ہیں۔
اس لیے ہر لفظ بولنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ یہ میرے منہ سے نکل کر دوسرے کے دل میں کیا بنے گا ؟
ممکن ہے ہمارے لیے وہ صرف ایک جملہ ہو، مگر سامنے والے کے لیے وہ پوری رات کی سوچ بن جائے۔ ممکن ہے ہم اسے بھول جائیں، مگر کوئی شخص اسے برسوں یاد رکھے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آخرکار لفظوں کی دنیا عجیب ہے۔
کبھی چند لفظ ہمیں ماضی میں لے جاتے ہیں، کبھی مستقبل کا خواب دکھاتے ہیں، کبھی کسی اجنبی کو اپنا بنا دیتے ہیں، کبھی کسی اپنے کو اجنبی کر دیتے ہیں۔ کبھی یہی لفظ علم بن کر راستہ دکھاتے ہیں، کبھی شعر بن کر دل میں اترتے ہیں، کبھی دعا بن کر آسمان کی طرف اٹھتے ہیں، اور کبھی خاموشی کے ساتھ مل کر وہ بات کہہ دیتے ہیں جو ہزار جملے بھی نہیں کہہ سکتے۔
کاغذ پر لفظ کم ہوتے ہیں، مگر ان کے اندر دنیا بہت بڑی ہوتی ہے۔
بس فرق اتنا ہے کہ ہر شخص لفظ پڑھتا ہے، مگر ہر شخص لفظوں کے اندر چھپی دنیا نہیں دیکھ پاتا..............جاری
از:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
54
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

اندھیروں میں علم کی روشنی

سوالوں کے بیچ جواب

لفظوں میں چھپی دنیا - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

لفظوں میں چھپی دنیا

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

*لفظوں میں چھپی دنیا*
علم کی باتیں (٤)

کبھی کسی پرانی کتاب کو کھولیے۔ گرد سے اٹے ہوئے سرورق کو دیکھیے، زرد پڑے ہوئے صفحات کو پلٹیے، اور پھر کسی ایک سطر پر ٹھہر جائیے۔ بظاہر سامنے صرف چند الفاظ ہوں گے؛ چند حروف، جو سیاہی سے کاغذ پر رکھ دیے گئے ہیں۔ مگر انہی چند لفظوں میں نہ جانے کتنے زمانے، کتنی کہانیاں اور کتنے احساسات سانس لے رہے ہوتے ہیں۔

لفظوں کا عجیب معاملہ ہے۔ وہ خود کہیں نہیں جاتے، مگر پڑھنے والے کو کہیں کا کہیں پہنچا دیتے ہیں۔ ایک جملہ پڑھتے ہی آدمی اپنے موجودہ وقت سے نکل کر کسی گزرے ہوئے زمانے میں جا پہنچتا ہے۔ کسی سفر کی روداد پڑھتا ہے تو ایسے لگتا ہے جیسے خود راستے میں چل رہا ہو۔ کسی جنگ کا حال پڑھتا ہے تو آنکھوں کے سامنے میدان کا منظر آجاتا ہے۔ کسی شاعر کا شعر پڑھتا ہے تو اس کے تخیلات کی طرف ذہن چلا جاتا ہے۔
اور شاید لفظوں کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ ہر شخص کے لیے ایک ہی معنی نہیں رکھتے۔

*”گھر“* ایک لفظ ہے، مگر جس نے اپنا گھر چھوڑا ہو، اس کے لیے یہ لفظ صرف تین حروف نہیں۔ اس میں ایک صحن، کچھ چہرے، بچپن کی آوازیں اور بے شمار یادیں چھپی ہوتی ہیں۔
*”بارش“* ایک لفظ ہے، مگر کسی کے لیے بھیگی ہوئی مٹی کی خوشبو، کسی کے لیے کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوا بچپن، اور کسی کے لیے کسی عزیز کے ساتھ گزرا ہوا ایک لمحہ۔
لفظ وہی ہے، مگر دنیا ہر شخص کی اپنی ہے۔

کبھی کسی کی زبان سے صرف اتنا سنائی دیتا ہے: ”میں ٹھیک ہوں۔“
بات ختم ہوگئی۔ مگر ضروری نہیں کہ کہانی بھی ختم ہو گئی ہو۔ ممکن ہے اس مختصر جملے کے پیچھے بہت سی ایسی باتیں ہوں جنہیں کہنے کے لیے الفاظ ہی نہ مل رہے ہوں۔ انسان کبھی کبھی بہت کچھ محسوس کرتا ہے اور صرف چند لفظ کہہ پاتا ہے۔ باقی سب اس کی خاموشی میں رہ جاتا ہے۔
اسی لیے لفظوں کو صرف ان کے ظاہر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ بعض اوقات ایک چھوٹا سا لفظ اپنے پیچھے ایک لمبی داستان لیے ہوتا ہے۔

ایک کتاب کے کسی صفحے پر کسی شخص کا نام لکھا ہے۔ ہمارے لیے وہ محض ایک نام ہے، مگر شاید وہ شخص کبھی زندہ تھا، اس کے بھی خواب تھے، اس کے بھی دوست تھے، اس نے بھی کسی کو چاہا تھا، کسی سے اختلاف کیا تھا، کچھ پایا تھا، کچھ کھویا تھا۔ اب وہ دنیا میں نہیں، مگر اس کا نام ایک صفحے پر باقی ہے۔ ہم اس نام کو پڑھتے ہیں اور یوں ایک خاموش انسان دوبارہ ہمارے سامنے آجاتا ہے۔
یہ لفظوں کی طاقت ہے کہ وہ گزرے ہوئے لوگوں کو دوبارہ گفتگو کا موقع دے دیتے ہیں۔

اسی طرح ایک کتاب صرف معلومات کا مجموعہ نہیں ہوتی۔ وہ اپنے زمانے کی گواہی بھی ہوتی ہے۔ اس کے صفحات بتاتے ہیں کہ لوگ کیسے سوچتے تھے، کیا پسند کرتے تھے، کن مشکلات سے گزرتے تھے، کن چیزوں کو اہم سمجھتے تھے۔ یوں کبھی کبھی ایک کتاب پڑھتے ہوئے ہم کسی شخص سے نہیں بلکہ پورے زمانے سے ملاقات کر رہے ہوتے ہیں۔

اور پھر قلم ہے، جو ان دنیاؤں کو محفوظ کرتا ہے۔
انسان کی آواز ایک لمحے کے بعد ختم ہوجاتی ہے، مگر قلم اسے وقت کے پار پہنچا سکتا ہے۔ ایک شخص چلا جاتا ہے، مگر اس کے الفاظ رہ جاتے ہیں۔ مجلس بکھر جاتی ہے، مگر گفتگو کتاب میں محفوظ رہتی ہے۔ آنکھیں بند ہوجاتی ہیں، مگر انسان کی فکر صفحات پر کھلی رہتی ہے۔
اسی لیے اچھا لکھنے والا صرف جملے نہیں بناتا، وہ احساسات، خیالات اور تجربات کو محفوظ کرتا ہے۔

لیکن لفظوں کی یہ دنیا جتنی خوب صورت ہے، اتنی ہی ذمہ داری بھی مانگتی ہے۔ ایک لفظ کسی کو سنبھال سکتا ہے اور ایک لفظ گرا سکتا ہے۔ ایک جملہ برسوں پرانی ناراضگی ختم کر سکتا ہے اور ایک جملہ برسوں کا تعلق توڑ سکتا ہے۔ بعض زخم ہاتھ سے نہیں لگتے، زبان سے لگتے ہیں اور بعض مرہم دوا سے نہیں، صرف ایک نرم لفظ سے مل جاتے ہیں۔
اس لیے ہر لفظ بولنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ یہ میرے منہ سے نکل کر دوسرے کے دل میں کیا بنے گا ؟
ممکن ہے ہمارے لیے وہ صرف ایک جملہ ہو، مگر سامنے والے کے لیے وہ پوری رات کی سوچ بن جائے۔ ممکن ہے ہم اسے بھول جائیں، مگر کوئی شخص اسے برسوں یاد رکھے۔

*آخرکار لفظوں کی دنیا عجیب ہے۔*
کبھی چند لفظ ہمیں ماضی میں لے جاتے ہیں، کبھی مستقبل کا خواب دکھاتے ہیں، کبھی کسی اجنبی کو اپنا بنا دیتے ہیں، کبھی کسی اپنے کو اجنبی کر دیتے ہیں۔ کبھی یہی لفظ علم بن کر راستہ دکھاتے ہیں، کبھی شعر بن کر دل میں اترتے ہیں، کبھی دعا بن کر آسمان کی طرف اٹھتے ہیں، اور کبھی خاموشی کے ساتھ مل کر وہ بات کہہ دیتے ہیں جو ہزار جملے بھی نہیں کہہ سکتے۔
کاغذ پر لفظ کم ہوتے ہیں، مگر ان کے اندر دنیا بہت بڑی ہوتی ہے۔
بس فرق اتنا ہے کہ ہر شخص لفظ پڑھتا ہے، مگر ہر شخص لفظوں کے اندر چھپی دنیا نہیں دیکھ پاتا…………..*جاری*

★ “از:”
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی

Scan this QR code to read online:

QR Code