صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
خاموش قلم کی صدا
ادبیات

خاموش قلم کی صدا

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

خاموش قلم کی صدا
علم کی باتیں (٢)
دنیا میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو کانوں تک نہیں پہنچتیں، مگر دل و دماغ پر اپنا اثر چھوڑ جاتی ہیں۔ قلم کی آواز بھی انہیں میں سے ایک ہے۔ وہ بولتا نہیں، مگر اس کے لکھے ہوئے الفاظ صدیوں تک بولتے رہتے ہیں۔ ایک زبان خاموش ہوسکتی ہے، ایک انسان دنیا سے رخصت ہوسکتا ہے، ایک مجلس ختم ہوسکتی ہے؛ مگر کاغذ پر اتر جانے والی بات اپنے وجود کو باقی رکھ سکتی ہے۔
قلم کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ وہ ایک لمحے کو زمانے میں محفوظ کر دیتا ہے۔ جو بات آج کسی ایک شخص کے ذہن میں ہے، قلم اسے ہزاروں ذہنوں تک پہنچا دیتا ہے۔ جو تجربہ ایک انسان نے پوری زندگی میں حاصل کیا، وہ چند صفحات میں آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ سکتا ہے۔ یوں ایک شخص کی زندگی ختم ہوجاتی ہے، مگر اس کی فکر سفر کرتی رہتی ہے۔
کتنے ہی لوگ ایسے گزرے جنہیں ان کے زمانے نے شاید زیادہ نہ پہچانا، مگر ان کے قلم نے انہیں زمانوں میں زندہ رکھا۔
ان کے جسم مٹی میں مل گئے،
ان کی آوازیں خاموش ہوگئیں،
ان کی محفلیں اجڑ گئیں
لیکن ان کے لکھے ہوئے الفاظ آج بھی کتابوں کے صفحات سے نکل کر لوگوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔
قلم صرف واقعات لکھنے کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ خیالات کی حفاظت بھی کرتا ہے۔ ایک خیال اگر زبان سے کہا جائے تو ہوا میں بکھر سکتا ہے، مگر جب وہ قلم کے ذریعے لفظ بن جائے تو اسے پڑھا، سمجھا، محفوظ کیا اور آگے پہنچایا جا سکتا ہے۔
اسی لیے قلم اٹھانے سے پہلے انسان کو سوچنا چاہیے کہ وہ کیا لکھ رہا ہے۔ کیونکہ لکھا ہوا لفظ صرف کاغذ پر نہیں رہتا، کبھی کسی کے ذہن کا حصہ بن جاتا ہے، کبھی کسی کے کردار پر اثر ڈالتا ہے اور کبھی کسی کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔
ایک جملہ کسی مایوس انسان کو امید دے سکتا ہے،
ایک نصیحت کسی بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھا سکتی ہے،
ایک سچی بات کسی غلط فہمی کو دور کرسکتی ہے، اور
ایک خوب صورت تحریر کسی کے اندر وہ شوق پیدا کر سکتی ہے جو اسے علم کی پوری زندگی کی طرف لے جائے۔
مگر قلم کا حق صرف خوب صورت الفاظ لکھ دینا نہیں۔ قلم کا اصل حسن سچائی، خیر خواہی اور مقصد میں ہے۔ الفاظ جتنے خوب صورت ہوں، اگر ان کے پیچھے خیر نہ ہو تو ان کی چمک دیرپا نہیں ہوتی۔ اور کبھی ایک سادہ سا جملہ، اگر اخلاص سے لکھا جائے، ہزاروں لفظوں سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔
اس لیے قلم کو محض لکھنے کا آلہ نہ سمجھیں۔ یہ ایک امانت ہے۔ اس کے ذریعے آپ کسی کی عزت بھی محفوظ کر سکتے ہیں اور کسی کی دل آزاری بھی،
کسی کے اندر امید بھی پیدا کر سکتے ہیں اور مایوسی بھی،
کسی کو علم کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں اور جہالت کے اندھیرے میں بھی دھکیل سکتے ہو۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
قلم خاموش ضرور ہے، مگر بے اثر نہیں۔ وہ آج لکھتا ہے اور آنے والا کل اسے پڑھتا ہے..............جاری
از:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
55
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

سوالوں کے بیچ جواب

کتابوں کے درمیان ایک چراغ

خاموش قلم کی صدا - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

خاموش قلم کی صدا

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

*خاموش قلم کی صدا*
علم کی باتیں (٢)

دنیا میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو کانوں تک نہیں پہنچتیں، مگر دل و دماغ پر اپنا اثر چھوڑ جاتی ہیں۔ قلم کی آواز بھی انہیں میں سے ایک ہے۔ وہ بولتا نہیں، مگر اس کے لکھے ہوئے الفاظ صدیوں تک بولتے رہتے ہیں۔ ایک زبان خاموش ہوسکتی ہے، ایک انسان دنیا سے رخصت ہوسکتا ہے، ایک مجلس ختم ہوسکتی ہے؛ مگر کاغذ پر اتر جانے والی بات اپنے وجود کو باقی رکھ سکتی ہے۔

قلم کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ وہ ایک لمحے کو زمانے میں محفوظ کر دیتا ہے۔ جو بات آج کسی ایک شخص کے ذہن میں ہے، قلم اسے ہزاروں ذہنوں تک پہنچا دیتا ہے۔ جو تجربہ ایک انسان نے پوری زندگی میں حاصل کیا، وہ چند صفحات میں آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ سکتا ہے۔ یوں ایک شخص کی زندگی ختم ہوجاتی ہے، مگر اس کی فکر سفر کرتی رہتی ہے۔

کتنے ہی لوگ ایسے گزرے جنہیں ان کے زمانے نے شاید زیادہ نہ پہچانا، مگر ان کے قلم نے انہیں زمانوں میں زندہ رکھا۔
ان کے جسم مٹی میں مل گئے،
ان کی آوازیں خاموش ہوگئیں،
ان کی محفلیں اجڑ گئیں
لیکن ان کے لکھے ہوئے الفاظ آج بھی کتابوں کے صفحات سے نکل کر لوگوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔

قلم صرف واقعات لکھنے کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ خیالات کی حفاظت بھی کرتا ہے۔ ایک خیال اگر زبان سے کہا جائے تو ہوا میں بکھر سکتا ہے، مگر جب وہ قلم کے ذریعے لفظ بن جائے تو اسے پڑھا، سمجھا، محفوظ کیا اور آگے پہنچایا جا سکتا ہے۔

اسی لیے قلم اٹھانے سے پہلے انسان کو سوچنا چاہیے کہ وہ کیا لکھ رہا ہے۔ کیونکہ لکھا ہوا لفظ صرف کاغذ پر نہیں رہتا، کبھی کسی کے ذہن کا حصہ بن جاتا ہے، کبھی کسی کے کردار پر اثر ڈالتا ہے اور کبھی کسی کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔

ایک جملہ کسی مایوس انسان کو امید دے سکتا ہے،
ایک نصیحت کسی بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھا سکتی ہے،
ایک سچی بات کسی غلط فہمی کو دور کرسکتی ہے، اور
ایک خوب صورت تحریر کسی کے اندر وہ شوق پیدا کر سکتی ہے جو اسے علم کی پوری زندگی کی طرف لے جائے۔

مگر قلم کا حق صرف خوب صورت الفاظ لکھ دینا نہیں۔ قلم کا اصل حسن سچائی، خیر خواہی اور مقصد میں ہے۔ الفاظ جتنے خوب صورت ہوں، اگر ان کے پیچھے خیر نہ ہو تو ان کی چمک دیرپا نہیں ہوتی۔ اور کبھی ایک سادہ سا جملہ، اگر اخلاص سے لکھا جائے، ہزاروں لفظوں سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔

اس لیے قلم کو محض لکھنے کا آلہ نہ سمجھیں۔ یہ ایک امانت ہے۔ اس کے ذریعے آپ کسی کی عزت بھی محفوظ کر سکتے ہیں اور کسی کی دل آزاری بھی،
کسی کے اندر امید بھی پیدا کر سکتے ہیں اور مایوسی بھی،
کسی کو علم کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں اور جہالت کے اندھیرے میں بھی دھکیل سکتے ہو۔

قلم خاموش ضرور ہے، مگر بے اثر نہیں۔ وہ آج لکھتا ہے اور آنے والا کل اسے پڑھتا ہے…………..*جاری*

★ “از:”
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی

Scan this QR code to read online:

QR Code