صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
آدابِ زندگی انسان کے کردار کی تعمیر
ادبیات

آدابِ زندگی انسان کے کردار کی تعمیر

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

آدابِ زندگی : انسان کے کردار کی تعمیر
انسان کی اصل پہچان صرف اس کا نام، لباس، علم، دولت یا منصب نہیں، بلکہ اس کا کردار، اخلاق اور طرزِ زندگی ہے۔ انسان کے اندر موجود علم و صلاحیت اسی وقت قابلِ قدر بنتی ہے جب وہ ادب و شائستگی کے ساتھ ظاہر ہو۔ اسی لیے ادب کو انسانی شخصیت کی تعمیر میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
ادب انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ کب بولنا ہے، کیسے بولنا ہے، کس کے سامنے کس انداز سے پیش آنا ہے، کہاں خاموش رہنا ہے اور مختلف حالات میں اپنے جذبات کو کس طرح قابو میں رکھنا ہے۔ یہی چیز رفتہ رفتہ انسان کے کردار کو مضبوط اور شخصیت کو باوقار بناتی ہے۔
کردار کیا ہے ؟
کردار انسان کے ان اوصاف کا مجموعہ ہے جو اس کے معاملات اور برتاؤ سے ظاہر ہوتے ہیں۔ سچائی، امانتداری، وفاداری، تواضع، صبر، حیا، شجاعت، رحم دلی اور وعدے کی پابندی کردار کی نمایاں صفات ہیں۔ لیکن ان صفات کو عملی زندگی میں خوب صورت انداز سے برتنے کے لیے ادب اور سلیقہ ضروری ہے۔ نیکی بھی اگر غلط انداز میں پیش کی جائے تو اس کا اثر کم ہو سکتا ہے، جبکہ حسنِ اخلاق معمولی بات کو بھی مؤثر بنا دیتا ہے۔
ادب انسان کو متواضع بناتا ہے:
علم اور کامیابی کے ساتھ تکبر پیدا ہوجائے تو انسان اپنی ہی خوبیوں کا اسیر بن جاتا ہے۔ ادب انسان کو اس خطرے سے بچاتا ہے اور اسے انکسار و تواضع سکھاتا ہے۔ خلاقِ جہاں جل جلالہ نے ارشاد فرمایا:
وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ [لقمان-١٨]
اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بیشک الله کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا۔
یہ آیت و تعلیم انسان کو ظاہری غرور ہی سے نہیں بلکہ تکبر کے باطنی مرض سے بھی بچاتی ہے۔
ادب اور زبان:
کردار کی تعمیر میں زبان کا بہت بڑا کردار ہے۔ انسان کے الفاظ اس کی تربیت اور باطن کی عکاسی کرتے ہیں۔ جو شخص اپنی زبان پر قابو رکھتا ہے، وہ بہت سی مشکلات سے محفوظ رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: [صحیح البخاری، کتاب الرقاق]
مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ
ترجمہ: میرے لیے جو شخص دونوں جبڑوں کے درمیان کی چیز (زبان) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز (شرمگاہ) کی ذمہ داری دیدے میں اس کے لیے جنت کی ذمہ داری دیتا ہوں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی زبان اس کے کردار کی تعمیر یا تخریب میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
ادب اور غصہ:
غصہ انسان کی عقل اور زبان دونوں کو متأثر کر سکتا ہے۔ ایک لمحے کا بے قابو غصہ برسوں کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سید اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ليْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ
ملعوم ہوا کہ حقیقی قوت جسمانی غلبہ نہیں بلکہ اپنے نفس پر غلبہ ہے۔
ادب اور دوسروں کا احترام:
انسان کی شخصیت اس وقت زیادہ بلند ہوتی ہے جب وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے حقوق کا بھی خیال رکھتا ہے۔ کسی کی بات توجہ سے سننا، وعدہ پورا کرنا، امانت کی حفاظت کرنا، کسی کی تحقیر نہ کرنا اور ضرورت کے وقت مدد کرنا کردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِۚ-یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ [نحل-٩٠]
بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو۔
ادب اور مشکل حالات:
انسان کے اصل کردار کا اندازہ آسان حالات میں نہیں بلکہ مشکل وقت میں ہوتا ہے۔ خوش حالی میں شکر، پریشانی میں صبر، کامیابی میں تواضع اور ناکامی میں حوصلہ، یہ سب مضبوط کردار کی علامات ہیں۔ جو شخص حالات بدلنے کے باوجود اپنے اصول اور اخلاق برقرار رکھتا ہے، وہ حقیقتاً باکردار انسان ہے۔
ادب زندگی کو خوب صورت بناتا ہے:
ادب صرف دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں، بلکہ اپنے وقت، وعدے، ذمہ داری، کام اور تعلقات کے ساتھ بھی سنجیدگی کا نام ہے۔ وقت کی پابندی، صفائی کا خیال، وعدے کی پاس داری، گفتگو میں شائستگی اور دوسروں کے حقوق کی رعایت، یہ سب آدابِ زندگی کے مختلف پہلو ہیں۔ ایسا شخص جہاں جاتا ہے، اپنے کردار کے ذریعے اپنے لیے احترام پیدا کرتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
انسان کی شخصیت ایک دن میں تعمیر نہیں ہوتی۔ عادات، معاملات، گفتگو، فیصلے اور روزمرہ کا برتاؤ مل کر کردار تشکیل دیتے ہیں۔ ادب ان تمام چیزوں کو ایک خوب صورت سمت عطا کرتا ہے۔ اس لیے اگر انسان اپنی زندگی کو باوقار بنانا چاہتا ہے تو اسے صرف معلومات حاصل کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنے اخلاق، عادات اور معاملات کی بھی اصلاح کرنی چاہیے۔ علم انسان کو قابل بناتا ہے، مگر ادب اسے قابلِ احترام بناتا ہے اور یہی ادب جب مستقل کردار کا حصہ بن جائے تو انسان کی پوری زندگی سنور جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وسیلے سے ہمیں باادب اور مہذب بنائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم۔
از:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، ابوالفضل انکلیو-٢، جامعہ نگر، نئی دہلی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
71
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

آدابِ مطالعہ اور کتاب سے تعلق

آدابِ معاشرت اور حسنِ سلوک

آدابِ زندگی انسان کے کردار کی تعمیر

پی ڈی ایف تیار ہو رہی ہے، برائے مہربانی انتظار کریں...

PDF ڈاؤنلوڈ ہوتے ہی یہ ونڈو بند ہو جائے گی۔

Jamiatur Raza Students Portal
Jamiatur Raza Students Portal
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

آدابِ زندگی انسان کے کردار کی تعمیر

قلمکار: Muhammad Anas Raza Haami

*آدابِ زندگی : انسان کے کردار کی تعمیر*

انسان کی اصل پہچان صرف اس کا نام، لباس، علم، دولت یا منصب نہیں، بلکہ اس کا کردار، اخلاق اور طرزِ زندگی ہے۔ انسان کے اندر موجود علم و صلاحیت اسی وقت قابلِ قدر بنتی ہے جب وہ ادب و شائستگی کے ساتھ ظاہر ہو۔ اسی لیے ادب کو انسانی شخصیت کی تعمیر میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
ادب انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ کب بولنا ہے، کیسے بولنا ہے، کس کے سامنے کس انداز سے پیش آنا ہے، کہاں خاموش رہنا ہے اور مختلف حالات میں اپنے جذبات کو کس طرح قابو میں رکھنا ہے۔ یہی چیز رفتہ رفتہ انسان کے کردار کو مضبوط اور شخصیت کو باوقار بناتی ہے۔

*کردار کیا ہے ؟*
کردار انسان کے ان اوصاف کا مجموعہ ہے جو اس کے معاملات اور برتاؤ سے ظاہر ہوتے ہیں۔ سچائی، امانتداری، وفاداری، تواضع، صبر، حیا، شجاعت، رحم دلی اور وعدے کی پابندی کردار کی نمایاں صفات ہیں۔ لیکن ان صفات کو عملی زندگی میں خوب صورت انداز سے برتنے کے لیے ادب اور سلیقہ ضروری ہے۔ نیکی بھی اگر غلط انداز میں پیش کی جائے تو اس کا اثر کم ہو سکتا ہے، جبکہ حسنِ اخلاق معمولی بات کو بھی مؤثر بنا دیتا ہے۔

*ادب انسان کو متواضع بناتا ہے:*
علم اور کامیابی کے ساتھ تکبر پیدا ہوجائے تو انسان اپنی ہی خوبیوں کا اسیر بن جاتا ہے۔ ادب انسان کو اس خطرے سے بچاتا ہے اور اسے انکسار و تواضع سکھاتا ہے۔ خلاقِ جہاں جل جلالہ نے ارشاد فرمایا:
” وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ ” [لقمان-١٨]
اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بیشک الله کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا۔
یہ آیت و تعلیم انسان کو ظاہری غرور ہی سے نہیں بلکہ تکبر کے باطنی مرض سے بھی بچاتی ہے۔

*ادب اور زبان:*
کردار کی تعمیر میں زبان کا بہت بڑا کردار ہے۔ انسان کے الفاظ اس کی تربیت اور باطن کی عکاسی کرتے ہیں۔ جو شخص اپنی زبان پر قابو رکھتا ہے، وہ بہت سی مشکلات سے محفوظ رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: [صحیح البخاری، کتاب الرقاق]
” مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ”
ترجمہ: میرے لیے جو شخص دونوں جبڑوں کے درمیان کی چیز (زبان) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز (شرمگاہ) کی ذمہ داری دیدے میں اس کے لیے جنت کی ذمہ داری دیتا ہوں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی زبان اس کے کردار کی تعمیر یا تخریب میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

*ادب اور غصہ:*
غصہ انسان کی عقل اور زبان دونوں کو متأثر کر سکتا ہے۔ ایک لمحے کا بے قابو غصہ برسوں کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سید اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” ليْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ”
ملعوم ہوا کہ حقیقی قوت جسمانی غلبہ نہیں بلکہ اپنے نفس پر غلبہ ہے۔

*ادب اور دوسروں کا احترام:*
انسان کی شخصیت اس وقت زیادہ بلند ہوتی ہے جب وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے حقوق کا بھی خیال رکھتا ہے۔ کسی کی بات توجہ سے سننا، وعدہ پورا کرنا، امانت کی حفاظت کرنا، کسی کی تحقیر نہ کرنا اور ضرورت کے وقت مدد کرنا کردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِۚ-یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ” [نحل-٩٠]
بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو۔

*ادب اور مشکل حالات:*
انسان کے اصل کردار کا اندازہ آسان حالات میں نہیں بلکہ مشکل وقت میں ہوتا ہے۔ خوش حالی میں شکر، پریشانی میں صبر، کامیابی میں تواضع اور ناکامی میں حوصلہ، یہ سب مضبوط کردار کی علامات ہیں۔ جو شخص حالات بدلنے کے باوجود اپنے اصول اور اخلاق برقرار رکھتا ہے، وہ حقیقتاً باکردار انسان ہے۔

*ادب زندگی کو خوب صورت بناتا ہے:*
ادب صرف دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں، بلکہ اپنے وقت، وعدے، ذمہ داری، کام اور تعلقات کے ساتھ بھی سنجیدگی کا نام ہے۔ وقت کی پابندی، صفائی کا خیال، وعدے کی پاس داری، گفتگو میں شائستگی اور دوسروں کے حقوق کی رعایت، یہ سب آدابِ زندگی کے مختلف پہلو ہیں۔ ایسا شخص جہاں جاتا ہے، اپنے کردار کے ذریعے اپنے لیے احترام پیدا کرتا ہے۔

انسان کی شخصیت ایک دن میں تعمیر نہیں ہوتی۔ عادات، معاملات، گفتگو، فیصلے اور روزمرہ کا برتاؤ مل کر کردار تشکیل دیتے ہیں۔ ادب ان تمام چیزوں کو ایک خوب صورت سمت عطا کرتا ہے۔ اس لیے اگر انسان اپنی زندگی کو باوقار بنانا چاہتا ہے تو اسے صرف معلومات حاصل کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنے اخلاق، عادات اور معاملات کی بھی اصلاح کرنی چاہیے۔ علم انسان کو قابل بناتا ہے، مگر ادب اسے قابلِ احترام بناتا ہے اور یہی ادب جب مستقل کردار کا حصہ بن جائے تو انسان کی پوری زندگی سنور جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وسیلے سے ہمیں باادب اور مہذب بنائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم۔

★ “از:”
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، ابوالفضل انکلیو-٢، جامعہ نگر، نئی دہلی

مضمون آن لائن پڑھنے کے لیے اسکین کریں:

QR Code