اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
پردۂ خفا میں جلوۂ ولایت
شخصیات اسلاف واخلاف

پردۂ خفا میں جلوۂ ولایت

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

پردۂ خفا میں جلوۂ ولایت
شہزادۂ رسولِ خدا ﷺ، چشم و چراغِ خاندانِ حضور صاحب البرکات، نبیرۂ حضور برہان الموحّدین، لخت جگر حضور شاہ حمزہ عینیؔ، خلیفۂ حضور شمسِ مارہرہ سرکار اچھے میاں،شہزادۂ حضور آل برکات ستھرے میاں، قطبِ مارہرہ مطہرہ، جدِ حضور سرکارِ نور، مرشدِ سرکار اعلیٰ حضرت، خاتم الاکابر حضور سیدنا شاہ آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے احوال و مقامات کو نہایت درجہ مخفی رکھتے تھے۔ حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معمول تھا کہ اپنی روحانی کیفیات کا کبھی اظہار نہ فرماتے، بلکہ اکثر ارشاد فرمایا کرتے تھے: ولی را اخفائے ولایت فرض است یعنی: ولی کے لیے اپنی ولایت کو چھپانا ضروری ہے۔
حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک شہرت سے بچنا، اخلاص کی حفاظت کرنا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو مخلوق کی نگاہوں سے اوجھل رکھنا، اہل اللہ کی عظیم سنت تھی۔ اسی وجہ سے حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بے شمار واقعات زبان زدِ خاص و عام ہونے کے باوجود حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبھی اپنی کسی کرامت یا روحانی مرتبے کا دعویٰ نہ فرمایا۔
حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اخفائے حال سے متعلق ایک نہایت عجیب اور ایمان افروز واقعہ سراج العوارف کے صفحہ ۵٦؍پر مذکور ہے۔
مولوی مظفر علی صاحب بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”ایک رات میں درگاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ میں مقیم تھا۔ رات کا وقت تھا، ہر طرف سکون اور خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ میں قضائے حاجت کے لیے پانی تلاش کرنے کی غرض سے اپنے حجرے سے باہر نکلا۔ جب صحنِ درگاہ شریف میں پہنچا تو حیرت و استعجاب کی ایک عجیب کیفیت مجھ پر طاری ہوگئی۔ میں نے دیکھا کہ صحنِ درگاہ میں غیر معمولی رونق ہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے عرس کا مجمع ہو۔ چاروں طرف باوقار، نورانی اور مقدس بزرگ تشریف فرما تھے۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پائیں جانب دالان میں ایک نہایت عمدہ اور مرصع تخت بچھا ہوا تھا۔ اس تخت کے گرد ایسے بزرگ بیٹھے تھے جن کے چہروں سے نور اور جلال ٹپکتا تھا، اور ہر ایک کے انداز سے عظمت و وقار ظاہر ہوتا تھا۔
میں یہ حیرت انگیز منظر دیکھ ہی رہا تھا کہ تھوڑی دیر کے بعد حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے۔ آپ نے نہایت نفیس اور فاخر لباس زیب تن فرمایا ہوا تھا، اور سر اقدس پر ایک شاہانہ تاج جلوہ افروز تھا۔ دو بزرگ نہایت ادب و تعظیم کے ساتھ حضرت کی بغلوں میں ہاتھ دیے ہوئے تھے اور انتہائی احترام کے ساتھ آپ کو لے کر آ رہے تھے۔
جب حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس مرصع تخت کے قریب پہنچے تو ان بزرگوں نے نہایت تکریم کے ساتھ آپ کو تخت پر بٹھایا۔ اس وقت جو منظر تھا، اس کی عظمت اور روحانیت بیان سے باہر تھی۔ میں درگاہ کی سیڑھیوں کے قریب کھڑا یہ سارا مبارک نظارہ دیکھ رہا تھا، لیکن حیرت و سکوت کے عالم میں تھا، زبان سے کوئی لفظ نہ نکلتا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ تمام مقدس بزرگ حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ساتھ درگاہ شریف کے اندرونی حصے کی طرف لے گئے، اور پھر اچانک یہ نورانی منظر میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ گویا ایک پردہ سا حائل ہو گیا ہو۔
میں بڑی حیرت اور سوچ میں اپنے حجرے کی طرف واپس آیا۔ بقیہ تمام رات اسی خیال میں گزری کہ آخر یہ کیا معاملہ تھا ؟ وہ بزرگ کون تھے ؟ یہ عظیم الشان اجتماع کیوں منعقد تھا ؟ اور حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ جلال و شان کس حقیقت کی طرف اشارہ تھا ؟
اسی سوچ و فکر میں رات گزر گئی۔ جب فجر کی اذان ہوئی تو میں مسجد میں حاضر ہوا اور حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی۔ نماز سے فراغت کے بعد ادب کے ساتھ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور رات کا سارا واقعہ عرض کرکے اس کی حقیقت دریافت کی۔ ابتداءً حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”تم نے خواب دیکھا ہوگا، اور خواب کی بات قابلِ اعتبار نہیں ہوتی۔“ میں نے عرض کیا: ”حضور! یہ خواب نہ تھا، میں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھا ہے۔“ یہ سن کر حضرت نے خاموشی اختیار فرمائی، پھر نہایت شفقت کے ساتھ ارشاد فرمایا: ”خاموش رہو، اور میری حیات میں کسی سے اس واقعہ کا ذکر نہ کرنا۔“ یہ فرما کر حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش ہو گئے، اور میں بھی ادب کے ساتھ خاموش ہو گیا، لیکن اس واقعے نے میرے دل پر ہمیشہ کے لیے یہ نقش ثبت کر دیا کہ اللہ والوں کی شان عام نگاہوں سے پوشیدہ ہوتی ہے، اور ان کے مقامات و مراتب کا حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہوتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
واقعہ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اولیائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان اپنی عظمتوں اور روحانی مقامات کو ظاہر کرنے کے بجائے انہیں چھپاتے ہیں۔ یہی اخلاص کی علامت اور مقبولانِ بارگاہِ الٰہی کا طریقہ ہے۔ جتنا کوئی اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے، اتنا ہی وہ اپنی ذات کو پردۂ خفا میں رکھتا ہے، اور یہی اہل اللہ کی عظمت کا ایک روشن باب ہے۔
سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعة الرضا، بریلی شریف

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
74
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

محرم الحرام: بدعات و منکرات

کیا اعلی حضرت وہابیوں کے سرتاج ہے؟

پردۂ خفا میں جلوۂ ولایت - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

پردۂ خفا میں جلوۂ ولایت

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

*پردۂ خفا میں جلوۂ ولایت*

شہزادۂ رسولِ خدا ﷺ، چشم و چراغِ خاندانِ حضور صاحب البرکات، نبیرۂ حضور برہان الموحّدین، لخت جگر حضور شاہ حمزہ عینیؔ، خلیفۂ حضور شمسِ مارہرہ سرکار اچھے میاں،شہزادۂ حضور آل برکات ستھرے میاں، قطبِ مارہرہ مطہرہ، جدِ حضور سرکارِ نور، مرشدِ سرکار اعلیٰ حضرت، خاتم الاکابر حضور سیدنا شاہ آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے احوال و مقامات کو نہایت درجہ مخفی رکھتے تھے۔ حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معمول تھا کہ اپنی روحانی کیفیات کا کبھی اظہار نہ فرماتے، بلکہ اکثر ارشاد فرمایا کرتے تھے: *ولی را اخفائے ولایت فرض است* یعنی: ولی کے لیے اپنی ولایت کو چھپانا ضروری ہے۔

حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک شہرت سے بچنا، اخلاص کی حفاظت کرنا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو مخلوق کی نگاہوں سے اوجھل رکھنا، اہل اللہ کی عظیم سنت تھی۔ اسی وجہ سے حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بے شمار واقعات زبان زدِ خاص و عام ہونے کے باوجود حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبھی اپنی کسی کرامت یا روحانی مرتبے کا دعویٰ نہ فرمایا۔
حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اخفائے حال سے متعلق ایک نہایت عجیب اور ایمان افروز واقعہ سراج العوارف کے صفحہ ۵٦؍پر مذکور ہے۔

مولوی مظفر علی صاحب بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”ایک رات میں درگاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ میں مقیم تھا۔ رات کا وقت تھا، ہر طرف سکون اور خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ میں قضائے حاجت کے لیے پانی تلاش کرنے کی غرض سے اپنے حجرے سے باہر نکلا۔ جب صحنِ درگاہ شریف میں پہنچا تو حیرت و استعجاب کی ایک عجیب کیفیت مجھ پر طاری ہوگئی۔ میں نے دیکھا کہ صحنِ درگاہ میں غیر معمولی رونق ہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے عرس کا مجمع ہو۔ چاروں طرف باوقار، نورانی اور مقدس بزرگ تشریف فرما تھے۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پائیں جانب دالان میں ایک نہایت عمدہ اور مرصع تخت بچھا ہوا تھا۔ اس تخت کے گرد ایسے بزرگ بیٹھے تھے جن کے چہروں سے نور اور جلال ٹپکتا تھا، اور ہر ایک کے انداز سے عظمت و وقار ظاہر ہوتا تھا۔
میں یہ حیرت انگیز منظر دیکھ ہی رہا تھا کہ تھوڑی دیر کے بعد حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے۔ آپ نے نہایت نفیس اور فاخر لباس زیب تن فرمایا ہوا تھا، اور سر اقدس پر ایک شاہانہ تاج جلوہ افروز تھا۔ دو بزرگ نہایت ادب و تعظیم کے ساتھ حضرت کی بغلوں میں ہاتھ دیے ہوئے تھے اور انتہائی احترام کے ساتھ آپ کو لے کر آ رہے تھے۔

جب حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس مرصع تخت کے قریب پہنچے تو ان بزرگوں نے نہایت تکریم کے ساتھ آپ کو تخت پر بٹھایا۔ اس وقت جو منظر تھا، اس کی عظمت اور روحانیت بیان سے باہر تھی۔ میں درگاہ کی سیڑھیوں کے قریب کھڑا یہ سارا مبارک نظارہ دیکھ رہا تھا، لیکن حیرت و سکوت کے عالم میں تھا، زبان سے کوئی لفظ نہ نکلتا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ تمام مقدس بزرگ حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ساتھ درگاہ شریف کے اندرونی حصے کی طرف لے گئے، اور پھر اچانک یہ نورانی منظر میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ گویا ایک پردہ سا حائل ہو گیا ہو۔

میں بڑی حیرت اور سوچ میں اپنے حجرے کی طرف واپس آیا۔ بقیہ تمام رات اسی خیال میں گزری کہ آخر یہ کیا معاملہ تھا ؟ وہ بزرگ کون تھے ؟ یہ عظیم الشان اجتماع کیوں منعقد تھا ؟ اور حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ جلال و شان کس حقیقت کی طرف اشارہ تھا ؟
اسی سوچ و فکر میں رات گزر گئی۔ جب فجر کی اذان ہوئی تو میں مسجد میں حاضر ہوا اور حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی۔ نماز سے فراغت کے بعد ادب کے ساتھ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور رات کا سارا واقعہ عرض کرکے اس کی حقیقت دریافت کی۔ ابتداءً حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”تم نے خواب دیکھا ہوگا، اور خواب کی بات قابلِ اعتبار نہیں ہوتی۔“ میں نے عرض کیا: ”حضور! یہ خواب نہ تھا، میں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھا ہے۔“ یہ سن کر حضرت نے خاموشی اختیار فرمائی، پھر نہایت شفقت کے ساتھ ارشاد فرمایا: ”خاموش رہو، اور میری حیات میں کسی سے اس واقعہ کا ذکر نہ کرنا۔“ یہ فرما کر حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش ہو گئے، اور میں بھی ادب کے ساتھ خاموش ہو گیا، لیکن اس واقعے نے میرے دل پر ہمیشہ کے لیے یہ نقش ثبت کر دیا کہ اللہ والوں کی شان عام نگاہوں سے پوشیدہ ہوتی ہے، اور ان کے مقامات و مراتب کا حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہوتا ہے۔

واقعہ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اولیائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان اپنی عظمتوں اور روحانی مقامات کو ظاہر کرنے کے بجائے انہیں چھپاتے ہیں۔ یہی اخلاص کی علامت اور مقبولانِ بارگاہِ الٰہی کا طریقہ ہے۔ جتنا کوئی اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے، اتنا ہی وہ اپنی ذات کو پردۂ خفا میں رکھتا ہے، اور یہی اہل اللہ کی عظمت کا ایک روشن باب ہے۔

★ سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعة الرضا، بریلی شریف

Scan this QR code to read online:

QR Code