صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسلمانوں کا سنہرا ماضی
ادبیات

مسلمانوں کا سنہرا ماضی

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مسلمانوں کا سنہرا ماضی
امتِ مسلمہ کی تاریخ محض جنگوں اور حکومتوں کی تاریخ نہیں، بلکہ یہ ایمان، علم، عمل، عدل، تقویٰ اور خدمتِ انسانیت کی روشن داستان ہے۔ جب مسلمانوں نے قرآن و سنت کو اپنا رہنما بنایا، اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلے اور علم و عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا تو وہ دنیا کے لیے رہنمائی کا مرکز بن گئے۔
عہدِ نبوی ﷺ: اسلامی معاشرے کی بنیاد
مسلمانوں کی عظمت کا حقیقی آغاز مدینہ منورہ سے ہوا۔ دو جہاں کے تاجدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایسا معاشرہ قائم فرمایا جس کی بنیاد ایمان، اخوّت، عدل، امانت اور تقویٰ پر تھی۔ مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم کرکے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو باہمی محبت اور تعاون کا عملی نمونہ عطا فرمایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوْا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ [حجرات-١٠]
مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو۔
یہ آیت اسلامی معاشرے کی بنیاد بیان کرتی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے خیر خواہ اور مددگار ہوں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا روشن کردار
حضور نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کے صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے ایمان، اخلاص، قربانی اور عمل کا ایسا نمونہ پیش کیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے اپنے مال، وقت، وطن اور جان تک کو دینِ اسلام کے لیے پیش کر دیا۔
اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کے بارے میں فرمایا:
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ۔
اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین قابلِ احترام ہیں، اور ان کی محبت و تعظیم ہمارے دینی مزاج کا اہم حصہ ہے۔
علم کے میدان میں مسلمانوں کی خدمات
اسلام نے علم کی قدر و منزلت کو غیر معمولی اہمیت دی۔ قرآنِ کریم کی پہلی وحی ہی ”اِقْرَأْ“ یعنی ”پڑھو“ کے لفظ سے شروع ہوئی:
اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ [العلق-١]
پڑھو اپنے رب کے نام سے۔
سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے علم کی طلب کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔
مسلمانوں نے اسی علمی مزاج کے نتیجے میں بڑے بڑے علمی مراکز قائم کیے۔ قرآن و حدیث، فقہ، تفسیر، اصول، لغت اور ادب کے ساتھ طب، ریاضی، فلکیات، جغرافیہ اور دیگر علوم میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔
عدل و انصاف کی مثال
مسلمانوں کے سنہرے ماضی کی ایک نمایاں خصوصیت عدل تھی۔ قرآنِ مجید نے مسلمانوں کو حکم دیا:
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا [النساء-٥٨]
بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کروبے شک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے بے شک اللہ سنتا دیکھتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں ایسے حکمران اور قاضی گزرے جنہوں نے اپنے خلاف بھی حق بات قبول کی۔ یہی عدل کسی بھی معاشرے کو مضبوط اور قابلِ احترام بناتا ہے۔
دنیا تک اسلام کا پیغام
مسلمانوں کے سنہرے دور میں اسلام کا پیغام مختلف علاقوں تک پہنچا۔ لیکن اسلام کی قوت صرف سیاسی اقتدار میں نہیں تھی؛ اصل قوت دین کی تعلیم، حسنِ اخلاق، عدل اور دعوت تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ [النحل-١٢٥]
اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے۔
ماضی ہمارے لیے آئینہ ہے
مسلمانوں کا سنہرا ماضی ہمیں صرف فخر کرنا نہیں سکھاتا، بلکہ یہ سوال بھی کرتا ہے کہ وہ عظمت پیدا کیسے ہوئی تھی ؟
جواب واضح ہے: ایمان، علم، عمل، اخلاص، عدل، اتحاد اور محنت۔
آج بھی اگر امتِ مسلمہ انہی اصولوں کو مضبوطی سے اختیار کرے، قرآن و سنت سے وابستگی قائم رکھے، اپنے اکابر و اسلاف کے علمی ورثے سے فائدہ اٹھائے اور جدید ضروری علوم میں بھی محنت کرے تو ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں۔
ماضی کی عظمت اس وقت قیمتی ہے جب وہ مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ بنے۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ہمارے اسلاف بڑے عالم، محدث، فقیہ، سائنس دان یا فاتح تھے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم ان کی محنت، دیانت، علم دوستی اور دین داری سے سبق حاصل کریں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اور یہی ہمیں اگلے اہم سوال تک لے جاتا ہے:
ہماری موجودہ کمزوریوں کا ایک بڑا سبب کیا ہے ؟
اس کا جواب اگلے حصے میں ”علم و تہذیب میں مسلمانوں کی خدمات“ کے عنوان سے مزید تفصیل کے ساتھ سامنے آئے گا..........جاری
از:
سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
حاؔمی برکاتی

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
63
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

علم و تہذیب میں مسلمانوں کی خدمات

امتِ مسلمہ کا مقام و عظمت

مسلمانوں کا سنہرا ماضی - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسلمانوں کا سنہرا ماضی

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

*مسلمانوں کا سنہرا ماضی*

امتِ مسلمہ کی تاریخ محض جنگوں اور حکومتوں کی تاریخ نہیں، بلکہ یہ ایمان، علم، عمل، عدل، تقویٰ اور خدمتِ انسانیت کی روشن داستان ہے۔ جب مسلمانوں نے قرآن و سنت کو اپنا رہنما بنایا، اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلے اور علم و عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا تو وہ دنیا کے لیے رہنمائی کا مرکز بن گئے۔

*عہدِ نبوی ﷺ: اسلامی معاشرے کی بنیاد*
مسلمانوں کی عظمت کا حقیقی آغاز مدینہ منورہ سے ہوا۔ دو جہاں کے تاجدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایسا معاشرہ قائم فرمایا جس کی بنیاد ایمان، اخوّت، عدل، امانت اور تقویٰ پر تھی۔ مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم کرکے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو باہمی محبت اور تعاون کا عملی نمونہ عطا فرمایا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوْا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ” [حجرات-١٠]
مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو۔
یہ آیت اسلامی معاشرے کی بنیاد بیان کرتی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے خیر خواہ اور مددگار ہوں۔

*صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا روشن کردار*
حضور نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کے صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے ایمان، اخلاص، قربانی اور عمل کا ایسا نمونہ پیش کیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے اپنے مال، وقت، وطن اور جان تک کو دینِ اسلام کے لیے پیش کر دیا۔

*اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کے بارے میں فرمایا:*
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ۔
اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین قابلِ احترام ہیں، اور ان کی محبت و تعظیم ہمارے دینی مزاج کا اہم حصہ ہے۔

*علم کے میدان میں مسلمانوں کی خدمات*
اسلام نے علم کی قدر و منزلت کو غیر معمولی اہمیت دی۔ قرآنِ کریم کی پہلی وحی ہی “”اِقْرَأْ“” یعنی ”پڑھو“ کے لفظ سے شروع ہوئی:
“اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ” [العلق-١]
پڑھو اپنے رب کے نام سے۔
سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے علم کی طلب کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا “مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ” اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔
مسلمانوں نے اسی علمی مزاج کے نتیجے میں بڑے بڑے علمی مراکز قائم کیے۔ قرآن و حدیث، فقہ، تفسیر، اصول، لغت اور ادب کے ساتھ طب، ریاضی، فلکیات، جغرافیہ اور دیگر علوم میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔

*عدل و انصاف کی مثال*
مسلمانوں کے سنہرے ماضی کی ایک نمایاں خصوصیت عدل تھی۔ قرآنِ مجید نے مسلمانوں کو حکم دیا:
“اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا” [النساء-٥٨]
بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کروبے شک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے بے شک اللہ سنتا دیکھتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں ایسے حکمران اور قاضی گزرے جنہوں نے اپنے خلاف بھی حق بات قبول کی۔ یہی عدل کسی بھی معاشرے کو مضبوط اور قابلِ احترام بناتا ہے۔

*دنیا تک اسلام کا پیغام*
مسلمانوں کے سنہرے دور میں اسلام کا پیغام مختلف علاقوں تک پہنچا۔ لیکن اسلام کی قوت صرف سیاسی اقتدار میں نہیں تھی؛ اصل قوت دین کی تعلیم، حسنِ اخلاق، عدل اور دعوت تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ” [النحل-١٢٥]
اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے۔

*ماضی ہمارے لیے آئینہ ہے*
مسلمانوں کا سنہرا ماضی ہمیں صرف فخر کرنا نہیں سکھاتا، بلکہ یہ سوال بھی کرتا ہے کہ وہ عظمت پیدا کیسے ہوئی تھی ؟
*جواب واضح ہے:* ایمان، علم، عمل، اخلاص، عدل، اتحاد اور محنت۔
آج بھی اگر امتِ مسلمہ انہی اصولوں کو مضبوطی سے اختیار کرے، قرآن و سنت سے وابستگی قائم رکھے، اپنے اکابر و اسلاف کے علمی ورثے سے فائدہ اٹھائے اور جدید ضروری علوم میں بھی محنت کرے تو ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں۔

ماضی کی عظمت اس وقت قیمتی ہے جب وہ مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ بنے۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ہمارے اسلاف بڑے عالم، محدث، فقیہ، سائنس دان یا فاتح تھے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم ان کی محنت، دیانت، علم دوستی اور دین داری سے سبق حاصل کریں۔

*اور یہی ہمیں اگلے اہم سوال تک لے جاتا ہے:*
*ہماری موجودہ کمزوریوں کا ایک بڑا سبب کیا ہے ؟*
اس کا جواب اگلے حصے میں *”علم و تہذیب میں مسلمانوں کی خدمات“* کے عنوان سے مزید تفصیل کے ساتھ سامنے آئے گا……….جاری

از:
سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
حاؔمی برکاتی

Scan this QR code to read online:

QR Code