صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
بچپن کا سفر [قسطِ پنجم]
ادبیات

بچپن کا سفر [قسطِ پنجم]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

بچپن کا سفر
[ قسط پنجم ]
عصر کے بعد
بچپن کی کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں یاد کرنے کے لیے کسی خاص واقعے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بس انسان ذرا دیر کو خاموش بیٹھے، آنکھیں بند کرے اور دل کو موجودہ زندگی کی الجھنوں سے نکال کر چند برس پیچھے لے جائے، تو نہ جانے کہاں سے ایک منظر آ کر سامنے بیٹھ جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک منظر عصر کے بعد کا ہے۔چھٹی کا دن ہو، اسکول اور مدرسے کی مصروفیت نہ ہو، یا پڑھائی کے ہی دن ہوں، دن بھر کی بھاگ دوڑ کچھ تھم چکی ہو، سورج ڈھلنے کی طرف ہو اور گھر میں ایک عجیب سی ٹھہری ہوئی رونق ہو۔
آج کی طرح ہر شخص اپنے اپنے کام، موبائل اور مصروفیات میں گم نہیں ہوتا تھا؛ گھر کے لوگ ایک جگہ بیٹھ جاتے تھے اور ہمیں اس وقت یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ہم جس چیز کو معمولی سمجھ رہے ہیں، وہ ایک دن ہماری زندگی کی سب سے قیمتی یاد بن جائے گی۔
عصر کی نماز کے بعد جیسے ہی فرصت ملتی، گھر کا ماحول بدلنے لگتا۔ کوئی چارپائی پر بیٹھتا،
کوئی صحن میں کرسی ڈال لیتا،
کوئی دیوار سے ٹیک لگا لیتا
اور کسی کے ہاتھ میں چائے کا کپ آ جاتا۔ پھر آہستہ آہستہ سب ایک جگہ جمع ہونے لگتے۔ چائے کی خوشبو، گرم کپ سے اٹھتی بھاپ، شام کی ہلکی ہوا، گھر کے بڑوں کی گفتگو اور درمیان میں بچوں کی اپنی دنیا؛ یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے تھے جس کا حسن اس وقت شاید ہماری سمجھ سے باہر تھا۔ ہمیں تو بس اتنا معلوم تھا کہ عصر کے بعد گھر میں بیٹھنے کا وقت ہے۔ کبھی چائے کے ساتھ بسکٹ مل جائے تو خوشی، کبھی کچھ نمکین سامنے آ گیا تو جیسے آج کی محفل کا مرتبہ بلند ہو گیا، اور اگر کسی دن گھر میں کوئی خاص چیز بن گئی تو ہماری نظریں بار بار اسی طرف اٹھتیں کہ شاید کسی کو ہماری طرف بھی توجہ آ جائے۔
ان اوقات میں باتیں بھی عجیب ہوتی تھیں۔ بڑے اپنے زمانے کے واقعات سناتے،
گھر کے کسی فرد کا ذکر آتا،
کسی پڑوسی کی خیریت معلوم ہوتی،
کبھی پرانے لوگوں کی بات نکلتی،
کبھی کسی سفر کا قصہ شروع ہو جاتا۔ ہم بچے پہلے تو خاموش بیٹھنے کی کوشش کرتے، پھر چند منٹ بعد ہماری اپنی گفتگو شروع ہو جاتی۔ کوئی اپنی شرارت سناتا، کوئی اسکول کا واقعہ، کوئی دوست کی بات، کوئی ایسا قصہ جس میں سچ کم اور اپنی تعریف زیادہ ہوتی۔ اور اگر کسی بچے نے کوئی ایسی بات کہہ دی جس پر سب ہنس پڑیں تو اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے آج کی بیٹھک کا سب سے بڑا مقرر وہی ہے۔
کبھی ابو جان یا گھر کے کسی بڑے کی بات درمیان میں آ جاتی اور ہم خاموشی سے سننے لگتے۔ اس وقت ان کی باتیں شاید ہمیں بہت معمولی لگتی تھیں، مگر آج یاد کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ محفلیں صرف چائے پینے اور وقت گزارنے کی محفلیں نہیں تھیں؛ وہ خاندان کے دل کے ایک جگہ جمع ہونے کی محفلیں تھیں۔ وہاں محبت کسی بڑے اعلان کے ساتھ نہیں ہوتی تھی، وہ بس لوگوں کے ساتھ بیٹھنے، ایک دوسرے کا حال پوچھنے، چائے کا کپ بڑھانے اور ایک دوسرے کی بات سننے میں چھپی ہوتی تھی۔
امی جان کی اپنی مصروفیات ہوتیں، مگر پھر بھی وہ چند لمحوں کے لیے بیٹھ جاتیں۔ کبھی چائے ڈال رہی ہیں، کبھی کسی کو کپ دے رہی ہیں، کبھی کسی بچے کو کچھ کھانے کو کہہ رہی ہیں، کبھی کسی کی بات سن کر مسکرا رہی ہیں۔ ہمیں اس وقت ان کے ہاتھوں کی تھکن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ہمیں تو بس یہ معلوم تھا کہ امی یہاں ہیں، سب کے ساتھ بیٹھی ہیں۔
آج جب زندگی نے انسان کو یہ سمجھا دیا ہے کہ ہر موجود شخص ہمیشہ موجود نہیں رہتا، تو امی جان کا وہ یوں محفل میں بیٹھنا یاد آتا ہے تو دل کے اندر کہیں ایک خاموش سی کسک اٹھتی ہے۔ کاش اس وقت ہم جانتے کہ ایک دن انہیں لمحوں کو یاد کرنے کے لیے انسان کے پاس صرف یادیں رہ جائیں گی۔
کبھی ابّو جان گھر واپس آتے اور چائے کی محفل میں ان کے آنے سے جیسے گفتگو میں ایک نیا رنگ آ جاتا۔ بچے فوراً اپنی اپنی باتیں لے کر ان کے پاس پہنچتے۔ کسی کو اپنی کامیابی سنانی ہے،
کسی کو شکایت کرنی ہے،
کسی کو کسی چیز کی فرمائش کرنی ہے اور
کسی کو صرف اس لیے قریب بیٹھنا ہے کہ آج ابّو جان گھر پر ہیں۔ وہ تھکے ہوئے ہوتے، مگر بچوں کی بات سنتے۔ کبھی مسکرا دیتے، کبھی سمجھاتے، کبھی ڈانٹ بھی دیتے۔ ہمیں لگتا تھا کہ یہ سب تو روز کا معمول ہے۔ کیا خبر تھی کہ معمول ہی ایک دن سب سے بڑی نعمت محسوس ہوگا۔
چھٹی کے دن عصر کے بعد وقت جیسے ذرا آہستہ چلتا تھا۔ ہفتے کے دنوں میں جہاں گھڑی ہمیں کاموں کی طرف دھکیلتی رہتی تھی، چھٹی کے دن وہی گھڑی جیسے ہمارے ساتھ بیٹھ جاتی۔ نہ جلدی اسکول جانے کی فکر، نہ مدرسے کے سبق کا رجحان، نہ اگلی کلاس کی تیاری کی جلدی۔ گھر کے بڑے بھی نسبتاً فارغ ہوتے اور بچے بھی۔ کبھی کسی نے کہا، ”چائے بن گئی ہے“، تو سب آہستہ آہستہ جمع ہو گئے۔ کوئی پرانی بات چلی تو سب ہنسنے لگے، کوئی واقعہ یاد آیا تو ایک دوسرے کو یاد دلایا گیا، کسی نے کہا ”تمہیں یاد ہے؟“ اور پھر حیرت ہوتی کہ واقعی سب کو یاد ہے۔
اور ہم بچوں کے لیے اس محفل کی سب سے بڑی خوشی یہ تھی کہ بڑے باتیں کر رہے ہوں اور ہمیں سننے کی اجازت ہو۔ کبھی کوئی ایسی بات نکلتی جسے ہم پوری طرح سمجھ نہیں پاتے تھے، مگر پھر بھی بڑی سنجیدگی سے سنتے۔ کبھی کسی بڑے کی بات پر سب ہنستے تو ہم بھی بغیر جانے ہنس دیتے۔ پھر اگر کسی نے پوچھ لیا، ”تمہیں معلوم ہے کس بات پر ہنس رہے ہو ؟“ تو فوراً چہرہ سنجیدہ کر کے کہتے، ”ہاں!“ حالانکہ اندر سے ہمیں خود نہیں معلوم ہوتا تھا کہ بات کیا تھی۔
کبھی چائے کا کپ ہاتھ میں ہوتا اور ہم اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑے بیٹھے رہتے۔ چائے گرم ہوتی، اس لیے پہلے پھونک مارتے، پھر ذرا سا پیتے، پھر چہرے پر ایسا تاثر بناتے جیسے کسی بہت بڑے مشروب کا ذائقہ پرکھ رہے ہوں۔ پھونک مارنے پر ایک مرتبہ میرے ایک بڑے نے مجھ سے فرمایا: ”کھانے پینے کی چیزوں پر پھونک نہیں مارنی چاہیے۔“ بچوں کی عادت ہے ہر بات پر سوال کرنا۔ پوچھا: ”کیوں ؟“ جواب دیا کہ سب سے پہلی وجہ تو یہی ہے حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ پھر انہوں نے حدیثِ پاک سنا‌ئی:
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ. [سنن ابی داؤد، کتاب الاشربة]
ترجمہ: حضرتِ سیدینا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
پھر ایک وجہ بتائی کہ جب ہم سب پھونک مارتے ہیں تو Carbon Dioxide سانس کے ذریعے منہ سے نکلتا ہے، پھر وہی ہمارے کھانے پینے کی اشیاء میں چلا جاتا ہے اور وہی ہم کھاتے پیتے ہیں۔ پس اس لیے بھی ہمارے آقا کریم رؤف رحیم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے منع فرمایا۔ ہم بچے: ”اب سے اس بات کا خیال رہے گا۔“
اور اگر کپ میں بسکٹ ڈبو دیا جائے تو پھر اصل مسئلہ شروع ہوتا؛ بسکٹ زیادہ دیر چائے میں رہا تو ٹوٹ کر کپ میں، کم دیر رہا تو خشک۔ بچپن میں بسکٹ ڈبونے کا بھی ایک فن تھا، اور ہر بچہ خود کو اس فن کا ماہر سمجھتا تھا۔
مگر ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے پیچھے ایک بہت بڑی نعمت چھپی ہوئی تھی: سب کا ایک ساتھ ہونا۔
نہ کسی کو جلدی تھی، نہ کسی کو کہیں پہنچنا تھا، نہ کسی نے کہا کہ ”ابھی بہت کام ہے،“ نہ ہر چند لمحوں بعد کسی کی توجہ کسی اور طرف چلی جاتی۔ باتیں ہوتیں، خاموشیاں بھی ہوتیں، کبھی کوئی صرف سنتا رہتا، کبھی کوئی پرانی یاد سنا دیتا۔
آج کبھی تنہائی میں بیٹھ کر عصر کا وقت یاد آتا ہے تو دل خود بخود انہی محفلوں میں جا بیٹھتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے ایک ایک چہرہ آنے لگتا ہے۔ کوئی ہنس رہا ہے، کوئی چائے پی رہا ہے، کوئی بات کر رہا ہے، کوئی خاموش بیٹھا سن رہا ہے۔ پھر دل اچانک رک سا جاتا ہے جب خیال آتا ہے کہ وہ منظر اب کہاں ہے ؟
کچھ لوگ آج بھی ہیں، مگر پہلے جیسے فرصت کے ساتھ نہیں،
کچھ بہت دور چلے گئے،
کچھ کی آواز برسوں سے نہیں سنی،
کچھ ایسے بھی ہیں جن کی موجودگی اب صرف پرانی تصویروں یا یادوں میں ہے،
کچھ چہرے ایسے ہیں جنہیں یاد کرتے ہوئے انسان خود بھی حیران رہ جاتا ہے کہ وقت نے کب انہیں اتنا دور کر دیا، اور
کچھ لوگ قریب ہو کر بھی دور ہیں۔
کاش ہم اُس وقت جانتے کہ عصر کے بعد چائے کا وہ ایک کپ صرف چائے پینا نہیں تھا؛ وہ گھر کے سب لوگوں کے ساتھ گزارا ہوا ایک ایسا لمحہ تھا جو دوبارہ نہیں آنا تھا۔
کاش ہم اس وقت امی جان کو اتنی صحت کے ساتھ ذرا زیادہ دیکھ لیتے، والد صاحب کی بات ذرا زیادہ سن لیتے، بڑوں کے قصے ذرا توجہ سے یاد کر لیتے، بہن بھائیوں کی ہنسی کو ذرا دل میں محفوظ کر لیتے۔
کاش کسی نے ہمیں بتا دیا ہوتا کہ زندگی میں ایک وقت ایسا آئے گا جب انسان کے پاس چائے تو ہوگی، مگر وہ سب لوگ ایک ساتھ نہیں ہوں گے۔
آج اگر چائے کا کپ ہاتھ میں ہو اور گھر خاموش ہو، تو کبھی کبھی دل خود ہی پوچھتا ہے: ”وہ لمحات کہاں گئے ؟“
کپ وہی ہے، چائے بھی وہی ہے، شام بھی آتی ہے، سورج بھی ڈوبتا ہے، مگر وہ آوازیں نہیں آتیں۔ اور شاید یہی ماضی کا سب سے گہرا دکھ ہے کہ ہمیں جگہیں نہیں رلاتیں، ہمیں ان جگہوں سے وابستہ لوگ رلاتے ہیں۔ وہ عصر کی شامیں بھی اب گزری ہوئی زندگی کا حصہ ہیں۔ مگر یادوں کی دنیا میں وہ آج بھی زندہ ہیں۔ وہاں چائے ابھی گرم ہے، امی جان ابھی مسکرا رہی ہیں، والد صاحب ابھی بات کر رہے ہیں، بہن بھائی ابھی پاس بیٹھے ہیں، اور ہم ابھی اتنے ہی چھوٹے ہیں کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ یہ سب ایک دن دور ہو جائے گا۔
اسی لیے جب کبھی تنہائی میں عصر ڈھلتی ہے، دل چاہتا ہے کہ وقت کی کسی پرانی کھڑکی سے جھانک کر ایک بار پھر وہ منظر دیکھ لیں۔ بس ایک بار۔ نہ کچھ بدلنا ہے، نہ کچھ مانگنا ہے، نہ کسی سے کوئی شکایت کرنی ہے۔ صرف اتنا کہ سب ایک بار پھر اسی طرح بیٹھے ہوں، چائے کے کپ ہاتھوں میں ہوں، باتوں کے درمیان ہنسی گونج رہی ہو، اور ہم خاموشی سے ایک طرف بیٹھ کر یہ سوچ رہے ہوں کہ دنیا اس سے زیادہ خوب صورت بھی ہو سکتی ہے کیا ؟ مگر وقت کسی کی خواہش پر واپس نہیں آتا۔
وہ عصر کے لمحات اب یاد بن چکی ہے۔ اور یادیں بھی عجیب ہوتی ہیں؛ جب آتی ہیں تو پہلے لبوں پر مسکراہٹ لاتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ آنکھوں میں نمی اترتی ہے، اور آخر میں دل بس اتنا کہتا ہے: یا مولیٰ عزوجل! ہمارے سبھی قریبی کو صحت و تندرستی کے ساتھ لمبی عمر عطا فرما، ایمان و عقیدے کی حفاظت فرما، آمین۔
عصر کی یہ محفل ابھی ختم نہیں ہوئی؛ بس ہماری یادوں میں منتقل ہوئی ہے۔ اور اسی محفل کے بعد بچپن کی شام ایک اور رنگ اختیار کرتی تھی، وہ وقت جب دن کی روشنی رخصت ہونے لگتی، گھر کی آوازیں بدل جاتیں، کتابیں کھل جاتیں، سبق یاد کیے جاتے، ہوم ورک مکمل ہوتا، اور پھر رات اپنے ساتھ ایک ایسی دنیا لے کر آتی جس میں بچپن کی بہت سی خاموش خوشیاں چھپی تھیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
چلیے، اب اسی شام کو تھام کر آگے بڑھتے ہیں؛ کیونکہ بچپن کے سفر کے اگلے مرحلے پر مغرب کی اذان ہماری منتظر ہے.............جاری
اظہارِ خیال:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعة الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
64
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا[قسط ہشتم]

بچپن کا سفر [قسطِ چہارم]

بچپن کا سفر [قسطِ پنجم] - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

بچپن کا سفر [قسطِ پنجم]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

*بچپن کا سفر*
“[ قسط پنجم ]”
عصر کے بعد

بچپن کی کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں یاد کرنے کے لیے کسی خاص واقعے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بس انسان ذرا دیر کو خاموش بیٹھے، آنکھیں بند کرے اور دل کو موجودہ زندگی کی الجھنوں سے نکال کر چند برس پیچھے لے جائے، تو نہ جانے کہاں سے ایک منظر آ کر سامنے بیٹھ جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک منظر عصر کے بعد کا ہے۔چھٹی کا دن ہو، اسکول اور مدرسے کی مصروفیت نہ ہو، یا پڑھائی کے ہی دن ہوں، دن بھر کی بھاگ دوڑ کچھ تھم چکی ہو، سورج ڈھلنے کی طرف ہو اور گھر میں ایک عجیب سی ٹھہری ہوئی رونق ہو۔
آج کی طرح ہر شخص اپنے اپنے کام، موبائل اور مصروفیات میں گم نہیں ہوتا تھا؛ گھر کے لوگ ایک جگہ بیٹھ جاتے تھے اور ہمیں اس وقت یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ہم جس چیز کو معمولی سمجھ رہے ہیں، وہ ایک دن ہماری زندگی کی سب سے قیمتی یاد بن جائے گی۔

عصر کی نماز کے بعد جیسے ہی فرصت ملتی، گھر کا ماحول بدلنے لگتا۔ کوئی چارپائی پر بیٹھتا،
کوئی صحن میں کرسی ڈال لیتا،
کوئی دیوار سے ٹیک لگا لیتا
اور کسی کے ہاتھ میں چائے کا کپ آ جاتا۔ پھر آہستہ آہستہ سب ایک جگہ جمع ہونے لگتے۔ چائے کی خوشبو، گرم کپ سے اٹھتی بھاپ، شام کی ہلکی ہوا، گھر کے بڑوں کی گفتگو اور درمیان میں بچوں کی اپنی دنیا؛ یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے تھے جس کا حسن اس وقت شاید ہماری سمجھ سے باہر تھا۔ ہمیں تو بس اتنا معلوم تھا کہ عصر کے بعد گھر میں بیٹھنے کا وقت ہے۔ کبھی چائے کے ساتھ بسکٹ مل جائے تو خوشی، کبھی کچھ نمکین سامنے آ گیا تو جیسے آج کی محفل کا مرتبہ بلند ہو گیا، اور اگر کسی دن گھر میں کوئی خاص چیز بن گئی تو ہماری نظریں بار بار اسی طرف اٹھتیں کہ شاید کسی کو ہماری طرف بھی توجہ آ جائے۔

ان اوقات میں باتیں بھی عجیب ہوتی تھیں۔ بڑے اپنے زمانے کے واقعات سناتے،
گھر کے کسی فرد کا ذکر آتا،
کسی پڑوسی کی خیریت معلوم ہوتی،
کبھی پرانے لوگوں کی بات نکلتی،
کبھی کسی سفر کا قصہ شروع ہو جاتا۔ ہم بچے پہلے تو خاموش بیٹھنے کی کوشش کرتے، پھر چند منٹ بعد ہماری اپنی گفتگو شروع ہو جاتی۔ کوئی اپنی شرارت سناتا، کوئی اسکول کا واقعہ، کوئی دوست کی بات، کوئی ایسا قصہ جس میں سچ کم اور اپنی تعریف زیادہ ہوتی۔ اور اگر کسی بچے نے کوئی ایسی بات کہہ دی جس پر سب ہنس پڑیں تو اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے آج کی بیٹھک کا سب سے بڑا مقرر وہی ہے۔

کبھی ابو جان یا گھر کے کسی بڑے کی بات درمیان میں آ جاتی اور ہم خاموشی سے سننے لگتے۔ اس وقت ان کی باتیں شاید ہمیں بہت معمولی لگتی تھیں، مگر آج یاد کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ محفلیں صرف چائے پینے اور وقت گزارنے کی محفلیں نہیں تھیں؛ وہ خاندان کے دل کے ایک جگہ جمع ہونے کی محفلیں تھیں۔ وہاں محبت کسی بڑے اعلان کے ساتھ نہیں ہوتی تھی، وہ بس لوگوں کے ساتھ بیٹھنے، ایک دوسرے کا حال پوچھنے، چائے کا کپ بڑھانے اور ایک دوسرے کی بات سننے میں چھپی ہوتی تھی۔

امی جان کی اپنی مصروفیات ہوتیں، مگر پھر بھی وہ چند لمحوں کے لیے بیٹھ جاتیں۔ کبھی چائے ڈال رہی ہیں، کبھی کسی کو کپ دے رہی ہیں، کبھی کسی بچے کو کچھ کھانے کو کہہ رہی ہیں، کبھی کسی کی بات سن کر مسکرا رہی ہیں۔ ہمیں اس وقت ان کے ہاتھوں کی تھکن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ہمیں تو بس یہ معلوم تھا کہ امی یہاں ہیں، سب کے ساتھ بیٹھی ہیں۔
آج جب زندگی نے انسان کو یہ سمجھا دیا ہے کہ ہر موجود شخص ہمیشہ موجود نہیں رہتا، تو امی جان کا وہ یوں محفل میں بیٹھنا یاد آتا ہے تو دل کے اندر کہیں ایک خاموش سی کسک اٹھتی ہے۔ کاش اس وقت ہم جانتے کہ ایک دن انہیں لمحوں کو یاد کرنے کے لیے انسان کے پاس صرف یادیں رہ جائیں گی۔

کبھی ابّو جان گھر واپس آتے اور چائے کی محفل میں ان کے آنے سے جیسے گفتگو میں ایک نیا رنگ آ جاتا۔ بچے فوراً اپنی اپنی باتیں لے کر ان کے پاس پہنچتے۔ کسی کو اپنی کامیابی سنانی ہے،
کسی کو شکایت کرنی ہے،
کسی کو کسی چیز کی فرمائش کرنی ہے اور
کسی کو صرف اس لیے قریب بیٹھنا ہے کہ آج ابّو جان گھر پر ہیں۔ وہ تھکے ہوئے ہوتے، مگر بچوں کی بات سنتے۔ کبھی مسکرا دیتے، کبھی سمجھاتے، کبھی ڈانٹ بھی دیتے۔ ہمیں لگتا تھا کہ یہ سب تو روز کا معمول ہے۔ کیا خبر تھی کہ معمول ہی ایک دن سب سے بڑی نعمت محسوس ہوگا۔

چھٹی کے دن عصر کے بعد وقت جیسے ذرا آہستہ چلتا تھا۔ ہفتے کے دنوں میں جہاں گھڑی ہمیں کاموں کی طرف دھکیلتی رہتی تھی، چھٹی کے دن وہی گھڑی جیسے ہمارے ساتھ بیٹھ جاتی۔ نہ جلدی اسکول جانے کی فکر، نہ مدرسے کے سبق کا رجحان، نہ اگلی کلاس کی تیاری کی جلدی۔ گھر کے بڑے بھی نسبتاً فارغ ہوتے اور بچے بھی۔ کبھی کسی نے کہا، ”چائے بن گئی ہے“، تو سب آہستہ آہستہ جمع ہو گئے۔ کوئی پرانی بات چلی تو سب ہنسنے لگے، کوئی واقعہ یاد آیا تو ایک دوسرے کو یاد دلایا گیا، کسی نے کہا ”تمہیں یاد ہے؟“ اور پھر حیرت ہوتی کہ واقعی سب کو یاد ہے۔
اور ہم بچوں کے لیے اس محفل کی سب سے بڑی خوشی یہ تھی کہ بڑے باتیں کر رہے ہوں اور ہمیں سننے کی اجازت ہو۔ کبھی کوئی ایسی بات نکلتی جسے ہم پوری طرح سمجھ نہیں پاتے تھے، مگر پھر بھی بڑی سنجیدگی سے سنتے۔ کبھی کسی بڑے کی بات پر سب ہنستے تو ہم بھی بغیر جانے ہنس دیتے۔ پھر اگر کسی نے پوچھ لیا، ”تمہیں معلوم ہے کس بات پر ہنس رہے ہو ؟“ تو فوراً چہرہ سنجیدہ کر کے کہتے، ”ہاں!“ حالانکہ اندر سے ہمیں خود نہیں معلوم ہوتا تھا کہ بات کیا تھی۔

کبھی چائے کا کپ ہاتھ میں ہوتا اور ہم اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑے بیٹھے رہتے۔ چائے گرم ہوتی، اس لیے پہلے پھونک مارتے، پھر ذرا سا پیتے، پھر چہرے پر ایسا تاثر بناتے جیسے کسی بہت بڑے مشروب کا ذائقہ پرکھ رہے ہوں۔ پھونک مارنے پر ایک مرتبہ میرے ایک بڑے نے مجھ سے فرمایا: ”کھانے پینے کی چیزوں پر پھونک نہیں مارنی چاہیے۔“ بچوں کی عادت ہے ہر بات پر سوال کرنا۔ پوچھا: ”کیوں ؟“ جواب دیا کہ سب سے پہلی وجہ تو یہی ہے حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ پھر انہوں نے حدیثِ پاک سنا‌ئی:
” عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ. ” [سنن ابی داؤد، کتاب الاشربة]
ترجمہ: حضرتِ سیدینا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔

پھر ایک وجہ بتائی کہ جب ہم سب پھونک مارتے ہیں تو Carbon Dioxide سانس کے ذریعے منہ سے نکلتا ہے، پھر وہی ہمارے کھانے پینے کی اشیاء میں چلا جاتا ہے اور وہی ہم کھاتے پیتے ہیں۔ پس اس لیے بھی ہمارے آقا کریم رؤف رحیم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے منع فرمایا۔ ہم بچے: ”اب سے اس بات کا خیال رہے گا۔“

اور اگر کپ میں بسکٹ ڈبو دیا جائے تو پھر اصل مسئلہ شروع ہوتا؛ بسکٹ زیادہ دیر چائے میں رہا تو ٹوٹ کر کپ میں، کم دیر رہا تو خشک۔ بچپن میں بسکٹ ڈبونے کا بھی ایک فن تھا، اور ہر بچہ خود کو اس فن کا ماہر سمجھتا تھا۔
مگر ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے پیچھے ایک بہت بڑی نعمت چھپی ہوئی تھی: *سب کا ایک ساتھ ہونا۔*
نہ کسی کو جلدی تھی، نہ کسی کو کہیں پہنچنا تھا، نہ کسی نے کہا کہ ”ابھی بہت کام ہے،“ نہ ہر چند لمحوں بعد کسی کی توجہ کسی اور طرف چلی جاتی۔ باتیں ہوتیں، خاموشیاں بھی ہوتیں، کبھی کوئی صرف سنتا رہتا، کبھی کوئی پرانی یاد سنا دیتا۔

آج کبھی تنہائی میں بیٹھ کر عصر کا وقت یاد آتا ہے تو دل خود بخود انہی محفلوں میں جا بیٹھتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے ایک ایک چہرہ آنے لگتا ہے۔ کوئی ہنس رہا ہے، کوئی چائے پی رہا ہے، کوئی بات کر رہا ہے، کوئی خاموش بیٹھا سن رہا ہے۔ پھر دل اچانک رک سا جاتا ہے جب خیال آتا ہے کہ وہ منظر اب کہاں ہے ؟

کچھ لوگ آج بھی ہیں، مگر پہلے جیسے فرصت کے ساتھ نہیں،
کچھ بہت دور چلے گئے،
کچھ کی آواز برسوں سے نہیں سنی،
کچھ ایسے بھی ہیں جن کی موجودگی اب صرف پرانی تصویروں یا یادوں میں ہے،
کچھ چہرے ایسے ہیں جنہیں یاد کرتے ہوئے انسان خود بھی حیران رہ جاتا ہے کہ وقت نے کب انہیں اتنا دور کر دیا، اور
کچھ لوگ قریب ہو کر بھی دور ہیں۔

کاش ہم اُس وقت جانتے کہ عصر کے بعد چائے کا وہ ایک کپ صرف چائے پینا نہیں تھا؛ وہ گھر کے سب لوگوں کے ساتھ گزارا ہوا ایک ایسا لمحہ تھا جو دوبارہ نہیں آنا تھا۔
کاش ہم اس وقت امی جان کو اتنی صحت کے ساتھ ذرا زیادہ دیکھ لیتے، والد صاحب کی بات ذرا زیادہ سن لیتے، بڑوں کے قصے ذرا توجہ سے یاد کر لیتے، بہن بھائیوں کی ہنسی کو ذرا دل میں محفوظ کر لیتے۔
کاش کسی نے ہمیں بتا دیا ہوتا کہ زندگی میں ایک وقت ایسا آئے گا جب انسان کے پاس چائے تو ہوگی، مگر وہ سب لوگ ایک ساتھ نہیں ہوں گے۔

آج اگر چائے کا کپ ہاتھ میں ہو اور گھر خاموش ہو، تو کبھی کبھی دل خود ہی پوچھتا ہے: ”وہ لمحات کہاں گئے ؟“
کپ وہی ہے، چائے بھی وہی ہے، شام بھی آتی ہے، سورج بھی ڈوبتا ہے، مگر وہ آوازیں نہیں آتیں۔ اور شاید یہی ماضی کا سب سے گہرا دکھ ہے کہ ہمیں جگہیں نہیں رلاتیں، ہمیں ان جگہوں سے وابستہ لوگ رلاتے ہیں۔ وہ عصر کی شامیں بھی اب گزری ہوئی زندگی کا حصہ ہیں۔ مگر یادوں کی دنیا میں وہ آج بھی زندہ ہیں۔ وہاں چائے ابھی گرم ہے، امی جان ابھی مسکرا رہی ہیں، والد صاحب ابھی بات کر رہے ہیں، بہن بھائی ابھی پاس بیٹھے ہیں، اور ہم ابھی اتنے ہی چھوٹے ہیں کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ یہ سب ایک دن دور ہو جائے گا۔
اسی لیے جب کبھی تنہائی میں عصر ڈھلتی ہے، دل چاہتا ہے کہ وقت کی کسی پرانی کھڑکی سے جھانک کر ایک بار پھر وہ منظر دیکھ لیں۔ بس ایک بار۔ نہ کچھ بدلنا ہے، نہ کچھ مانگنا ہے، نہ کسی سے کوئی شکایت کرنی ہے۔ صرف اتنا کہ سب ایک بار پھر اسی طرح بیٹھے ہوں، چائے کے کپ ہاتھوں میں ہوں، باتوں کے درمیان ہنسی گونج رہی ہو، اور ہم خاموشی سے ایک طرف بیٹھ کر یہ سوچ رہے ہوں کہ دنیا اس سے زیادہ خوب صورت بھی ہو سکتی ہے کیا ؟ مگر وقت کسی کی خواہش پر واپس نہیں آتا۔

وہ عصر کے لمحات اب یاد بن چکی ہے۔ اور یادیں بھی عجیب ہوتی ہیں؛ جب آتی ہیں تو پہلے لبوں پر مسکراہٹ لاتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ آنکھوں میں نمی اترتی ہے، اور آخر میں دل بس اتنا کہتا ہے: یا مولیٰ عزوجل! ہمارے سبھی قریبی کو صحت و تندرستی کے ساتھ لمبی عمر عطا فرما، ایمان و عقیدے کی حفاظت فرما، آمین۔

عصر کی یہ محفل ابھی ختم نہیں ہوئی؛ بس ہماری یادوں میں منتقل ہوئی ہے۔ اور اسی محفل کے بعد بچپن کی شام ایک اور رنگ اختیار کرتی تھی، وہ وقت جب دن کی روشنی رخصت ہونے لگتی، گھر کی آوازیں بدل جاتیں، کتابیں کھل جاتیں، سبق یاد کیے جاتے، ہوم ورک مکمل ہوتا، اور پھر رات اپنے ساتھ ایک ایسی دنیا لے کر آتی جس میں بچپن کی بہت سی خاموش خوشیاں چھپی تھیں۔

چلیے، اب اسی شام کو تھام کر آگے بڑھتے ہیں؛ کیونکہ بچپن کے سفر کے اگلے مرحلے پر مغرب کی اذان ہماری منتظر ہے………….*جاری*

★ “اظہارِ خیال:”
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعة الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی

Scan this QR code to read online:

QR Code