صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
امتِ مسلمہ کے زوال کا آغاز
ادبیات

امتِ مسلمہ کے زوال کا آغاز

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

امتِ مسلمہ کے زوال کا آغاز
تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جس امت نے کبھی علم، عدل، تہذیب اور اخلاق کے میدان میں دنیا کی رہنمائی کی، اس کے حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہے۔
عروج کے بعد زوال بھی آیا۔
لیکن اس زوال کو سمجھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم اسے صرف بیرونی سازشوں کا نتیجہ نہ سمجھیں، بلکہ اپنی کمزوریوں اور اپنی کوتاہیوں کا بھی دیانت داری سے جائزہ لیں۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ [الرعد-١١]
بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں۔
یہ آیت ہمیں ایک بنیادی اصول بتاتی ہے کہ قوموں کے حالات میں تبدیلی ان کے اپنے اعمال، رویوں اور طرزِ زندگی سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔
زوال کا پہلا سبب: دین سے عملی دوری
اسلام نے مسلمانوں کو صرف عقائد اور عبادات ہی نہیں سکھائیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں عدل، امانت، دیانت، حسنِ اخلاق اور ذمہ داری کی تعلیم دی۔ جب مسلمان دین کے ان عملی تقاضوں سے دور ہوتے گئے تو ان کی اجتماعی قوت بھی کمزور ہوتی گئی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ [الاعراف-٩٦]
اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور ڈرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے کیے پر گرفتار کیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور تقویٰ فرد ہی نہیں بلکہ معاشرے کی اجتماعی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
باہمی اختلاف اور انتشار
امت کی کمزوری کا ایک بڑا سبب باہمی انتشار بھی ہے۔ اسلام مسلمانوں کو اتحاد، اخوت اور باہمی تعاون کی تعلیم دیتا ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا
جب مسلمان ایک دوسرے کی قوت بننے کے بجائے ایک دوسرے کو کمزور کرنے لگیں تو اجتماعی ترقی مشکل ہو جاتی ہے۔
علم سے غفلت:
جن مسلمانوں نے کبھی علم کو اپنی طاقت بنایا تھا، جب ان میں علمی جستجو، تحقیق، مطالعہ اور غور و فکر کی روح کمزور ہوئی تو وہ علمی میدان میں پیچھے رہنے لگے۔ اسلام میں علم کی قدر و منزلت واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
اس لیے امت کی ترقی کے لیے صرف ماضی کے علماء کے نام یاد کرنا کافی نہیں؛ نئی نسل میں بھی علم، تحقیق اور مطالعے کا شوق پیدا کرنا ضروری ہے۔
اخلاقی کمزوری:
کسی بھی قوم کی حقیقی طاقت اس کے افراد کے کردار سے ظاہر ہوتی ہے۔ جھوٹ، خیانت، وعدہ خلافی، ظلم، ناانصافی اور دوسروں کے حقوق پامال کرنا کسی بھی معاشرے کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا [بخاری شریف، کتاب المناقب]
تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔
لہٰذا امت کی ترقی صرف اقتصادی یا سیاسی ترقی کا نام نہیں؛ اچھا کردار بھی ترقی کی بنیاد ہے۔
دنیاوی اسباب سے غفلت:
اسلام دنیاوی ضروریات سے غفلت کی تعلیم نہیں دیتا۔ مسلمان کو اپنی دینی زندگی کے ساتھ جائز دنیاوی اسباب اختیار کرنے، محنت کرنے اور اپنے معاشرے کو مضبوط بنانے کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔
زوال سے نکلنے کا راستہ
زوال کی داستان سنانے کا مقصد مایوسی پھیلانا نہیں بلکہ اصلاح کا راستہ دکھانا ہے۔ قرآنِ حکیم ہمیں مایوسی کے بجائے اصلاح، توبہ اور عمل کی طرف بلاتا ہے۔
اگر امت اپنے ایمان کو مضبوط کرے، قرآن و سنت سے وابستگی پیدا کرے، اہلِ سنت و جماعت کے معتبر علماء سے صحیح دینی رہنمائی حاصل کرے، علم کو فروغ دے، اخلاق سنوارے، باہمی حقوق ادا کرے اور جائز دنیاوی اسباب میں محنت کرے تو حالات بدل سکتے ہیں۔
زوال ہماری منزل نہیں؛ زوال ایک تنبیہ ہے۔
ہمیں اپنے ماضی کے عروج سے حوصلہ، اپنے زوال سے سبق اور قرآن و سنت سے رہنمائی لینی چاہیے۔ یہی وہ شعور ہے جس سے ایک نئی بیداری پیدا ہوسکتی ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اگلے حصے میں ہم اس اہم مسئلے پر گفتگو کریں گے کہ باہمی اختلاف اور تفرقہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی قوت کو کس طرح متأثر کرتا ہے، اور اتحادِ امت کی صحیح بنیاد کیا ہے...........جاری
از:
سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
حاؔمی برکاتی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
64
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

باہمی اختلاف اور تفرقہ

علم و تہذیب میں مسلمانوں کی خدمات

امتِ مسلمہ کے زوال کا آغاز

پی ڈی ایف تیار ہو رہی ہے، برائے مہربانی انتظار کریں...

PDF ڈاؤنلوڈ ہوتے ہی یہ ونڈو بند ہو جائے گی۔

Jamiatur Raza Students Portal
Jamiatur Raza Students Portal
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امتِ مسلمہ کے زوال کا آغاز

قلمکار: Muhammad Anas Raza Haami

*امتِ مسلمہ کے زوال کا آغاز*

تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جس امت نے کبھی علم، عدل، تہذیب اور اخلاق کے میدان میں دنیا کی رہنمائی کی، اس کے حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہے۔
عروج کے بعد زوال بھی آیا۔
لیکن اس زوال کو سمجھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم اسے صرف بیرونی سازشوں کا نتیجہ نہ سمجھیں، بلکہ اپنی کمزوریوں اور اپنی کوتاہیوں کا بھی دیانت داری سے جائزہ لیں۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
“إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ” [الرعد-١١]
بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں۔
یہ آیت ہمیں ایک بنیادی اصول بتاتی ہے کہ قوموں کے حالات میں تبدیلی ان کے اپنے اعمال، رویوں اور طرزِ زندگی سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔

*زوال کا پہلا سبب: دین سے عملی دوری*
اسلام نے مسلمانوں کو صرف عقائد اور عبادات ہی نہیں سکھائیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں عدل، امانت، دیانت، حسنِ اخلاق اور ذمہ داری کی تعلیم دی۔ جب مسلمان دین کے ان عملی تقاضوں سے دور ہوتے گئے تو ان کی اجتماعی قوت بھی کمزور ہوتی گئی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عالیشان ہے:
“وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ” [الاعراف-٩٦]
اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور ڈرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے کیے پر گرفتار کیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور تقویٰ فرد ہی نہیں بلکہ معاشرے کی اجتماعی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

*باہمی اختلاف اور انتشار*
امت کی کمزوری کا ایک بڑا سبب باہمی انتشار بھی ہے۔ اسلام مسلمانوں کو اتحاد، اخوت اور باہمی تعاون کی تعلیم دیتا ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:
“وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا”
پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا”
جب مسلمان ایک دوسرے کی قوت بننے کے بجائے ایک دوسرے کو کمزور کرنے لگیں تو اجتماعی ترقی مشکل ہو جاتی ہے۔

*علم سے غفلت:*
جن مسلمانوں نے کبھی علم کو اپنی طاقت بنایا تھا، جب ان میں علمی جستجو، تحقیق، مطالعہ اور غور و فکر کی روح کمزور ہوئی تو وہ علمی میدان میں پیچھے رہنے لگے۔ اسلام میں علم کی قدر و منزلت واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ”
اس لیے امت کی ترقی کے لیے صرف ماضی کے علماء کے نام یاد کرنا کافی نہیں؛ نئی نسل میں بھی علم، تحقیق اور مطالعے کا شوق پیدا کرنا ضروری ہے۔

*اخلاقی کمزوری:*
کسی بھی قوم کی حقیقی طاقت اس کے افراد کے کردار سے ظاہر ہوتی ہے۔ جھوٹ، خیانت، وعدہ خلافی، ظلم، ناانصافی اور دوسروں کے حقوق پامال کرنا کسی بھی معاشرے کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا” [بخاری شریف، کتاب المناقب]
تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔
لہٰذا امت کی ترقی صرف اقتصادی یا سیاسی ترقی کا نام نہیں؛ اچھا کردار بھی ترقی کی بنیاد ہے۔

*دنیاوی اسباب سے غفلت:*
اسلام دنیاوی ضروریات سے غفلت کی تعلیم نہیں دیتا۔ مسلمان کو اپنی دینی زندگی کے ساتھ جائز دنیاوی اسباب اختیار کرنے، محنت کرنے اور اپنے معاشرے کو مضبوط بنانے کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔

*زوال سے نکلنے کا راستہ*
زوال کی داستان سنانے کا مقصد مایوسی پھیلانا نہیں بلکہ اصلاح کا راستہ دکھانا ہے۔ قرآنِ حکیم ہمیں مایوسی کے بجائے اصلاح، توبہ اور عمل کی طرف بلاتا ہے۔

اگر امت اپنے ایمان کو مضبوط کرے، قرآن و سنت سے وابستگی پیدا کرے، اہلِ سنت و جماعت کے معتبر علماء سے صحیح دینی رہنمائی حاصل کرے، علم کو فروغ دے، اخلاق سنوارے، باہمی حقوق ادا کرے اور جائز دنیاوی اسباب میں محنت کرے تو حالات بدل سکتے ہیں۔

*زوال ہماری منزل نہیں؛ زوال ایک تنبیہ ہے۔*
ہمیں اپنے ماضی کے عروج سے حوصلہ، اپنے زوال سے سبق اور قرآن و سنت سے رہنمائی لینی چاہیے۔ یہی وہ شعور ہے جس سے ایک نئی بیداری پیدا ہوسکتی ہے۔

اگلے حصے میں ہم اس اہم مسئلے پر گفتگو کریں گے کہ باہمی اختلاف اور تفرقہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی قوت کو کس طرح متأثر کرتا ہے، اور اتحادِ امت کی صحیح بنیاد کیا ہے………..جاری

★ “از:”
سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
حاؔمی برکاتی

مضمون آن لائن پڑھنے کے لیے اسکین کریں:

QR Code