اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
کسی کا انتظار ہے
ادبیات

کسی کا انتظار ہے

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

کسی کا انتظار ہے
کبھی کبھی انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے، مگر پھر بھی اسے لگتا ہے کہ کوئی چیز ادھوری ہے۔ گھر ہوتا ہے، خاندان ہوتا ہے، پڑھائی ہوتی ہے، خواب ہوتے ہیں، مگر دل کے کسی خاموش کونے میں ایک خالی جگہ باقی رہتی ہے۔ وہ جگہ کسی دولت سے نہیں بھرتی، نہ شہرت سے اور نہ ہی ہجوم سے۔ اسے صرف ایک مخلص دوست بھر سکتا ہے۔ ایسا دوست جو انسان کو اس کے نام سے نہیں، اس کے دل سے پہچانے۔ جو خوشیوں میں قہقہے بانٹے اور غموں میں خاموشی سے ساتھ بیٹھ جائے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ زندگی کی سب سے قیمتی نعمتوں میں ایک” سچا دوست“ بھی ہے۔
تاشف بھی انہیں بچوں میں سے ایک تھا جو ہر روز سینکڑوں چہروں کے درمیان رہتا تھا، مگر پھر بھی تنہا تھا۔ اسکول کی گھنٹی بجتی، بچے دوڑتے ہوئے اپنے دوستوں کے پاس پہنچ جاتے، کوئی ایک دوسرے کے بستے اٹھاتا، کوئی ہنستے ہوئے اپنا ٹفن بانٹتا، مگر تاشف ہمیشہ کسی درخت کے سائے یا برآمدے کے کسی کونے میں بیٹھا سب کو دیکھتا رہتا۔ اسے کسی سے نفرت نہیں تھی، نہ کسی سے شکایت تھی، کیونکہ وہ تو ہر کسی کے ساتھ اپنے پن کے ساتھ رہتا ، مدد کرنے میں کبھی ہچکچاتا نہیں، مگر کوئی اس کی تنہائی کو دور کرنے والا بھی نہیں تھا۔ بس دل میں ایک خاموش سی خواہش تھی کہ کاش کوئی ایک شخص ایسا بھی ہوتا جو خود چل کر اس کے پاس آتا اور کہتا: آج سے ہم دوست ہیں۔
وہ ہر نئے تعلیمی سال کا بے چینی سے انتظار کرتا۔ جب کلاس میں نئے چہرے آتے تو اس کے دل میں امید کی ایک ننھی سی شمع جل اٹھتی۔ وہ سوچتا، شاید اس بار میرا انتظار ختم ہو جائے۔ وہ سب سے پہلے سلام کرتا، مسکرا کر بات کرتا، کسی کی کتاب گر جاتی تو اٹھا دیتا، کسی کو سبق سمجھ نہ آتا تو پوری کوشش سے سمجھاتا، مگر چند ہی دنوں میں ہر شخص اپنا الگ حلقہ بنا لیتا اور تاشف پھر اسی خاموشی کا ساتھی بن جاتا۔ اسے اب یہ احساس ہونے لگا تھا کہ شاید دوستی مانگنے سے نہیں ملتی، اور اگر مانگی تو قدر نہیں ہوتی۔ مگر وہ پھر بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتا تھا۔
رات کو جب سارا گھر سو جاتا تو تاشف اپنی چھوٹی سی ڈائری کھولتا۔ اس میں نہ شاعری لکھتا ، اور دل کی ساری باتیں۔آج ایک نے مجھ سے مسکرا کر بات کی، دل کو اچھا لگا۔ کبھی لکھتا، آج سب اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، میں انہیں دیکھ کر خوش بھی تھا اور نہ جانے کیوں دل کچھ اداس بھی تھا۔ اور کبھی شاید کل کوئی میرا دوست بن جائے۔ اور کبھی سوال کرتا: میں تو سب کی مدد کرتا ہوں تو سب کیوں مجھے ہی تنہا کر جاتے ہیں ؟ میں سیکھا ہوں اس لیے یا سامنے والا کچھ سمجھتا نہیں ؟
ایک دن کلاس میں استاد نے سب بچوں سے کہا کہ اپنے سب سے اچھے دوست کا نام لکھیں۔ کلاس میں کسی نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا، مگر تاشف کا قلم کافی دیر تک سفید کاغذ پر رکا رہا۔ پھر اس نے آہستہ سے لکھا: جس کا ابھی انتظار ہے۔ استاد نے پرچہ دیکھا، چند لمحے خاموش رہے، پھر تاشف کے سر پر ہاتھ رکھ کر صرف اتنا کہا: ”بیٹا! کبھی کبھی بہترین چیزیں دیر سے ملتی ہیں۔“ اس دن تاشف نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید اس کے انتظار کو کسی نے سمجھ لیا ہے۔
وقت گزرتا رہا۔ ایک دن اسکول سے واپسی پر بارش شروع ہو گئی۔ سب بچے دوڑنے لگے۔ تاشف بھی بھیگتا ہوا چل رہا تھا کہ اچانک کسی نے اپنی چھتری اس کے اوپر کر دی۔ ایک انجان لڑکا مسکرا کر بولا: ”آؤ، ساتھ چلتے ہیں۔“ راستہ زیادہ لمبا نہیں تھا، مگر اس مختصر سفر میں دونوں نے اتنی باتیں کیں کہ تاشف کو لگا جیسے برسوں کی خاموشی ٹوٹ گئی ہو۔ پہلی بار اسے الگ محسوس ہوا۔ اس رات اس نے ڈائری میں بڑے خوش خط انداز میں لکھا: ”آج مجھے میرا دوست مل گیا۔“
لیکن اگلے دن وہ لڑکا اسکول نہ آیا۔ پھر دوسرے دن بھی نہیں، تیسرے دن بھی نہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے والد کا تبادلہ دوسرے شہر ہو گیا تھا اور وہ ہمیشہ کے لیے جا چکا ہے۔ تاشف نے ڈائری کھولی، کل کا جملہ پڑھا، دیر تک دیکھتا رہا، پھر اس کے نیچے صرف ایک سطر کا اضافہ کیا: ”شاید انتظار ابھی ختم نہیں ہوا۔“ اس نے صفحہ بند کیا، مگر امید بند نہ کی۔
سال گزرتے گئے۔ تاشف پہلے سے زیادہ سمجھدار ہو گیا۔ اب وہ جان چکا تھا کہ ہر مسکراہٹ دوستی نہیں ہوتی، ہر ساتھ چلنے والا ہم سفر نہیں بنتا، اور ہر وعدہ ہمیشہ نہیں رہتا۔ مگر اس نے ایک بات کبھی نہیں بدلی؛ وہ آج بھی نئے لوگوں سے خلوص سے ملتا، سلام میں پہل کرتا، کسی کی مدد کرنے کا موقع ملتا تو پیچھے نہ ہٹتا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر دنیا میں سچے دوست کم ہیں تو شاید کسی کو ایک سچے دوست کی ضرورت بھی ہو اور ہمیں ہمیشہ اچھے اخلاق سے پیش آنا ہے، اپنی تربیت کا مظاہرہ کرنا ہے۔
آخرکار اسے یہ احساس ہوا کہ انتظار صرف کسی انسان کا نہیں تھا، بلکہ اپنے جیسے دل کا تھا۔ ایسا دل جو مطلب سے خالی ہو، جو دوستی کو فائدے کا سودا نہ سمجھے بلکہ امانت جانے۔ اس دن تاشف نے اپنی برسوں پرانی ڈائری کے آخری صفحے پر لکھا: ”تنہائی اگر چہ ہمیشہ ساتھ ہے، مگر کوئی ساتھ تو۔“
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ہو رہا ہے زندگانی کا گزر تنہائی میں
کٹ رہا ہے روز و شب کا ہر پہر تنہائی میں
دوست کے بن مسکراہٹ لب پہ آتی ہے کہاں
ساری خوشیاں خوشیاں ہو کر ہیں صفر تنہائی میں
آبھی جاؤ بات کر لو اور میرا ساتھ دو
منتظر حامؔی ہے ہمدم! عمر بھر تنہائی میں
(حامؔی)
شاید سچا دوست قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ کبھی کوئی برسوں ساتھ رہتا ہے اور انسان اسے اپنا سب سے مخلص دوست سمجھنے لگتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب اس کا کردار بدل جائے تو سامنے والے کا دل ضرور ٹوٹتا ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ صرف ساتھ رہنا دوستی نہیں، بلکہ ہر حال میں اخلاص کے ساتھ نبھانا ، کچھ غلط کرے تو ڈانٹنا، اداس ہو تو خیریت پوچھنا، بیمار ہو تو ڈاکٹر کے پاس لے جانا وغیرہ ہی سچی دوستی ہے،
حقیقت یہ ہے کہ جو شخص سالوں تک وفاداری اور خلوص کے ساتھ آپ کا ساتھ دے، وہ زندگی کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اگر ایسا دوست آپ کو مل جائے تو اس کی قدر ضرور کیجیے!

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
82
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

اخلاص

انتظار

کسی کا انتظار ہے - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

کسی کا انتظار ہے

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

کسی کا انتظار ہے

کبھی کبھی انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے، مگر پھر بھی اسے لگتا ہے کہ کوئی چیز ادھوری ہے۔ گھر ہوتا ہے، خاندان ہوتا ہے، پڑھائی ہوتی ہے، خواب ہوتے ہیں، مگر دل کے کسی خاموش کونے میں ایک خالی جگہ باقی رہتی ہے۔ وہ جگہ کسی دولت سے نہیں بھرتی، نہ شہرت سے اور نہ ہی ہجوم سے۔ اسے صرف ایک مخلص دوست بھر سکتا ہے۔ ایسا دوست جو انسان کو اس کے نام سے نہیں، اس کے دل سے پہچانے۔ جو خوشیوں میں قہقہے بانٹے اور غموں میں خاموشی سے ساتھ بیٹھ جائے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ زندگی کی سب سے قیمتی نعمتوں میں ایک*” سچا دوست“* بھی ہے۔

تاشف بھی انہیں بچوں میں سے ایک تھا جو ہر روز سینکڑوں چہروں کے درمیان رہتا تھا، مگر پھر بھی تنہا تھا۔ اسکول کی گھنٹی بجتی، بچے دوڑتے ہوئے اپنے دوستوں کے پاس پہنچ جاتے، کوئی ایک دوسرے کے بستے اٹھاتا، کوئی ہنستے ہوئے اپنا ٹفن بانٹتا، مگر تاشف ہمیشہ کسی درخت کے سائے یا برآمدے کے کسی کونے میں بیٹھا سب کو دیکھتا رہتا۔ اسے کسی سے نفرت نہیں تھی، نہ کسی سے شکایت تھی، کیونکہ وہ تو ہر کسی کے ساتھ اپنے پن کے ساتھ رہتا ، مدد کرنے میں کبھی ہچکچاتا نہیں، مگر کوئی اس کی تنہائی کو دور کرنے والا بھی نہیں تھا۔ بس دل میں ایک خاموش سی خواہش تھی کہ کاش کوئی ایک شخص ایسا بھی ہوتا جو خود چل کر اس کے پاس آتا اور کہتا: “آج سے ہم دوست ہیں۔”

وہ ہر نئے تعلیمی سال کا بے چینی سے انتظار کرتا۔ جب کلاس میں نئے چہرے آتے تو اس کے دل میں امید کی ایک ننھی سی شمع جل اٹھتی۔ وہ سوچتا، شاید اس بار میرا انتظار ختم ہو جائے۔ وہ سب سے پہلے سلام کرتا، مسکرا کر بات کرتا، کسی کی کتاب گر جاتی تو اٹھا دیتا، کسی کو سبق سمجھ نہ آتا تو پوری کوشش سے سمجھاتا، مگر چند ہی دنوں میں ہر شخص اپنا الگ حلقہ بنا لیتا اور تاشف پھر اسی خاموشی کا ساتھی بن جاتا۔ اسے اب یہ احساس ہونے لگا تھا کہ شاید دوستی مانگنے سے نہیں ملتی، اور اگر مانگی تو قدر نہیں ہوتی۔ مگر وہ پھر بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتا تھا۔

رات کو جب سارا گھر سو جاتا تو تاشف اپنی چھوٹی سی ڈائری کھولتا۔ اس میں نہ شاعری لکھتا ، اور دل کی ساری باتیں۔”آج ایک نے مجھ سے مسکرا کر بات کی، دل کو اچھا لگا۔” کبھی لکھتا، “آج سب اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، میں انہیں دیکھ کر خوش بھی تھا اور نہ جانے کیوں دل کچھ اداس بھی تھا۔” اور کبھی “شاید کل کوئی میرا دوست بن جائے۔” اور کبھی سوال کرتا: “میں تو سب کی مدد کرتا ہوں تو سب کیوں مجھے ہی تنہا کر جاتے ہیں ؟ میں سیکھا ہوں اس لیے یا سامنے والا کچھ سمجھتا نہیں ؟”

ایک دن کلاس میں استاد نے سب بچوں سے کہا کہ اپنے سب سے اچھے دوست کا نام لکھیں۔ کلاس میں کسی نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا، مگر تاشف کا قلم کافی دیر تک سفید کاغذ پر رکا رہا۔ پھر اس نے آہستہ سے لکھا: “جس کا ابھی انتظار ہے۔” استاد نے پرچہ دیکھا، چند لمحے خاموش رہے، پھر تاشف کے سر پر ہاتھ رکھ کر صرف اتنا کہا: ”بیٹا! کبھی کبھی بہترین چیزیں دیر سے ملتی ہیں۔“ اس دن تاشف نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید اس کے انتظار کو کسی نے سمجھ لیا ہے۔

وقت گزرتا رہا۔ ایک دن اسکول سے واپسی پر بارش شروع ہو گئی۔ سب بچے دوڑنے لگے۔ تاشف بھی بھیگتا ہوا چل رہا تھا کہ اچانک کسی نے اپنی چھتری اس کے اوپر کر دی۔ ایک انجان لڑکا مسکرا کر بولا: ”آؤ، ساتھ چلتے ہیں۔“ راستہ زیادہ لمبا نہیں تھا، مگر اس مختصر سفر میں دونوں نے اتنی باتیں کیں کہ تاشف کو لگا جیسے برسوں کی خاموشی ٹوٹ گئی ہو۔ پہلی بار اسے الگ محسوس ہوا۔ اس رات اس نے ڈائری میں بڑے خوش خط انداز میں لکھا: ”آج مجھے میرا دوست مل گیا۔“

لیکن اگلے دن وہ لڑکا اسکول نہ آیا۔ پھر دوسرے دن بھی نہیں، تیسرے دن بھی نہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے والد کا تبادلہ دوسرے شہر ہو گیا تھا اور وہ ہمیشہ کے لیے جا چکا ہے۔ تاشف نے ڈائری کھولی، کل کا جملہ پڑھا، دیر تک دیکھتا رہا، پھر اس کے نیچے صرف ایک سطر کا اضافہ کیا: ”شاید انتظار ابھی ختم نہیں ہوا۔“ اس نے صفحہ بند کیا، مگر امید بند نہ کی۔

سال گزرتے گئے۔ تاشف پہلے سے زیادہ سمجھدار ہو گیا۔ اب وہ جان چکا تھا کہ ہر مسکراہٹ دوستی نہیں ہوتی، ہر ساتھ چلنے والا ہم سفر نہیں بنتا، اور ہر وعدہ ہمیشہ نہیں رہتا۔ مگر اس نے ایک بات کبھی نہیں بدلی؛ وہ آج بھی نئے لوگوں سے خلوص سے ملتا، سلام میں پہل کرتا، کسی کی مدد کرنے کا موقع ملتا تو پیچھے نہ ہٹتا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر دنیا میں سچے دوست کم ہیں تو شاید کسی کو ایک سچے دوست کی ضرورت بھی ہو اور ہمیں ہمیشہ اچھے اخلاق سے پیش آنا ہے، اپنی تربیت کا مظاہرہ کرنا ہے۔

آخرکار اسے یہ احساس ہوا کہ انتظار صرف کسی انسان کا نہیں تھا، بلکہ اپنے جیسے دل کا تھا۔ ایسا دل جو مطلب سے خالی ہو، جو دوستی کو فائدے کا سودا نہ سمجھے بلکہ امانت جانے۔ اس دن تاشف نے اپنی برسوں پرانی ڈائری کے آخری صفحے پر لکھا: *”تنہائی اگر چہ ہمیشہ ساتھ ہے، مگر کوئی ساتھ تو۔“*

@ہو رہا ہے زندگانی کا گزر تنہائی میں
کٹ رہا ہے روز و شب کا ہر پہر تنہائی میں
دوست کے بن مسکراہٹ لب پہ آتی ہے کہاں
ساری خوشیاں خوشیاں ہو کر ہیں صفر تنہائی میں
آبھی جاؤ بات کر لو اور میرا ساتھ دو
منتظر حامؔی ہے ہمدم! عمر بھر تنہائی میں
(حامؔی)

شاید سچا دوست قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ کبھی کوئی برسوں ساتھ رہتا ہے اور انسان اسے اپنا سب سے مخلص دوست سمجھنے لگتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب اس کا کردار بدل جائے تو سامنے والے کا دل ضرور ٹوٹتا ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ صرف ساتھ رہنا دوستی نہیں، بلکہ ہر حال میں اخلاص کے ساتھ نبھانا ، کچھ غلط کرے تو ڈانٹنا، اداس ہو تو خیریت پوچھنا، بیمار ہو تو ڈاکٹر کے پاس لے جانا وغیرہ ہی سچی دوستی ہے،
حقیقت یہ ہے کہ جو شخص سالوں تک وفاداری اور خلوص کے ساتھ آپ کا ساتھ دے، وہ زندگی کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اگر ایسا دوست آپ کو مل جائے تو اس کی قدر ضرور کیجیے!

Scan this QR code to read online:

QR Code