صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
آدابِ معاشرت اور حسنِ سلوک
ادبیات

آدابِ معاشرت اور حسنِ سلوک

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

آدابِ معاشرت اور حسنِ سلوک
انسان تنہا زندگی نہیں گزارتا۔ وہ والدین، اہلِ خانہ، رشتہ داروں، پڑوسیوں، دوستوں، اساتذہ اور معاشرے کے مختلف افراد کے ساتھ تعلقات قائم کرکے زندگی بسر کرتا ہے۔ ان تعلقات کو خوش گوار، مضبوط اور پائیدار بنانے کے لیے ادبِ معاشرت اور حسنِ سلوک نہایت ضروری ہے۔
ادبِ معاشرت سے مراد یہ ہے کہ انسان دوسروں کے ساتھ احترام، شائستگی، مروّت، رواداری اور خوش اخلاقی سے پیش آئے، ان کے حقوق کا خیال رکھے اور اپنی ذات سے دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے بچے۔
معاشرتی زندگی میں ادب کی اہمیت:
کسی معاشرے کی حقیقی ترقی صرف بلند عمارتوں، دولت اور وسائل سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے افراد کے اخلاق و کردار سے ہوتی ہے۔ جہاں لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوں، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت کرتے ہوں، وہاں محبت، اعتماد اور باہمی تعاون پیدا ہوتا ہے۔
اس کے برعکس جہاں بدتمیزی، خود غرضی، تحقیر اور بے اعتنائی عام ہوجائے وہاں رشتے کمزور اور معاشرتی زندگی مضطرب ہوجاتی ہے۔
قرآنِ کریم کی تعلیم:
اسلام نے حسنِ سلوک کو نہایت اہمیت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا [بقرۃ-٨٣]
یہ مختصر حکم معاشرتی زندگی کا جامع اصول ہے۔ انسان کا دوسروں سے اچھا برتاؤ صرف بڑے کاموں میں نہیں، بلکہ گفتگو، ملاقات، معاملات اور روزمرہ کے معمولات میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک:
معاشرتی ادب کا سب سے اہم پہلو والدین کا احترام ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا [بنی اسرائیل-٢٣]
اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
والدین کے سامنے آواز بلند نہ کرنا، ان کی بات توجہ سے سننا، ضرورت کے وقت ان کی خدمت کرنا اور ان کے جذبات کا خیال رکھنا حسنِ معاشرت کی بنیادی علامت ہے۔
پڑوسیوں کے حقوق:
اچھا معاشرہ وہ ہے جہاں انسان صرف اپنے گھر والوں کا نہیں بلکہ اپنے پڑوسیوں کا بھی خیال رکھے۔ حدیثِ مبارکہ میں ہے:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ. [صحیح البخاری، کتاب الأدب]
حبیبِ کبریا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جبرائیل علیہ السلام مجھے اس طرح بار بار پڑوسی کے حق میں وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کر دیں۔
اس حدیث سے پڑوسی کے حق کی عظمت واضح ہوتی ہے۔
لوگوں کے ساتھ آسانی:
حسنِ معاشرت کا ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ انسان دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے۔ ہر معاملے میں سختی، ضد اور اپنے حق پر اصرار معاشرتی تعلقات کو کمزور کرتا ہے۔ پیارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوْا، وَبَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا [صحیح البخاری، کتاب العلم]
آسانی کرو اور سختی نہ کرو اور خوش کرو اور نفرت نہ دلاؤ۔
یہ اصول گھر، مدرسہ، دفتر، بازار اور ہر معاشرتی مقام پر قابلِ عمل ہے۔
دوسروں کے عیوب تلاش نہ کرنا:
معاشرتی ادب کا تقاضا ہے کہ انسان دوسروں کی کمزوریوں کو اچھالنے کے بجائے ان کی پردہ پوشی کرے۔ اللہ تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: من ستر مسلمًا في الدنيا ستره اللهُ في الدنيا والآخرةِ [مسند احمد]
اس لیے کسی کی لغزش کو مجلس کا موضوع بنانا، اس کا مذاق اڑانا یا سوشل میڈیا پر پھیلانا حسنِ معاشرت کے خلاف ہے۔
معافی اور درگزر:
انسانوں کے درمیان اختلاف اور غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ہر غلطی کا بدلہ لینا معاشرتی زندگی کو تلخی سے بھر دیتا ہے۔ بعض مواقع پر معاف کرنا اور درگزر کرنا تعلقات کو دوبارہ مضبوط کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوْا [نور-٢٢]
اور چاہیے کہ معاف کریں اور دَر گزریں۔
حسنِ سلوک کی چھوٹی چھوٹی صورتیں:
حسنِ معاشرت ہمیشہ بڑے کارناموں کا نام نہیں۔ کسی کو سلام کرنا، مسکرا کر ملنا، راستہ دینا، ضرورت مند کی مدد کرنا، بیمار کی عیادت کرنا، غم زدہ شخص کو تسلی دینا اور کسی کے لیے آسانی پیدا کرنا بھی حسنِ سلوک ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
بَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ (جامع الترمذی، کتاب البر و الصلۃ، باب ما جاء في صنائع المعروف)
اپنے بھائی کے سامنے تمہارا مسکرانا تمہارے لیے صدقہ ہے۔
آج کے معاشرے میں ضرورت:
آج سہولیات تو بہت بڑھ گئی ہیں، مگر باہمی تعلقات میں تحمل اور برداشت کم ہوتی جارہی ہے۔ معمولی اختلاف پر ناراضی، معمولی بات پر قطع تعلقی، گفتگو میں سختی اور دوسروں کی تحقیر جیسے رویے معاشرتی سکون کو متاثر کرتے ہیں۔
ایسے ماحول میں ہمیں دوبارہ مروّت، رواداری، شائستگی اور حسنِ سلوک کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ادبِ معاشرت دراصل معاشرے کو جوڑنے والی ایک مضبوط قوت ہے۔ یہ دلوں میں محبت، تعلقات میں اعتماد اور زندگی میں سکون پیدا کرتا ہے۔ اچھا انسان وہ نہیں جو صرف اپنے لیے اچھا ہو، بلکہ وہ ہے جس کے وجود سے دوسروں کو بھی راحت، اطمینان اور عزت حاصل ہو۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھر سے ادبِ معاشرت کا آغاز کریں، والدین کا احترام کریں، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کریں، پڑوسیوں کا خیال رکھیں، دوسروں کی عزت کریں، غلطیوں سے درگزر کریں اور اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ حسنِ سلوک دل جیتتا ہے، اور ادب معاشرے کو جوڑتا ہے۔
از:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
69
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

آدابِ زندگی انسان کے کردار کی تعمیر

آدابِ اختلاف اختلاف میں شائستگی

آدابِ معاشرت اور حسنِ سلوک

پی ڈی ایف تیار ہو رہی ہے، برائے مہربانی انتظار کریں...

PDF ڈاؤنلوڈ ہوتے ہی یہ ونڈو بند ہو جائے گی۔

Jamiatur Raza Students Portal
Jamiatur Raza Students Portal
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

آدابِ معاشرت اور حسنِ سلوک

قلمکار: Muhammad Anas Raza Haami

*آدابِ معاشرت اور حسنِ سلوک*

انسان تنہا زندگی نہیں گزارتا۔ وہ والدین، اہلِ خانہ، رشتہ داروں، پڑوسیوں، دوستوں، اساتذہ اور معاشرے کے مختلف افراد کے ساتھ تعلقات قائم کرکے زندگی بسر کرتا ہے۔ ان تعلقات کو خوش گوار، مضبوط اور پائیدار بنانے کے لیے ادبِ معاشرت اور حسنِ سلوک نہایت ضروری ہے۔
ادبِ معاشرت سے مراد یہ ہے کہ انسان دوسروں کے ساتھ احترام، شائستگی، مروّت، رواداری اور خوش اخلاقی سے پیش آئے، ان کے حقوق کا خیال رکھے اور اپنی ذات سے دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے بچے۔

*معاشرتی زندگی میں ادب کی اہمیت:*
کسی معاشرے کی حقیقی ترقی صرف بلند عمارتوں، دولت اور وسائل سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے افراد کے اخلاق و کردار سے ہوتی ہے۔ جہاں لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوں، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت کرتے ہوں، وہاں محبت، اعتماد اور باہمی تعاون پیدا ہوتا ہے۔
اس کے برعکس جہاں بدتمیزی، خود غرضی، تحقیر اور بے اعتنائی عام ہوجائے وہاں رشتے کمزور اور معاشرتی زندگی مضطرب ہوجاتی ہے۔

*قرآنِ کریم کی تعلیم:*
اسلام نے حسنِ سلوک کو نہایت اہمیت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا” [بقرۃ-٨٣]
یہ مختصر حکم معاشرتی زندگی کا جامع اصول ہے۔ انسان کا دوسروں سے اچھا برتاؤ صرف بڑے کاموں میں نہیں، بلکہ گفتگو، ملاقات، معاملات اور روزمرہ کے معمولات میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔

*والدین کے ساتھ حسنِ سلوک:*
معاشرتی ادب کا سب سے اہم پہلو والدین کا احترام ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ” [بنی اسرائیل-٢٣]
اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
والدین کے سامنے آواز بلند نہ کرنا، ان کی بات توجہ سے سننا، ضرورت کے وقت ان کی خدمت کرنا اور ان کے جذبات کا خیال رکھنا حسنِ معاشرت کی بنیادی علامت ہے۔

*پڑوسیوں کے حقوق:*
اچھا معاشرہ وہ ہے جہاں انسان صرف اپنے گھر والوں کا نہیں بلکہ اپنے پڑوسیوں کا بھی خیال رکھے۔ حدیثِ مبارکہ میں ہے:
” عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ.” [صحیح البخاری، کتاب الأدب]
حبیبِ کبریا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جبرائیل علیہ السلام مجھے اس طرح بار بار پڑوسی کے حق میں وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کر دیں۔
اس حدیث سے پڑوسی کے حق کی عظمت واضح ہوتی ہے۔

*لوگوں کے ساتھ آسانی:*
حسنِ معاشرت کا ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ انسان دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے۔ ہر معاملے میں سختی، ضد اور اپنے حق پر اصرار معاشرتی تعلقات کو کمزور کرتا ہے۔ پیارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” یَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوْا، وَبَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا” [صحیح البخاری، کتاب العلم]
آسانی کرو اور سختی نہ کرو اور خوش کرو اور نفرت نہ دلاؤ۔
یہ اصول گھر، مدرسہ، دفتر، بازار اور ہر معاشرتی مقام پر قابلِ عمل ہے۔

*دوسروں کے عیوب تلاش نہ کرنا:*
معاشرتی ادب کا تقاضا ہے کہ انسان دوسروں کی کمزوریوں کو اچھالنے کے بجائے ان کی پردہ پوشی کرے۔ اللہ تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: “من ستر مسلمًا في الدنيا ستره اللهُ في الدنيا والآخرةِ” [مسند احمد]
اس لیے کسی کی لغزش کو مجلس کا موضوع بنانا، اس کا مذاق اڑانا یا سوشل میڈیا پر پھیلانا حسنِ معاشرت کے خلاف ہے۔

*معافی اور درگزر:*
انسانوں کے درمیان اختلاف اور غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ہر غلطی کا بدلہ لینا معاشرتی زندگی کو تلخی سے بھر دیتا ہے۔ بعض مواقع پر معاف کرنا اور درگزر کرنا تعلقات کو دوبارہ مضبوط کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوْا ” [نور-٢٢]
اور چاہیے کہ معاف کریں اور دَر گزریں۔

*حسنِ سلوک کی چھوٹی چھوٹی صورتیں:*
حسنِ معاشرت ہمیشہ بڑے کارناموں کا نام نہیں۔ کسی کو سلام کرنا، مسکرا کر ملنا، راستہ دینا، ضرورت مند کی مدد کرنا، بیمار کی عیادت کرنا، غم زدہ شخص کو تسلی دینا اور کسی کے لیے آسانی پیدا کرنا بھی حسنِ سلوک ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” بَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ” (جامع الترمذی، کتاب البر و الصلۃ، باب ما جاء في صنائع المعروف)
اپنے بھائی کے سامنے تمہارا مسکرانا تمہارے لیے صدقہ ہے۔

*آج کے معاشرے میں ضرورت:*
آج سہولیات تو بہت بڑھ گئی ہیں، مگر باہمی تعلقات میں تحمل اور برداشت کم ہوتی جارہی ہے۔ معمولی اختلاف پر ناراضی، معمولی بات پر قطع تعلقی، گفتگو میں سختی اور دوسروں کی تحقیر جیسے رویے معاشرتی سکون کو متاثر کرتے ہیں۔
ایسے ماحول میں ہمیں دوبارہ مروّت، رواداری، شائستگی اور حسنِ سلوک کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔

ادبِ معاشرت دراصل معاشرے کو جوڑنے والی ایک مضبوط قوت ہے۔ یہ دلوں میں محبت، تعلقات میں اعتماد اور زندگی میں سکون پیدا کرتا ہے۔ اچھا انسان وہ نہیں جو صرف اپنے لیے اچھا ہو، بلکہ وہ ہے جس کے وجود سے دوسروں کو بھی راحت، اطمینان اور عزت حاصل ہو۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھر سے ادبِ معاشرت کا آغاز کریں، والدین کا احترام کریں، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کریں، پڑوسیوں کا خیال رکھیں، دوسروں کی عزت کریں، غلطیوں سے درگزر کریں اور اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ حسنِ سلوک دل جیتتا ہے، اور ادب معاشرے کو جوڑتا ہے۔

★ “از:”
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی

مضمون آن لائن پڑھنے کے لیے اسکین کریں:

QR Code