صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
اخلاص
ادبیات

اخلاص

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

اخلاص
دنیا میں بہت سے لوگ نیک اعمال کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، صدقہ دیتے ہیں، علم حاصل کرتے ہیں، دوسروں کی خوب مدد اور خدمت بھی کرتے ہیں۔ مگر ہر عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہو، یہ معلوم نہیں۔ عمل کی قبولیت کا دار و مدار اس کی ظاہری خوبصورتی پر نہیں بلکہ اس نیت پر ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ عمل کیا گیا ہو۔ اسی پاکیزہ نیت اور خالص جذبے کا نام ”خلاص “ ہے۔
اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر نیک عمل صرف اللہ تعالیٰ اور حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی رضا کے لیے کرے، نہ تعریف کی خواہش ہو، نہ شہرت کی طلب، نہ لوگوں کی واہ واہ مقصود ہو، بلکہ دل میں صرف ایک ہی آرزو ہو کہ میرا رب مجھ سے راضی ہو جائے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو معمولی عمل کو بھی عظیم بنا دیتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَمَا أُمِرُوْا إِلَّآ لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ
ترجمہ: ”اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے۔“ [سورۃ البینہ، آیت-۵﴾
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ
ترجمہ: ”تم فرماؤ مجھے حکم ہے کہ اللہ کو پوجوں نرا اس کا بندہ ہوکر۔“ [سورۃ الزمر-١١]
احادیثِ مبارکہ میں بھی اخلاص کی بہت زیادہ تاکید آئی ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ
ترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ [صحیح بخاری، حدیث: 1]
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ایک ہی عمل دو مختلف لوگوں سے سرزد ہو سکتا ہے، مگر ایک کو اجر ملے اور دوسرا محروم رہ جائے، کیونکہ فرق نیت کا ہوتا ہے۔
ایک اور حدیث میں حضور ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ
ترجمہ: اللہ تمہاری صورتوں اور مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال پر نظر فرماتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6543]
اخلاص انسان کے کردار کو سنوارتا ہے۔ مخلص انسان نیکی کر کے احسان نہیں جتاتا، خدمت کر کے شہرت نہیں مانگتا اور عبادت کر کے خود پسندی میں مبتلا نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ اصل دیکھنے والا اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے وہ لوگوں کی نظروں سے زیادہ اپنے رب کی رضا کی فکر کرتا ہے۔
ریاکاری اور دکھاوا اخلاص کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ جو شخص لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کے لیے عبادت کرتا ہے، وہ بظاہر نیک نظر آتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا عمل بے وزن ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس ایک مخلص بندہ اگر خاموشی سے کوئی نیکی کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی قبولیت عطا فرماتا ہے کہ اس کا اثر دنیا و آخرت دونوں میں ظاہر ہوتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آج ہمارے معاشرے کو علم سے پہلے اخلاص کی ضرورت ہے، کیونکہ اخلاص کے بغیر علم تکبر بن جاتا ہے، دولت غرور بن جاتی ہے اور عبادت بھی محض ایک رسم رہ جاتی ہے۔ جب اخلاص شامل ہو جائے تو تھوڑا عمل بھی بہت قیمتی ہو جاتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اخلاص وہ خوشبو ہے جو عمل کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچا دیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عبادتیں، ہماری دعائیں اور ہماری خدمت قبول ہو جائے تو ہمیں اپنے دل کو اخلاص سے بھرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قول و عمل میں اخلاص نصیب فرمائے اور اپنی رضا کے لیے زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ اجمعین۔

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
85
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

خاندان اعلیٰ حضرت اور فتویٰ نویسی پر اجرت

کسی کا انتظار ہے

اخلاص - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

اخلاص

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

اخلاص

دنیا میں بہت سے لوگ نیک اعمال کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، صدقہ دیتے ہیں، علم حاصل کرتے ہیں، دوسروں کی خوب مدد اور خدمت بھی کرتے ہیں۔ مگر ہر عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہو، یہ معلوم نہیں۔ عمل کی قبولیت کا دار و مدار اس کی ظاہری خوبصورتی پر نہیں بلکہ اس نیت پر ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ عمل کیا گیا ہو۔ اسی پاکیزہ نیت اور خالص جذبے کا نام *”خلاص “* ہے۔

اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر نیک عمل صرف اللہ تعالیٰ اور حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی رضا کے لیے کرے، نہ تعریف کی خواہش ہو، نہ شہرت کی طلب، نہ لوگوں کی واہ واہ مقصود ہو، بلکہ دل میں صرف ایک ہی آرزو ہو کہ میرا رب مجھ سے راضی ہو جائے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو معمولی عمل کو بھی عظیم بنا دیتا ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
“وَمَا أُمِرُوْا إِلَّآ لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ”
ترجمہ: ”اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے۔“ [سورۃ البینہ، آیت-۵﴾
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
“قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ”
ترجمہ: ”تم فرماؤ مجھے حکم ہے کہ اللہ کو پوجوں نرا اس کا بندہ ہوکر۔“ [سورۃ الزمر-١١]

احادیثِ مبارکہ میں بھی اخلاص کی بہت زیادہ تاکید آئی ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ”
ترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ [صحیح بخاری، حدیث: 1]
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ایک ہی عمل دو مختلف لوگوں سے سرزد ہو سکتا ہے، مگر ایک کو اجر ملے اور دوسرا محروم رہ جائے، کیونکہ فرق نیت کا ہوتا ہے۔
ایک اور حدیث میں حضور ﷺ نے فرمایا:
“إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ”
ترجمہ: اللہ تمہاری صورتوں اور مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال پر نظر فرماتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6543]

اخلاص انسان کے کردار کو سنوارتا ہے۔ مخلص انسان نیکی کر کے احسان نہیں جتاتا، خدمت کر کے شہرت نہیں مانگتا اور عبادت کر کے خود پسندی میں مبتلا نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ اصل دیکھنے والا اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے وہ لوگوں کی نظروں سے زیادہ اپنے رب کی رضا کی فکر کرتا ہے۔

ریاکاری اور دکھاوا اخلاص کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ جو شخص لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کے لیے عبادت کرتا ہے، وہ بظاہر نیک نظر آتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا عمل بے وزن ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس ایک مخلص بندہ اگر خاموشی سے کوئی نیکی کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی قبولیت عطا فرماتا ہے کہ اس کا اثر دنیا و آخرت دونوں میں ظاہر ہوتا ہے۔

آج ہمارے معاشرے کو علم سے پہلے اخلاص کی ضرورت ہے، کیونکہ اخلاص کے بغیر علم تکبر بن جاتا ہے، دولت غرور بن جاتی ہے اور عبادت بھی محض ایک رسم رہ جاتی ہے۔ جب اخلاص شامل ہو جائے تو تھوڑا عمل بھی بہت قیمتی ہو جاتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اخلاص وہ خوشبو ہے جو عمل کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچا دیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عبادتیں، ہماری دعائیں اور ہماری خدمت قبول ہو جائے تو ہمیں اپنے دل کو اخلاص سے بھرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قول و عمل میں اخلاص نصیب فرمائے اور اپنی رضا کے لیے زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، “آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ اجمعین۔”

Scan this QR code to read online:

QR Code