صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسکرانے کی وجوہات (6)
ادبیات

مسکرانے کی وجوہات (6)

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مسکرانے کی وجوہات
قسط ششم: جب کوئی اجنبی اپنا سا لگنے لگے
کبھی سفر میں کوئی ایسا شخص مل جاتا ہے جسے ہم پہلے سے نہیں جانتے، جس سے نہ کوئی تعارف ہوتا ہے اور نہ ہی ملاقات کا کوئی خاص مقصد، مگر چند منٹ کی گفتگو میں وہ ایسی اپنائیت پیدا کردیتا ہے کہ اس سے جدا ہوتے وقت بے اختیار مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ کبھی بس میں ساتھ بیٹھا ہوا کوئی بزرگ دو باتیں کرلیتا ہے، کبھی دکان دار کسی ایسی بات پر ہنسا دیتا ہے جس کا پہلے سے کوئی خیال نہیں ہوتا، اور کبھی راستہ بتانے والا کوئی اجنبی اتنی محبت سے بات کرتا ہے کہ دل چاہتا ہے اسے دعائیں دی جائیں۔ عجیب بات ہے کہ بعض لوگ برسوں ساتھ رہ کر بھی دل میں جگہ نہیں بنا پاتے، اور بعض چند لمحوں میں یاد رہ جانے والی شخصیت بن جاتے ہیں۔
مجھے لگتا ہے کہ اجنبیوں کی بعض باتوں میں ایک خاص لطف ہوتا ہے۔ ان سے ہمارا کوئی پرانا حساب نہیں ہوتا، نہ کسی سابقہ ناراضگی کا بوجھ، نہ کسی توقع کی پابندی۔ بات ہوئی، ہنسی آئی، دو اچھے جملے کہے گئے اور پھر ہر شخص اپنے راستے چل دیا۔ لیکن کبھی وہ مختصر سی ملاقات پورے دن کی تھکن کم کردیتی ہے۔ آدمی گھر لوٹتے ہوئے بھی اس واقعے کو یاد کرکے مسکرا رہا ہوتا ہے، حالاں کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ دوبارہ اس شخص سے کبھی ملاقات ہوگی یا نہیں۔
ایک مرتبہ غور کیجیے!
ہم روز کتنے لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہیں۔ بازار میں، سڑک پر، مدرسے میں، سفر کے دوران، ہر شخص اپنی کسی نہ کسی فکر میں مبتلا ہوتا ہے۔ کسی کو گھر پہنچنے کی جلدی ہے، کوئی اپنے کام کی پریشانی میں ہے، اور کوئی خاموشی سے اپنے خیالوں میں گم ہے۔ ایسے میں اگر کوئی شخص ذرا سی مسکراہٹ کے ساتھ بات کرلے، کسی کا راستہ بتا دے، گرا ہوا سامان اٹھانے میں مدد کردے یا کسی پریشان حال کو دو تسلی کے بول کہہ دے تو کیا عجب کہ وہ کسی کے دن کی اچھی یاد بن جائے۔
اور سب سے خوب صورت بات یہ ہے کہ اس خوشی کے لیے ہمیں کسی کو جاننا ضروری نہیں۔ انسانیت کا تعلق تعارف کا محتاج نہیں ہوتا۔ ہر مسکراہٹ کے پیچھے دوستی نہیں ہوتی، ہر اچھی گفتگو کسی رشتے کی ابتدا نہیں ہوتی بلکہ بعض ملاقاتیں بس اچھی ہوتی ہیں، اور ان کا اچھا ہونا ہی کافی ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
زندگی میں کچھ لوگ صرف چند لمحوں کے لیے ملتے ہیں، مگر جاتے جاتے یہ احساس ضرور دلا جاتے ہیں کہ اجنبیت کے اس ہجوم میں خلوص ابھی باقی ہے۔ شاید اسی احساس پر لبوں کا مسکرا اٹھنا بھی زندگی کی ایک خوب صورت وجہ ہے۔
نتیجۂ فکر:
محمد انس رضا حاؔمی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
10
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 100
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

مسکرانے کی وجوہات (7)

مسکرانے کی وجوہات (5)

مسکرانے کی وجوہات (6) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسکرانے کی وجوہات (6)

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مسکرانے کی وجوہات
*قسط ششم: جب کوئی اجنبی اپنا سا لگنے لگے*

کبھی سفر میں کوئی ایسا شخص مل جاتا ہے جسے ہم پہلے سے نہیں جانتے، جس سے نہ کوئی تعارف ہوتا ہے اور نہ ہی ملاقات کا کوئی خاص مقصد، مگر چند منٹ کی گفتگو میں وہ ایسی اپنائیت پیدا کردیتا ہے کہ اس سے جدا ہوتے وقت بے اختیار مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ کبھی بس میں ساتھ بیٹھا ہوا کوئی بزرگ دو باتیں کرلیتا ہے، کبھی دکان دار کسی ایسی بات پر ہنسا دیتا ہے جس کا پہلے سے کوئی خیال نہیں ہوتا، اور کبھی راستہ بتانے والا کوئی اجنبی اتنی محبت سے بات کرتا ہے کہ دل چاہتا ہے اسے دعائیں دی جائیں۔ عجیب بات ہے کہ بعض لوگ برسوں ساتھ رہ کر بھی دل میں جگہ نہیں بنا پاتے، *اور بعض چند لمحوں میں یاد رہ جانے والی شخصیت بن جاتے ہیں۔*

مجھے لگتا ہے کہ اجنبیوں کی بعض باتوں میں ایک خاص لطف ہوتا ہے۔ ان سے ہمارا کوئی پرانا حساب نہیں ہوتا، نہ کسی سابقہ ناراضگی کا بوجھ، نہ کسی توقع کی پابندی۔ بات ہوئی، ہنسی آئی، دو اچھے جملے کہے گئے اور پھر ہر شخص اپنے راستے چل دیا۔ لیکن کبھی وہ مختصر سی ملاقات پورے دن کی تھکن کم کردیتی ہے۔ آدمی گھر لوٹتے ہوئے بھی اس واقعے کو یاد کرکے مسکرا رہا ہوتا ہے، حالاں کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ دوبارہ اس شخص سے کبھی ملاقات ہوگی یا نہیں۔

ایک مرتبہ غور کیجیے!
ہم روز کتنے لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہیں۔ بازار میں، سڑک پر، مدرسے میں، سفر کے دوران، ہر شخص اپنی کسی نہ کسی فکر میں مبتلا ہوتا ہے۔ کسی کو گھر پہنچنے کی جلدی ہے، کوئی اپنے کام کی پریشانی میں ہے، اور کوئی خاموشی سے اپنے خیالوں میں گم ہے۔ ایسے میں اگر کوئی شخص ذرا سی مسکراہٹ کے ساتھ بات کرلے، کسی کا راستہ بتا دے، گرا ہوا سامان اٹھانے میں مدد کردے یا کسی پریشان حال کو دو تسلی کے بول کہہ دے تو کیا عجب کہ وہ کسی کے دن کی اچھی یاد بن جائے۔

اور سب سے خوب صورت بات یہ ہے کہ اس خوشی کے لیے ہمیں کسی کو جاننا ضروری نہیں۔ انسانیت کا تعلق تعارف کا محتاج نہیں ہوتا۔ ہر مسکراہٹ کے پیچھے دوستی نہیں ہوتی، ہر اچھی گفتگو کسی رشتے کی ابتدا نہیں ہوتی بلکہ بعض ملاقاتیں بس اچھی ہوتی ہیں، اور ان کا اچھا ہونا ہی کافی ہے۔

زندگی میں کچھ لوگ صرف چند لمحوں کے لیے ملتے ہیں، مگر جاتے جاتے یہ احساس ضرور دلا جاتے ہیں کہ اجنبیت کے اس ہجوم میں خلوص ابھی باقی ہے۔ شاید اسی احساس پر لبوں کا مسکرا اٹھنا بھی زندگی کی ایک خوب صورت وجہ ہے۔

★ “نتیجۂ فکر:”
محمد انس رضا حاؔمی

Scan this QR code to read online:

QR Code