صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسکرانے کی وجوہات (7)
ادبیات

مسکرانے کی وجوہات (7)

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مسکرانے کی وجوہات
قسط ہفتم: جب محنت رنگ لاتی ہے
انسان کی زندگی میں کچھ خوشیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی قیمت وہی جانتا ہے جس نے ان کے لیے محنت کی ہو۔ امتحان کی تیاری کرتے ہوئے جب بار بار ایک ہی سبق پڑھنا پڑے، کوئی بات سمجھنے میں وقت لگے، اور کبھی اپنی صلاحیت پر بھی شک ہونے لگے، تو اس وقت کامیابی کا تصور بھی انسان کو حوصلہ دیتا ہے۔ پھر جب نتیجہ سامنے آتا ہے اور محنت ضائع نہیں جاتی تو چہرے پر جو مسکراہٹ آتی ہے، وہ محض خوشی نہیں ہوتی, اس میں اطمینان بھی ہوتا ہے، شکر بھی اور اپنی کوشش پر ایک خوش گوار سا احساس بھی۔
یہی کیفیت اس وقت بھی ہوتی ہے جب آدمی کسی مشکل کام کو بالآخر مکمل کرلیتا ہے۔ جس کام کو کئی دن سے ٹال رہا تھا، وہ پورا ہوجائے، جس مسئلے کا حل نہیں مل رہا تھا، وہ سمجھ میں آ جائے یا جس مقصد کے لیے مسلسل کوشش کررہا تھا، اس کی طرف پہلا قدم کامیابی سے اٹھ جائے تو دل خود بخود ہلکا ہوجاتا ہے۔ کبھی انسان کام مکمل کرکے چند لمحے خاموش بیٹھا رہتا ہے اور پھر مسکرا دیتا ہے۔ اس مسکراہٹ میں کسی کو دکھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا، بس دل کو معلوم ہوتا ہے کہ ایک مشکل مرحلہ گزر گیا۔
البتہ محنت کے بعد ملنے والی ہر خوشی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو اپنی کامیابی پر غرور ہونے لگے۔ اصل خوشی تو یہ ہے کہ آدمی اپنی کوشش کا نتیجہ دیکھے، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اگلے مرحلے کے لیے پہلے سے بہتر تیاری کرے۔ جو شخص صرف نتیجے کے دن خوش ہوتا ہے، وہ اپنی زندگی کی بہت سی خوشیاں خود ہی گنوا دیتا ہے کیونکہ کامیابی تک پہنچنے میں چھوٹی چھوٹی پیش رفت بھی اہم ہوتی ہے۔ آج کوئی مشکل بات سمجھ آگئی، کل پہلے سے بہتر کام ہوگیا، اور پرسوں اپنی کسی کمزوری پر قابو پالیا۔ یہ سب بھی خوش ہونے کے اسباب ہیں۔
زندگی میں بعض کام ایسے ہوتے ہیں جن کا نتیجہ فوراً سامنے نہیں آتا۔ آدمی کوشش کرتا رہتا ہے، مگر بظاہر کوئی خاص تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ ایسے وقت میں مایوس ہونا آسان ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر محنت کا پھل اسی وقت مل جائے جب ہم اس کی توقع کررہے ہوں۔ کبھی دیر سے ملنے والی کامیابی انسان کو اپنی سابقہ کوششوں کی اہمیت زیادہ اچھی طرح سمجھا دیتی ہے۔ پھر جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اسے اپنی وہ محنت بھی یاد آتی ہے جسے دوسروں نے نہیں دیکھا تھا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
محنت کے بعد آنے والی مسکراہٹ کی خوبی یہ ہے کہ اسے کسی کے سامنے ثابت نہیں کرنا پڑتا، انسان خود جانتا ہے کہ اس نے کہاں سے سفر شروع کیا تھا اور آج کہاں پہنچا ہے..........جاری
نتیجۂ فکر:
محمد انس رضا حاؔمی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
11
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 100
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

مسکرانے کی وجوہات (8)

مسکرانے کی وجوہات (6)

مسکرانے کی وجوہات (7) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسکرانے کی وجوہات (7)

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مسکرانے کی وجوہات
*قسط ہفتم: جب محنت رنگ لاتی ہے*

انسان کی زندگی میں کچھ خوشیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی قیمت وہی جانتا ہے جس نے ان کے لیے محنت کی ہو۔ امتحان کی تیاری کرتے ہوئے جب بار بار ایک ہی سبق پڑھنا پڑے، کوئی بات سمجھنے میں وقت لگے، اور کبھی اپنی صلاحیت پر بھی شک ہونے لگے، تو اس وقت کامیابی کا تصور بھی انسان کو حوصلہ دیتا ہے۔ پھر جب نتیجہ سامنے آتا ہے اور محنت ضائع نہیں جاتی تو چہرے پر جو مسکراہٹ آتی ہے، وہ محض خوشی نہیں ہوتی, اس میں اطمینان بھی ہوتا ہے، شکر بھی اور اپنی کوشش پر ایک خوش گوار سا احساس بھی۔

یہی کیفیت اس وقت بھی ہوتی ہے جب آدمی کسی مشکل کام کو بالآخر مکمل کرلیتا ہے۔ جس کام کو کئی دن سے ٹال رہا تھا، وہ پورا ہوجائے، جس مسئلے کا حل نہیں مل رہا تھا، وہ سمجھ میں آ جائے یا جس مقصد کے لیے مسلسل کوشش کررہا تھا، اس کی طرف پہلا قدم کامیابی سے اٹھ جائے تو دل خود بخود ہلکا ہوجاتا ہے۔ کبھی انسان کام مکمل کرکے چند لمحے خاموش بیٹھا رہتا ہے اور پھر مسکرا دیتا ہے۔ اس مسکراہٹ میں کسی کو دکھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا، بس دل کو معلوم ہوتا ہے کہ ایک مشکل مرحلہ گزر گیا۔

البتہ محنت کے بعد ملنے والی ہر خوشی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو اپنی کامیابی پر غرور ہونے لگے۔ اصل خوشی تو یہ ہے کہ آدمی اپنی کوشش کا نتیجہ دیکھے، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اگلے مرحلے کے لیے پہلے سے بہتر تیاری کرے۔ جو شخص صرف نتیجے کے دن خوش ہوتا ہے، وہ اپنی زندگی کی بہت سی خوشیاں خود ہی گنوا دیتا ہے کیونکہ کامیابی تک پہنچنے میں چھوٹی چھوٹی پیش رفت بھی اہم ہوتی ہے۔ آج کوئی مشکل بات سمجھ آگئی، کل پہلے سے بہتر کام ہوگیا، اور پرسوں اپنی کسی کمزوری پر قابو پالیا۔ یہ سب بھی خوش ہونے کے اسباب ہیں۔

زندگی میں بعض کام ایسے ہوتے ہیں جن کا نتیجہ فوراً سامنے نہیں آتا۔ آدمی کوشش کرتا رہتا ہے، مگر بظاہر کوئی خاص تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ ایسے وقت میں مایوس ہونا آسان ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر محنت کا پھل اسی وقت مل جائے جب ہم اس کی توقع کررہے ہوں۔ کبھی دیر سے ملنے والی کامیابی انسان کو اپنی سابقہ کوششوں کی اہمیت زیادہ اچھی طرح سمجھا دیتی ہے۔ پھر جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اسے اپنی وہ محنت بھی یاد آتی ہے جسے دوسروں نے نہیں دیکھا تھا۔

محنت کے بعد آنے والی مسکراہٹ کی خوبی یہ ہے کہ اسے کسی کے سامنے ثابت نہیں کرنا پڑتا، انسان خود جانتا ہے کہ اس نے کہاں سے سفر شروع کیا تھا اور آج کہاں پہنچا ہے……….*جاری*

★ “نتیجۂ فکر:”
محمد انس رضا حاؔمی

Scan this QR code to read online:

QR Code