صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسکرانے کی وجوہات (9)
ادبیات

مسکرانے کی وجوہات (9)

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مسکرانے کی وجوہات
قسط نہم: جب انسان ہر وقت مستقبل کی فکر میں رہتا ہے
انسان کی عادت ہے کہ کبھی ماضی کی باتوں میں الجھا رہتا ہے اور کبھی مستقبل کے خیالوں میں کھویا رہتا ہے۔ جو گزر گیا، اس کے بارے میں سوچتا ہے کہ کاش ایسا نہ ہوتا اور جو ابھی آیا ہی نہیں، اس کے متعلق فکر کرتا ہے کہ نہ جانے آگے کیا ہوگا۔ اس طرح کبھی گزرے ہوئے وقت کا افسوس اسے پریشان کرتا ہے اور کبھی آنے والے وقت کا خوف اس کی خوشیاں چھین لیتا ہے۔ حالاں کہ جس لمحے وہ یہ سب سوچ رہا ہوتا ہے، وہ لمحہ بھی گزر رہا ہوتا ہے، اور ممکن ہے بعد میں اسے اسی وقت کی قدر محسوس ہو۔
طالب علم کو دیکھیے!
کبھی امتحان کی فکر اسے پڑھنے نہیں دیتی، کبھی نتیجے کا خیال اسے بے چین رکھتا ہے، اور کبھی مستقبل میں کیا بننا ہے، اسی سوچ میں وہ آج کی زندگی سے لطف اندوز ہونا بھول جاتا ہے۔ یہی حال بڑے لوگوں کا بھی ہے۔ کسی کو روزگار کی فکر ہے، کسی کو گھر کے اخراجات کی، کسی کو بچوں کے مستقبل کی، اور کسی کو اس بات کی کہ زندگی میں جو کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ حاصل کر بھی پائے گا یا نہیں۔ ذمہ داریاں اپنی جگہ اہم ہیں، ان سے غافل ہونا درست نہیں لیکن ہر وقت فکر میں مبتلا رہنا بھی ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا بہتر طریقہ نہیں۔
فکر اور منصوبہ بندی میں فرق ہے:
منصوبہ بندی انسان کو راستہ دکھاتی ہے، جبکہ بے جا فکر اکثر اسے ایک ہی جگہ کھڑا رکھتی ہے۔ اگر امتحان آنے والا ہے تو پڑھنا ضروری ہے، صرف نتیجے کے بارے میں سوچتے رہنا نہیں۔ اگر کوئی کام کرنا ہے تو اس کی تیاری کرنی چاہیے، محض ناکامی کے امکانات گنتے رہنا نہیں۔ مستقبل کی بہتری کے لیے آج کوشش کرنا ہمارے اختیار میں ہے، مگر ہر آنے والے واقعے کو اپنی مرضی کے مطابق بنانا ہمارے بس میں نہیں۔
کتنی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ جس بات کی ہم نے بہت فکر کی، وہ پیش ہی نہیں آئی اور کبھی جس مشکل کا خیال تک نہ تھا، وہ سامنے آ گئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا جائے، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ زندگی ہمیشہ ہماری توقعات کے مطابق نہیں چلتی۔ انسان کی سمجھ اور کوشش اپنی جگہ، مگر ہر نتیجے پر اس کا اختیار نہیں ہوتا۔ اس لیے کوشش پوری کرنی چاہیے، دعا بھی کرنی چاہیے اور پھر اپنے دل کو ہر ممکن اندیشے کا قیدی نہیں بنا لینا چاہیے۔
کبھی اپنے اردگرد نظر ڈالیے۔ زندگی میں کچھ کام ابھی باقی ہوں گے، کچھ خواہشیں ابھی پوری نہ ہوئی ہوں گی اور کچھ مسائل ایسے بھی ہوں گے جن کا حل وقت کے ساتھ ہی نکلے گا۔ لیکن ان سب کے باوجود آج کا دن بھی اپنی جگہ قیمتی ہے۔ گھر والوں کے ساتھ چند لمحے گزارنا، دوست سے ہنس بول لینا، اپنے پسندیدہ کام کے لیے وقت نکالنا اور کسی چھوٹی سی نعمت پر شکر ادا کرنا، ان سب کے لیے زندگی کے مکمل طور پر ٹھیک ہونے کا انتظار کیوں کیا جائے؟ انہیں چیز وں میں الجھ کر ہم مسکرانا بھول جاتے ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
مستقبل کی فکر میں آج کی خوشی قربان نہ کیجیے، جیسے ہی موقع ملے ہنسیے، مسکرائیے، آنے والے کل کے لیے محنت ضرور کیجیے، مگر آج کے حصے میں جو سکون، محبت اور مسکراہٹ رکھی ہے، اسے بھی ضائع نہ ہونے دیجیے.........جاری
نتیجۂ فکر:
محمد انس رضا حاؔمی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
13
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 100
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

مسکرانے کی وجوہات (آخری)

مسکرانے کی وجوہات (8)

مسکرانے کی وجوہات (9) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسکرانے کی وجوہات (9)

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مسکرانے کی وجوہات
*قسط نہم: جب انسان ہر وقت مستقبل کی فکر میں رہتا ہے*

انسان کی عادت ہے کہ کبھی ماضی کی باتوں میں الجھا رہتا ہے اور کبھی مستقبل کے خیالوں میں کھویا رہتا ہے۔ جو گزر گیا، اس کے بارے میں سوچتا ہے کہ کاش ایسا نہ ہوتا اور جو ابھی آیا ہی نہیں، اس کے متعلق فکر کرتا ہے کہ نہ جانے آگے کیا ہوگا۔ اس طرح کبھی گزرے ہوئے وقت کا افسوس اسے پریشان کرتا ہے اور کبھی آنے والے وقت کا خوف اس کی خوشیاں چھین لیتا ہے۔ حالاں کہ جس لمحے وہ یہ سب سوچ رہا ہوتا ہے، وہ لمحہ بھی گزر رہا ہوتا ہے، اور ممکن ہے بعد میں اسے اسی وقت کی قدر محسوس ہو۔

طالب علم کو دیکھیے!
کبھی امتحان کی فکر اسے پڑھنے نہیں دیتی، کبھی نتیجے کا خیال اسے بے چین رکھتا ہے، اور کبھی مستقبل میں کیا بننا ہے، اسی سوچ میں وہ آج کی زندگی سے لطف اندوز ہونا بھول جاتا ہے۔ یہی حال بڑے لوگوں کا بھی ہے۔ کسی کو روزگار کی فکر ہے، کسی کو گھر کے اخراجات کی، کسی کو بچوں کے مستقبل کی، اور کسی کو اس بات کی کہ زندگی میں جو کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ حاصل کر بھی پائے گا یا نہیں۔ ذمہ داریاں اپنی جگہ اہم ہیں، ان سے غافل ہونا درست نہیں لیکن ہر وقت فکر میں مبتلا رہنا بھی ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا بہتر طریقہ نہیں۔

*فکر اور منصوبہ بندی میں فرق ہے:*
منصوبہ بندی انسان کو راستہ دکھاتی ہے، جبکہ بے جا فکر اکثر اسے ایک ہی جگہ کھڑا رکھتی ہے۔ اگر امتحان آنے والا ہے تو پڑھنا ضروری ہے، صرف نتیجے کے بارے میں سوچتے رہنا نہیں۔ اگر کوئی کام کرنا ہے تو اس کی تیاری کرنی چاہیے، محض ناکامی کے امکانات گنتے رہنا نہیں۔ مستقبل کی بہتری کے لیے آج کوشش کرنا ہمارے اختیار میں ہے، مگر ہر آنے والے واقعے کو اپنی مرضی کے مطابق بنانا ہمارے بس میں نہیں۔

کتنی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ جس بات کی ہم نے بہت فکر کی، وہ پیش ہی نہیں آئی اور کبھی جس مشکل کا خیال تک نہ تھا، وہ سامنے آ گئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا جائے، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ زندگی ہمیشہ ہماری توقعات کے مطابق نہیں چلتی۔ انسان کی سمجھ اور کوشش اپنی جگہ، مگر ہر نتیجے پر اس کا اختیار نہیں ہوتا۔ اس لیے کوشش پوری کرنی چاہیے، دعا بھی کرنی چاہیے اور پھر اپنے دل کو ہر ممکن اندیشے کا قیدی نہیں بنا لینا چاہیے۔

کبھی اپنے اردگرد نظر ڈالیے۔ زندگی میں کچھ کام ابھی باقی ہوں گے، کچھ خواہشیں ابھی پوری نہ ہوئی ہوں گی اور کچھ مسائل ایسے بھی ہوں گے جن کا حل وقت کے ساتھ ہی نکلے گا۔ لیکن ان سب کے باوجود آج کا دن بھی اپنی جگہ قیمتی ہے۔ گھر والوں کے ساتھ چند لمحے گزارنا، دوست سے ہنس بول لینا، اپنے پسندیدہ کام کے لیے وقت نکالنا اور کسی چھوٹی سی نعمت پر شکر ادا کرنا، ان سب کے لیے زندگی کے مکمل طور پر ٹھیک ہونے کا انتظار کیوں کیا جائے؟ انہیں چیز وں میں الجھ کر ہم مسکرانا بھول جاتے ہیں۔

مستقبل کی فکر میں آج کی خوشی قربان نہ کیجیے، جیسے ہی موقع ملے ہنسیے، مسکرائیے، آنے والے کل کے لیے محنت ضرور کیجیے، مگر آج کے حصے میں جو سکون، محبت اور مسکراہٹ رکھی ہے، اسے بھی ضائع نہ ہونے دیجیے………*جاری*

★ “نتیجۂ فکر:”
محمد انس رضا حاؔمی

Scan this QR code to read online:

QR Code