صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسکرانے کی وجوہات (4)
ادبیات

مسکرانے کی وجوہات (4)

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مسکرانے کی وجوہات
قسط چہارم: کسی کی بے لوث محبت
زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی موجودگی ہی دل کو خوش کر دیتی ہے۔ ان کے پاس بیٹھ کر کسی خاص موضوع پر گفتگو کرنا ضروری نہیں ہوتا، نہ ہی ہر ملاقات میں کوئی نئی بات ہونی چاہیے۔ بس ان کا ساتھ اچھا لگتا ہے۔ وہ حال پوچھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ واقعی ہماری خیریت جاننا چاہتے ہیں، وہ کوئی بات یاد رکھتے ہیں تو دل خوش ہو جاتا ہے، اور کبھی ہماری معمولی سی پریشانی پر فکر مند ہو جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کسی کے لیے اہم بھی ہیں۔
عجیب بات ہے کہ انسان کو ہمیشہ بڑی بڑی مہربانیاں یاد نہیں رہتیں، کبھی کسی کا ایک چھوٹا سا جملہ بھی دل میں گھر کر لیتا ہے۔ مشکل وقت میں کسی نے کہہ دیا کہ ’’فکر نہ کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘، کسی نے خاموشی سے ساتھ دے دیا، یا کسی نے ہماری غیر موجودگی میں بھی ہمارا خیال رکھا، ایسی باتیں بظاہر معمولی ہوتی ہیں، مگر جب یاد آتی ہیں تو لبوں پر مسکراہٹ بکھر جاتی ہے۔ اس لیے نہیں کہ مسئلہ حل کرنے کے لیے کسی نے بہت کچھ کر دیا، بلکہ اس لیے کہ مشکل وقت میں ہم خود کو تنہا نہیں سمجھے۔
بے لوث محبت کی سب سے خوب صورت بات یہی ہے کہ اس میں حساب کتاب نہیں ہوتا۔ کوئی شخص ہماری خوشی میں خوش ہوتا ہے، ہماری کامیابی پر دل سے مبارک باد دیتا ہے اور ہماری ناکامی کے وقت ہمیں حقیر سمجھنے کے بجائے حوصلہ دیتا ہے۔ ایسے لوگ زندگی میں بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ ان کی محبت کا احساس کبھی اچانک کسی یاد کے ذریعے تازہ ہو جاتا ہے اور انسان بے اختیار مسکرا اٹھتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
کبھی کبھی مسکرانے کی وجہ کوئی خوش خبری نہیں ہوتی، بس یہ احساس ہوتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی ایسا بھی ہے جس کے دل میں ہمارے لیے جگہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
نتیجۂ فکر:
محمد انس رضا حاؔمی

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
14
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 100
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

مسکرانے کی وجوہات (5)

مسکرانے کی وجوہات (3)

مسکرانے کی وجوہات (4) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسکرانے کی وجوہات (4)

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مسکرانے کی وجوہات
*قسط چہارم: کسی کی بے لوث محبت*

زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی موجودگی ہی دل کو خوش کر دیتی ہے۔ ان کے پاس بیٹھ کر کسی خاص موضوع پر گفتگو کرنا ضروری نہیں ہوتا، نہ ہی ہر ملاقات میں کوئی نئی بات ہونی چاہیے۔ بس ان کا ساتھ اچھا لگتا ہے۔ وہ حال پوچھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ واقعی ہماری خیریت جاننا چاہتے ہیں، وہ کوئی بات یاد رکھتے ہیں تو دل خوش ہو جاتا ہے، اور کبھی ہماری معمولی سی پریشانی پر فکر مند ہو جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کسی کے لیے اہم بھی ہیں۔

عجیب بات ہے کہ انسان کو ہمیشہ بڑی بڑی مہربانیاں یاد نہیں رہتیں، کبھی کسی کا ایک چھوٹا سا جملہ بھی دل میں گھر کر لیتا ہے۔ مشکل وقت میں کسی نے کہہ دیا کہ ’’فکر نہ کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘، کسی نے خاموشی سے ساتھ دے دیا، یا کسی نے ہماری غیر موجودگی میں بھی ہمارا خیال رکھا، ایسی باتیں بظاہر معمولی ہوتی ہیں، مگر جب یاد آتی ہیں تو لبوں پر مسکراہٹ بکھر جاتی ہے۔ اس لیے نہیں کہ مسئلہ حل کرنے کے لیے کسی نے بہت کچھ کر دیا، بلکہ اس لیے کہ مشکل وقت میں ہم خود کو تنہا نہیں سمجھے۔

بے لوث محبت کی سب سے خوب صورت بات یہی ہے کہ اس میں حساب کتاب نہیں ہوتا۔ کوئی شخص ہماری خوشی میں خوش ہوتا ہے، ہماری کامیابی پر دل سے مبارک باد دیتا ہے اور ہماری ناکامی کے وقت ہمیں حقیر سمجھنے کے بجائے حوصلہ دیتا ہے۔ ایسے لوگ زندگی میں بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ ان کی محبت کا احساس کبھی اچانک کسی یاد کے ذریعے تازہ ہو جاتا ہے اور انسان بے اختیار مسکرا اٹھتا ہے۔

کبھی کبھی مسکرانے کی وجہ کوئی خوش خبری نہیں ہوتی، بس یہ احساس ہوتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی ایسا بھی ہے جس کے دل میں ہمارے لیے جگہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔*جاری*

★ “نتیجۂ فکر:”
محمد انس رضا حاؔمی

Scan this QR code to read online:

QR Code