صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسکرانے کی وجوہات (5)
ادبیات

مسکرانے کی وجوہات (5)

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مسکرانے کی وجوہات
قسط پنجم: اپنی ہی غلطیوں پر ہنس لینا
انسان کی زندگی میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جنہیں یاد کرکے وہ دوسروں پر نہیں، خود اپنے اوپر ہنستا ہے۔ کبھی کسی کے سامنے بڑی سنجیدگی سے کوئی بات کہہ دی، اور بعد میں معلوم ہوا کہ بات ہی غلط تھی۔ کبھی کسی کام میں اتنا اعتماد دکھایا کہ ناکامی کا خیال تک نہ آیا، مگر نتیجہ بالکل الٹا نکلا، اور کبھی کسی معمولی سی غلط فہمی نے ایسی صورت اختیار کرلی کہ آدمی چاہ کر بھی اپنی ہنسی نہیں روک پاتا۔ اس وقت تو شرمندگی ہوتی ہے، لیکن کچھ عرصے بعد وہی واقعہ یاد آتا ہے تو چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔
بعض اوقات تو اپنی ہی باتیں انسان کو حیران کردیتی ہیں۔ چند سال پہلے کسی معاملے میں ہم نے جو رائے قائم کی تھی، آج اسی پر غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم بھی کتنے سادہ لوح تھے۔ جس بات کو کبھی بہت بڑا مسئلہ سمجھ بیٹھے تھے، وہ آج معمولی معلوم ہوتی ہے۔ جس ناکامی پر کئی دن افسوس کرتے رہے، وہی بعد میں کسی بہتر راستے کا سبب بن گئی اور جس غلطی کو چھپانے کے لیے طرح طرح کے بہانے بنائے تھے، آج اس کا ذکر چھڑ جائے تو خود ہی ہنسنے لگتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ صرف حالات نہیں بدلتے، انسان کی سوچ بھی بدلتی ہے، اور یہی تبدیلی بعض پرانی پریشانیوں کو مسکراہٹ میں بدل دیتی ہے۔
دراصل اپنی غلطیوں پر ہنس لینا بھی ایک خوبی ہے، بشرطیکہ اس سے کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ ہر بات کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لینے والا شخص چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی پریشان رہتا ہے۔ کوئی اس کی بات درست کردے تو اسے ناگواری ہوتی ہے، کوئی اس کی کمزوری بتا دے تو وہ اسے اپنی توہین سمجھ بیٹھتا ہے۔ اس کے برعکس جو اپنی لغزش تسلیم کر لیتا ہے، اپنی نادانی پر مسکرا سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر دوسروں کے سامنے اپنی غلطی مان لیتا ہے، وہ زندگی کو نسبتاً آسان بنا لیتا ہے۔ آخر ہم سب انسان ہیں، کبھی کوئی بات سمجھنے میں غلطی ہوتی ہے، کبھی فیصلہ درست نہیں نکلتا، اور کبھی اپنی ہی بات بعد میں عجیب معلوم ہونے لگتی ہے۔
مجھے تو ایسے لوگ اچھے لگتے ہیں جو ہر وقت خود کو درست ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ غلطی ہو جائے تو مان لیتے ہیں، کوئی ہلکا پھلکا مذاق کر دے تو برا ماننے کے بجائے مسکرا دیتے ہیں، اور کبھی اپنی ہی پرانی بات یاد کرکے ہنس بھی لیتے ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھنے میں ایک بے تکلفی ہوتی ہے، آدمی کو ہر لفظ بولنے سے پہلے دس مرتبہ سوچنا نہیں پڑتا کہ کہیں سامنے والا اسے اپنی توہین نہ سمجھ لے۔ البتہ اپنی غلطی پر ہنسنے اور خود کو حقیر سمجھنے میں فرق ہے۔ اپنی کمزوری پہچاننا اچھی بات ہے، لیکن اس کی وجہ سے اپنی قدر کھو دینا درست نہیں۔ غلطی انسان سے ہوتی ہے، اور سمجھ داری یہ ہے کہ اس سے کچھ سیکھ کر آگے بڑھا جائے۔
زندگی پہلے ہی اتنی سنجیدہ ہے کہ اگر ہم ہر چھوٹی بات کو دل پر لینے لگیں تو مسکرانے کے مواقع خود ہی کم کردیں گے۔ کبھی اپنی بھول پر ہنس لیجیے، کبھی اپنی بے تکلفی پر، اور کبھی اس بات پر کہ انسان بھی کیا کیا سوچتا رہتا ہے! ضروری نہیں کہ ہر واقعے میں کوئی بڑی حکمت تلاش کی جائے، بعض واقعات صرف مسکرانے کے لیے بھی کافی ہوتے ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
نتیجہ:
کبھی اپنی ہی نادانیوں پر مسکرا لینا چاہیے، آخر زندگی صرف دوسروں کی غلطیاں پکڑنے کا نام نہیں، کبھی اپنے آپ کو بھی ہلکے پھلکے انداز میں دیکھ لینا چاہیے.............جاری
نتیجۂ فکر:
محمد انس رضا حاؔمی

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
10
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 100
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

مسکرانے کی وجوہات (6)

مسکرانے کی وجوہات (4)

مسکرانے کی وجوہات (5) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسکرانے کی وجوہات (5)

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مسکرانے کی وجوہات
*قسط پنجم: اپنی ہی غلطیوں پر ہنس لینا*

انسان کی زندگی میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جنہیں یاد کرکے وہ دوسروں پر نہیں، خود اپنے اوپر ہنستا ہے۔ کبھی کسی کے سامنے بڑی سنجیدگی سے کوئی بات کہہ دی، اور بعد میں معلوم ہوا کہ بات ہی غلط تھی۔ کبھی کسی کام میں اتنا اعتماد دکھایا کہ ناکامی کا خیال تک نہ آیا، مگر نتیجہ بالکل الٹا نکلا، اور کبھی کسی معمولی سی غلط فہمی نے ایسی صورت اختیار کرلی کہ آدمی چاہ کر بھی اپنی ہنسی نہیں روک پاتا۔ اس وقت تو شرمندگی ہوتی ہے، لیکن کچھ عرصے بعد وہی واقعہ یاد آتا ہے تو چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔

بعض اوقات تو اپنی ہی باتیں انسان کو حیران کردیتی ہیں۔ چند سال پہلے کسی معاملے میں ہم نے جو رائے قائم کی تھی، آج اسی پر غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم بھی کتنے سادہ لوح تھے۔ جس بات کو کبھی بہت بڑا مسئلہ سمجھ بیٹھے تھے، وہ آج معمولی معلوم ہوتی ہے۔ جس ناکامی پر کئی دن افسوس کرتے رہے، وہی بعد میں کسی بہتر راستے کا سبب بن گئی اور جس غلطی کو چھپانے کے لیے طرح طرح کے بہانے بنائے تھے، آج اس کا ذکر چھڑ جائے تو خود ہی ہنسنے لگتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ صرف حالات نہیں بدلتے، انسان کی سوچ بھی بدلتی ہے، اور یہی تبدیلی بعض پرانی پریشانیوں کو مسکراہٹ میں بدل دیتی ہے۔

دراصل اپنی غلطیوں پر ہنس لینا بھی ایک خوبی ہے، بشرطیکہ اس سے کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ ہر بات کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لینے والا شخص چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی پریشان رہتا ہے۔ کوئی اس کی بات درست کردے تو اسے ناگواری ہوتی ہے، کوئی اس کی کمزوری بتا دے تو وہ اسے اپنی توہین سمجھ بیٹھتا ہے۔ اس کے برعکس جو اپنی لغزش تسلیم کر لیتا ہے، اپنی نادانی پر مسکرا سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر دوسروں کے سامنے اپنی غلطی مان لیتا ہے، وہ زندگی کو نسبتاً آسان بنا لیتا ہے۔ آخر ہم سب انسان ہیں، کبھی کوئی بات سمجھنے میں غلطی ہوتی ہے، کبھی فیصلہ درست نہیں نکلتا، اور کبھی اپنی ہی بات بعد میں عجیب معلوم ہونے لگتی ہے۔

مجھے تو ایسے لوگ اچھے لگتے ہیں جو ہر وقت خود کو درست ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ غلطی ہو جائے تو مان لیتے ہیں، کوئی ہلکا پھلکا مذاق کر دے تو برا ماننے کے بجائے مسکرا دیتے ہیں، اور کبھی اپنی ہی پرانی بات یاد کرکے ہنس بھی لیتے ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھنے میں ایک بے تکلفی ہوتی ہے، آدمی کو ہر لفظ بولنے سے پہلے دس مرتبہ سوچنا نہیں پڑتا کہ کہیں سامنے والا اسے اپنی توہین نہ سمجھ لے۔ البتہ اپنی غلطی پر ہنسنے اور خود کو حقیر سمجھنے میں فرق ہے۔ اپنی کمزوری پہچاننا اچھی بات ہے، لیکن اس کی وجہ سے اپنی قدر کھو دینا درست نہیں۔ غلطی انسان سے ہوتی ہے، اور سمجھ داری یہ ہے کہ اس سے کچھ سیکھ کر آگے بڑھا جائے۔

زندگی پہلے ہی اتنی سنجیدہ ہے کہ اگر ہم ہر چھوٹی بات کو دل پر لینے لگیں تو مسکرانے کے مواقع خود ہی کم کردیں گے۔ کبھی اپنی بھول پر ہنس لیجیے، کبھی اپنی بے تکلفی پر، اور کبھی اس بات پر کہ انسان بھی کیا کیا سوچتا رہتا ہے! ضروری نہیں کہ ہر واقعے میں کوئی بڑی حکمت تلاش کی جائے، بعض واقعات صرف مسکرانے کے لیے بھی کافی ہوتے ہیں۔

*نتیجہ:*
کبھی اپنی ہی نادانیوں پر مسکرا لینا چاہیے، آخر زندگی صرف دوسروں کی غلطیاں پکڑنے کا نام نہیں، کبھی اپنے آپ کو بھی ہلکے پھلکے انداز میں دیکھ لینا چاہیے………….*جاری*

★ “نتیجۂ فکر:”
محمد انس رضا حاؔمی

Scan this QR code to read online:

QR Code