صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسکرانے کی وجوہات (8)
ادبیات

مسکرانے کی وجوہات (8)

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مسکرانے کی وجوہات
قسط ہشتم: جب چھوٹی چھوٹی باتیں دل پر لگنے لگیں
بعض اوقات انسان کے پاس مسکرانے کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں، مگر وہ ایک ایسی بات کو دل سے نہیں نکال پاتا جس نے اسے پریشان کر رکھا ہوتا ہے۔ کسی نے بات کرتے ہوئے ذرا سا نظر انداز کردیا، کسی نے توقع کے مطابق جواب نہیں دیا، کسی کی گفتگو میں بے رخی محسوس ہوئی، یا کسی نے ایسی بات کہہ دی جو دل کو اچھی نہیں لگی۔ بات بظاہر معمولی ہوتی ہے، لیکن آدمی بار بار اسی کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ کبھی اپنے آپ سے سوال کرتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا، کبھی دوسرے کے رویّے کا مطلب نکالتا ہے، اور کبھی ایک ہی بات کو ذہن میں دہراتے دہراتے اپنی طبیعت بوجھل کرلیتا ہے۔ مگر یہ بالخصوص ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جن کے ساتھ واقعی بے ضرورت لوگ بے رخی ہی دکھائیں اور وقت ضرورت دیکھ کر مسکرائیں۔
یہ بھی زندگی کا ایک عجیب پہلو ہے کہ ہم کسی کی دس اچھی باتیں بھول جاتے ہیں، مگر اس کی ایک ناگوار بات دیر تک یاد رکھتے ہیں۔ جو شخص ہمیشہ اچھے انداز میں پیش آتا رہا، اگر کسی دن مصروفیت یا پریشانی کے سبب ٹھیک سے بات نہ کرسکا تو ہم اس کے پورے رویّے کو اسی ایک دن کے پیمانے سے ناپنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ ممکن ہے اس کے اپنے مسائل ہوں، طبیعت ٹھیک نہ ہو، یا اس وقت وہ کسی ایسی فکر میں مبتلا ہو جس کا ہمیں علم ہی نہ ہو۔ ہر بے رخی کے پیچھے نفرت نہیں ہوتی اور ہر خاموشی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہم کسی کے لیے اہم نہیں رہے۔
اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان دوسروں کے ہر غلط رویّے کو برداشت کرتا رہے یا اپنی تکلیف کو بالکل نظر انداز کردے۔ اگر کوئی بار بار دل آزاری کرے تو اس بات کو سمجھنا اور مناسب حد قائم کرنا ضروری ہے۔ لیکن ہر چھوٹی بات کو دل میں جگہ دے دینا بھی اپنے ساتھ زیادتی ہے۔ ہر جملے کا مطلب تلاش کرنا، ہر خاموشی کی وجہ سوچنا اور ہر بدلے ہوئے رویّے کو اپنی ذات سے جوڑ لینا انسان کو اندر ہی اندر تھکا دیتا ہے۔
کبھی یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس بات نے ہمیں آج اتنا پریشان کر رکھا ہے، کیا وہ چند دن بعد بھی اتنی ہی اہم ہوگی؟ کیا اس پر بار بار غور کرنے سے کوئی حل نکل رہا ہے؟ یا ہم صرف اپنا سکون کھو رہے ہیں؟ اگر بات کرنے سے غلط فہمی دور ہوسکتی ہے تو بات کرلینی چاہیے، اور اگر معاملہ ایسا ہے جسے وقت کے ساتھ چھوڑ دینا بہتر ہے تو اسے چھوڑنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ہر بات کا جواب دینا، ہر رویّے کی وضاحت مانگنا اور ہر شخص سے اپنی توقعات پوری کروانا ممکن نہیں۔
زندگی میں بہت سی خوشیاں ایسی ہیں جو کسی بڑی پریشانی کے ختم ہونے کی منتظر نہیں ہوتیں وہ ہمارے آس پاس موجود ہوتی ہیں، مگر ہم اپنی توجہ ایک ہی بات پر مرکوز کرکے انہیں محسوس نہیں کرپاتے۔ گھر والوں کے ساتھ بیٹھنا، کسی دوست سے اچھی گفتگو کرنا، اپنے کام میں دل لگانا یا کسی پسندیدہ مشغلے کے لیے وقت نکالنا، یہ سب چیزیں دل کو ہلکا کرسکتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر مسئلہ حل ہونے کے بعد ہی انسان مسکرائے، بعض اوقات زندگی کی دوسری اچھی باتوں پر توجہ دینا بھی پریشانی کا بوجھ کم کردیتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ہر بات کو دل پر لے کر بیٹھ جائیں گے تو دل میں خوشیوں کے لیے جگہ کہاں بچے گی؟ کچھ باتوں کو سمجھنا ضروری ہے، کچھ کو حل کرنا، اور کچھ کو وقت کے حوالے کردینا چاہیے کیونکہ سکون صرف مسائل کے ختم ہونے سے نہیں، بعض باتوں کو ان کی اصل اہمیت کے مطابق دیکھنے سے بھی ملتا ہے..........جاری
نتیجۂ فکر:
محمد انس رضا حاؔمی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
12
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 100
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

مسکرانے کی وجوہات (9)

مسکرانے کی وجوہات (7)

مسکرانے کی وجوہات (8) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسکرانے کی وجوہات (8)

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مسکرانے کی وجوہات
*قسط ہشتم: جب چھوٹی چھوٹی باتیں دل پر لگنے لگیں*

بعض اوقات انسان کے پاس مسکرانے کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں، مگر وہ ایک ایسی بات کو دل سے نہیں نکال پاتا جس نے اسے پریشان کر رکھا ہوتا ہے۔ کسی نے بات کرتے ہوئے ذرا سا نظر انداز کردیا، کسی نے توقع کے مطابق جواب نہیں دیا، کسی کی گفتگو میں بے رخی محسوس ہوئی، یا کسی نے ایسی بات کہہ دی جو دل کو اچھی نہیں لگی۔ بات بظاہر معمولی ہوتی ہے، لیکن آدمی بار بار اسی کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ کبھی اپنے آپ سے سوال کرتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا، کبھی دوسرے کے رویّے کا مطلب نکالتا ہے، اور کبھی ایک ہی بات کو ذہن میں دہراتے دہراتے اپنی طبیعت بوجھل کرلیتا ہے۔ مگر یہ بالخصوص ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جن کے ساتھ واقعی بے ضرورت لوگ بے رخی ہی دکھائیں اور وقت ضرورت دیکھ کر مسکرائیں۔

یہ بھی زندگی کا ایک عجیب پہلو ہے کہ ہم کسی کی دس اچھی باتیں بھول جاتے ہیں، مگر اس کی ایک ناگوار بات دیر تک یاد رکھتے ہیں۔ جو شخص ہمیشہ اچھے انداز میں پیش آتا رہا، اگر کسی دن مصروفیت یا پریشانی کے سبب ٹھیک سے بات نہ کرسکا تو ہم اس کے پورے رویّے کو اسی ایک دن کے پیمانے سے ناپنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ ممکن ہے اس کے اپنے مسائل ہوں، طبیعت ٹھیک نہ ہو، یا اس وقت وہ کسی ایسی فکر میں مبتلا ہو جس کا ہمیں علم ہی نہ ہو۔ ہر بے رخی کے پیچھے نفرت نہیں ہوتی اور ہر خاموشی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہم کسی کے لیے اہم نہیں رہے۔

اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان دوسروں کے ہر غلط رویّے کو برداشت کرتا رہے یا اپنی تکلیف کو بالکل نظر انداز کردے۔ اگر کوئی بار بار دل آزاری کرے تو اس بات کو سمجھنا اور مناسب حد قائم کرنا ضروری ہے۔ لیکن ہر چھوٹی بات کو دل میں جگہ دے دینا بھی اپنے ساتھ زیادتی ہے۔ ہر جملے کا مطلب تلاش کرنا، ہر خاموشی کی وجہ سوچنا اور ہر بدلے ہوئے رویّے کو اپنی ذات سے جوڑ لینا انسان کو اندر ہی اندر تھکا دیتا ہے۔

کبھی یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس بات نے ہمیں آج اتنا پریشان کر رکھا ہے، کیا وہ چند دن بعد بھی اتنی ہی اہم ہوگی؟ کیا اس پر بار بار غور کرنے سے کوئی حل نکل رہا ہے؟ یا ہم صرف اپنا سکون کھو رہے ہیں؟ اگر بات کرنے سے غلط فہمی دور ہوسکتی ہے تو بات کرلینی چاہیے، اور اگر معاملہ ایسا ہے جسے وقت کے ساتھ چھوڑ دینا بہتر ہے تو اسے چھوڑنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ہر بات کا جواب دینا، ہر رویّے کی وضاحت مانگنا اور ہر شخص سے اپنی توقعات پوری کروانا ممکن نہیں۔

زندگی میں بہت سی خوشیاں ایسی ہیں جو کسی بڑی پریشانی کے ختم ہونے کی منتظر نہیں ہوتیں وہ ہمارے آس پاس موجود ہوتی ہیں، مگر ہم اپنی توجہ ایک ہی بات پر مرکوز کرکے انہیں محسوس نہیں کرپاتے۔ گھر والوں کے ساتھ بیٹھنا، کسی دوست سے اچھی گفتگو کرنا، اپنے کام میں دل لگانا یا کسی پسندیدہ مشغلے کے لیے وقت نکالنا، یہ سب چیزیں دل کو ہلکا کرسکتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر مسئلہ حل ہونے کے بعد ہی انسان مسکرائے، بعض اوقات زندگی کی دوسری اچھی باتوں پر توجہ دینا بھی پریشانی کا بوجھ کم کردیتا ہے۔

ہر بات کو دل پر لے کر بیٹھ جائیں گے تو دل میں خوشیوں کے لیے جگہ کہاں بچے گی؟ کچھ باتوں کو سمجھنا ضروری ہے، کچھ کو حل کرنا، اور کچھ کو وقت کے حوالے کردینا چاہیے کیونکہ سکون صرف مسائل کے ختم ہونے سے نہیں، بعض باتوں کو ان کی اصل اہمیت کے مطابق دیکھنے سے بھی ملتا ہے……….*جاری*

★ “نتیجۂ فکر:”
محمد انس رضا حاؔمی

Scan this QR code to read online:

QR Code