صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسکرانے کی وجوہات (آخری)
ادبیات

مسکرانے کی وجوہات (آخری)

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مسکرانے کی وجوہات
قسط دہم: زندگی ابھی باقی ہے!
کبھی انسان کو تنہائی میں بیٹھ کر اپنی زندگی پر غور کرنا چاہیے۔ کیا واقعی اس کے پاس خوش ہونے کی کوئی وجہ نہیں ؟ یا وہ اپنی پریشانیوں میں اس قدر الجھ گیا ہے کہ اسے کوئی خوشی دکھائی ہی نہیں دیتی؟ کیا زندگی میں سب کچھ ختم ہوچکا ہے؟ یا ابھی بہت کچھ ایسا باقی ہے جس کے لیے دل میں امید رکھی جاسکتی ہے؟ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ناکامی ہمیں اپنی ساری کامیابیاں بھلا دیتی ہے، ایک شخص کی بے رخی ہمیں مسکراہٹ سے دور کر دیتی ہے، اور ایک خواہش پوری نہ ہونے پر ہم ان نعمتوں کی قدر بھی کھو بیٹھتے ہیں جو پہلے سے ہمارے پاس موجود ہوتی ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ زندگی کبھی مکمل طور پر ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی۔ کچھ لوگ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، کچھ خواب ناکامل رہ جاتے ہیں، کچھ محنتوں کا نتیجہ توقع کے مطابق نہیں نکلتا، اور بعض اوقات انسان کو وہ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے جس کا اس نے کبھی تصور نہیں کیا ہوتا۔ لیکن ان سب کے باوجود زندگی رکتی نہیں۔ صبح ہوتی ہے، دن گزرتا ہے، لوگ اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں، اور ہمارے سامنے پھر ایک نیا موقع آ کھڑا ہوتا ہے۔ جو کل نہیں ہوسکا، ممکن ہے آج ہوجائے، جو بات آج سمجھ نہیں آرہی شاید کچھ وقت بعد سمجھ میں آجائے اور جو راستہ بند دکھائی دیتا ہے، ممکن ہے کوشش کے بعد کوئی دوسرا راستہ نکل آئے۔
ہم اکثر خوش ہونے کے لیے کسی بڑے موقع کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ سوچتے ہیں کہ جب یہ کام مکمل ہوجائے گا تو خوش ہوں گے، جب حالات بہتر ہوں گے تو سکون ملے گا، جب ہماری تمام خواہشیں پوری ہوجائیں گی تو دل کھول کر مسکرائیں گے۔ لیکن خواہشوں کا سلسلہ کہاں ختم ہوتا ہے؟ ایک منزل ملتی ہے تو دوسری سامنے آجاتی ہے، ایک پریشانی دور ہوتی ہے تو کوئی دوسری ذمہ داری آ کھڑی ہوتی ہے۔ اگر ہم نے اپنی مسکراہٹ کو زندگی کے ہر مسئلے کے حل ہونے سے وابستہ کردیا، تو شاید خوش ہونے کے لیے کبھی فرصت ہی نہ ملے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے غم بھلا دے، اپنی محرومیوں کو محسوس نہ کرے یا ہر حال میں خوش رہنے کا دکھاوا کرے۔ دکھ ہو تو دکھ محسوس ہونا فطری ہے، دل ٹوٹے تو اسے سنبھلنے میں وقت لگتا ہے، اور کسی عزیز کی جدائی ہو تو اس کی کمی فوراً پوری نہیں ہوسکتی۔ لیکن غم کو زندگی کا ایک حصہ سمجھنا چاہیے، پوری زندگی نہیں۔ آج دل اداس ہے تو ضروری نہیں کہ ہمیشہ ایسا ہی رہے۔ آج راستہ مشکل ہے تو ضروری نہیں کہ منزل کبھی نہ ملے۔ انسان کو اپنے آنسوؤں کا بھی حق دینا چاہیے اور اپنی مسکراہٹ کا بھی۔
ذرا ان لوگوں کے بارے میں سوچیے جن کی زندگی میں ہماری موجودگی کسی خوشی کا سبب بنتی ہے۔ گھر والے، اساتذہ اور وہ تمام لوگ جنہیں ہمارے اچھے رویّے سے سکون ملتا ہے۔ ہماری ایک مسکراہٹ کسی پریشان شخص کی تھکن کم کرسکتی ہے، ہماری محبت بھری گفتگو کسی کا بوجھ ہلکا کرسکتی ہے، اور ہمارا حوصلہ افزا جملہ کسی مایوس انسان کو دوبارہ کوشش کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔ اس لیے مسکرانا صرف اپنی خوشی کا اظہار نہیں، کبھی یہ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر، انسان کو اپنے رب کی عطا کردہ نعمتوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ ہر دن ہماری مرضی کے مطابق نہیں گزرتا، مگر ہر دن میں شکر کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے۔ کبھی صحت، کبھی اپنوں کا ساتھ، کبھی علم حاصل کرنے کا موقع، کبھی کسی ضرورت کا پورا ہوجانا، اور کبھی محض ایک مشکل دن کے گزر جانے پر دل کا مطمئن ہوجانا۔ جو شخص نعمتوں کو پہچاننا سیکھ لیتا ہے، وہ محرومیوں کے باوجود شکر کے اسباب تلاش کرلیتا ہے۔ اس کے مسائل بھی ہوتے ہیں، خواہشیں بھی، اور ادھورے خواب بھی، لیکن! وہ ان سب کے درمیان زندگی کی خوب صورتی کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کرتا۔
آخر میں بس اتنی سی بات ہے کہ زندگی کو مسکرانے کے قابل بنانے کے لیے ہر بار زندگی کا بدل جانا ضروری نہیں، کبھی اپنا اندازِ نظر بدلنا بھی کافی ہوتا ہے۔ ہر خواہش پوری نہیں ہوگی، ہر شخص ہمارے مطابق نہیں چلے گا، ہر محنت کا نتیجہ فوراً نہیں ملے گا، اور ہر دن خوش گوار بھی نہیں ہوگا، لیکن ان سب حقیقتوں کے باوجود ہمارے پاس کوشش کرنے، محبت بانٹنے، شکر ادا کرنے اور نئے سرے سے اٹھ کھڑے ہونے کے مواقع موجود رہیں گے۔
اس لیے مسکرائیے!
اس لیے نہیں کہ آپ کی زندگی میں کوئی پریشانی نہیں، بلکہ اس لیے کہ پریشانیوں کے باوجود زندگی باقی ہے۔
اس لیے نہیں کہ آپ کو سب کچھ مل گیا ہے، بلکہ اس لیے کہ جو کچھ ملا ہے، اس کی قدر کرنا ابھی آپ کے اختیار میں ہے۔
اور اس لیے بھی کہ زندگی کے اختتام پر شاید ہمیں ان تمام دنوں کا افسوس نہ ہو جن میں ہم پریشان رہے، جتنا ان لمحوں کا ہوگا جن میں مسکرانے کی وجہ موجود تھی، مگر ہم نے اپنی فکر میں انہیں بھی گنوا دیا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ ہم سبھی کو ہر پریشانی سے محفوظ فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم۔
نتیجۂ فکر:
محمد انس رضا حاؔمی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
12
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 100
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

مسکرانے کی وجوہات (9)

مسکرانے کی وجوہات (آخری) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسکرانے کی وجوہات (آخری)

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مسکرانے کی وجوہات
*قسط دہم: زندگی ابھی باقی ہے!*

کبھی انسان کو تنہائی میں بیٹھ کر اپنی زندگی پر غور کرنا چاہیے۔ کیا واقعی اس کے پاس خوش ہونے کی کوئی وجہ نہیں ؟ یا وہ اپنی پریشانیوں میں اس قدر الجھ گیا ہے کہ اسے کوئی خوشی دکھائی ہی نہیں دیتی؟ کیا زندگی میں سب کچھ ختم ہوچکا ہے؟ یا ابھی بہت کچھ ایسا باقی ہے جس کے لیے دل میں امید رکھی جاسکتی ہے؟ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ناکامی ہمیں اپنی ساری کامیابیاں بھلا دیتی ہے، ایک شخص کی بے رخی ہمیں مسکراہٹ سے دور کر دیتی ہے، اور ایک خواہش پوری نہ ہونے پر ہم ان نعمتوں کی قدر بھی کھو بیٹھتے ہیں جو پہلے سے ہمارے پاس موجود ہوتی ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ زندگی کبھی مکمل طور پر ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی۔ کچھ لوگ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، کچھ خواب ناکامل رہ جاتے ہیں، کچھ محنتوں کا نتیجہ توقع کے مطابق نہیں نکلتا، اور بعض اوقات انسان کو وہ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے جس کا اس نے کبھی تصور نہیں کیا ہوتا۔ لیکن ان سب کے باوجود زندگی رکتی نہیں۔ صبح ہوتی ہے، دن گزرتا ہے، لوگ اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں، اور ہمارے سامنے پھر ایک نیا موقع آ کھڑا ہوتا ہے۔ جو کل نہیں ہوسکا، ممکن ہے آج ہوجائے، جو بات آج سمجھ نہیں آرہی شاید کچھ وقت بعد سمجھ میں آجائے اور جو راستہ بند دکھائی دیتا ہے، ممکن ہے کوشش کے بعد کوئی دوسرا راستہ نکل آئے۔

ہم اکثر خوش ہونے کے لیے کسی بڑے موقع کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ سوچتے ہیں کہ جب یہ کام مکمل ہوجائے گا تو خوش ہوں گے، جب حالات بہتر ہوں گے تو سکون ملے گا، جب ہماری تمام خواہشیں پوری ہوجائیں گی تو دل کھول کر مسکرائیں گے۔ لیکن خواہشوں کا سلسلہ کہاں ختم ہوتا ہے؟ ایک منزل ملتی ہے تو دوسری سامنے آجاتی ہے، ایک پریشانی دور ہوتی ہے تو کوئی دوسری ذمہ داری آ کھڑی ہوتی ہے۔ اگر ہم نے اپنی مسکراہٹ کو زندگی کے ہر مسئلے کے حل ہونے سے وابستہ کردیا، تو شاید خوش ہونے کے لیے کبھی فرصت ہی نہ ملے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے غم بھلا دے، اپنی محرومیوں کو محسوس نہ کرے یا ہر حال میں خوش رہنے کا دکھاوا کرے۔ دکھ ہو تو دکھ محسوس ہونا فطری ہے، دل ٹوٹے تو اسے سنبھلنے میں وقت لگتا ہے، اور کسی عزیز کی جدائی ہو تو اس کی کمی فوراً پوری نہیں ہوسکتی۔ لیکن غم کو زندگی کا ایک حصہ سمجھنا چاہیے، پوری زندگی نہیں۔ آج دل اداس ہے تو ضروری نہیں کہ ہمیشہ ایسا ہی رہے۔ آج راستہ مشکل ہے تو ضروری نہیں کہ منزل کبھی نہ ملے۔ انسان کو اپنے آنسوؤں کا بھی حق دینا چاہیے اور اپنی مسکراہٹ کا بھی۔

ذرا ان لوگوں کے بارے میں سوچیے جن کی زندگی میں ہماری موجودگی کسی خوشی کا سبب بنتی ہے۔ گھر والے، اساتذہ اور وہ تمام لوگ جنہیں ہمارے اچھے رویّے سے سکون ملتا ہے۔ ہماری ایک مسکراہٹ کسی پریشان شخص کی تھکن کم کرسکتی ہے، ہماری محبت بھری گفتگو کسی کا بوجھ ہلکا کرسکتی ہے، اور ہمارا حوصلہ افزا جملہ کسی مایوس انسان کو دوبارہ کوشش کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔ اس لیے مسکرانا صرف اپنی خوشی کا اظہار نہیں، کبھی یہ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔

اور سب سے بڑھ کر، انسان کو اپنے رب کی عطا کردہ نعمتوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ ہر دن ہماری مرضی کے مطابق نہیں گزرتا، مگر ہر دن میں شکر کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے۔ کبھی صحت، کبھی اپنوں کا ساتھ، کبھی علم حاصل کرنے کا موقع، کبھی کسی ضرورت کا پورا ہوجانا، اور کبھی محض ایک مشکل دن کے گزر جانے پر دل کا مطمئن ہوجانا۔ جو شخص نعمتوں کو پہچاننا سیکھ لیتا ہے، وہ محرومیوں کے باوجود شکر کے اسباب تلاش کرلیتا ہے۔ اس کے مسائل بھی ہوتے ہیں، خواہشیں بھی، اور ادھورے خواب بھی، لیکن! وہ ان سب کے درمیان زندگی کی خوب صورتی کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کرتا۔

آخر میں بس اتنی سی بات ہے کہ زندگی کو مسکرانے کے قابل بنانے کے لیے ہر بار زندگی کا بدل جانا ضروری نہیں، کبھی اپنا اندازِ نظر بدلنا بھی کافی ہوتا ہے۔ ہر خواہش پوری نہیں ہوگی، ہر شخص ہمارے مطابق نہیں چلے گا، ہر محنت کا نتیجہ فوراً نہیں ملے گا، اور ہر دن خوش گوار بھی نہیں ہوگا، لیکن ان سب حقیقتوں کے باوجود ہمارے پاس کوشش کرنے، محبت بانٹنے، شکر ادا کرنے اور نئے سرے سے اٹھ کھڑے ہونے کے مواقع موجود رہیں گے۔

*اس لیے مسکرائیے!*
اس لیے نہیں کہ آپ کی زندگی میں کوئی پریشانی نہیں، بلکہ اس لیے کہ پریشانیوں کے باوجود زندگی باقی ہے۔
اس لیے نہیں کہ آپ کو سب کچھ مل گیا ہے، بلکہ اس لیے کہ جو کچھ ملا ہے، اس کی قدر کرنا ابھی آپ کے اختیار میں ہے۔
اور اس لیے بھی کہ زندگی کے اختتام پر شاید ہمیں ان تمام دنوں کا افسوس نہ ہو جن میں ہم پریشان رہے، جتنا ان لمحوں کا ہوگا جن میں مسکرانے کی وجہ موجود تھی، مگر ہم نے اپنی فکر میں انہیں بھی گنوا دیا۔

اللہ تعالیٰ ہم سبھی کو ہر پریشانی سے محفوظ فرمائے، “آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم۔”

★ “نتیجۂ فکر:”
محمد انس رضا حاؔمی

Scan this QR code to read online:

QR Code