صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
باہمی اختلاف اور تفرقہ
ادبیات

باہمی اختلاف اور تفرقہ

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

باہمی اختلاف اور تفرقہ
امتِ مسلمہ کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک باہمی انتشار اور تفرقہ ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا، ان کے درمیان محبت و الفت پیدا کی اور انہیں ایک مضبوط جماعت کی صورت میں رہنے کی تعلیم دی۔ لیکن جب مسلمان باہمی دشمنی، تعصب، بدگمانی اور غیر ضروری نزاع میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو ان کی اجتماعی قوت کمزور ہوجاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں واضح طور پر حکم ارشاد فرماتا ہے:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
یہ آیتِ کریمہ امت کے لیے اتحاد کا بنیادی اصول بیان کرتی ہے کہ مسلمانوں کی اصل وابستگی اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے دین سے ہونی چاہیے۔
اتحاد کا مطلب کیا ہے ؟
اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مسئلے میں تمام مسلمان ایک ہی رائے اختیار کریں۔ فقہی اور فروعی مسائل میں اہلِ علم کے درمیان اختلافِ رائے ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ ائمۂ اربعہ رحمہم اللہ تعالیٰ نے مختلف فقہی مسائل میں اجتہاد فرمایا، مگر ان کے درمیان باہمی احترام اور دینی اخوت قائم رہی اور یہ اختلاف ہی نہیں تھا، اس سے امت کی ترقی کے راہ ہموار ہوتے گئے۔
اس لیے اختلافِ رائے اور تفرقہ و دشمنی میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔
اختلاف اگر علمی اصول، ادب اور اخلاص کے ساتھ ہو تو وہ علمی وسعت کا ذریعہ ہو سکتا ہے، لیکن اختلاف کو نفرت، تکفیر، تحقیر اور باہمی دشمنی میں تبدیل کردینا امت کے لیے نقصان دہ ہے۔
قرآنِ مجید کی تنبیہ
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ [الانفال-٤٦]
اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں بے اتفاقی نہ کرو ورنہ تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا (قوت) اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بیشک اللہ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اس آیتِ مبارکہ میں باہمی نزاع کے خطرناک نتائج بیان کیے گئے ہیں: کمزوری اور قوت کا زائل ہوجانا۔
مسلمان ایک جسم کی مانند
حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی باہمی محبت اور ہمدردی کو ایک نہایت خوبصورت مثال سے سمجھایا:
مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى [صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ]
مسلمانوں کی ایک دوسرے سے محبت، ایک دوسرے کے ساتھ رحم دلی اور ایک دوسرے کی طرف التفات و تعاون کی مثال ایک جسم کی طرح ہے، جب اس کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو باقی سارا جسم بیداری اور بخار کے ذریعے سے (سب اعضاء کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر) اس کا ساتھ دیتا ہے۔"
اگر مسلمان ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں اور ایک دوسرے کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھیں تو امت کی اجتماعی قوت بہت بڑھ سکتی ہے۔
محبتِ رسول ﷺ، اتحاد کی بنیاد
اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک امت کا سب سے مضبوط تعلق محبتِ رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے۔ ہمارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہمیں اپنی جان، اپنے اہل و عیال اور تمام دنیا سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔
لہٰذا مسلمانوں کے دلوں کو جوڑنے والی سب سے بڑی نسبت نسبتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم: اتحاد کی علمی نظیر
مہاجرین اور انصار رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے درمیان جو اخوت قائم ہوئی، وہ تاریخ کا بے مثال واقعہ ہے۔
یہ ایثار اور محبت ہی وہ جذبہ تھا جس نے ایک منتشر قوم کو ایک مضبوط امت بنا دیا۔
آج ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟
آج امتِ مسلمہ کو ضرورت ہے کہ مسلمان باہمی احترام، حسنِ ظن، خیر خواہی اور تعاون کو فروغ دیں۔ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے دائرۂ علم میں رہے، معتبر علماء سے رہنمائی حاصل کرے اور ایسے اختلافات سے بچے جو مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کرتے ہیں۔
ساتھ ہی یہ سب سے زیادہ ضروری ہے کہ عقائدِ اہلِ سنت و جماعت اور ضروریاتِ دین میں مضبوطی کے ساتھ قائم رہا جائے۔ اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ حق و باطل میں فرق ختم کردیا جائے؛ بلکہ صحیح اتحاد یہ ہے کہ مسلمان حق پر قائم رہتے ہوئے باہمی اخوت، انصاف اور حسنِ اخلاق کو برقرار رکھیں۔
اتحاد ہی قوت ہے
ایک تنہا فرد محدود طاقت رکھتا ہے، لیکن جب نیک مقصد کے لیے بہت سے لوگ متحد ہوجائیں تو ان کی قوت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہی اصول قوموں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
امتِ مسلمہ کو اپنے اختلافات کو حکمت سے سنبھالنا، مشترکہ دینی و معاشرتی مقاصد کے لیے تعاون کرنا اور نئی نسل کو نفرت کے بجائے علم، ادب اور اخوت کا سبق دینا ہوگا۔
اگر مسلمان ایک دوسرے کے دست و بازو بن جائیں تو بہت سی کمزوریاں قوت میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔
اسی لیے امت کی ترقی کا اگلا اہم ستون علم کے بعد اتحاد، اور اتحاد کے ساتھ مضبوط اخلاق و کردار ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اگلے حصے میں ہم اسی بنیادی سوال پر گفتگو کریں گے:
”اخلاق و کردار امتِ مسلمہ کی ترقی میں کیا کردار ادا کرتے ہیں ؟“........جاری
از:
سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
حاؔمی برکاتی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
59
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

اخلاق و کردار۔ امت کی اصل طاقت

امتِ مسلمہ کے زوال کا آغاز

باہمی اختلاف اور تفرقہ - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

باہمی اختلاف اور تفرقہ

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

*باہمی اختلاف اور تفرقہ*

امتِ مسلمہ کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک باہمی انتشار اور تفرقہ ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا، ان کے درمیان محبت و الفت پیدا کی اور انہیں ایک مضبوط جماعت کی صورت میں رہنے کی تعلیم دی۔ لیکن جب مسلمان باہمی دشمنی، تعصب، بدگمانی اور غیر ضروری نزاع میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو ان کی اجتماعی قوت کمزور ہوجاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں واضح طور پر حکم ارشاد فرماتا ہے:
“وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا”
یہ آیتِ کریمہ امت کے لیے اتحاد کا بنیادی اصول بیان کرتی ہے کہ مسلمانوں کی اصل وابستگی اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے دین سے ہونی چاہیے۔

*اتحاد کا مطلب کیا ہے ؟*
اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مسئلے میں تمام مسلمان ایک ہی رائے اختیار کریں۔ فقہی اور فروعی مسائل میں اہلِ علم کے درمیان اختلافِ رائے ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ ائمۂ اربعہ رحمہم اللہ تعالیٰ نے مختلف فقہی مسائل میں اجتہاد فرمایا، مگر ان کے درمیان باہمی احترام اور دینی اخوت قائم رہی اور یہ اختلاف ہی نہیں تھا، اس سے امت کی ترقی کے راہ ہموار ہوتے گئے۔
اس لیے اختلافِ رائے اور تفرقہ و دشمنی میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔
اختلاف اگر علمی اصول، ادب اور اخلاص کے ساتھ ہو تو وہ علمی وسعت کا ذریعہ ہو سکتا ہے، لیکن اختلاف کو نفرت، تکفیر، تحقیر اور باہمی دشمنی میں تبدیل کردینا امت کے لیے نقصان دہ ہے۔

*قرآنِ مجید کی تنبیہ*
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
“وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ” [الانفال-٤٦]
اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں بے اتفاقی نہ کرو ورنہ تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا (قوت) اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بیشک اللہ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اس آیتِ مبارکہ میں باہمی نزاع کے خطرناک نتائج بیان کیے گئے ہیں: کمزوری اور قوت کا زائل ہوجانا۔

*مسلمان ایک جسم کی مانند*
حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی باہمی محبت اور ہمدردی کو ایک نہایت خوبصورت مثال سے سمجھایا:
“مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى” [صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ]
مسلمانوں کی ایک دوسرے سے محبت، ایک دوسرے کے ساتھ رحم دلی اور ایک دوسرے کی طرف التفات و تعاون کی مثال ایک جسم کی طرح ہے، جب اس کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو باقی سارا جسم بیداری اور بخار کے ذریعے سے (سب اعضاء کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر) اس کا ساتھ دیتا ہے۔”
اگر مسلمان ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں اور ایک دوسرے کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھیں تو امت کی اجتماعی قوت بہت بڑھ سکتی ہے۔

*محبتِ رسول ﷺ، اتحاد کی بنیاد*
اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک امت کا سب سے مضبوط تعلق محبتِ رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے۔ ہمارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہمیں اپنی جان، اپنے اہل و عیال اور تمام دنیا سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔
لہٰذا مسلمانوں کے دلوں کو جوڑنے والی سب سے بڑی نسبت نسبتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے۔

*صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم: اتحاد کی علمی نظیر*
مہاجرین اور انصار رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے درمیان جو اخوت قائم ہوئی، وہ تاریخ کا بے مثال واقعہ ہے۔
یہ ایثار اور محبت ہی وہ جذبہ تھا جس نے ایک منتشر قوم کو ایک مضبوط امت بنا دیا۔

*آج ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟*
آج امتِ مسلمہ کو ضرورت ہے کہ مسلمان باہمی احترام، حسنِ ظن، خیر خواہی اور تعاون کو فروغ دیں۔ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے دائرۂ علم میں رہے، معتبر علماء سے رہنمائی حاصل کرے اور ایسے اختلافات سے بچے جو مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کرتے ہیں۔

ساتھ ہی یہ سب سے زیادہ ضروری ہے کہ عقائدِ اہلِ سنت و جماعت اور ضروریاتِ دین میں مضبوطی کے ساتھ قائم رہا جائے۔ اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ حق و باطل میں فرق ختم کردیا جائے؛ بلکہ صحیح اتحاد یہ ہے کہ مسلمان حق پر قائم رہتے ہوئے باہمی اخوت، انصاف اور حسنِ اخلاق کو برقرار رکھیں۔

*اتحاد ہی قوت ہے*
ایک تنہا فرد محدود طاقت رکھتا ہے، لیکن جب نیک مقصد کے لیے بہت سے لوگ متحد ہوجائیں تو ان کی قوت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہی اصول قوموں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
امتِ مسلمہ کو اپنے اختلافات کو حکمت سے سنبھالنا، مشترکہ دینی و معاشرتی مقاصد کے لیے تعاون کرنا اور نئی نسل کو نفرت کے بجائے علم، ادب اور اخوت کا سبق دینا ہوگا۔

اگر مسلمان ایک دوسرے کے دست و بازو بن جائیں تو بہت سی کمزوریاں قوت میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔
اسی لیے امت کی ترقی کا اگلا اہم ستون علم کے بعد اتحاد، اور اتحاد کے ساتھ مضبوط اخلاق و کردار ہے۔

اگلے حصے میں ہم اسی بنیادی سوال پر گفتگو کریں گے:
”اخلاق و کردار امتِ مسلمہ کی ترقی میں کیا کردار ادا کرتے ہیں ؟“……..جاری

★ “از:”
سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
حاؔمی برکاتی

Scan this QR code to read online:

QR Code