صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسکرانے کی وجوہات (3)
ادبیات

مسکرانے کی وجوہات (3)

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مسکرانے کی وجوہات
قسط سوم: بچپن کی یادیں
بعض اوقات آدمی تنہا بیٹھا ہوتا ہے، نہ کوئی اس سے بات کر رہا ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی خاص بات پیشِ نظر ہوتی ہے، لیکن اچانک اس کے لبوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ وجہ پوچھی جائے تو شاید وہ خود بھی فوراً نہ بتا سکے، مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ذہن اسے ماضی کی کسی گلی میں لے گیا ہوتا ہے، جہاں بچپن کی کوئی شرارت یا کسی بزرگ کی شفقت بھری بات اس کی منتظر ہوتی ہے۔
بچپن بھی کیا خوب زمانہ تھا! چند روپے مل جائیں تو خوشی کا ٹھکانہ نہ رہے، دوست کے ساتھ کھیلنے کا موقع مل جائے تو دن بن جائے، اور کسی معمولی سی بات پر ناراضی ہو جائے تو یوں محسوس ہو جیسے بہت بڑا نقصان ہوگیا ہو۔ آج انہیں باتوں کو یاد کرکے ہنسی آتی ہے کہ ہم بھی کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش اور اداس ہو جایا کرتے تھے۔ مگر شاید اسی میں اس زمانے کی خوب صورتی تھی کہ خوش ہونے کے لیے بہت کچھ درکار نہیں ہوتا تھا۔
پھر وہ دوست بھی یاد آتے ہیں جن کے ساتھ کبھی روز ملاقات ہوتی تھی، مگر اب مدتوں بات نہیں ہوتی۔ وہی دوست جن کے ساتھ معمولی سی شرارت بھی ایک یادگار واقعہ بن جاتی تھی۔ آج ان کا نام سن کر بھی چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، لوگ اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہو جاتے ہیں، مگر بعض یادیں ایسی ہوتی ہیں جن پر وقت کی گرد نہیں جمتی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
شاید بچپن کی یادیں اس لیے مسکراہٹ لے آتی ہیں کہ ان میں ہم اپنی زندگی کا وہ زمانہ دیکھتے ہیں جب خوشیاں چھوٹی تھیں، مگر دل انہیں محسوس کرنے کے لیے بہت بڑا تھا۔۔۔۔۔۔جاری
از:
محمد انس رضا حاؔمی

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
12
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 100
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

مسکرانے کی وجوہات (4)

حسد اور اس کا ثمر

مسکرانے کی وجوہات (3) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسکرانے کی وجوہات (3)

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مسکرانے کی وجوہات
*قسط سوم: بچپن کی یادیں*

بعض اوقات آدمی تنہا بیٹھا ہوتا ہے، نہ کوئی اس سے بات کر رہا ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی خاص بات پیشِ نظر ہوتی ہے، لیکن اچانک اس کے لبوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ وجہ پوچھی جائے تو شاید وہ خود بھی فوراً نہ بتا سکے، مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ذہن اسے ماضی کی کسی گلی میں لے گیا ہوتا ہے، جہاں بچپن کی کوئی شرارت یا کسی بزرگ کی شفقت بھری بات اس کی منتظر ہوتی ہے۔

بچپن بھی کیا خوب زمانہ تھا! چند روپے مل جائیں تو خوشی کا ٹھکانہ نہ رہے، دوست کے ساتھ کھیلنے کا موقع مل جائے تو دن بن جائے، اور کسی معمولی سی بات پر ناراضی ہو جائے تو یوں محسوس ہو جیسے بہت بڑا نقصان ہوگیا ہو۔ آج انہیں باتوں کو یاد کرکے ہنسی آتی ہے کہ ہم بھی کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش اور اداس ہو جایا کرتے تھے۔ مگر شاید اسی میں اس زمانے کی خوب صورتی تھی کہ خوش ہونے کے لیے بہت کچھ درکار نہیں ہوتا تھا۔

پھر وہ دوست بھی یاد آتے ہیں جن کے ساتھ کبھی روز ملاقات ہوتی تھی، مگر اب مدتوں بات نہیں ہوتی۔ وہی دوست جن کے ساتھ معمولی سی شرارت بھی ایک یادگار واقعہ بن جاتی تھی۔ آج ان کا نام سن کر بھی چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، لوگ اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہو جاتے ہیں، مگر بعض یادیں ایسی ہوتی ہیں جن پر وقت کی گرد نہیں جمتی۔

شاید بچپن کی یادیں اس لیے مسکراہٹ لے آتی ہیں کہ ان میں ہم اپنی زندگی کا وہ زمانہ دیکھتے ہیں جب خوشیاں چھوٹی تھیں، مگر دل انہیں محسوس کرنے کے لیے بہت بڑا تھا۔۔۔۔۔۔*جاری*

★ “از:”
محمد انس رضا حاؔمی

Scan this QR code to read online:

QR Code