صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج
احوال وطن

مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے اثرات
اس دنیا میں بہت سے ادیان و مذہب ہیں مگر سب میں سچا دین اسلام ہے اور سچا مذہب مسلکِ اعلیٰ حضرت۔ یہ دنیا کا نظام ہے کہ جو حق ہوتا ہے اس پر خوب حملے ہوتے ہیں اور ایسے ایسے نئے نئے طریقے سے حملے ہوتے ہیں کہ جس تک کسی کا گمان بھی نہیں پہنچا ہوگا۔ اس مضمون میں دینِ اسلام پر ہنود و دیگر دشمنانِ اسلام کس کس طریقے سے حملے کر رہے ہیں اور مسلمانوں کا کردار کیا ہے اس پر بیان کیا جائے گا۔ سب سے پہلے تو یہ خیال رہے کہ دین اسلام ہی حق ہے اور بلا شبہ ہر زمانے میں دینِ اسلام پر کسی نہ کسی طریقے سے حملہ ہوتا ہی آ رہا ہے اور ہوتا بھی رہے گا۔ اس زمانے میں اسلام پر حملہ ہونا کوئی نئی بات نہیں سب ویسا ہی ہے نئے نئے طریقوں سے اسلام پر حملہ ہو رہا ہے، مگر اِس زمانہ کے حملوں میں ایک فرق نظر آرہا ہے اور وہ فرق غفلت و بیداری، بزدلی و شجاعت کا ہے۔ پہلے جب بھی اسلام پر حملہ ہوا تو مسلمان اسلام کی عزت کے لیے جان تک دینے کو تیار رہتے اور جب دشمنانِ اسلام حملہ کرتے تو مسلمان اُن کو نیست و نابود کر دیتے۔
مگر لاکھ لاکھ افسوس کہ اِس زمانہ میں مسلمان غفلت کی چادر میں بزدلی کی کروٹ لے کر آرام سے سو رہا ہے۔ کوئی فکر ہی نہیں کہ اسلام پر حملہ ہو رہا ہے تو باہر نکل کر اپنے دین کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دینا چاہیے۔ اگر خود کو مسلمان کہتے ہیں تو ثابت قدمی کا اظہار کرنا چاہیے، مگر حالات کیا ہیں ؟ اسلام پر حملہ ہو رہا ہے، حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسمائے مبارک کو نشانہ بنا کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی جا رہی ہے، قرآنِ پاک کی مسجد کے سامنے پولیس والوں کی نگرانی میں بے حرمتی کی جا رہی ہے، علانیہ مسلمانوں کے سامنے آکر جنت و دوزخ، جنت کی نعمتیں اور حوروں کو جھوٹا کہا جا رہا ہے، اسلام کو آتنگ مچانے والا دین بتایا جا رہا ہے، جس جس طرح کے گندے اور بے حیا طریقے کے حملے اور جتنے بھی گندے الزامات ہو سکتے تھے سب اسلام کی شان میں لگائے جا رہے ہیں، بچیوں کو ماں باپ سے دور کر کے ان کا ایمان چھین کر زندگی برباد کر کے قتل کر دیا جا رہا ہے، فتنۂ ارتداد پھیلتا ہی جا رہا ہے وغیرہ۔ دیکھیں حملے اس قدر اس تعداد میں ہو رہے ہیں اور مسلمان ایک ہی حالت میں ہے: غفلت اور بزدلی کی نیند میں۔ اے مسلمانو! بیدار ہو جاؤ اور اپنے رب اللہ تعالیٰ اور اپنے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور اسلام کی عزت کے لیے آواز بلند کرو اور اپنے عاشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہونے کا ثبوت دو۔
اس مضمون میں ہم آپ کو ہنود و غیر مسلم کے کچھ حملوں کے بارے میں مطلع کرتے ہیں جس سے آپ ان لٹیروں سے اپنے ایمان کو بچا سکیں اور ہوشیار ہو کر اسلام کی خاطر باہر نکلیں ورنہ یاد رکھیں اگر غفلت ہی میں پڑے رہیں گے تو ایک زمانہ آئے گا کہ ہندوستان سے تو نکالے جائیں گے ہی مسلمانوں کے آتنگوادی ہونے کے نام پر نیز کسی بھی جگہ زندگی نہیں گزار پائیں گے۔
لاک‌ڈاؤن سے قبل:
پوری دنیا میں پھیلی بیماری Coronavirus میں پوری دنیا گھروں میں بند ہو گئی تھی، اس بیماری کے آنے سے پہلے ہندوستان کا کچھ اور ہی ماحول تھا جہاں ہندوستانی مسلمانوں پر الزام لگایا گیا کہ یہ ہندوستان میں چالاکی سے گھسے ہیں اور ان سے ہندوستانی ہونے پر آباؤ اجداد کا ثبوت مانگا گیا، مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالا جائے اِس پر بہت کوششیں ہوئیں۔ اس بات پر بہت سی جگہوں میں بالخصوص شاہین باغ، نئی دہلی میں Protest ہوا تھا اس میں تو لوگ باہر نکلے مگر کیوں ؟ اپنے گھر بچانے کی نیت سے (نہ کہ اسلام کی خاطر) لیکن جب Lockdown کے بعد Russia میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں کھلم کھلا گندی گستاخی کی گئی تب مسلمانوں میں سے کوئی باہر نہیں نکلا، کیوں ؟ تب سب کہاں تھے ؟ اس سے تو پتہ چل چلا کہ NRC اور CAA میں Protest کرنا اسلام کے لیے نہیں اپنے گھروں کے لیے تھا اور Protest بند ہوا Coronavirus کے آنے کی وجہ سے نہ کہ اس لیے کہ مسلمانوں کا Protest کامیاب ہوا۔
مارچ ٢٠٢١ء؁ میں ہندو دھرم کے ایک پنڈت Narsinghanand Saraswati نے اسلام کو مٹانے کی بات کی تھی اور شانِ اقدس میں گندے کلمات بکے (معاذ اللہ تعالیٰ) ا ُس وقت کون کون اپنے سرکارِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی دیکھ سن کر باہر نکلا ؟ کوئی نہیں! بس گھروں میں بیٹھے شانِ اقدس میں گستاخیاں ہوتی سن رہے تھے مگر اس کے خلاف جس طرح کی کوشش کرنی چاہیے تھی کسی نے نہ کی۔ کیا یہی مسلمان ہونے کی علامت ہے ؟ حضورِ اکرم رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں علانیہ گستاخی ہوئی اور مسلمان کہلاتے ہوئے بھی اُس بدبخت کے خلاف قدم نہیں اٹھایا۔ یہ سب ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔
قرآن شریف کی شان میں گستاخی:
مارچ ٢٠٢١ء؁ میں ہی وسیم نامی گستاخِ دین نے قرآنِ مقدس میں سے معاذ اللہ تقریباً ١٤؍آیتیں ہٹانے کو کہا۔ کلامِ پاک کی شان میں گستاخی ہوئی مگر مسلمانوں کو فرق کیسے پڑے گا ؟ جب بات گھر کی آئے گی سب کے قدم باہر آئیں گے مگر جب بات دینِ اسلام کی آئے گی کوئی باہر نہیں آئے گا۔ اپنی سستی کے اثرات اب دیکھے!

11؍مارچ 2022ء

11؍مارچ ٢٠٢٢ء؁ یہ وہ دن ہے جس دن دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں پر بہت گندا الزام لگایا اور اسلام کو قاتل دین ثابت کرنے کی گندی کوشش کی گئی۔ اس گندے حملے کا نام The Kashmiri Files ہے۔ اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ 1990ء؁ اور 1992ء؁میں مسلمانوں نے ہندو پنڈتوں کو ان کے گھروں سے ظلم کر کے نکال دیا اور مسلمانوں نے کہا یا تو کشمیر چھوڑ کر جاؤ یا اسلام قبول کرو، اگر کشمیر چھوڑو گے تو اپنی عورتوں کو ہمارے لیے چھوڑ کر جاؤ، معاذ اللہ!
نیز اس میں دکھایا کہ مسلمانوں کو اپنے بھائی حتیٰ کہ ماں کو بھی ناحق مارنا ہو تو مسلمان مار ڈالیں گے۔ بس فلم میں اسلام کو دوسروں کا قتل کرنے والا مذہب بتایا گیا ہے اور بھی اس میں کتنے گندے حملے ہوئے۔
اس فلم کے ذریعے مسلمانوں کو ظالم بتا کر ہر مذہب میں فساد پھیلانے والا کون ہے ؟ یعنی اس فلم کی کہانی میں اسلام کے فرمان اور طریقے بتانے والا کون ہے ؟ اس خبیث کا نام Vivek Agnihotri ہے۔ ایک ہندو لکھ کر دکھائے گا ؟ کہ اسلام میں کیا جائز ہے اور کیا ناجائز۔ سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ایسی فسادی فلموں پر آواز اٹھانے کے بجائے سب سے زیادہ مسلمانوں نے یہ فلم دیکھی اور دشمنوں کے مقصد کو کامیاب کیا، نیز اسے سچ مان کر کچھ مسلمان ہونے پر صرف افسوس کیے اور بہتوں نے اسلام سے ہٹ کر دوسرا دین اختیار کر لیا اور مرتد ہو گئے، معاذ اللہ!
1990ء؁ میں کشمیر پر جس حملے کو دکھایا گیا ہے سب جھوٹ اور اسلام کی خاطر گندی سازش ہے۔ اصل میں دشمنوں نے مسلمانوں کے درمیان دشمنی پیدا کر دی جس سے مسلمان ہی آپس میں لڑنے لگے، اس موقع پر فائدہ اٹھا کر آتنک وادیوں یعنی Terrorists نے مسلمانوں کے لباس میں ہندوؤں پر حملہ کیا اور دشمنوں نے بڑی آسانی سے یہ الزام مسلمانوں پر لگا دیا کہ سبھی ہندو کو ناحق مارنے والے مسلمان ہیں۔
میرا یہ پیغام سب کے لیے ہے کہ فلموں اور کہانیوں پر نہیں بلکہ کتابوں اور حقیقت پر یقین رکھیں۔ اٹھاؤ تاریخ کی کتاب اور دکھاؤ کیا حقیقت میں مسلمانوں نے ہندو پنڈتوں کو گھر سے نکالا ؟ اور ناحق قتل کیا ؟ افسوس صد افسوس کئی مسلمان یہ فلم دیکھ کر دین بدل رہے ہیں، کیا اسلام پر اتنا کمزور ایمان ہے کہ کوئی بھی آ کر اسلام کے خلاف کچھ کہے گا اور مان لیا جائے گا ؟ اس فلم میں دکھایا کہ علماء ہندو پنڈتوں سے اپنی عورتیں مسلمانوں کے لیے چھوڑنے کے لیے کہہ رہے ہیں (معاذ اللہ) یاد رکھیں دنیا میں عورتوں کی ذرا عزت نہ تھی، زندہ دفن ہوتی تھیں اور ہوتی رہتیں، برہنہ بازار میں بیچی جا رہی تھیں اور یہی حال آج بھی رہتا، جوتے کی نوک تک ہی عورتوں کے عزت تھی۔ اگر کسی نے عورتوں کی گرتی عزت کو بلند کیا ہے تو وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں، زندہ دفن ہونے سے بچایا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے، عورتوں کا مقام بتایا ہے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے، اِسی دینِ اسلام نے عورتوں اور بچیوں کو بے عزت سے باعزت بنایا اور خوب عزت سے نوازا، اسی اسلام پر قائم مسلمان اتنی گندی بات کہہ سکتے ہیں وہ بھی مساجد کے اندر ؟ ہرگز نہیں!
پھر اس فلم میں مسلمانوں کو بھائی اور ماں کو بھی قتل کرنے ملے تو وہ کریں گے ایسا دکھایا، یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں ناحق مارے جانے والوں کے قصاص کا حکم فرمایا اور رب تعالیٰ نے کسی کا بھی مسلم، ہنود، عیسائی وغیرہ کسی کا بھی مال ناحق کھانے کو حرام فرمایا، اللہ پاک نے ماں باپ کے لیے اف تک کہنا حرام فرمایا اور میرے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جس عورتوں کی ذرا عزت نہ تھی انہیں عورتوں کو عزت سے نوازا، یہ ہے اسلام کی تعلیم۔ وہ اسلام ہی ہے جس نے حق دینا سکھایا اور چھیننے سے منع کیا۔ وہ اسلام ایسی گندی تعلیم دے سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں!
آج مسلمان ان گھٹیا فلموں کی وجہ سے اپنا ایمان بدل رہے ہیں وہ ان دلائل سے ہوش میں آئیں، اور سبھی لوگ ان کے فریب کو سمجھیں اور ان دشمنوں کے فریب میں نہ آئیں بلکہ اپنے دین کے لیے ان کے خلاف آواز اٹھائیں، ان فلموں کی کہانی مسلم غیر مسلم کے درمیان لڑائی پیدا کرنے کے لیے لکھی گئی ہے اور مسلمانوں کے بیچ جنگ کرانے کے لیے کہانی دکھائی جا رہی ہے۔ بھولے بھالے لوگ بہک جا رہے ہیں۔ مسلمان تو معاذ اللہ ایمان ہی بدل دے رہے ہیں اور غیر مسلم بھی جھوٹ میں پھنس کر مسلمانوں سے قتال کرنے کو تیار ہیں۔ اگر یہ کہانی سچ ہے تو ثابت کیا جائے، سچی History دکھائی جائے ورنہ ایسی فلموں پر روک لگائی جائے اور فساد مچانے والوں کو سزا دی جائے۔
شانِ رسول میں گستاخی:
ایک اور ہنود نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گندے الفاظ بکے جس کا نام Nupoor Sharma ہے، اس کے خلاف بھی ملک میں کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا گیا، وہیں مسلمان ان کے کسی بڑے پر انگلی اٹھائے تو جیل تو ہونی ہی ہے سیدھے جان سے مارنے کی سزا دی جائے گی، مگر غیر مسلم میں جس کا دل چاہے اسلام اور پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر دیتا ہے اور سزا کچھ نہیں دی جاتی۔ مگر مسلمان صرف آواز بلند کر دے تو فسادی اور قانون توڑنے والے بن جاتے ہیں۔ اب عقلمند خود فیصلہ کر لیں کہ فسادی مسلمان ہوئے ؟ جن پر ہر قسم کے قانون لگائے جاتے ہیں کہ ہمیں جینے نہ ملے یا غیر مسلم جو کسی کے مذہب پر انگلی اٹھاتے ہیں اور ان کو کوئی سزا نہیں دی جاتی ؟ اے مسلمانو! ان حالات کو بدلو۔

5 مئی 2023

پھر سے فلم جیسی گندی چیز کے ذریعے ہندو و مسلمان کے درمیان فساد مچانے کی کوشش کی گئی اور اسلام پر حملہ کیا گیا۔ اِس حملے کا نام The Kerala Story ہے۔ اِس فلم میں سب سے بڑا جھوٹ جو کہا گیا ہے وہ یہ ہے کہ (معاذ اللہ) اسلام لوگوں کو یہ سکھاتا ہے کہ مسلمان ہنود و عیسائی وغیرہ غیر مسلم کی بیٹیوں کو پھنسائیں اور اُن کو ان سے مذہب سے ہٹا دیں اور شادی کرکے فائدہ اٹھا لیں اور اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر قتل کر دیں۔ اللہ پاک کی لعنت ہو ان دشمنانِ اسلام پر۔
اس فلم سے سب سے زیادہ تین فساد ہوئے: (١) ایک تو یہ کہ سب کے درمیان نااتفاقی اور دشمنی پیدا ہو گئی اور جھوٹ دکھا کر ہنود و مسلمان کے درمیان فساد پھیلا دیا گیا۔ (٢) اس فلم کو سچ جان کر مسلمان اسلام سے ہٹ جا رہے ہیں۔ (٣) اسلام پر گندے حملے کیے جا رہے ہیں۔
سب سے پہلے یہ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں۔ اسلام و قرآن میں صرف تبلیغ کا حکم ہے ظلم کرکے ہرگز اسلام قبول کرانے کا حکم نہیں۔ پھر حضور اکرم رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلمانوں کو کافروں نے اِس قدر ستانا شروع کیا کہ گھروں میں گھس کر عورتوں پر حملہ کرنے لگے تو اپنی جان کی حفاظت کے لیے خدائے ذوالجلال نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ کافر جہاں ملیں قتل کردو۔ یہ حکم اس وقت کے لیے تھا اور اس کو غلط طریقے سے اِس زمانہ میں دکھا کر فساد پھیلایا جا رہا ہے۔ اگر اُس وقت مسلمانوں کا اپنی حفاظت کے لیے ان پر حملہ کرنا غلط تھا یا غلط ہے تو کوئی قیدی جیل سے فرار ہو جائے تو اسے کیوں جان سے مارنے کا Order دیا جاتا ہے ؟ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ اگر کوئی تم سے لڑنے آئے تو ہی اپنے دین و جان کی حفاظت کے لیے لڑنا۔ میرا سوال ہے کہ اگر کوئی آپ کے گھر پر حملہ کرے تو کیا کنارے کھڑے دیکھتے رہیں گے ؟ نہیں! تو کفار بھی مسلمانوں کے گھروں کو لوٹ رہے تھے اور عورتوں پر حملہ کر رہے تھے تب خدائے پاک نے حکم دیا کہ جہاں ملیں وہاں ان پر حملہ کرو۔ قرآنِ پاک میں ہے: لَآ اِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ میرے مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سیدھی راہ دکھانے کا حکم مولیٰ عزوجل نے دیا ظلم کرکے اسلام قبول کروانے کا نہیں اور نہ یہ حکم دیا گیا کہ دوسروں کو ان کے مذہب سے خود کے فائدے کے لیے ہٹاؤ۔
ایک اور بات یہ کہ اس میں مسلمان صرف لڑکیوں کو ان کے دھرم سے ہٹا رہے ہیں، صاف ظاہر ہے کہ یہ چال ہے اسلام پر گندہ حملہ کرنے کی، اگر سچ میں اسلام دوسروں کو ان کے دھرم سے ہٹانے کا حکم دیتا ہے تو لڑکا اور لڑکی سب آتے اور جس اسلام نے عورتوں کی عزت بچائی کیسے وہی اسلام ان کی عزت سے کھیلنے کا درس دے گا ؟ ثابت ہو گیا کہ یہ ساری فلمیں جھوٹی اور فساد پھیلانے کے لیے دکھائی جا رہی ہے۔ سرکارِ دو جہاں مصطفی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد صحابہ و اولیاء و علماء نے بھی تبلیغ پُرسکون انداز میں فرمائی ہے، نہ کسی کی عزت لوٹی گئی نہ ظلم ہوا۔
اب ایک اور خلاصہ کہ The Kashmiri Files کی طرح اس فلم کی کہانی لکھنے والے بھی مسلمان نہیں۔ Suryapal Singh اور Sudipto Sen اور Vipul Amrutlal Shah نے کہانی لکھی اور جھوٹ دکھایا۔ یہ تینوں ہندو ہو کر ہمارے دین کے بارے میں کچھ بھی دکھائیں اور ہم یقین کر لیں ؟ ہرگز نہیں! اے مسلمانو! اے مسلمانو! اے اللہ کے بندو! اے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے امتیو! ان کے فریب میں نہ آؤ اور اپنے حق دین سے نہ پھرو!

٧٢؍حوریں

یہ بھی ایک فسادی فلم ہے جو ٧؍جولائی 2023ء؁ کو دکھائی گئی۔ The Kashmiri Files کے 13/مہینہ 24/دن بعد ہی اتنی کم مدت میں The Kerala Story بن گئی اور دکھائی گئی اور پھر دو مہینہ دو دن بعد ایک اور حملہ کیا گیا 72 Hooren کے نام سے۔ جو بھی فلم بنائی جاتی ہے کم سے کم تین سے چار سال لگتا ہے مگر دشمنوں نے کیا چال چلی کہ صرف ایک سال یا دو مہینہ پر حملہ کرنے آ رہے ہیں۔ یعنی: سارے حملے پہلے سے تیار ہیں۔ کیا اتنی دلیل کافی نہیں یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ سب جھوٹ، نفرت اور فساد مچانے کے لیے بنایا اور دکھایا گیا ہے ؟ ان دو فلموں کو مسلم و غیر مسلم کے درمیان سخت نفرت پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے مگر 72 حوریں میں صاف اور سیدھے اسلام پر حملہ ہوا۔ اس میں دکھایا گیا کہ اسلام یہ درس دیتا ہے کہ ہندوؤں کو ناحق قتل کر دو تم کو جنت میں 72 حوریں ملیں گی معاذ اللہ! پہلی بات جب اسلام اس دنیا میں پھیل رہا تھا تو ہندوؤں کا وجود آیا کہاں سے ؟ اور کفار کو قتل کرنے کا حکم تو قرآنِ پاک میں آیا تو وہ اُس وقت کے لیے تھا اور اپنی جان بچانے کے لیے۔ یہ سب آیتیں حق ہیں اور حکم ایک وقت کے لیے تھا۔ خود اللہ پاک نے ناحق قتل کرنے والوں کی سزا مقرر فرمائی ہے، اے دشمنو! تم اپنے جال میں خود پھنس گئے! میرے رحیم و کریم رب تعالیٰ کی قدرت تم کیا جانو ؟
دوسری بات اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے انسانیت سکھائی ہے تو اسلام ایسا درس کیونکر دے گا ؟ اس فلم میں دکھایا گیا کہ مسلمان جنت اور حوروں کے لالچ میں ہندوؤں کو قتل کر رہے ہیں۔
قرآن و حدیث سے علمائے کرام نے فرمایا: اے لوگو! یاد رکھنا جب تک دل میں عشقِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نہیں ہوگا عشقِ انبیاء و صحابہ و اولیاء نہیں ہوگا تب تک جنت قطعی نہیں ملے گی یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اے دشمنو! تم پھر سے پھنس گئے، ہم مسلمانوں کو جنت کی نہیں اللہ و رسول ﷺ کی خواہش رہتی ہے! ہمارے دین نے کہیں کبھی ہندو کو جنت کے لیے مارنا نہیں بتایا یہ بھی ہندوؤں کی سازشیں ہیں جن میں لوگ (معاذ اللہ) پھنس بھی جا رہے ہیں۔ اس فلم کی کہانی لکھنے اور دکھا کر نفرت پھیلانے والا Anil Pandey ہے۔ میرا ایک سوال ہے کہ وہ ہندو جس کو یہ بھی نامعلوم ہو کے ”ب“ میں نقطہ کہاں رہے گا وہ کیسے بتا سکتا ہے کہ دینِ اسلام کیا کیا حکم دیتا ہے ؟ ہاں یہ سب دشمنانِ اسلام اور مرتدین ضرور کچھ ادھوری باتوں کو جان کر فسادی بنا کر سب کے سامنے لا کر اسلام پر حملہ کرتے ہیں، جو کہ ہر اہلِ عقل کے نزدیک برا اور کارِ لائقِ سزا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
پیغامِ برکات: اے مسلمانو! اے مسلمانو! اے اللہ کے بندو! اے سرکارِ دو جہاں ﷺ کے امتیو! ابھی وقت ہے جاگو اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے باہر نکلو۔ غور کرو کیسے اور کتنی تیزی سے کتنے نئے اور گندے طریقوں سے اسلام پر حملہ ہو رہا ہے۔ ابھی وقت ہے بیدار ہو جاؤ تاکہ ایسی فلمیں نام نہ بنیں اور نفرت نہ پھیلے، اور اسلام پر اور حملے نہ ہوں ورنہ دور نہیں تم ایسی فلموں ہی کے ذریعے اپنے ہی گھروں سے باہر پھینک دیے جاؤ گے اور اپنے وطن ہندوستان کو چھوڑ کر جانا پڑ جائے گا۔ اتنا اشارہ کافی ہے بات سمجھانے کے لیے کہ یہ بات کتنی پیچیدہ ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ان سب فلموں پر اور پوری تحقیق کر کے ان کا پردہ سب کے سامنے فاش کیا جائے گا۔ اللہ پاک ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے، دشمنانِ اسلام سے ہمارے مذہب مہذب کی حفاظت فرمائے، ہمیں دینِ اسلام پر مر مٹنے کا جذبہ عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
٢٦؍محرم الحرام ؁١٤٤٥ھ
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
71
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

ہمارے بارہ کا دندان شکن جواب

سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ

مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے اثرات

اس دنیا میں بہت سے ادیان و مذہب ہیں مگر سب میں سچا دین اسلام ہے اور سچا مذہب مسلکِ اعلیٰ حضرت۔ یہ دنیا کا نظام ہے کہ جو حق ہوتا ہے اس پر خوب حملے ہوتے ہیں اور ایسے ایسے نئے نئے طریقے سے حملے ہوتے ہیں کہ جس تک کسی کا گمان بھی نہیں پہنچا ہوگا۔ اس مضمون میں دینِ اسلام پر ہنود و دیگر دشمنانِ اسلام کس کس طریقے سے حملے کر رہے ہیں اور مسلمانوں کا کردار کیا ہے اس پر بیان کیا جائے گا۔ سب سے پہلے تو یہ خیال رہے کہ دین اسلام ہی حق ہے اور بلا شبہ ہر زمانے میں دینِ اسلام پر کسی نہ کسی طریقے سے حملہ ہوتا ہی آ رہا ہے اور ہوتا بھی رہے گا۔ اس زمانے میں اسلام پر حملہ ہونا کوئی نئی بات نہیں سب ویسا ہی ہے نئے نئے طریقوں سے اسلام پر حملہ ہو رہا ہے، مگر اِس زمانہ کے حملوں میں ایک فرق نظر آرہا ہے اور وہ فرق غفلت و بیداری، بزدلی و شجاعت کا ہے۔ پہلے جب بھی اسلام پر حملہ ہوا تو مسلمان اسلام کی عزت کے لیے جان تک دینے کو تیار رہتے اور جب دشمنانِ اسلام حملہ کرتے تو مسلمان اُن کو نیست و نابود کر دیتے۔

مگر لاکھ لاکھ افسوس کہ اِس زمانہ میں مسلمان غفلت کی چادر میں بزدلی کی کروٹ لے کر آرام سے سو رہا ہے۔ کوئی فکر ہی نہیں کہ اسلام پر حملہ ہو رہا ہے تو باہر نکل کر اپنے دین کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دینا چاہیے۔ اگر خود کو مسلمان کہتے ہیں تو ثابت قدمی کا اظہار کرنا چاہیے، مگر حالات کیا ہیں ؟ اسلام پر حملہ ہو رہا ہے، حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسمائے مبارک کو نشانہ بنا کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی جا رہی ہے، قرآنِ پاک کی مسجد کے سامنے پولیس والوں کی نگرانی میں بے حرمتی کی جا رہی ہے، علانیہ مسلمانوں کے سامنے آکر جنت و دوزخ، جنت کی نعمتیں اور حوروں کو جھوٹا کہا جا رہا ہے، اسلام کو آتنگ مچانے والا دین بتایا جا رہا ہے، جس جس طرح کے گندے اور بے حیا طریقے کے حملے اور جتنے بھی گندے الزامات ہو سکتے تھے سب اسلام کی شان میں لگائے جا رہے ہیں، بچیوں کو ماں باپ سے دور کر کے ان کا ایمان چھین کر زندگی برباد کر کے قتل کر دیا جا رہا ہے، فتنۂ ارتداد پھیلتا ہی جا رہا ہے وغیرہ۔ دیکھیں حملے اس قدر اس تعداد میں ہو رہے ہیں اور مسلمان ایک ہی حالت میں ہے: غفلت اور بزدلی کی نیند میں۔ اے مسلمانو! بیدار ہو جاؤ اور اپنے رب اللہ تعالیٰ اور اپنے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور اسلام کی عزت کے لیے آواز بلند کرو اور اپنے عاشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہونے کا ثبوت دو۔

اس مضمون میں ہم آپ کو ہنود و غیر مسلم کے کچھ حملوں کے بارے میں مطلع کرتے ہیں جس سے آپ ان لٹیروں سے اپنے ایمان کو بچا سکیں اور ہوشیار ہو کر اسلام کی خاطر باہر نکلیں ورنہ یاد رکھیں اگر غفلت ہی میں پڑے رہیں گے تو ایک زمانہ آئے گا کہ ہندوستان سے تو نکالے جائیں گے ہی مسلمانوں کے آتنگوادی ہونے کے نام پر نیز کسی بھی جگہ زندگی نہیں گزار پائیں گے۔

* لاک‌ڈاؤن سے قبل:*
پوری دنیا میں پھیلی بیماری Coronavirus میں پوری دنیا گھروں میں بند ہو گئی تھی، اس بیماری کے آنے سے پہلے ہندوستان کا کچھ اور ہی ماحول تھا جہاں ہندوستانی مسلمانوں پر الزام لگایا گیا کہ یہ ہندوستان میں چالاکی سے گھسے ہیں اور ان سے ہندوستانی ہونے پر آباؤ اجداد کا ثبوت مانگا گیا، مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالا جائے اِس پر بہت کوششیں ہوئیں۔ اس بات پر بہت سی جگہوں میں بالخصوص شاہین باغ، نئی دہلی میں Protest ہوا تھا اس میں تو لوگ باہر نکلے مگر کیوں ؟ اپنے گھر بچانے کی نیت سے (نہ کہ اسلام کی خاطر) لیکن جب Lockdown کے بعد Russia میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں کھلم کھلا گندی گستاخی کی گئی تب مسلمانوں میں سے کوئی باہر نہیں نکلا، کیوں ؟ تب سب کہاں تھے ؟ اس سے تو پتہ چل چلا کہ NRC اور CAA میں Protest کرنا اسلام کے لیے نہیں اپنے گھروں کے لیے تھا اور Protest بند ہوا Coronavirus کے آنے کی وجہ سے نہ کہ اس لیے کہ مسلمانوں کا Protest کامیاب ہوا۔

مارچ ٢٠٢١ء؁ میں ہندو دھرم کے ایک پنڈت Narsinghanand Saraswati نے اسلام کو مٹانے کی بات کی تھی اور شانِ اقدس میں گندے کلمات بکے (معاذ اللہ تعالیٰ) ا ُس وقت کون کون اپنے سرکارِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی دیکھ سن کر باہر نکلا ؟ کوئی نہیں! بس گھروں میں بیٹھے شانِ اقدس میں گستاخیاں ہوتی سن رہے تھے مگر اس کے خلاف جس طرح کی کوشش کرنی چاہیے تھی کسی نے نہ کی۔ کیا یہی مسلمان ہونے کی علامت ہے ؟ حضورِ اکرم رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں علانیہ گستاخی ہوئی اور مسلمان کہلاتے ہوئے بھی اُس بدبخت کے خلاف قدم نہیں اٹھایا۔ یہ سب ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔

قرآن شریف کی شان میں گستاخی:
مارچ ٢٠٢١ء؁ میں ہی وسیم نامی گستاخِ دین نے قرآنِ مقدس میں سے معاذ اللہ تقریباً ١٤؍آیتیں ہٹانے کو کہا۔ کلامِ پاک کی شان میں گستاخی ہوئی مگر مسلمانوں کو فرق کیسے پڑے گا ؟ جب بات گھر کی آئے گی سب کے قدم باہر آئیں گے مگر جب بات دینِ اسلام کی آئے گی کوئی باہر نہیں آئے گا۔ اپنی سستی کے اثرات اب دیکھے!

# 11؍مارچ 2022ء

11؍مارچ ٢٠٢٢ء؁ یہ وہ دن ہے جس دن دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں پر بہت گندا الزام لگایا اور اسلام کو قاتل دین ثابت کرنے کی گندی کوشش کی گئی۔ اس گندے حملے کا نام The Kashmiri Files ہے۔ اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ 1990ء؁ اور 1992ء؁میں مسلمانوں نے ہندو پنڈتوں کو ان کے گھروں سے ظلم کر کے نکال دیا اور مسلمانوں نے کہا یا تو کشمیر چھوڑ کر جاؤ یا اسلام قبول کرو، اگر کشمیر چھوڑو گے تو اپنی عورتوں کو ہمارے لیے چھوڑ کر جاؤ، معاذ اللہ!
نیز اس میں دکھایا کہ مسلمانوں کو اپنے بھائی حتیٰ کہ ماں کو بھی ناحق مارنا ہو تو مسلمان مار ڈالیں گے۔ بس فلم میں اسلام کو دوسروں کا قتل کرنے والا مذہب بتایا گیا ہے اور بھی اس میں کتنے گندے حملے ہوئے۔

اس فلم کے ذریعے مسلمانوں کو ظالم بتا کر ہر مذہب میں فساد پھیلانے والا کون ہے ؟ یعنی اس فلم کی کہانی میں اسلام کے فرمان اور طریقے بتانے والا کون ہے ؟ اس خبیث کا نام Vivek Agnihotri ہے۔ ایک ہندو لکھ کر دکھائے گا ؟ کہ اسلام میں کیا جائز ہے اور کیا ناجائز۔ سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ایسی فسادی فلموں پر آواز اٹھانے کے بجائے سب سے زیادہ مسلمانوں نے یہ فلم دیکھی اور دشمنوں کے مقصد کو کامیاب کیا، نیز اسے سچ مان کر کچھ مسلمان ہونے پر صرف افسوس کیے اور بہتوں نے اسلام سے ہٹ کر دوسرا دین اختیار کر لیا اور مرتد ہو گئے، معاذ اللہ!

1990ء؁ میں کشمیر پر جس حملے کو دکھایا گیا ہے سب جھوٹ اور اسلام کی خاطر گندی سازش ہے۔ اصل میں دشمنوں نے مسلمانوں کے درمیان دشمنی پیدا کر دی جس سے مسلمان ہی آپس میں لڑنے لگے، اس موقع پر فائدہ اٹھا کر آتنک وادیوں یعنی Terrorists نے مسلمانوں کے لباس میں ہندوؤں پر حملہ کیا اور دشمنوں نے بڑی آسانی سے یہ الزام مسلمانوں پر لگا دیا کہ سبھی ہندو کو ناحق مارنے والے مسلمان ہیں۔

میرا یہ پیغام سب کے لیے ہے کہ فلموں اور کہانیوں پر نہیں بلکہ کتابوں اور حقیقت پر یقین رکھیں۔ اٹھاؤ تاریخ کی کتاب اور دکھاؤ کیا حقیقت میں مسلمانوں نے ہندو پنڈتوں کو گھر سے نکالا ؟ اور ناحق قتل کیا ؟ افسوس صد افسوس کئی مسلمان یہ فلم دیکھ کر دین بدل رہے ہیں، کیا اسلام پر اتنا کمزور ایمان ہے کہ کوئی بھی آ کر اسلام کے خلاف کچھ کہے گا اور مان لیا جائے گا ؟ اس فلم میں دکھایا کہ علماء ہندو پنڈتوں سے اپنی عورتیں مسلمانوں کے لیے چھوڑنے کے لیے کہہ رہے ہیں (معاذ اللہ) یاد رکھیں دنیا میں عورتوں کی ذرا عزت نہ تھی، زندہ دفن ہوتی تھیں اور ہوتی رہتیں، برہنہ بازار میں بیچی جا رہی تھیں اور یہی حال آج بھی رہتا، جوتے کی نوک تک ہی عورتوں کے عزت تھی۔ اگر کسی نے عورتوں کی گرتی عزت کو بلند کیا ہے تو وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں، زندہ دفن ہونے سے بچایا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے، عورتوں کا مقام بتایا ہے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے، اِسی دینِ اسلام نے عورتوں اور بچیوں کو بے عزت سے باعزت بنایا اور خوب عزت سے نوازا، اسی اسلام پر قائم مسلمان اتنی گندی بات کہہ سکتے ہیں وہ بھی مساجد کے اندر ؟ ہرگز نہیں!

پھر اس فلم میں مسلمانوں کو بھائی اور ماں کو بھی قتل کرنے ملے تو وہ کریں گے ایسا دکھایا، یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں ناحق مارے جانے والوں کے قصاص کا حکم فرمایا اور رب تعالیٰ نے کسی کا بھی مسلم، ہنود، عیسائی وغیرہ کسی کا بھی مال ناحق کھانے کو حرام فرمایا، اللہ پاک نے ماں باپ کے لیے اف تک کہنا حرام فرمایا اور میرے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جس عورتوں کی ذرا عزت نہ تھی انہیں عورتوں کو عزت سے نوازا، یہ ہے اسلام کی تعلیم۔ وہ اسلام ہی ہے جس نے حق دینا سکھایا اور چھیننے سے منع کیا۔ وہ اسلام ایسی گندی تعلیم دے سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں!
آج مسلمان ان گھٹیا فلموں کی وجہ سے اپنا ایمان بدل رہے ہیں وہ ان دلائل سے ہوش میں آئیں، اور سبھی لوگ ان کے فریب کو سمجھیں اور ان دشمنوں کے فریب میں نہ آئیں بلکہ اپنے دین کے لیے ان کے خلاف آواز اٹھائیں، ان فلموں کی کہانی مسلم غیر مسلم کے درمیان لڑائی پیدا کرنے کے لیے لکھی گئی ہے اور مسلمانوں کے بیچ جنگ کرانے کے لیے کہانی دکھائی جا رہی ہے۔ بھولے بھالے لوگ بہک جا رہے ہیں۔ مسلمان تو معاذ اللہ ایمان ہی بدل دے رہے ہیں اور غیر مسلم بھی جھوٹ میں پھنس کر مسلمانوں سے قتال کرنے کو تیار ہیں۔ اگر یہ کہانی سچ ہے تو ثابت کیا جائے، سچی History دکھائی جائے ورنہ ایسی فلموں پر روک لگائی جائے اور فساد مچانے والوں کو سزا دی جائے۔

شانِ رسول میں گستاخی:
ایک اور ہنود نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گندے الفاظ بکے جس کا نام Nupoor Sharma ہے، اس کے خلاف بھی ملک میں کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا گیا، وہیں مسلمان ان کے کسی بڑے پر انگلی اٹھائے تو جیل تو ہونی ہی ہے سیدھے جان سے مارنے کی سزا دی جائے گی، مگر غیر مسلم میں جس کا دل چاہے اسلام اور پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر دیتا ہے اور سزا کچھ نہیں دی جاتی۔ مگر مسلمان صرف آواز بلند کر دے تو فسادی اور قانون توڑنے والے بن جاتے ہیں۔ اب عقلمند خود فیصلہ کر لیں کہ فسادی مسلمان ہوئے ؟ جن پر ہر قسم کے قانون لگائے جاتے ہیں کہ ہمیں جینے نہ ملے یا غیر مسلم جو کسی کے مذہب پر انگلی اٹھاتے ہیں اور ان کو کوئی سزا نہیں دی جاتی ؟ اے مسلمانو! ان حالات کو بدلو۔

# 5 مئی 2023

پھر سے فلم جیسی گندی چیز کے ذریعے ہندو و مسلمان کے درمیان فساد مچانے کی کوشش کی گئی اور اسلام پر حملہ کیا گیا۔ اِس حملے کا نام The Kerala Story ہے۔ اِس فلم میں سب سے بڑا جھوٹ جو کہا گیا ہے وہ یہ ہے کہ (معاذ اللہ) اسلام لوگوں کو یہ سکھاتا ہے کہ مسلمان ہنود و عیسائی وغیرہ غیر مسلم کی بیٹیوں کو پھنسائیں اور اُن کو ان سے مذہب سے ہٹا دیں اور شادی کرکے فائدہ اٹھا لیں اور اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر قتل کر دیں۔ اللہ پاک کی لعنت ہو ان دشمنانِ اسلام پر۔

اس فلم سے سب سے زیادہ تین فساد ہوئے: (١) ایک تو یہ کہ سب کے درمیان نااتفاقی اور دشمنی پیدا ہو گئی اور جھوٹ دکھا کر ہنود و مسلمان کے درمیان فساد پھیلا دیا گیا۔ (٢) اس فلم کو سچ جان کر مسلمان اسلام سے ہٹ جا رہے ہیں۔ (٣) اسلام پر گندے حملے کیے جا رہے ہیں۔
سب سے پہلے یہ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں۔ اسلام و قرآن میں صرف تبلیغ کا حکم ہے ظلم کرکے ہرگز اسلام قبول کرانے کا حکم نہیں۔ پھر حضور اکرم رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلمانوں کو کافروں نے اِس قدر ستانا شروع کیا کہ گھروں میں گھس کر عورتوں پر حملہ کرنے لگے تو اپنی جان کی حفاظت کے لیے خدائے ذوالجلال نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ کافر جہاں ملیں قتل کردو۔ یہ حکم اس وقت کے لیے تھا اور اس کو غلط طریقے سے اِس زمانہ میں دکھا کر فساد پھیلایا جا رہا ہے۔ اگر اُس وقت مسلمانوں کا اپنی حفاظت کے لیے ان پر حملہ کرنا غلط تھا یا غلط ہے تو کوئی قیدی جیل سے فرار ہو جائے تو اسے کیوں جان سے مارنے کا Order دیا جاتا ہے ؟ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ اگر کوئی تم سے لڑنے آئے تو ہی اپنے دین و جان کی حفاظت کے لیے لڑنا۔ میرا سوال ہے کہ اگر کوئی آپ کے گھر پر حملہ کرے تو کیا کنارے کھڑے دیکھتے رہیں گے ؟ نہیں! تو کفار بھی مسلمانوں کے گھروں کو لوٹ رہے تھے اور عورتوں پر حملہ کر رہے تھے تب خدائے پاک نے حکم دیا کہ جہاں ملیں وہاں ان پر حملہ کرو۔ قرآنِ پاک میں ہے:” لَآ اِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ” میرے مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سیدھی راہ دکھانے کا حکم مولیٰ عزوجل نے دیا ظلم کرکے اسلام قبول کروانے کا نہیں اور نہ یہ حکم دیا گیا کہ دوسروں کو ان کے مذہب سے خود کے فائدے کے لیے ہٹاؤ۔

ایک اور بات یہ کہ اس میں مسلمان صرف لڑکیوں کو ان کے دھرم سے ہٹا رہے ہیں، صاف ظاہر ہے کہ یہ چال ہے اسلام پر گندہ حملہ کرنے کی، اگر سچ میں اسلام دوسروں کو ان کے دھرم سے ہٹانے کا حکم دیتا ہے تو لڑکا اور لڑکی سب آتے اور جس اسلام نے عورتوں کی عزت بچائی کیسے وہی اسلام ان کی عزت سے کھیلنے کا درس دے گا ؟ ثابت ہو گیا کہ یہ ساری فلمیں جھوٹی اور فساد پھیلانے کے لیے دکھائی جا رہی ہے۔ سرکارِ دو جہاں مصطفی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد صحابہ و اولیاء و علماء نے بھی تبلیغ پُرسکون انداز میں فرمائی ہے، نہ کسی کی عزت لوٹی گئی نہ ظلم ہوا۔

اب ایک اور خلاصہ کہ The Kashmiri Files کی طرح اس فلم کی کہانی لکھنے والے بھی مسلمان نہیں۔ Suryapal Singh اور Sudipto Sen اور Vipul Amrutlal Shah نے کہانی لکھی اور جھوٹ دکھایا۔ یہ تینوں ہندو ہو کر ہمارے دین کے بارے میں کچھ بھی دکھائیں اور ہم یقین کر لیں ؟ ہرگز نہیں! اے مسلمانو! اے مسلمانو! اے اللہ کے بندو! اے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے امتیو! ان کے فریب میں نہ آؤ اور اپنے حق دین سے نہ پھرو!

#٧٢؍حوریں

یہ بھی ایک فسادی فلم ہے جو ٧؍جولائی 2023ء؁ کو دکھائی گئی۔ The Kashmiri Files کے 13/مہینہ 24/دن بعد ہی اتنی کم مدت میں The Kerala Story بن گئی اور دکھائی گئی اور پھر دو مہینہ دو دن بعد ایک اور حملہ کیا گیا 72 Hooren کے نام سے۔ جو بھی فلم بنائی جاتی ہے کم سے کم تین سے چار سال لگتا ہے مگر دشمنوں نے کیا چال چلی کہ صرف ایک سال یا دو مہینہ پر حملہ کرنے آ رہے ہیں۔ یعنی: سارے حملے پہلے سے تیار ہیں۔ کیا اتنی دلیل کافی نہیں یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ سب جھوٹ، نفرت اور فساد مچانے کے لیے بنایا اور دکھایا گیا ہے ؟ ان دو فلموں کو مسلم و غیر مسلم کے درمیان سخت نفرت پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے مگر 72 حوریں میں صاف اور سیدھے اسلام پر حملہ ہوا۔ اس میں دکھایا گیا کہ اسلام یہ درس دیتا ہے کہ ہندوؤں کو ناحق قتل کر دو تم کو جنت میں 72 حوریں ملیں گی معاذ اللہ! پہلی بات جب اسلام اس دنیا میں پھیل رہا تھا تو ہندوؤں کا وجود آیا کہاں سے ؟ اور کفار کو قتل کرنے کا حکم تو قرآنِ پاک میں آیا تو وہ اُس وقت کے لیے تھا اور اپنی جان بچانے کے لیے۔ یہ سب آیتیں حق ہیں اور حکم ایک وقت کے لیے تھا۔ خود اللہ پاک نے ناحق قتل کرنے والوں کی سزا مقرر فرمائی ہے، اے دشمنو! تم اپنے جال میں خود پھنس گئے! میرے رحیم و کریم رب تعالیٰ کی قدرت تم کیا جانو ؟

دوسری بات اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے انسانیت سکھائی ہے تو اسلام ایسا درس کیونکر دے گا ؟ اس فلم میں دکھایا گیا کہ مسلمان جنت اور حوروں کے لالچ میں ہندوؤں کو قتل کر رہے ہیں۔
قرآن و حدیث سے علمائے کرام نے فرمایا: اے لوگو! یاد رکھنا جب تک دل میں عشقِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نہیں ہوگا عشقِ انبیاء و صحابہ و اولیاء نہیں ہوگا تب تک جنت قطعی نہیں ملے گی یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اے دشمنو! تم پھر سے پھنس گئے، ہم مسلمانوں کو جنت کی نہیں اللہ و رسول ﷺ کی خواہش رہتی ہے! ہمارے دین نے کہیں کبھی ہندو کو جنت کے لیے مارنا نہیں بتایا یہ بھی ہندوؤں کی سازشیں ہیں جن میں لوگ (معاذ اللہ) پھنس بھی جا رہے ہیں۔ اس فلم کی کہانی لکھنے اور دکھا کر نفرت پھیلانے والا Anil Pandey ہے۔ میرا ایک سوال ہے کہ وہ ہندو جس کو یہ بھی نامعلوم ہو کے ”ب“ میں نقطہ کہاں رہے گا وہ کیسے بتا سکتا ہے کہ دینِ اسلام کیا کیا حکم دیتا ہے ؟ ہاں یہ سب دشمنانِ اسلام اور مرتدین ضرور کچھ ادھوری باتوں کو جان کر فسادی بنا کر سب کے سامنے لا کر اسلام پر حملہ کرتے ہیں، جو کہ ہر اہلِ عقل کے نزدیک برا اور کارِ لائقِ سزا ہے۔

پیغامِ برکات: اے مسلمانو! اے مسلمانو! اے اللہ کے بندو! اے سرکارِ دو جہاں ﷺ کے امتیو! ابھی وقت ہے جاگو اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے باہر نکلو۔ غور کرو کیسے اور کتنی تیزی سے کتنے نئے اور گندے طریقوں سے اسلام پر حملہ ہو رہا ہے۔ ابھی وقت ہے بیدار ہو جاؤ تاکہ ایسی فلمیں نام نہ بنیں اور نفرت نہ پھیلے، اور اسلام پر اور حملے نہ ہوں ورنہ دور نہیں تم ایسی فلموں ہی کے ذریعے اپنے ہی گھروں سے باہر پھینک دیے جاؤ گے اور اپنے وطن ہندوستان کو چھوڑ کر جانا پڑ جائے گا۔ اتنا اشارہ کافی ہے بات سمجھانے کے لیے کہ یہ بات کتنی پیچیدہ ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ان سب فلموں پر اور پوری تحقیق کر کے ان کا پردہ سب کے سامنے فاش کیا جائے گا۔ اللہ پاک ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے، دشمنانِ اسلام سے ہمارے مذہب مہذب کی حفاظت فرمائے، ہمیں دینِ اسلام پر مر مٹنے کا جذبہ عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔

★ محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
٢٦؍محرم الحرام ؁١٤٤٥ھ

Scan this QR code to read online:

QR Code