صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
میلاد کی طرح ہر نعمت پر سالانہ جشن کیوں نہیں ؟
تحقیق و تعاقب

میلاد کی طرح ہر نعمت پر سالانہ جشن کیوں نہیں ؟

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

میلاد کی طرح ہر نعمت کے لیے سالانہ جشن کیوں نہیں منایا جاتا ؟
جشنِ عید میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر یہ بھی اعتراض بدمذہبوں نے کیا کہ
اگر میلاد ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نعمت پر خوشی منانے کا نام ہے تو پھر ہر نعمت کی سالانہ خوشی منانی پڑے گی؛ آخر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتیں دی ہیں!
حقیقت میں اصلِ قیاس ہی محلِّ نظر ہے۔ ہر نعمت کا حکم ایک جیسا نہیں ہوتا، اور شریعت نے بعض نعمتوں اور بعض اوقات کو خصوصی فضیلت عطا فرمائی ہے۔
پہلی بات: اسلام نے نعمتوں کے تذکرے کو ممنوع نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ
یعنی نعمت کا ذکر کرنا بذاتِ خود ممنوع نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو یاد کرنے کا حکم دیا:
وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ [المائدۃ-٧]
اور یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر۔
ہر نعمت کی نوعیت یکساں نہیں
اگر کوئی شخص کہے کہ ”پھر ہر نعمت کا سالانہ جشن مناؤ“، تو یہ لازمِ باطل ہے؛ کیونکہ ہم یہ اصول مانتے ہی نہیں کہ ہر نعمت کے لیے سالانہ جشن ضروری ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے ہمیں صحت عطا فرمائی، رزق دیا، اولاد دی، والدین دیے، علم دیا، ایمان دیا۔ کیا ان میں سے ہر نعمت کے لیے سالانہ جشن منانا شرعاً لازم ہے ؟ نہیں! اور اہلِ سنت نے ایسا کبھی نہیں کہا۔ میلاد کے جواز کا مطلب یہ نہیں کہ ہر نعمت کا سالانہ جشن ضروری ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے: ”اگر جمعہ کا دن فضیلت والا ہے تو ہفتے کے ہر دن کو بھی جمعہ بنانا پڑے گا!“ یہ قیاس ہی غلط ہے؛ کیونکہ خصوصیت دلیل سے ثابت ہوتی ہے، قیاس سے نہیں۔ اللہ تعالیٰ خود بعض دنوں کو خصوصی بناتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [ابراہیم-٥]
اور انہیں اللہ کے دن یا د دِلا۔
غور کیجیے!
اللہ تعالیٰ نے تمام دنوں کو ایک ہی درجے میں نہیں رکھا بلکہ ”أَيَّامِ اللَّهِ“ یعنی اللہ تعالیٰ کے خصوصی دنوں کی یاد دہانی کا حکم دیا۔ اب اگر کوئی کہے: ہر دن تو اللہ تعالیٰ ہی کا ہے، پھر کچھ دنوں کو خصوصی کیوں کہا ؟ تو جواب ہوگا: دن سب اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں، مگر بعض دنوں کو اللہ تعالیٰ نے خاص نسبت اور خصوصیت عطا فرمائی۔ اسی طرح ہر نعمت اللہ تعالیٰ کی ہے، مگر ہر نعمت کی اہمیت، نوعیت اور شرعی نسبت یکساں نہیں۔
ایک اور نہایت واضح مثال:
عاشورا
صحیح حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو عاشورا کے دن روزہ رکھتے دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات عطا فرمائی۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
نَحْنُ أَحَقُّ بِمُوسیٰ مِنْكُمْ (بخاری شریف، کتاب الصوم)
مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پھر روزہ بھی رکھا۔ اب غور کریں: ایک مخصوص تاریخی نعمت کو ایک مخصوص دن کے ساتھ یاد کرنا خود سنتِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ کسی نعمت کی یاد کے لیے مخصوص دن کا انتخاب بذاتِ خود کوئی عجیب چیز نہیں۔
نعمت پر شکر کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں۔ شکر صرف ایک ہی طریقے کا نام نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا [سبا-١٣]
اے داود والوشکر کرو۔
یعنی شکر عمل کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے پیر کے دن روزہ رکھتے ہوئے اپنی ولادت کی نسبت بیان فرمائی: ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ
لہٰذا ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نسبت سے شکر کا ایک خصوصی عمل خود سنت سے ثابت ہے۔
اصل اعتراض میں ایک پوشیدہ مغالطہ
اعتراض کرنے والا کہتا ہے:
اگر ایک نعمت کی خوشی منائی تو ہر نعمت کی خوشی منانی پڑے گی۔ یہ تعمیمِ ناروا ہے۔ ہم کہتے ہیں: کسی ایک چیز کا جواز دوسری تمام چیزوں کے وجوب کو مستلزم نہیں۔ جیسے:
جمعہ کو خاص فضیلت حاصل ہے، تو کیا ہر دن جمعہ ہونا ضروری ہے؟ نہیں۔
رمضان کو خاص فضیلت حاصل ہے، تو کیا ہر مہینہ رمضان ہونا ضروری ہے ؟ نہیں۔
شبِ قدر کو خاص فضیلت حاصل ہے، تو کیا ہر رات شبِ قدر ہونا ضروری ہے ؟ نہیں۔
اسی طرح ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خوشی کا ایک مخصوص اظہار اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ دنیا کی ہر نعمت کا سالانہ جشن بنایا جائے۔
سب سے بڑی نعمت کون سی ؟
یہاں ایک بنیادی سوال ہے: کیا تمام نعمتیں ایک ہی درجے کی ہیں ؟ یقیناً نہیں۔ مال ملنا نعمت ہے، صحت نعمت ہے، اولاد نعمت ہے؛ لیکن ایمان، ہدایت اور رسولِ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کی بعثت ایسی نعمتیں ہیں جن سے پوری انسانیت کی آخرت وابستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ
جب خود رب العالمین نے بعثتِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو احسان قرار دیا تو اس عظیم نعمت کا تذکرہ اور اس پر شکر کو عام نعمتوں کے ساتھ یکساں پیمانے سے ناپنا درست نہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
خلاصۂ جواب
لہٰذا اعتراض کا جواب نہایت واضح ہے:
ہم نے یہ اصول کہا ہی نہیں کہ ہر نعمت کا سالانہ جشن منانا ضروری ہے۔ شریعت نے ہر نعمت کے لیے یکساں طریقہ مقرر نہیں کیا۔ بعض نعمتیں اور بعض ایام اپنی مخصوص نسبت کی وجہ سے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ قرآنِ مجید نے ”أَيَّامِ اللَّهِ“ کو یاد کرنے کا حکم دیا، عاشورا کے دن حضرتِ سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یاد کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے روزہ رکھا، اور اپنی ولادت کے بارے میں فرمایا: ”ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ“۔ لہٰذا میلاد کے لیے استدلال یہ نہیں کہ ہر نعمت کا سالانہ جشن لازم ہے، بلکہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں کو شرعی حدود میں یاد کرنا اور ان پر شکر ادا کرنا جائز و مشروع اصل رکھتا ہے۔
اعتراض کا مغالطہ یہ ہے کہ ”ایک نعمت کے خصوصی اظہار“ سے ”ہر نعمت کے لیے سالانہ جشن“ لازم سمجھ لیا گیا، حالانکہ شریعت میں تخصیص ہمیشہ دلیل سے ہوتی ہے، محض قیاس سے نہیں۔
از:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
55
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط چہارم)

کیا میلاد صحابۂ کرام کی محبت کے خلاف ہے؟

میلاد کی طرح ہر نعمت پر سالانہ جشن کیوں نہیں ؟

پی ڈی ایف تیار ہو رہی ہے، برائے مہربانی انتظار کریں...

PDF ڈاؤنلوڈ ہوتے ہی یہ ونڈو بند ہو جائے گی۔

Jamiatur Raza Students Portal
Jamiatur Raza Students Portal
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

میلاد کی طرح ہر نعمت پر سالانہ جشن کیوں نہیں ؟

قلمکار: Muhammad Anas Raza Haami

*میلاد کی طرح ہر نعمت کے لیے سالانہ جشن کیوں نہیں منایا جاتا ؟*

جشنِ عید میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر یہ بھی اعتراض بدمذہبوں نے کیا کہ
اگر میلاد ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نعمت پر خوشی منانے کا نام ہے تو پھر ہر نعمت کی سالانہ خوشی منانی پڑے گی؛ آخر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتیں دی ہیں!
حقیقت میں اصلِ قیاس ہی محلِّ نظر ہے۔ ہر نعمت کا حکم ایک جیسا نہیں ہوتا، اور شریعت نے بعض نعمتوں اور بعض اوقات کو خصوصی فضیلت عطا فرمائی ہے۔

پہلی بات: اسلام نے نعمتوں کے تذکرے کو ممنوع نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
” وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ”
یعنی نعمت کا ذکر کرنا بذاتِ خود ممنوع نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو یاد کرنے کا حکم دیا:
“وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ” [المائدۃ-٧]
اور یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر۔

ہر نعمت کی نوعیت یکساں نہیں
اگر کوئی شخص کہے کہ ”پھر ہر نعمت کا سالانہ جشن مناؤ“، تو یہ لازمِ باطل ہے؛ کیونکہ ہم یہ اصول مانتے ہی نہیں کہ ہر نعمت کے لیے سالانہ جشن ضروری ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے ہمیں صحت عطا فرمائی، رزق دیا، اولاد دی، والدین دیے، علم دیا، ایمان دیا۔ کیا ان میں سے ہر نعمت کے لیے سالانہ جشن منانا شرعاً لازم ہے ؟ نہیں! اور اہلِ سنت نے ایسا کبھی نہیں کہا۔ میلاد کے جواز کا مطلب یہ نہیں کہ ہر نعمت کا سالانہ جشن ضروری ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے: ”اگر جمعہ کا دن فضیلت والا ہے تو ہفتے کے ہر دن کو بھی جمعہ بنانا پڑے گا!“ یہ قیاس ہی غلط ہے؛ کیونکہ خصوصیت دلیل سے ثابت ہوتی ہے، قیاس سے نہیں۔ اللہ تعالیٰ خود بعض دنوں کو خصوصی بناتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
” وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ” [ابراہیم-٥]
اور انہیں اللہ کے دن یا د دِلا۔

غور کیجیے!
اللہ تعالیٰ نے تمام دنوں کو ایک ہی درجے میں نہیں رکھا بلکہ ”أَيَّامِ اللَّهِ“ یعنی اللہ تعالیٰ کے خصوصی دنوں کی یاد دہانی کا حکم دیا۔ اب اگر کوئی کہے: ہر دن تو اللہ تعالیٰ ہی کا ہے، پھر کچھ دنوں کو خصوصی کیوں کہا ؟ تو جواب ہوگا: دن سب اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں، مگر بعض دنوں کو اللہ تعالیٰ نے خاص نسبت اور خصوصیت عطا فرمائی۔ اسی طرح ہر نعمت اللہ تعالیٰ کی ہے، مگر ہر نعمت کی اہمیت، نوعیت اور شرعی نسبت یکساں نہیں۔

ایک اور نہایت واضح مثال:
عاشورا
صحیح حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو عاشورا کے دن روزہ رکھتے دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات عطا فرمائی۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” نَحْنُ أَحَقُّ بِمُوسیٰ مِنْكُمْ” (بخاری شریف، کتاب الصوم)
مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پھر روزہ بھی رکھا۔ اب غور کریں: ایک مخصوص تاریخی نعمت کو ایک مخصوص دن کے ساتھ یاد کرنا خود سنتِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ کسی نعمت کی یاد کے لیے مخصوص دن کا انتخاب بذاتِ خود کوئی عجیب چیز نہیں۔

نعمت پر شکر کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں۔ شکر صرف ایک ہی طریقے کا نام نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
” اِعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا ” [سبا-١٣]
اے داود والوشکر کرو۔
یعنی شکر عمل کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے پیر کے دن روزہ رکھتے ہوئے اپنی ولادت کی نسبت بیان فرمائی: “ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ”
لہٰذا ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نسبت سے شکر کا ایک خصوصی عمل خود سنت سے ثابت ہے۔

اصل اعتراض میں ایک پوشیدہ مغالطہ
اعتراض کرنے والا کہتا ہے:
اگر ایک نعمت کی خوشی منائی تو ہر نعمت کی خوشی منانی پڑے گی۔ یہ تعمیمِ ناروا ہے۔ ہم کہتے ہیں: کسی ایک چیز کا جواز دوسری تمام چیزوں کے وجوب کو مستلزم نہیں۔ جیسے:
جمعہ کو خاص فضیلت حاصل ہے، تو کیا ہر دن جمعہ ہونا ضروری ہے؟ نہیں۔
رمضان کو خاص فضیلت حاصل ہے، تو کیا ہر مہینہ رمضان ہونا ضروری ہے ؟ نہیں۔
شبِ قدر کو خاص فضیلت حاصل ہے، تو کیا ہر رات شبِ قدر ہونا ضروری ہے ؟ نہیں۔
اسی طرح ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خوشی کا ایک مخصوص اظہار اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ دنیا کی ہر نعمت کا سالانہ جشن بنایا جائے۔

سب سے بڑی نعمت کون سی ؟
یہاں ایک بنیادی سوال ہے: کیا تمام نعمتیں ایک ہی درجے کی ہیں ؟ یقیناً نہیں۔ مال ملنا نعمت ہے، صحت نعمت ہے، اولاد نعمت ہے؛ لیکن ایمان، ہدایت اور رسولِ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کی بعثت ایسی نعمتیں ہیں جن سے پوری انسانیت کی آخرت وابستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:” لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ”
جب خود رب العالمین نے بعثتِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو احسان قرار دیا تو اس عظیم نعمت کا تذکرہ اور اس پر شکر کو عام نعمتوں کے ساتھ یکساں پیمانے سے ناپنا درست نہیں۔

خلاصۂ جواب
لہٰذا اعتراض کا جواب نہایت واضح ہے:
ہم نے یہ اصول کہا ہی نہیں کہ ہر نعمت کا سالانہ جشن منانا ضروری ہے۔ شریعت نے ہر نعمت کے لیے یکساں طریقہ مقرر نہیں کیا۔ بعض نعمتیں اور بعض ایام اپنی مخصوص نسبت کی وجہ سے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ قرآنِ مجید نے “”أَيَّامِ اللَّهِ“” کو یاد کرنے کا حکم دیا، عاشورا کے دن حضرتِ سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یاد کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے روزہ رکھا، اور اپنی ولادت کے بارے میں فرمایا: “”ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ“”۔ لہٰذا میلاد کے لیے استدلال یہ نہیں کہ ہر نعمت کا سالانہ جشن لازم ہے، بلکہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں کو شرعی حدود میں یاد کرنا اور ان پر شکر ادا کرنا جائز و مشروع اصل رکھتا ہے۔
اعتراض کا مغالطہ یہ ہے کہ ”ایک نعمت کے خصوصی اظہار“ سے ”ہر نعمت کے لیے سالانہ جشن“ لازم سمجھ لیا گیا، حالانکہ شریعت میں تخصیص ہمیشہ دلیل سے ہوتی ہے، محض قیاس سے نہیں۔

★ “از:”
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی

مضمون آن لائن پڑھنے کے لیے اسکین کریں:

QR Code