صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
شخصیات اسلاف واخلاف

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
حضرت ابوالقاسم اسمٰعیل حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سید غلام محی الدین فقیر عالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت سید اولاد رسول محمد میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضور صاحبِ عرسِ قاسمی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ

میری قسمت کی برائی نیکی سے کر دی بدل
حضرتِ ”بوالقاسمِ“ خیر الهدیٰ کے واسطے
(شجرۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ)
نام و نسب:
آپ کا نام حضرت سید ”محمد اسمٰعیل حسن“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ لقب مجدد برکاتیت، شاہ جی میاں ہے، تخلص وقارؔ ہے، کنیت ابوالقاسم ہے۔ آپ حضرت سید الصادقین شاہ محمد صادق علیہ الرحمۃ بن سید اولاد رسول بن سید آل برکات ستھرے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بڑے شہزادے ہیں۔
ولادتِ مبارکہ:
حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ٣؍محرم ؁١٢٧٢ھ مارہرہ شریف میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت:
حضور مجدد برکاتیت علیہ الرحمۃ والرضوان کی بسم اللّٰہ خوانی کی رسم حضور خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ادا فرمائی۔ شروعاتی تعلیم والد ماجد سید الصادقین شاہ محمد صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل کی۔ بقیہ اساتذہ بھی اپنے وقت کے ماہرین تھے۔ حافظ ولی دادا خان صاحب مارہروی، حافظ عبدالقادر صاحب لکھنوی، حافظ عبدالکریم صاحب سے قرآن مجید حفظ فرمایا۔ مولوی عبدالشکور صاحب، مولوی عبدالغنی صاحب، مولوی محمد علی صاحب لکھنوی، مولوی حسن صاحب سنبھلی، فضل اللّٰہ صاحب فرنگی محلی، تاج الفحول علامہ فضل رسول بدایونی علیہم الرحمۃ سے درسی تعلیم حاصل کی۔ سلوک و معرفت کے اساتذہ حضور خاتم الاکابر، حضور سرکارِ نور و والد ماجد سید الصادقین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم ہیں۔ ٣٠؍سال کی عمر میں قرآنِ مجید کو اپنے ذوق و شوق سے حفظ فرمایا۔ علم جفر، رمل و تکسیر میں مہارت حاصل تھی۔
مجددِ برکاتیت:
حضرت شاہ اسماعیل حسن علیہ الرحمۃ کا وہ دَور تھا کہ جب خانقاہِ برکاتیہ کی علمی شناخت اور خانقاہی روایتوں کو مضبوط کرنے کی بے حد ضرورت تھی۔ خاندانی روایات پر نظرِ عمیق فرمائی، روایات کو یکجا کیا۔ حضرت شاہ قاسم نے اس وقت بڑے تجدیدی کارنامے انجام دیے۔
اپنے فرزندانِ گرامی خاص کر اپنے نواسوں کو علمِ شریعت اور طریقت میں مضبوط تر کیا۔ یہاں تک کہ اپنے گھر کی بیٹیوں کو بھی حافظہ کرایا، خاندانی علم کو جمع کیا، علماء و مشائخ کی رسائی کو خانقاہ میں بڑھایا، غرض کہ کوئی ایسا عمل نہیں چھوڑا جو خانقاہ کی پرانی روایتوں اور قدروں کو بحال نہ کر دے، اس لیے آج ان کو ”مجدد برکاتیت“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
حضور مجدد برکاتیت کی چند مشہور تصانیف: رسالہ رد القضاء من الدعاء في اعمال دفع الوباء، مجموعہ سلاسل منظوم، مجموعہ کلام، رسالہ اعمال و تکسیر، کرامات ستھرے میاں، مفاوضاتِ طیبہ، گلدستۂ چمنستانِ سنیت وغیرہ۔

گلدستۂ چمنستانِ سنیت اور مفاوضاتِ طیبہ کا تعارف

یہ سگِ حضور امین ملت مدظلہ العالی و خاک پائے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ اپنی قسمت پر جس قدر بھی نازاں ہو اتنا کم ہے کہ حضور مجدد برکاتیت سیدنا شاہ ابوالقاسم اسمعیل حسن شاہ جی میاں صاحبِ عرسِ قاسمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اس قابل سمجھا کہ ان کا فیض مجھ پر برسا اور یہ ان کی دو مایا ناز تحریر پر کچھ رقم کرنے کی قابلیت حاصل کر رہا ہے۔ بے شک اللہ رب العزت جسے جو چاہے عطا فرمائے اور جس کو جیسی چاہے قابلیت عطا فرمائے اور اللہ رب العزت کی عطا سے اس کے نیک بندے جس پر بھی نظر فرمائیں وہ دین کی خدمت کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ مشائخ مارہرہ مطہرہ کا بھی یہی عالم ہے تبھی تو میرے امام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پیر خانے کے تمام بزرگان دین کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:
کیسے آقاؤں کا بندہ ہوں رضاؔ
بول بالے میری سرکاروں کے
گلدستۂ چمنستانِ سنّیت: ایک فکری و روحانی سرمایہ
دورِ حاضر میں جب فکری انتشار، الحاد، تجدد اور مغربی افکار کے سیلاب نے ملتِ اسلامیہ کے تشخص کو متزلزل کرنے کی کوشش کی، اُس نازک وقت میں اہلِ حق کے کچھ معزز افراد ایسے بھی اٹھے جنہوں نے قلم کو تلوار اور تحریر کو جہاد بنا لیا۔ انہیں عظیم مبارک ہستیوں میں اولادِ رسول کریم ﷺ، چشم و چراغِ خاندانِ حضور صاحب البرکات، شہزادۂ خاتم الاسلاف، حضور مجدد برکاتیت سید شاہ ابوالقاسم اسمٰعیل حسن حضرت شاہ جی میاں قدس سرہ العزیز کا نام نہایت درخشاں حیثیت رکھتا ہے۔ سیدنا صاحبِ عرسِ قاسمی علیہ الرحمۃ والرضوان نے اپنی باریک بین نظر اور دردِ دل سے امت کے فکری و عملی زوال پر غور فرمایا اور اصلاحِ امت کے لیے قلم کو وسیلہ بنایا۔
ان ہی اصلاحی تحریروں کا حسین مجموعہ گلدستۂ چمنستانِ سنّیت ہے، جو دراصل حضور مجدد برکاتیت شاہ جی میاں قدس سرہٗ کے گراں قدر اور مختصر مگر نہایت جامع مضامین پر مشتمل ہے۔ ان مضامین کو اولادِ رسول خدا ﷺ، شہزادۂ حضور مجدد برکاتیت، حضور تاج العلماء، حضرت سید شاہ اولاد رسول محمد میاں قادری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے خود اپنی نگرانی میں ترتیب و تحشیہ کے ساتھ جمع فرمایا اور یہ مجموعہ مطبع صبحِ صادق سے طبع ہو کر دارالاشاعت برکاتی سے شائع ہوا۔
پس منظرِ تصنیف: یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کے علمی و مذہبی ماحول میں سر احمد خاں اور اس کے متبعین کی تحریکات نے ایک نئی فکری سمت پیدا کر دی تھی۔ اسلام کی تعبیرِ جدید کے نام پر ایمان و عقائد کے بنیادی اصولوں میں تاویلات کی راہیں کھلنے لگیں، اور ”تہذیبِ جدید“ کے نام پر مغربی فلسفے کے اثرات پھیلنے لگے۔ اس دور میں بہت سے اخبارات و جرائد بھی انہیں نظریات کے ترجمان بن گئے۔ حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے محسوس فرمایا کہ اگر امت کے افراد کو فکری بیداری نہ دی گئی تو یہ رجحانات رفتہ رفتہ ایمان و عمل کے لیے مہلک ثابت ہوں گے۔ چنانچہ حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں اخبارات کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسے مضامین تحریر فرمائے جو ایک طرف اصلاح و تبلیغ کا ذریعہ تھے اور دوسری جانب باطل نظریات کی بیخ کنی کا مؤثر ہتھیار۔
مجموعے کی خصوصیات: گلدستۂ چمنستانِ سنّیت میں شامل اکثر مضامین کا اسلوب مختصر مگر نہایت مؤثر ہے، کیونکہ ان کی اشاعت کا بنیادی مقصد عوام و خواص کو فوری طور پر غلط رجحانات سے آگاہ کرنا تھا۔ ان میں نہ صرف مسائلِ عصر پر روشنی ڈالی گئی ہے بلکہ علمی و شرعی استدلال کے ساتھ اُن کا ازالہ بھی کیا گیا ہے۔
مضامین کے نمایاں عنوانات حسبِ ذیل ہیں: آسانی، مدعیانِ ہمدردیِ اسلام کی خیالی ترقی، محمڈن کالج علی گڑھ باعثِ ترقیِ اسلام ہے ؟، پیروانِ سر (احمد) و ہمدردانِ محمڈن کالج کی خدمت میں ضروری عرض، مجرد دعویٰ، مسلمانوں کی افسوسناک حالت، مسلمانوں کی ترقی کے اسباب کیا ہیں ؟، کیا علی گڑھ یونیورسٹی کا قیام سببِ ترقئ اسلام ہے ؟، مسلمانوں کے تنزل کے اسباب کے سوالات کے جواب، اسلام کی بزبانِ حال مسلمانوں سے شکایت، روحِ اسلام پر حمد، انجمنِ خدامِ کعبہ، انجمنِ خدامانِ کعبہ کے متعلق حاجی اسماعیل خاں صاحب رئیسِ دتارکی کے خیالات کا خلاصہ اور اس پر تنقید، اور دل کی سیر وغیرہ۔
ان تمام عنوانات سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت صاحبِ عرسِ قاسمی رحمه اللّٰہ تعالیٰ کی تحریروں کا مقصد امت کے فکری و اعتقادی دفاع کے ساتھ ساتھ اُن کے اندر خود اعتمادی اور ایمانی غیرت پیدا کرنا تھا۔
نمایاں مضامین: اس مجموعے میں دو مضامین نہایت طویل اور فکری لحاظ سے وقیع ہیں: (١) مسلمانوں کے تنزل کے اسباب کے سوالات کے جواب یہ مضمون تقریباً دس صفحات پر مشتمل ہے، جو حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مولوی محبوب عالم صاحب کے سات سوالات کے جواب میں تحریر فرمایا۔ ان سوالات کے جوابات ایڈیٹر ”پیسہ“ نے عبدال بہاء کے جوابات کے ساتھ شائع کیے۔ اگرچہ حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مضمون میں سوالات کو صراحتاً درج نہیں کیا، لیکن جوابات کے مطالعے سے سوالات کی نوعیت اور علمی پس منظر بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔ (٢) اسلام کی بزبانِ حال مسلمانوں سے شکایت: یہ مضمون بھی تقریباً دس صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں اسلام کو زبان دے دی گئی ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں سے اسلام بے زاری کی شکایت کرتا ہے۔ اس کا آغاز نہایت پراثر اشعار سے ہوتا ہے:
مخالف کی اپنے کروں کیا شکایت
موافق بھی دینے لگے اب اذیت
یہ مضمون دراصل ایک آئینہ ہے، جس میں امت اپنی کمزوریاں اور محرومیاں صاف دیکھ سکتی ہے۔
ترتیب و تدوین: آقائی ماوائی ملجائی سیدی و سندی حضور تاج العلماء محمد میاں قادری مارہروی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اس مجموعے کی ترتیب و اشاعت کے سلسلے میں خود تحریر فرمایا:
ان مضامین کی ترتیب کے سلسلے میں حضرت تاج العلماء تحریر فرماتے ہیں:
”ان میں سے بعض مضامین کسی قدر بغیر کمی بیشی کے ساتھ بعض اخباروں میں فقیر کے نام سے شائع شدہ اس وقت بھی فقیر کے پیش نظر ہیں جن کی تاریخ اشاعت و نام اخبار شائع کنندہ کا حوالہ ان کے حاشیہ پر دے دیا ہے اور بعض مضامین کے متعلق فقیر کو یہ پستہ اس وقت نہ ملا کہ یہ اب سے پہلے بھی شائع ہوئے ہیں یا نہیں ؟ اور ان کے ساتھ ان کی تحریر کی کوئی تاریخ بھی لکھی ہوئی نہ ملی۔ لہٰذا فقیر نے تاریخ تحریر کے لحاظ سے جمع و ترتیب میں تقدیم و تاخیر کا چنداں لحاظ نہیں رکھا ہے۔ عنوان میں سے بعض مضامین کے خود حضرت کے قائم فرمائے ہوئے ہیں اور بعض کے یہ مناسبت مضمون فقیر نے قائم کر دیتے ہیں۔ جملہ مضامین جو اس مجموعہ میں مندرج ہیں، فقیر کے ظن غالب میں کوئی بھی ١٣٣١ھ کے بعد کا تحریر فرمودہ نہیں ہے ۔“ (گلدستۂ چمنستانِ سنّیت، ص۲)
”مزید یہ کہ اس مجموعے کی ترتیب کا آغاز پنجشنبہ (جمعرات) 3/ربیع الاول شریف ۱۳۵۴ھ کو ہوا، اور تکمیل چہارشنبہ (بدھ) ۲۲ ربیع الآخر ۱۳۵۴ھ کو ہوئی۔“ (گلدستۂ چمنستانِ سنّیت، ص۵۲)
”گلدستۂ چمنستانِ سنّیت“ محض ایک مجموعۂ تحریرات نہیں بلکہ ایک فکری بیداری کی دستاویز ہے۔ اس میں حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے قلم سے امتِ مسلمہ کے لیے جو درد، بصیرت اور خیرخواہی ظاہر ہوتی ہے، وہ بلاشبہ دعوتی و اصلاحی تحریکات کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ مجموعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دین کی حفاظت صرف منبر و محراب کی ذمہ داری نہیں بلکہ قلم و قرطاس کا بھی حقِ عظیم ہے۔ حضرت مجدد برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس تصنیف کا ہر صفحہ گواہی دیتا ہے کہ آپ کے قلم میں دردِ امت اور غیرتِ ایمانی یکجا تھی۔ آپ نے اپنے عہد کے فتنوں کا بے باکی سے سامنا کیا اور اسلام کی سربلندی کے لیے ہر فکری محاذ پر جہاد فرمایا۔
اللہ تعالیٰ حضرت شاہ جی میاں قدس سرہٗ اور حضرت تاج العلما قدس سرہٗ کے فیوض و برکات کو تا قیامت جاری و ساری رکھے، اور ہمیں بھی اس گلدستے کی خوشبو سے اپنے ایمان و عمل کو معطر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔
میری قسمت کی برائی نیکی سے کر دے بدل
حضرتِ بوالقاسمِ خیر الہدیٰ کے واسطے (آمین)
مفاوضاتِ طیبہ: سیدنا شاہ جی میاں قدس سرہٗ کے روحانی مکاتیب کا درخشاں مجموعہ
اہلِ تصوف و علم کی تاریخ میں بزرگانِ طریقت کے مکاتیب ہمیشہ سے رشد و ہدایت کا سرچشمہ رہے ہیں۔ ان مکتوبات کے ذریعے نہ صرف باطنی و روحانی تربیت کے اصول واضح ہوتے ہیں بلکہ ان سے ایک ولئ کامل کے اندرونی اوصاف، دینی بصیرت، اور امتِ مسلمہ کے لیے درد و فکر بھی عیاں ہوتا ہے۔ انہیں زرّیں نقوش میں سیدنا شاہ جی میاں قدس سرہ العزیز کے مکاتیبِ مبارکہ بھی نمایاں اور عظیم الشان مقام رکھتے ہیں، جنہیں میرے آقا کریم ﷺ کے شہزادے، میرے ماویٰ و ملجیٰ سیدنا تاج العلماء محمد میاں قادری برکاتی قدس سرہٗ نے جمع، ترتیب اور تشریح کے ساتھ ۱۳۵۴ھ میں زیورِ طباعت سے آراستہ فرمایا۔
یہ مجموعہ، جس کا عنوان ”مفاوضاتِ طیبہ“ ہے اور مفاوضاتِ طیبہ واو کے فتحہ کے ساتھ معنیٰ ہوا نیک پاکیزہ گفت و شنید۔ کُل ایک سو چھیاسٹھ (۱۶۶) مکاتیب پر مشتمل ہے، اور یہ نہ صرف سلوک و معرفت کے اسرار پر مشتمل ہے بلکہ دینی، اخلاقی، اور معاشرتی رہنمائی کے خزانوں سے بھی لبریز ہے۔
مضامین و موضوعات: حضور مجدد برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہ مکاتیب محض خطوط نہیں بلکہ باطنی تربیت کے آئینے ہیں۔ ان میں روحانیت، اخلاق، صبر، زہد، محبت اور اصلاحِ باطن کے ان گنت گوشے نمایاں ہیں۔ ان خطوط کے مطالعہ سے یہ موضوعات خصوصی طور پر سامنے آتے ہیں:
الحب فی اللہ و البغض فی اللہ (اللہ کے لیے محبت و عداوت کا معیار)
دینی احکام و مسائل میں رہنمائی
روحانیت و طریقت کی ترغیب
مرشدانہ تربیت و تلقین
خاندانی و معاشرتی معاملات میں رواداری
اصلاحِ باطن اور صبر و استقامت کی تلقین
علمائے اہل سنت کے ساتھ تعلقِ عقیدت و حمایتِ حق
یوں یہ مکاتیب حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باطنی افکار و صالح داخلی احوال کا آئینہ ہیں، جو سالکینِ راہِ طریقت کے لیے کامل رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ سے تعلق و محبت: حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اور مجددِ دین و ملت، امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مابین عقیدت و اخلاص کا نہایت مضبوط رشتہ تھا۔ اگرچہ دونوں حضرات ہم عصر رہے، مگر حضرت شاہ جی میاں قدس سرہٗ ہمیشہ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علمی و اعتقادی مقام کے معترف اور ان کی دینی خدمات کے دل و جان سے حامی رہے۔
جب اذانِ ثانی خارجِ مسجد کے مسئلے پر سرکار اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ نے سنتِ کریمہ کا احیا فرمایا اور اس کے ثبوت میں مفصل فتاویٰ تحریر فرمائے، تو حضرت شاہ جی میاں قدس سرہٗ نے نہ صرف اس موقفِ حق کی تائید کی بلکہ عملی طور پر بھی اسے اختیار فرمایا۔ جب ان کے علم میں آیا کہ یہ فتویٰ امام احمد رضا قدس سرہٗ کا ہے، تو فرمایا:
”یہ بڑے مولانا صاحب کا فتویٰ ہے نا ؟ اب آئندہ جمعہ سے اذان خارجِ مسجد دی جائے۔“
یوں حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے پہلے ان علماء میں شامل ہوئے جنہوں نے اس سنتِ مبارکہ کی تائید و ترویج میں حصہ لیا۔ یہی محبتِ رضا کے جلوے حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکاتیب میں جا بجا نمایاں ہیں۔
تسلی و حوصلہ کا خط: جب اہلِ بدایوں کی طرف سے میرے پیارے امام سرکار سیدنا امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان پر اذانِ ثانی کے مسئلے میں مقدمہ دائر کیا گیا، تو حضرت شاہ جی میاں قدس سرہٗ نے نہایت دردمندانہ انداز میں آپ کی تسلی کے لیے ایک مکتوب ارسال فرمایا، جس میں فرمایا: *”فخر الافاضل، صدر الاماثل، افضل العلماء، اجل الفضلاء دامت بركات افاداتهم علينا۔ پس از تسلیم مالوف بالوف تعظیم ملتمس ہوں۔ (سلام و آداب کے بعد مؤدبانہ درخواست پیش کرتا ہوں۔) بفضلہ تعالیٰ فقیر (حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ) بخیر ہے اور خیر و عافیت مزاج مبارک کا مستندعی (طلب کرنے والا)
فقیر کو اس حملہ نا مرضیہ کا جو بظاہر آپ پر اور اصل میں دین اسلام پر ہے، نہایت رنج ہے۔ افسوس صد افسوس کہ ابھی کچھ عرصہ نہیں گذرا ہے اور تقریباً ہزاروں آدمی اس وقت موجود ہیں جنہوں نے حضرت استاذی مولانا مولوی عبد القادر صاحب قدس سرہٗ اور آپ کے مراسم اور محبت کے برتاؤ دیکھے ہیں۔ اب یہ حال ہوا ہے کہ جس سے مسلمان دینداروں کو روحی صدمہ اور بدمذہبوں کو موقعِ شماتت (ایسا موقع جس پر دشمن بدحالی پر خوش ہوں) اور خوشی کا مل گیا ہے۔ اگرچہ ان شاء اللہ تعالیٰ ہوگا کچھ نہیں! مگر معاندین و مخالفینِ مذہبِ حق کو چند دنوں یہ خوشی کا موقع مل گیا۔ فقیر اگرچہ آپ کی کسی ظاہر اعانت کے لائق نہیں مگر ہر وقت دل سے دعا کر رہا ہے کہ اس مخمصہ (بحث و مقابلہ) سے با حسن وجوہ آپ کو طمانیت حاصل ہو اور آپ کے دست و قلم سے دین حق کی ہر طرح سے اعانت ہوتی رہے اور مخالفینِ دین کو ذلت پہنچتی رہے۔ (مفاوضات طیبہ، ص ۱۴ - ۱۵ ، مکتوب نمبر ۱۸)
یہ مکتوب حضور شاہ جی قدس سرہ العزیز کی دینی حمیت، اخلاص، اور نصرتِ حق کا زندہ ثبوت ہے۔
صبر، تحمل اور مصالحانہ روش: حضور تاج العلماء علیہ الرحمۃ والرضوان کا رسالہ مبحث الاذان (اذانِ ثانی خارجِ مسجد کے اثبات میں) جب شائع ہوا تو اس کے رد میں ایک مجہول شخص نے بدایوں سے سخت لب و لہجے میں رسالہ تحریر کیا۔ حضور صاحبِ عرسِ قاسمی علیہ الرحمۃ والرضوان کے سامنے یہ رسالہ پیش ہوا تو آپ نے اہلِ بدایوں کی بدظنی کو رفع کرنے کے لیے مولانا عبد القدیر بدایونی علیہ الرحمۃ والرضوان کے نام ۱۳؍صفر المظفر ؁١٣٣٤ھ کو ایک مفصل مکتوب تحریر فرمایا۔ یہ مکتوب آپ کے صبر، تحمل، دیانت اور بے نفسی کی روشن مثال ہے۔ آپ نے تحریر فرمایا: ”یہ موافقت اور مخالفت محض دینی ہے۔ اگر مخالفین میں سے کوئی صاحب اپنے استدلال مخالفت کو فقہاء اور محدثین کے اقوال مستندہ سے مطابقت دکھلا دیں گے، ہم فوراً وہی مان لیں گے۔ امور دینی میں ضد اور ہٹ اور نفسانیت کا ہرگز دخل نہ ہوگا، یہ خلاف اپنی سمجھ کے موافق ایک دینی فرعی مسئلہ میں ہے۔ خدانخواستہ کسی طرح سے رشتۂ محبت اور مراسم قدیم میں اپنی جانب سے کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ نہ ہوگی۔ آپ صاحبان کو اختیار ہے۔ مسائل فرعیہ میں میرے اکابر سے اور آپ کے بزرگوں سے بھی بعض بعض مسئلہ میں اختلاف رہا ہے مثلا لعن یزید۔ میرے بزرگ مجوز تھے اور حضرت استاذی قدس سرہٗ منع فرماتے تھے۔ کفر ابو طالب میں میرے بزرگ ساکت مثل شیخ محدث دہلوی تھے اور حضرت استاذی کافر جانتے تھے۔ عینیت ذات و صفات باری تعالیٰ و تقدس میں بھی کچھ لفظی اختلاف تھا اور بعض مسائل فرعیہ اور بھی ہیں جن کی تفصیل تطویل ہے۔ (مفاوضات طیبہ ،ص ۱۳، مکتوب نمبر ۱۲)“
یہ مکتوب تقریباً چودہ صفحات پر پھیلا ہوا ہے اور حضور مجدد برکاتیت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اخلاص، وسعتِ نظر اور تحملِ مزاج کی منہ بولتی تصویر ہے۔
روحانی و اخلاقی تعلیمات: حضور صاحبِ عرسِ قاسمی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے مکاتیب میں دینی راہنمائی اور روحانی تربیت کا عنصر جا بجا موجود ہے۔ مثلاً رحمتِ الٰہی صاحب گورداسپوری کو تحریر فرماتے ہیں: ”تمہارے واسطے دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ تمہارے مقاصد پورے کرے۔ نماز پڑھا کرو۔ تلاوت قرآنِ مجید بھی کیا کرو۔ والدین کی اطاعت ضروری ہے۔ تمہاری والدہ صاحبہ کے مقاصد کے پورے ہونے کے دعا کرتا ہوں (ان کو) اپنی اولاد پر شفقت اور خاوند کی اطاعت ضروری ہے۔ اگر اس میں کوئی تکلیف ہو تو اسے بھی راحت سمجھنا چاہئے۔ ( ایضاً ص ۳۸ ، مکتوب: ۳۱)
اسی طرح ایک دوسرے مکتوب میں آپ کی خودداری اور بے طمعی کا اظہار نہایت صاف الفاظ میں ملتا ہے: ”میں چراغ کندہ نہیں کر سکتا ہے۔ میں اس کی دکانداری نہیں کرتا ہوں۔ نقش البتہ تحریر کر سکتا ہوں آپ کندہ کرائیں۔“ (ایضا، ص ۳۹)
ایک جگہ فرماتے ہیں: ”تمہاری حق کوشی سے بہت خوش ہوا۔ کسی کا ناحق حق لینا اچھا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بہتر مکان عطا فرمائے۔“ (ایضا، ص ۴۰)
اشاعت و اہمیت: یہ مجموعہ مجموعی طور پر ۱۶۶؍مکاتیب اور ۹۸؍صفحات پر مشتمل ہے۔ حضور تاج العلماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے مطبع صبحِ صادق پریس، سیتاپور میں طبع کرا کے دارالاشاعت برکاتی، خانقاہِ برکاتیہ سے شائع فرمایا۔ اگرچہ اس پر سنِ اشاعت اور قیمت درج نہیں، لیکن بعد ازاں عرسِ قاسمی مارہرہ مطہرہ (۱۹۹۷ء) کے موقع پر اہلِ سنت کی آواز کے خصوصی شمارے میں اسے دوبارہ اشاعتِ عام کے لیے شامل کیا گیا۔
الغرض، مفاوضاتِ طیبہ محض خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ روحانیت، علم و حلم، محبتِ اہلِ سنت اور حمایتِ حق کی ایک روشن دستاویز ہے۔ حضور شاہ جی میاں قدس سرہٗ کے یہ مکاتیب اُن کے پاکیزہ باطن، انکسار، اخلاص، اور امتِ مسلمہ کے لیے درد کا مظہر ہیں۔ یہ خطوط آج بھی سالکینِ راہِ حقیقت کے لیے چراغِ راہ ہیں، جو قاری کو ایمان، محبت اور استقامت کے درس سے منور کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان مکاتیبِ مبارکہ کے فیوض و برکات کو عام فرمائے، اور ہمیں بھی ان پاکیزہ تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے، آمین یا رب العلمین۔
یہ خاک پائے حضور تاج المشائخ امین ملت مدظلہ العالی محمد انس رضا حامؔی برکاتی تو رب کی بارگاہ میں یہی عرض گزار ہے:
میری قسمت کی برائی نیکی سے کر دے بدل
حضرتِ بوالقاسمِ خیر الہدیٰ کے واسطے (آمین)
حبِ اولادِ رسولِ پاک ﷺ دے دل میں رچا
شاہ اولادِ رسولِ رہنما کے واسطے (آمین)
نوٹ: یہ مکمل مضمون ١٠٠؍سالہ عرسِ قاسمی برکاتی کے مبارک و مسعود موقع پر ”میگزین: سہ ماہی القلم“ میں شائع ہوا تھا۔ چونکہ اس مضمون کا تعلق حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کی تصانیف سے ہے اس لیے یہاں بھی ذکر کیا گیا۔
چند مشہور خلفاء: شاہ غلام محی الدین فقیر عالم، حضور تاج العلماء، سید آل عبا قادری، سید العلماء و احسن العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم۔
وصالِ ظاہری:
حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١؍صفر المظفر ؁١٣٤٧ھ میں ہوا۔ مزار شریف: گنبدِ برکات کے بائیں جانب دوسرے گنبد کے نیچے آگے سے سب سے پہلے کمرے میں ہے۔
نکاح و اولادِ امجاد:
سرکار شاہ جی میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح ماموں زاد بہن سیدہ منظور فاطمہ قدس سرہا بنت سید نور المصطفیٰ بن سیدنا غلام محی الدین امیر عالم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہما سے ہوا۔ جن سے دو شہزادے سید غلام محی الدین فقیر عالم و تاج العلماء سید اولاد رسول فخر عالم محمد میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کی ولادت ہوئی۔ چار شہزادیاں زاہد فاطمہ، اعجاز فاطمہ، حمیراء فاطمہ و اکرام فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہن۔
ولئ کامل کی نگاہیں وہ دیکھ سکتی ہیں جہاں کسی کی نگاہوں کی رسائی نہیں۔ دونوں شہزادوں سے اولاد کا سلسلہ موقوف ہونا تھا جس کا علم از عطائے الٰہی سرکار مجدد برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہو گیا۔ پس اپنی ظاہری زندگی میں اپنے حقیقی نواسے حضور احسن العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا، آج الحمدللّٰہ تعالیٰ اس مبارک و مقدس مسند پر سیدی، مرشدی، آقائی، ماوائی، ملجائی، سندی حضور پیر و مرشد سرکار امین ملت حضرت سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی والنورانی جلوہ افروز ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضور کی عمر میں خوب خوب خوب برکتیں عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔ (حامی)

سید غلام محی الدین فقیر عالم علیہ الرحمۃ

حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے صاحبزادے حضرت سید شاہ غلام محی الدین فقیر عالم ثابت حسن علیہ الرحمۃ والرضوان کی ولادت ۳؍ربیع الآخر کو مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔ بہترین حافظ قرآن تھے اور زبردست عالم دین۔ اپنے والد ماجد سے بیعت تھے۔ خلافت اور اجازت والد ماجد اور سر کار نور سید ابوالحسین احمد نوری رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہما سے حاصل تھی۔ نکاح ہوا، لیکن اولاد نہیں تھی۔ ۱۳۳۰ھ کو جوانی کے عالم میں اس رنگا رنگ دنیا کو لکھنؤ میں الوداع کہا۔

حضور تاج العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ

حب اولادِ رسولِ پاک ﷺ دے دل میں رچا
شاہ ”اولادِ رسولِ“ رہنما کے واسطے
(شجرۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ)
نام و نسب:
آپ کا نام سید ”اولاد رسول“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ لقب فخر عالم، تاج العلماء، سراج العرفاء اور محمد میاں ہے۔ حضور مجدد برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے شہزادے ہیں۔
ولادتِ مبارکہ:
٢٣؍رمضان المبارک میں ولادت ہوئی۔
تعلیم و تربیت:
قرآن مجید، حدیث شریف، تفسیر، منطق، فلسفہ، فقہ، اصول فقہ، صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم والد ماجد حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل کی۔ بیعت و خلافت والد ماجد اور حضور ابوالحسین احمد نوری میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے حاصل۔ بہترین عالم دین، لائق تحسین مفتی، محدث و مفسر تھے۔ آپ کا امت پر بہت بڑا احسان ہے کہ آپ نے اپنے بھانجے سیدین مارہرہ یعنی سید العلماء و احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تربیت فرمائی جس وجہ سے آج بھی پوری دنیا میں مشائخ برکات کا فیضان جاری و ساری ہے۔
جماعتِ اہلِ سنت:
تقسیم ہند کے وقت جماعت اہل سنت نامی تنظیم شروع فرمائی علاوہ ازیں جماعت انصار المسلمین اور جماعت رضائے مصطفیٰ کی سرپرستی فرماتے، اسی دوران سرکار تاج العلماء نے ”اہل سنت کی آواز“ کا آغاز فرمایا۔
حضرت تاج العلماء کی پوری زندگی نظم و ضبط سے عبارت تھی۔ سفر میں ضروری سامان کا ہمیشہ ساتھ رکھنا، ہر کام کو وقت کی پابندی کے ساتھ ساتھ خود کرنا، اپنی ہر چیز کو خود ہی اپنی نگرانی میں رکھنا، کسی کو زحمت نہ دینا یہ سب آپ کی خصوصیات ہیں۔
ایک مرتبہ حضرت کے مرید خاص مولانا مظہر صاحب بدایوانی مرحوم نے حضرت کو پنکھا کرنا چاہا تو فرمایا: آئندہ بنا اجازت ایسا نہ کرنا، قدرت نے ہمیں دو ہاتھ اپنا کام کرنے کو عطا فرمائے۔ حضرت والا کی ایک خاص عادت تھی کسی کی برائی سنتے، نہ کرتے، کوئی غیبت کرتا تو اس کو فوراً منع کرتے۔ حضرت تاج العلماء ایک ایسے مہربان مرشد تھے جو اپنے احباب کی بیکسی اور پریشانی میں بہت مددگار اور فریاد سن کر فوراً حاجت روائی فرماتے۔
سرکار اعلیٰ حضرت کی محبت:
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ کے تعلقات بہت گہرے اور محبت والے تھے۔ حالاں کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان عمر میں حضور تاج العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت بڑے تھے، لیکن پیر زادگی کی نسبت سے فاضل بریلوی حضرت تاج العلماء کا بہت احترام فرماتے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان آپ کو وارث الاکابر الاسیاد بالااستحقاق والانفراد جیسے القاب سے مخاطب کرتے اور تاج العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو ان پر ان کی دینی خدمات کی وجہ سے جاں نثار کرتے۔ حضور تاج العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ فقیر ان کو اپنے بیشتر استادوں سے بہتر مانتا ہے، ان کی تحریر اور تقریر دونوں ہی سے فقیر نے طالب علم کی طرح فائدہ اُٹھایا ہے۔ لہٰذا فقیر اپنی وسعت کے مطابق ان کے طریقے کی پیروی کرتا ہے۔
وصالِ ظاہری:
سرکار تاج العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ٢٤؍جمادی الآخر ؁١٣٧٥ھ مطابق ٧؍فروری ؁١٩٥٦ء میں ہوا۔
مزار شریف: مارہرہ شریف میں ہے۔ جب بارگاہِ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے درگاہ شریف میں حاضر ہوتے ہیں تب بائیں جانب خالی جگہ ہے، اس کے بعد پھر بزرگانِ دین کی بارگاہوں کا آغاز ہے۔ وہیں سب سے آگے پہلے کمرے میں حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری آرام گاہ ہے۔ اس کے بعد والے کمرے میں حضور تاج العلماء سید العرفاء حضرت سید شاہ اولاد رسول محمد میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری آرامگاہ ہے۔
نکاح:
سرکار تاج العلماء سید شاہ اولاد رسول محمد میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح منظور فاطمہ علیہا الرحمۃ سے نو محلے سادات بریلی شریف میں ہوا۔ ایک صاحبزادے کی ولادت ہوئی مگر بچپن میں ہی وصال ہو گیا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
جانشین:
حضور تاج العلماء سید العرفاء حضرت سید شاہ اولاد رسول محمد میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جانشین حقیقی بھانجے، سب سے چھوٹی بہن سیدہ اکرام فاطمہ قدس سرہا کے شہزادے سیدنا و مولانا و ملجانا پدرِ مرشد، حضور احسن العلماء سید الاصفیاء حضرت سید شاہ مصطفیٰ حیدر حسن میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
از: سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
(متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف)
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
81
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط] - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
حضرت ابوالقاسم اسمٰعیل حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سید غلام محی الدین فقیر عالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت سید اولاد رسول محمد میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

#حضور صاحبِ عرسِ قاسمی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ

@میری قسمت کی برائی نیکی سے کر دی بدل
حضرتِ* ”بوالقاسمِ“* خیر الهدیٰ کے واسطے
(شجرۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ)

*نام و نسب:*
آپ کا نام حضرت سید ”محمد اسمٰعیل حسن“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ لقب مجدد برکاتیت، شاہ جی میاں ہے، تخلص وقارؔ ہے، کنیت ابوالقاسم ہے۔ آپ حضرت سید الصادقین شاہ محمد صادق علیہ الرحمۃ بن سید اولاد رسول بن سید آل برکات ستھرے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بڑے شہزادے ہیں۔

*ولادتِ مبارکہ:*
حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ٣؍محرم ؁١٢٧٢ھ مارہرہ شریف میں ہوئی۔

*تعلیم و تربیت:*
حضور مجدد برکاتیت علیہ الرحمۃ والرضوان کی “بسم اللّٰہ” خوانی کی رسم حضور خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ادا فرمائی۔ شروعاتی تعلیم والد ماجد سید الصادقین شاہ محمد صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل کی۔ بقیہ اساتذہ بھی اپنے وقت کے ماہرین تھے۔ حافظ ولی دادا خان صاحب مارہروی، حافظ عبدالقادر صاحب لکھنوی، حافظ عبدالکریم صاحب سے قرآن مجید حفظ فرمایا۔ مولوی عبدالشکور صاحب، مولوی عبدالغنی صاحب، مولوی محمد علی صاحب لکھنوی، مولوی حسن صاحب سنبھلی، فضل اللّٰہ صاحب فرنگی محلی، تاج الفحول علامہ فضل رسول بدایونی علیہم الرحمۃ سے درسی تعلیم حاصل کی۔ سلوک و معرفت کے اساتذہ حضور خاتم الاکابر، حضور سرکارِ نور و والد ماجد سید الصادقین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم ہیں۔ ٣٠؍سال کی عمر میں قرآنِ مجید کو اپنے ذوق و شوق سے حفظ فرمایا۔ علم جفر، رمل و تکسیر میں مہارت حاصل تھی۔

*مجددِ برکاتیت:*
حضرت شاہ اسماعیل حسن علیہ الرحمۃ کا وہ دَور تھا کہ جب خانقاہِ برکاتیہ کی علمی شناخت اور خانقاہی روایتوں کو مضبوط کرنے کی بے حد ضرورت تھی۔ خاندانی روایات پر نظرِ عمیق فرمائی، روایات کو یکجا کیا۔ حضرت شاہ قاسم نے اس وقت بڑے تجدیدی کارنامے انجام دیے۔
اپنے فرزندانِ گرامی خاص کر اپنے نواسوں کو علمِ شریعت اور طریقت میں مضبوط تر کیا۔ یہاں تک کہ اپنے گھر کی بیٹیوں کو بھی حافظہ کرایا، خاندانی علم کو جمع کیا، علماء و مشائخ کی رسائی کو خانقاہ میں بڑھایا، غرض کہ کوئی ایسا عمل نہیں چھوڑا جو خانقاہ کی پرانی روایتوں اور قدروں کو بحال نہ کر دے، اس لیے آج ان کو *””مجدد برکاتیت“”* کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

*حضور مجدد برکاتیت کی چند مشہور تصانیف:* رسالہ رد القضاء من الدعاء في اعمال دفع الوباء، مجموعہ سلاسل منظوم، مجموعہ کلام، رسالہ اعمال و تکسیر، کرامات ستھرے میاں، مفاوضاتِ طیبہ، گلدستۂ چمنستانِ سنیت وغیرہ۔

#گلدستۂ چمنستانِ سنیت اور مفاوضاتِ طیبہ کا تعارف

یہ سگِ حضور امین ملت مدظلہ العالی و خاک پائے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ اپنی قسمت پر جس قدر بھی نازاں ہو اتنا کم ہے کہ حضور مجدد برکاتیت سیدنا شاہ ابوالقاسم اسمعیل حسن شاہ جی میاں صاحبِ عرسِ قاسمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اس قابل سمجھا کہ ان کا فیض مجھ پر برسا اور یہ ان کی دو مایا ناز تحریر پر کچھ رقم کرنے کی قابلیت حاصل کر رہا ہے۔ بے شک اللہ رب العزت جسے جو چاہے عطا فرمائے اور جس کو جیسی چاہے قابلیت عطا فرمائے اور اللہ رب العزت کی عطا سے اس کے نیک بندے جس پر بھی نظر فرمائیں وہ دین کی خدمت کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ مشائخ مارہرہ مطہرہ کا بھی یہی عالم ہے تبھی تو میرے امام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پیر خانے کے تمام بزرگان دین کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:

@کیسے آقاؤں کا بندہ ہوں رضاؔ
بول بالے میری سرکاروں کے

*گلدستۂ چمنستانِ سنّیت: ایک فکری و روحانی سرمایہ*
دورِ حاضر میں جب فکری انتشار، الحاد، تجدد اور مغربی افکار کے سیلاب نے ملتِ اسلامیہ کے تشخص کو متزلزل کرنے کی کوشش کی، اُس نازک وقت میں اہلِ حق کے کچھ معزز افراد ایسے بھی اٹھے جنہوں نے قلم کو تلوار اور تحریر کو جہاد بنا لیا۔ انہیں عظیم مبارک ہستیوں میں اولادِ رسول کریم ﷺ، چشم و چراغِ خاندانِ حضور صاحب البرکات، شہزادۂ خاتم الاسلاف، حضور مجدد برکاتیت سید شاہ ابوالقاسم اسمٰعیل حسن حضرت شاہ جی میاں قدس سرہ العزیز کا نام نہایت درخشاں حیثیت رکھتا ہے۔ سیدنا صاحبِ عرسِ قاسمی علیہ الرحمۃ والرضوان نے اپنی باریک بین نظر اور دردِ دل سے امت کے فکری و عملی زوال پر غور فرمایا اور اصلاحِ امت کے لیے قلم کو وسیلہ بنایا۔
ان ہی اصلاحی تحریروں کا حسین مجموعہ “گلدستۂ چمنستانِ سنّیت” ہے، جو دراصل حضور مجدد برکاتیت شاہ جی میاں قدس سرہٗ کے گراں قدر اور مختصر مگر نہایت جامع مضامین پر مشتمل ہے۔ ان مضامین کو اولادِ رسول خدا ﷺ، شہزادۂ حضور مجدد برکاتیت، حضور تاج العلماء، حضرت سید شاہ اولاد رسول محمد میاں قادری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے خود اپنی نگرانی میں ترتیب و تحشیہ کے ساتھ جمع فرمایا اور یہ مجموعہ مطبع صبحِ صادق سے طبع ہو کر دارالاشاعت برکاتی سے شائع ہوا۔

*پس منظرِ تصنیف:* یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کے علمی و مذہبی ماحول میں سر احمد خاں اور اس کے متبعین کی تحریکات نے ایک نئی فکری سمت پیدا کر دی تھی۔ اسلام کی تعبیرِ جدید کے نام پر ایمان و عقائد کے بنیادی اصولوں میں تاویلات کی راہیں کھلنے لگیں، اور ”تہذیبِ جدید“ کے نام پر مغربی فلسفے کے اثرات پھیلنے لگے۔ اس دور میں بہت سے اخبارات و جرائد بھی انہیں نظریات کے ترجمان بن گئے۔ حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے محسوس فرمایا کہ اگر امت کے افراد کو فکری بیداری نہ دی گئی تو یہ رجحانات رفتہ رفتہ ایمان و عمل کے لیے مہلک ثابت ہوں گے۔ چنانچہ حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں اخبارات کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسے مضامین تحریر فرمائے جو ایک طرف اصلاح و تبلیغ کا ذریعہ تھے اور دوسری جانب باطل نظریات کی بیخ کنی کا مؤثر ہتھیار۔

*مجموعے کی خصوصیات:* “گلدستۂ چمنستانِ سنّیت” میں شامل اکثر مضامین کا اسلوب مختصر مگر نہایت مؤثر ہے، کیونکہ ان کی اشاعت کا بنیادی مقصد عوام و خواص کو فوری طور پر غلط رجحانات سے آگاہ کرنا تھا۔ ان میں نہ صرف مسائلِ عصر پر روشنی ڈالی گئی ہے بلکہ علمی و شرعی استدلال کے ساتھ اُن کا ازالہ بھی کیا گیا ہے۔

*مضامین کے نمایاں عنوانات حسبِ ذیل ہیں:* آسانی، مدعیانِ ہمدردیِ اسلام کی خیالی ترقی، محمڈن کالج علی گڑھ باعثِ ترقیِ اسلام ہے ؟، پیروانِ سر (احمد) و ہمدردانِ محمڈن کالج کی خدمت میں ضروری عرض، مجرد دعویٰ، مسلمانوں کی افسوسناک حالت، مسلمانوں کی ترقی کے اسباب کیا ہیں ؟، کیا علی گڑھ یونیورسٹی کا قیام سببِ ترقئ اسلام ہے ؟، مسلمانوں کے تنزل کے اسباب کے سوالات کے جواب، اسلام کی بزبانِ حال مسلمانوں سے شکایت، روحِ اسلام پر حمد، انجمنِ خدامِ کعبہ، انجمنِ خدامانِ کعبہ کے متعلق حاجی اسماعیل خاں صاحب رئیسِ دتارکی کے خیالات کا خلاصہ اور اس پر تنقید، اور دل کی سیر وغیرہ۔
ان تمام عنوانات سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت صاحبِ عرسِ قاسمی “رحمه اللّٰہ تعالیٰ” کی تحریروں کا مقصد امت کے فکری و اعتقادی دفاع کے ساتھ ساتھ اُن کے اندر خود اعتمادی اور ایمانی غیرت پیدا کرنا تھا۔

*نمایاں مضامین:* اس مجموعے میں دو مضامین نہایت طویل اور فکری لحاظ سے وقیع ہیں: *(١) مسلمانوں کے تنزل کے اسباب کے سوالات کے جواب* یہ مضمون تقریباً دس صفحات پر مشتمل ہے، جو حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مولوی محبوب عالم صاحب کے سات سوالات کے جواب میں تحریر فرمایا۔ ان سوالات کے جوابات ایڈیٹر ”پیسہ“ نے عبدال بہاء کے جوابات کے ساتھ شائع کیے۔ اگرچہ حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مضمون میں سوالات کو صراحتاً درج نہیں کیا، لیکن جوابات کے مطالعے سے سوالات کی نوعیت اور علمی پس منظر بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔ *(٢) اسلام کی بزبانِ حال مسلمانوں سے شکایت:* یہ مضمون بھی تقریباً دس صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں اسلام کو زبان دے دی گئی ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں سے اسلام بے زاری کی شکایت کرتا ہے۔ اس کا آغاز نہایت پراثر اشعار سے ہوتا ہے:

@مخالف کی اپنے کروں کیا شکایت
موافق بھی دینے لگے اب اذیت

یہ مضمون دراصل ایک آئینہ ہے، جس میں امت اپنی کمزوریاں اور محرومیاں صاف دیکھ سکتی ہے۔
*ترتیب و تدوین:* آقائی ماوائی ملجائی سیدی و سندی حضور تاج العلماء محمد میاں قادری مارہروی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اس مجموعے کی ترتیب و اشاعت کے سلسلے میں خود تحریر فرمایا:
ان مضامین کی ترتیب کے سلسلے میں حضرت تاج العلماء تحریر فرماتے ہیں:
”ان میں سے بعض مضامین کسی قدر بغیر کمی بیشی کے ساتھ بعض اخباروں میں فقیر کے نام سے شائع شدہ اس وقت بھی فقیر کے پیش نظر ہیں جن کی تاریخ اشاعت و نام اخبار شائع کنندہ کا حوالہ ان کے حاشیہ پر دے دیا ہے اور بعض مضامین کے متعلق فقیر کو یہ پستہ اس وقت نہ ملا کہ یہ اب سے پہلے بھی شائع ہوئے ہیں یا نہیں ؟ اور ان کے ساتھ ان کی تحریر کی کوئی تاریخ بھی لکھی ہوئی نہ ملی۔ لہٰذا فقیر نے تاریخ تحریر کے لحاظ سے جمع و ترتیب میں تقدیم و تاخیر کا چنداں لحاظ نہیں رکھا ہے۔ عنوان میں سے بعض مضامین کے خود حضرت کے قائم فرمائے ہوئے ہیں اور بعض کے یہ مناسبت مضمون فقیر نے قائم کر دیتے ہیں۔ جملہ مضامین جو اس مجموعہ میں مندرج ہیں، فقیر کے ظن غالب میں کوئی بھی ١٣٣١ھ کے بعد کا تحریر فرمودہ نہیں ہے ۔“ (گلدستۂ چمنستانِ سنّیت، ص۲)
”مزید یہ کہ اس مجموعے کی ترتیب کا آغاز پنجشنبہ (جمعرات) 3/ربیع الاول شریف ۱۳۵۴ھ کو ہوا، اور تکمیل چہارشنبہ (بدھ) ۲۲ ربیع الآخر ۱۳۵۴ھ کو ہوئی۔“ (گلدستۂ چمنستانِ سنّیت، ص۵۲)
”گلدستۂ چمنستانِ سنّیت“ محض ایک مجموعۂ تحریرات نہیں بلکہ ایک فکری بیداری کی دستاویز ہے۔ اس میں حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے قلم سے امتِ مسلمہ کے لیے جو درد، بصیرت اور خیرخواہی ظاہر ہوتی ہے، وہ بلاشبہ دعوتی و اصلاحی تحریکات کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ مجموعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دین کی حفاظت صرف منبر و محراب کی ذمہ داری نہیں بلکہ قلم و قرطاس کا بھی حقِ عظیم ہے۔ حضرت مجدد برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس تصنیف کا ہر صفحہ گواہی دیتا ہے کہ آپ کے قلم میں دردِ امت اور غیرتِ ایمانی یکجا تھی۔ آپ نے اپنے عہد کے فتنوں کا بے باکی سے سامنا کیا اور اسلام کی سربلندی کے لیے ہر فکری محاذ پر جہاد فرمایا۔
اللہ تعالیٰ حضرت شاہ جی میاں قدس سرہٗ اور حضرت تاج العلما قدس سرہٗ کے فیوض و برکات کو تا قیامت جاری و ساری رکھے، اور ہمیں بھی اس گلدستے کی خوشبو سے اپنے ایمان و عمل کو معطر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔

@میری قسمت کی برائی نیکی سے کر دے بدل
حضرتِ بوالقاسمِ خیر الہدیٰ کے واسطے (آمین)

*مفاوضاتِ طیبہ: سیدنا شاہ جی میاں قدس سرہٗ کے روحانی مکاتیب کا درخشاں مجموعہ*
اہلِ تصوف و علم کی تاریخ میں بزرگانِ طریقت کے مکاتیب ہمیشہ سے رشد و ہدایت کا سرچشمہ رہے ہیں۔ ان مکتوبات کے ذریعے نہ صرف باطنی و روحانی تربیت کے اصول واضح ہوتے ہیں بلکہ ان سے ایک ولئ کامل کے اندرونی اوصاف، دینی بصیرت، اور امتِ مسلمہ کے لیے درد و فکر بھی عیاں ہوتا ہے۔ انہیں زرّیں نقوش میں سیدنا شاہ جی میاں قدس سرہ العزیز کے مکاتیبِ مبارکہ بھی نمایاں اور عظیم الشان مقام رکھتے ہیں، جنہیں میرے آقا کریم ﷺ کے شہزادے، میرے ماویٰ و ملجیٰ سیدنا تاج العلماء محمد میاں قادری برکاتی قدس سرہٗ نے جمع، ترتیب اور تشریح کے ساتھ ۱۳۵۴ھ میں زیورِ طباعت سے آراستہ فرمایا۔
یہ مجموعہ، جس کا عنوان ”مفاوضاتِ طیبہ“ ہے اور مفاوضاتِ طیبہ واو کے فتحہ کے ساتھ معنیٰ ہوا نیک پاکیزہ گفت و شنید۔ کُل ایک سو چھیاسٹھ (۱۶۶) مکاتیب پر مشتمل ہے، اور یہ نہ صرف سلوک و معرفت کے اسرار پر مشتمل ہے بلکہ دینی، اخلاقی، اور معاشرتی رہنمائی کے خزانوں سے بھی لبریز ہے۔

*مضامین و موضوعات:* حضور مجدد برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہ مکاتیب محض خطوط نہیں بلکہ باطنی تربیت کے آئینے ہیں۔ ان میں روحانیت، اخلاق، صبر، زہد، محبت اور اصلاحِ باطن کے ان گنت گوشے نمایاں ہیں۔ ان خطوط کے مطالعہ سے یہ موضوعات خصوصی طور پر سامنے آتے ہیں:
الحب فی اللہ و البغض فی اللہ (اللہ کے لیے محبت و عداوت کا معیار)
دینی احکام و مسائل میں رہنمائی
روحانیت و طریقت کی ترغیب
مرشدانہ تربیت و تلقین
خاندانی و معاشرتی معاملات میں رواداری
اصلاحِ باطن اور صبر و استقامت کی تلقین
علمائے اہل سنت کے ساتھ تعلقِ عقیدت و حمایتِ حق
یوں یہ مکاتیب حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باطنی افکار و صالح داخلی احوال کا آئینہ ہیں، جو سالکینِ راہِ طریقت کے لیے کامل رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
*اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ سے تعلق و محبت:* حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اور مجددِ دین و ملت، امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مابین عقیدت و اخلاص کا نہایت مضبوط رشتہ تھا۔ اگرچہ دونوں حضرات ہم عصر رہے، مگر حضرت شاہ جی میاں قدس سرہٗ ہمیشہ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علمی و اعتقادی مقام کے معترف اور ان کی دینی خدمات کے دل و جان سے حامی رہے۔
جب اذانِ ثانی خارجِ مسجد کے مسئلے پر سرکار اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ نے سنتِ کریمہ کا احیا فرمایا اور اس کے ثبوت میں مفصل فتاویٰ تحریر فرمائے، تو حضرت شاہ جی میاں قدس سرہٗ نے نہ صرف اس موقفِ حق کی تائید کی بلکہ عملی طور پر بھی اسے اختیار فرمایا۔ جب ان کے علم میں آیا کہ یہ فتویٰ امام احمد رضا قدس سرہٗ کا ہے، تو فرمایا:
*”یہ بڑے مولانا صاحب کا فتویٰ ہے نا ؟ اب آئندہ جمعہ سے اذان خارجِ مسجد دی جائے۔“*
یوں حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے پہلے ان علماء میں شامل ہوئے جنہوں نے اس سنتِ مبارکہ کی تائید و ترویج میں حصہ لیا۔ یہی محبتِ رضا کے جلوے حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکاتیب میں جا بجا نمایاں ہیں۔

*تسلی و حوصلہ کا خط:* جب اہلِ بدایوں کی طرف سے میرے پیارے امام سرکار سیدنا امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان پر اذانِ ثانی کے مسئلے میں مقدمہ دائر کیا گیا، تو حضرت شاہ جی میاں قدس سرہٗ نے نہایت دردمندانہ انداز میں آپ کی تسلی کے لیے ایک مکتوب ارسال فرمایا، جس میں فرمایا: *”فخر الافاضل، صدر الاماثل، افضل العلماء، اجل الفضلاء دامت بركات افاداتهم علينا۔ پس از تسلیم مالوف بالوف تعظیم ملتمس ہوں۔ (سلام و آداب کے بعد مؤدبانہ درخواست پیش کرتا ہوں۔) بفضلہ تعالیٰ فقیر (حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ) بخیر ہے اور خیر و عافیت مزاج مبارک کا مستندعی (طلب کرنے والا)
فقیر کو اس حملہ نا مرضیہ کا جو بظاہر آپ پر اور اصل میں دین اسلام پر ہے، نہایت رنج ہے۔ افسوس صد افسوس کہ ابھی کچھ عرصہ نہیں گذرا ہے اور تقریباً ہزاروں آدمی اس وقت موجود ہیں جنہوں نے حضرت استاذی مولانا مولوی عبد القادر صاحب قدس سرہٗ اور آپ کے مراسم اور محبت کے برتاؤ دیکھے ہیں۔ اب یہ حال ہوا ہے کہ جس سے مسلمان دینداروں کو روحی صدمہ اور بدمذہبوں کو موقعِ شماتت (ایسا موقع جس پر دشمن بدحالی پر خوش ہوں) اور خوشی کا مل گیا ہے۔ اگرچہ ان شاء اللہ تعالیٰ ہوگا کچھ نہیں! مگر معاندین و مخالفینِ مذہبِ حق کو چند دنوں یہ خوشی کا موقع مل گیا۔ فقیر اگرچہ آپ کی کسی ظاہر اعانت کے لائق نہیں مگر ہر وقت دل سے دعا کر رہا ہے کہ اس مخمصہ (بحث و مقابلہ) سے با حسن وجوہ آپ کو طمانیت حاصل ہو اور آپ کے دست و قلم سے دین حق کی ہر طرح سے اعانت ہوتی رہے اور مخالفینِ دین کو ذلت پہنچتی رہے۔ (مفاوضات طیبہ، ص ۱۴ – ۱۵ ، مکتوب نمبر ۱۸)
یہ مکتوب حضور شاہ جی قدس سرہ العزیز کی دینی حمیت، اخلاص، اور نصرتِ حق کا زندہ ثبوت ہے۔

*صبر، تحمل اور مصالحانہ روش:* حضور تاج العلماء علیہ الرحمۃ والرضوان کا رسالہ مبحث الاذان (اذانِ ثانی خارجِ مسجد کے اثبات میں) جب شائع ہوا تو اس کے رد میں ایک مجہول شخص نے بدایوں سے سخت لب و لہجے میں رسالہ تحریر کیا۔ حضور صاحبِ عرسِ قاسمی علیہ الرحمۃ والرضوان کے سامنے یہ رسالہ پیش ہوا تو آپ نے اہلِ بدایوں کی بدظنی کو رفع کرنے کے لیے مولانا عبد القدیر بدایونی علیہ الرحمۃ والرضوان کے نام ۱۳؍صفر المظفر ؁١٣٣٤ھ کو ایک مفصل مکتوب تحریر فرمایا۔ یہ مکتوب آپ کے صبر، تحمل، دیانت اور بے نفسی کی روشن مثال ہے۔ آپ نے تحریر فرمایا: ”یہ موافقت اور مخالفت محض دینی ہے۔ اگر مخالفین میں سے کوئی صاحب اپنے استدلال مخالفت کو فقہاء اور محدثین کے اقوال مستندہ سے مطابقت دکھلا دیں گے، ہم فوراً وہی مان لیں گے۔ امور دینی میں ضد اور ہٹ اور نفسانیت کا ہرگز دخل نہ ہوگا، یہ خلاف اپنی سمجھ کے موافق ایک دینی فرعی مسئلہ میں ہے۔ خدانخواستہ کسی طرح سے رشتۂ محبت اور مراسم قدیم میں اپنی جانب سے کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ نہ ہوگی۔ آپ صاحبان کو اختیار ہے۔ مسائل فرعیہ میں میرے اکابر سے اور آپ کے بزرگوں سے بھی بعض بعض مسئلہ میں اختلاف رہا ہے مثلا لعن یزید۔ میرے بزرگ مجوز تھے اور حضرت استاذی قدس سرہٗ منع فرماتے تھے۔ کفر ابو طالب میں میرے بزرگ ساکت مثل شیخ محدث دہلوی تھے اور حضرت استاذی کافر جانتے تھے۔ عینیت ذات و صفات باری تعالیٰ و تقدس میں بھی کچھ لفظی اختلاف تھا اور بعض مسائل فرعیہ اور بھی ہیں جن کی تفصیل تطویل ہے۔ (مفاوضات طیبہ ،ص ۱۳، مکتوب نمبر ۱۲)“
یہ مکتوب تقریباً چودہ صفحات پر پھیلا ہوا ہے اور حضور مجدد برکاتیت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اخلاص، وسعتِ نظر اور تحملِ مزاج کی منہ بولتی تصویر ہے۔
*روحانی و اخلاقی تعلیمات:* حضور صاحبِ عرسِ قاسمی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے مکاتیب میں دینی راہنمائی اور روحانی تربیت کا عنصر جا بجا موجود ہے۔ مثلاً رحمتِ الٰہی صاحب گورداسپوری کو تحریر فرماتے ہیں: ”تمہارے واسطے دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ تمہارے مقاصد پورے کرے۔ نماز پڑھا کرو۔ تلاوت قرآنِ مجید بھی کیا کرو۔ والدین کی اطاعت ضروری ہے۔ تمہاری والدہ صاحبہ کے مقاصد کے پورے ہونے کے دعا کرتا ہوں (ان کو) اپنی اولاد پر شفقت اور خاوند کی اطاعت ضروری ہے۔ اگر اس میں کوئی تکلیف ہو تو اسے بھی راحت سمجھنا چاہئے۔ ( ایضاً ص ۳۸ ، مکتوب: ۳۱)
اسی طرح ایک دوسرے مکتوب میں آپ کی خودداری اور بے طمعی کا اظہار نہایت صاف الفاظ میں ملتا ہے: ”میں چراغ کندہ نہیں کر سکتا ہے۔ میں اس کی دکانداری نہیں کرتا ہوں۔ نقش البتہ تحریر کر سکتا ہوں آپ کندہ کرائیں۔“ (ایضا، ص ۳۹)
ایک جگہ فرماتے ہیں: ”تمہاری حق کوشی سے بہت خوش ہوا۔ کسی کا ناحق حق لینا اچھا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بہتر مکان عطا فرمائے۔“ (ایضا، ص ۴۰)

*اشاعت و اہمیت:* یہ مجموعہ مجموعی طور پر ۱۶۶؍مکاتیب اور ۹۸؍صفحات پر مشتمل ہے۔ حضور تاج العلماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے مطبع صبحِ صادق پریس، سیتاپور میں طبع کرا کے دارالاشاعت برکاتی، خانقاہِ برکاتیہ سے شائع فرمایا۔ اگرچہ اس پر سنِ اشاعت اور قیمت درج نہیں، لیکن بعد ازاں عرسِ قاسمی مارہرہ مطہرہ (۱۹۹۷ء) کے موقع پر اہلِ سنت کی آواز کے خصوصی شمارے میں اسے دوبارہ اشاعتِ عام کے لیے شامل کیا گیا۔
الغرض، مفاوضاتِ طیبہ محض خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ روحانیت، علم و حلم، محبتِ اہلِ سنت اور حمایتِ حق کی ایک روشن دستاویز ہے۔ حضور شاہ جی میاں قدس سرہٗ کے یہ مکاتیب اُن کے پاکیزہ باطن، انکسار، اخلاص، اور امتِ مسلمہ کے لیے درد کا مظہر ہیں۔ یہ خطوط آج بھی سالکینِ راہِ حقیقت کے لیے چراغِ راہ ہیں، جو قاری کو ایمان، محبت اور استقامت کے درس سے منور کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان مکاتیبِ مبارکہ کے فیوض و برکات کو عام فرمائے، اور ہمیں بھی ان پاکیزہ تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے، آمین یا رب العلمین۔
یہ خاک پائے حضور تاج المشائخ امین ملت مدظلہ العالی محمد انس رضا حامؔی برکاتی تو رب کی بارگاہ میں یہی عرض گزار ہے:

@میری قسمت کی برائی نیکی سے کر دے بدل
حضرتِ بوالقاسمِ خیر الہدیٰ کے واسطے (آمین)
حبِ اولادِ رسولِ پاک ﷺ دے دل میں رچا
شاہ اولادِ رسولِ رہنما کے واسطے (آمین)

*نوٹ:* یہ مکمل مضمون ١٠٠؍سالہ عرسِ قاسمی برکاتی کے مبارک و مسعود موقع پر ”میگزین: سہ ماہی “القلم”“ میں شائع ہوا تھا۔ چونکہ اس مضمون کا تعلق حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کی تصانیف سے ہے اس لیے یہاں بھی ذکر کیا گیا۔

*چند مشہور خلفاء:* شاہ غلام محی الدین فقیر عالم، حضور تاج العلماء، سید آل عبا قادری، سید العلماء و احسن العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم۔

*وصالِ ظاہری:*
حضور مجدد برکاتیت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا *وصالِ ظاہری* ١؍صفر المظفر ؁١٣٤٧ھ میں ہوا۔ *مزار شریف:* گنبدِ برکات کے بائیں جانب دوسرے گنبد کے نیچے آگے سے سب سے پہلے کمرے میں ہے۔

*نکاح و اولادِ امجاد:*
سرکار شاہ جی میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح ماموں زاد بہن سیدہ منظور فاطمہ قدس سرہا بنت سید نور المصطفیٰ بن سیدنا غلام محی الدین امیر عالم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہما سے ہوا۔ جن سے دو شہزادے سید غلام محی الدین فقیر عالم و تاج العلماء سید اولاد رسول فخر عالم محمد میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کی ولادت ہوئی۔ چار شہزادیاں زاہد فاطمہ، اعجاز فاطمہ، حمیراء فاطمہ و اکرام فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہن۔

ولئ کامل کی نگاہیں وہ دیکھ سکتی ہیں جہاں کسی کی نگاہوں کی رسائی نہیں۔ دونوں شہزادوں سے اولاد کا سلسلہ موقوف ہونا تھا جس کا علم از عطائے الٰہی سرکار مجدد برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہو گیا۔ پس اپنی ظاہری زندگی میں اپنے حقیقی نواسے حضور احسن العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا، آج “الحمدللّٰہ تعالیٰ” اس مبارک و مقدس مسند پر سیدی، مرشدی، آقائی، ماوائی، ملجائی، سندی حضور پیر و مرشد سرکار امین ملت حضرت سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی والنورانی جلوہ افروز ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضور کی عمر میں خوب خوب خوب برکتیں عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔ (حامی)

#سید غلام محی الدین فقیر عالم علیہ الرحمۃ

حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے صاحبزادے حضرت سید شاہ غلام محی الدین فقیر عالم ثابت حسن علیہ الرحمۃ والرضوان کی ولادت ۳؍ربیع الآخر کو مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔ بہترین حافظ قرآن تھے اور زبردست عالم دین۔ اپنے والد ماجد سے بیعت تھے۔ خلافت اور اجازت والد ماجد اور سر کار نور سید ابوالحسین احمد نوری رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہما سے حاصل تھی۔ نکاح ہوا، لیکن اولاد نہیں تھی۔ ۱۳۳۰ھ کو جوانی کے عالم میں اس رنگا رنگ دنیا کو لکھنؤ میں الوداع کہا۔

#حضور تاج العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ

@حب اولادِ رسولِ پاک ﷺ دے دل میں رچا
شاہ *”اولادِ رسولِ“* رہنما کے واسطے
(شجرۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ)

*نام و نسب:*
آپ کا نام سید ”اولاد رسول“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ لقب فخر عالم، تاج العلماء، سراج العرفاء اور محمد میاں ہے۔ حضور مجدد برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے شہزادے ہیں۔

*ولادتِ مبارکہ:*
٢٣؍رمضان المبارک میں ولادت ہوئی۔

*تعلیم و تربیت:*
قرآن مجید، حدیث شریف، تفسیر، منطق، فلسفہ، فقہ، اصول فقہ، صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم والد ماجد حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل کی۔ بیعت و خلافت والد ماجد اور حضور ابوالحسین احمد نوری میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے حاصل۔ بہترین عالم دین، لائق تحسین مفتی، محدث و مفسر تھے۔ آپ کا امت پر بہت بڑا احسان ہے کہ آپ نے اپنے بھانجے سیدین مارہرہ یعنی سید العلماء و احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تربیت فرمائی جس وجہ سے آج بھی پوری دنیا میں مشائخ برکات کا فیضان جاری و ساری ہے۔

*جماعتِ اہلِ سنت:*
تقسیم ہند کے وقت جماعت اہل سنت نامی تنظیم شروع فرمائی علاوہ ازیں جماعت انصار المسلمین اور جماعت رضائے مصطفیٰ کی سرپرستی فرماتے، اسی دوران سرکار تاج العلماء نے *”اہل سنت کی آواز“* کا آغاز فرمایا۔

حضرت تاج العلماء کی پوری زندگی نظم و ضبط سے عبارت تھی۔ سفر میں ضروری سامان کا ہمیشہ ساتھ رکھنا، ہر کام کو وقت کی پابندی کے ساتھ ساتھ خود کرنا، اپنی ہر چیز کو خود ہی اپنی نگرانی میں رکھنا، کسی کو زحمت نہ دینا یہ سب آپ کی خصوصیات ہیں۔
ایک مرتبہ حضرت کے مرید خاص مولانا مظہر صاحب بدایوانی مرحوم نے حضرت کو پنکھا کرنا چاہا تو فرمایا: آئندہ بنا اجازت ایسا نہ کرنا، قدرت نے ہمیں دو ہاتھ اپنا کام کرنے کو عطا فرمائے۔ حضرت والا کی ایک خاص عادت تھی کسی کی برائی سنتے، نہ کرتے، کوئی غیبت کرتا تو اس کو فوراً منع کرتے۔ حضرت تاج العلماء ایک ایسے مہربان مرشد تھے جو اپنے احباب کی بیکسی اور پریشانی میں بہت مددگار اور فریاد سن کر فوراً حاجت روائی فرماتے۔

*سرکار اعلیٰ حضرت کی محبت:*
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ کے تعلقات بہت گہرے اور محبت والے تھے۔ حالاں کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان عمر میں حضور تاج العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت بڑے تھے، لیکن پیر زادگی کی نسبت سے فاضل بریلوی حضرت تاج العلماء کا بہت احترام فرماتے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان آپ کو “وارث الاکابر الاسیاد بالااستحقاق والانفراد” جیسے القاب سے مخاطب کرتے اور تاج العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو ان پر ان کی دینی خدمات کی وجہ سے جاں نثار کرتے۔ حضور تاج العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ فقیر ان کو اپنے بیشتر استادوں سے بہتر مانتا ہے، ان کی تحریر اور تقریر دونوں ہی سے فقیر نے طالب علم کی طرح فائدہ اُٹھایا ہے۔ لہٰذا فقیر اپنی وسعت کے مطابق ان کے طریقے کی پیروی کرتا ہے۔

*وصالِ ظاہری:*
سرکار تاج العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ٢٤؍جمادی الآخر ؁١٣٧٥ھ مطابق ٧؍فروری ؁١٩٥٦ء میں ہوا۔
*مزار شریف:* مارہرہ شریف میں ہے۔ جب بارگاہِ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے درگاہ شریف میں حاضر ہوتے ہیں تب بائیں جانب خالی جگہ ہے، اس کے بعد پھر بزرگانِ دین کی بارگاہوں کا آغاز ہے۔ وہیں سب سے آگے پہلے کمرے میں حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری آرام گاہ ہے۔ اس کے بعد والے کمرے میں حضور تاج العلماء سید العرفاء حضرت سید شاہ اولاد رسول محمد میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری آرامگاہ ہے۔

*نکاح:*
سرکار تاج العلماء سید شاہ اولاد رسول محمد میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح منظور فاطمہ علیہا الرحمۃ سے نو محلے سادات بریلی شریف میں ہوا۔ ایک صاحبزادے کی ولادت ہوئی مگر بچپن میں ہی وصال ہو گیا۔

*جانشین:*
حضور تاج العلماء سید العرفاء حضرت سید شاہ اولاد رسول محمد میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جانشین حقیقی بھانجے، سب سے چھوٹی بہن سیدہ اکرام فاطمہ قدس سرہا کے شہزادے سیدنا و مولانا و ملجانا پدرِ مرشد، حضور احسن العلماء سید الاصفیاء حضرت سید شاہ مصطفیٰ حیدر حسن میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔

از: سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
(متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف)

Scan this QR code to read online:

QR Code