صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
شخصیات اسلاف واخلاف

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
پانچویں قطب: حضور ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
حضرت سید آل حسنین سچے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ

شاہ آل برکات ستھرے میاں رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ

دل کو اچھا تن کو ستھرا جان کو پُر نور کر
”ستھرے“ پیارے نورِ حق شمس الضحیٰ کے واسطے (آمین)
(شجرۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ)
نام و نسب:
آپ کا نام حضرت سید ”آل برکات“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ لقب سراج السالکین اور ستھرے میاں ہے۔ تخلص ”آشفتہ“ فرماتے۔ حضور ستھرے میاں رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ حضور حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے منجھلے شہزادے ہیں اور مارہرہ مطہرہ کے ان سات اقطاب میں پانچویں قطب ہیں جن کی بشارت حضور غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے عطا فرمائی۔ سرکار ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضور اچھے میاں و حضور سچے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بھائی ہیں اور ہمارے امام، سنیت کی جان، حضور سیدنا شاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے پیر و مرشد کے والد ماجد ہیں۔
ولادت مبارکہ:
حضور ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ١٠؍رجب المرجب ؁١١٦٣ھ میں مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔ ”پیر مشائخ“ مادۂ تاریخِ ولادت ہے۔
بیعت و خلافت:
بیعت و خلافت والد ماجد حضور شاہ حمزہ عیؔنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے حاصل ہوئی نیز حضور اچھے میاں شمس مارہرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بھی اجازت و خلافت سے نوازا اور اپنا جانشین نامزد فرمایا۔ حضور اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ظاہری وصال کے بعد کرسئ خلافت پر جلوہ افروز ہوئے۔
عادات و معاملات:
حضور ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ دنیا کی ہر غلاظت سے ستھرے تھے، عاجزی و انکساری کے پیکر، خدائے ذوالجلال کی عبادت اور حبیب خدا ﷺ کی محبت میں شب و روز گزارتے۔ مرید بہت کم فرماتے، شہزادگان کے علاوہ صرف قطب گوالیار کو خلافت عطا فرمائی۔ فضیلت کا عالم یہ کہ ١٢؍سال کی عمر سے لیکر ٩٠؍سال کی عمر تک اعمال و اوراد و وظائف میں مشغول رہے۔ سرکار ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی انگلی پر ایک پٹی ہمیشہ بندھی رہتی تھی۔ چھوٹے شہزادے نے ایک دن پٹی کھول دی تو ناخن شریف پر دیکھا کہ ”اللّٰه“ لکھا ہوا ہے۔ شہزادے نے دریافت کیا کہ یہ کیسے ہوا ؟ تو سرکار سراج السالکین حضور ستھرے میاں حضرت آل برکات علیہ الرحمۃ والرضوان نے فرمایا: ”ہر نماز میں جب یہ انگلی اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دیتی ہے تو اگر اس پر اتنا بھی اثر نہ آئے تو دل پر کیسے اثر ہوگا ؟“ (سبحان اللّٰه تعالیٰ!) اس نعمت کے باوجود سرکار ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ عبادات میں مشغول رہے۔
یہ دلیل ہے ان حضرات کی صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے محبت کی۔ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بشارت ملی کہ جو کریں وہ معاف ہے مگر مولیٰ عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے گناہوں سے ہمیشہ دوری اختیار فرمائی، سبحان اللّٰہ تعالیٰ!
سرکار ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو تعمیرات کا بہت شوق تھا، عبادت سے جو وقت ملتا اسی میں صَرف فرماتے۔ خلفا میں شہزادگان کے علاوہ صرف قطب گوالیار حافظ نصیر الدین علیہ الرحمۃ کا نام ملتا ہے۔
ظاہری وصال:
سرکار ستھرے میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ظاہری وصال ٢٦؍رمضان الکریم ؁١٢٥١ھ بروز سنیچر کو ٩٠؍سال کی عمر شریف میں مارہرہ مطہرہ میں ہوا۔ مزار شریف: دادا جان حضور آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے سرہانے سے دائیں جانب مرجعِ خلائق ہے۔
وصیت اور وصیت میں خدا کی محبت:
سرکار ستھرے میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی وصیت تھی کہ حضرت حمزہ عینیؔ اور حضرت آل محمد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کے درمیان دفن کیا جائے مگر اتنی جگہ بیچ میں نہ تھی کہ قبر تیار ہو سکے۔ پس دوسری جگہ قبر کی تیاری کی گئی مگر وقت دفن بڑے شہزادے مرشدِ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جب وہاں گئے تو قدرت الٰہی کہ وہاں اچھی خاصی جگہ بن گئی۔ گویا اللّٰہ تعالیٰ کے ولی حضور ستھرے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جد کریم نے اپنے پیارے نبیرہ کو خود اپنے پاس جگہ دی۔
نکاح و شہزادگان:
حضور ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے دو نکاح ہوئے، پہلا نکاح سید محمد حسن صاحب کی شہزادی سے ہوا اور دوسرا نکاح بارہ بنکی کے سادات میں قاضی سید غلام شاہ حسین علیہ الرحمۃ کی شہزادی سیدہ فضل فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے ہوا۔ پہلی زوجہ سے ایک شہزادے حضرت سید شاہ آل امام جما میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی۔ دوسری زوجہ سے حضرت سید شاہ آل رسول احمدی (مرشدِ اعلیٰ حضرت)، حضرت سید شاہ اولاد رسول (جد صاحب عرس قاسمی) اور حضرت سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم کی ولادت ہوئی اور پانچ شہزادیوں کی ولادت ہوئی۔

شاہ آل حسنین سچے میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
آپ کا نام حضرت سید ”آل حسنین“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ لقب سچے میاں ہے۔ حضرت شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے شہزادے ہیں۔ ٢١؍ربیع الآخر ؁١١٧٧ھ میں ولادت ہوئی۔ چھ برس اور مولانا غلام شبر قادری علیہ الرحمۃ کے مطابق ٩؍برس کی عمر میں سرکار سچے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے ماموں سید نور الحسن صاحب قادری بلگرامی اپنا متمنی (منہ بولا بیٹا) بنا کر اپنے ساتھ لے گئے اور سرکار سچے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہیں اپنی زندگی گزار دی۔ مارہرہ شریف واپسی نہیں ہوئی، ہاں! برادران ملاقات کی غرض سے بہار تشریف لے جاتے۔
اجازت و خلافت:
حضرت آل حسنین سچے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اجازت و خلافت والد ماجد حضور سید شاہ حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل، اس کے علاوہ برادرِ اکبر حضور آل احمد اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ تمام عمر عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کی۔ اوراد و وظائفِ خاندانی پر ہمیشگی اختیار فرمائی۔
نکاح:
نکاح ماموں کی ہی شہزادی سیدہ خیر فاطمہ بنت سید نور الحسن علیہما الرحمۃ سے ہوا۔ دو شہزادے حضرت سید محمد سعید و حضرت سید محمد تقی رحمتہ اللّٰہ تعالیٰ علیہما کی ولادت ہوئی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
وصالِ ظاہری:
٥؍جمادی الاولیٰ ؁١٢٣۵ھ میں وصالِ ظاہری ہوا۔ کوات میں نواب نور الحسن کے مقبرہ کے نیچے جانب شمال مزار شریف ہے۔
از: سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
84
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

مسلک اعلیٰ حضرت ضروری کیوں ؟

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط] - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
پانچویں قطب: حضور ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
حضرت سید آل حسنین سچے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ

#شاہ آل برکات ستھرے میاں رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ

@دل کو اچھا تن کو ستھرا جان کو پُر نور کر
*”ستھرے“* پیارے نورِ حق شمس الضحیٰ کے واسطے (آمین)
(شجرۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ)

*نام و نسب:*
آپ کا نام حضرت سید *”آل برکات“* ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ لقب سراج السالکین اور ستھرے میاں ہے۔ تخلص ”آشفتہ“ فرماتے۔ حضور ستھرے میاں رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ حضور حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے منجھلے شہزادے ہیں اور مارہرہ مطہرہ کے ان سات اقطاب میں پانچویں قطب ہیں جن کی بشارت حضور غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے عطا فرمائی۔ سرکار ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضور اچھے میاں و حضور سچے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بھائی ہیں اور ہمارے امام، سنیت کی جان، حضور سیدنا شاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے پیر و مرشد کے والد ماجد ہیں۔

*ولادت مبارکہ:*
حضور ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ١٠؍رجب المرجب ؁١١٦٣ھ میں مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔ *”پیر مشائخ“* مادۂ تاریخِ ولادت ہے۔

*بیعت و خلافت:*
بیعت و خلافت والد ماجد حضور شاہ حمزہ عیؔنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے حاصل ہوئی نیز حضور اچھے میاں شمس مارہرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بھی اجازت و خلافت سے نوازا اور اپنا جانشین نامزد فرمایا۔ حضور اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ظاہری وصال کے بعد کرسئ خلافت پر جلوہ افروز ہوئے۔

*عادات و معاملات:*
حضور ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ دنیا کی ہر غلاظت سے ستھرے تھے، عاجزی و انکساری کے پیکر، خدائے ذوالجلال کی عبادت اور حبیب خدا ﷺ کی محبت میں شب و روز گزارتے۔ مرید بہت کم فرماتے، شہزادگان کے علاوہ صرف قطب گوالیار کو خلافت عطا فرمائی۔ فضیلت کا عالم یہ کہ ١٢؍سال کی عمر سے لیکر ٩٠؍سال کی عمر تک اعمال و اوراد و وظائف میں مشغول رہے۔ سرکار ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی انگلی پر ایک پٹی ہمیشہ بندھی رہتی تھی۔ چھوٹے شہزادے نے ایک دن پٹی کھول دی تو ناخن شریف پر دیکھا کہ *”اللّٰه“* لکھا ہوا ہے۔ شہزادے نے دریافت کیا کہ یہ کیسے ہوا ؟ تو سرکار سراج السالکین حضور ستھرے میاں حضرت آل برکات علیہ الرحمۃ والرضوان نے فرمایا: *”ہر نماز میں جب یہ انگلی اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دیتی ہے تو اگر اس پر اتنا بھی اثر نہ آئے تو دل پر کیسے اثر ہوگا ؟“* (سبحان اللّٰه تعالیٰ!) اس نعمت کے باوجود سرکار ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ عبادات میں مشغول رہے۔
یہ دلیل ہے ان حضرات کی صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے محبت کی۔ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بشارت ملی کہ جو کریں وہ معاف ہے مگر مولیٰ عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے گناہوں سے ہمیشہ دوری اختیار فرمائی، سبحان اللّٰہ تعالیٰ!
سرکار ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو تعمیرات کا بہت شوق تھا، عبادت سے جو وقت ملتا اسی میں صَرف فرماتے۔ خلفا میں شہزادگان کے علاوہ صرف قطب گوالیار حافظ نصیر الدین علیہ الرحمۃ کا نام ملتا ہے۔

*ظاہری وصال:*
سرکار ستھرے میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ظاہری وصال ٢٦؍رمضان الکریم ؁١٢٥١ھ بروز سنیچر کو ٩٠؍سال کی عمر شریف میں مارہرہ مطہرہ میں ہوا۔ *مزار شریف:* دادا جان حضور آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے سرہانے سے دائیں جانب مرجعِ خلائق ہے۔

*وصیت اور وصیت میں خدا کی محبت:*
سرکار ستھرے میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی وصیت تھی کہ حضرت حمزہ عینیؔ اور حضرت آل محمد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کے درمیان دفن کیا جائے مگر اتنی جگہ بیچ میں نہ تھی کہ قبر تیار ہو سکے۔ پس دوسری جگہ قبر کی تیاری کی گئی مگر وقت دفن بڑے شہزادے مرشدِ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جب وہاں گئے تو قدرت الٰہی کہ وہاں اچھی خاصی جگہ بن گئی۔ گویا اللّٰہ تعالیٰ کے ولی حضور ستھرے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جد کریم نے اپنے پیارے نبیرہ کو خود اپنے پاس جگہ دی۔

*نکاح و شہزادگان:*
حضور ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے دو نکاح ہوئے، پہلا نکاح سید محمد حسن صاحب کی شہزادی سے ہوا اور دوسرا نکاح بارہ بنکی کے سادات میں قاضی سید غلام شاہ حسین علیہ الرحمۃ کی شہزادی سیدہ فضل فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے ہوا۔ پہلی زوجہ سے ایک شہزادے حضرت سید شاہ آل امام جما میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی۔ دوسری زوجہ سے حضرت سید شاہ آل رسول احمدی (مرشدِ اعلیٰ حضرت)، حضرت سید شاہ اولاد رسول (جد صاحب عرس قاسمی) اور حضرت سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم کی ولادت ہوئی اور پانچ شہزادیوں کی ولادت ہوئی۔

#شاہ آل حسنین سچے میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

*نام و نسب:*
آپ کا نام حضرت سید ”آل حسنین“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ لقب سچے میاں ہے۔ حضرت شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے شہزادے ہیں۔ ٢١؍ربیع الآخر ؁١١٧٧ھ میں ولادت ہوئی۔ چھ برس اور مولانا غلام شبر قادری علیہ الرحمۃ کے مطابق ٩؍برس کی عمر میں سرکار سچے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے ماموں سید نور الحسن صاحب قادری بلگرامی اپنا متمنی (منہ بولا بیٹا) بنا کر اپنے ساتھ لے گئے اور سرکار سچے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہیں اپنی زندگی گزار دی۔ مارہرہ شریف واپسی نہیں ہوئی، ہاں! برادران ملاقات کی غرض سے بہار تشریف لے جاتے۔

*اجازت و خلافت:*
حضرت آل حسنین سچے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اجازت و خلافت والد ماجد حضور سید شاہ حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل، اس کے علاوہ برادرِ اکبر حضور آل احمد اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ تمام عمر عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کی۔ اوراد و وظائفِ خاندانی پر ہمیشگی اختیار فرمائی۔

*نکاح:*
نکاح ماموں کی ہی شہزادی سیدہ خیر فاطمہ بنت سید نور الحسن علیہما الرحمۃ سے ہوا۔ دو شہزادے حضرت سید محمد سعید و حضرت سید محمد تقی رحمتہ اللّٰہ تعالیٰ علیہما کی ولادت ہوئی۔

*وصالِ ظاہری:*
٥؍جمادی الاولیٰ ؁١٢٣۵ھ میں وصالِ ظاہری ہوا۔ کوات میں نواب نور الحسن کے مقبرہ کے نیچے جانب شمال مزار شریف ہے۔

از: سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف

Scan this QR code to read online:

QR Code