صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
شخصیات اسلاف واخلاف

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
حضرت سید اشرف میاں مدظلہٗ
حضرت سید افضل میاں" نَوَّرَ اللّٰہُ تَعَالیٰ مَرْقَدَہٗ
حضرت سید نجیب حیدر میاں مدظلہٗ

حضرت سید اشرف میاں قادری حفظه اللہ تعالیٰ

نام و نسب:
آپ کا نام حضرت سید ”محمد اشرف“ ہے۔ آپ حضور احسن العلماء سید شاہ مصطفیٰ حیدر حسؔن میاں علیہ الرحمۃ والرضوان کے دوسرے شہزادے ہیں۔
پیدائش: 8؍جولائی ؁١٩٥٧ء / ١٤؍شعبان ؁١٣٧٤ھ سیتاپور میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت: بسم اللہ خوانی والد ماجد نے کرائی۔ سید اشرف میاں کی تعلیم کا آغاز مدرسہ قاسم البرکات سے ہوا۔ قرآنِ عظیم کا درس حضرت والد ماجد، پھوپھی صاحبہ سیدہ حافظہ عائشہ خاتون اور سیدہ حافظہ زاہدہ خاتون اور حافظ عبدالرحمٰن نے دیا۔ اردو کی تعلیم منشی سعید الدین اور منشی نصیر احمد نے دی۔ قصبہ سے ہائی اسکول کر کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوئے جہاں سے بی.اے آنرس اور پھر ایم.اے گولڈ میڈل کے ساتھ پاس کیے۔ UPSC مقابلہ جاتی امتحان میں حصہ لیا، پہلے IPS کے عہدے کے لیے منتخب ہوئے لیکن والد ماجد کی اس سروس میں مرضی نہ دیکھتے ہوئے IPS میں جوائن نہیں کیا۔ پھر Civil Services کے امتحان میں شریک ہوئے اور دوبارہ IRS میں آپ کا انتخاب ہوا۔
شرف ملت کو یہ شرف حاصل ہے کہ Civil Services Exam کو اردو میڈیم کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے والے آپ پہلے امیدوار ہیں۔ انڈین ریونیو سروس (IRS) میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر رہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مدارسِ اہل سنت کا الحاق آپ کی ہی کوشش کا نتیجہ ہے۔
بیعت و خلافت: حضرت تاج العلماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ولادت کے بعد ہی سیتا پور جا کر آپ کو بیعت سے مشرف کیا۔ والد محترم حضرت احسن العلماء اور بڑے ابا حضرت سید العلماء اور حضرت وارث پنجتن رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے تمام سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی۔
تصانیف: حضرت سید محمد اشرف میاں کی چند تصانیف یہ ہے: صلوا علیہ و آلہ حمد و نعت و مناقب کا مجموعہ، یادِ حسن، بادِ صبا کا انتظار، نمبردار کا نیلا، میرامن قصہ سنو، آخری سواریاں۔
شاعری: سید اشرف میاں صاحب کی شاعری بہت زبردست ہے۔ ناول نگاری اور افسانہ نگاری میں بھی انتہائی درجہ کا کمال حاصل ہے۔ یہاں تک کہ بیرونِ ہند Universities میں سید اشرف میاں کی کتاب Syllabus میں داخل ہے۔ شاعری میں مٹھاس پائی جاتی ہے۔ ہر وزن پر ایسے کلام ملتے ہیں جن کو پڑھ کر سکون حاصل ہو جاتا ہے۔ چند اشعار پیش کیے جاتے ہیں:
منارِ قصر رضا تو بلند کافی ہے
تم اس کے پہلے ہی زینہ پر چڑھ کے دکھلا دو
فتاویٰ رضویہ تو اک کرامت ہے
تم حدائقِ بخشش ہی بڑھ کے دکھلا دو
وہاں فاصلوں کی زیادتی سے عنایتوں میں کمی نہیں
کوئی دور رہ کے اویس ہے کوئی پاس رہ کے بلال ہے
جو عطا تو روز خدا کرے، جو خدا پہ روز عطا کرے
تیرے پاس میری مثال ہے، میرے پاس تیری مثال ہے
وہ خدا کے نور کو دیکھ کر بھی زمین والوں میں آ گئے
سرِ عرش جانا کمال تھا یا وہاں سے آنا کمال ہے
ارے زار اشرفِؔ ناتواں، کہاں نعت، تیرا بیاں کہاں
تیرا حق تھا تو نے اٹھا لیا،یہ رؔضا کے توشے کا مال ہے
سوا کر دیں، بڑھا کر دیں، اٹھا کر دیں، عطا کریں
کسی کو خامشی سے دیں، کسی کو برملا کر دیں
مدینہ سے پلٹ کر پھر مدینے کی طرف رخ ہو
کرم ہو جائے آقا ﷺ کا جو ایسا راستہ کر دیں
سراقہ پر کرم تھا جود کی بارش تھی وحشی پر
نبی مختار کل ہیں جس کو جو چاہیں عطا کر دیں
تمنائے دلِ اشرؔف بس اتنی ہے سرِ کوثر
جب آقا ﷺ جامِ کوثر دیں لبِ اقدس لگا کر دیں
نکاح و اولادِ امجاد: حضرت سید محمد اشرف میاں قادری علیہ الرحمۃ والرضوان کا نکاح پروفیسر سید علی اشرف صاحب (سابق وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ) کی صاحبزادی سیدہ نشاط اشرف صاحبہ سے ہوا۔ سیدہ نشاط اشرف حضور تاج المشائخ سرکار امین ملت مدظلہ العالی سے مرید ہوئیں۔
دو شہزادے ہیں: سید نبیل اشرف اور سید ناظم اشرف اور ایک بیٹی سیدہ شفا اشرف ہیں۔

سید محمد افضل میاں نَوَّرَ اللہُ تَعَالیٰ مَرْقَدَہٗ

آپ کا نام ”سید محمد افضل“ ہے۔ آپ حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تیسرے صاحبزادے ہیں۔
١١؍مارچ ؁١٩٦٤ء میں پیدائش ہوئی۔
قرآنِ کریم گھر کے بزرگوں سے پڑھا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے L.L.B اور L.L.M کیا۔ ١٩٩٠؍عیسوی میں IPS میں منتخب ہو گئے۔ ؁٢٠١١ء میں صدرِ جمہوریہ ایوارڈ سے نوازا گیا۔
بڑی دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض کو انجام دیا۔ کئی سارے لوگ آئے جنہوں نے کروڑوں دے دے کر خریدنے کی کوششیں کیں مگر حضرت افضل میاں نے حسینی خون کا جلوہ دکھایا اور امامِ اہل سنت سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زبان میں فرماتے رہے:
کروں مدحِ اہلِ دُوَل رضاؔ پڑے اس بلا میں میری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارۂ ناں نہیں
وصال: حضرت سید افضل میاں کا وصال 30؍ربیع الآخر ؁١٤٤٢ھ کو کینسر کی وجہ سے ہوا۔ قبر مارہرہ شریف میں حضرت سید آل عبا قادری علیہ الرحمۃ کی آخری آرام گاہ کے کمرے سے پہلے ہے۔ حضور امین ملت مدظلہ العالی نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔
نکاح: سید افضل میاں نَوَّرَ اللہُ تَعَالیٰ مَرْقَدَہٗ کا نکاح حضور امین ملت مدظلہ العالی کی زوجہ کی چھوٹی بہن سیدہ راشدہ خاتون سے ہوا۔ ایک بیٹے سید برکات حیدر تھے، جن کا وصال ٩٩؍واں عرسِ قاسمی برکاتی کے چند دن بعد ہوا۔ قبر والد صاحب کے پائنتی ہے۔ اور ایک بیٹی ہیں سیدہ کائنات۔

حضرت سید نجیب حیدر رفیق ملت مدظلہ العالی

نام و نسب: آپ کا نام حضرت سید شاہ ”محمد نجیب حیدر“ ہے۔ اہلسنّت میں آپ کو ”رفیق ملت“ کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ آپ حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سب سے چھوٹے شہزادے اور حضور وارثِ پنجتن شاہ یحییٰ حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وارث و جانشین ہیں۔
پیدائش: ١؍جولائی ؁١٩٦٨ء میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت: قرآنِ مجید حضور رفیق ملت نے اپنی پھوپھی سیدہ حافظہ زاہدہ خاتون اور کچھ حصہ والد ماجد سے پڑھا۔ اردو کی تعلیم والد ماجد نے دی۔ آگرہ یونیورسٹی سے گریجویشن کرکے والد ماجد حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ میں ہی رہے۔ حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسی تربیت فرمائی کہ خانقاہ شریف اور عرس کے متعلق ہر معاملہ میں ماہر ہو گئے۔ مریدین نے رابطہ حضور رفیق ملت سے رکھا۔
بیعت و خلافت: حضور رفیق ملت حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت ہیں۔ سلسلۂ قادریہ برکاتیہ میں خلافت والد ماجد حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور وارثِ پنجتن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حاصل ہے۔ حضور پیر و مرشد سرکار امین ملت مدظلہ العالی و النورانی نے اپنی رسمِ سجادگی کے موقع پر سب سے پہلی خلافت حضور رفیق ملت کو عطا کی۔
حضور احسن العلماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کے بعد حضور رفیق ملت نے ملک کے کونے کونے میں دورے کیے اور سلسلۂ برکاتیہ کے فروغ کے لیے بہت کوششیں کیں۔
علماء و طلبہ سے محبت: حضور رفیق ملت بہت نرم مزاج ہیں۔ علماء و طلبہ سے بہت زیادہ محبت فرماتے ہیں۔ جامعہ احسن البرکات، مارہرہ مطہرہ کے طلبہ حضور رفیق ملت کو ابا حضور بھی کہتے ہیں۔ کسی اور ادارے سے طلبہ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ حاضری کے لیے جاتے ہیں تو سرکار نجیب میاں صاحب ملاقات ضرور فرماتے ہیں، مہمان نوازی فرماتے ہیں کھلاتے پلاتے ہیں اور اگر رکنا ہو تو انتظام کرواتے ہیں۔ یہ سگِ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی بھی جب گیا خالی پیٹ نہیں لوٹا۔ محبت سے ملتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، جامعۃ الرضا کے حالات دریافت فرماتے ہیں اور دعاؤں سے نوازتے ہیں۔
خلفاء: حضور رفیق ملت مدظلہ العالی کے چند خلفاء یہ ہیں: سیدی و مربی محمد امان میاں، سید حسن حیدر قادری، مفتی محمد حنیف برکاتی کانپور، مداحِ حبیبِ کبریا ﷺ الحاج محمد اویس رضا قادری ( پاکستان)، مولانا مجیب اشرف، مولانا صغیر احمد جوکھنپوری، منانی میاں محمد منان رضا خان۔
نکاح: حضور رفیق ملت کا نکاح چھوٹی خالہ کی سب سے چھوٹی شہزادی سیدہ شبستان صاحبہ سے ؁١٩٩٤ء میں ہوا۔ ایک شہزادی اور دو شہزادے ہیں: سید حسن حیدر قادری (ولی عہد) اور سید محمد محسن۔
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں:
خوب صورت خوب سیرت وہ امین مجتبیٰ
اشرف و افضل نجیبِ ظاہرہ ملتا نہیں
وہ امین اہل سنت راز دارِ مرتضیٰ
اشرف و افضل نجیبِ با صفا ملتا نہیں
فقیر تضمین کی ساتھ عرض کرتا ہے:
جانشیں ہیں آپ کے حضرت امینِ با صفا
آپ کا حسن و امانت ان میں دکھتا ہے سدا
آپ کے بیٹے کو جو دیکھے پکارے برملا
خوب صورت خوب سیرت وہ امین مجتبیٰ
اشرف و افضل نجیبِ ظاہرہ ملتا نہیں
آپ کا فیض و کرم بیٹوں پہ جاری دائما
چاروں شہزادوں میں کوئی پا نہیں سکتا ریا
جانشیں میں ہے نمایاں جلوۂ زیبا تیرا
وہ امین اہل سنت راز دارِ مرتضیٰ
اشرف و افضل نجیبِ با صفا ملتا نہیں
(کلام: سرکارِ تاج الشریعہ، تضمین: محمد انس حاؔمی)
اللہ تعالیٰ سایۂ شفقت اہلسنّت پر تادیر قائم و دائم فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم ﷺ۔
معزز سامعین! یہ تھا مختصر میں مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سید نجیب حیدر میاں صاحب قبلہ حفظه اللہ تعالیٰ تک کے جتنے مشائخ کا تذکرہ کتابوں میں ملا، مختصر انداز میں فقیر نے پیش کیا۔
یقیناً مارہرہ مطہرہ کے ہر ہر بزرگ کی اپنی الگ شان ہے، اپنا الگ مقام ہے۔ ہر کسی کی شان و شوکت و سیرت پر قلم چلانے کے لیے الگ کتاب درکار تو اقطابِ سبعہ کی سیرت کی تو اور الگ شان۔ اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت، مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کی نظرِ رحمت، حضور غوث الاعظم دستگیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی برکت کا نام مارہرہ شریف ہے۔ ارضِ مارہرہ مطہرہ سکون و قرار کا مسکن ہے۔ لاکھوں کروڑوں عوام و خواص اور کئی سارے اولیائے کرام کا پیر خانہ ہے۔ نہ جانے اس خانقاہ کا فیضان دنیا کے کس کس کونے میں کس کس انداز سے ظاہر ہوا۔ ”مضمون: مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف“ کی ہر قسط پڑھیں، دوسروں تک پہنچائیں، مشائخِ مارہرہ مطہرہ کے فیوض و برکات سے مالامال ہوں۔
اللّٰه تعالیٰ ان تمام تر بزرگانِ دین کے وسیلے سے ہماری مغفرت فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ و اصحابہ اجمعین۔
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں:
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اخؔتر خستہ ہے بلبل گلشنِ برکات کا
دیر تک مہکے ہر اک گل گلشن برکات کا
از: سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
91
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

انتظار

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط] - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]

@حضرت سید اشرف میاں مدظلہٗ
حضرت سید افضل میاں” نَوَّرَ اللّٰہُ تَعَالیٰ مَرْقَدَہٗ
حضرت سید نجیب حیدر میاں مدظلہٗ

# حضرت سید اشرف میاں قادری حفظه اللہ تعالیٰ

*نام و نسب:*
آپ کا نام حضرت سید ”محمد اشرف“ ہے۔ آپ حضور احسن العلماء سید شاہ مصطفیٰ حیدر حسؔن میاں علیہ الرحمۃ والرضوان کے دوسرے شہزادے ہیں۔
*پیدائش:* 8؍جولائی ؁١٩٥٧ء / ١٤؍شعبان ؁١٣٧٤ھ سیتاپور میں ہوئی۔
*تعلیم و تربیت:* بسم اللہ خوانی والد ماجد نے کرائی۔ سید اشرف میاں کی تعلیم کا آغاز مدرسہ قاسم البرکات سے ہوا۔ قرآنِ عظیم کا درس حضرت والد ماجد، پھوپھی صاحبہ سیدہ حافظہ عائشہ خاتون اور سیدہ حافظہ زاہدہ خاتون اور حافظ عبدالرحمٰن نے دیا۔ اردو کی تعلیم منشی سعید الدین اور منشی نصیر احمد نے دی۔ قصبہ سے ہائی اسکول کر کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوئے جہاں سے بی.اے آنرس اور پھر ایم.اے گولڈ میڈل کے ساتھ پاس کیے۔ UPSC مقابلہ جاتی امتحان میں حصہ لیا، پہلے IPS کے عہدے کے لیے منتخب ہوئے لیکن والد ماجد کی اس سروس میں مرضی نہ دیکھتے ہوئے IPS میں جوائن نہیں کیا۔ پھر Civil Services کے امتحان میں شریک ہوئے اور دوبارہ IRS میں آپ کا انتخاب ہوا۔

شرف ملت کو یہ شرف حاصل ہے کہ Civil Services Exam کو اردو میڈیم کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے والے آپ پہلے امیدوار ہیں۔ انڈین ریونیو سروس (IRS) میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر رہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مدارسِ اہل سنت کا الحاق آپ کی ہی کوشش کا نتیجہ ہے۔

*بیعت و خلافت:* حضرت تاج العلماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ولادت کے بعد ہی سیتا پور جا کر آپ کو بیعت سے مشرف کیا۔ والد محترم حضرت احسن العلماء اور بڑے ابا حضرت سید العلماء اور حضرت وارث پنجتن رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے تمام سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی۔

*تصانیف:* حضرت سید محمد اشرف میاں کی چند تصانیف یہ ہے: “صلوا علیہ و آلہ” حمد و نعت و مناقب کا مجموعہ، یادِ حسن، بادِ صبا کا انتظار، نمبردار کا نیلا، میرامن قصہ سنو، آخری سواریاں۔
*شاعری:* سید اشرف میاں صاحب کی شاعری بہت زبردست ہے۔ ناول نگاری اور افسانہ نگاری میں بھی انتہائی درجہ کا کمال حاصل ہے۔ یہاں تک کہ بیرونِ ہند Universities میں سید اشرف میاں کی کتاب Syllabus میں داخل ہے۔ شاعری میں مٹھاس پائی جاتی ہے۔ ہر وزن پر ایسے کلام ملتے ہیں جن کو پڑھ کر سکون حاصل ہو جاتا ہے۔ چند اشعار پیش کیے جاتے ہیں:

@منارِ قصر رضا تو بلند کافی ہے
تم اس کے پہلے ہی زینہ پر چڑھ کے دکھلا دو
*فتاویٰ رضویہ * تو اک کرامت ہے
تم *حدائقِ بخشش* ہی بڑھ کے دکھلا دو
وہاں فاصلوں کی زیادتی سے عنایتوں میں کمی نہیں
کوئی دور رہ کے اویس ہے کوئی پاس رہ کے بلال ہے
جو عطا تو روز خدا کرے، جو خدا پہ روز عطا کرے
تیرے پاس میری مثال ہے، میرے پاس تیری مثال ہے
وہ خدا کے نور کو دیکھ کر بھی زمین والوں میں آ گئے
سرِ عرش جانا کمال تھا یا وہاں سے آنا کمال ہے
ارے زار اشرفِؔ ناتواں، کہاں نعت، تیرا بیاں کہاں
تیرا حق تھا تو نے اٹھا لیا،یہ رؔضا کے توشے کا مال ہے
سوا کر دیں، بڑھا کر دیں، اٹھا کر دیں، عطا کریں
کسی کو خامشی سے دیں، کسی کو برملا کر دیں
مدینہ سے پلٹ کر پھر مدینے کی طرف رخ ہو
کرم ہو جائے آقا ﷺ کا جو ایسا راستہ کر دیں
سراقہ پر کرم تھا جود کی بارش تھی وحشی پر
نبی مختار کل ہیں جس کو جو چاہیں عطا کر دیں
تمنائے دلِ اشرؔف بس اتنی ہے سرِ کوثر
جب آقا ﷺ جامِ کوثر دیں لبِ اقدس لگا کر دیں

*نکاح و اولادِ امجاد:* حضرت سید محمد اشرف میاں قادری علیہ الرحمۃ والرضوان کا نکاح پروفیسر سید علی اشرف صاحب (سابق وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ) کی صاحبزادی سیدہ نشاط اشرف صاحبہ سے ہوا۔ سیدہ نشاط اشرف حضور تاج المشائخ سرکار امین ملت مدظلہ العالی سے مرید ہوئیں۔
دو شہزادے ہیں: سید نبیل اشرف اور سید ناظم اشرف اور ایک بیٹی سیدہ شفا اشرف ہیں۔

# سید محمد افضل میاں نَوَّرَ اللہُ تَعَالیٰ مَرْقَدَہٗ

آپ کا نام ”سید محمد افضل“ ہے۔ آپ حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تیسرے صاحبزادے ہیں۔
١١؍مارچ ؁١٩٦٤ء میں پیدائش ہوئی۔
قرآنِ کریم گھر کے بزرگوں سے پڑھا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے L.L.B اور L.L.M کیا۔ ١٩٩٠؍عیسوی میں IPS میں منتخب ہو گئے۔ ؁٢٠١١ء میں صدرِ جمہوریہ ایوارڈ سے نوازا گیا۔
بڑی دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض کو انجام دیا۔ کئی سارے لوگ آئے جنہوں نے کروڑوں دے دے کر خریدنے کی کوششیں کیں مگر حضرت افضل میاں نے حسینی خون کا جلوہ دکھایا اور امامِ اہل سنت سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زبان میں فرماتے رہے:

@کروں مدحِ اہلِ دُوَل رضاؔ پڑے اس بلا میں میری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارۂ ناں نہیں

*وصال:* حضرت سید افضل میاں کا وصال 30؍ربیع الآخر ؁١٤٤٢ھ کو کینسر کی وجہ سے ہوا۔ *قبر* مارہرہ شریف میں حضرت سید آل عبا قادری علیہ الرحمۃ کی آخری آرام گاہ کے کمرے سے پہلے ہے۔ حضور امین ملت مدظلہ العالی نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔
*نکاح:* سید افضل میاں “نَوَّرَ اللہُ تَعَالیٰ مَرْقَدَہٗ” کا نکاح حضور امین ملت مدظلہ العالی کی زوجہ کی چھوٹی بہن سیدہ راشدہ خاتون سے ہوا۔ ایک بیٹے سید برکات حیدر تھے، جن کا وصال ٩٩؍واں عرسِ قاسمی برکاتی کے چند دن بعد ہوا۔ قبر والد صاحب کے پائنتی ہے۔ اور ایک بیٹی ہیں سیدہ کائنات۔

# حضرت سید نجیب حیدر رفیق ملت مدظلہ العالی

*نام و نسب:* آپ کا نام حضرت سید شاہ ”محمد نجیب حیدر“ ہے۔ اہلسنّت میں آپ کو ”رفیق ملت“ کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ آپ حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سب سے چھوٹے شہزادے اور حضور وارثِ پنجتن شاہ یحییٰ حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وارث و جانشین ہیں۔

*پیدائش:* ١؍جولائی ؁١٩٦٨ء میں ہوئی۔
*تعلیم و تربیت:* قرآنِ مجید حضور رفیق ملت نے اپنی پھوپھی سیدہ حافظہ زاہدہ خاتون اور کچھ حصہ والد ماجد سے پڑھا۔ اردو کی تعلیم والد ماجد نے دی۔ آگرہ یونیورسٹی سے گریجویشن کرکے والد ماجد حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ میں ہی رہے۔ حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسی تربیت فرمائی کہ خانقاہ شریف اور عرس کے متعلق ہر معاملہ میں ماہر ہو گئے۔ مریدین نے رابطہ حضور رفیق ملت سے رکھا۔
*بیعت و خلافت:* حضور رفیق ملت حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت ہیں۔ سلسلۂ قادریہ برکاتیہ میں خلافت والد ماجد حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور وارثِ پنجتن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حاصل ہے۔ حضور پیر و مرشد سرکار امین ملت مدظلہ العالی و النورانی نے اپنی رسمِ سجادگی کے موقع پر سب سے پہلی خلافت حضور رفیق ملت کو عطا کی۔

حضور احسن العلماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کے بعد حضور رفیق ملت نے ملک کے کونے کونے میں دورے کیے اور سلسلۂ برکاتیہ کے فروغ کے لیے بہت کوششیں کیں۔
*علماء و طلبہ سے محبت:* حضور رفیق ملت بہت نرم مزاج ہیں۔ علماء و طلبہ سے بہت زیادہ محبت فرماتے ہیں۔ جامعہ احسن البرکات، مارہرہ مطہرہ کے طلبہ حضور رفیق ملت کو ابا حضور بھی کہتے ہیں۔ کسی اور ادارے سے طلبہ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ حاضری کے لیے جاتے ہیں تو سرکار نجیب میاں صاحب ملاقات ضرور فرماتے ہیں، مہمان نوازی فرماتے ہیں کھلاتے پلاتے ہیں اور اگر رکنا ہو تو انتظام کرواتے ہیں۔ یہ سگِ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی بھی جب گیا خالی پیٹ نہیں لوٹا۔ محبت سے ملتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، جامعۃ الرضا کے حالات دریافت فرماتے ہیں اور دعاؤں سے نوازتے ہیں۔
*خلفاء:* حضور رفیق ملت مدظلہ العالی کے چند خلفاء یہ ہیں: سیدی و مربی محمد امان میاں، سید حسن حیدر قادری، مفتی محمد حنیف برکاتی کانپور، مداحِ حبیبِ کبریا ﷺ الحاج محمد اویس رضا قادری ( پاکستان)، مولانا مجیب اشرف، مولانا صغیر احمد جوکھنپوری، منانی میاں محمد منان رضا خان۔

*نکاح:* حضور رفیق ملت کا نکاح چھوٹی خالہ کی سب سے چھوٹی شہزادی سیدہ شبستان صاحبہ سے ؁١٩٩٤ء میں ہوا۔ ایک شہزادی اور دو شہزادے ہیں: سید حسن حیدر قادری (ولی عہد) اور سید محمد محسن۔
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں:

@خوب صورت خوب سیرت وہ امین مجتبیٰ
اشرف و افضل نجیبِ ظاہرہ ملتا نہیں
وہ امین اہل سنت راز دارِ مرتضیٰ
اشرف و افضل نجیبِ با صفا ملتا نہیں

فقیر تضمین کی ساتھ عرض کرتا ہے:

@جانشیں ہیں آپ کے *حضرت امینِ با صفا*
آپ کا حسن و امانت ان میں دکھتا ہے سدا
آپ کے بیٹے کو جو دیکھے پکارے برملا
خوب صورت خوب سیرت وہ امین مجتبیٰ
اشرف و افضل نجیبِ ظاہرہ ملتا نہیں
آپ کا فیض و کرم بیٹوں پہ جاری دائما
چاروں شہزادوں میں کوئی پا نہیں سکتا ریا
جانشیں میں ہے نمایاں جلوۂ زیبا تیرا
وہ امین اہل سنت راز دارِ مرتضیٰ
اشرف و افضل نجیبِ با صفا ملتا نہیں
(کلام: سرکارِ تاج الشریعہ، تضمین: محمد انس حاؔمی)

اللہ تعالیٰ سایۂ شفقت اہلسنّت پر تادیر قائم و دائم فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم ﷺ۔

معزز سامعین! یہ تھا مختصر میں مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سید نجیب حیدر میاں صاحب قبلہ حفظه اللہ تعالیٰ تک کے جتنے مشائخ کا تذکرہ کتابوں میں ملا، مختصر انداز میں فقیر نے پیش کیا۔

یقیناً مارہرہ مطہرہ کے ہر ہر بزرگ کی اپنی الگ شان ہے، اپنا الگ مقام ہے۔ ہر کسی کی شان و شوکت و سیرت پر قلم چلانے کے لیے الگ کتاب درکار تو اقطابِ سبعہ کی سیرت کی تو اور الگ شان۔ اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت، مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کی نظرِ رحمت، حضور غوث الاعظم دستگیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی برکت کا نام مارہرہ شریف ہے۔ ارضِ مارہرہ مطہرہ سکون و قرار کا مسکن ہے۔ لاکھوں کروڑوں عوام و خواص اور کئی سارے اولیائے کرام کا پیر خانہ ہے۔ نہ جانے اس خانقاہ کا فیضان دنیا کے کس کس کونے میں کس کس انداز سے ظاہر ہوا۔ ”مضمون: مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف“ کی ہر قسط پڑھیں، دوسروں تک پہنچائیں، مشائخِ مارہرہ مطہرہ کے فیوض و برکات سے مالامال ہوں۔

اللّٰه تعالیٰ ان تمام تر بزرگانِ دین کے وسیلے سے ہماری مغفرت فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ و اصحابہ اجمعین۔

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں:

@اخؔتر خستہ ہے بلبل گلشنِ برکات کا
دیر تک مہکے ہر اک گل گلشن برکات کا

از: سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف

Scan this QR code to read online:

QR Code