صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
کیا میلاد صرف ایک دن کی محبت کا نام ہے ؟
تحقیق و تعاقب

کیا میلاد صرف ایک دن کی محبت کا نام ہے ؟

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

کیا میلاد صرف ایک دن کی محبت کا نام ہے ؟
یہ اعتراض کیا بدمذہبوں نے کہ
”اگر حضور نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم سے محبت ہے تو صرف 12؍ربیع الاول شریف یا صرف ایک دن ہی محبت کیوں ؟ کیا باقی سال محبت نہیں ؟“
لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اعتراض میں دو الگ چیزوں کو خلط ملط کیا گیا ہے: ایک ہے محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، اور دوسری ہے محبت کے کسی خاص موقع پر خصوصی اظہار۔
اہلِ سنت کا موقف یہ نہیں کہ مسلمان صرف ایک دن حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے محبت کرے؛ بلکہ مسلمان کی پوری زندگی محبتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے معمور ہونی چاہیے۔ میلاد اس دائمی محبت کا ایک خصوصی اظہار ہے، محبت کی حد بندی نہیں۔
محبت صرف ایک دن کی نہیں: سب سے پہلی بات ذہن نشین کر لیجیے کہ اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک میلاد کا مطلب یہ نہیں کہ 12؍ربیع الاول کے علاوہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر نہ کیا جائے۔ بلکہ قرآنِ مجید تو مؤمن کو ہر وقت حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اتباع کا حکم دیتا ہے:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ [آل عمران-٣١]
اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا
پس محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دائرہ پورے سال، بلکہ پوری زندگی پر محیط ہے۔ نماز میں درود، اذان کے بعد درود، جمعہ میں درود، دعاؤں میں درود، سیرت کا مطالعہ، نعت، ذکر، سنت کی پیروی، یہ سب محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مظاہر ہیں۔ تو پھر میلاد کا ایک دن ہونا اس بات کی دلیل کیسے ہو گیا کہ محبت صرف ایک دن کی ہے ؟ نیز اہل سنت میلاد ایک ہی دن نہیں مناتے بلکہ ہر دن کسی نا کسی عاشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھر میں میلاد شریف کی محفل سجائی جاتی ہے۔
ایک اہم اصول سمجھ لیجیے: دنیا میں کسی عظیم نعمت کی ہمہ وقت قدر کرنا اور کسی خاص دن اس نعمت کی خصوصی یاد منانا دو متضاد چیزیں نہیں۔ مثلاً بلا تمثیل و تشبیہ انسان اپنے والدین سے پورے سال محبت کرتا ہے، ان کی خدمت کرتا ہے، ان کا احترام کرتا ہے، لیکن اگر کسی خاص موقع پر ان کے لیے خصوصی تقریب منعقد کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ باقی دنوں میں والدین سے محبت نہیں کرتا تھا۔
اسی طرح مسلمان حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہر لمحہ محبت کرتا ہے، مگر پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے ذکر کے لیے خصوصی اجتماع منعقد کرنا اس دائمی محبت کے منافی نہیں۔ بلکہ
قرآن مجید نے خوشی منانے کا اصول دیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا [یونس-٥٨]
تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں۔
آیتِ مبارکہ میں فرمایا گیا: ”فَلْيَفْرَحُوْا“ پس چاہیے کہ وہ خوشی منائیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت پر خوشی منانا شرعاً ممنوع ہے یا مطلوب ؟ قرآنِ حکیم نے خوشی کا اصول بیان کر دیا۔ اور اپنے حبیبِ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ [الانبیاء-١٠٧]
اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔
تو جس ذاتِ اقدس کو اللہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین فرمایا، اس رحمت کے ظہور، یعنی ولادتِ باسعادت، پر خوشی کا اظہار فی نفسہٖ ایک معقول اور شرعی اصول کے تحت آنے والی بات ہے۔
لیکن سب سے زبردست دلیل خود حضور ﷺ کا عمل ہے:
اب آئیے اس اعتراض کے ایک نقطے کی جانب:
سُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ قَالَ ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ [صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صيام ثلاثة ايام من كل شهر وصوم يوم عرفة وعاشوراء والاثنين والخميس]
اور نبئ مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے پیر شریف کا روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ دو جہاں کے تاجدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ دن ہے جب میری ولادت ہوئی اور جس دن مجھے رسول بنا کر بھیجا گیا، یا مجھ پر (قرآنِ مجید) نازل کیا گیا۔
فِيهِ وُلِدْتُ (یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔) اور اسی روایت میں ہے:وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ (اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔)
اب ذرا غور کیجیے! حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی ولادتِ مبارکہ کے دن کی نسبت کو خود بیان فرما رہے ہیں۔اگر ولادتِ باسعادت کی نسبت کی کوئی اہمیت ہی نہ ہوتی تو نبئ مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پیر کے روزے کی علت میں یہ کیوں فرماتے: فِيهِ وُلِدْتُ
ایک اور سوال کا جواب
اگر کوئی کہے: پیر کا روزہ تو عبادت ہے، اس سے میلاد کی محفل کیسے ثابت ہوئی ؟
تو جواب یہ ہے: ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ حدیثِ مبارکہ سے موجودہ محفلِ میلاد کی تمام جزئیات براہِ راست ثابت ہوگئیں۔ بلکہ استدلال یہ ہے کہ: حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی ولادت کے دن کو ایک خصوصی نسبت کی وجہ سے یاد کیا اور اس دن روزہ رکھا۔ لہٰذا یومِ ولادت کی خصوصی یاد اور اس پر اظہارِ شکر کی اصل خود سنت سے ثابت ہو گئی۔ اب اگر کوئی مسلمان اس موقع پر اللہ کا شکر ادا کرے، درود و سلام پڑھے، سیرتِ طیبہ بیان کرے، نعت پڑھے، صدقہ کرے اور جائز طریقے سے خوشی کا اظہار کرے تو ان اعمال میں سے ہر عمل کا اپنا الگ شرعی حکم دیکھا جائے گا۔ یہی فقہی تفریق ضروری ہے۔
اگر سال بھر محبت ہے تو ایک دن کیوں ؟
یہ اعتراض دراصل اپنے اندر ہی کمزور ہے کیونکہ کسی چیز کو خصوصی طور پر ایک دن یاد کرنا اس بات کو لازم نہیں کرتا کہ باقی دن اسے یاد نہ کیا جائے۔ مثلاً:
شبِ قدر کی فضیلت ہے، مگر رمضان کے ہر دن اللہ تعالیٰ کی عبادت ہوتی ہے۔
جمعہ کا دن خصوصی فضیلت رکھتا ہے، مگر باقی دن نماز اور ذکر ہوتے ہیں۔
عاشورا کا دن خصوصی اہمیت رکھتا ہے، مگر محرم کے باقی دن بے معنی نہیں۔
حج کے مخصوص ایام ہیں، مگر اللہ پاک کی عبادت پورے سال جاری رہتی ہے۔
لہٰذا خصوصی وقت کی تخصیص، عمومی عمل کی نفی نہیں کرتی۔ یہی بنیادی مغالطہ اس اعتراض میں پایا جاتا ہے۔
اگر سال بھر درود پڑھتے ہیں تو جمعہ کو زیادہ کیوں ؟ یہاں ایک نہایت عمدہ مثال ہے۔ مسلمان پورے سال درود شریف پڑھتا ہے، مگر جمعہ کے دن درود شریف کی کثرت کی خصوصی ترغیب دی گئی۔ حبیبِ کبریا تاجدارِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ [سنن ابی داؤد، ابواب الجمعۃ، باب فضل يوم الجمعة وليلة الجمعة]
بے شک تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پیدا فرمایا گیا، اسی دن ان کا وصال ہوا، اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن بے ہوشی طاری ہوگی۔ لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود میرے حضور پیش کیا جاتا ہے۔
اب کوئی یہ نہیں کہتا کہ درودِ پاک تو ہر دن پڑھتے ہو، جمعہ ہی کو زیادہ کیوں ؟ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ عام عمل کے لیے خاص وقت کی فضیلت مقرر ہو سکتی ہے۔ اسی اصول کو میلاد کے مسئلے میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ”صرف ایک دن“ بھی درست تعبیر نہیں۔
ایک اور اہم بات:
میلاد شریف کو صرف 12؍ربیع الاول شریف تک محدود سمجھنا بھی ضروری نہیں۔ اہلِ سنت کے یہاں میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا تذکرہ ربیع الاول شریف کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر ہوتا ہے۔ محافلِ میلاد، سیرت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اجتماعات، نعتیہ مجالس، درود و سلام اور ذکرِ ولادت، یہ سب پورے سال ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اعتراض کا یہ مفروضہ ہی درست نہیں کہ: میلاد، صرف ایک دن۔ بلکہ زیادہ صحیح تعبیر یہ ہے: ”محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دائمی عمل، اور جشنِ میلاد اس دائمی محبت کا ایک خصوصی مظہر۔
کیا میلاد نہ منانے والا محبت سے محروم ہے ؟
نہیں۔
یہ بھی ایک اہم اعتدال ہے۔ کسی شخص نے میلاد کی محفل منعقد نہیں کی تو محض اس وجہ سے اسے بے محبت کہنا درست نہیں۔ اسی طرح جو شخص شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے میلاد مناتا ہے، اسے بھی محض اس وجہ سے محبت سے محروم قرار دینا درست نہیں۔ محبت کے بہت سے مظاہر ہو سکتے ہیں۔ کسی کی محبت کا اظہار نعت شریف سے ہے، کسی کا درود شریف سے، کسی کا صدقہ سے، کسی کا سیرت پڑھنے سے، کسی کا سنت پر عمل سے اور کسی کا محفلِ میلاد منعقد کرنے سے۔ اصل بحث ”میلاد“ نہیں، ”طریقۂ میلاد“ ہے۔
یہاں ایک نہایت اہم اور دقیق نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر کسی میلاد کی محفل میں: فرض نماز ترک کی جائے، فحش یا بے حیائی ہو، مرد و زن کا ناجائز اختلاط ہو، جھوٹے واقعات بیان کیے جائیں، لوگوں کو ایذا دی جائے، اسراف و فضول خرچی ہو، یا کوئی اور شرعی ممانعت پائی جائے، تو ان چیزوں سے بچنا لازم ہے۔ لیکن کسی عمل کے بعض غلط طریقوں کی قباحت سے اصل جائز مقصد کی حرمت لازم نہیں آتی۔ حضور حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں:
" یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْٓ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ [البقرۃ-٤٠]
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کرنا حکمِ قرآنی ہے۔ لہٰذا محفل میلاد شریف بہت مبارک ہے کیونکہ اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تشریف آوری کا ذکر ہوتا ہے جو کہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ اسی طرح گیارہویں شریف اور عرسِ بزرگان وغیرہ کہ یہ تمام محفلیں ان بزرگوں کی یادگاریں قائم کرنے اور ان کی سوانح حیات لوگوں کو سنا کر انہیں عبادتوں کی رغبت دینے کے لیے کی جاتی ہیں۔ حج، قربانی، روزے، رمضان وغیرہ سب میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی یاد ہے، ان یادگاروں کی اصلی یہ آیت اور اس جیسی دوسری آیات ہیں۔ اگرچہ بعض لوگوں نے ان امورِ خیر میں بدعات، ناچ، گانا وغیرہ شامل کر دیا مگر اس شمول سے اصل عرس حرام نہ ہوگا، جیسے شادیوں میں باجا، گانہ بجانا شامل ہونے سے نکاح حرام نہیں ہے، جیسے کعبہ معظمہ میں بت رکھ دیے گئے تھے تو کعبہ کو نہیں ڈھایا گیا بلکہ بت نکال دیے گئے، ایسے ہی خدا موقع دے تو ان برائیوں کو دور کر دیا جائے گا۔ یادگار نہ ہٹاؤ، مسجد میں کتا گھس جائے تو کتا نکالو مسجد نہ گراؤ۔ [تفسیرِ نعیمی، ج١، ص٢٩١ و ٢٩١]
پھر سوال: کیا ہر سال جشن منانا ضروری ہے ؟ یہ بھی واضح رہے کہ اہلِ سنت کا مدعا یہ نہیں کہ ہر مسلمان پر شرعی فرض یا واجب ہے کہ وہ لازماً ایک مخصوص تاریخ کو جلوس یا محفل منعقد کرے۔ یہاں جواز، استحباب اور وجوب کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ کسی عمل کو جائز یا مستحسن کہنا اور اسے فرض قرار دینا دو الگ دعوے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا: اگر میلاد ضروری نہیں تو پھر کیوں مناتے ہو ؟ ایسا ہی ہے جیسے کوئی پوچھے: نفل صدقہ فرض نہیں، پھر صدقہ کیوں کرتے ہو ؟ ہر نیک کام کے لیے فرض ہونا شرط نہیں۔
اصل محبت کیا ہے ؟
آخر میں سب سے اہم بات: میلاد کی محفل کا مقصد یہ نہیں کہ مسلمان صرف ایک دن نعتیں پڑھے اور پھر باقی سال سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے غافل رہے۔ بلکہ حقیقی میلاد وہ ہے جو انسان کے اندر سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نور پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ [احزاب-٢١]
بیشک تمہیں رسولُ الله کی پیروی بہتر ہے۔
لہٰذا اگر میلاد کے بعد: نماز کی پابندی بڑھے، درودِ پاک کی کثرت ہو، اخلاق سنوریں، والدین کی خدمت بڑھے، جھوٹ چھوٹے، گناہوں سے نفرت پیدا ہو، اور سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم زندگی میں داخل ہو تو یہ میلاد کے پیغام کا حقیقی ثمر ہے۔
اعتراض کا فیصلہ کن جواب:
لہٰذا یہ کہنا کہ: ”اگر میلاد محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے تو سال میں صرف ایک دن کیوں ؟“ درست اعتراض نہیں۔ اس کا جامع جواب یہ ہے: ہم حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے صرف ایک دن محبت نہیں کرتے؛ ہم حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہر دن، ہر وقت اور اپنی پوری زندگی محبت کرتے ہیں۔ البتہ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے تذکرے کے لیے ایک خاص وقت مقرر کرکے خوشی، درود، نعت، سیرت اور صدقہ کے ذریعے اس نعمتِ عظمیٰ کو یاد کرنا ہماری دائمی محبت کا ایک خصوصی مظہر ہے، اس محبت کی تحدید نہیں۔ اور سب سے بڑھ کر خود نبی کریم ﷺ نے پیر کے دن کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے اپنی ولادت کا ذکر فرمایا: فِيهِ وُلِدْتُ۔ پس ”میلاد صرف ایک دن کی محبت ہے“ کہنا اصل مسئلے کو سمجھنے کے بجائے دو الگ چیزوں کو باہم خلط کرنا ہے۔ میلاد ایک دن کا ہوسکتا ہے، مگر محبتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک دن کی نہیں وہ تو مؤمن کی پوری زندگی کا سرمایہ ہے۔ نتیجہ نکلا:
حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائشِ مولیٰ ﷺ کی دھوم
مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے
خاک ہو جائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضاؔ
دم میں جب تک دم ہے ذکر ان کا سناتے جائیں گے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
رہے گا یوں ہی ان کا چرچا رہے گا
پڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے
[سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ]
از:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
63
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

کیا میلاد صحابۂ کرام کی محبت کے خلاف ہے؟

Test

کیا میلاد صرف ایک دن کی محبت کا نام ہے ؟ - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

کیا میلاد صرف ایک دن کی محبت کا نام ہے ؟

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

*کیا میلاد صرف ایک دن کی محبت کا نام ہے ؟*

یہ اعتراض کیا بدمذہبوں نے کہ
”اگر حضور نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم سے محبت ہے تو صرف 12؍ربیع الاول شریف یا صرف ایک دن ہی محبت کیوں ؟ کیا باقی سال محبت نہیں ؟“
لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اعتراض میں دو الگ چیزوں کو خلط ملط کیا گیا ہے: ایک ہے محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، اور دوسری ہے محبت کے کسی خاص موقع پر خصوصی اظہار۔
اہلِ سنت کا موقف یہ نہیں کہ مسلمان صرف ایک دن حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے محبت کرے؛ بلکہ مسلمان کی پوری زندگی محبتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے معمور ہونی چاہیے۔ میلاد اس دائمی محبت کا ایک خصوصی اظہار ہے، محبت کی حد بندی نہیں۔

*محبت صرف ایک دن کی نہیں:* سب سے پہلی بات ذہن نشین کر لیجیے کہ اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک میلاد کا مطلب یہ نہیں کہ 12؍ربیع الاول کے علاوہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر نہ کیا جائے۔ بلکہ قرآنِ مجید تو مؤمن کو ہر وقت حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اتباع کا حکم دیتا ہے:
” قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ ” [آل عمران-٣١]
اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا
پس محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دائرہ پورے سال، بلکہ پوری زندگی پر محیط ہے۔ نماز میں درود، اذان کے بعد درود، جمعہ میں درود، دعاؤں میں درود، سیرت کا مطالعہ، نعت، ذکر، سنت کی پیروی، یہ سب محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مظاہر ہیں۔ تو پھر میلاد کا ایک دن ہونا اس بات کی دلیل کیسے ہو گیا کہ محبت صرف ایک دن کی ہے ؟ نیز اہل سنت میلاد ایک ہی دن نہیں مناتے بلکہ ہر دن کسی نا کسی عاشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھر میں میلاد شریف کی محفل سجائی جاتی ہے۔

*ایک اہم اصول سمجھ لیجیے:* دنیا میں کسی عظیم نعمت کی ہمہ وقت قدر کرنا اور کسی خاص دن اس نعمت کی خصوصی یاد منانا دو متضاد چیزیں نہیں۔ مثلاً بلا تمثیل و تشبیہ انسان اپنے والدین سے پورے سال محبت کرتا ہے، ان کی خدمت کرتا ہے، ان کا احترام کرتا ہے، لیکن اگر کسی خاص موقع پر ان کے لیے خصوصی تقریب منعقد کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ باقی دنوں میں والدین سے محبت نہیں کرتا تھا۔
اسی طرح مسلمان حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہر لمحہ محبت کرتا ہے، مگر پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے ذکر کے لیے خصوصی اجتماع منعقد کرنا اس دائمی محبت کے منافی نہیں۔ بلکہ
*قرآن مجید نے خوشی منانے کا اصول دیا* اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:” قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا” [یونس-٥٨]
تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں۔
آیتِ مبارکہ میں فرمایا گیا:” ”فَلْيَفْرَحُوْا“” پس چاہیے کہ وہ خوشی منائیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت پر خوشی منانا شرعاً ممنوع ہے یا مطلوب ؟ قرآنِ حکیم نے خوشی کا اصول بیان کر دیا۔ اور اپنے حبیبِ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے:” وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ ” [الانبیاء-١٠٧]
اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔
تو جس ذاتِ اقدس کو اللہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین فرمایا، اس رحمت کے ظہور، یعنی ولادتِ باسعادت، پر خوشی کا اظہار فی نفسہٖ ایک معقول اور شرعی اصول کے تحت آنے والی بات ہے۔

لیکن سب سے زبردست دلیل خود حضور ﷺ کا عمل ہے:
اب آئیے اس اعتراض کے ایک نقطے کی جانب:
” سُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ قَالَ ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ” [صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صيام ثلاثة ايام من كل شهر وصوم يوم عرفة وعاشوراء والاثنين والخميس]
اور نبئ مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے پیر شریف کا روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ دو جہاں کے تاجدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ دن ہے جب میری ولادت ہوئی اور جس دن مجھے رسول بنا کر بھیجا گیا، یا مجھ پر (قرآنِ مجید) نازل کیا گیا۔
“فِيهِ وُلِدْتُ” (یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔) اور اسی روایت میں ہے:”وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ” (اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔)

اب ذرا غور کیجیے! حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی ولادتِ مبارکہ کے دن کی نسبت کو خود بیان فرما رہے ہیں۔اگر ولادتِ باسعادت کی نسبت کی کوئی اہمیت ہی نہ ہوتی تو نبئ مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پیر کے روزے کی علت میں یہ کیوں فرماتے:” فِيهِ وُلِدْتُ”

ایک اور سوال کا جواب
اگر کوئی کہے: پیر کا روزہ تو عبادت ہے، اس سے میلاد کی محفل کیسے ثابت ہوئی ؟
تو جواب یہ ہے: ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ حدیثِ مبارکہ سے موجودہ محفلِ میلاد کی تمام جزئیات براہِ راست ثابت ہوگئیں۔ بلکہ استدلال یہ ہے کہ: حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی ولادت کے دن کو ایک خصوصی نسبت کی وجہ سے یاد کیا اور اس دن روزہ رکھا۔ لہٰذا یومِ ولادت کی خصوصی یاد اور اس پر اظہارِ شکر کی اصل خود سنت سے ثابت ہو گئی۔ اب اگر کوئی مسلمان اس موقع پر اللہ کا شکر ادا کرے، درود و سلام پڑھے، سیرتِ طیبہ بیان کرے، نعت پڑھے، صدقہ کرے اور جائز طریقے سے خوشی کا اظہار کرے تو ان اعمال میں سے ہر عمل کا اپنا الگ شرعی حکم دیکھا جائے گا۔ یہی فقہی تفریق ضروری ہے۔

اگر سال بھر محبت ہے تو ایک دن کیوں ؟
یہ اعتراض دراصل اپنے اندر ہی کمزور ہے کیونکہ کسی چیز کو خصوصی طور پر ایک دن یاد کرنا اس بات کو لازم نہیں کرتا کہ باقی دن اسے یاد نہ کیا جائے۔ مثلاً:
شبِ قدر کی فضیلت ہے، مگر رمضان کے ہر دن اللہ تعالیٰ کی عبادت ہوتی ہے۔
جمعہ کا دن خصوصی فضیلت رکھتا ہے، مگر باقی دن نماز اور ذکر ہوتے ہیں۔
عاشورا کا دن خصوصی اہمیت رکھتا ہے، مگر محرم کے باقی دن بے معنی نہیں۔
حج کے مخصوص ایام ہیں، مگر اللہ پاک کی عبادت پورے سال جاری رہتی ہے۔
لہٰذا خصوصی وقت کی تخصیص، عمومی عمل کی نفی نہیں کرتی۔ یہی بنیادی مغالطہ اس اعتراض میں پایا جاتا ہے۔

اگر سال بھر درود پڑھتے ہیں تو جمعہ کو زیادہ کیوں ؟ یہاں ایک نہایت عمدہ مثال ہے۔ مسلمان پورے سال درود شریف پڑھتا ہے، مگر جمعہ کے دن درود شریف کی کثرت کی خصوصی ترغیب دی گئی۔ حبیبِ کبریا تاجدارِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ ” [سنن ابی داؤد، ابواب الجمعۃ، باب فضل يوم الجمعة وليلة الجمعة]
بے شک تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پیدا فرمایا گیا، اسی دن ان کا وصال ہوا، اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن بے ہوشی طاری ہوگی۔ لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود میرے حضور پیش کیا جاتا ہے۔
اب کوئی یہ نہیں کہتا کہ درودِ پاک تو ہر دن پڑھتے ہو، جمعہ ہی کو زیادہ کیوں ؟ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ عام عمل کے لیے خاص وقت کی فضیلت مقرر ہو سکتی ہے۔ اسی اصول کو میلاد کے مسئلے میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ”صرف ایک دن“ بھی درست تعبیر نہیں۔

ایک اور اہم بات:
میلاد شریف کو صرف 12؍ربیع الاول شریف تک محدود سمجھنا بھی ضروری نہیں۔ اہلِ سنت کے یہاں میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا تذکرہ ربیع الاول شریف کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر ہوتا ہے۔ محافلِ میلاد، سیرت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اجتماعات، نعتیہ مجالس، درود و سلام اور ذکرِ ولادت، یہ سب پورے سال ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اعتراض کا یہ مفروضہ ہی درست نہیں کہ: میلاد، صرف ایک دن۔ بلکہ زیادہ صحیح تعبیر یہ ہے: ”محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دائمی عمل، اور جشنِ میلاد اس دائمی محبت کا ایک خصوصی مظہر۔

کیا میلاد نہ منانے والا محبت سے محروم ہے ؟
نہیں۔
یہ بھی ایک اہم اعتدال ہے۔ کسی شخص نے میلاد کی محفل منعقد نہیں کی تو محض اس وجہ سے اسے بے محبت کہنا درست نہیں۔ اسی طرح جو شخص شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے میلاد مناتا ہے، اسے بھی محض اس وجہ سے محبت سے محروم قرار دینا درست نہیں۔ محبت کے بہت سے مظاہر ہو سکتے ہیں۔ کسی کی محبت کا اظہار نعت شریف سے ہے، کسی کا درود شریف سے، کسی کا صدقہ سے، کسی کا سیرت پڑھنے سے، کسی کا سنت پر عمل سے اور کسی کا محفلِ میلاد منعقد کرنے سے۔ اصل بحث ”میلاد“ نہیں، ”طریقۂ میلاد“ ہے۔

یہاں ایک نہایت اہم اور دقیق نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر کسی میلاد کی محفل میں: فرض نماز ترک کی جائے، فحش یا بے حیائی ہو، مرد و زن کا ناجائز اختلاط ہو، جھوٹے واقعات بیان کیے جائیں، لوگوں کو ایذا دی جائے، اسراف و فضول خرچی ہو، یا کوئی اور شرعی ممانعت پائی جائے، تو ان چیزوں سے بچنا لازم ہے۔ لیکن کسی عمل کے بعض غلط طریقوں کی قباحت سے اصل جائز مقصد کی حرمت لازم نہیں آتی۔ حضور حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں:
” یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْٓ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ [البقرۃ-٤٠]
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کرنا حکمِ قرآنی ہے۔ لہٰذا محفل میلاد شریف بہت مبارک ہے کیونکہ اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تشریف آوری کا ذکر ہوتا ہے جو کہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ اسی طرح گیارہویں شریف اور عرسِ بزرگان وغیرہ کہ یہ تمام محفلیں ان بزرگوں کی یادگاریں قائم کرنے اور ان کی سوانح حیات لوگوں کو سنا کر انہیں عبادتوں کی رغبت دینے کے لیے کی جاتی ہیں۔ حج، قربانی، روزے، رمضان وغیرہ سب میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی یاد ہے، ان یادگاروں کی اصلی یہ آیت اور اس جیسی دوسری آیات ہیں۔ اگرچہ بعض لوگوں نے ان امورِ خیر میں بدعات، ناچ، گانا وغیرہ شامل کر دیا مگر اس شمول سے اصل عرس حرام نہ ہوگا، جیسے شادیوں میں باجا، گانہ بجانا شامل ہونے سے نکاح حرام نہیں ہے، جیسے کعبہ معظمہ میں بت رکھ دیے گئے تھے تو کعبہ کو نہیں ڈھایا گیا بلکہ بت نکال دیے گئے، ایسے ہی خدا موقع دے تو ان برائیوں کو دور کر دیا جائے گا۔ یادگار نہ ہٹاؤ، مسجد میں کتا گھس جائے تو کتا نکالو مسجد نہ گراؤ۔ [تفسیرِ نعیمی، ج١، ص٢٩١ و ٢٩١]

پھر سوال: کیا ہر سال جشن منانا ضروری ہے ؟ یہ بھی واضح رہے کہ اہلِ سنت کا مدعا یہ نہیں کہ ہر مسلمان پر شرعی فرض یا واجب ہے کہ وہ لازماً ایک مخصوص تاریخ کو جلوس یا محفل منعقد کرے۔ یہاں جواز، استحباب اور وجوب کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ کسی عمل کو جائز یا مستحسن کہنا اور اسے فرض قرار دینا دو الگ دعوے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا: اگر میلاد ضروری نہیں تو پھر کیوں مناتے ہو ؟ ایسا ہی ہے جیسے کوئی پوچھے: نفل صدقہ فرض نہیں، پھر صدقہ کیوں کرتے ہو ؟ ہر نیک کام کے لیے فرض ہونا شرط نہیں۔

اصل محبت کیا ہے ؟
آخر میں سب سے اہم بات: میلاد کی محفل کا مقصد یہ نہیں کہ مسلمان صرف ایک دن نعتیں پڑھے اور پھر باقی سال سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے غافل رہے۔ بلکہ حقیقی میلاد وہ ہے جو انسان کے اندر سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نور پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ” [احزاب-٢١]
بیشک تمہیں رسولُ الله کی پیروی بہتر ہے۔
لہٰذا اگر میلاد کے بعد: نماز کی پابندی بڑھے، درودِ پاک کی کثرت ہو، اخلاق سنوریں، والدین کی خدمت بڑھے، جھوٹ چھوٹے، گناہوں سے نفرت پیدا ہو، اور سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم زندگی میں داخل ہو تو یہ میلاد کے پیغام کا حقیقی ثمر ہے۔

*اعتراض کا فیصلہ کن جواب:*
لہٰذا یہ کہنا کہ: ”اگر میلاد محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے تو سال میں صرف ایک دن کیوں ؟“ درست اعتراض نہیں۔ اس کا جامع جواب یہ ہے: ہم حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے صرف ایک دن محبت نہیں کرتے؛ ہم حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہر دن، ہر وقت اور اپنی پوری زندگی محبت کرتے ہیں۔ البتہ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے تذکرے کے لیے ایک خاص وقت مقرر کرکے خوشی، درود، نعت، سیرت اور صدقہ کے ذریعے اس نعمتِ عظمیٰ کو یاد کرنا ہماری دائمی محبت کا ایک خصوصی مظہر ہے، اس محبت کی تحدید نہیں۔ اور سب سے بڑھ کر خود نبی کریم ﷺ نے پیر کے دن کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے اپنی ولادت کا ذکر فرمایا: فِيهِ وُلِدْتُ۔ پس ”میلاد صرف ایک دن کی محبت ہے“ کہنا اصل مسئلے کو سمجھنے کے بجائے دو الگ چیزوں کو باہم خلط کرنا ہے۔ میلاد ایک دن کا ہوسکتا ہے، مگر محبتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک دن کی نہیں وہ تو مؤمن کی پوری زندگی کا سرمایہ ہے۔ نتیجہ نکلا:

@حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائشِ مولیٰ ﷺ کی دھوم
مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے

@خاک ہو جائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضاؔ
دم میں جب تک دم ہے ذکر ان کا سناتے جائیں گے

@رہے گا یوں ہی ان کا چرچا رہے گا
پڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے
[سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ]

★ “از:”
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی

Scan this QR code to read online:

QR Code