صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
کیا میلاد صحابۂ کرام کی محبت کے خلاف ہے؟
تحقیق و تعاقب

کیا میلاد صحابۂ کرام کی محبت کے خلاف ہے؟

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

کیا میلاد منانے سے صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے زیادہ محبت ثابت ہوتی ہے ؟
کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ”صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے میلاد شریف نہیں منایا، لہٰذا آج میلاد منانے والے گویا صحابۂ کرام سے بڑھ کر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔“ (معاذ اللہ رب العالمین)
اس اعتراض کے اندر حقیقت میں دو الگ چیزوں کو باہم خلط کیا گیا ہے: ایک ہے محبتِ رسول ﷺ اور دوسرا ہے محبت کے اظہار کا ایک مخصوص طریقہ۔ اہلِ سنت کا عقیدہ بالکل واضح ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم حضور نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم سے سب سے بڑھ کر محبت کرنے والے ہیں۔ ہم ان کے مقابلے میں اپنی محبت کا دعویٰ نہیں کرسکتے، بلکہ ہماری محبت بھی انہیں کی محبت کی پیروی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [توبہ-١٠٠]
اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی فضیلت اور ان کی سبقت مسلم ہے۔ لہٰذا کوئی سنی مسلمان میلاد منا کر یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ وہ صحابہ سے زیادہ عاشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے۔
محبت اور اظہارِ محبت میں فرق ہے
صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم کی محبت بے مثال ہے، مگر محبت کے ہر اجتماعی اظہار کی ایک ہی صورت ہونا ضروری نہیں۔ آج ہم سیرتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی کتابیں شائع کرتے ہیں، سیرت کانفرنسز منعقد کرتے ہیں، نعتیہ اجتماعات کرتے ہیں، درود و سلام کی محافل قائم کرتے ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زندگی پر تقریریں کرتے ہیں۔ ان موجودہ تنظیمی صورتوں میں سے ہر ایک بعینہٖ عہدِ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں موجود نہیں تھی۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مسلمان آج سیرت کی کتاب لکھتا یا کانفرنس منعقد کرتا ہے وہ صحابہ سے زیادہ محبت کا دعویٰ کرتا ہے ؟ ہرگز نہیں! اصل چیز مقصد اور عمل کی شرعی حیثیت ہے، محض موجودہ اجتماعی صورت نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے رسولِ کریم ﷺ کی بعثت کو اپنا احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ [آل عمران-١٦٤]
بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔
جب اللہ تعالیٰ خود حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری کو اپنا عظیم احسان قرار دے رہا ہے تو اس نعمت کا ذکر کرنا، اس پر خوشی کا اظہار کرنا اور لوگوں کو سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سنانا صحابہ سے (معاذ اللہ تعالیٰ) مقابلہ کیسے ہو گیا ؟ ہم تو اسی نعمت کا ذکر کرتے ہیں جسے قرآنِ مجید نے احسان قرار دیا ہے۔ بلکہ ذکرِ حبیب کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تو خود صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی سنت ہے۔ پس ہم صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی سنت پر عمل کرتے ہیں۔
اللہ کی نعمت کا چرچا کرنے کا حکم
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ [الضحیٰ-١١]
اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔
اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد فرمایا:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِيْنَ [انبیاء-١٠٧]
پس نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت ہے۔ اس رحمت کا تذکرہ اور اس پر خوشی کا اظہار کرنا فی نفسہٖ کوئی ایسی چیز نہیں جسے صحابہ سے مقابلہ قرار دیا جائے۔
صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم نعت و مدح بھی کرتے تھے۔
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح میں اشعار عرض کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح، آقا کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کے فضائل کا بیان اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں اشعار کہنا صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے زمانے میں موجود تھا۔ لہٰذا آج کوئی مسلمان جائز حدود میں رہتے ہوئے نعت پڑھتا اور سیرت بیان کرتا ہے تو اسے محض ”صحابہ نے اس موجودہ صورت میں نہیں کیا“ کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔
ہر نئی صورت صحابہ سے مقابلہ نہیں۔
یہاں ایک نہایت اہم اصول سمجھنے کی ضرورت ہے: کسی جائز مقصد کے لیے نیا انتظامی طریقہ اختیار کرنا صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے (معاذ اللہ تعالیٰ) بڑھنے کا دعویٰ نہیں ہوتا۔ مثلاً آج قرآنِ کریم ہزاروں نسخوں میں خوب صورت طباعت کے ساتھ شائع ہوتا ہے، قرآنِ مجید کی تعلیم کے لیے باقاعدہ مدارس اور آن لائن کلاسز ہیں، سیرت پر سیمینار ہوتے ہیں اور احادیث کی ڈیجیٹل کتب موجود ہیں۔ یہ چیزیں اپنی موجودہ صورت میں صحابۂ کرام کے زمانے میں نہیں تھیں۔ لیکن ہم یہ نہیں کہتے کہ ان کاموں کے کرنے والے صحابہ سے زیادہ قرآنِ مجید سے محبت کرتے ہیں۔ اسی طرح میلاد کی موجودہ اجتماعی صورت اور صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی محبت میں فرق کرنا چاہیے۔
اصل معیار محبتِ رسول ﷺ ہے۔
حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ [بخاری و مسلم]
یہ حدیثِ مبارکہ ہر مسلمان کو محبتِ رسول ﷺ کی اہمیت بتاتی ہے۔ لیکن محبت کے اظہار کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ کسی کا اظہار درود سے، کسی کا نعت سے، کسی کا صدقہ سے، کسی کا سیرت کے مطالعہ سے اور کسی کا محفلِ میلاد کے ذریعے ہو سکتا ہے۔
اعتراض کا جامع جواب لہٰذا یہ کہنا کہ: ”صحابۂ کرام نے میلاد نہیں منایا، اس لیے میلاد منانے والا ان سے زیادہ محبت کا دعویٰ کرتا ہے“ ایک غلط لازم ہے۔ اہلِ سنت کا دعویٰ یہ نہیں کہ ہم صحابہ سے زیادہ عاشقِ رسول ﷺ ہیں، بلکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم صحابۂ کرام ہی کی محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فیضان سے مالامال ہوتے ہیں۔ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت میں اپنی جانیں قربان کیں؛ ہم ان کے مقام کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہمارا کام تو یہ ہے کہ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت، تعظیم، ذکر اور سیرت کو عام کریں۔ لہٰذا میلاد صحابۂ کرام سے مقابلہ نہیں، بلکہ محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اظہار کی ایک صورت ہے۔ اور اگر کسی میلاد کی محفل میں کوئی ناجائز امر شامل ہوجائے تو اس ناجائز امر کا حکم الگ ہوگا؛ اس کی وجہ سے ہر جائز ذکر، درود، نعت، سیرت اور ذکرِ ولادت کو یک قلم ناجائز قرار دینا درست نہیں۔
صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین محبت میں ہمارے امام ہیں، میلاد ان سے مقابلہ نہیں۔ ہم صحابہ سے آگے بڑھنے کا نہیں، ان کے نقشِ قدم پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ الحمدللہ تعالیٰ، انھیں کے نقشِ قدم پر چلنے سے اہل سنت کامیاب ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اہل سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور ﷺ
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ ﷺ کی
از:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
59
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

میلاد کی طرح ہر نعمت پر سالانہ جشن کیوں نہیں ؟

کیا میلاد صرف ایک دن کی محبت کا نام ہے ؟

کیا میلاد صحابۂ کرام کی محبت کے خلاف ہے؟ - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

کیا میلاد صحابۂ کرام کی محبت کے خلاف ہے؟

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

*کیا میلاد منانے سے صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے زیادہ محبت ثابت ہوتی ہے ؟*

کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ”صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے میلاد شریف نہیں منایا، لہٰذا آج میلاد منانے والے گویا صحابۂ کرام سے بڑھ کر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔“ “(معاذ اللہ رب العالمین)”

اس اعتراض کے اندر حقیقت میں دو الگ چیزوں کو باہم خلط کیا گیا ہے: ایک ہے محبتِ رسول ﷺ اور دوسرا ہے محبت کے اظہار کا ایک مخصوص طریقہ۔ اہلِ سنت کا عقیدہ بالکل واضح ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم حضور نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم سے سب سے بڑھ کر محبت کرنے والے ہیں۔ ہم ان کے مقابلے میں اپنی محبت کا دعویٰ نہیں کرسکتے، بلکہ ہماری محبت بھی انہیں کی محبت کی پیروی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
” وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ” [توبہ-١٠٠]
اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی فضیلت اور ان کی سبقت مسلم ہے۔ لہٰذا کوئی سنی مسلمان میلاد منا کر یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ وہ صحابہ سے زیادہ عاشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے۔

محبت اور اظہارِ محبت میں فرق ہے
صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم کی محبت بے مثال ہے، مگر محبت کے ہر اجتماعی اظہار کی ایک ہی صورت ہونا ضروری نہیں۔ آج ہم سیرتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی کتابیں شائع کرتے ہیں، سیرت کانفرنسز منعقد کرتے ہیں، نعتیہ اجتماعات کرتے ہیں، درود و سلام کی محافل قائم کرتے ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زندگی پر تقریریں کرتے ہیں۔ ان موجودہ تنظیمی صورتوں میں سے ہر ایک بعینہٖ عہدِ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں موجود نہیں تھی۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مسلمان آج سیرت کی کتاب لکھتا یا کانفرنس منعقد کرتا ہے وہ صحابہ سے زیادہ محبت کا دعویٰ کرتا ہے ؟ ہرگز نہیں! اصل چیز مقصد اور عمل کی شرعی حیثیت ہے، محض موجودہ اجتماعی صورت نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے رسولِ کریم ﷺ کی بعثت کو اپنا احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
” لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ ” [آل عمران-١٦٤]
بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔
جب اللہ تعالیٰ خود حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری کو اپنا عظیم احسان قرار دے رہا ہے تو اس نعمت کا ذکر کرنا، اس پر خوشی کا اظہار کرنا اور لوگوں کو سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سنانا صحابہ سے (معاذ اللہ تعالیٰ) مقابلہ کیسے ہو گیا ؟ ہم تو اسی نعمت کا ذکر کرتے ہیں جسے قرآنِ مجید نے احسان قرار دیا ہے۔ بلکہ ذکرِ حبیب کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تو خود صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی سنت ہے۔ پس ہم صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی سنت پر عمل کرتے ہیں۔

اللہ کی نعمت کا چرچا کرنے کا حکم
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ” [الضحیٰ-١١]
اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔
اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد فرمایا:
” وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِيْنَ ” [انبیاء-١٠٧]
پس نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت ہے۔ اس رحمت کا تذکرہ اور اس پر خوشی کا اظہار کرنا فی نفسہٖ کوئی ایسی چیز نہیں جسے صحابہ سے مقابلہ قرار دیا جائے۔

صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم نعت و مدح بھی کرتے تھے۔
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح میں اشعار عرض کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح، آقا کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کے فضائل کا بیان اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں اشعار کہنا صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے زمانے میں موجود تھا۔ لہٰذا آج کوئی مسلمان جائز حدود میں رہتے ہوئے نعت پڑھتا اور سیرت بیان کرتا ہے تو اسے محض ”صحابہ نے اس موجودہ صورت میں نہیں کیا“ کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔

ہر نئی صورت صحابہ سے مقابلہ نہیں۔
یہاں ایک نہایت اہم اصول سمجھنے کی ضرورت ہے: کسی جائز مقصد کے لیے نیا انتظامی طریقہ اختیار کرنا صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے (معاذ اللہ تعالیٰ) بڑھنے کا دعویٰ نہیں ہوتا۔ مثلاً آج قرآنِ کریم ہزاروں نسخوں میں خوب صورت طباعت کے ساتھ شائع ہوتا ہے، قرآنِ مجید کی تعلیم کے لیے باقاعدہ مدارس اور آن لائن کلاسز ہیں، سیرت پر سیمینار ہوتے ہیں اور احادیث کی ڈیجیٹل کتب موجود ہیں۔ یہ چیزیں اپنی موجودہ صورت میں صحابۂ کرام کے زمانے میں نہیں تھیں۔ لیکن ہم یہ نہیں کہتے کہ ان کاموں کے کرنے والے صحابہ سے زیادہ قرآنِ مجید سے محبت کرتے ہیں۔ اسی طرح میلاد کی موجودہ اجتماعی صورت اور صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی محبت میں فرق کرنا چاہیے۔

اصل معیار محبتِ رسول ﷺ ہے۔
حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ” [بخاری و مسلم]
یہ حدیثِ مبارکہ ہر مسلمان کو محبتِ رسول ﷺ کی اہمیت بتاتی ہے۔ لیکن محبت کے اظہار کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ کسی کا اظہار درود سے، کسی کا نعت سے، کسی کا صدقہ سے، کسی کا سیرت کے مطالعہ سے اور کسی کا محفلِ میلاد کے ذریعے ہو سکتا ہے۔

*اعتراض کا جامع جواب* لہٰذا یہ کہنا کہ: ”صحابۂ کرام نے میلاد نہیں منایا، اس لیے میلاد منانے والا ان سے زیادہ محبت کا دعویٰ کرتا ہے“ ایک غلط لازم ہے۔ اہلِ سنت کا دعویٰ یہ نہیں کہ ہم صحابہ سے زیادہ عاشقِ رسول ﷺ ہیں، بلکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم صحابۂ کرام ہی کی محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فیضان سے مالامال ہوتے ہیں۔ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت میں اپنی جانیں قربان کیں؛ ہم ان کے مقام کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہمارا کام تو یہ ہے کہ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت، تعظیم، ذکر اور سیرت کو عام کریں۔ لہٰذا میلاد صحابۂ کرام سے مقابلہ نہیں، بلکہ محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اظہار کی ایک صورت ہے۔ اور اگر کسی میلاد کی محفل میں کوئی ناجائز امر شامل ہوجائے تو اس ناجائز امر کا حکم الگ ہوگا؛ اس کی وجہ سے ہر جائز ذکر، درود، نعت، سیرت اور ذکرِ ولادت کو یک قلم ناجائز قرار دینا درست نہیں۔
صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین محبت میں ہمارے امام ہیں، میلاد ان سے مقابلہ نہیں۔ ہم صحابہ سے آگے بڑھنے کا نہیں، ان کے نقشِ قدم پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ الحمدللہ تعالیٰ، انھیں کے نقشِ قدم پر چلنے سے اہل سنت کامیاب ہے۔

@اہل سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور ﷺ
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ ﷺ کی

★ “از:”
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی

Scan this QR code to read online:

QR Code