صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
اندھیروں میں علم کی روشنی
ادبیات

اندھیروں میں علم کی روشنی

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

اندھیروں میں علم کی روشنی
علم کی باتیں (٥)
اندھیرا ہمیشہ رات کا نام نہیں ہوتا۔ کبھی آنکھیں کھلی ہوتی ہیں، راستے سامنے ہوتے ہیں، لوگ اردگرد موجود ہوتے ہیں، مگر پھر بھی انسان کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کس بات کو درست سمجھے، کس بات سے بچے، کس راستے پر قدم رکھے اور کس آواز پر اعتماد کرے۔ ایسے اندھیرے میں چراغ کی ضرورت ہوتی ہے، اور انسانی زندگی میں وہ چراغ ”علم“ ہے۔
جہالت کا اندھیرا بھی عجیب ہوتا ہے۔ اس میں انسان کو اپنے اندھیرے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ اسے جو معلوم ہے، وہی اسے پوری دنیا معلوم ہوتا ہے،
جو بات اس نے سن لی، وہی اس کے نزدیک حقیقت بن جاتی ہے، اور
جس چیز سے وہ ناواقف ہے، اس کے وجود کا بھی اسے اندازہ نہیں ہوتا۔ علم آتا ہے تو سب سے پہلے یہی پردہ اٹھاتا ہے۔ انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا اس کے خیال سے کہیں زیادہ وسیع ہے، مسائل اتنے سادہ نہیں جتنے دکھائی دیتے ہیں، اور جاننے کے لیے ابھی بہت کچھ باقی ہے۔
ایک چھوٹا سا چراغ پورے شہر کو روشن نہیں کرتا، مگر جس شخص کے ہاتھ میں ہو، اس کے قدموں کے سامنے کا راستہ ضرور دکھا دیتا ہے۔ علم بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ضروری نہیں کہ انسان ایک ہی دن میں ہر سوال کا جواب پا لے۔ ضروری یہ ہے کہ اسے اگلا قدم دکھائی دینے لگے۔
ایک طالب علم جب پہلی بار کسی مشکل مسئلے کو سمجھتا ہے تو شاید دنیا کے لیے یہ معمولی واقعہ ہو، مگر اس کے لیے یہ ایک اندھیرے کمرے میں کھڑکی کھلنے جیسا ہوتا ہے۔ جو بات کل تک ناقابلِ فہم تھی، آج واضح ہو جاتی ہے۔ ایک سوال جس نے اسے پریشان کر رکھا تھا، اس کا جواب مل جاتا ہے؛ پھر اسی جواب سے دس نئے سوال پیدا ہوتے ہیں۔ یہی علم کا سفر ہے: روشنی بڑھتی ہے تو نظر آنے والی دنیا بھی وسیع ہوتی جاتی ہے۔
علم صرف یہ نہیں بتاتا کہ کتاب میں کیا لکھا ہے۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ کتاب کو کیسے پڑھنا ہے، بات کو کیسے سمجھنا ہے، دلیل کو کیسے پہچاننا ہے اور اپنی لاعلمی کو کیسے تسلیم کرنا ہے۔
اسی لیے ایک عالم اور ایک محض معلومات رکھنے والے شخص میں فرق ہوتا ہے۔ معلومات بہت سی چیزیں یاد کرا سکتی ہیں، مگر علم انسان کے اندر سمجھ کا ذوق پیدا کرتا ہے۔ وہ ہر سنی سنائی بات کو فوراً حقیقت نہیں مانتا، ہر اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتا اور ہر سوال سے گھبراتا نہیں۔
علم کی روشنی کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ وہ انسان کو دوسروں کی روشنی کا احترام سکھاتی ہے۔ جب آدمی واقعی جاننے لگتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ ہر میدان میں اس سے زیادہ جاننے والے موجود ہیں۔ پھر علم غرور کی وجہ نہیں بنتا، بلکہ انسان کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے۔
تاریخ کے صفحات کھولیے تو معلوم ہوتا ہے کہ قومیں صرف تلواروں سے نہیں بنتیں، خیالات سے بنتی ہیں۔ جب کسی معاشرے میں کتاب کی قدر بڑھتی ہے، سوال کرنے کی اجازت ہوتی ہے، استاد کا احترام ہوتا ہے اور علم حاصل کرنے والے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تو وہاں صرف افراد نہیں بدلتے، پورا ماحول بدلنے لگتا ہے۔
ایک استاد ایک بچے کو پڑھاتا ہے۔ بظاہر ایک چھوٹا سا کام ہے۔ مگر وہ بچہ آگے چل کر کسی دوسرے کو تعلیم دے سکتا ہے، وہ کسی مسئلے کا حل نکال سکتا ہے، کسی بیمار کی خدمت کرسکتا ہے، کسی ادارے کو سنوار سکتا ہے یا کسی ایسی نسل کی تربیت کر سکتا ہے جو اس استاد کو کبھی جانتی بھی نہ ہو۔
یوں ایک استاد کی آواز ایک کمرے سے نکل کر کئی نسلوں تک پہنچ سکتی ہے۔
یہی علم کی روشنی ہے۔
اس کا سفر عجیب ہے۔ ایک ذہن سے دوسرے ذہن تک، ایک کتاب سے دوسری کتاب تک، ایک استاد سے شاگرد تک، ایک نسل سے اگلی نسل تک۔ چراغ جلتا ہے اور اپنی روشنی دینے سے کم نہیں ہوتا؛ بلکہ دوسرے چراغ روشن ہوتے جاتے ہیں۔
مگر علم کا چراغ خود بخود روشن نہیں رہتا۔ اسے مطالعہ، سوال، تحقیق، غور و فکر اور عمل کا تیل درکار ہوتا ہے۔ جو شخص پڑھنا چھوڑ دیتا ہے، سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے اور اپنی غلطی تسلیم کرنا چھوڑ دیتا ہے، اس کے اندر کی روشنی آہستہ آہستہ مدھم ہونے لگتی ہے۔
اور علم کا سب سے خوب صورت مقام وہ ہے جہاں وہ انسان کے عمل میں نظر آئے۔
اگر کسی نے بہت کچھ پڑھ لیا مگر اس کے اخلاق میں نرمی نہ آئی، گفتگو میں شائستگی نہ آئی، فیصلوں میں انصاف نہ آیا اور دوسروں کے لیے فائدہ مند بننے کی خواہش پیدا نہ ہوئی تو اس نے علم کے الفاظ تو جمع کیے، مگر شاید اس کی روشنی ابھی اس کے اندر نہیں اتری۔
اصل علم وہ ہے جو انسان کی نظر بدل دے۔
پھر وہی شخص کسی غریب کو دیکھ کر صرف اس کی غربت نہیں دیکھتا، ایک انسان دیکھتا ہے۔ کسی کم علم کو دیکھ کر صرف اس کی کم علمی نہیں دیکھتا، بلکہ اسے سکھانے کا موقع دیکھتا ہے۔ اپنی کامیابی کو صرف اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتا، بلکہ ان لوگوں کو بھی یاد رکھتا ہے جنہوں نے اس کے راستے میں کوئی چراغ رکھا تھا۔
اس مقام پر علم کتاب سے نکل کر کردار بن جاتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
دنیا میں اندھیرے ہمیشہ رہیں گے۔ ہر زمانے کے اپنے سوال ہوں گے، اپنی الجھنیں ہوں گی، اپنی غلط فہمیاں ہوں گی۔ لیکن ہر دور کو ایسے لوگوں کی ضرورت رہے گی جو اپنے ہاتھ میں علم کا چراغ لے کر کھڑے ہوں اور کہیں:
”راستہ شاید ابھی مکمل دکھائی نہیں دے رہا، مگر اتنی روشنی ضرور ہے کہ اگلا قدم اٹھایا جا سکے۔“
اور یہ بھی علم کی سب سے بڑی نعمت ہے۔
وہ انسان سے یہ وعدہ نہیں کرتا کہ زندگی میں کبھی اندھیرا نہیں آئے گا، وہ صرف اتنی روشنی دیتا ہے کہ اندھیرے کے باوجود راستہ چھوڑنے کی نوبت نہ آئے.............جاری
از:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
52
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

علمِ دین ۔ دل کی روشنی، زندگی کا راستہ

لفظوں میں چھپی دنیا

اندھیروں میں علم کی روشنی - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

اندھیروں میں علم کی روشنی

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

*اندھیروں میں علم کی روشنی*
علم کی باتیں (٥)

اندھیرا ہمیشہ رات کا نام نہیں ہوتا۔ کبھی آنکھیں کھلی ہوتی ہیں، راستے سامنے ہوتے ہیں، لوگ اردگرد موجود ہوتے ہیں، مگر پھر بھی انسان کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کس بات کو درست سمجھے، کس بات سے بچے، کس راستے پر قدم رکھے اور کس آواز پر اعتماد کرے۔ ایسے اندھیرے میں چراغ کی ضرورت ہوتی ہے، اور انسانی زندگی میں وہ چراغ *”علم“* ہے۔

جہالت کا اندھیرا بھی عجیب ہوتا ہے۔ اس میں انسان کو اپنے اندھیرے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ اسے جو معلوم ہے، وہی اسے پوری دنیا معلوم ہوتا ہے،
جو بات اس نے سن لی، وہی اس کے نزدیک حقیقت بن جاتی ہے، اور
جس چیز سے وہ ناواقف ہے، اس کے وجود کا بھی اسے اندازہ نہیں ہوتا۔ علم آتا ہے تو سب سے پہلے یہی پردہ اٹھاتا ہے۔ انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا اس کے خیال سے کہیں زیادہ وسیع ہے، مسائل اتنے سادہ نہیں جتنے دکھائی دیتے ہیں، اور جاننے کے لیے ابھی بہت کچھ باقی ہے۔

ایک چھوٹا سا چراغ پورے شہر کو روشن نہیں کرتا، مگر جس شخص کے ہاتھ میں ہو، اس کے قدموں کے سامنے کا راستہ ضرور دکھا دیتا ہے۔ علم بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ضروری نہیں کہ انسان ایک ہی دن میں ہر سوال کا جواب پا لے۔ ضروری یہ ہے کہ اسے اگلا قدم دکھائی دینے لگے۔

ایک طالب علم جب پہلی بار کسی مشکل مسئلے کو سمجھتا ہے تو شاید دنیا کے لیے یہ معمولی واقعہ ہو، مگر اس کے لیے یہ ایک اندھیرے کمرے میں کھڑکی کھلنے جیسا ہوتا ہے۔ جو بات کل تک ناقابلِ فہم تھی، آج واضح ہو جاتی ہے۔ ایک سوال جس نے اسے پریشان کر رکھا تھا، اس کا جواب مل جاتا ہے؛ پھر اسی جواب سے دس نئے سوال پیدا ہوتے ہیں۔ یہی علم کا سفر ہے: روشنی بڑھتی ہے تو نظر آنے والی دنیا بھی وسیع ہوتی جاتی ہے۔
علم صرف یہ نہیں بتاتا کہ کتاب میں کیا لکھا ہے۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ کتاب کو کیسے پڑھنا ہے، بات کو کیسے سمجھنا ہے، دلیل کو کیسے پہچاننا ہے اور اپنی لاعلمی کو کیسے تسلیم کرنا ہے۔

اسی لیے ایک عالم اور ایک محض معلومات رکھنے والے شخص میں فرق ہوتا ہے۔ معلومات بہت سی چیزیں یاد کرا سکتی ہیں، مگر علم انسان کے اندر سمجھ کا ذوق پیدا کرتا ہے۔ وہ ہر سنی سنائی بات کو فوراً حقیقت نہیں مانتا، ہر اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتا اور ہر سوال سے گھبراتا نہیں۔

علم کی روشنی کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ وہ انسان کو دوسروں کی روشنی کا احترام سکھاتی ہے۔ جب آدمی واقعی جاننے لگتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ ہر میدان میں اس سے زیادہ جاننے والے موجود ہیں۔ پھر علم غرور کی وجہ نہیں بنتا، بلکہ انسان کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے۔

تاریخ کے صفحات کھولیے تو معلوم ہوتا ہے کہ قومیں صرف تلواروں سے نہیں بنتیں، خیالات سے بنتی ہیں۔ جب کسی معاشرے میں کتاب کی قدر بڑھتی ہے، سوال کرنے کی اجازت ہوتی ہے، استاد کا احترام ہوتا ہے اور علم حاصل کرنے والے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تو وہاں صرف افراد نہیں بدلتے، پورا ماحول بدلنے لگتا ہے۔
ایک استاد ایک بچے کو پڑھاتا ہے۔ بظاہر ایک چھوٹا سا کام ہے۔ مگر وہ بچہ آگے چل کر کسی دوسرے کو تعلیم دے سکتا ہے، وہ کسی مسئلے کا حل نکال سکتا ہے، کسی بیمار کی خدمت کرسکتا ہے، کسی ادارے کو سنوار سکتا ہے یا کسی ایسی نسل کی تربیت کر سکتا ہے جو اس استاد کو کبھی جانتی بھی نہ ہو۔
یوں ایک استاد کی آواز ایک کمرے سے نکل کر کئی نسلوں تک پہنچ سکتی ہے۔

یہی علم کی روشنی ہے۔
اس کا سفر عجیب ہے۔ ایک ذہن سے دوسرے ذہن تک، ایک کتاب سے دوسری کتاب تک، ایک استاد سے شاگرد تک، ایک نسل سے اگلی نسل تک۔ چراغ جلتا ہے اور اپنی روشنی دینے سے کم نہیں ہوتا؛ بلکہ دوسرے چراغ روشن ہوتے جاتے ہیں۔
مگر علم کا چراغ خود بخود روشن نہیں رہتا۔ اسے مطالعہ، سوال، تحقیق، غور و فکر اور عمل کا تیل درکار ہوتا ہے۔ جو شخص پڑھنا چھوڑ دیتا ہے، سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے اور اپنی غلطی تسلیم کرنا چھوڑ دیتا ہے، اس کے اندر کی روشنی آہستہ آہستہ مدھم ہونے لگتی ہے۔

اور علم کا سب سے خوب صورت مقام وہ ہے جہاں وہ انسان کے عمل میں نظر آئے۔
اگر کسی نے بہت کچھ پڑھ لیا مگر اس کے اخلاق میں نرمی نہ آئی، گفتگو میں شائستگی نہ آئی، فیصلوں میں انصاف نہ آیا اور دوسروں کے لیے فائدہ مند بننے کی خواہش پیدا نہ ہوئی تو اس نے علم کے الفاظ تو جمع کیے، مگر شاید اس کی روشنی ابھی اس کے اندر نہیں اتری۔

*اصل علم وہ ہے جو انسان کی نظر بدل دے۔*
پھر وہی شخص کسی غریب کو دیکھ کر صرف اس کی غربت نہیں دیکھتا، ایک انسان دیکھتا ہے۔ کسی کم علم کو دیکھ کر صرف اس کی کم علمی نہیں دیکھتا، بلکہ اسے سکھانے کا موقع دیکھتا ہے۔ اپنی کامیابی کو صرف اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتا، بلکہ ان لوگوں کو بھی یاد رکھتا ہے جنہوں نے اس کے راستے میں کوئی چراغ رکھا تھا۔
اس مقام پر علم کتاب سے نکل کر کردار بن جاتا ہے۔

دنیا میں اندھیرے ہمیشہ رہیں گے۔ ہر زمانے کے اپنے سوال ہوں گے، اپنی الجھنیں ہوں گی، اپنی غلط فہمیاں ہوں گی۔ لیکن ہر دور کو ایسے لوگوں کی ضرورت رہے گی جو اپنے ہاتھ میں علم کا چراغ لے کر کھڑے ہوں اور کہیں:
*”راستہ شاید ابھی مکمل دکھائی نہیں دے رہا، مگر اتنی روشنی ضرور ہے کہ اگلا قدم اٹھایا جا سکے۔“*
اور یہ بھی علم کی سب سے بڑی نعمت ہے۔
وہ انسان سے یہ وعدہ نہیں کرتا کہ زندگی میں کبھی اندھیرا نہیں آئے گا، وہ صرف اتنی روشنی دیتا ہے کہ اندھیرے کے باوجود راستہ چھوڑنے کی نوبت نہ آئے………….*جاری*

★ “از:”
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی

Scan this QR code to read online:

QR Code