اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
خوشیوں کی راہ میں بکھرے کانٹے (3)
ادبیات

خوشیوں کی راہ میں بکھرے کانٹے (3)

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

خوشیوں کی راہ میں بکھرے کانٹے
تیسری قسط: جب حالات حوصلے آزمانے لگیں
زندگی میں کچھ وقت ایسے بھی آتے ہیں جب انسان ہر طرف سے گھرا ہوا محسوس کرتا ہے۔ نہ کوئی راستہ صاف دکھائی دیتا ہے، نہ کسی تدبیر سے مسئلہ حل ہوتا نظر آتا ہے۔ ایک طرف خواب ہوتے ہیں جو ادھورے رہ جاتے ہیں، دوسری طرف ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو پیچھے ہٹنے نہیں دیتیں۔ دل چاہتا ہے کہ کچھ دیر کے لیے سب کچھ چھوڑ کر سکون سے بیٹھ جائے، مگر حالات اسے ٹھہرنے کی مہلت بھی نہیں دیتے۔
ایسے وقت میں انسان کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ خوشیوں کے دنوں میں مسکرانا اور کامیابی کے وقت حوصلہ دکھانا آسان ہے۔ مشکل تو تب ہے جب مسلسل ناکامیوں کے باوجود امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ جب محنت کے باوجود نتیجہ نہ ملےاور بار بار کوشش کرنے کے بعد بھی راستے کی رکاوٹیں اپنی جگہ قائم رہیں، تب انسان کو اپنے ہی حوصلے کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر مضبوط دکھائی دینے والا انسان اندر سے مضبوط نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ دوسروں کے سامنے اپنے آنسو چھپا لیتے ہیں، اپنی پریشانیاں ہنسی میں ٹال دیتے ہیں اور اپنے ٹوٹتے ہوئے حوصلے کا ذکر تک نہیں کرتے۔ وہ اس لیے نہیں کہ انہیں تکلیف نہیں ہوتی، بلکہ اس لیے کہ وہ ہر کسی کے سامنے اپنا درد بیان نہیں کر سکتے، کیونکہ اب پریشانیوں کو سمجھا نہیں جاتا ان پر ہنسا جاتا ہے۔ ان کی خاموشی کو بے فکری نہ سمجھیے، ممکن ہے وہ اپنی زندگی کی سب سے مشکل گھڑی سے گزر رہے ہوں۔
البتہ مشکل وقت ہمیشہ ایک ہی حال میں نہیں رہتا۔ حالات بدلتے ہیں، راستے نکلتے ہیں اور بعض بند دروازوں کے سامنے ایسے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں جن کا پہلے تصور بھی نہیں ہوتا۔ اس لیے ناامیدی کے لمحوں میں اپنے آج کو پوری زندگی کا فیصلہ نہ سمجھ لیجیے۔ جو کام آج ناممکن دکھائی دیتا ہے، ممکن ہے کل اسی کے لیے کوئی نئی راہ کھل جائے۔ ہاں! امید کے ساتھ تدبیر، محنت اور صبر بھی ضروری ہیں؛ محض انتظار کرنے سے ہر مشکل حل نہیں ہوتی۔
زندگی کے کانٹے ہمیں صرف زخمی نہیں کرتے، بعض اوقات یہ بھی سکھاتے ہیں کہ اپنے قدم کہاں سنبھال کر رکھنے ہیں، کس راستے پر دوبارہ غور کرنا ہے اور کن لوگوں سے توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہییں۔ ہر آزمائش کا جواب فوراً نہیں ملتا، لیکن ہر مشکل میں خود کو بالکل بے بس سمجھ لینا بھی درست نہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
یاد رکھیے! راستے کی سختی اس بات کی دلیل نہیں کہ منزل آپ کے نصیب میں نہیں، کبھی ضرورت صرف اتنی ہوتی ہے کہ تھکے ہوئے قدموں کو ذرا آرام دیا جائے، حوصلہ پھر سے جمع کیا جائے اور سفر نئے عزم کے ساتھ شروع کر دیا جائے........جاری
از:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
83
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

خوشیوں کی راہ میں بکھرے کانٹے (5)

تعارف -صدائے مرکز ششماہی رسالہ

خوشیوں کی راہ میں بکھرے کانٹے (3) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

خوشیوں کی راہ میں بکھرے کانٹے (3)

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

خوشیوں کی راہ میں بکھرے کانٹے
تیسری قسط: جب حالات حوصلے آزمانے لگیں

زندگی میں کچھ وقت ایسے بھی آتے ہیں جب انسان ہر طرف سے گھرا ہوا محسوس کرتا ہے۔ نہ کوئی راستہ صاف دکھائی دیتا ہے، نہ کسی تدبیر سے مسئلہ حل ہوتا نظر آتا ہے۔ ایک طرف خواب ہوتے ہیں جو ادھورے رہ جاتے ہیں، دوسری طرف ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو پیچھے ہٹنے نہیں دیتیں۔ دل چاہتا ہے کہ کچھ دیر کے لیے سب کچھ چھوڑ کر سکون سے بیٹھ جائے، مگر حالات اسے ٹھہرنے کی مہلت بھی نہیں دیتے۔

ایسے وقت میں انسان کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ خوشیوں کے دنوں میں مسکرانا اور کامیابی کے وقت حوصلہ دکھانا آسان ہے۔ مشکل تو تب ہے جب مسلسل ناکامیوں کے باوجود امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ جب محنت کے باوجود نتیجہ نہ ملےاور بار بار کوشش کرنے کے بعد بھی راستے کی رکاوٹیں اپنی جگہ قائم رہیں، تب انسان کو اپنے ہی حوصلے کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر مضبوط دکھائی دینے والا انسان اندر سے مضبوط نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ دوسروں کے سامنے اپنے آنسو چھپا لیتے ہیں، اپنی پریشانیاں ہنسی میں ٹال دیتے ہیں اور اپنے ٹوٹتے ہوئے حوصلے کا ذکر تک نہیں کرتے۔ وہ اس لیے نہیں کہ انہیں تکلیف نہیں ہوتی، بلکہ اس لیے کہ وہ ہر کسی کے سامنے اپنا درد بیان نہیں کر سکتے، کیونکہ اب پریشانیوں کو سمجھا نہیں جاتا ان پر ہنسا جاتا ہے۔ ان کی خاموشی کو بے فکری نہ سمجھیے، ممکن ہے وہ اپنی زندگی کی سب سے مشکل گھڑی سے گزر رہے ہوں۔

البتہ مشکل وقت ہمیشہ ایک ہی حال میں نہیں رہتا۔ حالات بدلتے ہیں، راستے نکلتے ہیں اور بعض بند دروازوں کے سامنے ایسے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں جن کا پہلے تصور بھی نہیں ہوتا۔ اس لیے ناامیدی کے لمحوں میں اپنے آج کو پوری زندگی کا فیصلہ نہ سمجھ لیجیے۔ جو کام آج ناممکن دکھائی دیتا ہے، ممکن ہے کل اسی کے لیے کوئی نئی راہ کھل جائے۔ ہاں! امید کے ساتھ تدبیر، محنت اور صبر بھی ضروری ہیں؛ محض انتظار کرنے سے ہر مشکل حل نہیں ہوتی۔

زندگی کے کانٹے ہمیں صرف زخمی نہیں کرتے، بعض اوقات یہ بھی سکھاتے ہیں کہ اپنے قدم کہاں سنبھال کر رکھنے ہیں، کس راستے پر دوبارہ غور کرنا ہے اور کن لوگوں سے توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہییں۔ ہر آزمائش کا جواب فوراً نہیں ملتا، لیکن ہر مشکل میں خود کو بالکل بے بس سمجھ لینا بھی درست نہیں۔

یاد رکھیے! راستے کی سختی اس بات کی دلیل نہیں کہ منزل آپ کے نصیب میں نہیں، کبھی ضرورت صرف اتنی ہوتی ہے کہ تھکے ہوئے قدموں کو ذرا آرام دیا جائے، حوصلہ پھر سے جمع کیا جائے اور سفر نئے عزم کے ساتھ شروع کر دیا جائے……..*جاری*

★ “از:”
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی

Scan this QR code to read online:

QR Code