صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
کذاب کون ؟ حق کی سربلندی اور باطل کی رسوائی
تاثرات

کذاب کون ؟ حق کی سربلندی اور باطل کی رسوائی

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

”کذاب کون ؟“ حق کی سر بلندی اور باطل کی رسوائی
القول الأحسن فی کشف زور الگھمن المعروف ب ”کذاب کون ؟“
مؤلف: مولانا محمد عامر فضیل مرکزی حفظہ اللہ تعالیٰ (دربھنگہ، بہار)
اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیشہ حق کوسر بلند اور باطل کوسر نگوں فرمایا۔ جب جب کفر و شرک و گمراہیت کی ظلمت نے پوری کائنات پر اپنی چادر بچھانے کی کوشش کی تب تب خدائے ذوالجلال کی عطا سے ایک بندۂ خدا سورج بن کر اس ظلمت کو مٹانے اس دنیا میں تشریف لایا۔
ملک عزیز ہندوستان میں حبیب رب العٰلمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے لخت جگر، نورِ نظر حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ اسلام ملک ہندوستان میں پھیلا۔ کئی عرصے بعد جب اس سر زمین پر انگریزوں کی حکومت نے پیر پھیلائے توان کو جواب دینے اور مذہب کی تبلیغ واشاعت کیلئے بزرگانِ دین ہمہ وقت صف آرا رہے۔ انھیں مبارک، بے خوف، نڈر ہستیوں میں ایک ذات وہ بھی ہے جس کو تاریخ حضرت علامہ نقی علی خان علیہ الرحمۃ کا لخت جگر کہتی ہے، آیۃ من آیات اللہ، معجزۃ من معجزات رسول اللہ بھی کہتی ہے، بہترین عالم، فاضل، قاری، مفتی، سائنٹسٹ بھی کہتی ہے اور جن کو ان کے معاصر اکابر علما نے اپنے وقت کا مجدد تسلیم کیا ہے ، یعنی امام اہل سنت، عاشق ماہِ نبوت ﷺ، امامِ عشق و محبت، پیشوائے اہل سنت، قاطع نجدیت و بدعت حضور سیدی سرکار اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تشریف آوری سے انگریزوں کی حکومت میں زلزلہ برپا ہو گیا۔سرکار اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایمان کی حفاظت فرمائی اور باطل کو منہ چھپانے پر مجبور فرمایا۔ گمراہ کن ملاؤں کا زبردست رد فرمایا۔
مگر یہ بات بھی ظاہر ہے کہ جو حق پر ہوتا ہے تو دشمنانِ دین اس کو راستے سے ہٹانے کی ہر بے جا کوشش ضرور کرتے ہیں، بے جا الزامات لگاتے ہیں، جاہلانہ اعتراض کرکے عوام الناس کے ایمان کو برباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھیں جاہلوں میں ایک نام ”الیاس گھمن“ کا بھی ہے۔ جس نے امامِ اہل سنت پر بے جا اعتراضات کیے اور شیطان کا چیلا بن کر لوگوں کو بہکانے کی پوری کوشش کی۔ مگر حق کبھی مٹتا نہیں اور کبھی ذلیل نہیں ہوتا تو ایسے جاہلوں کو جواب دینے کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں کسی کو منتخب ضرور فرماتا ہے۔ امام اہل سنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جو اس جاہل نے بلا وجہ اعتراضات کیے اور ان کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے سترہ جھوٹ ان کی جانب منسوب کیے۔ ان اعتراضات کا یادگارِ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ مرکز الدراسات الاسلامیۃ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف سے تعلیمی سال 26-2025 میں فارغ ہونے والے ہونہارفاضل مولانا محمد عامر فضیل مرکزی صاحب حفظہ اللّٰہ تعالیٰ نے زبردست دلائل کی روشنی میں دفع فرمایا ہے۔اور دیابنہ کو ان کے اصول کی روشنی میں کذاب و خائن ثابت کیا ہے۔اور اس رسالے کا نام انہوں نے القول الأحسن فی کشف زور الگھمن المعروف ب ”کذاب کون ؟“ رکھا ہے۔
یہ رسالہ اللہ تعالیٰ کے ولی سے محبت کی دلیل ہے۔ اور فاضل محترم کی علمی لیاقت کا بین ثبوت ۔ مؤلف کی محنت و محبت کا رنگ رسالہ میں صاف ظاہر ہے۔ ان شاء اللّٰہ تعالیٰ جب کتاب اس حقیر کے ہاتھوں میں آئے گی تب رسالے کی علمی اور فنی خوبیوں پرمزید بحث کی جائے گی۔ فی الحال یہ حقیر فاضل مولانا محمد عامر فضیل مرکزی صاحب حفظہ اللّٰہ تعالیٰ کو دل کی گہرائیوں سے ان کی اس علمی کاوش پر دلی مبارکبادی پیش کرتا ہے۔کیونک تصنیف و تالیف کا عمل محض چند صفحات لکھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک کٹھن اور صبر آزما مرحلہ ہے جس میں حوالہ جات کی چھان بین، بار بار مطالعہ، کمپوزنگ، پروف ریڈنگ، اساتذہ کی تصدیق، اہلِ علم کی تقریظات، اور آخر کار طباعت جیسے مراحل شامل ہوتے ہیں۔ یقیناً یہ وہ ذمہ داری ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ کیوں کہ اس میں وقت بھی لگتے ہیں اور پریشانیوں سے دوچار ہونا بھی پڑتا ہے ۔
مجھے امید ہے کہ ان شاء اللّٰہ تعالیٰ مولانا عامر فضیل مرکزی صاحب آئندہ بھی امام اہلسنت پر کیے گئے دیگر اعتراضات کا جواب دیکر باطل کی زبان کو مکفل کریں گے۔اور دفاع مسلک کی اہم ذمہ داری کو ادا کرتے رہیں گے ۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ فرمائیں: 7492077390
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وسیلے سے اس رسالہ کو درجۂ قبولیت عطا فرمائے، مؤلف کو سرکار اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیضان عطا فرمائے، رسالہ کو مقبول خواص و عوام بنائے، نظر بد سے محفوظ فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
از: محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
شاہین باغ، ابوالفضل انکلیو-2، جامعہ نگر، نئی دہلی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
79
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

رسالہ حلالہ اور طلاقِ ثلاثہ کا شرعی و عقلی تجزیہ امت کے لیے مفید تر کتاب

ہمارے بارہ کا دندان شکن جواب

کذاب کون ؟ حق کی سربلندی اور باطل کی رسوائی - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

کذاب کون ؟ حق کی سربلندی اور باطل کی رسوائی

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

”کذاب کون ؟“ حق کی سر بلندی اور باطل کی رسوائی
“القول الأحسن فی کشف زور الگھمن المعروف” ب ”کذاب کون ؟“
مؤلف: مولانا محمد عامر فضیل مرکزی حفظہ اللہ تعالیٰ (دربھنگہ، بہار)

اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیشہ حق کوسر بلند اور باطل کوسر نگوں فرمایا۔ جب جب کفر و شرک و گمراہیت کی ظلمت نے پوری کائنات پر اپنی چادر بچھانے کی کوشش کی تب تب خدائے ذوالجلال کی عطا سے ایک بندۂ خدا سورج بن کر اس ظلمت کو مٹانے اس دنیا میں تشریف لایا۔

ملک عزیز ہندوستان میں حبیب رب العٰلمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے لخت جگر، نورِ نظر حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ اسلام ملک ہندوستان میں پھیلا۔ کئی عرصے بعد جب اس سر زمین پر انگریزوں کی حکومت نے پیر پھیلائے توان کو جواب دینے اور مذہب کی تبلیغ واشاعت کیلئے بزرگانِ دین ہمہ وقت صف آرا رہے۔ انھیں مبارک، بے خوف، نڈر ہستیوں میں ایک ذات وہ بھی ہے جس کو تاریخ حضرت علامہ نقی علی خان علیہ الرحمۃ کا لخت جگر کہتی ہے، آیۃ من آیات اللہ، معجزۃ من معجزات رسول اللہ بھی کہتی ہے، بہترین عالم، فاضل، قاری، مفتی، سائنٹسٹ بھی کہتی ہے اور جن کو ان کے معاصر اکابر علما نے اپنے وقت کا مجدد تسلیم کیا ہے ، یعنی امام اہل سنت، عاشق ماہِ نبوت ﷺ، امامِ عشق و محبت، پیشوائے اہل سنت، قاطع نجدیت و بدعت حضور سیدی سرکار اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تشریف آوری سے انگریزوں کی حکومت میں زلزلہ برپا ہو گیا۔سرکار اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایمان کی حفاظت فرمائی اور باطل کو منہ چھپانے پر مجبور فرمایا۔ گمراہ کن ملاؤں کا زبردست رد فرمایا۔

مگر یہ بات بھی ظاہر ہے کہ جو حق پر ہوتا ہے تو دشمنانِ دین اس کو راستے سے ہٹانے کی ہر بے جا کوشش ضرور کرتے ہیں، بے جا الزامات لگاتے ہیں، جاہلانہ اعتراض کرکے عوام الناس کے ایمان کو برباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھیں جاہلوں میں ایک نام ”الیاس گھمن“ کا بھی ہے۔ جس نے امامِ اہل سنت پر بے جا اعتراضات کیے اور شیطان کا چیلا بن کر لوگوں کو بہکانے کی پوری کوشش کی۔ مگر حق کبھی مٹتا نہیں اور کبھی ذلیل نہیں ہوتا تو ایسے جاہلوں کو جواب دینے کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں کسی کو منتخب ضرور فرماتا ہے۔ امام اہل سنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جو اس جاہل نے بلا وجہ اعتراضات کیے اور ان کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے سترہ جھوٹ ان کی جانب منسوب کیے۔ ان اعتراضات کا یادگارِ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ مرکز الدراسات الاسلامیۃ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف سے تعلیمی سال 26-2025 میں فارغ ہونے والے ہونہارفاضل مولانا محمد عامر فضیل مرکزی صاحب حفظہ اللّٰہ تعالیٰ نے زبردست دلائل کی روشنی میں دفع فرمایا ہے۔اور دیابنہ کو ان کے اصول کی روشنی میں کذاب و خائن ثابت کیا ہے۔اور اس رسالے کا نام انہوں نے *”القول الأحسن فی کشف زور الگھمن المعروف” ب ”کذاب کون ؟“* رکھا ہے۔

یہ رسالہ اللہ تعالیٰ کے ولی سے محبت کی دلیل ہے۔ اور فاضل محترم کی علمی لیاقت کا بین ثبوت ۔ مؤلف کی محنت و محبت کا رنگ رسالہ میں صاف ظاہر ہے۔ ان شاء اللّٰہ تعالیٰ جب کتاب اس حقیر کے ہاتھوں میں آئے گی تب رسالے کی علمی اور فنی خوبیوں پرمزید بحث کی جائے گی۔ فی الحال یہ حقیر فاضل مولانا محمد عامر فضیل مرکزی صاحب حفظہ اللّٰہ تعالیٰ کو دل کی گہرائیوں سے ان کی اس علمی کاوش پر دلی مبارکبادی پیش کرتا ہے۔کیونک تصنیف و تالیف کا عمل محض چند صفحات لکھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک کٹھن اور صبر آزما مرحلہ ہے جس میں حوالہ جات کی چھان بین، بار بار مطالعہ، کمپوزنگ، پروف ریڈنگ، اساتذہ کی تصدیق، اہلِ علم کی تقریظات، اور آخر کار طباعت جیسے مراحل شامل ہوتے ہیں۔ یقیناً یہ وہ ذمہ داری ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ کیوں کہ اس میں وقت بھی لگتے ہیں اور پریشانیوں سے دوچار ہونا بھی پڑتا ہے ۔

مجھے امید ہے کہ ان شاء اللّٰہ تعالیٰ مولانا عامر فضیل مرکزی صاحب آئندہ بھی امام اہلسنت پر کیے گئے دیگر اعتراضات کا جواب دیکر باطل کی زبان کو مکفل کریں گے۔اور دفاع مسلک کی اہم ذمہ داری کو ادا کرتے رہیں گے ۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ فرمائیں: 7492077390

اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وسیلے سے اس رسالہ کو درجۂ قبولیت عطا فرمائے، مؤلف کو سرکار اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیضان عطا فرمائے، رسالہ کو مقبول خواص و عوام بنائے، نظر بد سے محفوظ فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

★ از: محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
شاہین باغ، ابوالفضل انکلیو-2، جامعہ نگر، نئی دہلی

Scan this QR code to read online:

QR Code