صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
ہمارے بارہ کا دندان شکن جواب
احوال وطن

ہمارے بارہ کا دندان شکن جواب

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

”ہمارے بارہ“ کا دندان شکن جواب
اللہ تبارک وتعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اس نے ہمیں دینِ حق اسلام اور مذہب حق اہل سنت و جماعت میں پیدا فرمایا۔ تمام ادیان میں دینِ حق اسلام ہے اس میں کوئی شک نہیں کر سکتا، اس لیے کہ جو حق پر ہوتا ہے اس کو مٹانے کے لیے دشمن ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے دشمن ہمیشہ کوشاں رہے اور رہیں گے مگر ہمارے دینِ حق کو نہ شکست دے پائے نہ دے پائیں گے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہمیشہ دینِ حق پر قائم رہیں اور اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کریں۔
دشمنانِ اسلام بر دینِ اسلام طرح طرح سے حملے کر رہے ہیں، اور مضرتر حملہ وہ ہے جس میں خدائے ذوالجلال کی مقدس آیات اور مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس احادیث کے صرف ایک جز کو لے کر لوگوں کے درمیان غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مثلاً اس زمانے میں مسلمانوں کو بالخصوص لڑکیوں کو دینِ اسلام سے ہٹانے کے لیے دشمنوں نے اللہ تعالیٰ کی ایک مقدس آیت کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ نہ اس آیت کو مکمل ذکر کیا نہ اس کے ماقبل آیت کو بس ایک جز کو لیا اور نہایت ناپاکی کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَـكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ
ترجمۂ کنزالایمان: تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں تو آؤ اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے۔
اس آیتِ کریمہ کو دشمنوں نے لوگوں کے سامنے پیش کرکے اسلام پر جو ناپاک الزام لگائے ہیں وہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو کھیتی فرمایا یعنی اسلام میں عورت کا مقام فقط اتنا کہ وہ مرد کی کھیتی ہے تو مرد عورت کے ساتھ جو چاہے وہ کرے اور جس وقت جس طرح چاہے فائدہ اٹھائے اور عورت کو ”نا“ کہنے کی تک اجازت نہیں نیز یہ کہتے ہیں کہ مرد اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کا سب سے بڑا تحفہ ہے نہ کہ عورت اور عورت فقط اس لیے پیدا کی گئی کہ شوہر کی فرمانبرداری کرے، شوہر کا دل بہلائے نیز یہ کہ عورت ازاربند کی طرح ہے، جب تک اندر رہے گی تب تک محفوظ رہے گی۔
اسلام پر اتنے گندے حملے کر کے شکم پُر نہیں ہوا کہ مذکورہ آیت کے متعلق کہا کہ مذہب اسلام کے مطابق عورت بچہ پیدا کرنے کی مشین ہے۔ معاذ اللہ رب العٰلمین!
جب نااہل دشمنان اسلام ایسے انداز میں مسلمانوں کے سامنے غلط باتیں پیش کریں گے تو کمزور ایمان والے مسلمان ضرور مرتد ہو جائیں گے اور یہ وبا لڑکیوں میں زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ اختصار کے ساتھ دیکھتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے فرمان عالیشان کا کیا مفہوم ہے۔
سورہ البقرہ آیت:٢٢٣؍سے پہلے آیت:٢٢٢؍کا جاننا ضروری ہے، جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عورتوں کا حق ارشاد فرمایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ هُوَ اَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ
ترجمۂ کنزالایمان: اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا بیشک اللہ پسند رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔
اللہ رب العزت نے عورتوں کو کھیتی فرمایا اور جس طرح چاہو جانے کا حکم فرمایا، اس میں جو باتیں غور کرنے والی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں: [١] آیت:٢٢٣؍کو لے کر کافروں نے چال چلی اور آیت:٢٢٢؍کو پوشیدہ رکھا۔ [٢] اللہ رب العزت نے سورہ بقرہ آیت:٢٢٢؍میں ارشاد فرمایا کہ جب عورت حیض (حیض کو انگلش میں Period کہتے ہیں) کی حالت میں ہو تب اس کے قریب نہ جاؤ کیونکہ وہ گندگی ہے اور اسی آیت کے آخر میں خدائے پاک نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک ستھروں کو پسند فرماتا ہے، یہ بات معلوم ہوئی کہ اسلام کتنا صاف و شفاف دین ہے۔
اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ جب وہ پاک ہو جائیں تو قربت کر سکتے ہو اور اس جگہ ” جہاں سے اللہ پاک نے حکم دیا۔“ اس آیت کے متعلق تفسیر میں ہے: ”مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ“ مِنَ الْماتِی الَّذِیْ اَمَرَکُمُ اللہُ بِهٖ، وَحَلَّلَهٗ لَکُمْ وَ ھُوَ الْقُبْلُ
یعنی: ”جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا“ یعنی: عورت سے اس مقام میں جماع کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال فرمایا ہے اور وہ اگلی شرمگاہ ہے۔ (تفسیر مدارک التنزیل ج:١)
اب آئیں !آیت:٢٢٣؍میں! اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں۔ تفسیر مدارک میں اس آیت کریمہ کے تحت فرمایا: عورتیں تمہارے لیے کھیتی باڑی کرنے کی جگہ ہے اور یہ مجاز ہے، کہ ان کو کھیتیوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، اور ان کے رحموں کے اندر جو نطفہ ڈالا جاتا ہے جس سے نسل پیدا ہوتی ہے اس کو زمین میں بیج ڈالنے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور پیدا ہونے والی اولاد کو کھیتی کے ساتھ۔
پھر یاد رہے ”فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ“ یعنی اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ؛ یہ ماقبل آیت میں مذکور فرمانِ الٰہی ”مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ“ کی توضیح و تشریح ہے۔ تفسیر مدارک میں ہے: بے شک وہ مقام جہاں آنے کا اللہ پاک نے تمہیں حکم دیا وہ کھیتی کا مکان ہے اور یہی حرث ہے نہ کہ وہ مقام فرث کا ہے۔ تو فرمانِ الٰہی کا صاف مطلب یہ ہوا کہ جب عورتیں پاک و صاف ہوں تو اگلے مقام میں جس طرح چاہو آؤ نہ یہ کہ عورتیں مرد کے لیے محض Time Pass ہیں کہ جو چاہو کرو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کو ایک دوسرے کے لیے بنایا، دونوں کو ایک دوسرے کی حاجت ہے نیز یہاں تو اللہ تعالیٰ نے عورت کا حق بیان فرمایا کہ شوہر سے اس کو تکلیف نہ پہنچے۔ اللہ تعالیٰ کا مقدس فرمان دیکھو!
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ (الزمر، آیت:٢١)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ اُن سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبّت اور رحمت رکھی بےشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے‌۔
اے دشمنو! دکھاؤ ایسا مذہب جہاں اتنا انصاف و پاکی ہو اور عورت کے لیے اتنے بڑے بڑے حقوق بیان ہوئے ہیں۔
اب آئیں دشمنوں کی چال کی طرف کہ اللہ رب العزت نے عورت کو کھیتی سے تشبیہ دی۔ اس سے یہ بات اور اسلام کی ستھرائی سمجھ آتی ہے کہ جس طرح کھیت پر کھیت کے مالک کا ہی قبضہ ہوتا ہے کوئی اور اس میں کچھ نہیں کر سکتا یوں ہی اسلام میں عورت بھی فقط شوہر کی ہے، کسی اور کا دوسرے کی بیوی پر کوئی حق نہیں، کیا عورتوں کی عزت کا لحاظ جتنا اسلام نے فرمایا اس کا ایک فیصد بھی ادیانِ باطلہ میں سے کسی میں دکھاؤ۔
پھر ”کھیتی کھیتی کرنا“ تو در حقیقت کھیتی سے مراد اولاد ہے، اور اولاد بذیعۂ مرد و عورت سے ہی پیدا ہوتی ہے، پھر خدائے ذوالجلال جتنی چاہے اولاد عطا فرمائے اس میں تعجب کیسا ؟ نیز اسلام میں کہیں نہیں کہ ١٢-١٤ بچے پیدا کرنا ضروری ہے، بلکہ اسلام کی ستھرائی اتنی زیادہ ہے کہ اسلام میں نکاح کا اصل مقصد بھی نسل آگے بڑھانا ہوتا ہے، خود کو گناہوں سے دور رکھنا ہوتا ہے وغیرہ۔ بس خود سے کہہ دینا کہ اسلام نے عورت کو کھیتی فرمایا اور بچہ پیدا کرنے کی مشین بنا دیا، تو اب ذرا یہ بتاؤ کہ بچہ عورت کے ذریعے سے پیدا نہیں ہوگا تو کیسے ہوگا ؟ چاہیں ایک بچہ کی ولادت ہو عورت کے ہی ذریعے ہوگی تو یہ الزام بہت گھٹیا ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
دشمنان اسلام بالخصوص مرتد (جن کو انگلش میں Apostate کہتے ہیں) لوگوں کے دل میں ایسی ناپاک ترین باتیں ڈالتے ہیں، جن کو یہ معلوم ہے کہ الف کے بعد ب آتا ہے مگر ب کے بعد پ کس میں آتا ہے اور ث کس میں یہ نہیں معلوم، بس شروع کی ایک دو باتیں جان کر خود پر بھی جہنم لازم کر لی مرتد ہو کر اور اب دُوسروں کو بھی مرتد بنا کر جہنم لے جانا چاہتے ہیں۔
ایک اور اعتراض کہ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا تحفہ مرد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ
ترجمۂ کنزالایمان: مرد افسر ہیں عورتوں پر۔ (النساء-٣٤)
اگر اس آیت میں خدائے پاک نے مرد کو عورت پر فضیلت عطا فرمائی تو مرد پر ذمہ داریاں بھی عطا فرمائی کہ افسر ہو اس لیے عورت کی ہر جائز ضروریات کو پورا کرو۔ اور بہت سی جگہ عورت کو مرد پر فضیلت حاصل۔ رہی بات اللہ کے نزدیک مرد بہتر یا عورت تو ایک جگہ اللہ پاک نے فرمایا کہ اجر میں مرد و عورت برابر ہیں۔
فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى بَعْضُكُمْ مِّنْ بَعْضٍ (آل عمران، آیت:١٩٥)
ترجمۂ کنزالایمان: تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو۔
اگر مرد کچھ باتوں میں افضل تو اسلام نے عورتوں کو بھی یہ مقام عطا کیا ہے۔
پھر یہ کہنا کہ عورت شوہر کے ازاربند کے مثل ہے تو یہ بھی جاہلانہ بات ہے۔ بلکہ اسلام نے کیا درس دیا دیکھیں: اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ
ترجمۂ کنزالایمان: وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس۔ (البقرۃ، ١٨٧)
پھر ایک الزام کا جواب دیکھیں! اسلام نے عورتوں کو کوئی حق نہیں دیا ؟ ارے دشمنو! پہلے قرآنِ عظیم پڑھ تو لیتے بس ”البقرۃ، آیت-٢٢٣، البقرۃ، آیت-٢٢٣“ کرتے رہ گئے تھوڑا آیت-٢٢٨؍میں آکر دیکھتے کہ جو کسی دین میں نہیں وہ اسلام میں ہے۔ رب ذوالجلال نے ارشاد فرمایا:
وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ
ترجمۂ کنزالایمان: اور عورتوں کیلئے بھی مردوں پر شریعت کے مطابق ایسے ہی حق ہے جیسا ( ان کا)عورتوں پر ہے۔ (البقرۃ، آیت-٢٢٨)
اب پھر آؤ تفسیر مدارک میں، اس آیتِ کریمہ کے تحت ارشاد فرمایا: ”عورتوں کے حقوق مردوں پر واجب و لازم ہیں، جیسے حق مہر ادا کرنا، نان و نفقہ دینا اور عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا، اور ان کے ساتھ حسن معاشرت سے رہنا اور ان کو ضرر و نقصان نہ پہنچانا۔“ ایسے ہی اسلام نے عورتوں پر بھی کچھ ذمہ داریاں رکھیں کہ شوہر کی فرمانبرداری کرے مگر اسی چیز میں جس کی اسلام اجازت دیتا ہے، اور اسلام صرف نیکی اور حسن سلوک کی اجازت دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ اسلام نے مردوں پر عورتوں کے حقوق لازم فرمائے، کیا ہے کوئی اور دوسرا اتنا پیارا مذہب ؟
اور پھر اگر آئیں حرث پر تو کھیت میں کھیتی کا بھی وقت ہوتا ہے، جب وقت ہو تب جس طرح چاہو جاؤ، بے وقت کھیتی باعثِ بربادی، تو جب وہ حیض وغیرہ کی حالت میں ہوں گی تو ان کے قریب جانے سے ان کو تکلیف ہوگی اور اسلام نے عورتوں سے تکالیف کو دور فرما دیا تو صرف لفظ حرث سے مقام نسواں معلوم ہو رہا ہے تو غور کریں کہ اسلام میں عورتوں کا مقام کیا ہوگا۔ دشمنانِ دین حق دین اسلام پر حملہ کر کے خود پھنس گئے۔
اسلام نے عورت کو کیا دیا ؟
قبلِ اسلام عورت کا مقام کیا تھا ؟ تو عورتیں اور بچیاں زندہ درگور ہوتی تھیں، شوہر مر جاتا تو یا تو اس کی بیوی کے مرنے تک اسی عورت کو بھوکے پیاسے رکھ کر کمرے میں قید کر دیا جاتا پھر اس کی مہینوں بعد لاش نکالی جاتی یا اس عورت کو اسی کے لڑکے کے حوالے کر دیا جاتا، وہ چاہتا تو اپنی ہی ماں سے شادی کر لیتا اور چاہتا تو اسے بیچ کر مال لے لیتا۔ وہ قبل اسلام کا زمانہ جہاں عورت کچھ نہیں تھی مگر کسی نے کہا:
جہاں تاریک تھا ظلمت کدا تھا سخت کالا تھا
کوئی پردے سے کیا نکلا کہ گھر گھر میں اجالا تھا
یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو انسانیت و اسلام کا پیغام دینے اس دنیا میں مبعوث فرمایا تب انسانوں نے جانا کہ انسانیت کیا ہے۔ جن عورتوں کا مقام قبل اسلام کچھ نہیں تھا، اسلام نے آکر ان کے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی۔ یہ درسِ اسلام ہی تو ہے کہ لڑکا پیدا ہوتا ہے ایک رحمت کے ساتھ اور لڑکی دس۔ یہ اسلام ہی تو ہے کہ ماں کا حق بچوں پر زیادہ ہے باپ سے۔ یہ اسلام ہی تو ہے کہ نکاح کے لیے پہلے لڑکی سے اجازت لی جاتی ہے، اگر لڑکی نے منع کر دیا تو نکاح ہو ہی نہیں سکتا۔ جو قیمتی خزانہ ہوتا ہے اسے ہر کوئی چھپا کر رکھتا ہے تاکہ دوسرے کی نظر نہ پڑے اور وہ خزانۂ ثمین اسلام نے مرد کو نہیں عورت کو بنایا، تبھی عورتوں کو پردے میں رہنے کا حکم دیا گیا تاکہ کسی اور کی ناپاک نظر ان پر نہ پڑے۔
آقا کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
طََلبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ
اس کے معلوم ہوا کہ عورتوں کو بھی مردوں کی طرح علم حاصل کرنے کا حق بھی اسلام نے دیا۔ تو وہ لوگ بالخصوص وہ عورتیں جو اسلام پر گندے الزامات لگاتی ہیں کہ اسلام نے عورتوں کا مقام ختم کر دیا، وہ فیصلہ کریں کہ قبل اسلام کے حالات اچھے تھے یا بعدِ اسلام کے۔ اسلام نے ان کے مقام کو زیرِ زمین اور زندہ درگور ہونے سے بچا کر آسمان کی بلندیوں سے اوپر پہنچا دیا۔ تو یہ کہنے والے کہ عورتوں کو اسلام نے قید کر ڈالا وہ شیطان کے بہکاوے میں ہیں اور عقل پر پردہ ہے، پردے کو ہٹا کر حقیقت کے نور کو دیکھنے کی کوشش کریں!
آخر میں ایک اور نقطہ دیکھیں کہ سورہ البقرہ:٢٢٣؍میں اللہ پاک نے فرمایا: ”وَاتَّقُوا اللہَ“ (اللہ سے ڈرو) ذکر فرمایا۔ یعنی عورت پر یا کسی پر بھی ظلم کرنے سے پہلے یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہے، عورت پر کسی بھی طرح زبردستی حکم لگانا اس پر ظلم ہے، چاہے وہ مارے یا جھڑکے یا گھر سے نکال دے، سب کا حساب دینا ہے۔ جب دشمن حرث کی آیت کو پیش کرتے ہیں تو آیت مقدسہ کے اس جز کو ہٹا دیتے ہیں نہ پہلے کا حکم بیان کرتے ہیں نا بعد کا، بس ایک جز سے حملہ کرتے ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
خدارا اے مسلمانو! ہوشیار رہو! ہوشیار رہو! دشمن دینِ حق اسلام کے خلاف ایک مقولہ مشہور کر رہے ہیں کہ اسلام کا درس ہے: ہم دوبارہ ہمارے بارہ۔ ان جیسی باتوں سے دشمن بہکا رہے ہیں، بہکنا نہیں!
اللہ پاک بوسیلۂ مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہم سب کے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے اور دشمنوں اور ان کے ارادوں کو نیست و نابود فرمائے اور مقدس و صاف و شفاف دین اسلام کو نظر بد سے محفوظ فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
٢٨؍جون ؁٢٠٢٤ء

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
75
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

کذاب کون ؟ حق کی سربلندی اور باطل کی رسوائی

مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج

ہمارے بارہ کا دندان شکن جواب - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

ہمارے بارہ کا دندان شکن جواب

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

”ہمارے بارہ“ کا دندان شکن جواب

اللہ تبارک وتعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اس نے ہمیں دینِ حق اسلام اور مذہب حق اہل سنت و جماعت میں پیدا فرمایا۔ تمام ادیان میں دینِ حق اسلام ہے اس میں کوئی شک نہیں کر سکتا، اس لیے کہ جو حق پر ہوتا ہے اس کو مٹانے کے لیے دشمن ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے دشمن ہمیشہ کوشاں رہے اور رہیں گے مگر ہمارے دینِ حق کو نہ شکست دے پائے نہ دے پائیں گے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہمیشہ دینِ حق پر قائم رہیں اور اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کریں۔

دشمنانِ اسلام بر دینِ اسلام طرح طرح سے حملے کر رہے ہیں، اور مضرتر حملہ وہ ہے جس میں خدائے ذوالجلال کی مقدس آیات اور مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس احادیث کے صرف ایک جز کو لے کر لوگوں کے درمیان غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مثلاً اس زمانے میں مسلمانوں کو بالخصوص لڑکیوں کو دینِ اسلام سے ہٹانے کے لیے دشمنوں نے اللہ تعالیٰ کی ایک مقدس آیت کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ نہ اس آیت کو مکمل ذکر کیا نہ اس کے ماقبل آیت کو بس ایک جز کو لیا اور نہایت ناپاکی کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کیا۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
” نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَـكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ”
ترجمۂ کنزالایمان: تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں تو آؤ اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے۔

اس آیتِ کریمہ کو دشمنوں نے لوگوں کے سامنے پیش کرکے اسلام پر جو ناپاک الزام لگائے ہیں وہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو کھیتی فرمایا یعنی اسلام میں عورت کا مقام فقط اتنا کہ وہ مرد کی کھیتی ہے تو مرد عورت کے ساتھ جو چاہے وہ کرے اور جس وقت جس طرح چاہے فائدہ اٹھائے اور عورت کو ”نا“ کہنے کی تک اجازت نہیں نیز یہ کہتے ہیں کہ مرد اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کا سب سے بڑا تحفہ ہے نہ کہ عورت اور عورت فقط اس لیے پیدا کی گئی کہ شوہر کی فرمانبرداری کرے، شوہر کا دل بہلائے نیز یہ کہ عورت ازاربند کی طرح ہے، جب تک اندر رہے گی تب تک محفوظ رہے گی۔
اسلام پر اتنے گندے حملے کر کے شکم پُر نہیں ہوا کہ مذکورہ آیت کے متعلق کہا کہ مذہب اسلام کے مطابق عورت بچہ پیدا کرنے کی مشین ہے۔ معاذ اللہ رب العٰلمین!
جب نااہل دشمنان اسلام ایسے انداز میں مسلمانوں کے سامنے غلط باتیں پیش کریں گے تو کمزور ایمان والے مسلمان ضرور مرتد ہو جائیں گے اور یہ وبا لڑکیوں میں زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ اختصار کے ساتھ دیکھتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے فرمان عالیشان کا کیا مفہوم ہے۔

سورہ البقرہ آیت:٢٢٣؍سے پہلے آیت:٢٢٢؍کا جاننا ضروری ہے، جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عورتوں کا حق ارشاد فرمایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
“وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ هُوَ اَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ”
ترجمۂ کنزالایمان: اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا بیشک اللہ پسند رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔
اللہ رب العزت نے عورتوں کو کھیتی فرمایا اور جس طرح چاہو جانے کا حکم فرمایا، اس میں جو باتیں غور کرنے والی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں: [١] آیت:٢٢٣؍کو لے کر کافروں نے چال چلی اور آیت:٢٢٢؍کو پوشیدہ رکھا۔ [٢] اللہ رب العزت نے سورہ بقرہ آیت:٢٢٢؍میں ارشاد فرمایا کہ جب عورت حیض (حیض کو انگلش میں Period کہتے ہیں) کی حالت میں ہو تب اس کے قریب نہ جاؤ کیونکہ وہ گندگی ہے اور اسی آیت کے آخر میں خدائے پاک نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک ستھروں کو پسند فرماتا ہے، یہ بات معلوم ہوئی کہ اسلام کتنا صاف و شفاف دین ہے۔

اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ جب وہ پاک ہو جائیں تو قربت کر سکتے ہو اور اس جگہ ” جہاں سے اللہ پاک نے حکم دیا۔“ اس آیت کے متعلق تفسیر میں ہے: “”مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ“ مِنَ الْماتِی الَّذِیْ اَمَرَکُمُ اللہُ بِهٖ، وَحَلَّلَهٗ لَکُمْ وَ ھُوَ الْقُبْلُ”
یعنی: ”جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا“ یعنی: عورت سے اس مقام میں جماع کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال فرمایا ہے اور وہ اگلی شرمگاہ ہے۔ (تفسیر مدارک التنزیل ج:١)

اب آئیں !آیت:٢٢٣؍میں! اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں۔ تفسیر مدارک میں اس آیت کریمہ کے تحت فرمایا: عورتیں تمہارے لیے کھیتی باڑی کرنے کی جگہ ہے اور یہ مجاز ہے، کہ ان کو کھیتیوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، اور ان کے رحموں کے اندر جو نطفہ ڈالا جاتا ہے جس سے نسل پیدا ہوتی ہے اس کو زمین میں بیج ڈالنے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور پیدا ہونے والی اولاد کو کھیتی کے ساتھ۔
پھر یاد رہے” ”فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ“” یعنی اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ؛ یہ ماقبل آیت میں مذکور فرمانِ الٰہی “”مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ“” کی توضیح و تشریح ہے۔ تفسیر مدارک میں ہے: بے شک وہ مقام جہاں آنے کا اللہ پاک نے تمہیں حکم دیا وہ کھیتی کا مکان ہے اور یہی حرث ہے نہ کہ وہ مقام فرث کا ہے۔ تو فرمانِ الٰہی کا صاف مطلب یہ ہوا کہ جب عورتیں پاک و صاف ہوں تو اگلے مقام میں جس طرح چاہو آؤ نہ یہ کہ عورتیں مرد کے لیے محض Time Pass ہیں کہ جو چاہو کرو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کو ایک دوسرے کے لیے بنایا، دونوں کو ایک دوسرے کی حاجت ہے نیز یہاں تو اللہ تعالیٰ نے عورت کا حق بیان فرمایا کہ شوہر سے اس کو تکلیف نہ پہنچے۔ اللہ تعالیٰ کا مقدس فرمان دیکھو!
“وَ مِنْ اٰیٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ” (الزمر، آیت:٢١)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ اُن سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبّت اور رحمت رکھی بےشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے‌۔
اے دشمنو! دکھاؤ ایسا مذہب جہاں اتنا انصاف و پاکی ہو اور عورت کے لیے اتنے بڑے بڑے حقوق بیان ہوئے ہیں۔

اب آئیں دشمنوں کی چال کی طرف کہ اللہ رب العزت نے عورت کو کھیتی سے تشبیہ دی۔ اس سے یہ بات اور اسلام کی ستھرائی سمجھ آتی ہے کہ جس طرح کھیت پر کھیت کے مالک کا ہی قبضہ ہوتا ہے کوئی اور اس میں کچھ نہیں کر سکتا یوں ہی اسلام میں عورت بھی فقط شوہر کی ہے، کسی اور کا دوسرے کی بیوی پر کوئی حق نہیں، کیا عورتوں کی عزت کا لحاظ جتنا اسلام نے فرمایا اس کا ایک فیصد بھی ادیانِ باطلہ میں سے کسی میں دکھاؤ۔
پھر ”کھیتی کھیتی کرنا“ تو در حقیقت کھیتی سے مراد اولاد ہے، اور اولاد بذیعۂ مرد و عورت سے ہی پیدا ہوتی ہے، پھر خدائے ذوالجلال جتنی چاہے اولاد عطا فرمائے اس میں تعجب کیسا ؟ نیز اسلام میں کہیں نہیں کہ ١٢-١٤ بچے پیدا کرنا ضروری ہے، بلکہ اسلام کی ستھرائی اتنی زیادہ ہے کہ اسلام میں نکاح کا اصل مقصد بھی نسل آگے بڑھانا ہوتا ہے، خود کو گناہوں سے دور رکھنا ہوتا ہے وغیرہ۔ بس خود سے کہہ دینا کہ اسلام نے عورت کو کھیتی فرمایا اور بچہ پیدا کرنے کی مشین بنا دیا، تو اب ذرا یہ بتاؤ کہ بچہ عورت کے ذریعے سے پیدا نہیں ہوگا تو کیسے ہوگا ؟ چاہیں ایک بچہ کی ولادت ہو عورت کے ہی ذریعے ہوگی تو یہ الزام بہت گھٹیا ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

دشمنان اسلام بالخصوص مرتد (جن کو انگلش میں Apostate کہتے ہیں) لوگوں کے دل میں ایسی ناپاک ترین باتیں ڈالتے ہیں، جن کو یہ معلوم ہے کہ الف کے بعد ب آتا ہے مگر ب کے بعد پ کس میں آتا ہے اور ث کس میں یہ نہیں معلوم، بس شروع کی ایک دو باتیں جان کر خود پر بھی جہنم لازم کر لی مرتد ہو کر اور اب دُوسروں کو بھی مرتد بنا کر جہنم لے جانا چاہتے ہیں۔

*ایک اور اعتراض* کہ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا تحفہ مرد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
” اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ”
ترجمۂ کنزالایمان: مرد افسر ہیں عورتوں پر۔ (النساء-٣٤)
اگر اس آیت میں خدائے پاک نے مرد کو عورت پر فضیلت عطا فرمائی تو مرد پر ذمہ داریاں بھی عطا فرمائی کہ افسر ہو اس لیے عورت کی ہر جائز ضروریات کو پورا کرو۔ اور بہت سی جگہ عورت کو مرد پر فضیلت حاصل۔ رہی بات اللہ کے نزدیک مرد بہتر یا عورت تو ایک جگہ اللہ پاک نے فرمایا کہ اجر میں مرد و عورت برابر ہیں۔
“فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى بَعْضُكُمْ مِّنْ بَعْضٍ” (آل عمران، آیت:١٩٥)
ترجمۂ کنزالایمان: تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو۔
اگر مرد کچھ باتوں میں افضل تو اسلام نے عورتوں کو بھی یہ مقام عطا کیا ہے۔
پھر یہ کہنا کہ عورت شوہر کے ازاربند کے مثل ہے تو یہ بھی جاہلانہ بات ہے۔ بلکہ اسلام نے کیا درس دیا دیکھیں: اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
“هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ”
ترجمۂ کنزالایمان: وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس۔ (البقرۃ، ١٨٧)

پھر ایک الزام کا جواب دیکھیں! اسلام نے عورتوں کو کوئی حق نہیں دیا ؟ ارے دشمنو! پہلے قرآنِ عظیم پڑھ تو لیتے بس ”البقرۃ، آیت-٢٢٣، البقرۃ، آیت-٢٢٣“ کرتے رہ گئے تھوڑا آیت-٢٢٨؍میں آکر دیکھتے کہ جو کسی دین میں نہیں وہ اسلام میں ہے۔ رب ذوالجلال نے ارشاد فرمایا:
” وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ”
ترجمۂ کنزالایمان: اور عورتوں کیلئے بھی مردوں پر شریعت کے مطابق ایسے ہی حق ہے جیسا ( ان کا)عورتوں پر ہے۔ (البقرۃ، آیت-٢٢٨)
اب پھر آؤ تفسیر مدارک میں، اس آیتِ کریمہ کے تحت ارشاد فرمایا: ”عورتوں کے حقوق مردوں پر واجب و لازم ہیں، جیسے حق مہر ادا کرنا، نان و نفقہ دینا اور عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا، اور ان کے ساتھ حسن معاشرت سے رہنا اور ان کو ضرر و نقصان نہ پہنچانا۔“ ایسے ہی اسلام نے عورتوں پر بھی کچھ ذمہ داریاں رکھیں کہ شوہر کی فرمانبرداری کرے مگر اسی چیز میں جس کی اسلام اجازت دیتا ہے، اور اسلام صرف نیکی اور حسن سلوک کی اجازت دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ اسلام نے مردوں پر عورتوں کے حقوق لازم فرمائے، کیا ہے کوئی اور دوسرا اتنا پیارا مذہب ؟

اور پھر اگر آئیں حرث پر تو کھیت میں کھیتی کا بھی وقت ہوتا ہے، جب وقت ہو تب جس طرح چاہو جاؤ، بے وقت کھیتی باعثِ بربادی، تو جب وہ حیض وغیرہ کی حالت میں ہوں گی تو ان کے قریب جانے سے ان کو تکلیف ہوگی اور اسلام نے عورتوں سے تکالیف کو دور فرما دیا تو صرف لفظ حرث سے مقام نسواں معلوم ہو رہا ہے تو غور کریں کہ اسلام میں عورتوں کا مقام کیا ہوگا۔ دشمنانِ دین حق دین اسلام پر حملہ کر کے خود پھنس گئے۔

* اسلام نے عورت کو کیا دیا ؟*
قبلِ اسلام عورت کا مقام کیا تھا ؟ تو عورتیں اور بچیاں زندہ درگور ہوتی تھیں، شوہر مر جاتا تو یا تو اس کی بیوی کے مرنے تک اسی عورت کو بھوکے پیاسے رکھ کر کمرے میں قید کر دیا جاتا پھر اس کی مہینوں بعد لاش نکالی جاتی یا اس عورت کو اسی کے لڑکے کے حوالے کر دیا جاتا، وہ چاہتا تو اپنی ہی ماں سے شادی کر لیتا اور چاہتا تو اسے بیچ کر مال لے لیتا۔ وہ قبل اسلام کا زمانہ جہاں عورت کچھ نہیں تھی مگر کسی نے کہا:

@جہاں تاریک تھا ظلمت کدا تھا سخت کالا تھا
کوئی پردے سے کیا نکلا کہ گھر گھر میں اجالا تھا

یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو انسانیت و اسلام کا پیغام دینے اس دنیا میں مبعوث فرمایا تب انسانوں نے جانا کہ انسانیت کیا ہے۔ جن عورتوں کا مقام قبل اسلام کچھ نہیں تھا، اسلام نے آکر ان کے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی۔ یہ درسِ اسلام ہی تو ہے کہ لڑکا پیدا ہوتا ہے ایک رحمت کے ساتھ اور لڑکی دس۔ یہ اسلام ہی تو ہے کہ ماں کا حق بچوں پر زیادہ ہے باپ سے۔ یہ اسلام ہی تو ہے کہ نکاح کے لیے پہلے لڑکی سے اجازت لی جاتی ہے، اگر لڑکی نے منع کر دیا تو نکاح ہو ہی نہیں سکتا۔ جو قیمتی خزانہ ہوتا ہے اسے ہر کوئی چھپا کر رکھتا ہے تاکہ دوسرے کی نظر نہ پڑے اور وہ خزانۂ ثمین اسلام نے مرد کو نہیں عورت کو بنایا، تبھی عورتوں کو پردے میں رہنے کا حکم دیا گیا تاکہ کسی اور کی ناپاک نظر ان پر نہ پڑے۔

آقا کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
” طََلبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ”
اس کے معلوم ہوا کہ عورتوں کو بھی مردوں کی طرح علم حاصل کرنے کا حق بھی اسلام نے دیا۔ تو وہ لوگ بالخصوص وہ عورتیں جو اسلام پر گندے الزامات لگاتی ہیں کہ اسلام نے عورتوں کا مقام ختم کر دیا، وہ فیصلہ کریں کہ قبل اسلام کے حالات اچھے تھے یا بعدِ اسلام کے۔ اسلام نے ان کے مقام کو زیرِ زمین اور زندہ درگور ہونے سے بچا کر آسمان کی بلندیوں سے اوپر پہنچا دیا۔ تو یہ کہنے والے کہ عورتوں کو اسلام نے قید کر ڈالا وہ شیطان کے بہکاوے میں ہیں اور عقل پر پردہ ہے، پردے کو ہٹا کر حقیقت کے نور کو دیکھنے کی کوشش کریں!

آخر میں ایک اور نقطہ دیکھیں کہ سورہ البقرہ:٢٢٣؍میں اللہ پاک نے فرمایا:” ”وَاتَّقُوا اللہَ“” (اللہ سے ڈرو) ذکر فرمایا۔ یعنی عورت پر یا کسی پر بھی ظلم کرنے سے پہلے یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہے، عورت پر کسی بھی طرح زبردستی حکم لگانا اس پر ظلم ہے، چاہے وہ مارے یا جھڑکے یا گھر سے نکال دے، سب کا حساب دینا ہے۔ جب دشمن حرث کی آیت کو پیش کرتے ہیں تو آیت مقدسہ کے اس جز کو ہٹا دیتے ہیں نہ پہلے کا حکم بیان کرتے ہیں نا بعد کا، بس ایک جز سے حملہ کرتے ہیں۔

خدارا اے مسلمانو! ہوشیار رہو! ہوشیار رہو! دشمن دینِ حق اسلام کے خلاف ایک مقولہ مشہور کر رہے ہیں کہ اسلام کا درس ہے: ہم دوبارہ ہمارے بارہ۔ ان جیسی باتوں سے دشمن بہکا رہے ہیں، بہکنا نہیں!
اللہ پاک بوسیلۂ مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہم سب کے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے اور دشمنوں اور ان کے ارادوں کو نیست و نابود فرمائے اور مقدس و صاف و شفاف دین اسلام کو نظر بد سے محفوظ فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔

★محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
٢٨؍جون ؁٢٠٢٤ء

Scan this QR code to read online:

QR Code