اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ
سیرت النبی ﷺ

سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ
اللہ تبارک وتعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اس نے ہمیں دین حق اسلام میں پیدا فرمایا اور اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا امتی بنایا۔
اسلام سے پہلے کا دور ”جاہلیت“ کہلاتا ہے۔ اس دور میں عورت کو نہایت حقیر سمجھا جاتا تھا۔ اسے زندگی کا بوجھ، معاشرتی ذلت اور گناہ کا سبب سمجھا جاتا۔ بعض اقوام بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے، بیواؤں سے بدسلوکی کی جاتی اور خواتین کو وراثت سے بھی محروم رکھا جاتا۔ مگر جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عورت کو عزت، مقام، شناخت اور تحفظ عطا فرمایا۔ سیرتِ نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مطالعہ ہمیں عورت کے حقوق کے حوالے سے ایک ایسا روشن راستہ دکھاتا ہے جو ہر دور کے لیے مشعل راہ ہے۔
عورت کی حیثیت کا تعارف اور اس کا مقام:
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إنما النساء شقائق الرجال
[سنن ابی داؤد، حدیث: 236]
ترجمہ: عورتیں مردوں کی ہم جنس (نصف) ہیں۔
یہ حدیث عورت کے مساوی انسانی مقام کی دلیل ہے۔ نبی کریم علیہ افضل الصلوٰۃ و اکرم التسلیم نے عورت کو انسانیت کے معیار پر جانچا، نہ کہ جنس یا صنف کے اعتبار سے۔ سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہر رشتے میں عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی – بیٹی، بیوی، ماں یا بہن۔
بچیوں کے ساتھ حسن سلوک:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ وَضَمَّ أَصَابِعَهُ
[صحیح مسلم، ح٢٦٣١]
ترجمہ: حبیبِ کبریا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح آئیں گے۔ اور سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا۔
زمانۂ جاہلیت میں بیٹی کو باعث شرم سمجھا جاتا تھا، مگر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بیٹیوں کو عزت بخشی اور مقام بلند فرمایا، سبحان اللہ تعالیٰ! محبوبِ رب العٰلمین علیہ افضل الصلوٰۃ و اکرم التسلیم نے بچیوں کی پرورش کو جنت کے حصول کا ذریعہ بتایا، جو کہ اُس معاشرے میں انقلابی بات تھی۔
ماں کا بلند مقام:
نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ماں کے مقام کو اس طرح بیان فرمایا:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي قَالَ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أَبُوكَ
[صحیح بخاری، حدیث: 5971]
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک شخص حبیبِ کبریا محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوائے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے ؟ سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تیری ماں“۔ انہوں نے عرض کی پھر کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تیری ماں۔ تیسری بار عرض کی: پھر کون ہے ؟ مالکِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تیری ماں“ اس نے کہا: پھر کون ؟ سید اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر تمہارا باپ ہے۔“
یہ تین بار ماں کو مقدم رکھنا عورت کے بلند مقام کی واضح دلیل ہے، جو مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک اقوال و افعال سے معلوم ہوا۔
بیوی کے حقوق کا تحفظ:
نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے ارشاد فرمایا:
خَيرُكُم خَيرُكُم لأهلِه وأنا خَيرُكُم لأهلي
[سنن ترمذی، حدیث: 3895]
ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ (بیوی بچوں) کے ساتھ بہتر ہو، اور میں تم میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ سب سے بہتر ہوں۔
نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم اپنی ازواج کے ساتھ مشورہ کرتے، ان کی عزت کرتے، ان کے کاموں میں شریک ہوتے۔ فتحِ مکہ کے موقع پر حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مشورہ ماننا اس کی روشن مثال ہے۔
عورت کی وراثت کا حق:
نبی کریم ﷺ کہ وسیلے سے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہمیں فرمان ملا جس میں عورتوں کو وراثت کا حق عطا فرمایا گیا:
لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّاقَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا
[سورۃ النساء: 7]
مردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا۔ [کنزالایمان]
یہ آیت عورت کو مالی خودمختاری عطا کرتی ہے، جو اُس دور میں انقلاب سے کم نہ تھی۔
عورت کا حقِ تعلیم:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
طلب العلم فريضة على كل مسلم
[سنن ابن ماجہ، حدیث: 224]
ترجمہ: علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔
آج بھی دنیا بھر میں کچھ ایسے مذاہب ہیں جن میں عورتوں کو تعلیم دینا گناہ سمجھا جاتا ہے مگر پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک ذات نے عورتوں کو تعلیم دینے کا حکم ارشاد فرمایا اور ان کو ان کا حق عطا فرمایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا علم، فتویٰ اور تعلیم کے میدان میں نمایاں تھیں۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اُن سے آ کر سیکھتے۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عورتوں کے لیے الگ دن مقرر کیا تاکہ وہ دین سیکھ سکیں۔ یہ واضح کرتا ہے کہ مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم عورتوں کی تعلیم کے سدا حامی رہے۔
عورت کی عزت و عفت کا تحفظ:
نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
الدنيا متاع، وخير متاع الدنيا المرأة الصالحة
[صحیح مسلم، حدیث: 1467]
ترجمہ: دنیا ایک فائدے کی چیز ہے، اور دنیا کی سب سے بہتر چیز نیک عورت ہے۔
حبیبِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عورت کو حیا، عفت، اور پردے کے ساتھ معاشرے کا معزز فرد بنایا۔ سرورِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
استوصوا بالنساء خيراً
[صحیح بخاری، حدیث: 3331]
یعنی: عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو۔
سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا جو اُس سے قبل دنیا نے کبھی نہیں دیا تھا۔ سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عورت کے ہر حق کو واضح فرمایا: زندگی، عزت، تعلیم، وراثت، رائے، ازدواجی حقوق اور ماں ہونے کا مقام۔ سیرتِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آج بھی ان مظلوم عورتوں کے لیے راہِ نجات ہے جنہیں مختلف تہذیبیں خودساختہ حقوق کے نام پر دھوکہ دیتی ہیں۔ اسلامی معاشرے کی فلاح کا راز اسی میں ہے کہ ہم نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کی تعلیمات کو اپنائیں اور خواتین کو وہی حقوق دیں جو حبیب کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دینے کا حکم فرمایا ہے۔
میرے پیارے آقا رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہی ذاتِ اقدس ہے جس کے وسیلے سے اسلام نے عورت کو:
پستی سے بلندی، ذلت سے عزت، گمنامی سے پہچان، گھٹن سے آزادی، خوف سے تحفظ، کمتری سے برتری، نادانی سے دانائی، جہالت سے علم، بے کسی سے سہارا، محرومی سے وراثت، رنج سے سکون، بے قدری سے وقار، مجبوری سے اختیار، ظلم سے عدل، زحمت سے نعمت اور اندھیرے سے نور عطا فرمایا!
اسلام نے عورت کو ماں کے روپ میں عظمت، بیٹی کے روپ میں رحمت، بہن کے روپ میں شفقت، اور بیوی کے روپ میں محبت اور شراکت کا مقام عطا فرمایا۔
اسلام نے عورت کو انسانیت کی اُس بلند چوٹی پر کھڑا کیا، جہاں سے دنیا کی ہر تہذیب، ہر قانون، ہر نظام کمتر نظر آتا ہے۔ یہ ہے وہ حسنِ اسلام، جو عورت کے وجود کو بوجھ نہیں، بلکہ باعثِ عزت و رحمت قرار دیتا ہے۔ ہر انسان کو چاہے مرد ہو یا عورت سب کو جو ملا میرے مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کے وسیلے سے ملا۔ سرکارِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
ہے انہیں کے دم قدم سے باغِ عالم میں بَہار
وہ نہ تھے عالم نہ تھا گر وہ نہ ہوں عالم نہیں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
وہ نہ تھا تو باغ میں کچھ نہ تھا وہ نہ ہو تو باغ ہو سب فنا
وہ ہے جان جان سے ہے بقا وہی بن ہے بن سے ہی بار ہے
از قلم:- محمد انس رضا حامؔی برکاتی
متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
ساکن: شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی-110025
یکم صفر المظفر ؁١٤٤٧ھ

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
86
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج

حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن

سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ

اللہ تبارک وتعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اس نے ہمیں دین حق اسلام میں پیدا فرمایا اور اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا امتی بنایا۔
اسلام سے پہلے کا دور ”جاہلیت“ کہلاتا ہے۔ اس دور میں عورت کو نہایت حقیر سمجھا جاتا تھا۔ اسے زندگی کا بوجھ، معاشرتی ذلت اور گناہ کا سبب سمجھا جاتا۔ بعض اقوام بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے، بیواؤں سے بدسلوکی کی جاتی اور خواتین کو وراثت سے بھی محروم رکھا جاتا۔ مگر جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عورت کو عزت، مقام، شناخت اور تحفظ عطا فرمایا۔ سیرتِ نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مطالعہ ہمیں عورت کے حقوق کے حوالے سے ایک ایسا روشن راستہ دکھاتا ہے جو ہر دور کے لیے مشعل راہ ہے۔

عورت کی حیثیت کا تعارف اور اس کا مقام:
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“إنما النساء شقائق الرجال ”
[سنن ابی داؤد، حدیث: 236]
ترجمہ: عورتیں مردوں کی ہم جنس (نصف) ہیں۔
یہ حدیث عورت کے مساوی انسانی مقام کی دلیل ہے۔ نبی کریم علیہ افضل الصلوٰۃ و اکرم التسلیم نے عورت کو انسانیت کے معیار پر جانچا، نہ کہ جنس یا صنف کے اعتبار سے۔ سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہر رشتے میں عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی – بیٹی، بیوی، ماں یا بہن۔

بچیوں کے ساتھ حسن سلوک:
“عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ وَضَمَّ أَصَابِعَهُ”
[صحیح مسلم، ح٢٦٣١]
ترجمہ: حبیبِ کبریا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح آئیں گے۔ اور سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا۔

زمانۂ جاہلیت میں بیٹی کو باعث شرم سمجھا جاتا تھا، مگر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بیٹیوں کو عزت بخشی اور مقام بلند فرمایا، سبحان اللہ تعالیٰ! محبوبِ رب العٰلمین علیہ افضل الصلوٰۃ و اکرم التسلیم نے بچیوں کی پرورش کو جنت کے حصول کا ذریعہ بتایا، جو کہ اُس معاشرے میں انقلابی بات تھی۔

ماں کا بلند مقام:
نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ماں کے مقام کو اس طرح بیان فرمایا:
“عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي قَالَ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أَبُوكَ ”
[صحیح بخاری، حدیث: 5971]
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک شخص حبیبِ کبریا محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوائے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے ؟ سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تیری ماں“۔ انہوں نے عرض کی پھر کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تیری ماں۔ تیسری بار عرض کی: پھر کون ہے ؟ مالکِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تیری ماں“ اس نے کہا: پھر کون ؟ سید اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر تمہارا باپ ہے۔“
یہ تین بار ماں کو مقدم رکھنا عورت کے بلند مقام کی واضح دلیل ہے، جو مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک اقوال و افعال سے معلوم ہوا۔

بیوی کے حقوق کا تحفظ:
نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے ارشاد فرمایا:
” خَيرُكُم خَيرُكُم لأهلِه وأنا خَيرُكُم لأهلي”
[سنن ترمذی، حدیث: 3895]
ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ (بیوی بچوں) کے ساتھ بہتر ہو، اور میں تم میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ سب سے بہتر ہوں۔
نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم اپنی ازواج کے ساتھ مشورہ کرتے، ان کی عزت کرتے، ان کے کاموں میں شریک ہوتے۔ فتحِ مکہ کے موقع پر حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مشورہ ماننا اس کی روشن مثال ہے۔

عورت کی وراثت کا حق:
نبی کریم ﷺ کہ وسیلے سے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہمیں فرمان ملا جس میں عورتوں کو وراثت کا حق عطا فرمایا گیا:
“لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّاقَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا ”
[سورۃ النساء: 7]
مردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا۔ [کنزالایمان]
یہ آیت عورت کو مالی خودمختاری عطا کرتی ہے، جو اُس دور میں انقلاب سے کم نہ تھی۔

عورت کا حقِ تعلیم:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“طلب العلم فريضة على كل مسلم ”
[سنن ابن ماجہ، حدیث: 224]
ترجمہ: علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔
آج بھی دنیا بھر میں کچھ ایسے مذاہب ہیں جن میں عورتوں کو تعلیم دینا گناہ سمجھا جاتا ہے مگر پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک ذات نے عورتوں کو تعلیم دینے کا حکم ارشاد فرمایا اور ان کو ان کا حق عطا فرمایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا علم، فتویٰ اور تعلیم کے میدان میں نمایاں تھیں۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اُن سے آ کر سیکھتے۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عورتوں کے لیے الگ دن مقرر کیا تاکہ وہ دین سیکھ سکیں۔ یہ واضح کرتا ہے کہ مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم عورتوں کی تعلیم کے سدا حامی رہے۔

عورت کی عزت و عفت کا تحفظ:
نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“الدنيا متاع، وخير متاع الدنيا المرأة الصالحة ”
[صحیح مسلم، حدیث: 1467]
ترجمہ: دنیا ایک فائدے کی چیز ہے، اور دنیا کی سب سے بہتر چیز نیک عورت ہے۔
حبیبِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عورت کو حیا، عفت، اور پردے کے ساتھ معاشرے کا معزز فرد بنایا۔ سرورِ کون و مکاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” استوصوا بالنساء خيراً”
[صحیح بخاری، حدیث: 3331]
یعنی: عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو۔

سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا جو اُس سے قبل دنیا نے کبھی نہیں دیا تھا۔ سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عورت کے ہر حق کو واضح فرمایا: زندگی، عزت، تعلیم، وراثت، رائے، ازدواجی حقوق اور ماں ہونے کا مقام۔ سیرتِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آج بھی ان مظلوم عورتوں کے لیے راہِ نجات ہے جنہیں مختلف تہذیبیں خودساختہ حقوق کے نام پر دھوکہ دیتی ہیں۔ اسلامی معاشرے کی فلاح کا راز اسی میں ہے کہ ہم نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کی تعلیمات کو اپنائیں اور خواتین کو وہی حقوق دیں جو حبیب کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دینے کا حکم فرمایا ہے۔

میرے پیارے آقا رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہی ذاتِ اقدس ہے جس کے وسیلے سے اسلام نے عورت کو:
پستی سے بلندی، ذلت سے عزت، گمنامی سے پہچان، گھٹن سے آزادی، خوف سے تحفظ، کمتری سے برتری، نادانی سے دانائی، جہالت سے علم، بے کسی سے سہارا، محرومی سے وراثت، رنج سے سکون، بے قدری سے وقار، مجبوری سے اختیار، ظلم سے عدل، زحمت سے نعمت اور اندھیرے سے نور عطا فرمایا!
اسلام نے عورت کو ماں کے روپ میں عظمت، بیٹی کے روپ میں رحمت، بہن کے روپ میں شفقت، اور بیوی کے روپ میں محبت اور شراکت کا مقام عطا فرمایا۔

اسلام نے عورت کو انسانیت کی اُس بلند چوٹی پر کھڑا کیا، جہاں سے دنیا کی ہر تہذیب، ہر قانون، ہر نظام کمتر نظر آتا ہے۔ یہ ہے وہ حسنِ اسلام، جو عورت کے وجود کو بوجھ نہیں، بلکہ باعثِ عزت و رحمت قرار دیتا ہے۔ ہر انسان کو چاہے مرد ہو یا عورت سب کو جو ملا میرے مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کے وسیلے سے ملا۔ سرکارِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں:

@ہے انہیں کے دم قدم سے باغِ عالم میں بَہار
وہ نہ تھے عالم نہ تھا گر وہ نہ ہوں عالم نہیں

@وہ نہ تھا تو باغ میں کچھ نہ تھا وہ نہ ہو تو باغ ہو سب فنا
وہ ہے جان جان سے ہے بقا وہی بن ہے بن سے ہی بار ہے

★ از قلم:- محمد انس رضا حامؔی برکاتی
متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
ساکن: شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی-110025
یکم صفر المظفر ؁١٤٤٧ھ

Scan this QR code to read online:

QR Code