صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
کتابوں کے درمیان ایک چراغ
ادبیات

کتابوں کے درمیان ایک چراغ

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

کتابوں کے درمیان ایک چراغ
علم کی باتیں (١)
ایک کمرہ ہے، جس کی دیواروں پر کتابیں ہی کتابیں رکھی ہیں۔ کہیں پرانے اوراق ہیں، کہیں نئے مجلدات، کہیں کسی عالم کی تحریر، کہیں کسی مفکر کے خیالات۔ بظاہر یہ سب خاموش ہیں، مگر ذرا غور کیا جائے تو ہر کتاب اپنے اندر ایک زمانے کی آواز لیے بیٹھی ہے۔
ایک شخص کتاب کھولتا ہے اور پڑھنا شروع کرتا ہے۔ ایک صفحہ ختم ہوتا ہے، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔ الفاظ ذہن میں اترتے جاتے ہیں، معلومات بڑھتی جاتی ہیں۔ مگر اچانک ایک سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا صرف جان لینا ہی علم ہے ؟
نہیں!
علم کا ایک دروازہ کتاب سے کھلتا ہے، مگر اس کے آگے کا راستہ عقل اور فکر طے کرتی ہے۔
کتاب آپ کو بتا سکتی ہے کہ کاتبین نے کیا کہا، کیا سوچا اور کیا تجربہ کیا؛ مگر یہ عقل ہے جو آپ کو سکھاتی ہے کہ ان باتوں میں سے کیا قبول کرنا ہے، کس بات کو کس مقام پر رکھنا ہے، اور کس بات سے کیا نتیجہ نکالنا ہے۔
اسی لیے کبھی دو آدمی ایک ہی کتاب پڑھتے ہیں، ایک ہی استاد سے پڑھتے ہیں، ایک ہی بات سنتے ہیں، لیکن دونوں کی سمجھ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ایک لفظوں کے پیچھے چھپا ہوا مفہوم دیکھ لیتا ہے، دوسرا صرف الفاظ گن کر کتاب بند کر دیتا ہے۔
علم اگر صرف معلومات جمع کرنے کا نام رہ جائے تو وہ ذہن میں الفاظ کا ایک انبار بن سکتا ہے، لیکن علم کی اصل خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر شعور اور بصیرت پیدا کرے۔ انسان صرف یہ نہ جانے کہ کیا کہا گیا ہے، بلکہ یہ بھی سمجھے کہ اس کا مفہوم کیا ہے اور اسے زندگی میں کہاں اور کیسے استعمال کرنا ہے۔
حقیقی علم انسان کو غور و فکر، تحقیق اور سمجھ کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ اسے ہر سنی سنائی بات کو فوراً قبول کرنے کے بجائے اس کی حقیقت جاننے کا سلیقہ دیتا ہے۔ ایسا علم انسان کے رویے میں نرمی، گفتگو میں وقار اور فیصلوں میں پختگی پیدا کرتا ہے۔
اس لیے علم کی قدر صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ کتنا پڑھا گیا، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ پڑھنے کے بعد کتنا سمجھا اور زندگی میں کتنا اتارا گیا۔
ایک معمولی بات کو ہی لیجیے۔ کسی نے آپ کے سامنے سخت لہجے میں بات کی۔ زبان فوراً جواب دینے کے لیے تیار ہو گئی۔ علم شاید یہ بتا دے کہ بدکلامی بری چیز ہے، لیکن عقل یہ فیصلہ کرے گی کہ اس وقت جواب دینا مناسب ہے یا خاموش رہنا۔ علم اصول بتاتا ہے، عقل موقع پہچانتی ہے۔
اسی طرح ہر بات کا فوراً جواب دینا دانائی نہیں، ہر بات پر خاموش رہنا بھی دانائی نہیں۔ اصل دانائی یہ جاننا ہے کہ کہاں بولنا ہے، کیا بولنا ہے، کب بولنا ہے اور کہاں خاموش ہوجانا ہے۔
کتابیں انسان کو بہت کچھ دے سکتی ہیں، مگر ایک چیز انسان کو خود حاصل کرنی پڑتی ہے: سمجھ۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اور سمجھ صرف پڑھنے سے نہیں آتی؛ غور کرنے سے آتی ہے، سوال کرنے سے آتی ہے، تجربے سے آتی ہے، اپنی غلطیوں کو ماننے سے آتی ہے اور کبھی کبھی خاموش بیٹھ کر کسی ایک بات پر دیر تک سوچنے سے آتی ہے۔
اس لیے کتابوں کے درمیان بیٹھتے وقت صرف یہ نہ دیکھیے کہ آج کتنے صفحات پڑھ لیے۔ کبھی یہ بھی دیکھیے کہ آج کتنی باتیں سمجھیں، کتنے سوال پیدا ہوئے اور کتنی سوچ بدل گئی۔
کیونکہ کتاب کا اصل فائدہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب اس کا آخری لفظ پڑھ لینے کے بعد بھی سوچ کا چراغ جلتا رہے.........جاری
از:
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
57
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

خاموش قلم کی صدا

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کب ہوگی ؟دیابنہ کو ان کے گھر کا آئینہ

کتابوں کے درمیان ایک چراغ - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

کتابوں کے درمیان ایک چراغ

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

*کتابوں کے درمیان ایک چراغ*
علم کی باتیں (١)

ایک کمرہ ہے، جس کی دیواروں پر کتابیں ہی کتابیں رکھی ہیں۔ کہیں پرانے اوراق ہیں، کہیں نئے مجلدات، کہیں کسی عالم کی تحریر، کہیں کسی مفکر کے خیالات۔ بظاہر یہ سب خاموش ہیں، مگر ذرا غور کیا جائے تو ہر کتاب اپنے اندر ایک زمانے کی آواز لیے بیٹھی ہے۔

ایک شخص کتاب کھولتا ہے اور پڑھنا شروع کرتا ہے۔ ایک صفحہ ختم ہوتا ہے، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔ الفاظ ذہن میں اترتے جاتے ہیں، معلومات بڑھتی جاتی ہیں۔ مگر اچانک ایک سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا صرف جان لینا ہی علم ہے ؟
نہیں!
علم کا ایک دروازہ کتاب سے کھلتا ہے، مگر اس کے آگے کا راستہ عقل اور فکر طے کرتی ہے۔

کتاب آپ کو بتا سکتی ہے کہ کاتبین نے کیا کہا، کیا سوچا اور کیا تجربہ کیا؛ مگر یہ عقل ہے جو آپ کو سکھاتی ہے کہ ان باتوں میں سے کیا قبول کرنا ہے، کس بات کو کس مقام پر رکھنا ہے، اور کس بات سے کیا نتیجہ نکالنا ہے۔
اسی لیے کبھی دو آدمی ایک ہی کتاب پڑھتے ہیں، ایک ہی استاد سے پڑھتے ہیں، ایک ہی بات سنتے ہیں، لیکن دونوں کی سمجھ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ایک لفظوں کے پیچھے چھپا ہوا مفہوم دیکھ لیتا ہے، دوسرا صرف الفاظ گن کر کتاب بند کر دیتا ہے۔

علم اگر صرف معلومات جمع کرنے کا نام رہ جائے تو وہ ذہن میں الفاظ کا ایک انبار بن سکتا ہے، لیکن علم کی اصل خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر شعور اور بصیرت پیدا کرے۔ انسان صرف یہ نہ جانے کہ کیا کہا گیا ہے، بلکہ یہ بھی سمجھے کہ اس کا مفہوم کیا ہے اور اسے زندگی میں کہاں اور کیسے استعمال کرنا ہے۔
حقیقی علم انسان کو غور و فکر، تحقیق اور سمجھ کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ اسے ہر سنی سنائی بات کو فوراً قبول کرنے کے بجائے اس کی حقیقت جاننے کا سلیقہ دیتا ہے۔ ایسا علم انسان کے رویے میں نرمی، گفتگو میں وقار اور فیصلوں میں پختگی پیدا کرتا ہے۔
اس لیے علم کی قدر صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ کتنا پڑھا گیا، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ پڑھنے کے بعد کتنا سمجھا اور زندگی میں کتنا اتارا گیا۔

ایک معمولی بات کو ہی لیجیے۔ کسی نے آپ کے سامنے سخت لہجے میں بات کی۔ زبان فوراً جواب دینے کے لیے تیار ہو گئی۔ علم شاید یہ بتا دے کہ بدکلامی بری چیز ہے، لیکن عقل یہ فیصلہ کرے گی کہ اس وقت جواب دینا مناسب ہے یا خاموش رہنا۔ علم اصول بتاتا ہے، عقل موقع پہچانتی ہے۔
اسی طرح ہر بات کا فوراً جواب دینا دانائی نہیں، ہر بات پر خاموش رہنا بھی دانائی نہیں۔ اصل دانائی یہ جاننا ہے کہ کہاں بولنا ہے، کیا بولنا ہے، کب بولنا ہے اور کہاں خاموش ہوجانا ہے۔
کتابیں انسان کو بہت کچھ دے سکتی ہیں، مگر ایک چیز انسان کو خود حاصل کرنی پڑتی ہے: سمجھ۔

اور سمجھ صرف پڑھنے سے نہیں آتی؛ غور کرنے سے آتی ہے، سوال کرنے سے آتی ہے، تجربے سے آتی ہے، اپنی غلطیوں کو ماننے سے آتی ہے اور کبھی کبھی خاموش بیٹھ کر کسی ایک بات پر دیر تک سوچنے سے آتی ہے۔
اس لیے کتابوں کے درمیان بیٹھتے وقت صرف یہ نہ دیکھیے کہ آج کتنے صفحات پڑھ لیے۔ کبھی یہ بھی دیکھیے کہ آج کتنی باتیں سمجھیں، کتنے سوال پیدا ہوئے اور کتنی سوچ بدل گئی۔
کیونکہ کتاب کا اصل فائدہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب اس کا آخری لفظ پڑھ لینے کے بعد بھی *سوچ کا چراغ* جلتا رہے………*جاری*

★ “از:”
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی

Scan this QR code to read online:

QR Code