صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
تجارت کی اہمیت کو اجاگر کرنے والا رسالہ
تاثرات

تجارت کی اہمیت کو اجاگر کرنے والا رسالہ

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

تجارت کی اہمیت کو اجاگر کرنے والا رسالہ
تجارت: سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی میں
مؤلف: مولانا محمد ریحان مرکزی حفظہ اللہ تعالیٰ (کانپور، یو.پی)
پیارے آقا، حبیب کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کا ہر ایک پہلو انسانیت کا درس دیتا ہے۔ سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک زندگی سے جو تعلیمات حاصل ہوئیں ان میں سے ایک ”تجارت“ ہے۔ مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کی تجارت کا سب سے پہلا اور نمایاں پہلو دیانت داری اور امانت تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، نہ مال میں عیب چھپایا، نہ مشتری کو دھوکہ دیا۔ بلکہ اپنے مبارک کردار سے امانت کی ایک مثال قائم فرما دی۔ اسی بنا پر نبی مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو مکہ میں الصادق (سچ بولنے والے) اور الامین (امانت دار) کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ انھیں صفات نے پیارے مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نظروں میں ممتاز بنایا۔
حضرت سیدہ خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنا مالِ تجارت دے کر شام تشریف لے جانے کی التجا پیش فرمائی اور واپسی میں مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم زیادہ نفع ساتھ لے کر آئے۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نرمی سے بات کرتے، سخت لہجے کبھی استعمال نہ فرماتے، اور آنے والے کی عزت نفس کا خیال رکھتے۔ مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کا فرمانِ عالیشان ہے: اللہ اس پر رحم کرے جو بیچنے، خریدنے اور تقاضا کرنے میں نرمی سے پیش آئے۔ (صحیح بخاری، ح٢٠٧٦) یہ پیغام تھا کہ تجارت صرف مال فروخت کرنے کا عمل نہیں بلکہ اخلاق کا مظاہرہ ہے۔ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کبھی کسی خریدار کو اس کی حیثیت دیکھ کر مختلف سلوک نہیں فرمایا۔ امیر، غریب، قریبی، اجنبی، سب سے ایک جیسا برتاؤ فرماتے۔ یہ سکھاتا ہے کہ تاجر کا رویہ برابری والا ہو، نہ کہ منافقانہ یا طبقاتی۔
دو جہاں کے شہنشاہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تجارت کو ذریعۂ معاش بنایا، اور کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ حبیب خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ عمل پوری امت کو سکھاتا ہے کہ محنت سے رزقِ حلال کمانا؛ عزت و عظمت کا راستہ ہے۔ تجارت میں سچائی اور حسنِ سلوک سے محبوبِ رب العٰلمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کئی دلوں کو متأثر فرمایا۔ یہ خاموش دعوت تھی، جو زبان سے نہیں بلکہ عمل سے دی گئی۔
حضرت سیدہ خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے غلام میسرہ نے شام کے سفر کے دوران سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایمانداری، حیاء اور صداقت کو قریب سے دیکھا، اور واپسی پر یہی باتیں ام المؤمنین سیدہ خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بتائیں، جس کے نتیجے میں نکاح کا پیغام آیا۔ آقا کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے تاجر کی فضیلت کو یوں بیان فرمایا: سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ (جامع ترمذی، ح١٢٠٩) یہی حدیث امت کے لیے ترغیب، امید اور روشنی کا مینار ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تجارتی زندگی صرف ایک ذریعۂ معاش نہیں، بلکہ اخلاق، دیانت، سچائی، نرمی، عدل اور وقار کا عملی مظہر ہے۔ نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے تجارت کو ایسا پاکیزہ بنا دیا کہ آج بھی اگر کوئی تاجر سچ بولے، دیانت کرے، انصاف سے کام لے تو وہ نفع سے پہلے دل جیتتا ہے۔
دنیا کے ہر انسان کو معاشی تحفظ، ذہنی سکون، خاندانی سہولت اور سماجی عزت درکار ہوتی ہے۔ مگر یہ سب کیسے حاصل ہوں ؟ کچھ لوگ نوکری کی طرف جاتے ہیں، کچھ دستکاری یا زراعت کی طرف، لیکن ایک شعبہ ایسا ہے جو عقل، محنت، وقت اور موقع کا بہترین امتزاج بناتا ہے، اور وہ ہے: تجارت!
تجارت محض مال و زر کا لین دین نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا فن، ایک ایسا طرزِ حیات ہے جو صرف پیسہ نہیں، سوچ بدلتا ہے، نسلیں سنوارتا ہے اور شخصیت میں انقلاب پیدا کرتا ہے۔
تجارت کی چند فوائد یہ ہیں:
(١) خود مختاری اور آزادی کا ذریعہ: تاجر کسی کا ماتحت نہیں ہوتا۔ نہ کسی کے اوقات کا پابند، نہ کسی کی اجازت کا محتاج۔ اسے اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار ہوتا ہے، چاہے کب کام کرے، کتنا کرے، کس کے ساتھ کرے اور کہاں کرے۔ یہی آزادی اسے ذہنی سکون، اعتماد اور انفرادی تشخص عطا کرتی ہے۔ نماز کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں پڑتی، جو نوکری پیشہ افراد کے لیے اکثر خواب بن جاتی ہے۔
(٢) آمدنی کی کوئی حد نہیں: نوکری میں آمدنی طے شدہ ہوتی ہے، جتنی تنخواہ، اتنا کمانا۔ لیکن تجارت میں کوئی حد مقرر نہیں۔ ایک دن کا نفع، ایک سال کی تنخواہ سے بڑھ سکتا ہے۔ آپ کی ذہانت، محنت اور منصوبہ بندی آپ کو لامحدود آمدنی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ آج دنیا کے 90؍ فیصد سے زائد ارب پتی افرادتاجر ہی ہیں!
(٣) سرمایہ کاری پر مکمل کنٹرول: تاجر کے پاس سرمایہ ہوتا ہے، لیکن اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ خود طے کرتا ہے: کس میں لگائے ؟ کب لگائے ؟ کیسے لگائے ؟ کہاں نکالے ؟ یہ اختیار تاجر کو وہ مالی بصیرت دیتا ہے جو اُسے معاشی خود کفالت تک پہنچاتا ہے۔
(٤) وقت کا بہترین مصرف: تاجر کے لیے وقت قید نہیں ہوتا، بلکہ سرمایہ ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وقت اگر صحیح استعمال کیا جائے تو وہ صرف گھنٹوں میں اپنے حالات بدل سکتا ہے۔ جبکہ نوکری پیشہ اکثر ”اوقاتِ کار“ کے قیدی بنے رہتے ہیں، اور نتیجتاً تخلیقی صلاحیتیں دب جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی تجارت کے بہت سے فوائد ہیں جیسے: (٥) ذہنی ترقی اور تخلیقی سوچ، (٦) برادری، تعلقات اور سماجی مقام، (٧) دوسروں کے لیے روزگار کا ذریعہ (٨) نئی نسل کو مستقبل دینے والا فن، (٩) عالمگیر وسعت اور ترقی کی راہیں، (١٠) مخلوقِ خدا کی خدمت کا عظیم ذریعہ وغیرہ وغیرہ۔ آج ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو تجارت میں آگے آگے رہنا چاہیے اور مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بتائے طریقوں پر عمل کر کے تجارت کو ذریعۂ معاش بنانا چاہیے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
برادر عزیز مولانا محمد ریحان رضا مرکزی حفظہ اللہ تعالیٰ نے اپنی دستارِ فضیلت کے مبارک موقع پر ”تجارت“ کو موضوع سخن بنا کر ایک رسالہ امت مسلمہ کو تحفہ میں دینے کا ارادہ کیا اور اس عظیم موضوع پر قلم اٹھایا۔ رسالہ کا نام ”تجارت: سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی میں“ رکھا۔ رسالہ میں شہنشاہِ کون و مکاں، نبی آخرالزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک اقوال و افعال کی روشنی میں اہمیت و فضیلت کو بیان کیا ہے۔ یقیناً قلم اٹھنا قابلِ تحسین ہے اور ایسے موضوع پر قلم چلانا جس سے امت کو فائدہ حاصل ہو تو یہ سونے پہ سہاگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں درجۂ قبولیت عطا فرمائے، مقبولِ خواص و عوام بنائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ رسالہ حاصل کرنے کے لیے رابطہ فرمائیں: 7302701097
از: محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
شاہین باغ، ابوالفضل انکلیو-2، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی
٢٧؍جولائی ؁٢٠٢٥ء
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
76
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 92
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

اربعینِ نکاح مفتی جسیم اکرم مرکزی کی عظیم کاوش

رسالہ حلالہ اور طلاقِ ثلاثہ کا شرعی و عقلی تجزیہ امت کے لیے مفید تر کتاب

تجارت کی اہمیت کو اجاگر کرنے والا رسالہ - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

تجارت کی اہمیت کو اجاگر کرنے والا رسالہ

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

تجارت کی اہمیت کو اجاگر کرنے والا رسالہ
“تجارت: سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی میں”
مؤلف: مولانا محمد ریحان مرکزی حفظہ اللہ تعالیٰ (کانپور، یو.پی)

پیارے آقا، حبیب کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کا ہر ایک پہلو انسانیت کا درس دیتا ہے۔ سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک زندگی سے جو تعلیمات حاصل ہوئیں ان میں سے ایک ”تجارت“ ہے۔ مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کی تجارت کا سب سے پہلا اور نمایاں پہلو دیانت داری اور امانت تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، نہ مال میں عیب چھپایا، نہ مشتری کو دھوکہ دیا۔ بلکہ اپنے مبارک کردار سے امانت کی ایک مثال قائم فرما دی۔ اسی بنا پر نبی مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو مکہ میں “الصادق” (سچ بولنے والے) اور “الامین” (امانت دار) کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ انھیں صفات نے پیارے مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نظروں میں ممتاز بنایا۔

حضرت سیدہ خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنا مالِ تجارت دے کر شام تشریف لے جانے کی التجا پیش فرمائی اور واپسی میں مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم زیادہ نفع ساتھ لے کر آئے۔

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نرمی سے بات کرتے، سخت لہجے کبھی استعمال نہ فرماتے، اور آنے والے کی عزت نفس کا خیال رکھتے۔ مصطفیٰ کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم کا فرمانِ عالیشان ہے: *اللہ اس پر رحم کرے جو بیچنے، خریدنے اور تقاضا کرنے میں نرمی سے پیش آئے۔* (صحیح بخاری، ح٢٠٧٦) یہ پیغام تھا کہ تجارت صرف مال فروخت کرنے کا عمل نہیں بلکہ اخلاق کا مظاہرہ ہے۔ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کبھی کسی خریدار کو اس کی حیثیت دیکھ کر مختلف سلوک نہیں فرمایا۔ امیر، غریب، قریبی، اجنبی، سب سے ایک جیسا برتاؤ فرماتے۔ یہ سکھاتا ہے کہ تاجر کا رویہ برابری والا ہو، نہ کہ منافقانہ یا طبقاتی۔

دو جہاں کے شہنشاہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تجارت کو ذریعۂ معاش بنایا، اور کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ حبیب خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ عمل پوری امت کو سکھاتا ہے کہ محنت سے رزقِ حلال کمانا؛ عزت و عظمت کا راستہ ہے۔ تجارت میں سچائی اور حسنِ سلوک سے محبوبِ رب العٰلمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کئی دلوں کو متأثر فرمایا۔ یہ خاموش دعوت تھی، جو زبان سے نہیں بلکہ عمل سے دی گئی۔

حضرت سیدہ خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے غلام میسرہ نے شام کے سفر کے دوران سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایمانداری، حیاء اور صداقت کو قریب سے دیکھا، اور واپسی پر یہی باتیں ام المؤمنین سیدہ خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بتائیں، جس کے نتیجے میں نکاح کا پیغام آیا۔ آقا کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے تاجر کی فضیلت کو یوں بیان فرمایا: *سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ * (جامع ترمذی، ح١٢٠٩) یہی حدیث امت کے لیے ترغیب، امید اور روشنی کا مینار ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تجارتی زندگی صرف ایک ذریعۂ معاش نہیں، بلکہ اخلاق، دیانت، سچائی، نرمی، عدل اور وقار کا عملی مظہر ہے۔ نبی کریم علیہ افضل الصلوات و اکرم التسلیم نے تجارت کو ایسا پاکیزہ بنا دیا کہ آج بھی اگر کوئی تاجر سچ بولے، دیانت کرے، انصاف سے کام لے تو وہ نفع سے پہلے دل جیتتا ہے۔

دنیا کے ہر انسان کو معاشی تحفظ، ذہنی سکون، خاندانی سہولت اور سماجی عزت درکار ہوتی ہے۔ مگر یہ سب کیسے حاصل ہوں ؟ کچھ لوگ نوکری کی طرف جاتے ہیں، کچھ دستکاری یا زراعت کی طرف، لیکن ایک شعبہ ایسا ہے جو عقل، محنت، وقت اور موقع کا بہترین امتزاج بناتا ہے، اور وہ ہے: تجارت!
تجارت محض مال و زر کا لین دین نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا فن، ایک ایسا طرزِ حیات ہے جو صرف پیسہ نہیں، سوچ بدلتا ہے، نسلیں سنوارتا ہے اور شخصیت میں انقلاب پیدا کرتا ہے۔

“تجارت کی چند فوائد یہ ہیں:”
*(١) خود مختاری اور آزادی کا ذریعہ: *تاجر کسی کا ماتحت نہیں ہوتا۔ نہ کسی کے اوقات کا پابند، نہ کسی کی اجازت کا محتاج۔ اسے اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار ہوتا ہے، چاہے کب کام کرے، کتنا کرے، کس کے ساتھ کرے اور کہاں کرے۔ یہی آزادی اسے ذہنی سکون، اعتماد اور انفرادی تشخص عطا کرتی ہے۔ نماز کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں پڑتی، جو نوکری پیشہ افراد کے لیے اکثر خواب بن جاتی ہے۔
*(٢) آمدنی کی کوئی حد نہیں:* نوکری میں آمدنی طے شدہ ہوتی ہے، جتنی تنخواہ، اتنا کمانا۔ لیکن تجارت میں کوئی حد مقرر نہیں۔ ایک دن کا نفع، ایک سال کی تنخواہ سے بڑھ سکتا ہے۔ آپ کی ذہانت، محنت اور منصوبہ بندی آپ کو لامحدود آمدنی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ آج دنیا کے 90؍ فیصد سے زائد ارب پتی افرادتاجر ہی ہیں!
*(٣) سرمایہ کاری پر مکمل کنٹرول:* تاجر کے پاس سرمایہ ہوتا ہے، لیکن اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ خود طے کرتا ہے: کس میں لگائے ؟ کب لگائے ؟ کیسے لگائے ؟ کہاں نکالے ؟ یہ اختیار تاجر کو وہ مالی بصیرت دیتا ہے جو اُسے معاشی خود کفالت تک پہنچاتا ہے۔

*(٤) وقت کا بہترین مصرف:* تاجر کے لیے وقت قید نہیں ہوتا، بلکہ سرمایہ ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وقت اگر صحیح استعمال کیا جائے تو وہ صرف گھنٹوں میں اپنے حالات بدل سکتا ہے۔ جبکہ نوکری پیشہ اکثر ”اوقاتِ کار“ کے قیدی بنے رہتے ہیں، اور نتیجتاً تخلیقی صلاحیتیں دب جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی تجارت کے بہت سے فوائد ہیں جیسے: (٥) ذہنی ترقی اور تخلیقی سوچ، (٦) برادری، تعلقات اور سماجی مقام، (٧) دوسروں کے لیے روزگار کا ذریعہ (٨) نئی نسل کو مستقبل دینے والا فن، (٩) عالمگیر وسعت اور ترقی کی راہیں، (١٠) مخلوقِ خدا کی خدمت کا عظیم ذریعہ وغیرہ وغیرہ۔ آج ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو تجارت میں آگے آگے رہنا چاہیے اور مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بتائے طریقوں پر عمل کر کے تجارت کو ذریعۂ معاش بنانا چاہیے۔

برادر عزیز مولانا محمد ریحان رضا مرکزی حفظہ اللہ تعالیٰ نے اپنی دستارِ فضیلت کے مبارک موقع پر ”تجارت“ کو موضوع سخن بنا کر ایک رسالہ امت مسلمہ کو تحفہ میں دینے کا ارادہ کیا اور اس عظیم موضوع پر قلم اٹھایا۔ رسالہ کا نام ”تجارت: سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی میں“ رکھا۔ رسالہ میں شہنشاہِ کون و مکاں، نبی آخرالزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک اقوال و افعال کی روشنی میں اہمیت و فضیلت کو بیان کیا ہے۔ یقیناً قلم اٹھنا قابلِ تحسین ہے اور ایسے موضوع پر قلم چلانا جس سے امت کو فائدہ حاصل ہو تو یہ سونے پہ سہاگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں درجۂ قبولیت عطا فرمائے، مقبولِ خواص و عوام بنائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ رسالہ حاصل کرنے کے لیے رابطہ فرمائیں: 7302701097

★ از: محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
شاہین باغ، ابوالفضل انکلیو-2، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی
٢٧؍جولائی ؁٢٠٢٥ء

Scan this QR code to read online:

QR Code