صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
حضور غوث اعظم کی تعلیمات اور نوجوانوں کی اصلاح
اصلاح معاشرہ

حضور غوث اعظم کی تعلیمات اور نوجوانوں کی اصلاح

✍️ Tauqeer Raza Ashrafi

حضور غوث اعظم کی تعلیمات اور نوجوانوں کی اصلاح
اللہ تبارک و تعالی کا بے پایا احسان و کرم ہے کہ اس نے تعلیمات غوث اعظم اور نونہالان اسلام کی اصلاح جیسے اہم موضوع پر چند صفحات تحریر کرنے کا شرف عطا فرمایا۔ الله رب العزت خالق شش جہت اور مالک کل کائنات ہے ، اپنی مخلوقات میں بے شمار درجات رکھے ، جن میں سے حضرت انسان کا درجہ بلاشبه پہلا ہے ، کیوں کہ ان میں اپنے نائبین و خلفاء رکھے ، وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَم ( سورہ اسراء: ۷۰/۱۷) اور وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلِئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَة ( سورة بقره: ۳۰/۲) جیسی تابندہ آیتیں اس حقیقت پر شہادت عدل قائم کرتی ہیں ۔ حضرت انسان کے بھی کئی درجات رکھے ، جن میں سے کچھ ادنی درجہ ، اعلی درجہ اور کچھ درجے محبوبیت اور غوثیت کے اعلیٰ منسب پر فائز ہیں ، انہیں میں سے ایک نایاب خزانہ قطب الاقطاب سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی ہیں ، ان کی تعلیمات سے ہمیں کچھ درس حاصل کرنا چاہے تاکہ خود کی اور نوجوان نسل کی اصلاح کی جا سکے ۔ گو یا اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر کیسا بے پایاں فضل و احسان ہے کہ اُس نے اپنی ولایت کا دروازہ کھلا رکھا ہے کہ اگر ہم فرائض کے بعد محض اُس کی رضا کے لیے نوافل کا اہتمام کریں تو اُمید ہے کہ رب عز و جل ہمیں بھی اپنا محبوب و مقرب بنا لے گا ۔ اب ہمارے نوافل جیسے جیسے بڑھتے جائیں گے، ویسے ہی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے انعامات اور اس کی نوازشات کی برسات بھی ہم پر زیادہ سے زیادہ ہوتی جائے گی۔
غوث اعظم کی تو کیا بات ہے !!! بریلی کے تاجدار مولانا امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے جب شانِ غوثِ اعظم بیان کرنا چاہی تو کیا خوب لکھا:
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
غوث پاک کا سر اقدس اور چہرہ مبارک تو بہت ہی اعلی ہے آپ کے قدموں کا یہ کمال ہے:
سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا
اولیا ملتے ہیں انھیں وہ ہے تلوا تیرا
اور جو غوثِ اعظم کے غلام ہیں انہیں خوف اور گھبراہٹ نہیں ہوتی، اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں:
کیا دبے جس پہ حمایت کا ہو پنجہ تیرا
شیر کو خطرے میں لاتا نہیں کتّا تیرا
رب کی رحمت بہت وسیع ہے، بندہ کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو سچی توبہ کرے، رب کو صدق دل سے پکارے ، وہ کریم رب‌ اپنے بندے کے گناہ کو معاف بھی کر دیتا ہے اور انسان کو اپنا دوست بھی بنا لیتا ہے ، بس ! ہمیں رب کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے ۔ چور کو قطب بنا دیا مدینہ شریف سے بغداد جاتے ہوئے راستے میں ایک چور دیہاتی بن کر کھڑا تھا، غوث پاک نے اس پر نگاہ ڈالی، چور نے اسی وقت توبہ کی ، غوث پاک نے بارگاہ خداوندی میں دعا کی اور الله تعالٰی نے اسے قطب بنا دیا ۔ (سیرت غوث الثقلین،صفحہ: ١٢٨ ، مطبوعہ : قادری کتب خانہ، تحصیل بازار سیالکوٹ)
پیارے اسلامی بھائیو! اس واقعے سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ سچی توبہ بندے کی زندگی پلٹ دیتی ہے ، میں گنہگار سہی ، بد کار سہی میں کیسا بھی سہی اگر اللہ سے دوستی کرلوں، سچی توبہ کرلوں تو میرے کریم رب کے خزانوں میں کمی نہیں ہے، وہ معاف کرنے والا، در گزر کرنے والا، بخشنے والا مہربان ہے ۔

سردار اولیاء اور عبادت گزار

حضورغوث اعظم فرماتے ہیں : رات بھر عبادت کرنا ہوتا ، ایک کھونٹی گاڑ دیا اور اس سے ایک رسی باندھ دیا اور اس رسی سے اپنے بدن کو باندھ دیا ،جب نیند کی وجہ سے میں جھٹکا کھاتا تو وہ رسی کھینچتی جس سے میری آنکھ کھل جاتی میں فوراً بے دار ہو جاتا پھر عبادت میں مصروف ہو جاتا ـمزید فرماتے ہیں: میں نے 40 سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا کی ـ
پیارے اسلامی بھائیو! ہم اس پیر کے ماننے والے ہیں جنہوں نے40 سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نمازادا کــــی ـ لیکن ہم لوگ فجرکی نماز تک چھوڑ دیتے ہیں اور کچھ لوگ تو عشاء کی نماز بھی نہیں پڑھتے ہیں ، کچھ ایسے نمازی دیکھے جاتے ہیں جوکہ چار وقت کی نماز کسی طرح تو پڑھ لیتے ہیں ، لیکن فجر کی نماز قضا کر دیتے ہیں ، اگر اس سے کہا جائے ، فجر کی نماز کیوں نہیں پڑھتے ، ان کی جانب سے یہی جواب ملتا ہے کہ تھکان اس قدر ہوتی ہے کہ آنکھ نہیں کھلتی ، اگر کبھی صبح صادق ، قبل فجر سفر کے لیے روانہ ہونا ہے تو وقت سے پہلے بے دار ہو جاتے ہیں تاکہ ٹرين پا بس نہ چھوٹ جائے ـ
افسوس صد افسوس! ہم غوث اعظم سے عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ، نیاز و فاتحه کرتے ہیں ، لنگر غوثیہ بڑے ہی شوق سے کھاتے ہیں ، ہاں اچھی بات ہے کہ اولیاء الله سے محبت و عقیدت رکھتے ہیں لیکن ان کی تعلیمات کو فراموش کر کے ان سے عقیدت کا اظہار کریں تو کیا غوث پاک خوش ہو جائیں گے ، آپ سے راضی ہوں گے ہرگز نہیں کیوں کہ نماز ہم پر فرض ہے اور اولیاء الله کی تعلیمات ہمیشہ سے نمازوں سے وابسطہ ہیں ـ لہذا ہمیں ان کی تعلیمات پر گامزن ہونا چاہئے۔ نماز کو اہمیت دیجیئے : نماز وہ اہم عبادت ہے جس کے بارے میں قیامت کے دن سب سے پہلے سوال کیا جائے گا ، اس وقت اپنے رب کو کیا منھ دکھاؤ گے کہ نماز نہیں پڑھا مگر غوث پاک سے عقیدت رکھا ـ میرے بھائیو! سب سے پہلے نماز پھر عقیدت ومحبت ۔ یہ اولیائے کرام سے کیسی عقیدت ہے کہ نمازیں قضا ہو رہی ہیں ؟ سب سے پہلا فرض نماز ہے ، جس کے بارے میں متعدد مقامات پر مذکور ہیں ـ جو شخص قصدا (یعنی جان بوجھ کر) ایک وقت کی نماز قضا کر دیتا ہے ، اس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے ، اسے قبر اس طرح دبائے گی کہ ان کی پسلیاں ٹوٹ پھوٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہو جائے گی ـ الله اكبر كبيرا نہ جانے ہم کتنی نمازیں قضا کر دیے ہیں پھر بھی ہمیں ذرا برابر بھی احساس نہیں ، ہماری غیرت ایمانی مر چکی ہے ، ہم لوگ گناه کرتے ہیں لیکن ہم اتنے بزدل اور سخت دل ہو گیے ہیں ، گناه کرتے تھکتے نہیں ہیں ـ ہم پر کسی کی نصیحتوں کا اثر تک نہیں ہوتا ہےـ الله تعالی ہمیں سچی توبه کی توفیق عطا فرمائے۔
پیارے اسلامی بھائیو! نماز اور عبادت کے علاوه دیگرچیزوں کے لئے ہماری آنکھ کھل جاتی ہے مگر نماز کے لئے آنکھ کیوں نہیں کھلتی ؟ کیونکہ ہم نے ان چیزوں کو اہمیت دی ہے، ہمارے نزدیک یہ چیزیں اہم ہیں، ہم نے نماز کو اہمیت ہی نہیں دی۔ ان سے پوچھئے جو نمازی ہیں ، انہیں رات بھر ٹینشن سے نیند نہیں آتی کہ فجر نہ چلی جائے ، اللہ کی رحمت سے وہ جتنی بھی دیر سے سوئیں ان کی فجر میں آنکھ کھل جاتی ہے کیونکہ ان کے نزدیک فجر کی اہمیت ہے پھر کیسے ان کی فجر کی نماز چلی جائے گی ؟ میں قادری ہوں، غوث پاک کا ماننے والا ہوں ، میں تو ان کا مرید ہوں جو 40 سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھتے رہیں ، بس ! آج سے نیت کر لیجئے کہ میری کوئی نماز قضا نہیں ہو گی۔ ( ان شاء الله )
جیلان اور غوث کا فیضان : جس دن غوث پاک پیدا ہوئے ، اس دن جیلان میں 1100 بچے پیدا ہوئے ، وہ سب لڑکے تھے ، اللہ پاک نے غوث اعظم کے صدقے ان سب کو اپنا ولی بنالیا، ( تفریح الخاطر)
پیران پیر کی آمد ہوئی تو ولایت بٹنا شروع ہو گئی اور یہ فیضان ایسا جاری ہے کہ علمائے کرام فرماتے ہیں: آج بھی دنیا میں اگر کوئی ولی بنتا ہے تو اسے ولایت غوث پاک کے در سے ملتی ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو ! رب کریم کی بارگاہ میں غوث پاک کا بہت بلند مقام ہے ، دعا کے لئے ہاتھ بلند کرتے تو لوگوں کی مصیبتیں ٹل جاتیں ، ہماری مصیبتیں بھی غوث پاک کے صدقے اور وسیلے سے ٹل جاتی ہیں مگر آپ کی زندگی پر غور کیا جائے تو غوث پاک نے بہت ہی مشکلیں اٹھائیں ہیں۔

غوث پاک کا صبر

غوث پاک خود فرماتے ہیں: ایک بار بغداد میں قحط پڑ گیا، جس کی وجہ سے مجھے بہت تنگدستی اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور کئی روز تک مجھے کھانے کے لئے کچھ نہ ملا۔ ایک دن بھوک کی شدت کی وجہ سے میں دریائے دجلہ کی طرف گیا تا کہ وہاں ساگ یا کسی سبزی کے پتے کھا سکوں، مگر جہاں جاتا وہاں مجھ سے پہلے کئی فقراء موجود ہوتے۔ خود فرماتے ہیں : میں بیابانوں اور جنگل میں وقت گزارتا، بھوک مٹانے کے لئے کبھی کبھی ترکاریاں بھی نہیں ملتی کیونکہ بھوک کے مارے ہوئے دوسرے فقر کو دیکھتا تھا کہ وہ بھی کوئی گری پڑی چیز اٹھانے آئے ہیں تو میں اپنے بھائیوں پر ایثار کر کے واپس آجاتا تھا، غوث پاک بھوک میں بھی ایثار کر دیا کرتے ہیں حتی کہ بھوک کے سبب آپ کی کمزوری حد سے بڑھ گئی تھی۔ غوث پاک مزید فرماتے ہیں : میں نے کئی دنوں سے کھانا نہیں کھایا تھا جس کی وجہ سے نڈھال ہو گیا تھا، میں مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گیا، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک عجمی نوجوان روٹی اور گوشت لے کر مسجد میں داخل ہوا اور کھانا کھانے لگا۔ اسے دیکھ کر میری بھوک مزید بڑھ گئی ، میری ایسی حالت ہو گئی کہ جب وہ اپنے منہ میں نوالہ ڈالتا ہے تو بے اختیار میرا بھی جی چاہتا کہ میں اپنا منہ کھولوں۔
پیارے اسلامی بھائیو ! سوچئے تو سہی! کبھی زندگی میں ہم نے ایسی بھوک برداشت کی ہے؟ کیا کبھی ہم نے زمین سے اٹھا کر ٹکڑے کھائے ہیں ؟ جبکہ ہم سب کے بڑے پیر نے یہ وقت بھی گزارا ہے۔
غوث پاک فرماتے ہیں: میں نے اپنے نفس کو ڈانٹا ، اے نفس ! بے صبری مت کر کچھ بھی ہو جائے اس نوجوان سے مانگ کر نہیں کھاؤں گا۔ بات بات پر مانگنے والو! ہا تھ پھیلانے والو! یہ ہاتھ پھیلانا، مددمانگنا، سوال کرنا اللہ پاک کو پسند نہیں ہے ، ہر کسی کو سوال کرنے اور مانگنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی ہے ، ایسا شخص جس کے پاس کھانے کو بالکل بھی نہ ہو ، تنگدست ہو جائے وہ مانگے جبکہ یہاں تو ہر دوسرا آدمی مانگ رہا ہے ، جب مانگنا ہی ہے تو لوگوں سے کیوں مانگتے ہو ؟ اپنے رب سے مانگو ، التجا کرنی ہے تو مدینے والے مصطفیٰ سے کیجئے۔
کسی کا احسان کیوں اٹھائیں کسی کو حالات کیوں بتائیں
تمہیں سے مانگیں گے تم ہی دو گئے تمہارے در سے ہی لو لگی ہے
غوث پاک فرماتے ہیں: اچانک وہ نوجوان میری طرف دیکھنے لگا اور کھانا لا کر میرے سامنے رکھ دیا، میں نے کھانے سے انکار کیا اُس نے اصرار کیا کہ تھوڑا سا کھا لیجئے ، میرے نفس نے کھانے پر بہت اُبھارا مگر میں نے انکار ہی کیا جب نوجوان کا بہت اصرار بڑھا تو میں نے چند نوالے کھائے، نوجوان نے مجھ سے پوچھا آپ کہاں کے رہنے والے ہیں ؟ میں نے کہا: میں جیلان کا رہنے والا ہوں ، نوجوان نے فوراً کہا: میں بھی جیلان کا رہنے والا ہوں ، نوجوان نے جلدی سے کہا : کیا آپ جیلان سے تعلق رکھنے والے عبد القادر نامی کسی نوجوان کو جانتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ میں ہی ہوں۔ یہ سن کر وہ بے چین ہو گیا اور مجھ سے معذرت کرتے ہوئے کہنے لگا کہ آپ کی والدہ محترمہ نے میرے ہاتھ آپ کے لئے آٹھ (8) دینار بھیجے تھے ، جب میں بغداد آیا تھا، اس وقت میرے پاس اپنا ذاتی خرچ موجود تھا، لیکن آپ کو تلاش کرتے اتنے دن گزر گئے کہ میرے پاس میرا ذاتی خرچ ختم ہو گیا ، مجھے فاقہ کرتے ہوئے آج تیسرا دن تھا، مجبور ہو کر آپ کی امانت میں سے کھانا لایا ہوں ، حضور اب آپ میرے مہمان نہیں ہیں۔ یہ پیسے بھی آپ کے ، یہ کھانا بھی آپ کا بلکہ میں آپ کا مہمان ہوں، حضور معاف بھی کر دیجئے اور آئیے مل کر کھا لیجئے۔ اس نوجوان نے غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کو بقیہ رقم بھی پیش کی ، معافی بھی مانگی۔ حضور غوث اعظم فرماتے ہیں: میں نے مانگ کر نہیں کھایا اور جو کھا یا وہ بھی میرے ہی پیسوں کا تھا پھر میں نے اس نوجوان کو تسلی دی اور اس بات پر اپنی رضامندی ظاہر کی، جب ہم کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو میں نے بقیہ کھانا اور کچھ مال دے کر اُسے رُخصت کیا۔ ( قلائد الجواہر ، صفحہ: 9,10 بحوالہ ، فیضان غوث اعظم)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
پیارے اسلامی بھائیو! حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمارے لیے علم، عبادت، صبر، توبہ اور ایثار کا درس ہے۔ اگر ہم واقعی آپ سے محبت کرتے ہیں تو آپ کی تعلیمات پر عمل بھی کریں، خصوصاً نماز کی پابندی کریں اور گناہوں سے بچیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبت کے ساتھ نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
از قلم: محمد توقیر رضا اشرفی
جماعت: سابعہ (فاضل اول)
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
پورنیہ (بہار)

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

حضور غوث اعظم کی تعلیمات اور نوجوانوں کی اصلاح

مضمون نگار: Tauqeer Raza Ashrafi

حضور غوث اعظم کی تعلیمات اور نوجوانوں کی اصلاح
اللہ تبارک و تعالی کا بے پایا احسان و کرم ہے کہ اس نے تعلیمات غوث اعظم اور نونہالان اسلام کی اصلاح جیسے اہم موضوع پر چند صفحات تحریر کرنے کا شرف عطا فرمایا۔ الله رب العزت خالق شش جہت اور مالک کل کائنات ہے ، اپنی مخلوقات میں بے شمار درجات رکھے ، جن میں سے حضرت انسان کا درجہ بلاشبه پہلا ہے ، کیوں کہ ان میں اپنے نائبین و خلفاء رکھے ، وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَم ( سورہ اسراء: ۷۰/۱۷) اور وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلِئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَة ( سورة بقره: ۳۰/۲) جیسی تابندہ آیتیں اس حقیقت پر شہادت عدل قائم کرتی ہیں ۔ حضرت انسان کے بھی کئی درجات رکھے ، جن میں سے کچھ ادنی درجہ ، اعلی درجہ اور کچھ درجے محبوبیت اور غوثیت کے اعلیٰ منسب پر فائز ہیں ، انہیں میں سے ایک نایاب خزانہ قطب الاقطاب سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی ہیں ، ان کی تعلیمات سے ہمیں کچھ درس حاصل کرنا چاہے تاکہ خود کی اور نوجوان نسل کی اصلاح کی جا سکے ۔ گو یا اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر کیسا بے پایاں فضل و احسان ہے کہ اُس نے اپنی ولایت کا دروازہ کھلا رکھا ہے کہ اگر ہم فرائض کے بعد محض اُس کی رضا کے لیے نوافل کا اہتمام کریں تو اُمید ہے کہ رب عز و جل ہمیں بھی اپنا محبوب و مقرب بنا لے گا ۔ اب ہمارے نوافل جیسے جیسے بڑھتے جائیں گے، ویسے ہی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے انعامات اور اس کی نوازشات کی برسات بھی ہم پر زیادہ سے زیادہ ہوتی جائے گی۔
غوث اعظم کی تو کیا بات ہے !!! بریلی کے تاجدار مولانا امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے جب شانِ غوثِ اعظم بیان کرنا چاہی تو کیا خوب لکھا:
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
غوث پاک کا سر اقدس اور چہرہ مبارک تو بہت ہی اعلی ہے آپ کے قدموں کا یہ کمال ہے:
سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا
اولیا ملتے ہیں انھیں وہ ہے تلوا تیرا
اور جو غوثِ اعظم کے غلام ہیں انہیں خوف اور گھبراہٹ نہیں ہوتی، اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں:
کیا دبے جس پہ حمایت کا ہو پنجہ تیرا
شیر کو خطرے میں لاتا نہیں کتّا تیرا
رب کی رحمت بہت وسیع ہے، بندہ کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو سچی توبہ کرے، رب کو صدق دل سے پکارے ، وہ کریم رب‌ اپنے بندے کے گناہ کو معاف بھی کر دیتا ہے اور انسان کو اپنا دوست بھی بنا لیتا ہے ، بس ! ہمیں رب کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے ۔ چور کو قطب بنا دیا مدینہ شریف سے بغداد جاتے ہوئے راستے میں ایک چور دیہاتی بن کر کھڑا تھا، غوث پاک نے اس پر نگاہ ڈالی، چور نے اسی وقت توبہ کی ، غوث پاک نے بارگاہ خداوندی میں دعا کی اور الله تعالٰی نے اسے قطب بنا دیا ۔ (سیرت غوث الثقلین،صفحہ: ١٢٨ ، مطبوعہ : قادری کتب خانہ، تحصیل بازار سیالکوٹ)
پیارے اسلامی بھائیو! اس واقعے سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ سچی توبہ بندے کی زندگی پلٹ دیتی ہے ، میں گنہگار سہی ، بد کار سہی میں کیسا بھی سہی اگر اللہ سے دوستی کرلوں، سچی توبہ کرلوں تو میرے کریم رب کے خزانوں میں کمی نہیں ہے، وہ معاف کرنے والا، در گزر کرنے والا، بخشنے والا مہربان ہے ۔

سردار اولیاء اور عبادت گزار

حضورغوث اعظم فرماتے ہیں : رات بھر عبادت کرنا ہوتا ، ایک کھونٹی گاڑ دیا اور اس سے ایک رسی باندھ دیا اور اس رسی سے اپنے بدن کو باندھ دیا ،جب نیند کی وجہ سے میں جھٹکا کھاتا تو وہ رسی کھینچتی جس سے میری آنکھ کھل جاتی میں فوراً بے دار ہو جاتا پھر عبادت میں مصروف ہو جاتا ـمزید فرماتے ہیں: میں نے 40 سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا کی ـ
پیارے اسلامی بھائیو! ہم اس پیر کے ماننے والے ہیں جنہوں نے40 سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نمازادا کــــی ـ لیکن ہم لوگ فجرکی نماز تک چھوڑ دیتے ہیں اور کچھ لوگ تو عشاء کی نماز بھی نہیں پڑھتے ہیں ، کچھ ایسے نمازی دیکھے جاتے ہیں جوکہ چار وقت کی نماز کسی طرح تو پڑھ لیتے ہیں ، لیکن فجر کی نماز قضا کر دیتے ہیں ، اگر اس سے کہا جائے ، فجر کی نماز کیوں نہیں پڑھتے ، ان کی جانب سے یہی جواب ملتا ہے کہ تھکان اس قدر ہوتی ہے کہ آنکھ نہیں کھلتی ، اگر کبھی صبح صادق ، قبل فجر سفر کے لیے روانہ ہونا ہے تو وقت سے پہلے بے دار ہو جاتے ہیں تاکہ ٹرين پا بس نہ چھوٹ جائے ـ
افسوس صد افسوس! ہم غوث اعظم سے عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ، نیاز و فاتحه کرتے ہیں ، لنگر غوثیہ بڑے ہی شوق سے کھاتے ہیں ، ہاں اچھی بات ہے کہ اولیاء الله سے محبت و عقیدت رکھتے ہیں لیکن ان کی تعلیمات کو فراموش کر کے ان سے عقیدت کا اظہار کریں تو کیا غوث پاک خوش ہو جائیں گے ، آپ سے راضی ہوں گے ہرگز نہیں کیوں کہ نماز ہم پر فرض ہے اور اولیاء الله کی تعلیمات ہمیشہ سے نمازوں سے وابسطہ ہیں ـ لہذا ہمیں ان کی تعلیمات پر گامزن ہونا چاہئے۔ نماز کو اہمیت دیجیئے : نماز وہ اہم عبادت ہے جس کے بارے میں قیامت کے دن سب سے پہلے سوال کیا جائے گا ، اس وقت اپنے رب کو کیا منھ دکھاؤ گے کہ نماز نہیں پڑھا مگر غوث پاک سے عقیدت رکھا ـ میرے بھائیو! سب سے پہلے نماز پھر عقیدت ومحبت ۔ یہ اولیائے کرام سے کیسی عقیدت ہے کہ نمازیں قضا ہو رہی ہیں ؟ سب سے پہلا فرض نماز ہے ، جس کے بارے میں متعدد مقامات پر مذکور ہیں ـ جو شخص قصدا (یعنی جان بوجھ کر) ایک وقت کی نماز قضا کر دیتا ہے ، اس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے ، اسے قبر اس طرح دبائے گی کہ ان کی پسلیاں ٹوٹ پھوٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہو جائے گی ـ الله اكبر كبيرا نہ جانے ہم کتنی نمازیں قضا کر دیے ہیں پھر بھی ہمیں ذرا برابر بھی احساس نہیں ، ہماری غیرت ایمانی مر چکی ہے ، ہم لوگ گناه کرتے ہیں لیکن ہم اتنے بزدل اور سخت دل ہو گیے ہیں ، گناه کرتے تھکتے نہیں ہیں ـ ہم پر کسی کی نصیحتوں کا اثر تک نہیں ہوتا ہےـ الله تعالی ہمیں سچی توبه کی توفیق عطا فرمائے۔
پیارے اسلامی بھائیو! نماز اور عبادت کے علاوه دیگرچیزوں کے لئے ہماری آنکھ کھل جاتی ہے مگر نماز کے لئے آنکھ کیوں نہیں کھلتی ؟ کیونکہ ہم نے ان چیزوں کو اہمیت دی ہے، ہمارے نزدیک یہ چیزیں اہم ہیں، ہم نے نماز کو اہمیت ہی نہیں دی۔ ان سے پوچھئے جو نمازی ہیں ، انہیں رات بھر ٹینشن سے نیند نہیں آتی کہ فجر نہ چلی جائے ، اللہ کی رحمت سے وہ جتنی بھی دیر سے سوئیں ان کی فجر میں آنکھ کھل جاتی ہے کیونکہ ان کے نزدیک فجر کی اہمیت ہے پھر کیسے ان کی فجر کی نماز چلی جائے گی ؟ میں قادری ہوں، غوث پاک کا ماننے والا ہوں ، میں تو ان کا مرید ہوں جو 40 سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھتے رہیں ، بس ! آج سے نیت کر لیجئے کہ میری کوئی نماز قضا نہیں ہو گی۔ ( ان شاء الله )
جیلان اور غوث کا فیضان : جس دن غوث پاک پیدا ہوئے ، اس دن جیلان میں 1100 بچے پیدا ہوئے ، وہ سب لڑکے تھے ، اللہ پاک نے غوث اعظم کے صدقے ان سب کو اپنا ولی بنالیا، ( تفریح الخاطر)
پیران پیر کی آمد ہوئی تو ولایت بٹنا شروع ہو گئی اور یہ فیضان ایسا جاری ہے کہ علمائے کرام فرماتے ہیں: آج بھی دنیا میں اگر کوئی ولی بنتا ہے تو اسے ولایت غوث پاک کے در سے ملتی ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو ! رب کریم کی بارگاہ میں غوث پاک کا بہت بلند مقام ہے ، دعا کے لئے ہاتھ بلند کرتے تو لوگوں کی مصیبتیں ٹل جاتیں ، ہماری مصیبتیں بھی غوث پاک کے صدقے اور وسیلے سے ٹل جاتی ہیں مگر آپ کی زندگی پر غور کیا جائے تو غوث پاک نے بہت ہی مشکلیں اٹھائیں ہیں۔

غوث پاک کا صبر

غوث پاک خود فرماتے ہیں: ایک بار بغداد میں قحط پڑ گیا، جس کی وجہ سے مجھے بہت تنگدستی اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور کئی روز تک مجھے کھانے کے لئے کچھ نہ ملا۔ ایک دن بھوک کی شدت کی وجہ سے میں دریائے دجلہ کی طرف گیا تا کہ وہاں ساگ یا کسی سبزی کے پتے کھا سکوں، مگر جہاں جاتا وہاں مجھ سے پہلے کئی فقراء موجود ہوتے۔ خود فرماتے ہیں : میں بیابانوں اور جنگل میں وقت گزارتا، بھوک مٹانے کے لئے کبھی کبھی ترکاریاں بھی نہیں ملتی کیونکہ بھوک کے مارے ہوئے دوسرے فقر کو دیکھتا تھا کہ وہ بھی کوئی گری پڑی چیز اٹھانے آئے ہیں تو میں اپنے بھائیوں پر ایثار کر کے واپس آجاتا تھا، غوث پاک بھوک میں بھی ایثار کر دیا کرتے ہیں حتی کہ بھوک کے سبب آپ کی کمزوری حد سے بڑھ گئی تھی۔ غوث پاک مزید فرماتے ہیں : میں نے کئی دنوں سے کھانا نہیں کھایا تھا جس کی وجہ سے نڈھال ہو گیا تھا، میں مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گیا، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک عجمی نوجوان روٹی اور گوشت لے کر مسجد میں داخل ہوا اور کھانا کھانے لگا۔ اسے دیکھ کر میری بھوک مزید بڑھ گئی ، میری ایسی حالت ہو گئی کہ جب وہ اپنے منہ میں نوالہ ڈالتا ہے تو بے اختیار میرا بھی جی چاہتا کہ میں اپنا منہ کھولوں۔
پیارے اسلامی بھائیو ! سوچئے تو سہی! کبھی زندگی میں ہم نے ایسی بھوک برداشت کی ہے؟ کیا کبھی ہم نے زمین سے اٹھا کر ٹکڑے کھائے ہیں ؟ جبکہ ہم سب کے بڑے پیر نے یہ وقت بھی گزارا ہے۔
غوث پاک فرماتے ہیں: میں نے اپنے نفس کو ڈانٹا ، اے نفس ! بے صبری مت کر کچھ بھی ہو جائے اس نوجوان سے مانگ کر نہیں کھاؤں گا۔ بات بات پر مانگنے والو! ہا تھ پھیلانے والو! یہ ہاتھ پھیلانا، مددمانگنا، سوال کرنا اللہ پاک کو پسند نہیں ہے ، ہر کسی کو سوال کرنے اور مانگنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی ہے ، ایسا شخص جس کے پاس کھانے کو بالکل بھی نہ ہو ، تنگدست ہو جائے وہ مانگے جبکہ یہاں تو ہر دوسرا آدمی مانگ رہا ہے ، جب مانگنا ہی ہے تو لوگوں سے کیوں مانگتے ہو ؟ اپنے رب سے مانگو ، التجا کرنی ہے تو مدینے والے مصطفیٰ سے کیجئے۔
کسی کا احسان کیوں اٹھائیں کسی کو حالات کیوں بتائیں
تمہیں سے مانگیں گے تم ہی دو گئے تمہارے در سے ہی لو لگی ہے
غوث پاک فرماتے ہیں: اچانک وہ نوجوان میری طرف دیکھنے لگا اور کھانا لا کر میرے سامنے رکھ دیا، میں نے کھانے سے انکار کیا اُس نے اصرار کیا کہ تھوڑا سا کھا لیجئے ، میرے نفس نے کھانے پر بہت اُبھارا مگر میں نے انکار ہی کیا جب نوجوان کا بہت اصرار بڑھا تو میں نے چند نوالے کھائے، نوجوان نے مجھ سے پوچھا آپ کہاں کے رہنے والے ہیں ؟ میں نے کہا: میں جیلان کا رہنے والا ہوں ، نوجوان نے فوراً کہا: میں بھی جیلان کا رہنے والا ہوں ، نوجوان نے جلدی سے کہا : کیا آپ جیلان سے تعلق رکھنے والے عبد القادر نامی کسی نوجوان کو جانتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ میں ہی ہوں۔ یہ سن کر وہ بے چین ہو گیا اور مجھ سے معذرت کرتے ہوئے کہنے لگا کہ آپ کی والدہ محترمہ نے میرے ہاتھ آپ کے لئے آٹھ (8) دینار بھیجے تھے ، جب میں بغداد آیا تھا، اس وقت میرے پاس اپنا ذاتی خرچ موجود تھا، لیکن آپ کو تلاش کرتے اتنے دن گزر گئے کہ میرے پاس میرا ذاتی خرچ ختم ہو گیا ، مجھے فاقہ کرتے ہوئے آج تیسرا دن تھا، مجبور ہو کر آپ کی امانت میں سے کھانا لایا ہوں ، حضور اب آپ میرے مہمان نہیں ہیں۔ یہ پیسے بھی آپ کے ، یہ کھانا بھی آپ کا بلکہ میں آپ کا مہمان ہوں، حضور معاف بھی کر دیجئے اور آئیے مل کر کھا لیجئے۔ اس نوجوان نے غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کو بقیہ رقم بھی پیش کی ، معافی بھی مانگی۔ حضور غوث اعظم فرماتے ہیں: میں نے مانگ کر نہیں کھایا اور جو کھا یا وہ بھی میرے ہی پیسوں کا تھا پھر میں نے اس نوجوان کو تسلی دی اور اس بات پر اپنی رضامندی ظاہر کی، جب ہم کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو میں نے بقیہ کھانا اور کچھ مال دے کر اُسے رُخصت کیا۔ ( قلائد الجواہر ، صفحہ: 9,10 بحوالہ ، فیضان غوث اعظم)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
پیارے اسلامی بھائیو! حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمارے لیے علم، عبادت، صبر، توبہ اور ایثار کا درس ہے۔ اگر ہم واقعی آپ سے محبت کرتے ہیں تو آپ کی تعلیمات پر عمل بھی کریں، خصوصاً نماز کی پابندی کریں اور گناہوں سے بچیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبت کے ساتھ نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
از قلم: محمد توقیر رضا اشرفی
جماعت: سابعہ (فاضل اول)
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
پورنیہ (بہار)
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Tauqeer Raza Ashrafi

Student - Sabea | Jamiatur Raza
56
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 4
Kalam 0
Tauqeer Raza Ashrafi
زمرہ جات

سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۴)

کبھی کبھی خاموشی بھی بولتی ہے(صدیوں کے جھروکوں سے)

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 45

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 98 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 81 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 63 | Poetry: 60
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 36 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

8 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
45
زمرجات
ادبیات 79
شخصیات اسلاف واخلاف 53
اصلاح معاشرہ 47
تحقیق و تعاقب 34
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 22
سیرت النبی ﷺ 22
تاثرات 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
رد دیوبندیت ووہابیت 12
متفرقات 12
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 9
رد بدمذہباں 6
عبادات 5
رضویات 5
ترغیبات 5
تاریخی حقائق 4
حکایات 4
فقہ، اصول فقہ 4
مبارک شب وروز 4
حدیث واہمیت حدیث 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
اوراد و وظائف 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
ماہ و سال 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢