صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
دین کے لیے زہرِ قاتل؟
احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

✍️ Mohd Qasim ul Qadri Markazi

دین کے لیے زہرِ قاتل ؟
مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہوا، شام وسحر کے مطابق منظم قانون عطا کرتا ہے۔ یہ خالص اعتقاد اور آستھا پر ٹکا ہوا دین نہیں بلکہ عقلی دلائل و براہین اس کا اہم ترین رکن ہیں۔دین ہمیشہ غالب رہا ہے اور رہے گا‌۔ اللہ رب العزت نے اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے تو کبھی اپنے متبعین سے کام لیتا ہے اور حق کو واضح کرتا ہے کبھی منکرین سے بھی۔
لیکن اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ باطل کی تعریف و توصیف مدح و ستائش کی جائے۔ اس کے قصیدے گائے جائیں اس کے کارنامے گنائے جائیں۔ بھولی بھالی عوام کو انکا تابع دار اور فالور بنایا جائے۔ اور کفر و گمرہی کے تاریک گڈھے میں دھکیلا جائے۔
آج کچھ علماء کو دیکھا جا رہا ہے بلا کسی فکر و تأمل کے قصیدے پڑھے جا رہے ہیں۔ غیر ضروری تحریر و تصاویر کو نشر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ نہ انہیں یہ خبر کہ اس سے عوام پر کیا اثر پڑے گا نہ یہ فکر کہ ان کے ایمان میں تذبذب پیدا ہوگا۔ دل میں باطل سے محبت و انسیت کا شوق پیدا ہوگا۔ وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ(113)
ترجمۂ کنز الایمان اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حما یتی نہیں پھر مدد نہ پاؤ گے۔
صد افسوس! قرآن نے جن کی پرچھائیوں سے دور رہنے کا حکم دیا ہم انکو سروں پر بٹھائے جا رہے ہیں۔
وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖؕ-وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(68)
_ ترجمۂ کنز الایمان : اور اے سننے والے جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لے جب تک اور بات میں پڑیں اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔

پوچھیے ایسا کیوں؟

تو جواب ملتا ہے اگر چہ باطل نظریات رکھتا ہے لیکن ایک منٹ کو مان لیجیے بہت اچھا بولتا ہے۔ بڑے مضبوط استدلال کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ ۔ہم کیوں ایک منٹ کو مان لیں۔ کیا آپ اپنی جان کو ایک منٹ کے لیے جسم سے جدا کرنے کو مان سکتے ہیں۔ نہیں! تو پھر ہم گستاخ و باطل کو ایک منٹ کیسے مان لیں۔✳️بعض کا کہنا یہ کہ ہم ان سے اچھی چیزیں لے لیتے ہیں، طرز استدلال سیکھتے ہیں۔ بولنے کا ہنر سیکھتے ہیں۔ جواب دینے کا سلیقہ اخذ کرتے ہیں۔ارے اللہ کے بندے! اب تم کو لعل و گہر کچرے سے ہی حاصل ہونے لگے۔ تمہارے پاس خود جو خزانے موجود ہیں ان میں کب تلاش کرو گے۔ یا صرف اپنی بے مائیگی کو بڑوں کے دامن کا داغ بناتے رہو گے۔ اور یتیمیت کا رونا روتے رہو گے کہ ہمارے پاس کون ہے؟ اتنا قابل کوئی ہے ہی نہیں۔
الحمدللہ الکریم ہماری جماعت میں بہت سے قابل لوگ ہیں۔
لیکن اگر بالفرض فرض مان بھی لیا جائے کہ تمہاری حیثیت اور قد کا کوئی نہیں مل رہا ہے تو تم خود اس قابل بنو نہ۔ اس پر یہ مت کہہ دینا کہ اسی لیے تو انکو دیکھتے سنتے ہیں تاکہ سیکھیں۔اس حوالے سے صراط الجنان میں فتاوی رضویہ شریف سے جو نقل کیا گیا منصف مزاج کے لیے کافی ہے۔ ملاحضہ ہو! "یاد رہے کہ بد مذہبوں کی محفل میں جانا اور ان کی تقریر سننا ناجائز و حرام اور اپنے آپ کو بدمذہبی و گمراہی پر پیش کرنے والا کام ہے۔ ان کی تقاریر آیاتِ قرآنیہ پر مشتمل ہوں خواہ احادیثِ مبارَکہ پر، اچھی باتیں چننے کا زعم رکھ کر بھی انہیں سننا ہر گز جائز نہیں۔ عین ممکن بلکہ اکثر طور پر واقع ہے کہ گمراہ شخص اپنی تقریر میں قرآن و حدیث کی شرح ووضاحت کی آڑ میں ضرور کچھ باتیں اپنی بد مذہبی کی بھی ملا دیا کرتے ہیں ، اور قوی خدشہ بلکہ وقوع کا مشاہدہ ہے کہ وہ باتیں تقریر سننے والے کے ذہن میں راسخ ہو کر دل میں گھر کر جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گمراہ و بے دین کی تقریر و گفتگو سننے والا عموماً خود بھی گمراہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے اسلاف اپنے ایمان کے بارے میں بے حد محتاط ہوا کرتے تھے ،لہٰذا باوجودیہ کہ وہ عقیدے میں انتہائی مُتَصَلِّب و پختہ ہوتے پھر بھی وہ کسی بدمذہب کی بات سننا ہر گز گوارا نہ فرماتے تھے اگرچہ وہ سو بار یقین دہانی کراتا کہ میں صرف قرآن و حدیث بیان کروں گا۔
چنانچہ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس بارے میں اسلاف کا عمل نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’سیدنا سعید بن جبیر شاگردِ عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو راستہ میں ایک بد مذہب ملا۔ کہا، کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا، میں سننا نہیں چاہتا۔ عرض کی ایک کلمہ۔ اپنا انگوٹھا چھنگلیا کے سرے پر رکھ کر فرمایا، وَ لَا نِصْفَ کَلِمَۃٍ آدھا لفظ بھی نہیں۔ لوگوں نے عرض کی اس کا کیا سبب ہے۔ فرمایا، یہ ان میں سے ہے یعنی گمراہوں میں سے ہے۔
امام محمد بن سیرین شاگردِ انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس دو بد مذہب آئے۔ عرض کی، کچھ آیاتِ کلام اللہ آپ کو سنائیں ! فرمایا، میں سننا نہیں چاہتا۔ عرض کی کچھ احادیثِ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سنائیں ! فرمایا، میں سننا نہیں چاہتا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ فرمایا، تم دونوں اٹھ جاؤ یا میں اٹھا جاتا ہوں۔ آخر وہ خائب و خاسر چلے گئے۔ لوگوں نے عرض کی: اے امام! آپ کا کیا حرج تھا اگر وہ کچھ آیتیں یا حدیثیں سناتے؟ فرمایا، میں نے خوف کیا کہ وہ آیات و احادیث کے ساتھ اپنی کچھ تاویل لگائیں اور وہ میرے دل میں رہ جائے تو ہلاک ہو جاؤں۔
پھر فرمایا ’’ائمہ کو تو یہ خوف اور اب عوام کو یہ جرأت ہے، وَلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہْ۔ دیکھو! امان کی راہ وہی ہے جو تمہیں تمہارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بتائی،اِیَّاکُمْ وَ اِیَّا ھُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا یَفْتِنُوْنَکُمْان (بدمذہبوں ) سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں ، کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ دیکھو! نجات کی راہ وہی ہے جو تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے بتائی،
فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(انعام: ۶۸)
یاد آئے پر پاس نہ بیٹھ ظالموں کے۔
بھولے سے ان میں سے کسی کے پاس بیٹھ گئے ہو تو یاد آنے پر فوراً کھڑے ہو جاؤ۔(فتاویٰ رضویہ، ۱۵ / ۱۰۶ ، ۱۰۷ ملخصاً)"
لا تجالسوھم، ولا تشاربوھم، ولا تؤاکلوھم ولا تناکحوھم یعنی بدمذہبوں کے پاس نہ بیٹھو، ان کے ساتھ پانی نہ پیو، نہ کھانا کھاؤ، ان سے شادی بیاہ نہ کرو۔ بڑے بڑے اپنے وقت کے ایمان و اعتقاد میں مضبوط جب بد مذہبوں کو منھ نہیں لگاتے تھے‌۔ ایک حرف ان سے سننا برداشت نہیں کرتے تھے۔ تو ہمیں کیا کرنا چاہئے! لیکن افسوس آج ہمارا حال یہ کہ ہم اپنوں سے زیادہ انکو سن رہے ہیں۔ ہمیں سارا علم و ہنر انہیں میں نظر آ رہا ہے جو کچھ ملنا ہے بس انہیں سے ملنا ہے اپنے پاس کچھ رہ ہی نہیں گیا۔
سوشل میڈیا پر بدمذہبوں کو سننا ان کے ساتھ بیٹھنے کے مترادف ہے۔

اعلی حضرت کی ملفوظ شریف سے چند اقتباسات:

عرض: اکثر لوگ بدمذہبوں کے پاس جان بوجھ کر بیٹھتے ہیں۔ ان کا کیا حکم ہے۔ارشاد: حرام اور بد مذہب ہو جانے کا اندیشہ کامل، اور دوستانہ ہو تو دین کے لیے زہرِ قاتل۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انہیں اپنے سے دور کرو اور ان سے دور بھاگو وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈالیں۔اور اپنے نفس پر اعتماد کرنے والا بڑے کذاب پر اعتماد کرتا ہے ۔ انھا اکذب شئ اذا حلفت فکیف اذا وعدت نفس اگر کوئی بات قسم کھا کر کہے تو سب سے بڑھ کر جھوٹا ہے نہ کہ جب خالی وعدہ کرے۔
صحیح حدیث میں فرمایا: دجال نکلے گا، کچھ اسے تماشے کے طور پر دیکھنے جائیں گے کہ ہم تو اپنے دین پر مستقیم ہیں، ہمیں اس سے کیا نقصان ہوگا؟ وہاں جا کر ویسے ہو جائیں گے۔ (ملفوظ شریف ص ٢٧٧)
بد مذہبوں کی پوسٹیں شیئر کرنا انکی اعانت ہے۔ پھر اس کا کیا حکم کہ شیئر کرنا اور لوگوں کو دیکھنے کی دعوت بھی دینا؟بھڑ (مکھی) کے کاٹنے سے ایک ذرا سی تکلیف ہوتی ہے۔ اگر کہیں اسے زمین پر پڑا دیکھیں کہ اس کا ایک پاؤں یا پر بیکار ہو گیا ہے اور اس میں طاقتِ پرواز نہیں ہے تو اس پر رحم کیا جاتا ہے یا کہ پیر سے مسل دیتے ہیں تو خدا اور رسول ﷺ کی شان میں گستاخیاں کریں اور ان سے دشمنی و عداوت وہ قابلِ رحم ہیں؟ عوام کی یہ حالت ہے کہ ذرا کسی کو ننگا محتاج دیکھا سمجھے کہ قابل رحم ہے، خواہ خدا اور رسول کا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ حضرت سیدی عبد العزیز دباغ فرماتے ہیں ذرا سی اعانت کافر کی کرنی حتی کہ اگر وہ راستہ پوچھے اور کوئی مسلمان بتا دے اتنی بات اللہ تعالیٰ سے اس کا علاقہ قبولیت قطع کر دیتی ہے۔(ملفوظ شریف ص ١٦٦)
آخر میں اس چشم کشا اقتباس کو دیکھیں امام کیا فرماتے ہیں۔
اکابر کی حالت تو یہ اور اب یہ حالت ہے کہ جاہل سا جاہل چٹا پڑتا ہے آریوں سے وہابیوں سے اور کچھ خوف نہیں کرتا۔ جو تمام فنون کا ماہر ہو، تمام پیچ جانتا، پوری طاقت رکھتا ہو، تمام ہتھیار پاس ہوں اس کو بھی کیا ضرور کہ خواہ مخواہ بھیڑیوں کے جنگل میں جائے، ہاں اگر ضرورت ہی آ پڑے تو مجبوری۔ اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے ان ہتھیاروں سے کام لے۔ (ملفوظ شریف ص ٤٣٤)
خود کو نہیں! بس اپنوں کو کوسنے والے نا شکروں کو یہ اقتباس بار بار پڑھنا چاہیے۔ ذرا دیکھیں تو سہی جن کے سینوں میں علم کا بحر ذخار ہوتا تھا، ہمہ جہت ہوا کرتے تھے وہ بھی کس قدر احتیاط سے کام لیا کرتے تھے، اور بے ضرورت محث و مباحثہ سے کس قدر بچتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ہم بحث میں خود سے پڑیں گے تو باطل تو شکست کھائے گا ہی، لیکن اس کے پیچھے کتنے فتنے اٹھیں گے۔ عوام کا ایمان کس قدر خطرے میں پڑ جائے گا۔ اشکالات و خرافات کا دروازہ کھلے گا۔ وغیر ذلکاور یہ کہنا کہ ہمارے پاس کوئی نہیں۔ ہم میں کون ہے؟ کسی کی کوئی تیاری نہیں ہے۔ سنجیدہ لوگ ہم میں نہیں پائے جاتے۔ یہ تو ایسے ہی سورج دیکھتے ہوئے کہنا دن ہے ہی نہیں۔ پھر تو اپنی نظروں کا قصور ہے۔ہمارے پاس بھی سنجیدہ لوگ ہیں، جامع معقولات و معقولات بھی ہیں، عصریات و پورپیات پر گہری نظر رکھنے والے بھی موجود ہیں لیکن اگر ہماری کوتاہ نظر کسی بد دین، بے دین کو ہی تلاش کرے یا اس پر ٹھہر جائے تو اس میں نظر کا قصور ہے، اپنا قصور ہے۔ آپ صرف ایک مناظرہ کو لائیو دیکھ کر سمجھ گیے کہ اہلسنت و جماعت میں کوئی نہیں ہے۔ گویہ آپ نے سب کو اپنی ہی طرح سمجھ لیا ہے۔
اپیل: اہل علم اور معزز حضرات کی بارگاہ میں درد مندانہ گزارش ہے آپ زہر قاتل کو آب شیر نہ سمجھیں، اور عوام میں بالکل نشر نہ کریں۔ عوام کالانعام، کون سی چیز انکو بھا جائے دل میں اتر جائے معلوم نہیں۔ اتنا ضرور خیال رکھیں کہ آپ عوام کے مقتدا ہیں، آپ جسے تل سمجھ کر شیئر کریں گے عوام اس تل کا پہاڑ سمجھے گی کہ ہمارے مولانا صاحب نے شیئر کیا ہے تو اچھی ہی چیز ہوگی۔ اور پھر خدا ہی ملا نہ وصال صنم ۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ رب العزت حامی و ناصر ہو۔ایمان کے ساتھ خاتمہ بالخیر فرمائے۔آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
رشحات قلم: محمد قاسم القادری گھوسوی

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

مضمون نگار: Mohd Qasim ul Qadri Markazi

دین کے لیے زہرِ قاتل ؟
مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہوا، شام وسحر کے مطابق منظم قانون عطا کرتا ہے۔ یہ خالص اعتقاد اور آستھا پر ٹکا ہوا دین نہیں بلکہ عقلی دلائل و براہین اس کا اہم ترین رکن ہیں۔دین ہمیشہ غالب رہا ہے اور رہے گا‌۔ اللہ رب العزت نے اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے تو کبھی اپنے متبعین سے کام لیتا ہے اور حق کو واضح کرتا ہے کبھی منکرین سے بھی۔
لیکن اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ باطل کی تعریف و توصیف مدح و ستائش کی جائے۔ اس کے قصیدے گائے جائیں اس کے کارنامے گنائے جائیں۔ بھولی بھالی عوام کو انکا تابع دار اور فالور بنایا جائے۔ اور کفر و گمرہی کے تاریک گڈھے میں دھکیلا جائے۔
آج کچھ علماء کو دیکھا جا رہا ہے بلا کسی فکر و تأمل کے قصیدے پڑھے جا رہے ہیں۔ غیر ضروری تحریر و تصاویر کو نشر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ نہ انہیں یہ خبر کہ اس سے عوام پر کیا اثر پڑے گا نہ یہ فکر کہ ان کے ایمان میں تذبذب پیدا ہوگا۔ دل میں باطل سے محبت و انسیت کا شوق پیدا ہوگا۔ وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ(113)
ترجمۂ کنز الایمان اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حما یتی نہیں پھر مدد نہ پاؤ گے۔
صد افسوس! قرآن نے جن کی پرچھائیوں سے دور رہنے کا حکم دیا ہم انکو سروں پر بٹھائے جا رہے ہیں۔
وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖؕ-وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(68)
_ ترجمۂ کنز الایمان : اور اے سننے والے جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لے جب تک اور بات میں پڑیں اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔

پوچھیے ایسا کیوں؟

تو جواب ملتا ہے اگر چہ باطل نظریات رکھتا ہے لیکن ایک منٹ کو مان لیجیے بہت اچھا بولتا ہے۔ بڑے مضبوط استدلال کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ ۔ہم کیوں ایک منٹ کو مان لیں۔ کیا آپ اپنی جان کو ایک منٹ کے لیے جسم سے جدا کرنے کو مان سکتے ہیں۔ نہیں! تو پھر ہم گستاخ و باطل کو ایک منٹ کیسے مان لیں۔✳️بعض کا کہنا یہ کہ ہم ان سے اچھی چیزیں لے لیتے ہیں، طرز استدلال سیکھتے ہیں۔ بولنے کا ہنر سیکھتے ہیں۔ جواب دینے کا سلیقہ اخذ کرتے ہیں۔ارے اللہ کے بندے! اب تم کو لعل و گہر کچرے سے ہی حاصل ہونے لگے۔ تمہارے پاس خود جو خزانے موجود ہیں ان میں کب تلاش کرو گے۔ یا صرف اپنی بے مائیگی کو بڑوں کے دامن کا داغ بناتے رہو گے۔ اور یتیمیت کا رونا روتے رہو گے کہ ہمارے پاس کون ہے؟ اتنا قابل کوئی ہے ہی نہیں۔
الحمدللہ الکریم ہماری جماعت میں بہت سے قابل لوگ ہیں۔
لیکن اگر بالفرض فرض مان بھی لیا جائے کہ تمہاری حیثیت اور قد کا کوئی نہیں مل رہا ہے تو تم خود اس قابل بنو نہ۔ اس پر یہ مت کہہ دینا کہ اسی لیے تو انکو دیکھتے سنتے ہیں تاکہ سیکھیں۔اس حوالے سے صراط الجنان میں فتاوی رضویہ شریف سے جو نقل کیا گیا منصف مزاج کے لیے کافی ہے۔ ملاحضہ ہو! "یاد رہے کہ بد مذہبوں کی محفل میں جانا اور ان کی تقریر سننا ناجائز و حرام اور اپنے آپ کو بدمذہبی و گمراہی پر پیش کرنے والا کام ہے۔ ان کی تقاریر آیاتِ قرآنیہ پر مشتمل ہوں خواہ احادیثِ مبارَکہ پر، اچھی باتیں چننے کا زعم رکھ کر بھی انہیں سننا ہر گز جائز نہیں۔ عین ممکن بلکہ اکثر طور پر واقع ہے کہ گمراہ شخص اپنی تقریر میں قرآن و حدیث کی شرح ووضاحت کی آڑ میں ضرور کچھ باتیں اپنی بد مذہبی کی بھی ملا دیا کرتے ہیں ، اور قوی خدشہ بلکہ وقوع کا مشاہدہ ہے کہ وہ باتیں تقریر سننے والے کے ذہن میں راسخ ہو کر دل میں گھر کر جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گمراہ و بے دین کی تقریر و گفتگو سننے والا عموماً خود بھی گمراہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے اسلاف اپنے ایمان کے بارے میں بے حد محتاط ہوا کرتے تھے ،لہٰذا باوجودیہ کہ وہ عقیدے میں انتہائی مُتَصَلِّب و پختہ ہوتے پھر بھی وہ کسی بدمذہب کی بات سننا ہر گز گوارا نہ فرماتے تھے اگرچہ وہ سو بار یقین دہانی کراتا کہ میں صرف قرآن و حدیث بیان کروں گا۔
چنانچہ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس بارے میں اسلاف کا عمل نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’سیدنا سعید بن جبیر شاگردِ عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو راستہ میں ایک بد مذہب ملا۔ کہا، کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا، میں سننا نہیں چاہتا۔ عرض کی ایک کلمہ۔ اپنا انگوٹھا چھنگلیا کے سرے پر رکھ کر فرمایا، وَ لَا نِصْفَ کَلِمَۃٍ آدھا لفظ بھی نہیں۔ لوگوں نے عرض کی اس کا کیا سبب ہے۔ فرمایا، یہ ان میں سے ہے یعنی گمراہوں میں سے ہے۔
امام محمد بن سیرین شاگردِ انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس دو بد مذہب آئے۔ عرض کی، کچھ آیاتِ کلام اللہ آپ کو سنائیں ! فرمایا، میں سننا نہیں چاہتا۔ عرض کی کچھ احادیثِ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سنائیں ! فرمایا، میں سننا نہیں چاہتا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ فرمایا، تم دونوں اٹھ جاؤ یا میں اٹھا جاتا ہوں۔ آخر وہ خائب و خاسر چلے گئے۔ لوگوں نے عرض کی: اے امام! آپ کا کیا حرج تھا اگر وہ کچھ آیتیں یا حدیثیں سناتے؟ فرمایا، میں نے خوف کیا کہ وہ آیات و احادیث کے ساتھ اپنی کچھ تاویل لگائیں اور وہ میرے دل میں رہ جائے تو ہلاک ہو جاؤں۔
پھر فرمایا ’’ائمہ کو تو یہ خوف اور اب عوام کو یہ جرأت ہے، وَلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہْ۔ دیکھو! امان کی راہ وہی ہے جو تمہیں تمہارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بتائی،اِیَّاکُمْ وَ اِیَّا ھُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا یَفْتِنُوْنَکُمْان (بدمذہبوں ) سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں ، کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ دیکھو! نجات کی راہ وہی ہے جو تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے بتائی،
فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(انعام: ۶۸)
یاد آئے پر پاس نہ بیٹھ ظالموں کے۔
بھولے سے ان میں سے کسی کے پاس بیٹھ گئے ہو تو یاد آنے پر فوراً کھڑے ہو جاؤ۔(فتاویٰ رضویہ، ۱۵ / ۱۰۶ ، ۱۰۷ ملخصاً)"
لا تجالسوھم، ولا تشاربوھم، ولا تؤاکلوھم ولا تناکحوھم یعنی بدمذہبوں کے پاس نہ بیٹھو، ان کے ساتھ پانی نہ پیو، نہ کھانا کھاؤ، ان سے شادی بیاہ نہ کرو۔ بڑے بڑے اپنے وقت کے ایمان و اعتقاد میں مضبوط جب بد مذہبوں کو منھ نہیں لگاتے تھے‌۔ ایک حرف ان سے سننا برداشت نہیں کرتے تھے۔ تو ہمیں کیا کرنا چاہئے! لیکن افسوس آج ہمارا حال یہ کہ ہم اپنوں سے زیادہ انکو سن رہے ہیں۔ ہمیں سارا علم و ہنر انہیں میں نظر آ رہا ہے جو کچھ ملنا ہے بس انہیں سے ملنا ہے اپنے پاس کچھ رہ ہی نہیں گیا۔
سوشل میڈیا پر بدمذہبوں کو سننا ان کے ساتھ بیٹھنے کے مترادف ہے۔

اعلی حضرت کی ملفوظ شریف سے چند اقتباسات:

عرض: اکثر لوگ بدمذہبوں کے پاس جان بوجھ کر بیٹھتے ہیں۔ ان کا کیا حکم ہے۔ارشاد: حرام اور بد مذہب ہو جانے کا اندیشہ کامل، اور دوستانہ ہو تو دین کے لیے زہرِ قاتل۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انہیں اپنے سے دور کرو اور ان سے دور بھاگو وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈالیں۔اور اپنے نفس پر اعتماد کرنے والا بڑے کذاب پر اعتماد کرتا ہے ۔ انھا اکذب شئ اذا حلفت فکیف اذا وعدت نفس اگر کوئی بات قسم کھا کر کہے تو سب سے بڑھ کر جھوٹا ہے نہ کہ جب خالی وعدہ کرے۔
صحیح حدیث میں فرمایا: دجال نکلے گا، کچھ اسے تماشے کے طور پر دیکھنے جائیں گے کہ ہم تو اپنے دین پر مستقیم ہیں، ہمیں اس سے کیا نقصان ہوگا؟ وہاں جا کر ویسے ہو جائیں گے۔ (ملفوظ شریف ص ٢٧٧)
بد مذہبوں کی پوسٹیں شیئر کرنا انکی اعانت ہے۔ پھر اس کا کیا حکم کہ شیئر کرنا اور لوگوں کو دیکھنے کی دعوت بھی دینا؟بھڑ (مکھی) کے کاٹنے سے ایک ذرا سی تکلیف ہوتی ہے۔ اگر کہیں اسے زمین پر پڑا دیکھیں کہ اس کا ایک پاؤں یا پر بیکار ہو گیا ہے اور اس میں طاقتِ پرواز نہیں ہے تو اس پر رحم کیا جاتا ہے یا کہ پیر سے مسل دیتے ہیں تو خدا اور رسول ﷺ کی شان میں گستاخیاں کریں اور ان سے دشمنی و عداوت وہ قابلِ رحم ہیں؟ عوام کی یہ حالت ہے کہ ذرا کسی کو ننگا محتاج دیکھا سمجھے کہ قابل رحم ہے، خواہ خدا اور رسول کا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ حضرت سیدی عبد العزیز دباغ فرماتے ہیں ذرا سی اعانت کافر کی کرنی حتی کہ اگر وہ راستہ پوچھے اور کوئی مسلمان بتا دے اتنی بات اللہ تعالیٰ سے اس کا علاقہ قبولیت قطع کر دیتی ہے۔(ملفوظ شریف ص ١٦٦)
آخر میں اس چشم کشا اقتباس کو دیکھیں امام کیا فرماتے ہیں۔
اکابر کی حالت تو یہ اور اب یہ حالت ہے کہ جاہل سا جاہل چٹا پڑتا ہے آریوں سے وہابیوں سے اور کچھ خوف نہیں کرتا۔ جو تمام فنون کا ماہر ہو، تمام پیچ جانتا، پوری طاقت رکھتا ہو، تمام ہتھیار پاس ہوں اس کو بھی کیا ضرور کہ خواہ مخواہ بھیڑیوں کے جنگل میں جائے، ہاں اگر ضرورت ہی آ پڑے تو مجبوری۔ اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے ان ہتھیاروں سے کام لے۔ (ملفوظ شریف ص ٤٣٤)
خود کو نہیں! بس اپنوں کو کوسنے والے نا شکروں کو یہ اقتباس بار بار پڑھنا چاہیے۔ ذرا دیکھیں تو سہی جن کے سینوں میں علم کا بحر ذخار ہوتا تھا، ہمہ جہت ہوا کرتے تھے وہ بھی کس قدر احتیاط سے کام لیا کرتے تھے، اور بے ضرورت محث و مباحثہ سے کس قدر بچتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ہم بحث میں خود سے پڑیں گے تو باطل تو شکست کھائے گا ہی، لیکن اس کے پیچھے کتنے فتنے اٹھیں گے۔ عوام کا ایمان کس قدر خطرے میں پڑ جائے گا۔ اشکالات و خرافات کا دروازہ کھلے گا۔ وغیر ذلکاور یہ کہنا کہ ہمارے پاس کوئی نہیں۔ ہم میں کون ہے؟ کسی کی کوئی تیاری نہیں ہے۔ سنجیدہ لوگ ہم میں نہیں پائے جاتے۔ یہ تو ایسے ہی سورج دیکھتے ہوئے کہنا دن ہے ہی نہیں۔ پھر تو اپنی نظروں کا قصور ہے۔ہمارے پاس بھی سنجیدہ لوگ ہیں، جامع معقولات و معقولات بھی ہیں، عصریات و پورپیات پر گہری نظر رکھنے والے بھی موجود ہیں لیکن اگر ہماری کوتاہ نظر کسی بد دین، بے دین کو ہی تلاش کرے یا اس پر ٹھہر جائے تو اس میں نظر کا قصور ہے، اپنا قصور ہے۔ آپ صرف ایک مناظرہ کو لائیو دیکھ کر سمجھ گیے کہ اہلسنت و جماعت میں کوئی نہیں ہے۔ گویہ آپ نے سب کو اپنی ہی طرح سمجھ لیا ہے۔
اپیل: اہل علم اور معزز حضرات کی بارگاہ میں درد مندانہ گزارش ہے آپ زہر قاتل کو آب شیر نہ سمجھیں، اور عوام میں بالکل نشر نہ کریں۔ عوام کالانعام، کون سی چیز انکو بھا جائے دل میں اتر جائے معلوم نہیں۔ اتنا ضرور خیال رکھیں کہ آپ عوام کے مقتدا ہیں، آپ جسے تل سمجھ کر شیئر کریں گے عوام اس تل کا پہاڑ سمجھے گی کہ ہمارے مولانا صاحب نے شیئر کیا ہے تو اچھی ہی چیز ہوگی۔ اور پھر خدا ہی ملا نہ وصال صنم ۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ رب العزت حامی و ناصر ہو۔ایمان کے ساتھ خاتمہ بالخیر فرمائے۔آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
رشحات قلم: محمد قاسم القادری گھوسوی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

Graduate - 2025 | Jamiatur Raza
61
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 8
Kalam 0
Mohd Qasim ul Qadri Markazi
زمرہ جات

اطلبوا العلم و لو بالصين

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢