صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
اصول تکفیر اور تحقیقات امام احمد رضا خان
عقائد و نظریات

اصول تکفیر اور تحقیقات امام احمد رضا خان

✍️ Mohammad Faizan Raza Khan Markazi

اصول تکفیر اور تحقیقات امام احمد رضا خان
اسلام کفر و ضلالت، گمراہی و لادینیت کا قلعہ قمع کرنے اور قلوب و اذہان کو نور ایمان سے منور و متجلی کرنے آیا ہے، جس کی ہدایت سے انسان‌ معرفتِ الٰہی حاصل کرتا ہے اور قوانینون و فرامین پر عمل کر کے خالق کائنات کا مطیع و فرمانبردار بنتا ہے۔ جب انسان ما جاء بہ الرسول کی تصدیق و اقرار کرلیتا ہے، تو وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے اور فضائل و مناقب، انعام و اعجاز کا مستحق بن جاتا ہے۔ لیکن جب وہ ضروریات دین کا انکار کرتا ہے یا شعار کفار کا مرتکب اور اسالیب مرتدین کو اپناتا ہے تو خارج از اسلام ہوجاتا ہے۔
ان امور کا تعلق علم کلام سے ہے جس میں باب تکفیر ایک معرکۃ الاراء، مغلق، دقیق اور عسیر الفہم باب ہے، اور کسی کی تکفیر نہایت دشوار، مشکل، کٹھن اور امر پر خطر، غایت دانائی، حد درجہ حزم و احتیاط اور پھونک پھونک کر قدم رکھنے کا متقاضی ہے۔ کیونکہ تکفیر کا تعلق امور سمعیہ شرعیہ سے ہے، اور اس میں عقل و وجدان، ادراک و شعور اور فہم و فراست، ہواے نفس، بغض و حسد، خصومت و معاندت، مخاصمت و مخالفت، نفرت و عداوت، مذہبی تعصب اور قرابت و رفاقت کو قطعی دخل نہیں ہے۔
چناچہ سید عالم صلیٰ اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : اذا قال الرجل لاخیہ یا کافر فقد باء بہ احدھما (بخاری شریف , باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل فھو کما قال )
حضرت علامہ بدر الدین عینی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : لانہ ان کان صادقا فی نفس الامر فالمقول لہ کافر ، وان کان کاذبا فالقائل کافر ، لانہ حکم بکون المؤمن کافرًا او الایمان کفرًا (عمدہ القاری شرح بخاری ج ٢٢ ،ص ١٥٧ بیروت)
واضح طور پر مضمون اس پر دلالت کر رہا ہے کہ اگر بے احتیاطی و عدم توجہی اور غفلت میں کسی پر حکم کفر جڑ دیا، پس اگر مقول لہ ایسا ہی ہے فبہا، ورنہ قائل خود اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا، پس حکم کفر کرنا نہایت پر خطر ہے۔ اس لیے کسی کو کافر کہنے اور خارج از اسلام سے ملقب کرنے کے لیے، اس کے کفر کا جلی و روشن، واضح و آشکار ہونا نہایت ضروری ہے۔
چنانچہ امام اہل سنت اعلی حضرت فرماتے ہیں : کسی مسلمان کی تکفیر ایک امر عظیم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے کسی بھی کلمہ گو کی تکفیر سے منع فرمایا ہے۔ جب تک وجہ کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوجاے، اور حکم اسلام کے لیے کوئی ضعیف سے ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے۔ (فتاوی رضویہ کامل ١٨/٣٢٠ )

کفر کے اقسام :

جب انسان کے عقل و خرد اور فہم و فراست پر شیطان قابض ہوجاتا ہے تو اس کے اقوال و افعال، کردار و گفتار خلاف شرع ہونے لگتے ہیں اور وہ کچھ بھی بکنے لگتا ہے، اسے نہ تو خدا کا خوف ہوتا ہے اور نہ رسول اللہ ﷺ کا ڈر۔
پس معلوم ہوا کفر کی دو قسمیں ہیں : بالقول و بالفعل:-
کفر بالقول : زبان سے ضروریات دین کا انکار و تکذیب کرنا ہے
کفر بالفعل : ایسا کام کرنا ہے جو شعار کفار یا تکذیب ضروریات پر علامت ہو۔
چنانچہ امام اہلسنت فرماتے ہیں :-
اگرچہ کفر تکذیب النبی ﷺ فی بعض ماجاء بہ من عند ربہ جل وعلا کا نام ہے اور تکذیب صفت قلب ہے، مگر جس طرح اقوال مکفرہ اس تکذیب پر علامت ہوتے اور ان کی بنا پر حکم کفر دیا جاتا ہے، یوں ہی بعض افعال بھی اس کی امارت اور حکم تکفیر کا باعث ہوتے ہیں ۔ کالقاء المصحف فی القاذورات، والسجود للصنم، وکشف العورت عند الاذان، وقرأت القرآن من جھہ الاستخفاف وغیرذالک، وکل مادل علی الاستہزاء بالشرع او الازدراء بہ ۔ (فتاوی رضویہ ج ٥ /١٠٢)
پھر یہ دونوں بھی دو طرح کے ہوتے ہیں :
(١) التزامی : جس کو کفر کلامی کہتے ہیں۔
(٢) لزومی : جس کو کفر فقہی کہتے ہیں۔
چنانچہ امام اہل سنت فرماتے ہیں :
التزامی : یہ کہ ضروریات دین میں سے کسی شئی کا تصریحا خلاف کرے، یہ قطعا اجماعا کفر ہے۔ اگرچہ نام کفر سے چِڑھے اور کمال اسلام کا دعویٰ کرے۔
لزومی : یہ کہ جو بات اس نے کہی عین کفر نہیں مگر منجر کفر ہوتی ہے، یعنی مآل سخن و لازم حکم کو ترتیب مقدمات و تتمیم تقریبات کرتے چلے تو انجام کار اس سے کسی ضروری دین کا انکار لازم آے۔ (فتاوی رضویہ کامل ٢٠/١٧٥)

صریح کے اقسام :

جب کوئی شخص کسی ایسے قول یا فعل کا مرتکب ہو جو صاف صاف اور واضح طور پر بغیر کسی احتمال کے معنی کفر پر دلالت کرے تو علماء متکلمین اور فقہاء دونوں کے نزدیک ایسا شخص کافر ہوتا ہے اور اس کے کفر و عذاب میں شک کرنے والا بھی کافر ہوتا ہے ۔
اور اگر کسی ایسے قول یا فعل کا مرتکب ہوا جو معنی کفر پر دلالت کرتا ہے، مگر اس میں احتمال غیر کا دخل ہے۔ تو یہ صرف عند الفقہاء کافر ہے۔ علماء متکلمین اس کو احتیاطا کافر نہیں کہتے ہیں۔ چنانچہ صریح کے متعلق جو باب کفر میں معتبر ہے۔

حضور مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :

صریح کی دو قسمیں ہیں :

صریح متعین : وہ لفظ ہے جو معنی کفر میں متعین ہو اور کوئی احتمال نہ رکھے۔ فی الکفر اتفاق العلماء من المتکلمین و الفقہاء علیہا۔
صریح متبین : وہ لفظ ہے جو معنی کفر پر دلالت کرے لیکن احتمال غیر بھی رکھتا ہو ۔ فی الکفر عند الفقہاء فقط " (ملخصا از موت الاحمر ص ٤٩ )

احتمال تیں طرح کا ہوتا ہے : فی الکلام ، فی التکلم ، فی المتکلم

ضروریات دین کسے کہتے ہیں :

ضروریات دین وہ شہرت یافتہ امور ہیں جو نصوص قرآنیہ واحادیث مشہورہ متواترہ اور اجماع امت مرحومہ مبارکہ سے ثابت ہیں، جن کو ہر عام و خاص جانتے ہیں۔ مثلاً خالق عالم کا ایک اور واجب الوجود ہونا، اس کی ذات وصفات میں کسی کا شریک نہ ہونا، ظلم و جفا اور جھوٹ و فریب وغیرہ تمام نقص و عیوب سے پاک ہونا، حضور سید المرسلین ﷺ کا خاتم النبیین بمعنی آپ کے بعد کسی نبی کا نہ آنا، رسول کریم ﷺ کی تعظیم کرنا، نماز، روزہ، حج وغیرہ کا فرض عین ہونا، وغیرہ ذالک۔
علامہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : قیل : الایمان ھو التصدیق بالقلب فقط ای قبول القلب و اذعانه لما علم بالضرورة انہ من دین محمد بحیث یعلمہ العامة و الخاصة من غیر افتقار الی نظر و استدلال ( المعتقد المنتقد ص ١٩٤)
امام اہل سنت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
فمن كذب بشيئ من ضروريات الدين طوعا كان كافرا عند الله تعالى أيضا وإن ادعى أن قلبه مطمئن بالاطمئنان .’’ المستند ‘‘
نیز فرماتے ہیں : غرض ضروریات دین کے سواء کسی شئ کا انکار کفر نہیں اگر چہ ثابت بالقواطع ہو، عند التحقیق آدمی کو اسلام سے خارج نہیں کرتا مگر انکار اس کا جس کی تصدیق نے اس کو دائرہ اسلام میں داخل کیا تھا، اور وہ نہیں مگر ضروریات دین کما حققہ العلماء المحققون من الآئمة المتکلمین ۔ ( فتاوی رضویہ کامل ٤/٥٤ )
مزید وضاحت کرتے ہوے فرماتے ہیں : مسائل تین قسم کے ہوتے ہیں:
ایک ضروریات دین : ان کا منکر بلکہ ان میں ادنی شک کرنے والا بالیقین کافر ہوتا ہے ایسا کہ جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔دوم ضروریات عقائد اہل سنت : ان کا منکر بدمذ ہب، گمراہ ہوتا ہے۔ سوم وہ مسائل کہ علماے اہل سنت میں مختلف فیہ ہوں : اُن میں کسی طرف تکفیر و تضلیل ممکن نہیں۔" (فتاوی رضویہ کامل: ۱۲۵۸/۱۸)

اہل قبلہ کی تکفیر:

اھل قبلہ سے مراد وہ بندۂ خدا ، مطیع مصطفی اور پیروکار صحابہ و اولیاء ہے جو اسلام کے تمام ضروری باتوں کی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرتا ہے۔ ہاں! معاذ اللہ اگر کوئی ابھاگا، قسمت کا‌ مارا، بد نصیب شخص کردار و گفتار سے ان کا انکار و تکذیب اور ابطال و تردید کرے تو یقینا وہ شحص کافر و مرتد ہوگا اور اس کے سارے اعمال و افعال، صدقات و خیرات برباد و بیکار ہوجائیں گے اور وہ دخیل نار وہم شریک کفار ہوگا ۔
چنانچہ شرح فقہ اکبر میں ہے :
فی المواقف : لا یکفر اهل القبلة الا فیما فیہ انکار ما علم مجیئہ بالضرورة او المجمع علیہ(منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر بیروت ص ٤٤٦)
اور امام اہلسنت فرماتے ہیں :
رابعاً: خود مسئلہ بدیہی ہے ، کیا جو شخص پانچ وقت قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہو؟ اور ایک وقت مہادیو کو سجدہ کرلیتا ہو، کسی عاقل کے نزدیک مسلمان ہوسکتا ہے۔ حالانکہ اللہ کو جھوٹا کہنا یا محمد رسول اللہ کی شان اقدس میں گستاخی کرنا، مہادیو کے سجدے سے کہیں بدتر ہے اگرچہ کفر ہونے میں برابر ہے۔ و ذالک ان الکفر بعضہ اخبث من بعض "۔ (تمہید ایمان ص ٥٨)

امام احمد رضا اور زمانے کے فتنہ باز :

یہ تمام اقتباسات کا خلاصہ یہ ہے کہ گندم نما جو فروش جب ضروریات دین کا انکار کریں تو ان کی تکفیر کی جاے گی اور حتما و یقینا ، قطعا و جزما کافر کہا جاے گا۔ حتی کہ اگر کوئی ان کے کفر میں شک کرے تو وہ بھی کافر ہوگا۔
اب ان اصول و ضوابط کی روشنی میں ذرا طواغیت اربعہ کی خبر لیجئے، جن لوگوں نے اپنے اقوال و افعال کردار و گفتار سے ساری امت کو ضلالت و گمرہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا تھا، پر احسان ہے اعلی حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ تبارک وتعالیٰ عنہ کا جنہوں نے ان کے کفر و ضلالت سے پردہ اٹھایا اور امت کو ان کے فتنوں سے آگاہ و خبردار کر کے ایمان و اعتقاد کی حفاظت و صیانت فرمائی ۔ چونکہ ان بد بختوں نے ضروریات دین کا انکار کیا تھا اس لیے امام اہلسنت رضی اللہ تعالی عنہ نے ان پر کفر کلامی کا فتوے دیا۔ جس پر علماے حرمین شریفین نے مہر تصدیق ضبط فرما کر مزید مضبوط و مستحکم بنا دیا۔

خاتم النبیین کے منکر :

خاتم النبیین کے قطعا یہی معنی ہیں کہ سب انبیا سے پچھلے اور آخری نبی یعنی ان کی بعثت کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا خود رسول اللہ صلی اللہ تبارک وتعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم نے خاتم النبیین کے یہی معنی بیان فرماۓ اور یہی معنی تمام مسلمانوں کے ذہن و اعتقاد میں ہے، اسی پر ساری امت کا اجماع ہے۔ دور رسالت سے لیکر اب تک تمام مسلمانوں نے خاتم النبیین کا یہی معنی سمجھا اور اس میں حضور اقدس صلی اللہ تبارک وتعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کی بڑی اعلی درجہ کی فضیلت ہے۔
چنانچہ حدیث پاک میں ہے آقاۓ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں : انا خاتم النبیین لا نبی بعدی (رواہ البخاری) اور خاتم النبیین کا یہ معنی ضروریات دین سے ہے۔لیکن دیوبندیوں کے سرخیل قاسم نانوتوی نے تحذیر الناسمیں لکھا :- بلکہ بالفرض آپ کے زمانہ میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے، بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ عوام کے خیال میں تو رسول اللہ کا خاتم ہونا باین معنی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن که تقدم و تاخر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں ۔
جس میں اس بد بخت نے حضور کی موجودگی میں دوسرے نبی کا ہونا جائز بتایا اور خاتم النبین کا معنی سب سے آخری نبی ہونے کو عوام و نادان کا خیال بتاکر ضروریات دین کا انکار کیا ۔
امام حجۃُ الاسلام غزالی قُدِّسَ سِرُّہ الْعَالی کتابُ الْاِقْتِصاد میں فرماتے ہیں : ان الأمۃ فھمت ھذا اللفظ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابداوعدم رسول بعدہ ابدا وانہ لیس فیہ تاویل ولاتخصیص ومن اولہ بتخصیص فکلامہ من انواع الھذیان لایمنع الحکم بتکفیرہ لانہ مکذب لھذا النص الذی اجمعت الامۃ علی انہ غیر مؤول ولامخصوص (الاقتصاد فی الاعتقاد ، بیان من یجب تکفیرہ من الفرق ، ص ١٣٧)
فتاوٰی یَتِیَمۃُ الدَّہرو الاشباہ والنَّظائر وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرہا میں ہے : اذالم یعرف الرجل ان محمدا صلیﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰخرالانبیاء فلیس بمسلم لانہ من الضروریات۔ (الاشباہ والنَّظائر ص ٦١)
اور اسی دور میں دجال زمانہ مکار اعظم کلب قادیان مرزا غلام قادیانی نے حضرت عیسی علیہ السّلام اور آپ کی والدہ ماجدہ طیبہ طاہرہ کے شان اقدس میں گستاخی کی اور خود کو مسیح موعود کہلوانے لگا ۔ قاسم نانوتوی کے ان اقوال قبیحہ شنیعہ سے اسے اتنا ترغیب و تشویق اور حوصلہ ملا کہ اس نے خود کو نبی کہلوانا شروع کردیا اور خاتم النبیین میں بے جا، من گڑھت تاویل اور خود ساختہ توجیہ شروع کردی، جس کی وجہ سے یہ بھی ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
شِفاء شریف امام قاضی عَیاض رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ میں ہے : کذٰلک (یکفر) من ادعی نبوۃ احد مع نبینا صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوبعدہ ۔ (الشفاء ص ٢/٢٨٥)

علم غیب رسول ﷺ کے منکر :

اللہ تبارک و تعالی نے انبیاۓ کرام علیھم الصلوۃوالسلام کو بے شمار غیوب کا علم دیا اور ماضی و مستقبل سے آگاہ و باخبر کیا جو قرآن کے متعدد آیتوں سے ثابت ہے، یہ مسئلہ بدیہی ہے کی جو نبی ہو گا وہ غیب داں بھی ہوگا۔ امت اس پر متفق تھی، زمان نبوی سے لیکر اب تک کسی نے اس کا انکار نہ کیا، پر چودھویں صدی میں کچھ زر کے غلام، نان و نفقہ کے حریص پیدا ہوئے، تو علم غیب رسولﷺ کے معتقدین پر انھوں نے شرک و کفر کا فتوے دے ڈالا، اور دربار رسالت میں ایسے کلمات خبیثہ و الفاظ شنیعہ کا استمال کیا جو گستاخی و بے ادبی سے لب ریز تھے۔
چنانچہ رشید احمد گنگوہی کی مصدقہ کتاب براھین قاطعہ میں لکھا ہے، جس کو خلیل احمد کے نام سے چھاپا جاتا ہے :
شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی فخر عالم کی وسعت علم کی کون سی نص قطعی ہے جس سے تمام نصوص کو رد کر کے ایک شرک ثابت کرتا ہے
وہ اس سے پہلے لکھتا ہے یہ بات شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے (براھین قاطعہ ص ٥٥) جس میں صاف طور سے اس نے شیطان و ملک الموت کے علم کو سید عالم ﷺ کے علم سے زیادہ قرار دیا ہے جو کہ توہیںن و گستاخی ہے ۔
حضرت قاضی عیاض فرماتے ہیں:
من قال : فلان اعلم منہ ﷺ فقد عابہ و نقصہ وھو ساب و کافر (نسیم الریاض ٤/٣٣٥)

امام اہلسنت اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

جس وصف کا اثبات مخلوق میں کسی ایک فرد کے لئے شرعا شرک ہو وہ تمام مخلوق میں جس کے لئے ثابت کیا جاۓ شرک ہوگا کہ خدا کا شریک کوئی نہیں ہو سکتا، تو جو شخص (خلیل احمد انبیٹھوی) زمین کا علم محیط نبی کریم صلی اللہ تبارک وتعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کے لئے ماننے کو شرک بتاۓ اور کہے کہ شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصّہ ہے۔ پہر اپنے منہ سے اسی علم کو ابلیس کے لئے ثابت مانے۔ وہ خود اپنے اقرار سے مشرک ہے اور ابلیس لعین کا پوجنے والا۔
الفرق الوجیز بین السنی العزیز والوھابی الرجیز۔ عقیدہ ٢٤۔
اور اشرف علی تھانوی نے اپنے رسواء زمانہ کتاب حفظ الایمان میں لکھا : اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے۔ ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کیلئے بھی حاصل ہے ( حفظ الایمان ٤ )
یہاں اس نے حضور کے علم پاک کو صبی و مجنوں بلکہ حیوانات سے تشبیہ دی ہے اور چوپائوں کے برابر قرار دیا ہے، اور محمد رسول اللہﷺ کو یقیناً صریح گالی دی اور حضور کی توہین کی، جس کے سبب قطعا کافر و مرتد اور زندیق ہوا، دنیا و آخرت میں اللہ واحد قہار کی لعنتوں کا مستحق ہوا۔
شفاء شریف و خیریہ بزازیہ وغیرہ میں ہے : اجمع المسلمون ان شاتمه ﷺ کافر و من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر (الشفاء ٢/٢٠٨ )

تکذیب الہی کے قائل :

اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے جو چاہے کرے، وہ ہر عیب سے پاک و منزہ ہے جو جھوٹ پر اللہ کو قادر مانے اور یہ کہے کہ اگر اللہ اس پر قادر نہ ہو تو عجز لازم آے گا اور وہ معبود معبود نہ ہوگا ، نری جہالت اور کفر ہے۔
چنانچہ امام اہلسنت فرماتے ہیں:
اس (رشید گنگوہی) کا ظلم اور گمراہ کن پراپیگینڈا یہاں تک بڑھا کہ اب اس نے ایک فتوی شائع کیا، جو بمبئی سے چھپا ہے اس پر ان کی مہریں ثبت ہیں اور میں اپنی آنکھوں سے یہ فتوی دیکھ چکا ہوں، اس میں اس نے صاف لکھا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کو بالفعل جھوٹا مانے اور تصریح کرے گا کہ اللہ تعالی نے جھوٹ بولا وہ بڑا گنہ گار ہوگا مگر اس کے باوجود ایسے شخص کو کافر نہ کہو بلکہ فاسق بھی۔
ان کے تمام اقوال قبیحہ کو جب سیدی سرکار اعلی حضرت کی بارگاہ میں پیش کیا گیا، تو آپ نے ان کو مدت مدید تک سمجھایا اور خط و کتاب کے ذریعہ اصلاح کرنے کی کوشش کی، لیکن جب ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو آپ نے کفر کا فتوے دیکر امت کو ان کے مکر و فریب سے آگاہ کیا۔ اور یہی فتوی جب علماء حرمین شریفین کے دربار میں پیش کیا تو برجستہ سبھی حضرات نے اس کی تصدیق کر کے مہر ضبط فرمائی اور حکم دیا من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
تکفیر اگرچہ ایک امر پر خطر ہے، لیکن ضروریات دین کے منکر کی تکفیر ضروری ہے؛ تاکہ امت مسلمہ ان کے مکر و فریب اور کذب و نفاق سے محفوظ رہ سکے۔ اللہ تعالی اپنے دین کی حفاظت وبقی اور امت کے فلاح و بہبود کے خاطر ایسے بندوں کو پیدا فرماتا ہے جو عقائد اسلام کی ترویج و اشاعت کرتے ہیں، اور زر خرید، نام نہاد علماء کے مکر و فریب سے لوگوں کو بچاتے ہیں اور فاسد مادوں کو ختم کر کے دنیاے اسلام کو روشن و تابندہ کر دیتے ہیں۔ انھیں میں سے ایک امام احمد رضا خان کی ذات ہے۔ جنھوں نے وقت کے فتون کا مقابلہ کیا اور صالح نما ابلیس لوگوں کے فاسد نظریات اور کاسد اعتقادات سے امت مسلمہ کو آگاہ کیا۔ اور فرقہاے باطلہ کے رد میں ہزاروں کتابیں تصنیف فرمائی، ان کے اعتراضات کا منہ توڑ جواب دیا اور دیوبندیت، وہابیت، چکڑالویت، غیرمقلدیت، نیچریت، اور قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی، آج بھی ان کے یہاں محض اسم رضا سے مثل فارس زلزلہ آجاتا ہے۔ اس ستودہ صفات ہستی کا ذکر میں کیا کروں زمانہ گیت گا رہا ہے، اور لوگ ببانگ دوہل پکار رہے ہیں ۔
وادی رضا کی کوہ ہمالیہ رضا کا ہے
جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا ہے
اگلوں نے تو لکھا ہے بہت علم دین پر
جو کچھ بھی اس صدی کا تنہا رضا کا ہے

اصول تکفیر اور تحقیقات امام احمد رضا خان

مضمون نگار: Mohammad Faizan Raza Khan Markazi

اصول تکفیر اور تحقیقات امام احمد رضا خان
اسلام کفر و ضلالت، گمراہی و لادینیت کا قلعہ قمع کرنے اور قلوب و اذہان کو نور ایمان سے منور و متجلی کرنے آیا ہے، جس کی ہدایت سے انسان‌ معرفتِ الٰہی حاصل کرتا ہے اور قوانینون و فرامین پر عمل کر کے خالق کائنات کا مطیع و فرمانبردار بنتا ہے۔ جب انسان ما جاء بہ الرسول کی تصدیق و اقرار کرلیتا ہے، تو وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے اور فضائل و مناقب، انعام و اعجاز کا مستحق بن جاتا ہے۔ لیکن جب وہ ضروریات دین کا انکار کرتا ہے یا شعار کفار کا مرتکب اور اسالیب مرتدین کو اپناتا ہے تو خارج از اسلام ہوجاتا ہے۔
ان امور کا تعلق علم کلام سے ہے جس میں باب تکفیر ایک معرکۃ الاراء، مغلق، دقیق اور عسیر الفہم باب ہے، اور کسی کی تکفیر نہایت دشوار، مشکل، کٹھن اور امر پر خطر، غایت دانائی، حد درجہ حزم و احتیاط اور پھونک پھونک کر قدم رکھنے کا متقاضی ہے۔ کیونکہ تکفیر کا تعلق امور سمعیہ شرعیہ سے ہے، اور اس میں عقل و وجدان، ادراک و شعور اور فہم و فراست، ہواے نفس، بغض و حسد، خصومت و معاندت، مخاصمت و مخالفت، نفرت و عداوت، مذہبی تعصب اور قرابت و رفاقت کو قطعی دخل نہیں ہے۔
چناچہ سید عالم صلیٰ اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : اذا قال الرجل لاخیہ یا کافر فقد باء بہ احدھما (بخاری شریف , باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل فھو کما قال )
حضرت علامہ بدر الدین عینی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : لانہ ان کان صادقا فی نفس الامر فالمقول لہ کافر ، وان کان کاذبا فالقائل کافر ، لانہ حکم بکون المؤمن کافرًا او الایمان کفرًا (عمدہ القاری شرح بخاری ج ٢٢ ،ص ١٥٧ بیروت)
واضح طور پر مضمون اس پر دلالت کر رہا ہے کہ اگر بے احتیاطی و عدم توجہی اور غفلت میں کسی پر حکم کفر جڑ دیا، پس اگر مقول لہ ایسا ہی ہے فبہا، ورنہ قائل خود اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا، پس حکم کفر کرنا نہایت پر خطر ہے۔ اس لیے کسی کو کافر کہنے اور خارج از اسلام سے ملقب کرنے کے لیے، اس کے کفر کا جلی و روشن، واضح و آشکار ہونا نہایت ضروری ہے۔
چنانچہ امام اہل سنت اعلی حضرت فرماتے ہیں : کسی مسلمان کی تکفیر ایک امر عظیم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے کسی بھی کلمہ گو کی تکفیر سے منع فرمایا ہے۔ جب تک وجہ کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوجاے، اور حکم اسلام کے لیے کوئی ضعیف سے ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے۔ (فتاوی رضویہ کامل ١٨/٣٢٠ )

کفر کے اقسام :

جب انسان کے عقل و خرد اور فہم و فراست پر شیطان قابض ہوجاتا ہے تو اس کے اقوال و افعال، کردار و گفتار خلاف شرع ہونے لگتے ہیں اور وہ کچھ بھی بکنے لگتا ہے، اسے نہ تو خدا کا خوف ہوتا ہے اور نہ رسول اللہ ﷺ کا ڈر۔
پس معلوم ہوا کفر کی دو قسمیں ہیں : بالقول و بالفعل:-
کفر بالقول : زبان سے ضروریات دین کا انکار و تکذیب کرنا ہے
کفر بالفعل : ایسا کام کرنا ہے جو شعار کفار یا تکذیب ضروریات پر علامت ہو۔
چنانچہ امام اہلسنت فرماتے ہیں :-
اگرچہ کفر تکذیب النبی ﷺ فی بعض ماجاء بہ من عند ربہ جل وعلا کا نام ہے اور تکذیب صفت قلب ہے، مگر جس طرح اقوال مکفرہ اس تکذیب پر علامت ہوتے اور ان کی بنا پر حکم کفر دیا جاتا ہے، یوں ہی بعض افعال بھی اس کی امارت اور حکم تکفیر کا باعث ہوتے ہیں ۔ کالقاء المصحف فی القاذورات، والسجود للصنم، وکشف العورت عند الاذان، وقرأت القرآن من جھہ الاستخفاف وغیرذالک، وکل مادل علی الاستہزاء بالشرع او الازدراء بہ ۔ (فتاوی رضویہ ج ٥ /١٠٢)
پھر یہ دونوں بھی دو طرح کے ہوتے ہیں :
(١) التزامی : جس کو کفر کلامی کہتے ہیں۔
(٢) لزومی : جس کو کفر فقہی کہتے ہیں۔
چنانچہ امام اہل سنت فرماتے ہیں :
التزامی : یہ کہ ضروریات دین میں سے کسی شئی کا تصریحا خلاف کرے، یہ قطعا اجماعا کفر ہے۔ اگرچہ نام کفر سے چِڑھے اور کمال اسلام کا دعویٰ کرے۔
لزومی : یہ کہ جو بات اس نے کہی عین کفر نہیں مگر منجر کفر ہوتی ہے، یعنی مآل سخن و لازم حکم کو ترتیب مقدمات و تتمیم تقریبات کرتے چلے تو انجام کار اس سے کسی ضروری دین کا انکار لازم آے۔ (فتاوی رضویہ کامل ٢٠/١٧٥)

صریح کے اقسام :

جب کوئی شخص کسی ایسے قول یا فعل کا مرتکب ہو جو صاف صاف اور واضح طور پر بغیر کسی احتمال کے معنی کفر پر دلالت کرے تو علماء متکلمین اور فقہاء دونوں کے نزدیک ایسا شخص کافر ہوتا ہے اور اس کے کفر و عذاب میں شک کرنے والا بھی کافر ہوتا ہے ۔
اور اگر کسی ایسے قول یا فعل کا مرتکب ہوا جو معنی کفر پر دلالت کرتا ہے، مگر اس میں احتمال غیر کا دخل ہے۔ تو یہ صرف عند الفقہاء کافر ہے۔ علماء متکلمین اس کو احتیاطا کافر نہیں کہتے ہیں۔ چنانچہ صریح کے متعلق جو باب کفر میں معتبر ہے۔

حضور مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :

صریح کی دو قسمیں ہیں :

صریح متعین : وہ لفظ ہے جو معنی کفر میں متعین ہو اور کوئی احتمال نہ رکھے۔ فی الکفر اتفاق العلماء من المتکلمین و الفقہاء علیہا۔
صریح متبین : وہ لفظ ہے جو معنی کفر پر دلالت کرے لیکن احتمال غیر بھی رکھتا ہو ۔ فی الکفر عند الفقہاء فقط " (ملخصا از موت الاحمر ص ٤٩ )

احتمال تیں طرح کا ہوتا ہے : فی الکلام ، فی التکلم ، فی المتکلم

ضروریات دین کسے کہتے ہیں :

ضروریات دین وہ شہرت یافتہ امور ہیں جو نصوص قرآنیہ واحادیث مشہورہ متواترہ اور اجماع امت مرحومہ مبارکہ سے ثابت ہیں، جن کو ہر عام و خاص جانتے ہیں۔ مثلاً خالق عالم کا ایک اور واجب الوجود ہونا، اس کی ذات وصفات میں کسی کا شریک نہ ہونا، ظلم و جفا اور جھوٹ و فریب وغیرہ تمام نقص و عیوب سے پاک ہونا، حضور سید المرسلین ﷺ کا خاتم النبیین بمعنی آپ کے بعد کسی نبی کا نہ آنا، رسول کریم ﷺ کی تعظیم کرنا، نماز، روزہ، حج وغیرہ کا فرض عین ہونا، وغیرہ ذالک۔
علامہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : قیل : الایمان ھو التصدیق بالقلب فقط ای قبول القلب و اذعانه لما علم بالضرورة انہ من دین محمد بحیث یعلمہ العامة و الخاصة من غیر افتقار الی نظر و استدلال ( المعتقد المنتقد ص ١٩٤)
امام اہل سنت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
فمن كذب بشيئ من ضروريات الدين طوعا كان كافرا عند الله تعالى أيضا وإن ادعى أن قلبه مطمئن بالاطمئنان .’’ المستند ‘‘
نیز فرماتے ہیں : غرض ضروریات دین کے سواء کسی شئ کا انکار کفر نہیں اگر چہ ثابت بالقواطع ہو، عند التحقیق آدمی کو اسلام سے خارج نہیں کرتا مگر انکار اس کا جس کی تصدیق نے اس کو دائرہ اسلام میں داخل کیا تھا، اور وہ نہیں مگر ضروریات دین کما حققہ العلماء المحققون من الآئمة المتکلمین ۔ ( فتاوی رضویہ کامل ٤/٥٤ )
مزید وضاحت کرتے ہوے فرماتے ہیں : مسائل تین قسم کے ہوتے ہیں:
ایک ضروریات دین : ان کا منکر بلکہ ان میں ادنی شک کرنے والا بالیقین کافر ہوتا ہے ایسا کہ جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔دوم ضروریات عقائد اہل سنت : ان کا منکر بدمذ ہب، گمراہ ہوتا ہے۔ سوم وہ مسائل کہ علماے اہل سنت میں مختلف فیہ ہوں : اُن میں کسی طرف تکفیر و تضلیل ممکن نہیں۔" (فتاوی رضویہ کامل: ۱۲۵۸/۱۸)

اہل قبلہ کی تکفیر:

اھل قبلہ سے مراد وہ بندۂ خدا ، مطیع مصطفی اور پیروکار صحابہ و اولیاء ہے جو اسلام کے تمام ضروری باتوں کی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرتا ہے۔ ہاں! معاذ اللہ اگر کوئی ابھاگا، قسمت کا‌ مارا، بد نصیب شخص کردار و گفتار سے ان کا انکار و تکذیب اور ابطال و تردید کرے تو یقینا وہ شحص کافر و مرتد ہوگا اور اس کے سارے اعمال و افعال، صدقات و خیرات برباد و بیکار ہوجائیں گے اور وہ دخیل نار وہم شریک کفار ہوگا ۔
چنانچہ شرح فقہ اکبر میں ہے :
فی المواقف : لا یکفر اهل القبلة الا فیما فیہ انکار ما علم مجیئہ بالضرورة او المجمع علیہ(منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر بیروت ص ٤٤٦)
اور امام اہلسنت فرماتے ہیں :
رابعاً: خود مسئلہ بدیہی ہے ، کیا جو شخص پانچ وقت قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہو؟ اور ایک وقت مہادیو کو سجدہ کرلیتا ہو، کسی عاقل کے نزدیک مسلمان ہوسکتا ہے۔ حالانکہ اللہ کو جھوٹا کہنا یا محمد رسول اللہ کی شان اقدس میں گستاخی کرنا، مہادیو کے سجدے سے کہیں بدتر ہے اگرچہ کفر ہونے میں برابر ہے۔ و ذالک ان الکفر بعضہ اخبث من بعض "۔ (تمہید ایمان ص ٥٨)

امام احمد رضا اور زمانے کے فتنہ باز :

یہ تمام اقتباسات کا خلاصہ یہ ہے کہ گندم نما جو فروش جب ضروریات دین کا انکار کریں تو ان کی تکفیر کی جاے گی اور حتما و یقینا ، قطعا و جزما کافر کہا جاے گا۔ حتی کہ اگر کوئی ان کے کفر میں شک کرے تو وہ بھی کافر ہوگا۔
اب ان اصول و ضوابط کی روشنی میں ذرا طواغیت اربعہ کی خبر لیجئے، جن لوگوں نے اپنے اقوال و افعال کردار و گفتار سے ساری امت کو ضلالت و گمرہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا تھا، پر احسان ہے اعلی حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ تبارک وتعالیٰ عنہ کا جنہوں نے ان کے کفر و ضلالت سے پردہ اٹھایا اور امت کو ان کے فتنوں سے آگاہ و خبردار کر کے ایمان و اعتقاد کی حفاظت و صیانت فرمائی ۔ چونکہ ان بد بختوں نے ضروریات دین کا انکار کیا تھا اس لیے امام اہلسنت رضی اللہ تعالی عنہ نے ان پر کفر کلامی کا فتوے دیا۔ جس پر علماے حرمین شریفین نے مہر تصدیق ضبط فرما کر مزید مضبوط و مستحکم بنا دیا۔

خاتم النبیین کے منکر :

خاتم النبیین کے قطعا یہی معنی ہیں کہ سب انبیا سے پچھلے اور آخری نبی یعنی ان کی بعثت کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا خود رسول اللہ صلی اللہ تبارک وتعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم نے خاتم النبیین کے یہی معنی بیان فرماۓ اور یہی معنی تمام مسلمانوں کے ذہن و اعتقاد میں ہے، اسی پر ساری امت کا اجماع ہے۔ دور رسالت سے لیکر اب تک تمام مسلمانوں نے خاتم النبیین کا یہی معنی سمجھا اور اس میں حضور اقدس صلی اللہ تبارک وتعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کی بڑی اعلی درجہ کی فضیلت ہے۔
چنانچہ حدیث پاک میں ہے آقاۓ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں : انا خاتم النبیین لا نبی بعدی (رواہ البخاری) اور خاتم النبیین کا یہ معنی ضروریات دین سے ہے۔لیکن دیوبندیوں کے سرخیل قاسم نانوتوی نے تحذیر الناسمیں لکھا :- بلکہ بالفرض آپ کے زمانہ میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے، بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ عوام کے خیال میں تو رسول اللہ کا خاتم ہونا باین معنی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن که تقدم و تاخر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں ۔
جس میں اس بد بخت نے حضور کی موجودگی میں دوسرے نبی کا ہونا جائز بتایا اور خاتم النبین کا معنی سب سے آخری نبی ہونے کو عوام و نادان کا خیال بتاکر ضروریات دین کا انکار کیا ۔
امام حجۃُ الاسلام غزالی قُدِّسَ سِرُّہ الْعَالی کتابُ الْاِقْتِصاد میں فرماتے ہیں : ان الأمۃ فھمت ھذا اللفظ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابداوعدم رسول بعدہ ابدا وانہ لیس فیہ تاویل ولاتخصیص ومن اولہ بتخصیص فکلامہ من انواع الھذیان لایمنع الحکم بتکفیرہ لانہ مکذب لھذا النص الذی اجمعت الامۃ علی انہ غیر مؤول ولامخصوص (الاقتصاد فی الاعتقاد ، بیان من یجب تکفیرہ من الفرق ، ص ١٣٧)
فتاوٰی یَتِیَمۃُ الدَّہرو الاشباہ والنَّظائر وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرہا میں ہے : اذالم یعرف الرجل ان محمدا صلیﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰخرالانبیاء فلیس بمسلم لانہ من الضروریات۔ (الاشباہ والنَّظائر ص ٦١)
اور اسی دور میں دجال زمانہ مکار اعظم کلب قادیان مرزا غلام قادیانی نے حضرت عیسی علیہ السّلام اور آپ کی والدہ ماجدہ طیبہ طاہرہ کے شان اقدس میں گستاخی کی اور خود کو مسیح موعود کہلوانے لگا ۔ قاسم نانوتوی کے ان اقوال قبیحہ شنیعہ سے اسے اتنا ترغیب و تشویق اور حوصلہ ملا کہ اس نے خود کو نبی کہلوانا شروع کردیا اور خاتم النبیین میں بے جا، من گڑھت تاویل اور خود ساختہ توجیہ شروع کردی، جس کی وجہ سے یہ بھی ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
شِفاء شریف امام قاضی عَیاض رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ میں ہے : کذٰلک (یکفر) من ادعی نبوۃ احد مع نبینا صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوبعدہ ۔ (الشفاء ص ٢/٢٨٥)

علم غیب رسول ﷺ کے منکر :

اللہ تبارک و تعالی نے انبیاۓ کرام علیھم الصلوۃوالسلام کو بے شمار غیوب کا علم دیا اور ماضی و مستقبل سے آگاہ و باخبر کیا جو قرآن کے متعدد آیتوں سے ثابت ہے، یہ مسئلہ بدیہی ہے کی جو نبی ہو گا وہ غیب داں بھی ہوگا۔ امت اس پر متفق تھی، زمان نبوی سے لیکر اب تک کسی نے اس کا انکار نہ کیا، پر چودھویں صدی میں کچھ زر کے غلام، نان و نفقہ کے حریص پیدا ہوئے، تو علم غیب رسولﷺ کے معتقدین پر انھوں نے شرک و کفر کا فتوے دے ڈالا، اور دربار رسالت میں ایسے کلمات خبیثہ و الفاظ شنیعہ کا استمال کیا جو گستاخی و بے ادبی سے لب ریز تھے۔
چنانچہ رشید احمد گنگوہی کی مصدقہ کتاب براھین قاطعہ میں لکھا ہے، جس کو خلیل احمد کے نام سے چھاپا جاتا ہے :
شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی فخر عالم کی وسعت علم کی کون سی نص قطعی ہے جس سے تمام نصوص کو رد کر کے ایک شرک ثابت کرتا ہے
وہ اس سے پہلے لکھتا ہے یہ بات شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے (براھین قاطعہ ص ٥٥) جس میں صاف طور سے اس نے شیطان و ملک الموت کے علم کو سید عالم ﷺ کے علم سے زیادہ قرار دیا ہے جو کہ توہیںن و گستاخی ہے ۔
حضرت قاضی عیاض فرماتے ہیں:
من قال : فلان اعلم منہ ﷺ فقد عابہ و نقصہ وھو ساب و کافر (نسیم الریاض ٤/٣٣٥)

امام اہلسنت اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

جس وصف کا اثبات مخلوق میں کسی ایک فرد کے لئے شرعا شرک ہو وہ تمام مخلوق میں جس کے لئے ثابت کیا جاۓ شرک ہوگا کہ خدا کا شریک کوئی نہیں ہو سکتا، تو جو شخص (خلیل احمد انبیٹھوی) زمین کا علم محیط نبی کریم صلی اللہ تبارک وتعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کے لئے ماننے کو شرک بتاۓ اور کہے کہ شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصّہ ہے۔ پہر اپنے منہ سے اسی علم کو ابلیس کے لئے ثابت مانے۔ وہ خود اپنے اقرار سے مشرک ہے اور ابلیس لعین کا پوجنے والا۔
الفرق الوجیز بین السنی العزیز والوھابی الرجیز۔ عقیدہ ٢٤۔
اور اشرف علی تھانوی نے اپنے رسواء زمانہ کتاب حفظ الایمان میں لکھا : اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے۔ ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کیلئے بھی حاصل ہے ( حفظ الایمان ٤ )
یہاں اس نے حضور کے علم پاک کو صبی و مجنوں بلکہ حیوانات سے تشبیہ دی ہے اور چوپائوں کے برابر قرار دیا ہے، اور محمد رسول اللہﷺ کو یقیناً صریح گالی دی اور حضور کی توہین کی، جس کے سبب قطعا کافر و مرتد اور زندیق ہوا، دنیا و آخرت میں اللہ واحد قہار کی لعنتوں کا مستحق ہوا۔
شفاء شریف و خیریہ بزازیہ وغیرہ میں ہے : اجمع المسلمون ان شاتمه ﷺ کافر و من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر (الشفاء ٢/٢٠٨ )

تکذیب الہی کے قائل :

اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے جو چاہے کرے، وہ ہر عیب سے پاک و منزہ ہے جو جھوٹ پر اللہ کو قادر مانے اور یہ کہے کہ اگر اللہ اس پر قادر نہ ہو تو عجز لازم آے گا اور وہ معبود معبود نہ ہوگا ، نری جہالت اور کفر ہے۔
چنانچہ امام اہلسنت فرماتے ہیں:
اس (رشید گنگوہی) کا ظلم اور گمراہ کن پراپیگینڈا یہاں تک بڑھا کہ اب اس نے ایک فتوی شائع کیا، جو بمبئی سے چھپا ہے اس پر ان کی مہریں ثبت ہیں اور میں اپنی آنکھوں سے یہ فتوی دیکھ چکا ہوں، اس میں اس نے صاف لکھا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کو بالفعل جھوٹا مانے اور تصریح کرے گا کہ اللہ تعالی نے جھوٹ بولا وہ بڑا گنہ گار ہوگا مگر اس کے باوجود ایسے شخص کو کافر نہ کہو بلکہ فاسق بھی۔
ان کے تمام اقوال قبیحہ کو جب سیدی سرکار اعلی حضرت کی بارگاہ میں پیش کیا گیا، تو آپ نے ان کو مدت مدید تک سمجھایا اور خط و کتاب کے ذریعہ اصلاح کرنے کی کوشش کی، لیکن جب ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو آپ نے کفر کا فتوے دیکر امت کو ان کے مکر و فریب سے آگاہ کیا۔ اور یہی فتوی جب علماء حرمین شریفین کے دربار میں پیش کیا تو برجستہ سبھی حضرات نے اس کی تصدیق کر کے مہر ضبط فرمائی اور حکم دیا من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
تکفیر اگرچہ ایک امر پر خطر ہے، لیکن ضروریات دین کے منکر کی تکفیر ضروری ہے؛ تاکہ امت مسلمہ ان کے مکر و فریب اور کذب و نفاق سے محفوظ رہ سکے۔ اللہ تعالی اپنے دین کی حفاظت وبقی اور امت کے فلاح و بہبود کے خاطر ایسے بندوں کو پیدا فرماتا ہے جو عقائد اسلام کی ترویج و اشاعت کرتے ہیں، اور زر خرید، نام نہاد علماء کے مکر و فریب سے لوگوں کو بچاتے ہیں اور فاسد مادوں کو ختم کر کے دنیاے اسلام کو روشن و تابندہ کر دیتے ہیں۔ انھیں میں سے ایک امام احمد رضا خان کی ذات ہے۔ جنھوں نے وقت کے فتون کا مقابلہ کیا اور صالح نما ابلیس لوگوں کے فاسد نظریات اور کاسد اعتقادات سے امت مسلمہ کو آگاہ کیا۔ اور فرقہاے باطلہ کے رد میں ہزاروں کتابیں تصنیف فرمائی، ان کے اعتراضات کا منہ توڑ جواب دیا اور دیوبندیت، وہابیت، چکڑالویت، غیرمقلدیت، نیچریت، اور قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی، آج بھی ان کے یہاں محض اسم رضا سے مثل فارس زلزلہ آجاتا ہے۔ اس ستودہ صفات ہستی کا ذکر میں کیا کروں زمانہ گیت گا رہا ہے، اور لوگ ببانگ دوہل پکار رہے ہیں ۔
وادی رضا کی کوہ ہمالیہ رضا کا ہے
جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا ہے
اگلوں نے تو لکھا ہے بہت علم دین پر
جو کچھ بھی اس صدی کا تنہا رضا کا ہے
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mohammad Faizan Raza Khan Markazi

Graduate - 2025 | Jamiatur Raza
37
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 1
Kalam 0
Mohammad Faizan Raza Khan Markazi
زمرہ جات

دنیا کی کتاب (نوشتۂ شبِ خموش)

“برھانِ صلوٰۃ”ایک تیر سے کئی نشانے

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
اسلامیات 12
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
رد دیوبندیت ووہابیت 11
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
اوراد و وظائف 2
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢