صاحبِ سجادگان کا اصل مقصد سے ہٹ کر خرافات پیدا کرنا
✍️ Syed suhaib hamdani Markazi
اللہ تعالیٰ کی بے حد حمد و ثنا ہے، جس وحدہٗ لاشریک رب العالمین نے ہم گنہگاروں کو حضورِ سرورِ کائنات، سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا۔ یوں تو سبھی لوگ اس بات سے واقف ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو وہ بلندی عطا فرمائی ہے جس کی نظیر کائنات میں موجود نہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ دینِ اسلام ہی اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
(إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ)
بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہی ہے۔
اسی مقدس اور پاکیزہ دین کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیاے فانی میں انبیائے کرام اور رسلِ عظام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، یہاں تک کہ آقائے دو جہاں، تاجدارِ کائنات، محبوبِ رب العالمین، سید المرسلین، امام الانبیاء، شہنشاہِ کون و مکاں صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کلمۂ حق کو بلند فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے ظلمت کو ختم فرمایا اور اپنے مقدس نور سے دنیا کو جِلا بخشی۔
(خير القرون قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم)
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اکثر لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ہم تک یہ دین بغیر قربانیوں کے نہیں پہنچا۔ اس دین کو دنیا بھر میں پہنچانے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکینِ مکہ نے طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں، یہاں تک کہ دینِ اسلام کی تبلیغ کی خاطر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے ہجرت بھی کرنی پڑی۔
دینِ اسلام ہم تک کیسے پہنچا؟
مجھے امید ہے کہ آپ اس مضمون کو پڑھ کر اپنے اسلاف کی قربانیوں کو ضرور یاد کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
ذرا اس حقیقت پر غور فرمائیے کہ دینِ اسلام ہم تک صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذریعے پہنچا، پھر اولیائے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے وسیلے سے ہوتا ہوا ہم گنہگاروں تک من و عن اپنی اصل صورت میں پہنچا۔ اس پاکیزہ دین کو ہم تک پہنچانے میں اولیائے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نہایت اہم کردار ادا کیا اور اس راہ میں بے شمار قربانیاں دیں۔ انہوں نے ہم جیسے لوگوں کو دینِ اسلام سے آشنا کرنے کے لیے ہزاروں میل کا سفر پیدل طے کیا، مختلف بلاد میں پہنچ کر اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ فرمائی۔
ان کے منور ہونے کی وجہ یہ تھی کہ خانقاہوں کا نظام من و عن دینِ اسلام کی بنیادوں پر قائم تھا۔ لیکن آج انہی خانقاہوں میں تصوف کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر شیطان بھی شرمائے۔
(فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ)
ترجمہ: اے لوگو! اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔
اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ علم والوں سے رجوع کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ لوگ جانتے تھے کہ خانقاہوں میں بیٹھنے والے ایمان والے بھی ہیں اور علم والے بھی، جو قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری زندگیوں کو منور کر کے ہمیں درِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں گے۔ اور ظاہر ہے کہ جو درِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا، اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک رسائی کا پروانہ نصیب ہو گیا، اور جو اس در سے محروم رہا وہ ذلیل و خوار ہوا۔ اس مقام پر امامِ اہلِ سنت، اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کا یہ مشہور شعر یاد آتا ہے، جو اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے:
جو ترے در سے یار پھرتے ہیں
دربدر یونہی خوار پھرتے ہیں
ان کے آباء و اجداد نے تو دینِ اسلام کے مطابق زندگی گزارتے ہوئے شریعتِ مطہرہ کو پیشِ نظر رکھا، اور لوگوں کی قال الله وقال الرسول کے مطابق رہنمائی کر کے انہیں صحیح معنوں میں دینِ اسلام کی تعلیم دی؛ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جن خانقاہوں میں داخل ہوتے ہی ربِ ذوالجلال کی ہیبت سے دل پگھل جاتے تھے، آنکھیں اشک بار ہو جاتی تھیں، اور لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر آخرت کی نجات کی دعائیں مانگتے تھے، آج انہی خانقاہوں میں دلوں پر خشیتِ الٰہی طاری ہونے کے بجائے ڈھول، باجا، تاشے اور دیگر لہو و لعب کی چیزوں کی رغبت پیدا کی جا رہی ہے، جیسا کہ بعض خانقاہوں میں مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ وہاں جا کر عبادت اور ذکرِ الٰہی میں مشغول ہونا چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہو رہا، کیونکہ شیطان نے دلوں پر قبضہ جما رکھا ہے۔ یہ سب کچھ دورِ حاضر کے بعض سجادہ نشینوں کی وجہ سے ہے، جنہوں نے اپنے مریدوں کو تزکیۂ نفس کے بجائے حلوہ اور مٹھائیاں کھانے میں مشغول کر دیا، اور ذکرِ الٰہی کے بجائے انہیں قوالیاں سننے اور رقص کرنے کی عادت ڈال دی۔
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات۔
کاش! آپ صحیح معنوں میں دینِ اسلام کو سمجھتے اور لوگوں تک قرآن و حدیث کا پیغام پہنچاتے، لیکن آپ کو تو صرف پیٹ کی فکر رہتی ہے اور بڑے بڑے محلات میں رہنے کے خواب آتے ہیں۔ کیوں نہ آئیں، جب سب کچھ بغیر کسی محنت کے وراثت میں مل گیا۔
یاد رکھیے! ابھی بھی وقت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کر کے اپنے اسلاف کے طریقے کو من و عن اختیار کر لیجیے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی آپ سے کچھ فائدہ حاصل کر سکیں، ورنہ اگر اسی روش پر قائم رہے تو آپ کا تذکرہ اس طرح دنیا سے مٹ جائے گا کہ:
تمہاری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔
ہمارے اسلاف خانقاہوں میں کس طرح دین کی تبلیغ فرماتے تھے؟
آج یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے اسلاف نے جو خانقاہیں قائم کیں، وہ حقیقت میں دینِ اسلام کے مضبوط پناہ گاہیں تھیں۔ ان خانقاہوں میں رہ کر انہوں نے اسلام کی تعلیمات کو اس انداز سے عام کیا کہ نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے چہروں کو دیکھ کر ہمیں اسلام کے برحق ہونے کا یقین ہوتا ہے۔
آخر ایسا کیوں؟
اس لیے کہ یہ حضرات پوری زندگی شریعتِ مطہرہ کے سائے میں پروان چڑھے، پھر خانقاہیں قائم کر کے دوسروں کو بھی شریعتِ مطہرہ کے جام سے سیراب کرتے رہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اسلام کے رنگ میں رنگ لیا تھا، اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے حقیقی مصداق بن گئے:
(صِبْغَةَ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً٘)
ترجمہ: ہم نے اللہ کا رنگ اپنے اوپر چڑھا لیا، اور اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اسلام کے رنگ میں رنگ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔ اسی وجہ سے لوگ کل بھی ان بزرگوں کی بارگاہوں کی طرف رجوع کرتے تھے، آج بھی کرتے ہیں، اور ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت تک کرتے رہیں گے، کیونکہ یہ سب ان کے شریعتِ مطہرہ پر استقامت اختیار کرنے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ انعام ہے۔
دورِ حاضر کے سجادہ نشینوں کی جہالت کا عالم
شرم تم کو مگر آتی نہیں۔
خود تو کوئی دینی کارنامہ انجام نہ دے سکے، مگر بزرگوں کا سہارا لے کر مریدوں کو تزکیۂ نفس کے بجائے گمراہی میں دھکیل رہے ہیں۔ جو کام خانقاہوں میں اہلِ سنت و جماعت کے مطابق ہونا چاہیے تھا، اسے جہالت اور تعصب کی بنا پر رافضیت اور تفضیل کے اثرات سے بدل دیا گیا ہے۔ ان کی زبان پر ہر وقت یہی جملہ رہتا ہے کہ ہم فلاں بزرگ کی نسل سے ہیں ، خواہ ان کے اعمال اس دعوے کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔
پھر جب ان سے پوچھا جائے کہ حضرت! آپ نے نماز کہاں ادا کی؟ تو جواب دیتے ہیں: ہم تو حرم میں نماز پڑھ کر آئے ہیں۔
افسوس! اگر خانقاہ سے متصل مسجد تک جانے کی توفیق نہیں ہوئی تو حرم میں جا کر نماز کیسے ادا کر آئے؟ یہ دعویٰ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے، اور ایسی باتیں ان کی جہالت کی دلیل ہیں۔
لیکن بعض خانقاہوں میں خاندانی جانشینی کے رجحان اور اصلاحِ باطن کے بجائے مادی مفادات کے غلبے نے بدعات، خرافات، شخصیت پرستی اور چندہ خوری کو فروغ دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بہت سی خرافات کی جڑیں یہیں سے جنم لیتی ہیں، اور یہی چیز اہلِ سنت کے عوام میں گمراہی کا سبب بنتی ہے۔
مجھے تو ان لوگوں کی جہالت دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ لوگ لفظ خانقاہ کے حقیقی مفہوم سے بھی واقف نہیں، ورنہ ایسی خرافات ہرگز پیدا نہ کرتے۔
خانقاہ کیا ہے؟
ذرا غور فرمائیے۔
خانقاہ دراصل فارسی زبان کا لفظ ہے، جس سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں انسان بظاہر دنیا سے الگ ہو کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے زندگی بسر کرے، عبادت کرے، اپنے نفس کا تزکیہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رہے۔
دورِ حاضر کے گدی نشینوں کے لیے لمحۂ فکر
یاد رکھیں!
خانقاہ میں مرشدِ کامل کی صحبت میں حاصل ہونے والی تعلیم و تربیت انسان کو درویش بنا دیتی ہے، لیکن تمہارے پھیلائے ہوئے خرافات کسی کو درویش بنانا تو دور کی بات، انسان کو دین سے متنفر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
تمہارے بعض اعمال ایسے ہیں کہ انہیں دیکھ کر شیطان بھی شرم سے سر جھکا لے۔
جاہل پیر اور جاہل مرید
ذرا متوجہ ہوں۔
آج کے دور میں جاہل گدی نشین جو کچھ کرتا ہے، جاہل مرید بھی بعینہٖ وہی کرتا ہے تاکہ پیر صاحب اس سے خوش رہیں۔
یوں خرافات دیکھ دیکھ کر جاہل مرید بھی نئی نئی فرضی خانقاہیں قائم کرتا ہے اور کاروبار کا بازار گرم کر دیتا ہے۔ یہ سب موجودہ بعض سجادہ نشینوں کا نتیجہ ہے، جو لوگوں کو اپنے پاس جمع کر کے ان کے دلوں میں خشیتِ الٰہی پیدا کرنے کے بجائے جہالت، تعصب اور بعض مواقع پر توہینِ صحابہ کے بیج بوتے ہیں، اور پھر دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم دینِ اسلام کے خیر خواہ ہیں۔ اگر کوئی عالمِ دین ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کرے تو بڑی جاہلانہ شان سے کہتے ہیں:
ہمیں مت سکھاؤ، ہم سیکھے ہوئے ہیں۔
اس سے بڑی جہالت اور کیا ہو سکتی ہے؟
شریعتِ مطہرہ کو مقدم رکھو
بیدار ہو جاؤ۔
ایسے جاہل گدی نشینوں کے پاس جا کر اپنے ایمان کا سودا نہ کرو۔ خواہ کوئی کتنا ہی بڑا خاندان رکھتا ہو، شریعتِ مطہرہ کو ہر حال میں مقدم رکھو۔
یہ لوگ یہی کہیں گے کہ:
ہم فلاں بزرگ کی اولاد میں سے ہیں۔
لیکن یاد رکھو!
کوئی شخص کتنا ہی اعلیٰ حسب و نسب کا مالک کیوں نہ ہو، جب معاملہ شریعتِ مطہرہ کا ہو تو شریعت مقدم ہوگی، اور ہر شخصیت اس کے تابع ہوگی۔
مریدوں کی غلطیاں
عوام میں یہ تصور بھی عام ہو گیا ہے کہ جس طرح ایک جاگیردار کا بیٹا اس کی جاگیر کا وارث ہوتا ہے، اسی طرح ہر پیر کا بیٹا لازماً پیر اور روحانی پیشوا بھی ہوگا، حالانکہ یہ تصور شریعت اور حقیقتِ تصوف دونوں کے خلاف ہے۔
اسی حقیقت کی ترجمانی ان اشعار میں ہے:
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک
نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ
میراث میں آئی ہے انہیں مسندِ ارشاد
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
یہ اشعار موجودہ حالات کی بڑی مؤثر تصویر پیش کرتے ہیں کہ جہاں کبھی اہلِ علم، اہلِ تقویٰ اور اہلِ معرفت لوگوں کی رہنمائی کیا کرتے تھے، وہاں آج بعض مقامات پر نااہل افراد قابض ہو چکے ہیں۔
یہ منصب کن کے لیے تھا اور کون وارث بن بیٹھے؟
یہ وہی شاہینوں کے نشیمن تھے، جہاں لوگوں کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کی جاتی تھی، لیکن افسوس کہ آج بہت سے مقامات پر وہی نشیمن زاغوں (کوؤں) کے قبضے میں آ گئے ہیں، جن کا مقصد صرف مال و دولت جمع کرنا رہ گیا ہے۔
ان میں سے بہت سے افراد نے مسندِ تلقین و ارشاد کو وراثت سمجھ لیا، حالانکہ یہ منصب وراثت سے زیادہ اہلیت، علم، تقویٰ اور اصلاحِ باطن کا متقاضی ہے۔
کیا اولاد ولایت کی حق دار ہوتی ہے؟
اولاد ولایت کی حق دار ہو سکتی ہے، لیکن ہر اولاد نہیں، بلکہ وہ اولاد جو اپنے صالح والد کی حقیقی جانشین ہو، شریعتِ مطہرہ کی پابند ہو، علم، عمل، تقویٰ اور اخلاق میں اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے والی ہو۔
اگر اللہ تعالیٰ نے کسی باپ کو ولایت سے سرفراز فرمایا ہو، اور اس کا بیٹا بھی حقیقتاً اپنے والد کی طرح شریعتِ مطہرہ کا پابند، علم و عمل کا جامع اور تقویٰ و طہارت کا پیکر ہو، تو بلاشبہ وہ اس منصب کا حق دار ہو سکتا ہے، بلکہ بعض اوقات دوسرے لوگوں سے زیادہ مستحق بھی ہوتا ہے۔
لیکن محض نسب، خاندان یا وراثت کسی شخص کو ولی یا مرشد نہیں بنا دیتی، جب تک اس میں اس منصب کی شرائط موجود نہ ہوں۔
دورِ حاضر کے صاحبِ سجادہ
آج کے دور میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ نااہل افراد ہی گدی نشین بن بیٹھے ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف ڈاکٹر محمد اقبال نے اشارہ کیا:
ش قُم بِاِذنِ اللہ کہہ سکتے تھے جو رخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن
اس شعر میں ڈاکٹر اقبال قُم بِاِذنِ اللہ کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ وہ اولیائے کاملین اور فقیرانِ حق، جو مردہ دلوں کو ایمان اور معرفت کی روشنی سے زندہ کر دیتے تھے، اب دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔
ان کے بعد بہت سی خانقاہوں میں ایسے لوگ گدی نشین بن گئے ہیں، جنہیں یہ منصب یا تو اپنے آباء و اجداد کی نسبت سے ملا، یا محض وراثت کے طور پر حاصل ہو گیا، حالانکہ انہوں نے اس کے لیے نہ علمی محنت کی، نہ روحانی ریاضت اور نہ اصلاحِ نفس کی کوئی منزل طے کی۔ ان میں سے بعض نے خانقاہوں اور مزارات کو ذریعۂ معاش بنا لیا ہے، جس کے نتیجے میں بہت سے مقامات پر اصل روحانیت ماند پڑ گئی ہے۔ اسی سبب آج معاشرہ روحانی اعتبار سے کمزور دکھائی دیتا ہے، کیونکہ حقیقی سکون روحانیت ہی میں ہے، اور روحانیت کے بغیر اخلاق، کردار اور انسانیت اپنی اصل روح کھو دیتے ہیں۔
بعض لوگوں نے سجادگی کے نام پر ایسے ایسے طریقے اپنا لیے ہیں جن کا فقر، سلوک اور تصوف سے کوئی تعلق نہیں، مثلاً مختلف قسم کی مالائیں، بے شمار رنگوں کی انگوٹھیاں، ننگے پاؤں دھمال ڈالنا، اور بعض کا حال تو یہ ہے کہ لباسِ شرعی کا بھی پورا اہتمام نہیں کرتے۔
ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اگر یہ سب کچھ شریعت کے خلاف ہو تو اس کا دینِ محمدی سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ سب بعض موجودہ گدی نشینوں کی علمی کمزوری کا نتیجہ ہے۔
اگر ان کے پاس صحیح علم ہوتا تو وہ اپنے اسلاف ہی کا طریقہ اختیار کرتے، شیخینِ کریمین کی افضلیت کو تسلیم کرتے، تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ادب کرتے، کسی صحابی کی شان میں بے ادبی نہ کرتے اور نہ کسی کو ایسا کرنے دیتے۔
اگر وہ اسی تعلیم پر قائم رہتے تو یقیناً اہلِ سنت کی نگاہ میں معزز ہوتے اور اولیائے کرام کے حقیقی وارث کہلانے کے مستحق بنتے۔
صاحبِ سجادہ کا اصل مقصد کیا ہے؟
صاحبِ سجادہ کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ:
قرآن و سنت کی صحیح تعلیم دے۔
خود شریعتِ مطہرہ کی پابندی کرے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دے۔
لوگوں کے لیے اصلاحِ اخلاق اور تربیتِ نفس کا اہتمام کرے۔
ذکرِ الٰہی، دعا اور اعمالِ صالحہ کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرے۔
عدل، دیانت، عاجزی اور حسنِ اخلاق کو اپنا شعار بنائے۔
خانقاہ یا ادارے کے اوقاف اور دیگر وسائل کی امانت داری کے ساتھ حفاظت کرے۔
لوگوں کی جائز دینی اور سماجی رہنمائی کرے۔
عقائدِ اہلِ سنت و جماعت کی صحیح تعلیم دے اور ان کی حفاظت کرے۔
قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ کی تعلیم کو عام کرے۔
نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر شرعی احکام کی پابندی کرے اور دوسروں کو بھی ان پر عمل کی ترغیب دے۔
محبتِ رسول ﷺ، محبتِ اہلِ بیتِ اطہار اور محبتِ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فروغ دے۔
بدعاتِ سیئہ، گمراہی اور باطل نظریات سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرے۔
علماءِ اہلِ سنت کے ساتھ رابطہ رکھے اور دینی خدمات میں ان سے تعاون کرے۔
خدمتِ خلق، عدل، دیانت اور حسنِ اخلاق کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائے۔
غرض یہ کہ اس کا کردار، علم، تقویٰ اور اخلاق ایسے ہوں کہ لوگ اسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی طرف راغب ہوں، اور شریعتِ مطہرہ کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی ترغیب حاصل کریں، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ خانقاہوں سے وابستہ ہوں اور وہاں سے عشقِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت کا فیض حاصل کریں۔
خانقاہوں سے خرافات کا سدِ باب کیسے کیا جائے؟
اگر خانقاہوں کو خرافات سے محفوظ رکھنا ہے تو ان کا نظام مکمل طور پر شریعتِ مطہرہ کے مطابق چلانا ہوگا، تاکہ کوئی باطل عقائد رکھنے والا شخص ان پر اعتراض کرنے کا موقع نہ پا سکے۔
اس مقصد کے لیے درج ذیل امور پر خصوصی توجہ دی جائے:
قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی تعلیم کو مضبوط کیا جائے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ اور دیگر اکابرِ اہلِ سنت کی صحیح تعلیمات اور عقائد کو عام کیا جائے۔
خانقاہی نظام مستند علماء اور باعمل مشائخ کی نگرانی میں چلایا جائے۔
بیعت کا مقصد اصلاحِ نفس، تقویٰ اور اتباعِ شریعت ہو، محض رسم یا خاندانی روایت نہ ہو۔
نماز، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی، درود شریف اور اخلاقی تربیت کو خانقاہ کا بنیادی حصہ بنایا جائے۔
ایسی رسومات اور اعمال سے مکمل اجتناب کیا جائے جنہیں مستند علماءِ اہلِ سنت غیر شرعی یا خرافات قرار دیتے ہوں۔
مالی معاملات میں دیانت، امانت اور شفافیت کو اختیار کیا جائے۔
لوگوں میں محبت، اتحاد، خدمتِ خلق اور حسنِ اخلاق کو فروغ دیا جائے۔
یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ:
شریعت کے بغیر طریقت معتبر نہیں، اور طریقت ہر حال میں شریعت کی پابند ہے۔
لہٰذا خانقاہ کی حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ وہاں شریعت کی پیروی، سنت کی تعلیم اور لوگوں کی دینی و اخلاقی اصلاح کو بنیادی حیثیت دی جائے۔
اختتامی گزارش
jamiaturrazastudents.com
اگر خانقاہیں اپنے اصل مقصد کی طرف لوٹ آئیں، علم و عمل کو شعار بنا لیں، اور شریعت و طریقت کو ایک دوسرے کا لازم و ملزوم سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، تو یقیناً وہ دوبارہ دینِ اسلام کی اشاعت، اصلاحِ معاشرہ اور روحانی تربیت کے عظیم مراکز بن سکتی ہیں، اور یہی ہمارے اسلاف کا حقیقی طریقہ اور ان کی روشن میراث ہے۔
سید محمد صہیب الہمدانی الکشمیری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
صاحبِ سجادگان کا اصل مقصد سے ہٹ کر خرافات پیدا کرنا
مضمون نگار: Syed suhaib hamdani Markazi
اللہ تعالیٰ کی بے حد حمد و ثنا ہے، جس وحدہٗ لاشریک رب العالمین نے ہم گنہگاروں کو حضورِ سرورِ کائنات، سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا۔ یوں تو سبھی لوگ اس بات سے واقف ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو وہ بلندی عطا فرمائی ہے جس کی نظیر کائنات میں موجود نہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ دینِ اسلام ہی اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
(إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ)
بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہی ہے۔
اسی مقدس اور پاکیزہ دین کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیاے فانی میں انبیائے کرام اور رسلِ عظام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، یہاں تک کہ آقائے دو جہاں، تاجدارِ کائنات، محبوبِ رب العالمین، سید المرسلین، امام الانبیاء، شہنشاہِ کون و مکاں صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کلمۂ حق کو بلند فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے ظلمت کو ختم فرمایا اور اپنے مقدس نور سے دنیا کو جِلا بخشی۔
(خير القرون قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم)
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اکثر لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ہم تک یہ دین بغیر قربانیوں کے نہیں پہنچا۔ اس دین کو دنیا بھر میں پہنچانے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکینِ مکہ نے طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں، یہاں تک کہ دینِ اسلام کی تبلیغ کی خاطر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے ہجرت بھی کرنی پڑی۔
دینِ اسلام ہم تک کیسے پہنچا؟
مجھے امید ہے کہ آپ اس مضمون کو پڑھ کر اپنے اسلاف کی قربانیوں کو ضرور یاد کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
ذرا اس حقیقت پر غور فرمائیے کہ دینِ اسلام ہم تک صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذریعے پہنچا، پھر اولیائے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے وسیلے سے ہوتا ہوا ہم گنہگاروں تک من و عن اپنی اصل صورت میں پہنچا۔ اس پاکیزہ دین کو ہم تک پہنچانے میں اولیائے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نہایت اہم کردار ادا کیا اور اس راہ میں بے شمار قربانیاں دیں۔ انہوں نے ہم جیسے لوگوں کو دینِ اسلام سے آشنا کرنے کے لیے ہزاروں میل کا سفر پیدل طے کیا، مختلف بلاد میں پہنچ کر اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ فرمائی۔
ان کے منور ہونے کی وجہ یہ تھی کہ خانقاہوں کا نظام من و عن دینِ اسلام کی بنیادوں پر قائم تھا۔ لیکن آج انہی خانقاہوں میں تصوف کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر شیطان بھی شرمائے۔
(فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ)
ترجمہ: اے لوگو! اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔
اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ علم والوں سے رجوع کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ لوگ جانتے تھے کہ خانقاہوں میں بیٹھنے والے ایمان والے بھی ہیں اور علم والے بھی، جو قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری زندگیوں کو منور کر کے ہمیں درِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں گے۔ اور ظاہر ہے کہ جو درِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا، اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک رسائی کا پروانہ نصیب ہو گیا، اور جو اس در سے محروم رہا وہ ذلیل و خوار ہوا۔ اس مقام پر امامِ اہلِ سنت، اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کا یہ مشہور شعر یاد آتا ہے، جو اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے:
جو ترے در سے یار پھرتے ہیں
دربدر یونہی خوار پھرتے ہیں
ان کے آباء و اجداد نے تو دینِ اسلام کے مطابق زندگی گزارتے ہوئے شریعتِ مطہرہ کو پیشِ نظر رکھا، اور لوگوں کی قال الله وقال الرسول کے مطابق رہنمائی کر کے انہیں صحیح معنوں میں دینِ اسلام کی تعلیم دی؛ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جن خانقاہوں میں داخل ہوتے ہی ربِ ذوالجلال کی ہیبت سے دل پگھل جاتے تھے، آنکھیں اشک بار ہو جاتی تھیں، اور لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر آخرت کی نجات کی دعائیں مانگتے تھے، آج انہی خانقاہوں میں دلوں پر خشیتِ الٰہی طاری ہونے کے بجائے ڈھول، باجا، تاشے اور دیگر لہو و لعب کی چیزوں کی رغبت پیدا کی جا رہی ہے، جیسا کہ بعض خانقاہوں میں مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ وہاں جا کر عبادت اور ذکرِ الٰہی میں مشغول ہونا چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہو رہا، کیونکہ شیطان نے دلوں پر قبضہ جما رکھا ہے۔ یہ سب کچھ دورِ حاضر کے بعض سجادہ نشینوں کی وجہ سے ہے، جنہوں نے اپنے مریدوں کو تزکیۂ نفس کے بجائے حلوہ اور مٹھائیاں کھانے میں مشغول کر دیا، اور ذکرِ الٰہی کے بجائے انہیں قوالیاں سننے اور رقص کرنے کی عادت ڈال دی۔
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات۔
کاش! آپ صحیح معنوں میں دینِ اسلام کو سمجھتے اور لوگوں تک قرآن و حدیث کا پیغام پہنچاتے، لیکن آپ کو تو صرف پیٹ کی فکر رہتی ہے اور بڑے بڑے محلات میں رہنے کے خواب آتے ہیں۔ کیوں نہ آئیں، جب سب کچھ بغیر کسی محنت کے وراثت میں مل گیا۔
یاد رکھیے! ابھی بھی وقت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کر کے اپنے اسلاف کے طریقے کو من و عن اختیار کر لیجیے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی آپ سے کچھ فائدہ حاصل کر سکیں، ورنہ اگر اسی روش پر قائم رہے تو آپ کا تذکرہ اس طرح دنیا سے مٹ جائے گا کہ:
تمہاری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔
ہمارے اسلاف خانقاہوں میں کس طرح دین کی تبلیغ فرماتے تھے؟
آج یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے اسلاف نے جو خانقاہیں قائم کیں، وہ حقیقت میں دینِ اسلام کے مضبوط پناہ گاہیں تھیں۔ ان خانقاہوں میں رہ کر انہوں نے اسلام کی تعلیمات کو اس انداز سے عام کیا کہ نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے چہروں کو دیکھ کر ہمیں اسلام کے برحق ہونے کا یقین ہوتا ہے۔
آخر ایسا کیوں؟
اس لیے کہ یہ حضرات پوری زندگی شریعتِ مطہرہ کے سائے میں پروان چڑھے، پھر خانقاہیں قائم کر کے دوسروں کو بھی شریعتِ مطہرہ کے جام سے سیراب کرتے رہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اسلام کے رنگ میں رنگ لیا تھا، اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے حقیقی مصداق بن گئے:
(صِبْغَةَ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً٘)
ترجمہ: ہم نے اللہ کا رنگ اپنے اوپر چڑھا لیا، اور اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اسلام کے رنگ میں رنگ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔ اسی وجہ سے لوگ کل بھی ان بزرگوں کی بارگاہوں کی طرف رجوع کرتے تھے، آج بھی کرتے ہیں، اور ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت تک کرتے رہیں گے، کیونکہ یہ سب ان کے شریعتِ مطہرہ پر استقامت اختیار کرنے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ انعام ہے۔
دورِ حاضر کے سجادہ نشینوں کی جہالت کا عالم
شرم تم کو مگر آتی نہیں۔
خود تو کوئی دینی کارنامہ انجام نہ دے سکے، مگر بزرگوں کا سہارا لے کر مریدوں کو تزکیۂ نفس کے بجائے گمراہی میں دھکیل رہے ہیں۔ جو کام خانقاہوں میں اہلِ سنت و جماعت کے مطابق ہونا چاہیے تھا، اسے جہالت اور تعصب کی بنا پر رافضیت اور تفضیل کے اثرات سے بدل دیا گیا ہے۔ ان کی زبان پر ہر وقت یہی جملہ رہتا ہے کہ ہم فلاں بزرگ کی نسل سے ہیں ، خواہ ان کے اعمال اس دعوے کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔
پھر جب ان سے پوچھا جائے کہ حضرت! آپ نے نماز کہاں ادا کی؟ تو جواب دیتے ہیں: ہم تو حرم میں نماز پڑھ کر آئے ہیں۔
افسوس! اگر خانقاہ سے متصل مسجد تک جانے کی توفیق نہیں ہوئی تو حرم میں جا کر نماز کیسے ادا کر آئے؟ یہ دعویٰ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے، اور ایسی باتیں ان کی جہالت کی دلیل ہیں۔
لیکن بعض خانقاہوں میں خاندانی جانشینی کے رجحان اور اصلاحِ باطن کے بجائے مادی مفادات کے غلبے نے بدعات، خرافات، شخصیت پرستی اور چندہ خوری کو فروغ دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بہت سی خرافات کی جڑیں یہیں سے جنم لیتی ہیں، اور یہی چیز اہلِ سنت کے عوام میں گمراہی کا سبب بنتی ہے۔
مجھے تو ان لوگوں کی جہالت دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ لوگ لفظ خانقاہ کے حقیقی مفہوم سے بھی واقف نہیں، ورنہ ایسی خرافات ہرگز پیدا نہ کرتے۔
خانقاہ کیا ہے؟
ذرا غور فرمائیے۔
خانقاہ دراصل فارسی زبان کا لفظ ہے، جس سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں انسان بظاہر دنیا سے الگ ہو کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے زندگی بسر کرے، عبادت کرے، اپنے نفس کا تزکیہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رہے۔
دورِ حاضر کے گدی نشینوں کے لیے لمحۂ فکر
یاد رکھیں!
خانقاہ میں مرشدِ کامل کی صحبت میں حاصل ہونے والی تعلیم و تربیت انسان کو درویش بنا دیتی ہے، لیکن تمہارے پھیلائے ہوئے خرافات کسی کو درویش بنانا تو دور کی بات، انسان کو دین سے متنفر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
تمہارے بعض اعمال ایسے ہیں کہ انہیں دیکھ کر شیطان بھی شرم سے سر جھکا لے۔
جاہل پیر اور جاہل مرید
ذرا متوجہ ہوں۔
آج کے دور میں جاہل گدی نشین جو کچھ کرتا ہے، جاہل مرید بھی بعینہٖ وہی کرتا ہے تاکہ پیر صاحب اس سے خوش رہیں۔
یوں خرافات دیکھ دیکھ کر جاہل مرید بھی نئی نئی فرضی خانقاہیں قائم کرتا ہے اور کاروبار کا بازار گرم کر دیتا ہے۔ یہ سب موجودہ بعض سجادہ نشینوں کا نتیجہ ہے، جو لوگوں کو اپنے پاس جمع کر کے ان کے دلوں میں خشیتِ الٰہی پیدا کرنے کے بجائے جہالت، تعصب اور بعض مواقع پر توہینِ صحابہ کے بیج بوتے ہیں، اور پھر دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم دینِ اسلام کے خیر خواہ ہیں۔ اگر کوئی عالمِ دین ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کرے تو بڑی جاہلانہ شان سے کہتے ہیں:
ہمیں مت سکھاؤ، ہم سیکھے ہوئے ہیں۔
اس سے بڑی جہالت اور کیا ہو سکتی ہے؟
شریعتِ مطہرہ کو مقدم رکھو
بیدار ہو جاؤ۔
ایسے جاہل گدی نشینوں کے پاس جا کر اپنے ایمان کا سودا نہ کرو۔ خواہ کوئی کتنا ہی بڑا خاندان رکھتا ہو، شریعتِ مطہرہ کو ہر حال میں مقدم رکھو۔
یہ لوگ یہی کہیں گے کہ:
ہم فلاں بزرگ کی اولاد میں سے ہیں۔
لیکن یاد رکھو!
کوئی شخص کتنا ہی اعلیٰ حسب و نسب کا مالک کیوں نہ ہو، جب معاملہ شریعتِ مطہرہ کا ہو تو شریعت مقدم ہوگی، اور ہر شخصیت اس کے تابع ہوگی۔
مریدوں کی غلطیاں
عوام میں یہ تصور بھی عام ہو گیا ہے کہ جس طرح ایک جاگیردار کا بیٹا اس کی جاگیر کا وارث ہوتا ہے، اسی طرح ہر پیر کا بیٹا لازماً پیر اور روحانی پیشوا بھی ہوگا، حالانکہ یہ تصور شریعت اور حقیقتِ تصوف دونوں کے خلاف ہے۔
اسی حقیقت کی ترجمانی ان اشعار میں ہے:
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک
نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ
میراث میں آئی ہے انہیں مسندِ ارشاد
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
یہ اشعار موجودہ حالات کی بڑی مؤثر تصویر پیش کرتے ہیں کہ جہاں کبھی اہلِ علم، اہلِ تقویٰ اور اہلِ معرفت لوگوں کی رہنمائی کیا کرتے تھے، وہاں آج بعض مقامات پر نااہل افراد قابض ہو چکے ہیں۔
یہ منصب کن کے لیے تھا اور کون وارث بن بیٹھے؟
یہ وہی شاہینوں کے نشیمن تھے، جہاں لوگوں کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کی جاتی تھی، لیکن افسوس کہ آج بہت سے مقامات پر وہی نشیمن زاغوں (کوؤں) کے قبضے میں آ گئے ہیں، جن کا مقصد صرف مال و دولت جمع کرنا رہ گیا ہے۔
ان میں سے بہت سے افراد نے مسندِ تلقین و ارشاد کو وراثت سمجھ لیا، حالانکہ یہ منصب وراثت سے زیادہ اہلیت، علم، تقویٰ اور اصلاحِ باطن کا متقاضی ہے۔
کیا اولاد ولایت کی حق دار ہوتی ہے؟
اولاد ولایت کی حق دار ہو سکتی ہے، لیکن ہر اولاد نہیں، بلکہ وہ اولاد جو اپنے صالح والد کی حقیقی جانشین ہو، شریعتِ مطہرہ کی پابند ہو، علم، عمل، تقویٰ اور اخلاق میں اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے والی ہو۔
اگر اللہ تعالیٰ نے کسی باپ کو ولایت سے سرفراز فرمایا ہو، اور اس کا بیٹا بھی حقیقتاً اپنے والد کی طرح شریعتِ مطہرہ کا پابند، علم و عمل کا جامع اور تقویٰ و طہارت کا پیکر ہو، تو بلاشبہ وہ اس منصب کا حق دار ہو سکتا ہے، بلکہ بعض اوقات دوسرے لوگوں سے زیادہ مستحق بھی ہوتا ہے۔
لیکن محض نسب، خاندان یا وراثت کسی شخص کو ولی یا مرشد نہیں بنا دیتی، جب تک اس میں اس منصب کی شرائط موجود نہ ہوں۔
دورِ حاضر کے صاحبِ سجادہ
آج کے دور میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ نااہل افراد ہی گدی نشین بن بیٹھے ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف ڈاکٹر محمد اقبال نے اشارہ کیا:
ش قُم بِاِذنِ اللہ کہہ سکتے تھے جو رخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن
اس شعر میں ڈاکٹر اقبال قُم بِاِذنِ اللہ کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ وہ اولیائے کاملین اور فقیرانِ حق، جو مردہ دلوں کو ایمان اور معرفت کی روشنی سے زندہ کر دیتے تھے، اب دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔
ان کے بعد بہت سی خانقاہوں میں ایسے لوگ گدی نشین بن گئے ہیں، جنہیں یہ منصب یا تو اپنے آباء و اجداد کی نسبت سے ملا، یا محض وراثت کے طور پر حاصل ہو گیا، حالانکہ انہوں نے اس کے لیے نہ علمی محنت کی، نہ روحانی ریاضت اور نہ اصلاحِ نفس کی کوئی منزل طے کی۔ ان میں سے بعض نے خانقاہوں اور مزارات کو ذریعۂ معاش بنا لیا ہے، جس کے نتیجے میں بہت سے مقامات پر اصل روحانیت ماند پڑ گئی ہے۔ اسی سبب آج معاشرہ روحانی اعتبار سے کمزور دکھائی دیتا ہے، کیونکہ حقیقی سکون روحانیت ہی میں ہے، اور روحانیت کے بغیر اخلاق، کردار اور انسانیت اپنی اصل روح کھو دیتے ہیں۔
بعض لوگوں نے سجادگی کے نام پر ایسے ایسے طریقے اپنا لیے ہیں جن کا فقر، سلوک اور تصوف سے کوئی تعلق نہیں، مثلاً مختلف قسم کی مالائیں، بے شمار رنگوں کی انگوٹھیاں، ننگے پاؤں دھمال ڈالنا، اور بعض کا حال تو یہ ہے کہ لباسِ شرعی کا بھی پورا اہتمام نہیں کرتے۔
ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اگر یہ سب کچھ شریعت کے خلاف ہو تو اس کا دینِ محمدی سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ سب بعض موجودہ گدی نشینوں کی علمی کمزوری کا نتیجہ ہے۔
اگر ان کے پاس صحیح علم ہوتا تو وہ اپنے اسلاف ہی کا طریقہ اختیار کرتے، شیخینِ کریمین کی افضلیت کو تسلیم کرتے، تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ادب کرتے، کسی صحابی کی شان میں بے ادبی نہ کرتے اور نہ کسی کو ایسا کرنے دیتے۔
اگر وہ اسی تعلیم پر قائم رہتے تو یقیناً اہلِ سنت کی نگاہ میں معزز ہوتے اور اولیائے کرام کے حقیقی وارث کہلانے کے مستحق بنتے۔
صاحبِ سجادہ کا اصل مقصد کیا ہے؟
صاحبِ سجادہ کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ:
قرآن و سنت کی صحیح تعلیم دے۔
خود شریعتِ مطہرہ کی پابندی کرے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دے۔
لوگوں کے لیے اصلاحِ اخلاق اور تربیتِ نفس کا اہتمام کرے۔
ذکرِ الٰہی، دعا اور اعمالِ صالحہ کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرے۔
عدل، دیانت، عاجزی اور حسنِ اخلاق کو اپنا شعار بنائے۔
خانقاہ یا ادارے کے اوقاف اور دیگر وسائل کی امانت داری کے ساتھ حفاظت کرے۔
لوگوں کی جائز دینی اور سماجی رہنمائی کرے۔
عقائدِ اہلِ سنت و جماعت کی صحیح تعلیم دے اور ان کی حفاظت کرے۔
قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ کی تعلیم کو عام کرے۔
نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر شرعی احکام کی پابندی کرے اور دوسروں کو بھی ان پر عمل کی ترغیب دے۔
محبتِ رسول ﷺ، محبتِ اہلِ بیتِ اطہار اور محبتِ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فروغ دے۔
بدعاتِ سیئہ، گمراہی اور باطل نظریات سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرے۔
علماءِ اہلِ سنت کے ساتھ رابطہ رکھے اور دینی خدمات میں ان سے تعاون کرے۔
خدمتِ خلق، عدل، دیانت اور حسنِ اخلاق کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائے۔
غرض یہ کہ اس کا کردار، علم، تقویٰ اور اخلاق ایسے ہوں کہ لوگ اسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی طرف راغب ہوں، اور شریعتِ مطہرہ کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی ترغیب حاصل کریں، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ خانقاہوں سے وابستہ ہوں اور وہاں سے عشقِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت کا فیض حاصل کریں۔
خانقاہوں سے خرافات کا سدِ باب کیسے کیا جائے؟
اگر خانقاہوں کو خرافات سے محفوظ رکھنا ہے تو ان کا نظام مکمل طور پر شریعتِ مطہرہ کے مطابق چلانا ہوگا، تاکہ کوئی باطل عقائد رکھنے والا شخص ان پر اعتراض کرنے کا موقع نہ پا سکے۔
اس مقصد کے لیے درج ذیل امور پر خصوصی توجہ دی جائے:
قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی تعلیم کو مضبوط کیا جائے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ اور دیگر اکابرِ اہلِ سنت کی صحیح تعلیمات اور عقائد کو عام کیا جائے۔
خانقاہی نظام مستند علماء اور باعمل مشائخ کی نگرانی میں چلایا جائے۔
بیعت کا مقصد اصلاحِ نفس، تقویٰ اور اتباعِ شریعت ہو، محض رسم یا خاندانی روایت نہ ہو۔
نماز، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی، درود شریف اور اخلاقی تربیت کو خانقاہ کا بنیادی حصہ بنایا جائے۔
ایسی رسومات اور اعمال سے مکمل اجتناب کیا جائے جنہیں مستند علماءِ اہلِ سنت غیر شرعی یا خرافات قرار دیتے ہوں۔
مالی معاملات میں دیانت، امانت اور شفافیت کو اختیار کیا جائے۔
لوگوں میں محبت، اتحاد، خدمتِ خلق اور حسنِ اخلاق کو فروغ دیا جائے۔
یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ:
شریعت کے بغیر طریقت معتبر نہیں، اور طریقت ہر حال میں شریعت کی پابند ہے۔
لہٰذا خانقاہ کی حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ وہاں شریعت کی پیروی، سنت کی تعلیم اور لوگوں کی دینی و اخلاقی اصلاح کو بنیادی حیثیت دی جائے۔
اختتامی گزارش
jamiaturrazastudents.com
اگر خانقاہیں اپنے اصل مقصد کی طرف لوٹ آئیں، علم و عمل کو شعار بنا لیں، اور شریعت و طریقت کو ایک دوسرے کا لازم و ملزوم سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، تو یقیناً وہ دوبارہ دینِ اسلام کی اشاعت، اصلاحِ معاشرہ اور روحانی تربیت کے عظیم مراکز بن سکتی ہیں، اور یہی ہمارے اسلاف کا حقیقی طریقہ اور ان کی روشن میراث ہے۔
سید محمد صہیب الہمدانی الکشمیری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
- کوئی کلام شائع نہیں ہوا۔
سکون کیسے حاصل کریں؟ (5)
سکون کیسے حاصل کریں؟ (قسط 5) #تیسرا سبق: صبر اور سکون تیسرے دن، مولوی غلام رسول نے کہا، بیٹا، صبر سکون کی کنجی ہے۔ قرآن کہتا ہے: "فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا...
والدین کے حقوق
والدین کے حقوق والدین ایک عظیم نعمت ہیں اور ان کی محنت و مشقت اور قربانی جو انہوں نے اپنی اولاد کی خاطر کی کوئی بھی شخص اس کی قیمت ادا نہیں کر سکتا ،...
متعلقہ مضامین
حالیہ مضامین
مضمون نگاران 28

Md Maruf Raza Markazi
منتخب مضامین
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]
شخصیات اسلاف واخلاف
کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون
وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ
اطلبوا العلم و لو بالصين
دین کے لیے زہرِ قاتل؟
کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:
مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں













تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

تجارت سیرت مصطفیﷺ کی روشنی میں
مؤلف: محمد ریحان رضا مرکزی

رسومات شادی
مؤلف: محمد تنویر رضا مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

برکات تربیت
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی

سخن زار نعوت
شاعر: محمد شمس تبریز خاکی مرکزی

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

مختصر حیات حضور غوث اعظم
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Hazrat Makhdoom Munawwar Baghdadi
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Huzoor Mujahide Millat
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری
مکمل کتاب خریدنے کے لیے براہِ کرم خریدیں کے بٹن پر کلک کر کے مصنف سے براہِ راست رابطہ کریں۔ شکریہ!
مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

افضلیت صدیق اکبر خاندان نبوت کی زبانی
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

مہر بخشش
شاعر: مفتی جسیم اکرم مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

اربعین نکاح
مترجم: مفتی جسیم اکرم مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق
کاتب: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

برکات اصحاب حضور جلد ثانی
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی
Who We Are
Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.
Welcome to Jamiatur Raza Students Portal
A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.
Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.
جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے
حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔
چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔
The Spark of Inspiration
The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.
جذبہ اور سوچ کی شروعات
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔
A Legacy of Knowledge and Research
Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.
علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ
علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔
Preserving Knowledge Securely
Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.
تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔
Bridging Tradition and Modern Technology
In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.
روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ
ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔
Igniting the Passion for Writing
When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.
طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا
جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔
Future Horizons: Expanding to Fatawa
While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.
مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز
اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔
Subscribe / Join Us
ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں
ABOUT OUR JAMIA
Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا
Founder's Message
Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director's Message
About Our Jamia
Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder's Message
Qazil Quozaat Fil Hind Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan
Alias: Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Usually to Ahle sunnat wa Jamat and specially to followers of sisila Qadirya, Barkatia, Razvia that make your stability on Maslake Ahle Sunnat Wa Jamat which is known as “Maslake Aala Hazrat”.
Huzoor Tajushsharia, Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan, is a revered figure in the Ahle Sunnat wa Jamaat, particularly among the followers of the Qadiriyyah, Barkatiyyah, and Razviyah orders. His teachings and guidance are deeply rooted in the principles of Maslake Ahle Sunnat wa Jamaat, which is more widely recognized as “Maslake Aala Hazrat.”
➙ Upholding the Teachings of Maslake Aala Hazrat
Huzoor Tajushsharia strongly emphasizes the importance of remaining steadfast in the true path of Maslake Aala Hazrat. It is vital for every follower to distance themselves from all forms of deviance and corruption. He specifically warns against the influence of groups such as the Rafzees, Qadiyanis, Wahabis, Deobandis, and proponents of Sulh-e-Kullism. These groups, through their misguided beliefs and practices, pose a threat to the purity of one's faith and have the potential to lead believers astray.
Huzoor Tajushsharia advises that even maintaining social relations with these groups can be detrimental, as their influence might subtly distance one from the true teachings of Islam. Therefore, it is essential to remain vigilant and safeguard your faith by avoiding any form of association with such individuals.
➙ Commitment to Worship and Good Deeds
A devout Muslim must be unwavering in their commitment to performing daily prayers (Namaz), fasting (Roza), and other righteous deeds. Huzoor Tajushsharia encourages his followers not only to observe these obligations with dedication but also to inspire others to do the same. Engaging in acts of worship and good deeds strengthens one's faith and brings the community closer to the ideals of Islam.
At the same time, it is equally important to abstain from all forms of sinful behavior and to discourage others from engaging in such actions. By embodying good morals and true Islamic behavior in every aspect of life, one can set a positive example for others and contribute to the betterment of society.
➙ Compassion and Support for the Needy
Huzoor Tajushsharia urges his followers to actively participate in charitable activities, particularly in supporting the poor, the underprivileged, and their families. This support should extend to helping them with education, marriage, and other essential needs. Charity, especially when directed towards Deeni madrasas, plays a crucial role in sustaining Islamic education and preserving the faith.
When paying Sadaqah (charity) and Zakat (obligatory almsgiving), it is essential to remember the Deeni madrasas, especially the Markaz-e-Ahle Sunnat and your beloved Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. By contributing to these institutions, you not only fulfill your religious obligations but also support the noble mission of spreading Islamic knowledge and preserving the teachings of Maslake Aala Hazrat.
➙ Establishing and Supporting Sunni Institutions
Huzoor Tajushsharia encourages the establishment of madrasas and libraries in your localities, staffed exclusively by Sunni scholars. These institutions should serve as centers of learning and guidance for the community. Providing accommodation, food, and other necessary facilities for the scholars will ensure they can dedicate themselves fully to teaching and guiding others. Staying connected with these scholars will help you navigate your religious duties.
Managing Director's Message
➙ I am glad to introduce The Center of Islamic Studies Jamiatur Raza to you all. Now this Islamic Institution is going to enter in its tenth Year of Successful running. As you know that this institution is fast growing and consolidating its position.
➙ I am delighted to introduce The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza, to all of you. As we approach the tenth year of our institution’s successful journey, it fills me with immense pride to reflect on the growth and consolidation of our position as a leading center of Islamic education. Our institution was founded with a clear and noble motto: to provide higher and quality education that nurtures not only the intellect but also the soul.
➙ At Jamiatur Raza, we are deeply committed to equipping our students with a profound understanding of the Quran and Sunnah, as well as instilling in them the authentic Islamic character and conduct defined by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan, Bareilvi. This commitment is at the heart of everything we do, guiding our efforts to prepare our learners to be knowledgeable, ethical, and spiritually grounded individuals.
➙ One of the key aspects that sets our institution apart is our ability to maintain a delicate balance between the depth and breadth of Islamic knowledge and the demands of modern education. We believe that Islamic education should not be isolated from the realities of the contemporary world. Therefore, we have designed our programs to meaningfully integrate traditional Islamic teachings with modern educational practices, ensuring that our students are well-prepared to navigate the complexities of modern society while remaining steadfast in their faith.
➙ Our emphasis on coordinating Islamic values with modern education is driven by the desire to empower our students. We want them to enter the world of work with confidence, fully prepared to contribute to society without being looked down upon for their educational background. To achieve this, we have placed the all-round physical and mental development of our students as a top priority. We recognize that the holistic development of our students is essential for their success in both their personal and professional lives.
➙ In our pursuit of excellence, we also believe in the power of research and practical experience. Learning at Jamiatur Raza is not confined to the classroom; it is enriched through participation in research, starting as early as the fifth year of study. We encourage our students to engage in meaningful work assignments, and where possible, we provide opportunities for them to earn while they learn. This hands-on experience not only reinforces their academic learning but also prepares them for the challenges of the real world.
➙ Our teachers and students are integral to the success of our institution, and we view them as two sides of the same coin. They must work together, challenging and supporting each other’s thinking and research endeavors. It is this collaborative spirit that fosters an atmosphere of dynamic teaching and learning at every level of our institution.
➙ As we continue to grow and evolve, I am confident that Jamiatur Raza will remain a beacon of Islamic education, producing graduates who are not only knowledgeable but also exemplary in their character and conduct. I extend my heartfelt gratitude to our dedicated faculty, our hardworking students, and the entire Jamiatur Raza community for their unwavering commitment to our shared mission.
➙ May Allah Ta’ala continue to bless our efforts and guide us in our quest to serve Islam and the Muslim Ummah with sincerity and dedication.
Need Help or Have a Question?
Contact us for any guidance regarding the library, books, or website.
Contact Us