یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

ناویل
سکون کیسے حاصل کریں ؟
سکون کیسے حاصل کریں (قسط 1)
شہر کی بلند و بالا عمارتوں کے درمیان، جہاں صبح کی اذان ہوا میں گونجتی تھی اور شام کی چکاچوند روشنیوں میں دب جاتی تھی، ایک نوجوان، عرفان، اپنے کمرے کے کونے میں بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا مصحف تھا، جس کے اوراق وقت کے ساتھ زرد ہو چکے تھے، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک عجیب بے چینی تھی۔ زندگی کی دوڑ میں وہ کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ نوکری کی فکر، گھر کے اخراجات، اور معاشرے کی توقعات، یہ سب اس کے دل پر بوجھ بن کر چھا گئے تھے۔ وہ سوچتا تھا، سکون کہاں ہے؟ کیا یہ صرف کہانیوں میں ملتا ہے یا واقعی اسے پانے کا کوئی راستہ ہے؟
عرفان کی یہ بے چینی کوئی نئی بات نہ تھی۔ اس کے باپ دادا اسی شہر میں رہتے تھے، لیکن ان کی زندگی سادہ تھی۔ ان کے پاس نہ تو بڑی گاڑیاں تھیں، نہ ہی عالیشان گھر، پھر بھی ان کے چہروں پر ایک عجیب اطمینان رہتا تھا۔ عرفان نے اپنی دادی سے سنا تھا کہ ان کا سکون ان کے ایمان میں تھا، ان کی نمازوں میں تھا، اور ان کے اللہ سے تعلق میں تھا۔ لیکن عرفان کے لیے یہ سب محض باتیں تھیں۔ ایک ایسی دنیا کی باتیں جو اب کہیں کھو گئی تھی۔
ایک رات، جب وہ اپنے کمرے میں تنہا بیٹھا تھا، اس نے مصحف کھولا۔ اس کی نگاہیں سورۃ الرعد کی آیت 28 پر ٹھہر گئیں:
الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔
الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔

سکون کیسے حاصل کریں ؟
مضمون نگار: Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
سکون کیسے حاصل کریں (قسط 1)
شہر کی بلند و بالا عمارتوں کے درمیان، جہاں صبح کی اذان ہوا میں گونجتی تھی اور شام کی چکاچوند روشنیوں میں دب جاتی تھی، ایک نوجوان، عرفان، اپنے کمرے کے کونے میں بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا مصحف تھا، جس کے اوراق وقت کے ساتھ زرد ہو چکے تھے، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک عجیب بے چینی تھی۔ زندگی کی دوڑ میں وہ کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ نوکری کی فکر، گھر کے اخراجات، اور معاشرے کی توقعات، یہ سب اس کے دل پر بوجھ بن کر چھا گئے تھے۔ وہ سوچتا تھا، سکون کہاں ہے؟ کیا یہ صرف کہانیوں میں ملتا ہے یا واقعی اسے پانے کا کوئی راستہ ہے؟
عرفان کی یہ بے چینی کوئی نئی بات نہ تھی۔ اس کے باپ دادا اسی شہر میں رہتے تھے، لیکن ان کی زندگی سادہ تھی۔ ان کے پاس نہ تو بڑی گاڑیاں تھیں، نہ ہی عالیشان گھر، پھر بھی ان کے چہروں پر ایک عجیب اطمینان رہتا تھا۔ عرفان نے اپنی دادی سے سنا تھا کہ ان کا سکون ان کے ایمان میں تھا، ان کی نمازوں میں تھا، اور ان کے اللہ سے تعلق میں تھا۔ لیکن عرفان کے لیے یہ سب محض باتیں تھیں۔ ایک ایسی دنیا کی باتیں جو اب کہیں کھو گئی تھی۔
ایک رات، جب وہ اپنے کمرے میں تنہا بیٹھا تھا، اس نے مصحف کھولا۔ اس کی نگاہیں سورۃ الرعد کی آیت 28 پر ٹھہر گئیں:
الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔
الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔
اس نے یہ آیت پڑھی اور ایک لمحے کے لیے رُک گیا۔ ذکر؟ سکون؟ اس نے سوچا۔ کیا واقعی اتنا آسان ہے؟ اس کے دل میں ایک چھوٹی سی چنگاری جلی۔ وہ سوچنے لگا کہ شاید اسے اپنے بزرگوں کی طرح اس راستے پر چلنا چاہیے۔ لیکن کہاں سے شروع کرے؟ اسے کچھ سمجھ نہ آیا۔ اس نے مصحف بند کیا اور اپنے بستر پر لیٹ گیا، لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
اگلی صبح، عرفان نے فیصلہ کیا کہ وہ اس سکون کی تلاش میں نکلے گا۔ وہ اپنے نانا کے گاؤں جانے کا ارادہ کر بیٹھا، جہاں اس کے نانا، مولوی غلام رسول، ایک سادہ زندگی گزارتے تھے۔ عرفان کو یاد تھا کہ نانا ہمیشہ کہا کرتے تھے، بیٹا، سکون کوئی چیز نہیں جو بازار سے خریدی جا سکے۔ یہ تو دل کی دولت ہے، جو اللہ دیتا ہے۔ عرفان نے سوچا کہ شاید نانا اسے کوئی رہنمائی دے سکیں۔
گاؤں پہنچتے ہی اس نے دیکھا کہ مولوی غلام رسول اپنے گھر کے صحن میں بیٹھے قرآن پڑھ رہے تھے۔ ان کے چہرے پر وہی سکون تھا جو عرفان کی دادی کے چہرے پر ہوا کرتا تھا۔ عرفان نے سلام کیا اور کہا، نانا، مجھے سکون چاہیے۔ میرا دل بے چین ہے۔ میں کیا کروں؟
مولوی غلام رسول نے مسکرا کر اسے پاس بٹھایا اور کہا، بیٹا، سکون کوئی جادوئی چیز نہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک تحفہ ہے، لیکن اسے پانے کے لیے راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ کیا تو نے کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو غور سے دیکھا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات پڑھے؟
مولوی غلام رسول نے مسکرا کر اسے پاس بٹھایا اور کہا، بیٹا، سکون کوئی جادوئی چیز نہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک تحفہ ہے، لیکن اسے پانے کے لیے راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ کیا تو نے کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو غور سے دیکھا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات پڑھے؟
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
عرفان نے سر جھکایا۔ اسے شرمندگی ہوئی کہ وہ ان چیزوں سے کتنا دور ہو گیا تھا۔ مولوی غلام رسول نے کہا، چل، آج سے ہم ایک سفر شروع کرتے ہیں۔ میں تجھے بتاؤں گا کہ سکون کیا ہے اور یہ کیسے ملتا ہے۔ لیکن یہ سفر آسان نہیں ہوگا۔ تیار ہے؟
عرفان نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس کے دل میں امید کی ایک کرن جاگی۔(جاری)
عرفان نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس کے دل میں امید کی ایک کرن جاگی۔(جاری)
📝شعیب خان نجمیؔ










