صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Loading
[custom_header]
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
Featured Banner
شخصیات اسلاف واخلاف

یادگار ساحل بقلم ساحل [حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

یادگار ساحل بقلم ساحل [حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی
تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر: 9523788434
٢٠١٤ء میں راقم الحروف جامعہ قادریہ کنز الایمان ممبئی اندھیری [بانی ادارہ خلیفۂ تاج الشریعہ ناصر ملت حضرت مولانا غلام ناصر دام ظلہ العالی] میں دورۂ حفظ میں زیر تعلیم تھا دار العلوم مفتی اعظم پھول گلی ممبئی [بانی ادارہ خلیفۂ مفتی اعظم ہند حضور سراج ملت علامہ سید سراج اظہر قدس سرہ] میں تقریری و تحریری مقابلہ کا پروگرام رکھا گیا تھا جس پرگرام میں برائے تقریر حقیر فقیر جسیم اکرم مرکزی غفر لہ المولی القدیر نے بھی حصہ لیا خلیفۂ تاج الشریعہ صاحب تصانیف کثیرہ ادیب شہیر فقیہ عصر خلیق و شفیق حضرت علامہ مفتی ڈاکٹر ارشاد احمد رضوی مصباحی علیگ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی نے تقریر لکھ کر راقم الحروف کو عنایت فرمائی جس کا عنوان ہے
حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین
اس تقریر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کس درجہ محبت ہونی چاہیے اس کو اجاگر کیا گیا ہے اور اسی کی روشنی میں خلیفۂ و تلمیذ اعلی حضرت حضور ملک العلما علامہ مفتی الشاہ سید ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ الباری کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسی محبت و انسیت تھی اور آپ کے اندر کس درجہ تصلب فی الدین تھا دلائل و براہین سے مزین اچھے پیرائے میں پرو کر ثابت کیا گیا ہے یہ تقریر دور حاضر کے خانقاہی غیر خانقاہی تمامی حضرات کے لیے مشعل راہ ہے خصوصاً وہ حضرات جو سب فرقے کے لوگوں کو صحیح بتاتے ہیں اور خود کے صلح کلی ہونے کا پتہ دیتے ہیں اور گستاخان نبی و صحابہ کے ساتھ راہ و رسم رکھتے ہیں ان کے لیے سامان عبرت ہے
مکمل تقریر قارئین کرام کے باصر نواز کرتا ہوں تاکہ پڑھ کر راقم الحروف کو دعاؤں سے نوازیں اور حضرت علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کے لیے بلندی درجات کی دعا فرمائیں
تقریر ________
حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مُّحَمَّدࣱ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِینَ مَعَهُۥۤ أَشِدَّاۤءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَاۤءُ بَیۡنَهُمۡۖ {سورة الفتح}
لَّا تَجِدُ قَوۡمࣰا یُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِ یُوَاۤدُّونَ مَنۡ حَاۤدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوۤا۟ ءَابَاۤءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَاۤءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَ ٰ⁠نَهُمۡ أَوۡ عَشِیرَتَهُمۡۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ كَتَبَ فِی قُلُوبِهِمُ ٱلۡإِیمَـٰنَ وَأَیَّدَهُم بِرُوحࣲ مِّنۡهُۖ {سورة المجادلة}
حضرات محترم مدینے کے آقا ہم سب کے داتا حضور پُرنور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ گوہر بار میں جھوم جھوم کر درد و سلام کی ڈالیاں نچاور کریں اور پڑھیں بآواز بلند
اللھم صلی علی سیدنا و مولانا محمد معدن الجود و الکرم و آلہ الکرام و ابنہ الکریم و آلہ و بارک و سلم
حضرات محترم میں نے ابھی ابھی آپ کے سامنے جس آیت کریمہ کی تلاوت کا شرف حاصل کیا ہے اس کا ترجمہ اعلی حضرت کنز الکرامت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ یوں قلم بند کرتے ہیں
محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں رحم دل۔
تم نہ پاؤگے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سےجنھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگر چہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اسی لیے تو ڈاکٹر اقبال ارشاد فرماتے ہیں
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
حضور سرور کائنات فخر موجودات سید المرسلین خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے والہانہ عشق کا تقاضا ہے کہ اللہ و رسول کے دشمنوں سے عداوت اور دوری رکھی جائے یہ عمل اللہ کی بارگاہ میں بے حد مقبول ہے۔ حدیث پاک میں ہے
احب الاعمال الی اللہ الحب فی اللہ و البغض فی اللہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے کے لیے اللہ کے محبوبوں سے سے محبت کرے اور اللہ کی رضا کے لیے اس کے دشمنوں سے نفرت کرے
اسی لیے تو سرکار اعلی حضرت امام عشق و محبت کنز الکرامت جبل الاستقامت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ پکار اٹھتے ہیں
دشمن احمد پہ شدت کیجیے
ملحدوں کی کیا مروت کیجیے
شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب
اس برے مذہب پہ لعنت کیجیے
غیظ میں جل جائے بے دینوں کے دل
یا رسول اللہ کی کثرت کیجیے
حضرات گرامی سورۂ فتح کی میں نے جس آیت کریمہ کی تلاوت کا شرف حاصل کیا ہے اس میں اللہ رب العزت عاشقان رسول حضرات صحابۂ کرام کی مدح فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے
مُّحَمَّدࣱ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِینَ مَعَهُۥۤ أَشِدَّاۤءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَاۤءُ بَیۡنَهُمۡۖ {سورة الفتح}
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے دشمنوں پر شدت اور اللہ کے دوستوں اور مسلمانوں پر رحمت اللہ کو اس قدر محبوب ہے کہ خود قرآن میں اس کی مدحت میں آیت کریمہ اتارتا ہے اسے اپنی پسندیدگی کی نشانی قرار دیتا ہے اسے اپنی محبت کی علامت فرماتا ہے جبھی ڈاکٹر اقبال بندۂ مومن کی پہچان یہ بتاتے ہیں
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
دوسری آیت کریمہ میں حضرات صحابہ خاص طور سے حضور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شان میں ارشاد فرماتا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ و رسول سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان بارگاہوں کی دشمنوں اور گستاخوں سے یاری نہیں کر سکتے دوستی نہیں کر سکتے انھیں اپنا نہیں سمجھ سکتے ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں قائم کر سکتے اگر چہ وہ دنیاوی رشتے میں کچھ بھی لگتے ہوں چاہے وہ بھائی ہوں یا باپ چچا ہوں یا دادا، دادیہالی رشتہ دار ہوں یا نانیہالی یا بیوی کے گھر والے ہوں یا شوہر کے اگر وہ اللہ و رسول سے کٹ گئے تو پھر ان سے کوئی رشتہ نہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تصلب فی الدین اللہ تعالی کو کس قدر محبوب اور مطلوب ہے اسی لیے سرکار مفتی اعظم کے پیر و مرشد سرکار نور سید شاہ ابو الحسین احمد نوری قدس سرہ فرماتے ہیں
اپنے سچے دین پر اتنے سخت اور مضبوط ہوں کہ دوسرے متعصب جانیں، اس لیے کہ دین حق میں مضبوطی پسندیدہ بات ہے اور دین باطل پر مضبوطی حماقت اور بری چیز ہے
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ حضور ملک العلما فاضل بہار سید شاہ محمد ظفر الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ میں اللہ و رسول جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و تصلب فی الدین کس درجہ موجود تھا حضور سرکار ملک العلما فاضل بہار سید شاہ ظفر الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ جو بہار کی نامور سر زمین میں پیدا ہوئے ١٠ محرم الحرام ١٣٠٣ھ میں ایک دیندار سید گھرانے میں آپ کی آنکھ کھلی اور مختلف مدارس سے ہوتے ہوئے سرکار اعلی حضرت امام عشق و محبت کنز الکرامت جبل الاستقامت عاشق ماہ رسالت مجدد دین و ملت الشاہ احمد رضا خان قادری رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں کیا پہنچے کہ ذرہ سے آفتاب بن گئے قطرہ سے دریا بن گئے ظفر الدین سے ملک العلما بن گئے وہی اعلی حضرت جن کے بارے میں انھیں کے نیاز مند فاتح یورپ و ایشیا حضرت علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اس سے سوا تم ہو
قسیم جام عرفان اے شہ احمد رضا تم ہو
ملک العلما اسی مجدد وقت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے فیض یافتہ تھے جن کا تصلب فی الدین پوری دنیائے سنیت میں مشہور ہے انھیں کا فرمان عالی شان ہے
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم رب العزت جل جلالہ کے نور ہیں حضور سے صحابہ روشن ہوئے ان سے تابعین روشن ہوئے تابعین سے تبع تابعین روشن ہوئے ان سے ائمۂ مجتہدین روشن ہوئے ان سے ہم روشن ہوئے اب ہم تم سے کہتے ہیں یہ نور ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت ہے کہ تم ہم سے روشن ہو،
وہ نور یہ ہے کہ اللہ و رسول کی سچی محبت ان کی تعظیم اور ان کے دوستوں کی خدمت اور ان کی تکریم اور ان کے دشمنوں سے سچی عداوت جس سے خدا اور رسول کی شان میں ادنی بھی توہین پاؤ پھر وہ تمہارا کیسا ہی پیارا کیوں نہ ہو فورا اس سے جدا ہو جاؤ جس کو بارگاہ رسالت میں ذرا بھی گستاخ دیکھو پھر وہ تمہارا کیسا ہی بزرگ معظم کیوں نہ ہو اپنے اندر سے اسے دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو
تو بھلا حضرت ملک العلما کا تصلب فی الدین کیسا ہوگا اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے حضرت ملک العلما پوری زندگی تصلب فی الدین کی فکری اور عملی تصویر تھے آپ نے ہمیشہ احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ انجام دیا وہابیوں غیر مقلدوں سے مناظرے کیے خود آپ کے مربی استاد و مرشد اعلی حضرت رضی اللہ عنہ آپ کو کئی جگہ مناظرے کے لیے بھیجا آپ نے طالب علمی کے زمانے میں بریلی شریف میں اپنے ہم درس سید عبد الرشید عظیم آبادی کے ساتھ جا کر اشرف علی تھانوی سے بحث و مناظرہ کیا اور اسے لاجواب کر دیا آپ نے اپنے فتاوی میں دیوبندیوں، شیعوں، غیر مقلدوں، وہابیوں سب کا رد کیا اور اہل سنت کا پرچم ہمیشہ بلند رکھا آپ نے بائیس سال کی عمر میں میوات میں ١٣٢٦ھ میں وہابیوں دیوبندیوں سے مناظرہ کیا اور فاتح رہے اس کی روداد اپنی کتاب شکست سفاہت میں بیان فرمائی
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے راندیر مناظرہ کے لیے بھیجا جہاں آپ نے وہابیوں دیوبندیوں کو خاموش کر دیا ١٩٢٥ء میں پٹنہ ضلع لوگرا میں غیر مقلدوں وہابیوں سے مناظرہ کیا وہابی مناظر آپ کے سامنے نہیں آیا اور وہابیوں کی ذلت آمیز شکست ہوئی جس کو دیکھ کر سامعین میں سے دو سو سے زیادہ غیر مقلد آپ کے دست حق پرست پر تائب ہوئے آپ کی نو کتابیں بد مذہبوں سے رد و مناظرہ کے موضوع پر ہیں
پٹنہ میں ایک مرتبہ چاند کے مسئلے پر وہابیوں نے طوفان اٹھا رکھا تھا آپ نے اپنی کتاب عید کا چاند میں مولانا شاہ فرید الحق عمادی کو جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
امسال وہابیوں اور امارتیوں نے محض ریڈیو اور فون پر روضہ توڑا اور دوسروں کا روضہ توڑوایا اس لیے ارادہ ہے کہ مشاہیر علما سے فتاوی حاصل کر کے ایک کمیٹی بنا دی جائے کہ اس کے اعلان کے بغیر لوگ عید میں کسی کی بات نہ سنیں اور کمیٹی کا اصول و دستور حسب فتاوی علما ہوگا
غرض اعلی حضرت کے شیر ہمارے سرکار ملک العلما زندگی بھر تصلب فی الدین کی تصویر تھے بد مذہبوں کا تعاقب کرنا اور ان سے دور و نفور رہنا ان کا شیوہ رہا اسی لیے اعلی حضرت رضی اللہ عنہ آپ کو دعا دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں
میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں
[علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کی لکھی ہوئی تقریر مکمل ہوئی]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
متذکرہ بالا تقریر علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ نے لکھ کر راقم الحروف کو عنایت فرمائی میں نے اسے زبانی یاد کی اور مقررہ تاریخ میں دار العلوم مفتی اعظم پھول گلی ممبئی پہنچا میرا نام لیا گیا میں نے تقریر کی اور وہیں بیٹھا رہا کچھ دیر کے بعد علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ تشریف لائے سب کھڑے ہو گئے میں اس منظر کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا اور دل ہی دل میں سوچا کہ علامہ ساحل شہسرامی کی تعظیم کے لیے اتنے بڑے بڑے علما جو عمر میں بھی بہت بڑے ہیں کھڑے ہو گئے پھر جب رات ہوئی تو جلسے میں نقیب صاحب ممبر رسول میں بیٹھے ہوئے علما کا تعارف پیش کر رہے تھے جب علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کا نام لیا تو اخیر میں بولا یہ کیا کیا ہیں میں آپ حضرات کو کیا بتاؤں یعنی بہت کچھ ہیں جس کی وجہ سے میرے دل میں ان کی محبت اور راسخ ہو گئی اور ان کا علمی قد دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی اختتام جلسہ پر تمام شرکاء مقابلہ کو حضور سراج ملت خلیفۂ تاجدار اہل سنت مفتی اعظم ہند علامہ سید سراج اظہر قدس سرہ نے انعامات تقسیم کیے انھیں انعامات میں مجھے ایک کتاب خطرہ کی گھنٹی ملی جو طاہر القادری کی تردید میں لکھی گئی ہے تبھی سے میں واصف عیسائی و یہودی طاہر القادری کے باطل عقائد و نظریات سے واقف ہوں
غرض یہ کہ علامہ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی کی رہنمائی راقم الحروف کو ہر موڑ پر حاصل رہی جس کی وجہ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا آج ان کے جیسا ایک مخلص مربی کی تلاش راقم الحروف کو ہے اللہ کرے کہ جلد ملائے اور حضرت علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کے درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

یادگار ساحل بقلم ساحل [حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

یادگار ساحل بقلم ساحل [حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی
تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر: 9523788434
٢٠١٤ء میں راقم الحروف جامعہ قادریہ کنز الایمان ممبئی اندھیری [بانی ادارہ خلیفۂ تاج الشریعہ ناصر ملت حضرت مولانا غلام ناصر دام ظلہ العالی] میں دورۂ حفظ میں زیر تعلیم تھا دار العلوم مفتی اعظم پھول گلی ممبئی [بانی ادارہ خلیفۂ مفتی اعظم ہند حضور سراج ملت علامہ سید سراج اظہر قدس سرہ] میں تقریری و تحریری مقابلہ کا پروگرام رکھا گیا تھا جس پرگرام میں برائے تقریر حقیر فقیر جسیم اکرم مرکزی غفر لہ المولی القدیر نے بھی حصہ لیا خلیفۂ تاج الشریعہ صاحب تصانیف کثیرہ ادیب شہیر فقیہ عصر خلیق و شفیق حضرت علامہ مفتی ڈاکٹر ارشاد احمد رضوی مصباحی علیگ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی نے تقریر لکھ کر راقم الحروف کو عنایت فرمائی جس کا عنوان ہے
حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین
اس تقریر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کس درجہ محبت ہونی چاہیے اس کو اجاگر کیا گیا ہے اور اسی کی روشنی میں خلیفۂ و تلمیذ اعلی حضرت حضور ملک العلما علامہ مفتی الشاہ سید ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ الباری کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسی محبت و انسیت تھی اور آپ کے اندر کس درجہ تصلب فی الدین تھا دلائل و براہین سے مزین اچھے پیرائے میں پرو کر ثابت کیا گیا ہے یہ تقریر دور حاضر کے خانقاہی غیر خانقاہی تمامی حضرات کے لیے مشعل راہ ہے خصوصاً وہ حضرات جو سب فرقے کے لوگوں کو صحیح بتاتے ہیں اور خود کے صلح کلی ہونے کا پتہ دیتے ہیں اور گستاخان نبی و صحابہ کے ساتھ راہ و رسم رکھتے ہیں ان کے لیے سامان عبرت ہے
مکمل تقریر قارئین کرام کے باصر نواز کرتا ہوں تاکہ پڑھ کر راقم الحروف کو دعاؤں سے نوازیں اور حضرت علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کے لیے بلندی درجات کی دعا فرمائیں
تقریر ________
حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مُّحَمَّدࣱ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِینَ مَعَهُۥۤ أَشِدَّاۤءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَاۤءُ بَیۡنَهُمۡۖ {سورة الفتح}
لَّا تَجِدُ قَوۡمࣰا یُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِ یُوَاۤدُّونَ مَنۡ حَاۤدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوۤا۟ ءَابَاۤءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَاۤءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَ ٰ⁠نَهُمۡ أَوۡ عَشِیرَتَهُمۡۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ كَتَبَ فِی قُلُوبِهِمُ ٱلۡإِیمَـٰنَ وَأَیَّدَهُم بِرُوحࣲ مِّنۡهُۖ {سورة المجادلة}
حضرات محترم مدینے کے آقا ہم سب کے داتا حضور پُرنور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ گوہر بار میں جھوم جھوم کر درد و سلام کی ڈالیاں نچاور کریں اور پڑھیں بآواز بلند
اللھم صلی علی سیدنا و مولانا محمد معدن الجود و الکرم و آلہ الکرام و ابنہ الکریم و آلہ و بارک و سلم
حضرات محترم میں نے ابھی ابھی آپ کے سامنے جس آیت کریمہ کی تلاوت کا شرف حاصل کیا ہے اس کا ترجمہ اعلی حضرت کنز الکرامت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ یوں قلم بند کرتے ہیں
محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں رحم دل۔
تم نہ پاؤگے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سےجنھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگر چہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اسی لیے تو ڈاکٹر اقبال ارشاد فرماتے ہیں
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
حضور سرور کائنات فخر موجودات سید المرسلین خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے والہانہ عشق کا تقاضا ہے کہ اللہ و رسول کے دشمنوں سے عداوت اور دوری رکھی جائے یہ عمل اللہ کی بارگاہ میں بے حد مقبول ہے۔ حدیث پاک میں ہے
احب الاعمال الی اللہ الحب فی اللہ و البغض فی اللہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے کے لیے اللہ کے محبوبوں سے سے محبت کرے اور اللہ کی رضا کے لیے اس کے دشمنوں سے نفرت کرے
اسی لیے تو سرکار اعلی حضرت امام عشق و محبت کنز الکرامت جبل الاستقامت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ پکار اٹھتے ہیں
دشمن احمد پہ شدت کیجیے
ملحدوں کی کیا مروت کیجیے
شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب
اس برے مذہب پہ لعنت کیجیے
غیظ میں جل جائے بے دینوں کے دل
یا رسول اللہ کی کثرت کیجیے
حضرات گرامی سورۂ فتح کی میں نے جس آیت کریمہ کی تلاوت کا شرف حاصل کیا ہے اس میں اللہ رب العزت عاشقان رسول حضرات صحابۂ کرام کی مدح فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے
مُّحَمَّدࣱ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِینَ مَعَهُۥۤ أَشِدَّاۤءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَاۤءُ بَیۡنَهُمۡۖ {سورة الفتح}
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے دشمنوں پر شدت اور اللہ کے دوستوں اور مسلمانوں پر رحمت اللہ کو اس قدر محبوب ہے کہ خود قرآن میں اس کی مدحت میں آیت کریمہ اتارتا ہے اسے اپنی پسندیدگی کی نشانی قرار دیتا ہے اسے اپنی محبت کی علامت فرماتا ہے جبھی ڈاکٹر اقبال بندۂ مومن کی پہچان یہ بتاتے ہیں
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
دوسری آیت کریمہ میں حضرات صحابہ خاص طور سے حضور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شان میں ارشاد فرماتا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ و رسول سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان بارگاہوں کی دشمنوں اور گستاخوں سے یاری نہیں کر سکتے دوستی نہیں کر سکتے انھیں اپنا نہیں سمجھ سکتے ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں قائم کر سکتے اگر چہ وہ دنیاوی رشتے میں کچھ بھی لگتے ہوں چاہے وہ بھائی ہوں یا باپ چچا ہوں یا دادا، دادیہالی رشتہ دار ہوں یا نانیہالی یا بیوی کے گھر والے ہوں یا شوہر کے اگر وہ اللہ و رسول سے کٹ گئے تو پھر ان سے کوئی رشتہ نہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تصلب فی الدین اللہ تعالی کو کس قدر محبوب اور مطلوب ہے اسی لیے سرکار مفتی اعظم کے پیر و مرشد سرکار نور سید شاہ ابو الحسین احمد نوری قدس سرہ فرماتے ہیں
اپنے سچے دین پر اتنے سخت اور مضبوط ہوں کہ دوسرے متعصب جانیں، اس لیے کہ دین حق میں مضبوطی پسندیدہ بات ہے اور دین باطل پر مضبوطی حماقت اور بری چیز ہے
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ حضور ملک العلما فاضل بہار سید شاہ محمد ظفر الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ میں اللہ و رسول جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و تصلب فی الدین کس درجہ موجود تھا حضور سرکار ملک العلما فاضل بہار سید شاہ ظفر الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ جو بہار کی نامور سر زمین میں پیدا ہوئے ١٠ محرم الحرام ١٣٠٣ھ میں ایک دیندار سید گھرانے میں آپ کی آنکھ کھلی اور مختلف مدارس سے ہوتے ہوئے سرکار اعلی حضرت امام عشق و محبت کنز الکرامت جبل الاستقامت عاشق ماہ رسالت مجدد دین و ملت الشاہ احمد رضا خان قادری رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں کیا پہنچے کہ ذرہ سے آفتاب بن گئے قطرہ سے دریا بن گئے ظفر الدین سے ملک العلما بن گئے وہی اعلی حضرت جن کے بارے میں انھیں کے نیاز مند فاتح یورپ و ایشیا حضرت علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اس سے سوا تم ہو
قسیم جام عرفان اے شہ احمد رضا تم ہو
ملک العلما اسی مجدد وقت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے فیض یافتہ تھے جن کا تصلب فی الدین پوری دنیائے سنیت میں مشہور ہے انھیں کا فرمان عالی شان ہے
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم رب العزت جل جلالہ کے نور ہیں حضور سے صحابہ روشن ہوئے ان سے تابعین روشن ہوئے تابعین سے تبع تابعین روشن ہوئے ان سے ائمۂ مجتہدین روشن ہوئے ان سے ہم روشن ہوئے اب ہم تم سے کہتے ہیں یہ نور ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت ہے کہ تم ہم سے روشن ہو،
وہ نور یہ ہے کہ اللہ و رسول کی سچی محبت ان کی تعظیم اور ان کے دوستوں کی خدمت اور ان کی تکریم اور ان کے دشمنوں سے سچی عداوت جس سے خدا اور رسول کی شان میں ادنی بھی توہین پاؤ پھر وہ تمہارا کیسا ہی پیارا کیوں نہ ہو فورا اس سے جدا ہو جاؤ جس کو بارگاہ رسالت میں ذرا بھی گستاخ دیکھو پھر وہ تمہارا کیسا ہی بزرگ معظم کیوں نہ ہو اپنے اندر سے اسے دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو
تو بھلا حضرت ملک العلما کا تصلب فی الدین کیسا ہوگا اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے حضرت ملک العلما پوری زندگی تصلب فی الدین کی فکری اور عملی تصویر تھے آپ نے ہمیشہ احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ انجام دیا وہابیوں غیر مقلدوں سے مناظرے کیے خود آپ کے مربی استاد و مرشد اعلی حضرت رضی اللہ عنہ آپ کو کئی جگہ مناظرے کے لیے بھیجا آپ نے طالب علمی کے زمانے میں بریلی شریف میں اپنے ہم درس سید عبد الرشید عظیم آبادی کے ساتھ جا کر اشرف علی تھانوی سے بحث و مناظرہ کیا اور اسے لاجواب کر دیا آپ نے اپنے فتاوی میں دیوبندیوں، شیعوں، غیر مقلدوں، وہابیوں سب کا رد کیا اور اہل سنت کا پرچم ہمیشہ بلند رکھا آپ نے بائیس سال کی عمر میں میوات میں ١٣٢٦ھ میں وہابیوں دیوبندیوں سے مناظرہ کیا اور فاتح رہے اس کی روداد اپنی کتاب شکست سفاہت میں بیان فرمائی
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے راندیر مناظرہ کے لیے بھیجا جہاں آپ نے وہابیوں دیوبندیوں کو خاموش کر دیا ١٩٢٥ء میں پٹنہ ضلع لوگرا میں غیر مقلدوں وہابیوں سے مناظرہ کیا وہابی مناظر آپ کے سامنے نہیں آیا اور وہابیوں کی ذلت آمیز شکست ہوئی جس کو دیکھ کر سامعین میں سے دو سو سے زیادہ غیر مقلد آپ کے دست حق پرست پر تائب ہوئے آپ کی نو کتابیں بد مذہبوں سے رد و مناظرہ کے موضوع پر ہیں
پٹنہ میں ایک مرتبہ چاند کے مسئلے پر وہابیوں نے طوفان اٹھا رکھا تھا آپ نے اپنی کتاب عید کا چاند میں مولانا شاہ فرید الحق عمادی کو جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
امسال وہابیوں اور امارتیوں نے محض ریڈیو اور فون پر روضہ توڑا اور دوسروں کا روضہ توڑوایا اس لیے ارادہ ہے کہ مشاہیر علما سے فتاوی حاصل کر کے ایک کمیٹی بنا دی جائے کہ اس کے اعلان کے بغیر لوگ عید میں کسی کی بات نہ سنیں اور کمیٹی کا اصول و دستور حسب فتاوی علما ہوگا
غرض اعلی حضرت کے شیر ہمارے سرکار ملک العلما زندگی بھر تصلب فی الدین کی تصویر تھے بد مذہبوں کا تعاقب کرنا اور ان سے دور و نفور رہنا ان کا شیوہ رہا اسی لیے اعلی حضرت رضی اللہ عنہ آپ کو دعا دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں
میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں
[علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کی لکھی ہوئی تقریر مکمل ہوئی]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
متذکرہ بالا تقریر علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ نے لکھ کر راقم الحروف کو عنایت فرمائی میں نے اسے زبانی یاد کی اور مقررہ تاریخ میں دار العلوم مفتی اعظم پھول گلی ممبئی پہنچا میرا نام لیا گیا میں نے تقریر کی اور وہیں بیٹھا رہا کچھ دیر کے بعد علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ تشریف لائے سب کھڑے ہو گئے میں اس منظر کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا اور دل ہی دل میں سوچا کہ علامہ ساحل شہسرامی کی تعظیم کے لیے اتنے بڑے بڑے علما جو عمر میں بھی بہت بڑے ہیں کھڑے ہو گئے پھر جب رات ہوئی تو جلسے میں نقیب صاحب ممبر رسول میں بیٹھے ہوئے علما کا تعارف پیش کر رہے تھے جب علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کا نام لیا تو اخیر میں بولا یہ کیا کیا ہیں میں آپ حضرات کو کیا بتاؤں یعنی بہت کچھ ہیں جس کی وجہ سے میرے دل میں ان کی محبت اور راسخ ہو گئی اور ان کا علمی قد دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی اختتام جلسہ پر تمام شرکاء مقابلہ کو حضور سراج ملت خلیفۂ تاجدار اہل سنت مفتی اعظم ہند علامہ سید سراج اظہر قدس سرہ نے انعامات تقسیم کیے انھیں انعامات میں مجھے ایک کتاب خطرہ کی گھنٹی ملی جو طاہر القادری کی تردید میں لکھی گئی ہے تبھی سے میں واصف عیسائی و یہودی طاہر القادری کے باطل عقائد و نظریات سے واقف ہوں
غرض یہ کہ علامہ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی کی رہنمائی راقم الحروف کو ہر موڑ پر حاصل رہی جس کی وجہ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا آج ان کے جیسا ایک مخلص مربی کی تلاش راقم الحروف کو ہے اللہ کرے کہ جلد ملائے اور حضرت علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کے درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
Author Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate
اس کاتب کی جملہ مضامین 39

فخر اہل سنت ایوارڈ و ناموس صحابہ و اہل بیت ایوارڈ

تمرن مناظرہ کی ایک جھلک______

اوراد و وظائف

سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات

#سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات ​کائنات کی بساط پر جب جمعہ کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ صرف ایک دن کا آغاز نہیں ہوتا بلکہ رحمتوں...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟ @مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 جب زمین کی پیاسی مٹی آسمان کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے، جب...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
اصلاح معاشرہ

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 8446974711 تاریخِ انسانی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے بلند...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
فقہ وفتاویٰ

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا اے قومِ مسلم! طلاق جیسے نازک مسئلہ کو مذاق نہ بناؤ #✍️ مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 👈 آج کے...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
تاریخی حقائق

دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی

#دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی (اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا واحد حل ہے) ​اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تاریخی حقائق

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج @از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافت...

Muhammad Anas Raza Haami
متفرقات

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح * عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے...

Amir Fuzail Markazi
حکایات

حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ

#حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ [رضی اللہ عنھما] از: محمد جسیم اکرم مرکزی نزیل: دراسہ، قاہرہ، مصر رابطہ: 9523788434 قاہرہ، مصر میں موجود حضرت سیدہ نفیسہ رضی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

فقہ حنفی کی جامعیت

فقہ حنفی کی جامعیت اسلامی شریعت کے استنباط اور عملی تطبیق کے لیے جو فقہی مکاتبِ فکر وجود میں آئے، ان میں فقہ حنفی کو ایک مرکزی اور تاریخی امتیاز...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی...

Amir Fuzail Markazi
ترغیبات

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….! دینی مدارس و مکاتب قوم مسلم کے قلعے،شریعت مطہرہ کے محافظ اور امت کے فکری نگراں ہیں ان کا قیام محض...

Md Razaullah Quadri Markazi
رد دیوبندیت ووہابیت

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی کل امتیاز پلاموی دیوبندی کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں اس نے فقیر قادری کی...

Amir Fuzail Markazi
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب...

Amir Fuzail Markazi
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟ روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد...

Amir Fuzail Markazi
ادبیات

سخنِ دل

#سخنِ دل دنیا ایک ایسی مسافر سرائے ہے، جہاں ہر راہی اپنے حصے کا سفر طے کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لمحے کے لیے کسی کے ساتھ چلتا...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم @از قلم: محمد جسیم اکرم مرکزی تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف 9523788434 @ گستاخ چار یار تبرائی رافضی تیرا ٹھکانہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال وطن

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا انداز عشق سب کا الگ الگ ہوتا ہے کوئی قریب رہ کر بھی بہت دور ہوتا ہے کوئی دور ہو کر...

Mufti Jasim Akram Markazi
شخصیات اسلاف واخلاف

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری) مہینوں بعد امید کی کرن پھوٹی غنچۂ دل کھل اٹھا پژمردہ چمن شاداب ہوا کشت ویراں میں...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ ملک کے ناگفتہ بہ حالات کسی پر مخفی نہیں ہیں ہر طرف سے مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟

*فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟* اللہ جل و علا کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب سرکار کائنات فخر موجودات انیس بے کساں وجہ تخلیق جہاں صلی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اشک فشاں گفت و شنید

اشک فشاں گفت و شنید آج بتاریخ 5 ذو القعدہ 1445ھ بمطابق 15 مئ 2024ء امیر القلم ماہر رضویات شمس الملت علامہ ڈاکٹر غلام جابر مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ سے...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں

*تکفیر اصول تکفیر [تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں]* "بسم الله الرحمن الرحيم الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات

*اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات* "لك الحمد يا الله والصلاۃ والسلام علیك یا رسول اللہ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
ادبیات

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی "الله الله اللهُ مَالِي رَبِّ إِلَّا هُوَ يَفْنَى الْكُلُّ وَيَبْقَى هُوَ لَيْسَ الْبَاقِي إِلَّا هُوَ" "اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم...

Mufti Jasim Akram Markazi
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 9
اصلاح معاشرہ 9
ادبیات 8
احوال قوم وملت 8
نمایاں مضامین 6
احوال وطن 5
فقہ، اصول فقہ 3
تاریخی حقائق 3
فقہ وفتاویٰ 3
عقائد و نظریات 2
اوراد و وظائف 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
سیرت النبی ﷺ 1
روداد مناظرہ 1
ترغیبات 1
عبادات 1
تحقیق و تعاقب 1
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 1
دفاع اہل سنت 1
معاملات 1
رد دیوبندیت ووہابیت 1
حکایات 1
متفرقات 1
[markazi_authors]
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح *عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد ہمیشہ فقط داہنی جانب انحراف کرتے ہیں، وہ بھی برائے نام یعنی بعد نماز بس تھوڑے ترچھے ہو جاتے ،یعنی بع...
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذ...
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب اللہ محمد ﷺ فھویعلم ماکان ومایکون وھذاالامر ثابت بالنصوص ال...
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ تاہم، ہر ملت و مسلک میں "عبادت" کا مفہوم اور "مرکزِ عقیدت" کا دائرۂ ک...
معاملات

تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ایک نافع کتاب

* تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں* ایک نافع کتا- سیرت نبوی ﷺ نہ صرف عبادات و معاملات بلکہ معاشرت و معیشت کے ہر گوشے میں بنی نوع انسان کے لیے کامل و اکمل رہنمائی کا منبع ہے۔اسی سنہری کڑی کی وضاحت میں زیر نظر کتاب *تجار...
اصلاح معاشرہ

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورتمدارسِ اسلامیہ امتِ مسلمہ کے وہ مقدس قلعے ہیں جہاں سے صدیوں سے دینِ متین کی آبیاری ہو رہی ہے۔ انہی مدارس کے فیض سے ائمۂ ہدیٰ، محدثینِ عظام، فقہا و مفسرین اور مجاہدینِ دین پیدا ہوئے ج...
کامیابی!
×
Total Profiles: 0