یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

اصلاح معاشرہ
عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے
عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
بائسی، پورنیہ، بہار (ہند)
بائسی، پورنیہ، بہار (ہند)
جان ہے عشق مصطفی روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزا ناز دوا اٹھائے کیوں
جس کو ہو درد کا مزا ناز دوا اٹھائے کیوں
عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم روحِ انسانی کی تسکین ہے، ایمان ہے، بلکہ جانِ ایمان ہے۔ جب تک حضور ﷺ کی محبت والدین، بھائی بہن اور تمام رشتوں سے بڑھ کر نہ ہو، کوئی شخص کامل الایمان نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:

عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے
مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi
عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
بائسی، پورنیہ، بہار (ہند)
بائسی، پورنیہ، بہار (ہند)
جان ہے عشق مصطفی روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزا ناز دوا اٹھائے کیوں
جس کو ہو درد کا مزا ناز دوا اٹھائے کیوں
عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم روحِ انسانی کی تسکین ہے، ایمان ہے، بلکہ جانِ ایمان ہے۔ جب تک حضور ﷺ کی محبت والدین، بھائی بہن اور تمام رشتوں سے بڑھ کر نہ ہو، کوئی شخص کامل الایمان نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
لا يُؤْمِنُ أحَدُكُمْ، حتّى أكُونَ أحَبَّ إلَيْهِ مِن والِدِهِ ووَلَدِهِ والنّاسِ أجْمَعِينَ. [صحیح بخاری شریف]
اللہ کی سرتا بقدم شان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان، وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انھیں
ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان، وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انھیں
ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ
حضور ﷺ کی شان اقدس میں ادنیٰ سی توہین و تنقیص بھی سببِ زوالِ ایمان ہے کفر و ارتداد ہے۔ ناموسِ رسالت کی حفاظت و صیانت ہر مومن کو جان و مال، آل و اولاد، ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی حرمتِ رسول ﷺ کی بات آتی ہے تو ہر بے ہنگم صورت میں مسلمان تڑپ اٹھتے ہیں اور اپنی محبتوں کا والہانہ اظہار کرتے ہوئے زبانِ حال سے کہتے ہیں:
اک جان ہی کیا گر ہوں کررورں شہ طیبہ
سب آپ کی ناموس پہ سرشار کریں گے
ہم بھی ہیں غلامانِ ابو بکرِ مدینہ
کیونکر نہ فدا آپ پہ گھر بار کریں گے
سب آپ کی ناموس پہ سرشار کریں گے
ہم بھی ہیں غلامانِ ابو بکرِ مدینہ
کیونکر نہ فدا آپ پہ گھر بار کریں گے
معاندین کی گھناؤنی سازش ـــــــــــــــــ
دورِ حاضر میں جب دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کے اس جذبۂ ایثار کو دیکھا تو انہوں نے اپنی خبیث زبانوں کو نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کے لیے کھولا، تاکہ مسلمان مشتعل ہوں، احتجاج کریں، تاکہ ان معاندین کی تشہیر ہو اور وہ اپنے حلقے میں نمایاں ہو جائیں۔ کچھ بدبخت اپنی اس سازش میں کامیاب بھی ہوگئے۔ آج یہ ناپاک طریقہ شرپسندوں میں مقبول ہے کہ جس شخص پر شہرت کا جنون سوار ہوتا ہے، حضور پُرنور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے، ناموسِ رسالت پر انگلی اٹھاتا ہے اور مسلمان احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گستاخ اپنی مراد کو پہنچ جاتا ہے اور مسلمانوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
دورِ حاضر میں جب دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کے اس جذبۂ ایثار کو دیکھا تو انہوں نے اپنی خبیث زبانوں کو نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کے لیے کھولا، تاکہ مسلمان مشتعل ہوں، احتجاج کریں، تاکہ ان معاندین کی تشہیر ہو اور وہ اپنے حلقے میں نمایاں ہو جائیں۔ کچھ بدبخت اپنی اس سازش میں کامیاب بھی ہوگئے۔ آج یہ ناپاک طریقہ شرپسندوں میں مقبول ہے کہ جس شخص پر شہرت کا جنون سوار ہوتا ہے، حضور پُرنور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے، ناموسِ رسالت پر انگلی اٹھاتا ہے اور مسلمان احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گستاخ اپنی مراد کو پہنچ جاتا ہے اور مسلمانوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
احتجاج اور مسلمان ــــــــــــــــ
آج کل احتجاج تقریباً ہر ماہ، ہر ہفتے، بلکہ اب ہر روز کسی نہ کسی جگہ ضرور ہوتا ہے۔ فائدہ کتنا ہوتا ہے یہ تو نہیں معلوم، لیکن نقصان سب پر عیاں ہے: گھروں کی بربادی، گولیوں کی بارش، بے شمار زخمی، بیوہ عورتیں اور یتیم بچے۔
ایسی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے: کیا احتجاج کرنا شرعاً درست ہے؟
آج کل احتجاج تقریباً ہر ماہ، ہر ہفتے، بلکہ اب ہر روز کسی نہ کسی جگہ ضرور ہوتا ہے۔ فائدہ کتنا ہوتا ہے یہ تو نہیں معلوم، لیکن نقصان سب پر عیاں ہے: گھروں کی بربادی، گولیوں کی بارش، بے شمار زخمی، بیوہ عورتیں اور یتیم بچے۔
ایسی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے: کیا احتجاج کرنا شرعاً درست ہے؟
مجددِ اعظم، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ ایک سوال کے جواب میں فتاوی رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہیں:
بلاشبہہ سلطنت اسلام کی حمایت اور اماکن مقدسہ کا تحفظ مسلمانوں پر فرض ہے، مگر ہر فرض بقدرِ قدرت ہے اور ہر حکم حسبِ استطاعت۔ جو شخص جو طریقہ برتنا چاہے اسے تین باتیں سوچ لینا ضرور ہے:
اوّل: وہ طریقہ شرعاً جائز ہو، نہ محرمات و کفریات، جیسے آج کل لوگوں نے اختیار کیے ہیں۔
اوّل: وہ طریقہ شرعاً جائز ہو، نہ محرمات و کفریات، جیسے آج کل لوگوں نے اختیار کیے ہیں۔
دوم: وہ طریقہ ممکن بھی ہو، اپنے آپ کو اس کے کرنے پر قدرت ہو کہ غیر مقدوریات کا اٹھانا شرعا بھی ممانعت ہے عقلا بھی حماقت۔
سوم: وہ طریقہ مفید بھی ہو، دقت اٹھائے پریشانی اٹھائے بلا کے لئے سینہ سپر ہو، اور کرے وہ بات جو محض غیر مفید وبے اثر ہو، یہ بھی شرعًا عقلًا کسی طرح مقبول نہیں۔
[فتاویٰ رضویہ، ج ٦، ص ٥-٦]
[فتاویٰ رضویہ، ج ٦، ص ٥-٦]
اسے بار بار پڑھیں اور خود سے سوال کریں کیا جو مطالبہ ہم حکومت سے کر رہے ہیں وہ اسے پورا کرے گی؟ ہمارا احتجاج کرنا مفید ہے؟ با اثر ہے؟
اسی کتاب مبارک میں ایک دوسرے سوال کے جواب میں ہے :
بلاشبہہ حمایت سلطنت اسلامیہ وحفاظت اماکن مقدسہ میں، وسعت و استطاعت کی شرط قرآن عظیم سے ہے، اور اس کے طرق میں جائز و ممکن و مفید کی تحدید شرع قویم وعقل سلیم سے ۔قال اﷲ تعالٰی: لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ ۔ اﷲ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر
وقال اﷲ تعالٰی فَاتَّقُوا اللہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ۔
اور ﷲ تعالٰی نے فرمایا: تو ﷲ تعالٰی سے ڈر و جہاں تک ہو سکے۔
بلاشبہہ حمایت سلطنت اسلامیہ وحفاظت اماکن مقدسہ میں، وسعت و استطاعت کی شرط قرآن عظیم سے ہے، اور اس کے طرق میں جائز و ممکن و مفید کی تحدید شرع قویم وعقل سلیم سے ۔قال اﷲ تعالٰی: لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ ۔ اﷲ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر
وقال اﷲ تعالٰی فَاتَّقُوا اللہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ۔
اور ﷲ تعالٰی نے فرمایا: تو ﷲ تعالٰی سے ڈر و جہاں تک ہو سکے۔
شرع الٰہی عزّوجل منزّہ ہے اس سے کہ ناجائز وحرام یا ناممکن وغیر مقدور یا نامفید عبث کا حکم دے۔
قال ﷲ تعالٰی اِنَّ اللہَ لَایَاۡمُرُ بِالْفَحْشَآءِ ؕ
ﷲ تعالٰی نے فرمایا: بیشك اﷲ تعالٰی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا
وقال تعالٰی: وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ ۔
اللہ تعالی نے فرمایا :اور وہ منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات سے ۔
وقال تعالٰی وَلَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ہم کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت بھر
[فتاوی رضویہ جلد ٦ قدیم ص: ٨]
قال ﷲ تعالٰی اِنَّ اللہَ لَایَاۡمُرُ بِالْفَحْشَآءِ ؕ
ﷲ تعالٰی نے فرمایا: بیشك اﷲ تعالٰی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا
وقال تعالٰی: وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ ۔
اللہ تعالی نے فرمایا :اور وہ منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات سے ۔
وقال تعالٰی وَلَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ہم کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت بھر
[فتاوی رضویہ جلد ٦ قدیم ص: ٨]
حالیہ احتجاج کے نقصانات ـــــــــــــــــــــ
بریلی شریف میں ٢٦ اکتوبر بروز جمعہ کو ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں پولیس نے بلا تفریق لاٹھی چارج کیا، کتنے ہی مسلمان زخمی ہوئے اور کتنے گرفتار ہوئے۔ اس کے بعد حکومت کی طرف سے بیان آیا: مولانا کو پتہ نہیں تھا کہ شاسن کس کا ہے۔۔۔۔۔۔ایسی سزا دیں گے جسے سات نسلیں یاد رکھیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ بات صرف بیان تک محدود نہیں، بلکہ اس پر عمل جاری ہے۔ گھر توڑے جا رہے ہیں، رات کے وقت مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور تھانے میں لے جا کر بے دردی سے زد و کوب کیا جا رہا ہے۔ مدارس میں چھٹیاں ہو گئی ہیں، بیچ چوراہے سے مسلمانوں کو اٹھا لیا جا رہا ہے۔ تعلیم کا خسارہ۔۔۔۔۔ جان کا خسارہ۔۔۔۔۔ مال کا خسارہ۔۔۔۔۔ وقت کا خسارہ۔۔۔۔۔ عزت کا خسارہ۔۔۔۔۔ اور ایسا بھی نہیں کہ لوگوں کے علم میں نہ تھا کہ حکومت کا رد عمل ایسا ہوگا، بلکہ سب کو ظن غالب تھا اور ہے کہ اس وقت مسلمان کچھ بھی کرے فورا انھیں مجرم قرار دے کر کاروائی کی جائے گی، پھر احتجاج کا کیا فائدہ؟ نہ جانے کتنے مسلمان لاٹھی اور گولی کھا کر زخمی ہوئے کتنوں کی جان بھی چلی گئی۔
ترمذی شریف کی حدیث پاک ہے:
لَزَوالُ الدُّنيا أهونُ على اللهِ من قتلِ مسلمٍ
یعنی یقینا اللہ جل جلالہ کے نزدیک پوری دنیا کا زوال ایک مسلمان کے قتل سے زیادہ ہلکا ہے۔
لَزَوالُ الدُّنيا أهونُ على اللهِ من قتلِ مسلمٍ
یعنی یقینا اللہ جل جلالہ کے نزدیک پوری دنیا کا زوال ایک مسلمان کے قتل سے زیادہ ہلکا ہے۔
مسلمان اور عشقِ رسول ﷺ کے تقاضے ــــــــــــ
حضور ﷺ سے عشق کا تقاضا یہ ہے کہ ہم شریعت کے پابند رہیں۔ شریعت ہمیں غیر مفید احتجاج کی ہرگز اجازت نہیں دیتی۔ ناموسِ رسالت کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہے، مگر ہر ایک پر اس کی استطاعت کے مطابق۔ آج کے حالات میں یہ فریضہ زبان و قلم سے ادا کیا جائے، تلوار و سنان سے نہیں، کیوں کہ ہم اس پر قادر نہیں، اور قتل کی سزا دینا حکام کا کام ہے، عام لوگوں کا نہیں۔۔۔۔۔! تو ظاہر ہے کہ ہمارے لیے یہی راستہ ہے کہ ہم زبان و قلم سے اس فریضے کو انجام دیں۔
حسام الحرمین میں ہے: علامہ شیخ حامد احمد محمد الجداوی حفظہ اللہ عن شر کل غبی و غاوی فرماتے ہیں :فان تاب و الا وجب قتلہ و قتالہ و کان فی مستقر سقر مآلہ الا ان القلم احد اللسانین و ان اللسان احد السنانین یعنی پس اگر توبہ کر لے فبہا ورنہ قتل کرے اور قتال کرے اور ان کا ٹھکانہ ٹھیک جہنم میں ہے قلم بھی ایک زبان ہے اور زبان بھی ایک نیزہ ہے [حسام الحرمین ص: ١٥٧]
اس کے حاشیہ میں ہے: یہ احکام تو سلطان اسلام کے لیے ہیں کہ تھوڑے ہوں تو ان کو سزائے موت دے اور جتھا ہو تو ان پر فوج اسلام بھیجے اور علما و عوام کے لیے یہ ہے کہ تحریر و تقریر سے ان کا رد کریں جیسا کہ آگے خود فرمایا ہے کہ قلم بھی ایک زبان ہے اور زبان بھی ایک نیزہ ہے [حسام الحرمین ١٥٧]
اس سے صاف ظاہر ہے کہ علماء کا کام ہے زبان و قلم سے ناموس رسالت کی حفاظت کرنا، گستاخیوں کی تردید کرنا اور حکام کا کام ہے سزا دینا۔ لیکن جہاں اسلامی حکومت نہ ہو تو وہاں کیا کیا جائے؟
وہاں کے لیے مسلمانوں کو یہی حکم ہے کہ بالکلیہ گستاخ رسول سے مقاطعہ کر لیا جائے، زبان و بیان سے اس کی تردید کی جائے اور ممکن ہو تو حکومت سے اس کی سزا کا مطالبہ کیا جائے خود سے قانون ہاتھ میں نہ لیا جائے کہ یہ شرعاً بھی جائز نہیں۔
چنانچہ اسی حسام الحرمین میں ہے:
جان لیجیے کہ دنیا میں گردنیں مارنا بس حکام ہی کے سپرد ہے نہ عام (رعایا) کے۔ جس طرح آخرت میں عذاب دینا صرف ذو الجلال والاکرام کے ہاتھ۔ رہے اور لوگ جو سلاطین و حکام کے سوا ہیں اُن کا فرض فقط زبان سے رد اور بیان سے جھڑکنا اور اہل اسلام کو شیاطین کے میل جول سے بچانا اور کام حکام تک پہونچانا ہے۔ لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ اللہ تعالیٰ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کے بوتے بھر بلکہ حقیقۃََ فقہائے کرام نے کتب فقہ میں مصرح ارشاد فرمایا ہے کہ جو کسی مرتد کو بے حکم بادشاہ قتل کر دے اسے بادشاہ سزا دے۔ جب ممالک اسلامیہ میں یہ حکم ہے تو ان کے ماسوا میں کیسے نہ ہو گا کیوں کہ مرتد کے قاتل کو غیر مسلم حکام یقینی قتل کر دیں گے تو اس ( قتل مرتد ) میں اپنے ہاتھوں اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ اور اللہ تعالی فرماتا ہے وَلَا تُلۡقُوا۟ بِأَیۡدِیكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالو اور اپنے نفس مسلم کو ایک کافر جان کے عوض قتل کے لیے پیش کرنا ہے۔ [حسام الحرمین ١٣٨]
جان لیجیے کہ دنیا میں گردنیں مارنا بس حکام ہی کے سپرد ہے نہ عام (رعایا) کے۔ جس طرح آخرت میں عذاب دینا صرف ذو الجلال والاکرام کے ہاتھ۔ رہے اور لوگ جو سلاطین و حکام کے سوا ہیں اُن کا فرض فقط زبان سے رد اور بیان سے جھڑکنا اور اہل اسلام کو شیاطین کے میل جول سے بچانا اور کام حکام تک پہونچانا ہے۔ لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ اللہ تعالیٰ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کے بوتے بھر بلکہ حقیقۃََ فقہائے کرام نے کتب فقہ میں مصرح ارشاد فرمایا ہے کہ جو کسی مرتد کو بے حکم بادشاہ قتل کر دے اسے بادشاہ سزا دے۔ جب ممالک اسلامیہ میں یہ حکم ہے تو ان کے ماسوا میں کیسے نہ ہو گا کیوں کہ مرتد کے قاتل کو غیر مسلم حکام یقینی قتل کر دیں گے تو اس ( قتل مرتد ) میں اپنے ہاتھوں اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ اور اللہ تعالی فرماتا ہے وَلَا تُلۡقُوا۟ بِأَیۡدِیكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالو اور اپنے نفس مسلم کو ایک کافر جان کے عوض قتل کے لیے پیش کرنا ہے۔ [حسام الحرمین ١٣٨]
احتجاج اور اتحاد ــــــــــــــــــــــــــ
احتجاج اسی وقت کار گر ثابت ہو سکتا ہے جب سب مل کر کریں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی شہر میں، ایک ہی قصبے میں، روزانہ احتجاج ہو رہا ہے، لیکن آج فلاں گاؤں سے، کل فلاں گاؤں سے، احتجاجی ریلیاں نکلتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں کوئی فائدہ تو نہیں لیکن جانی مالی نقصان بکثرت ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ایک شہر کے سارے حضرات جن میں علما، وکلا، نیتا سب یکجا ہو کر کوئی لائحۂ عمل تیار کریں تو مفید و کارگر ثابت ہو سکتا ہے، خواہ وہ احتجاج ہی کیوں نہ ہو لیکن ہم دیکھتے ہیں ہمارے درمیان اتحاد ہی کا فقدان ہے تو ظاہر ہے کہ کوئی بھی آسانی سے ہم پر حاوی ہو سکتا ہے۔
احتجاج اسی وقت کار گر ثابت ہو سکتا ہے جب سب مل کر کریں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی شہر میں، ایک ہی قصبے میں، روزانہ احتجاج ہو رہا ہے، لیکن آج فلاں گاؤں سے، کل فلاں گاؤں سے، احتجاجی ریلیاں نکلتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں کوئی فائدہ تو نہیں لیکن جانی مالی نقصان بکثرت ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ایک شہر کے سارے حضرات جن میں علما، وکلا، نیتا سب یکجا ہو کر کوئی لائحۂ عمل تیار کریں تو مفید و کارگر ثابت ہو سکتا ہے، خواہ وہ احتجاج ہی کیوں نہ ہو لیکن ہم دیکھتے ہیں ہمارے درمیان اتحاد ہی کا فقدان ہے تو ظاہر ہے کہ کوئی بھی آسانی سے ہم پر حاوی ہو سکتا ہے۔
راقم الحروف کے استاذ علامہ عاشق حسین کشمیری دام ظلہ العالی نے ایک حکایت بیان کی: جنگل میں دو بیل ایک ساتھ رہتے تھے۔ ایک کا رنگ کالا تھا دوسرے کا سفید۔ شیر یہ چاہتا تھا کہ دونوں کا شکار کر لے، لیکن نہیں کر پاتا تھا۔ بارہا کوشش کرتا لیکن ناکام ہو جاتا۔ پھر اس کو کسی جانور نے مشورہ دیا کہ پہلے دونوں کے اتحاد کو توڑ دو، اس کے بعد ایک کو اپنا ساتھی بنا لو اور دوسرے پر حملہ کر دو۔ شیر نے یہی کیا، پہلے دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور کالے بیل کو اپنا ساتھی بنا لیا، پھر اس کے ساتھ مل کر سفید بیل پر حملہ کر کے کھا لیا۔ کچھ دن بعد کالے بیل پر بھی شیر نے حملہ کرنا چاہا تو کالے بیل نے کہا میں تو اسی دن مر گیا تھا جس دن سفید بیل سے الگ ہوا تھا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: اتحاد زندگی اور اختلاف موت ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
متحدہ ہو تو بدل ڈالو نظام گلشن
مختلف ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو
مختلف ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو
خلاصۂ کلام ــــــــــــــــ
حضور ﷺ سے عشق کا تقاضا یہی ہے کہ شریعت کی پیروی کی جائے، دائرۂ شریعت میں رہ کر افعال انجام دیے جائیں۔ اللہ تعالی نے جس کا مکلف بنایا وہی کریں، یہ نہیں کہ جو کام حکمرانوں کا ہے، عوام اس کی انجام دہی میں کمر بستہ ہو جائیں۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ زبان و قلم سے ناموسِ رسالت کا دفاع کریں، لوگوں کے لیے اس فرق کو واضح کریں، قوم کو حکمت و دانائی کے ساتھ راہِ حق کی طرف متوجہ کریں اور انھیں مشکلوں کے سپرد نہ کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت و دانائی سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ اجمعین
حضور ﷺ سے عشق کا تقاضا یہی ہے کہ شریعت کی پیروی کی جائے، دائرۂ شریعت میں رہ کر افعال انجام دیے جائیں۔ اللہ تعالی نے جس کا مکلف بنایا وہی کریں، یہ نہیں کہ جو کام حکمرانوں کا ہے، عوام اس کی انجام دہی میں کمر بستہ ہو جائیں۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ زبان و قلم سے ناموسِ رسالت کا دفاع کریں، لوگوں کے لیے اس فرق کو واضح کریں، قوم کو حکمت و دانائی کے ساتھ راہِ حق کی طرف متوجہ کریں اور انھیں مشکلوں کے سپرد نہ کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت و دانائی سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ اجمعین










