صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Loading
[custom_header]
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
Featured Banner
اصلاح معاشرہ

عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
بائسی، پورنیہ، بہار (ہند)
جان ہے عشق مصطفی روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزا ناز دوا اٹھائے کیوں
عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم روحِ انسانی کی تسکین ہے، ایمان ہے، بلکہ جانِ ایمان ہے۔ جب تک حضور ﷺ کی محبت والدین، بھائی بہن اور تمام رشتوں سے بڑھ کر نہ ہو، کوئی شخص کامل الایمان نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
لا يُؤْمِنُ أحَدُكُمْ، حتّى أكُونَ أحَبَّ إلَيْهِ مِن والِدِهِ ووَلَدِهِ والنّاسِ أجْمَعِينَ. [صحیح بخاری شریف]
اللہ کی سرتا بقدم شان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان، وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انھیں
ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ
حضور ﷺ کی شان اقدس میں ادنیٰ سی توہین و تنقیص بھی سببِ زوالِ ایمان ہے کفر و ارتداد ہے۔ ناموسِ رسالت کی حفاظت و صیانت ہر مومن کو جان و مال، آل و اولاد، ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی حرمتِ رسول ﷺ کی بات آتی ہے تو ہر بے ہنگم صورت میں مسلمان تڑپ اٹھتے ہیں اور اپنی محبتوں کا والہانہ اظہار کرتے ہوئے زبانِ حال سے کہتے ہیں:
اک جان ہی کیا گر ہوں کررورں شہ طیبہ
سب آپ کی ناموس پہ سرشار کریں گے
ہم بھی ہیں غلامانِ ابو بکرِ مدینہ
کیونکر نہ فدا آپ پہ گھر بار کریں گے
معاندین کی گھناؤنی سازش ـــــــــــــــــ
دورِ حاضر میں جب دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کے اس جذبۂ ایثار کو دیکھا تو انہوں نے اپنی خبیث زبانوں کو نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کے لیے کھولا، تاکہ مسلمان مشتعل ہوں، احتجاج کریں، تاکہ ان معاندین کی تشہیر ہو اور وہ اپنے حلقے میں نمایاں ہو جائیں۔ کچھ بدبخت اپنی اس سازش میں کامیاب بھی ہوگئے۔ آج یہ ناپاک طریقہ شرپسندوں میں مقبول ہے کہ جس شخص پر شہرت کا جنون سوار ہوتا ہے، حضور پُرنور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے، ناموسِ رسالت پر انگلی اٹھاتا ہے اور مسلمان احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گستاخ اپنی مراد کو پہنچ جاتا ہے اور مسلمانوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
احتجاج اور مسلمان ــــــــــــــــ
آج کل احتجاج تقریباً ہر ماہ، ہر ہفتے، بلکہ اب ہر روز کسی نہ کسی جگہ ضرور ہوتا ہے۔ فائدہ کتنا ہوتا ہے یہ تو نہیں معلوم، لیکن نقصان سب پر عیاں ہے: گھروں کی بربادی، گولیوں کی بارش، بے شمار زخمی، بیوہ عورتیں اور یتیم بچے۔
ایسی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے: کیا احتجاج کرنا شرعاً درست ہے؟
مجددِ اعظم، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ ایک سوال کے جواب میں فتاوی رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہیں:
بلاشبہہ سلطنت اسلام کی حمایت اور اماکن مقدسہ کا تحفظ مسلمانوں پر فرض ہے، مگر ہر فرض بقدرِ قدرت ہے اور ہر حکم حسبِ استطاعت۔ جو شخص جو طریقہ برتنا چاہے اسے تین باتیں سوچ لینا ضرور ہے:
اوّل: وہ طریقہ شرعاً جائز ہو، نہ محرمات و کفریات، جیسے آج کل لوگوں نے اختیار کیے ہیں۔
دوم: وہ طریقہ ممکن بھی ہو، اپنے آپ کو اس کے کرنے پر قدرت ہو کہ غیر مقدوریات کا اٹھانا شرعا بھی ممانعت ہے عقلا بھی حماقت۔
سوم: وہ طریقہ مفید بھی ہو، دقت اٹھائے پریشانی اٹھائے بلا کے لئے سینہ سپر ہو، اور کرے وہ بات جو محض غیر مفید وبے اثر ہو، یہ بھی شرعًا عقلًا کسی طرح مقبول نہیں۔
[فتاویٰ رضویہ، ج ٦، ص ٥-٦]
اسے بار بار پڑھیں اور خود سے سوال کریں کیا جو مطالبہ ہم حکومت سے کر رہے ہیں وہ اسے پورا کرے گی؟ ہمارا احتجاج کرنا مفید ہے؟ با اثر ہے؟
اسی کتاب مبارک میں ایک دوسرے سوال کے جواب میں ہے :
بلاشبہہ حمایت سلطنت اسلامیہ وحفاظت اماکن مقدسہ میں، وسعت و استطاعت کی شرط قرآن عظیم سے ہے، اور اس کے طرق میں جائز و ممکن و مفید کی تحدید شرع قویم وعقل سلیم سے ۔قال اﷲ تعالٰی: لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ ۔ اﷲ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر
وقال اﷲ تعالٰی فَاتَّقُوا اللہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ۔
اور ﷲ تعالٰی نے فرمایا: تو ﷲ تعالٰی سے ڈر و جہاں تک ہو سکے۔
شرع الٰہی عزّوجل منزّہ ہے اس سے کہ ناجائز وحرام یا ناممکن وغیر مقدور یا نامفید عبث کا حکم دے۔
قال ﷲ تعالٰی اِنَّ اللہَ لَایَاۡمُرُ بِالْفَحْشَآءِ ؕ
ﷲ تعالٰی نے فرمایا: بیشك اﷲ تعالٰی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا
وقال تعالٰی: وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ ۔
اللہ تعالی نے فرمایا :اور وہ منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات سے ۔
وقال تعالٰی وَلَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ہم کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت بھر
[فتاوی رضویہ جلد ٦ قدیم ص: ٨]
حالیہ احتجاج کے نقصانات ـــــــــــــــــــــ
بریلی شریف میں ٢٦ اکتوبر بروز جمعہ کو ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں پولیس نے بلا تفریق لاٹھی چارج کیا، کتنے ہی مسلمان زخمی ہوئے اور کتنے گرفتار ہوئے۔ اس کے بعد حکومت کی طرف سے بیان آیا: مولانا کو پتہ نہیں تھا کہ شاسن کس کا ہے۔۔۔۔۔۔ایسی سزا دیں گے جسے سات نسلیں یاد رکھیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ بات صرف بیان تک محدود نہیں، بلکہ اس پر عمل جاری ہے۔ گھر توڑے جا رہے ہیں، رات کے وقت مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور تھانے میں لے جا کر بے دردی سے زد و کوب کیا جا رہا ہے۔ مدارس میں چھٹیاں ہو گئی ہیں، بیچ چوراہے سے مسلمانوں کو اٹھا لیا جا رہا ہے۔ تعلیم کا خسارہ۔۔۔۔۔ جان کا خسارہ۔۔۔۔۔ مال کا خسارہ۔۔۔۔۔ وقت کا خسارہ۔۔۔۔۔ عزت کا خسارہ۔۔۔۔۔ اور ایسا بھی نہیں کہ لوگوں کے علم میں نہ تھا کہ حکومت کا رد عمل ایسا ہوگا، بلکہ سب کو ظن غالب تھا اور ہے کہ اس وقت مسلمان کچھ بھی کرے فورا انھیں مجرم قرار دے کر کاروائی کی جائے گی، پھر احتجاج کا کیا فائدہ؟ نہ جانے کتنے مسلمان لاٹھی اور گولی کھا کر زخمی ہوئے کتنوں کی جان بھی چلی گئی۔
ترمذی شریف کی حدیث پاک ہے:
لَزَوالُ الدُّنيا أهونُ على اللهِ من قتلِ مسلمٍ
یعنی یقینا اللہ جل جلالہ کے نزدیک پوری دنیا کا زوال ایک مسلمان کے قتل سے زیادہ ہلکا ہے۔
مسلمان اور عشقِ رسول ﷺ کے تقاضے ــــــــــــ
حضور ﷺ سے عشق کا تقاضا یہ ہے کہ ہم شریعت کے پابند رہیں۔ شریعت ہمیں غیر مفید احتجاج کی ہرگز اجازت نہیں دیتی۔ ناموسِ رسالت کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہے، مگر ہر ایک پر اس کی استطاعت کے مطابق۔ آج کے حالات میں یہ فریضہ زبان و قلم سے ادا کیا جائے، تلوار و سنان سے نہیں، کیوں کہ ہم اس پر قادر نہیں، اور قتل کی سزا دینا حکام کا کام ہے، عام لوگوں کا نہیں۔۔۔۔۔! تو ظاہر ہے کہ ہمارے لیے یہی راستہ ہے کہ ہم زبان و قلم سے اس فریضے کو انجام دیں۔
حسام الحرمین میں ہے: علامہ شیخ حامد احمد محمد الجداوی حفظہ اللہ عن شر کل غبی و غاوی فرماتے ہیں :فان تاب و الا وجب قتلہ و قتالہ و کان فی مستقر سقر مآلہ الا ان القلم احد اللسانین و ان اللسان احد السنانین یعنی پس اگر توبہ کر لے فبہا ورنہ قتل کرے اور قتال کرے اور ان کا ٹھکانہ ٹھیک جہنم میں ہے قلم بھی ایک زبان ہے اور زبان بھی ایک نیزہ ہے [حسام الحرمین ص: ١٥٧]
اس کے حاشیہ میں ہے: یہ احکام تو سلطان اسلام کے لیے ہیں کہ تھوڑے ہوں تو ان کو سزائے موت دے اور جتھا ہو تو ان پر فوج اسلام بھیجے اور علما و عوام کے لیے یہ ہے کہ تحریر و تقریر سے ان کا رد کریں جیسا کہ آگے خود فرمایا ہے کہ قلم بھی ایک زبان ہے اور زبان بھی ایک نیزہ ہے [حسام الحرمین ١٥٧]
اس سے صاف ظاہر ہے کہ علماء کا کام ہے زبان و قلم سے ناموس رسالت کی حفاظت کرنا، گستاخیوں کی تردید کرنا اور حکام کا کام ہے سزا دینا۔ لیکن جہاں اسلامی حکومت نہ ہو تو وہاں کیا کیا جائے؟
وہاں کے لیے مسلمانوں کو یہی حکم ہے کہ بالکلیہ گستاخ رسول سے مقاطعہ کر لیا جائے، زبان و بیان سے اس کی تردید کی جائے اور ممکن ہو تو حکومت سے اس کی سزا کا مطالبہ کیا جائے خود سے قانون ہاتھ میں نہ لیا جائے کہ یہ شرعاً بھی جائز نہیں۔
چنانچہ اسی حسام الحرمین میں ہے:
جان لیجیے کہ دنیا میں گردنیں مارنا بس حکام ہی کے سپرد ہے نہ عام (رعایا) کے۔ جس طرح آخرت میں عذاب دینا صرف ذو الجلال والاکرام کے ہاتھ۔ رہے اور لوگ جو سلاطین و حکام کے سوا ہیں اُن کا فرض فقط زبان سے رد اور بیان سے جھڑکنا اور اہل اسلام کو شیاطین کے میل جول سے بچانا اور کام حکام تک پہونچانا ہے۔ لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ اللہ تعالیٰ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کے بوتے بھر بلکہ حقیقۃََ فقہائے کرام نے کتب فقہ میں مصرح ارشاد فرمایا ہے کہ جو کسی مرتد کو بے حکم بادشاہ قتل کر دے اسے بادشاہ سزا دے۔ جب ممالک اسلامیہ میں یہ حکم ہے تو ان کے ماسوا میں کیسے نہ ہو گا کیوں کہ مرتد کے قاتل کو غیر مسلم حکام یقینی قتل کر دیں گے تو اس ( قتل مرتد ) میں اپنے ہاتھوں اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ اور اللہ تعالی فرماتا ہے وَلَا تُلۡقُوا۟ بِأَیۡدِیكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالو اور اپنے نفس مسلم کو ایک کافر جان کے عوض قتل کے لیے پیش کرنا ہے۔ [حسام الحرمین ١٣٨]
احتجاج اور اتحاد ــــــــــــــــــــــــــ
احتجاج اسی وقت کار گر ثابت ہو سکتا ہے جب سب مل کر کریں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی شہر میں، ایک ہی قصبے میں، روزانہ احتجاج ہو رہا ہے، لیکن آج فلاں گاؤں سے، کل فلاں گاؤں سے، احتجاجی ریلیاں نکلتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں کوئی فائدہ تو نہیں لیکن جانی مالی نقصان بکثرت ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ایک شہر کے سارے حضرات جن میں علما، وکلا، نیتا سب یکجا ہو کر کوئی لائحۂ عمل تیار کریں تو مفید و کارگر ثابت ہو سکتا ہے، خواہ وہ احتجاج ہی کیوں نہ ہو لیکن ہم دیکھتے ہیں ہمارے درمیان اتحاد ہی کا فقدان ہے تو ظاہر ہے کہ کوئی بھی آسانی سے ہم پر حاوی ہو سکتا ہے۔
راقم الحروف کے استاذ علامہ عاشق حسین کشمیری دام ظلہ العالی نے ایک حکایت بیان کی: جنگل میں دو بیل ایک ساتھ رہتے تھے۔ ایک کا رنگ کالا تھا دوسرے کا سفید۔ شیر یہ چاہتا تھا کہ دونوں کا شکار کر لے، لیکن نہیں کر پاتا تھا۔ بارہا کوشش کرتا لیکن ناکام ہو جاتا۔ پھر اس کو کسی جانور نے مشورہ دیا کہ پہلے دونوں کے اتحاد کو توڑ دو، اس کے بعد ایک کو اپنا ساتھی بنا لو اور دوسرے پر حملہ کر دو۔ شیر نے یہی کیا، پہلے دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور کالے بیل کو اپنا ساتھی بنا لیا، پھر اس کے ساتھ مل کر سفید بیل پر حملہ کر کے کھا لیا۔ کچھ دن بعد کالے بیل پر بھی شیر نے حملہ کرنا چاہا تو کالے بیل نے کہا میں تو اسی دن مر گیا تھا جس دن سفید بیل سے الگ ہوا تھا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: اتحاد زندگی اور اختلاف موت ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
متحدہ ہو تو بدل ڈالو نظام گلشن
مختلف ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو
خلاصۂ کلام ــــــــــــــــ
حضور ﷺ سے عشق کا تقاضا یہی ہے کہ شریعت کی پیروی کی جائے، دائرۂ شریعت میں رہ کر افعال انجام دیے جائیں۔ اللہ تعالی نے جس کا مکلف بنایا وہی کریں، یہ نہیں کہ جو کام حکمرانوں کا ہے، عوام اس کی انجام دہی میں کمر بستہ ہو جائیں۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ زبان و قلم سے ناموسِ رسالت کا دفاع کریں، لوگوں کے لیے اس فرق کو واضح کریں، قوم کو حکمت و دانائی کے ساتھ راہِ حق کی طرف متوجہ کریں اور انھیں مشکلوں کے سپرد نہ کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت و دانائی سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ اجمعین

عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
بائسی، پورنیہ، بہار (ہند)
جان ہے عشق مصطفی روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزا ناز دوا اٹھائے کیوں
عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم روحِ انسانی کی تسکین ہے، ایمان ہے، بلکہ جانِ ایمان ہے۔ جب تک حضور ﷺ کی محبت والدین، بھائی بہن اور تمام رشتوں سے بڑھ کر نہ ہو، کوئی شخص کامل الایمان نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
لا يُؤْمِنُ أحَدُكُمْ، حتّى أكُونَ أحَبَّ إلَيْهِ مِن والِدِهِ ووَلَدِهِ والنّاسِ أجْمَعِينَ. [صحیح بخاری شریف]
اللہ کی سرتا بقدم شان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان، وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انھیں
ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ
حضور ﷺ کی شان اقدس میں ادنیٰ سی توہین و تنقیص بھی سببِ زوالِ ایمان ہے کفر و ارتداد ہے۔ ناموسِ رسالت کی حفاظت و صیانت ہر مومن کو جان و مال، آل و اولاد، ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی حرمتِ رسول ﷺ کی بات آتی ہے تو ہر بے ہنگم صورت میں مسلمان تڑپ اٹھتے ہیں اور اپنی محبتوں کا والہانہ اظہار کرتے ہوئے زبانِ حال سے کہتے ہیں:
اک جان ہی کیا گر ہوں کررورں شہ طیبہ
سب آپ کی ناموس پہ سرشار کریں گے
ہم بھی ہیں غلامانِ ابو بکرِ مدینہ
کیونکر نہ فدا آپ پہ گھر بار کریں گے
معاندین کی گھناؤنی سازش ـــــــــــــــــ
دورِ حاضر میں جب دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کے اس جذبۂ ایثار کو دیکھا تو انہوں نے اپنی خبیث زبانوں کو نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کے لیے کھولا، تاکہ مسلمان مشتعل ہوں، احتجاج کریں، تاکہ ان معاندین کی تشہیر ہو اور وہ اپنے حلقے میں نمایاں ہو جائیں۔ کچھ بدبخت اپنی اس سازش میں کامیاب بھی ہوگئے۔ آج یہ ناپاک طریقہ شرپسندوں میں مقبول ہے کہ جس شخص پر شہرت کا جنون سوار ہوتا ہے، حضور پُرنور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے، ناموسِ رسالت پر انگلی اٹھاتا ہے اور مسلمان احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گستاخ اپنی مراد کو پہنچ جاتا ہے اور مسلمانوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
احتجاج اور مسلمان ــــــــــــــــ
آج کل احتجاج تقریباً ہر ماہ، ہر ہفتے، بلکہ اب ہر روز کسی نہ کسی جگہ ضرور ہوتا ہے۔ فائدہ کتنا ہوتا ہے یہ تو نہیں معلوم، لیکن نقصان سب پر عیاں ہے: گھروں کی بربادی، گولیوں کی بارش، بے شمار زخمی، بیوہ عورتیں اور یتیم بچے۔
ایسی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے: کیا احتجاج کرنا شرعاً درست ہے؟
مجددِ اعظم، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ ایک سوال کے جواب میں فتاوی رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہیں:
بلاشبہہ سلطنت اسلام کی حمایت اور اماکن مقدسہ کا تحفظ مسلمانوں پر فرض ہے، مگر ہر فرض بقدرِ قدرت ہے اور ہر حکم حسبِ استطاعت۔ جو شخص جو طریقہ برتنا چاہے اسے تین باتیں سوچ لینا ضرور ہے:
اوّل: وہ طریقہ شرعاً جائز ہو، نہ محرمات و کفریات، جیسے آج کل لوگوں نے اختیار کیے ہیں۔
دوم: وہ طریقہ ممکن بھی ہو، اپنے آپ کو اس کے کرنے پر قدرت ہو کہ غیر مقدوریات کا اٹھانا شرعا بھی ممانعت ہے عقلا بھی حماقت۔
سوم: وہ طریقہ مفید بھی ہو، دقت اٹھائے پریشانی اٹھائے بلا کے لئے سینہ سپر ہو، اور کرے وہ بات جو محض غیر مفید وبے اثر ہو، یہ بھی شرعًا عقلًا کسی طرح مقبول نہیں۔
[فتاویٰ رضویہ، ج ٦، ص ٥-٦]
اسے بار بار پڑھیں اور خود سے سوال کریں کیا جو مطالبہ ہم حکومت سے کر رہے ہیں وہ اسے پورا کرے گی؟ ہمارا احتجاج کرنا مفید ہے؟ با اثر ہے؟
اسی کتاب مبارک میں ایک دوسرے سوال کے جواب میں ہے :
بلاشبہہ حمایت سلطنت اسلامیہ وحفاظت اماکن مقدسہ میں، وسعت و استطاعت کی شرط قرآن عظیم سے ہے، اور اس کے طرق میں جائز و ممکن و مفید کی تحدید شرع قویم وعقل سلیم سے ۔قال اﷲ تعالٰی: لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ ۔ اﷲ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر
وقال اﷲ تعالٰی فَاتَّقُوا اللہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ۔
اور ﷲ تعالٰی نے فرمایا: تو ﷲ تعالٰی سے ڈر و جہاں تک ہو سکے۔
شرع الٰہی عزّوجل منزّہ ہے اس سے کہ ناجائز وحرام یا ناممکن وغیر مقدور یا نامفید عبث کا حکم دے۔
قال ﷲ تعالٰی اِنَّ اللہَ لَایَاۡمُرُ بِالْفَحْشَآءِ ؕ
ﷲ تعالٰی نے فرمایا: بیشك اﷲ تعالٰی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا
وقال تعالٰی: وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ ۔
اللہ تعالی نے فرمایا :اور وہ منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات سے ۔
وقال تعالٰی وَلَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ہم کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت بھر
[فتاوی رضویہ جلد ٦ قدیم ص: ٨]
حالیہ احتجاج کے نقصانات ـــــــــــــــــــــ
بریلی شریف میں ٢٦ اکتوبر بروز جمعہ کو ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں پولیس نے بلا تفریق لاٹھی چارج کیا، کتنے ہی مسلمان زخمی ہوئے اور کتنے گرفتار ہوئے۔ اس کے بعد حکومت کی طرف سے بیان آیا: مولانا کو پتہ نہیں تھا کہ شاسن کس کا ہے۔۔۔۔۔۔ایسی سزا دیں گے جسے سات نسلیں یاد رکھیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ بات صرف بیان تک محدود نہیں، بلکہ اس پر عمل جاری ہے۔ گھر توڑے جا رہے ہیں، رات کے وقت مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور تھانے میں لے جا کر بے دردی سے زد و کوب کیا جا رہا ہے۔ مدارس میں چھٹیاں ہو گئی ہیں، بیچ چوراہے سے مسلمانوں کو اٹھا لیا جا رہا ہے۔ تعلیم کا خسارہ۔۔۔۔۔ جان کا خسارہ۔۔۔۔۔ مال کا خسارہ۔۔۔۔۔ وقت کا خسارہ۔۔۔۔۔ عزت کا خسارہ۔۔۔۔۔ اور ایسا بھی نہیں کہ لوگوں کے علم میں نہ تھا کہ حکومت کا رد عمل ایسا ہوگا، بلکہ سب کو ظن غالب تھا اور ہے کہ اس وقت مسلمان کچھ بھی کرے فورا انھیں مجرم قرار دے کر کاروائی کی جائے گی، پھر احتجاج کا کیا فائدہ؟ نہ جانے کتنے مسلمان لاٹھی اور گولی کھا کر زخمی ہوئے کتنوں کی جان بھی چلی گئی۔
ترمذی شریف کی حدیث پاک ہے:
لَزَوالُ الدُّنيا أهونُ على اللهِ من قتلِ مسلمٍ
یعنی یقینا اللہ جل جلالہ کے نزدیک پوری دنیا کا زوال ایک مسلمان کے قتل سے زیادہ ہلکا ہے۔
مسلمان اور عشقِ رسول ﷺ کے تقاضے ــــــــــــ
حضور ﷺ سے عشق کا تقاضا یہ ہے کہ ہم شریعت کے پابند رہیں۔ شریعت ہمیں غیر مفید احتجاج کی ہرگز اجازت نہیں دیتی۔ ناموسِ رسالت کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہے، مگر ہر ایک پر اس کی استطاعت کے مطابق۔ آج کے حالات میں یہ فریضہ زبان و قلم سے ادا کیا جائے، تلوار و سنان سے نہیں، کیوں کہ ہم اس پر قادر نہیں، اور قتل کی سزا دینا حکام کا کام ہے، عام لوگوں کا نہیں۔۔۔۔۔! تو ظاہر ہے کہ ہمارے لیے یہی راستہ ہے کہ ہم زبان و قلم سے اس فریضے کو انجام دیں۔
حسام الحرمین میں ہے: علامہ شیخ حامد احمد محمد الجداوی حفظہ اللہ عن شر کل غبی و غاوی فرماتے ہیں :فان تاب و الا وجب قتلہ و قتالہ و کان فی مستقر سقر مآلہ الا ان القلم احد اللسانین و ان اللسان احد السنانین یعنی پس اگر توبہ کر لے فبہا ورنہ قتل کرے اور قتال کرے اور ان کا ٹھکانہ ٹھیک جہنم میں ہے قلم بھی ایک زبان ہے اور زبان بھی ایک نیزہ ہے [حسام الحرمین ص: ١٥٧]
اس کے حاشیہ میں ہے: یہ احکام تو سلطان اسلام کے لیے ہیں کہ تھوڑے ہوں تو ان کو سزائے موت دے اور جتھا ہو تو ان پر فوج اسلام بھیجے اور علما و عوام کے لیے یہ ہے کہ تحریر و تقریر سے ان کا رد کریں جیسا کہ آگے خود فرمایا ہے کہ قلم بھی ایک زبان ہے اور زبان بھی ایک نیزہ ہے [حسام الحرمین ١٥٧]
اس سے صاف ظاہر ہے کہ علماء کا کام ہے زبان و قلم سے ناموس رسالت کی حفاظت کرنا، گستاخیوں کی تردید کرنا اور حکام کا کام ہے سزا دینا۔ لیکن جہاں اسلامی حکومت نہ ہو تو وہاں کیا کیا جائے؟
وہاں کے لیے مسلمانوں کو یہی حکم ہے کہ بالکلیہ گستاخ رسول سے مقاطعہ کر لیا جائے، زبان و بیان سے اس کی تردید کی جائے اور ممکن ہو تو حکومت سے اس کی سزا کا مطالبہ کیا جائے خود سے قانون ہاتھ میں نہ لیا جائے کہ یہ شرعاً بھی جائز نہیں۔
چنانچہ اسی حسام الحرمین میں ہے:
جان لیجیے کہ دنیا میں گردنیں مارنا بس حکام ہی کے سپرد ہے نہ عام (رعایا) کے۔ جس طرح آخرت میں عذاب دینا صرف ذو الجلال والاکرام کے ہاتھ۔ رہے اور لوگ جو سلاطین و حکام کے سوا ہیں اُن کا فرض فقط زبان سے رد اور بیان سے جھڑکنا اور اہل اسلام کو شیاطین کے میل جول سے بچانا اور کام حکام تک پہونچانا ہے۔ لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ اللہ تعالیٰ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کے بوتے بھر بلکہ حقیقۃََ فقہائے کرام نے کتب فقہ میں مصرح ارشاد فرمایا ہے کہ جو کسی مرتد کو بے حکم بادشاہ قتل کر دے اسے بادشاہ سزا دے۔ جب ممالک اسلامیہ میں یہ حکم ہے تو ان کے ماسوا میں کیسے نہ ہو گا کیوں کہ مرتد کے قاتل کو غیر مسلم حکام یقینی قتل کر دیں گے تو اس ( قتل مرتد ) میں اپنے ہاتھوں اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ اور اللہ تعالی فرماتا ہے وَلَا تُلۡقُوا۟ بِأَیۡدِیكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالو اور اپنے نفس مسلم کو ایک کافر جان کے عوض قتل کے لیے پیش کرنا ہے۔ [حسام الحرمین ١٣٨]
احتجاج اور اتحاد ــــــــــــــــــــــــــ
احتجاج اسی وقت کار گر ثابت ہو سکتا ہے جب سب مل کر کریں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی شہر میں، ایک ہی قصبے میں، روزانہ احتجاج ہو رہا ہے، لیکن آج فلاں گاؤں سے، کل فلاں گاؤں سے، احتجاجی ریلیاں نکلتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں کوئی فائدہ تو نہیں لیکن جانی مالی نقصان بکثرت ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ایک شہر کے سارے حضرات جن میں علما، وکلا، نیتا سب یکجا ہو کر کوئی لائحۂ عمل تیار کریں تو مفید و کارگر ثابت ہو سکتا ہے، خواہ وہ احتجاج ہی کیوں نہ ہو لیکن ہم دیکھتے ہیں ہمارے درمیان اتحاد ہی کا فقدان ہے تو ظاہر ہے کہ کوئی بھی آسانی سے ہم پر حاوی ہو سکتا ہے۔
راقم الحروف کے استاذ علامہ عاشق حسین کشمیری دام ظلہ العالی نے ایک حکایت بیان کی: جنگل میں دو بیل ایک ساتھ رہتے تھے۔ ایک کا رنگ کالا تھا دوسرے کا سفید۔ شیر یہ چاہتا تھا کہ دونوں کا شکار کر لے، لیکن نہیں کر پاتا تھا۔ بارہا کوشش کرتا لیکن ناکام ہو جاتا۔ پھر اس کو کسی جانور نے مشورہ دیا کہ پہلے دونوں کے اتحاد کو توڑ دو، اس کے بعد ایک کو اپنا ساتھی بنا لو اور دوسرے پر حملہ کر دو۔ شیر نے یہی کیا، پہلے دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور کالے بیل کو اپنا ساتھی بنا لیا، پھر اس کے ساتھ مل کر سفید بیل پر حملہ کر کے کھا لیا۔ کچھ دن بعد کالے بیل پر بھی شیر نے حملہ کرنا چاہا تو کالے بیل نے کہا میں تو اسی دن مر گیا تھا جس دن سفید بیل سے الگ ہوا تھا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: اتحاد زندگی اور اختلاف موت ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
متحدہ ہو تو بدل ڈالو نظام گلشن
مختلف ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو
خلاصۂ کلام ــــــــــــــــ
حضور ﷺ سے عشق کا تقاضا یہی ہے کہ شریعت کی پیروی کی جائے، دائرۂ شریعت میں رہ کر افعال انجام دیے جائیں۔ اللہ تعالی نے جس کا مکلف بنایا وہی کریں، یہ نہیں کہ جو کام حکمرانوں کا ہے، عوام اس کی انجام دہی میں کمر بستہ ہو جائیں۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ زبان و قلم سے ناموسِ رسالت کا دفاع کریں، لوگوں کے لیے اس فرق کو واضح کریں، قوم کو حکمت و دانائی کے ساتھ راہِ حق کی طرف متوجہ کریں اور انھیں مشکلوں کے سپرد نہ کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت و دانائی سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ اجمعین
Author Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate
اس کاتب کی جملہ مضامین 39

حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر

امام اعظم اور قیاس سے استدلال [ایک جائزہ]

اوراد و وظائف

سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات

#سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات ​کائنات کی بساط پر جب جمعہ کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ صرف ایک دن کا آغاز نہیں ہوتا بلکہ رحمتوں...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟ @مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 جب زمین کی پیاسی مٹی آسمان کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے، جب...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
اصلاح معاشرہ

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 8446974711 تاریخِ انسانی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے بلند...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
فقہ وفتاویٰ

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا اے قومِ مسلم! طلاق جیسے نازک مسئلہ کو مذاق نہ بناؤ #✍️ مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 👈 آج کے...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
تاریخی حقائق

دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی

#دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی (اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا واحد حل ہے) ​اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تاریخی حقائق

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج @از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافت...

Muhammad Anas Raza Haami
متفرقات

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح * عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے...

Amir Fuzail Markazi
حکایات

حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ

#حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ [رضی اللہ عنھما] از: محمد جسیم اکرم مرکزی نزیل: دراسہ، قاہرہ، مصر رابطہ: 9523788434 قاہرہ، مصر میں موجود حضرت سیدہ نفیسہ رضی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

فقہ حنفی کی جامعیت

فقہ حنفی کی جامعیت اسلامی شریعت کے استنباط اور عملی تطبیق کے لیے جو فقہی مکاتبِ فکر وجود میں آئے، ان میں فقہ حنفی کو ایک مرکزی اور تاریخی امتیاز...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی...

Amir Fuzail Markazi
ترغیبات

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….! دینی مدارس و مکاتب قوم مسلم کے قلعے،شریعت مطہرہ کے محافظ اور امت کے فکری نگراں ہیں ان کا قیام محض...

Md Razaullah Quadri Markazi
رد دیوبندیت ووہابیت

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی کل امتیاز پلاموی دیوبندی کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں اس نے فقیر قادری کی...

Amir Fuzail Markazi
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب...

Amir Fuzail Markazi
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟ روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد...

Amir Fuzail Markazi
ادبیات

سخنِ دل

#سخنِ دل دنیا ایک ایسی مسافر سرائے ہے، جہاں ہر راہی اپنے حصے کا سفر طے کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لمحے کے لیے کسی کے ساتھ چلتا...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم @از قلم: محمد جسیم اکرم مرکزی تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف 9523788434 @ گستاخ چار یار تبرائی رافضی تیرا ٹھکانہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال وطن

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا انداز عشق سب کا الگ الگ ہوتا ہے کوئی قریب رہ کر بھی بہت دور ہوتا ہے کوئی دور ہو کر...

Mufti Jasim Akram Markazi
شخصیات اسلاف واخلاف

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری) مہینوں بعد امید کی کرن پھوٹی غنچۂ دل کھل اٹھا پژمردہ چمن شاداب ہوا کشت ویراں میں...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ ملک کے ناگفتہ بہ حالات کسی پر مخفی نہیں ہیں ہر طرف سے مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟

*فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟* اللہ جل و علا کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب سرکار کائنات فخر موجودات انیس بے کساں وجہ تخلیق جہاں صلی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اشک فشاں گفت و شنید

اشک فشاں گفت و شنید آج بتاریخ 5 ذو القعدہ 1445ھ بمطابق 15 مئ 2024ء امیر القلم ماہر رضویات شمس الملت علامہ ڈاکٹر غلام جابر مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ سے...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں

*تکفیر اصول تکفیر [تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں]* "بسم الله الرحمن الرحيم الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات

*اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات* "لك الحمد يا الله والصلاۃ والسلام علیك یا رسول اللہ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
ادبیات

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی "الله الله اللهُ مَالِي رَبِّ إِلَّا هُوَ يَفْنَى الْكُلُّ وَيَبْقَى هُوَ لَيْسَ الْبَاقِي إِلَّا هُوَ" "اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم...

Mufti Jasim Akram Markazi
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 9
اصلاح معاشرہ 9
ادبیات 8
احوال قوم وملت 8
نمایاں مضامین 6
احوال وطن 5
فقہ، اصول فقہ 3
تاریخی حقائق 3
فقہ وفتاویٰ 3
عقائد و نظریات 2
اوراد و وظائف 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
سیرت النبی ﷺ 1
روداد مناظرہ 1
ترغیبات 1
عبادات 1
تحقیق و تعاقب 1
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 1
دفاع اہل سنت 1
معاملات 1
رد دیوبندیت ووہابیت 1
حکایات 1
متفرقات 1
[markazi_authors]
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح *عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد ہمیشہ فقط داہنی جانب انحراف کرتے ہیں، وہ بھی برائے نام یعنی بعد نماز بس تھوڑے ترچھے ہو جاتے ،یعنی بع...
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذ...
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب اللہ محمد ﷺ فھویعلم ماکان ومایکون وھذاالامر ثابت بالنصوص ال...
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ تاہم، ہر ملت و مسلک میں "عبادت" کا مفہوم اور "مرکزِ عقیدت" کا دائرۂ ک...
معاملات

تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ایک نافع کتاب

* تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں* ایک نافع کتا- سیرت نبوی ﷺ نہ صرف عبادات و معاملات بلکہ معاشرت و معیشت کے ہر گوشے میں بنی نوع انسان کے لیے کامل و اکمل رہنمائی کا منبع ہے۔اسی سنہری کڑی کی وضاحت میں زیر نظر کتاب *تجار...
اصلاح معاشرہ

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورتمدارسِ اسلامیہ امتِ مسلمہ کے وہ مقدس قلعے ہیں جہاں سے صدیوں سے دینِ متین کی آبیاری ہو رہی ہے۔ انہی مدارس کے فیض سے ائمۂ ہدیٰ، محدثینِ عظام، فقہا و مفسرین اور مجاہدینِ دین پیدا ہوئے ج...
کامیابی!
×
Total Profiles: 0