صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Loading
[custom_header]
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
Featured Banner
اصلاح معاشرہ

عدلِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سائے میں پروان چڑھتی انسانیت

✍️ Mufti Md Raza Rifai Markazi

عدلِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سائے میں پروان چڑھتی انسانیت
(26 ذی الحجہ یوم شہادت پر خصوصی تحریر)
مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی
خادم التدریس والافتاء
الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
8446974711
دنیا کی تاریخ میں حکمرانوں کی کمی نہیں۔ تاج و تخت کے مالک بھی بے شمار گزرے، وسیع سلطنتوں کے فرمانروا بھی آئے اور چلے گئے، لیکن چند شخصیات ایسی ہیں جن کے نام کے ساتھ صرف اقتدار نہیں بلکہ انصاف، رحم، دیانت اور انسانیت کا تصور بھی وابستہ ہو گیا۔ ان عظیم ہستیوں میں امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نام نمایاں ترین ہے۔
آج جب دنیا انسانی حقوق کے دعووں سے گونج رہی ہے، اقوامِ متحدہ انصاف کے منشور جاری کر رہی ہے، اور عالمی طاقتیں عدل و مساوات کے نعرے بلند کر رہی ہیں، ایسے میں اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو چودہ سو سال پہلے مدینہ کی گلیوں میں ایک ایسا حکمران نظر آتا ہے جس نے انصاف کو محض قانون کی کتابوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے معاشرے کی روح بنا دیا تھا۔
حضرت عمر فاروق کا دورِ خلافت اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ جب حکمران خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس رکھتا ہو تو رعایا سکون، امن اور عزت کی زندگی گزارتی ہے۔ آپ کے نزدیک حکومت اقتدار کا نام نہیں تھی بلکہ ایک امانت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے: اگر دریائے فرات کے کنارے ایک جانور بھی بھوک یا پیاس سے مر جائے تو عمر سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔
سوچیے! آج کے حکمران اپنے ملک کے کروڑوں انسانوں کی محرومیوں پر بھی بے حس نظر آتے ہیں، جبکہ حضرت عمر ایک جانور کے حق کے بارے میں بھی خود کو جواب دہ سمجھتے تھے۔ یہی وہ احساسِ ذمہ داری تھا جس نے عدلِ فاروقی کو تاریخ کا لازوال باب بنا دیا۔
حضرت عمر کے دور میں قانون امیر و غریب کے لیے یکساں تھا۔ نہ کسی وزیر کو استثنا حاصل تھا اور نہ کسی گورنر کو رعایت۔ جب مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے ایک عام شخص کو ناحق مارا تو حضرت عمر نے اسے مدینہ بلوایا اور مظلوم کو حق دیا کہ وہ ظالم سے بدلہ لے۔ پھر وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا جبکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟
یہ صرف ایک فیصلہ نہیں تھا بلکہ انسانی آزادی کا وہ اعلان تھا جس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔
افسوس کہ آج ہمارے معاشروں میں عدل کا معیار بدل چکا ہے۔ قانون طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہو جاتا ہے۔ سفارش انصاف پر غالب آ جاتی ہے، دولت حق کو خرید لیتی ہے اور عہدے سچائی کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں عدلِ عمر ایک آئینہ بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے اور ہم سے سوال کر رہا ہے کہ کیا ہم واقعی انصاف پسند قوم ہیں؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عدل صرف انسانوں تک محدود نہ تھا بلکہ غیر مسلم رعایا بھی اس سے مستفید ہوتی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ آپ نے بوڑھے، معذور اور ضرورت مند غیر مسلموں کے لیے بھی بیت المال سے وظائف مقرر کیے۔ اس لیے کہ اسلام کا عدل مذہب، نسل اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوتا بلکہ انسانیت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔
آج دنیا میں ظلم کے خلاف کانفرنسیں ہوتی ہیں، سیمینار منعقد ہوتے ہیں، قراردادیں پاس کی جاتی ہیں، لیکن ظلم ختم نہیں ہوتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے عدل کو نعروں تک محدود کر دیا ہے۔ حضرت عمر نے عدل کو کردار بنایا، زندگی بنایا اور حکمرانی کا محور بنایا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تھے۔ انہیں یہ فکر ستاتی تھی کہ کہیں کوئی بھوکا نہ سو جائے، کہیں کسی مظلوم کی فریاد ان تک پہنچنے سے پہلے خاموش نہ ہو جائے، کہیں کوئی یتیم محروم نہ رہ جائے۔ آج اگر حکمران، علماء، تاجر، اساتذہ اور معاشرے کے ذمہ دار افراد اس احساس کو اپنا لیں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں۔
عدلِ عمر دراصل صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے۔ یہ پیغام ہمیں بتاتا ہے کہ قومیں محض ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بنتیں بلکہ انصاف سے بنتی ہیں۔ عمارتیں، سڑکیں اور پل کسی ملک کو عظیم نہیں بناتے، بلکہ عدل، دیانت اور جواب دہی اسے عظمت عطا کرتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت کو محض جلسوں اور تقریروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے انفرادی اور اجتماعی کردار میں اسے نافذ کریں۔ جب گھروں میں انصاف ہوگا، بازاروں میں انصاف ہوگا، عدالتوں میں انصاف ہوگا اور حکمرانی میں انصاف ہوگا تو پھر وہی معاشرہ وجود میں آئے گا جو کبھی عدلِ عمرکے سائے میں پروان چڑھا تھا۔
تاریخ کا فیصلہ واضح ہے۔
ظلم وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتا ہے، لیکن بقا ہمیشہ عدل کو حاصل ہوتی ہے۔ اور جب بھی عدل کا تذکرہ ہوگا، دنیا احترام کے ساتھ ایک نام ضرور لے گی ۔۔۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ انصاف صرف قاضی یا جج کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ باپ اپنی اولاد میں، استاد اپنے طلبہ میں، تاجر اپنے گاہکوں میں اور عالم اپنے ماننے والوں میں انصاف کرے، تبھی معاشرہ عدل کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
آج دنیا انسانی حقوق کے بڑے بڑے ادارے قائم کر چکی ہے، لیکن ظلم، جنگیں، بھوک اور ناانصافیاں ختم نہیں ہو سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قوانین تو موجود ہیں مگر حضرت عمر جیسا کردار اور جواب دہی کا احساس موجود نہیں۔
نوجوان اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کا مطالعہ کریں تو انہیں معلوم ہوگا کہ عظمت دولت، شہرت یا طاقت میں نہیں بلکہ کردار، انصاف اور حق گوئی میں ہے۔ حضرت عمر جوانی میں بھی بے خوف تھے اور خلافت کے منصب پر بھی حق کے سامنے سر جھکانے والے تھے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حضرت عمر نے دنیا کے عظیم علاقے فتح کیے، مگر آپ کی اصل فتح زمینوں کی نہیں بلکہ دلوں کی فتح تھی۔ شام، مصر اور عراق کے لوگوں نے مسلمان افواج کا خیر مقدم اس لیے کیا کہ انہوں نے عدلِ فاروقی کے چرچے پہلے ہی سن رکھے تھے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ایک رات حضرت عمر نے بچوں کے رونے کی آواز سنی۔ معلوم ہوا کہ ہانڈی میں صرف پانی ابالا جا رہا تھا تاکہ بچے یہ سمجھ کر سو جائیں کہ کھانا پک رہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر عمر رو پڑے اور خود اپنے کندھے پر آٹا اٹھا کر لائے۔ سوال یہ ہے کہ آج کتنے صاحبِ اقتدار ایسے ہیں جو عوام کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں؟
یاد رکھیں! قوموں کی عمریں ان کے محلات سے نہیں، ان کے انصاف سے ناپی جاتی ہیں۔ جب عدل زندہ رہتا ہے تو ریاستیں قائم رہتی ہیں، اور جب عدل مر جاتا ہے تو سلطنتیں بھی مٹ جاتی ہیں۔ حضرت عمر فاروق کی زندگی اسی ابدی حقیقت کا روشن ترین ثبوت ہے۔
razamarkazi@gmail.com

عدلِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سائے میں پروان چڑھتی انسانیت

مضمون نگار: Mufti Md Raza Rifai Markazi

عدلِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سائے میں پروان چڑھتی انسانیت
(26 ذی الحجہ یوم شہادت پر خصوصی تحریر)
مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی
خادم التدریس والافتاء
الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
8446974711
دنیا کی تاریخ میں حکمرانوں کی کمی نہیں۔ تاج و تخت کے مالک بھی بے شمار گزرے، وسیع سلطنتوں کے فرمانروا بھی آئے اور چلے گئے، لیکن چند شخصیات ایسی ہیں جن کے نام کے ساتھ صرف اقتدار نہیں بلکہ انصاف، رحم، دیانت اور انسانیت کا تصور بھی وابستہ ہو گیا۔ ان عظیم ہستیوں میں امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نام نمایاں ترین ہے۔
آج جب دنیا انسانی حقوق کے دعووں سے گونج رہی ہے، اقوامِ متحدہ انصاف کے منشور جاری کر رہی ہے، اور عالمی طاقتیں عدل و مساوات کے نعرے بلند کر رہی ہیں، ایسے میں اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو چودہ سو سال پہلے مدینہ کی گلیوں میں ایک ایسا حکمران نظر آتا ہے جس نے انصاف کو محض قانون کی کتابوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے معاشرے کی روح بنا دیا تھا۔
حضرت عمر فاروق کا دورِ خلافت اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ جب حکمران خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس رکھتا ہو تو رعایا سکون، امن اور عزت کی زندگی گزارتی ہے۔ آپ کے نزدیک حکومت اقتدار کا نام نہیں تھی بلکہ ایک امانت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے: اگر دریائے فرات کے کنارے ایک جانور بھی بھوک یا پیاس سے مر جائے تو عمر سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔
سوچیے! آج کے حکمران اپنے ملک کے کروڑوں انسانوں کی محرومیوں پر بھی بے حس نظر آتے ہیں، جبکہ حضرت عمر ایک جانور کے حق کے بارے میں بھی خود کو جواب دہ سمجھتے تھے۔ یہی وہ احساسِ ذمہ داری تھا جس نے عدلِ فاروقی کو تاریخ کا لازوال باب بنا دیا۔
حضرت عمر کے دور میں قانون امیر و غریب کے لیے یکساں تھا۔ نہ کسی وزیر کو استثنا حاصل تھا اور نہ کسی گورنر کو رعایت۔ جب مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے ایک عام شخص کو ناحق مارا تو حضرت عمر نے اسے مدینہ بلوایا اور مظلوم کو حق دیا کہ وہ ظالم سے بدلہ لے۔ پھر وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا جبکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟
یہ صرف ایک فیصلہ نہیں تھا بلکہ انسانی آزادی کا وہ اعلان تھا جس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔
افسوس کہ آج ہمارے معاشروں میں عدل کا معیار بدل چکا ہے۔ قانون طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہو جاتا ہے۔ سفارش انصاف پر غالب آ جاتی ہے، دولت حق کو خرید لیتی ہے اور عہدے سچائی کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں عدلِ عمر ایک آئینہ بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے اور ہم سے سوال کر رہا ہے کہ کیا ہم واقعی انصاف پسند قوم ہیں؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عدل صرف انسانوں تک محدود نہ تھا بلکہ غیر مسلم رعایا بھی اس سے مستفید ہوتی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ آپ نے بوڑھے، معذور اور ضرورت مند غیر مسلموں کے لیے بھی بیت المال سے وظائف مقرر کیے۔ اس لیے کہ اسلام کا عدل مذہب، نسل اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوتا بلکہ انسانیت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔
آج دنیا میں ظلم کے خلاف کانفرنسیں ہوتی ہیں، سیمینار منعقد ہوتے ہیں، قراردادیں پاس کی جاتی ہیں، لیکن ظلم ختم نہیں ہوتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے عدل کو نعروں تک محدود کر دیا ہے۔ حضرت عمر نے عدل کو کردار بنایا، زندگی بنایا اور حکمرانی کا محور بنایا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تھے۔ انہیں یہ فکر ستاتی تھی کہ کہیں کوئی بھوکا نہ سو جائے، کہیں کسی مظلوم کی فریاد ان تک پہنچنے سے پہلے خاموش نہ ہو جائے، کہیں کوئی یتیم محروم نہ رہ جائے۔ آج اگر حکمران، علماء، تاجر، اساتذہ اور معاشرے کے ذمہ دار افراد اس احساس کو اپنا لیں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں۔
عدلِ عمر دراصل صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے۔ یہ پیغام ہمیں بتاتا ہے کہ قومیں محض ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بنتیں بلکہ انصاف سے بنتی ہیں۔ عمارتیں، سڑکیں اور پل کسی ملک کو عظیم نہیں بناتے، بلکہ عدل، دیانت اور جواب دہی اسے عظمت عطا کرتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت کو محض جلسوں اور تقریروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے انفرادی اور اجتماعی کردار میں اسے نافذ کریں۔ جب گھروں میں انصاف ہوگا، بازاروں میں انصاف ہوگا، عدالتوں میں انصاف ہوگا اور حکمرانی میں انصاف ہوگا تو پھر وہی معاشرہ وجود میں آئے گا جو کبھی عدلِ عمرکے سائے میں پروان چڑھا تھا۔
تاریخ کا فیصلہ واضح ہے۔
ظلم وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتا ہے، لیکن بقا ہمیشہ عدل کو حاصل ہوتی ہے۔ اور جب بھی عدل کا تذکرہ ہوگا، دنیا احترام کے ساتھ ایک نام ضرور لے گی ۔۔۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ انصاف صرف قاضی یا جج کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ باپ اپنی اولاد میں، استاد اپنے طلبہ میں، تاجر اپنے گاہکوں میں اور عالم اپنے ماننے والوں میں انصاف کرے، تبھی معاشرہ عدل کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
آج دنیا انسانی حقوق کے بڑے بڑے ادارے قائم کر چکی ہے، لیکن ظلم، جنگیں، بھوک اور ناانصافیاں ختم نہیں ہو سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قوانین تو موجود ہیں مگر حضرت عمر جیسا کردار اور جواب دہی کا احساس موجود نہیں۔
نوجوان اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کا مطالعہ کریں تو انہیں معلوم ہوگا کہ عظمت دولت، شہرت یا طاقت میں نہیں بلکہ کردار، انصاف اور حق گوئی میں ہے۔ حضرت عمر جوانی میں بھی بے خوف تھے اور خلافت کے منصب پر بھی حق کے سامنے سر جھکانے والے تھے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حضرت عمر نے دنیا کے عظیم علاقے فتح کیے، مگر آپ کی اصل فتح زمینوں کی نہیں بلکہ دلوں کی فتح تھی۔ شام، مصر اور عراق کے لوگوں نے مسلمان افواج کا خیر مقدم اس لیے کیا کہ انہوں نے عدلِ فاروقی کے چرچے پہلے ہی سن رکھے تھے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ایک رات حضرت عمر نے بچوں کے رونے کی آواز سنی۔ معلوم ہوا کہ ہانڈی میں صرف پانی ابالا جا رہا تھا تاکہ بچے یہ سمجھ کر سو جائیں کہ کھانا پک رہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر عمر رو پڑے اور خود اپنے کندھے پر آٹا اٹھا کر لائے۔ سوال یہ ہے کہ آج کتنے صاحبِ اقتدار ایسے ہیں جو عوام کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں؟
یاد رکھیں! قوموں کی عمریں ان کے محلات سے نہیں، ان کے انصاف سے ناپی جاتی ہیں۔ جب عدل زندہ رہتا ہے تو ریاستیں قائم رہتی ہیں، اور جب عدل مر جاتا ہے تو سلطنتیں بھی مٹ جاتی ہیں۔ حضرت عمر فاروق کی زندگی اسی ابدی حقیقت کا روشن ترین ثبوت ہے۔
razamarkazi@gmail.com
Author Icon

Mufti Md Raza Rifai Markazi

یہ مضمون Mufti Md Raza Rifai Markazi کی طرف سے گیسٹ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

علامہ مبارک حسین مصباحی: صحافت کے ایک درخشاں باب کا اختتام!

مطلبی لوگ (زاویۂ نگاہ)

اوراد و وظائف

سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات

#سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات ​کائنات کی بساط پر جب جمعہ کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ صرف ایک دن کا آغاز نہیں ہوتا بلکہ رحمتوں...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟ @مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 جب زمین کی پیاسی مٹی آسمان کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے، جب...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
اصلاح معاشرہ

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 8446974711 تاریخِ انسانی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے بلند...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
فقہ وفتاویٰ

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا اے قومِ مسلم! طلاق جیسے نازک مسئلہ کو مذاق نہ بناؤ #✍️ مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 👈 آج کے...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
تاریخی حقائق

دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی

#دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی (اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا واحد حل ہے) ​اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تاریخی حقائق

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج @از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافت...

Muhammad Anas Raza Haami
متفرقات

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح * عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے...

Amir Fuzail Markazi
حکایات

حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ

#حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ [رضی اللہ عنھما] از: محمد جسیم اکرم مرکزی نزیل: دراسہ، قاہرہ، مصر رابطہ: 9523788434 قاہرہ، مصر میں موجود حضرت سیدہ نفیسہ رضی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

فقہ حنفی کی جامعیت

فقہ حنفی کی جامعیت اسلامی شریعت کے استنباط اور عملی تطبیق کے لیے جو فقہی مکاتبِ فکر وجود میں آئے، ان میں فقہ حنفی کو ایک مرکزی اور تاریخی امتیاز...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی...

Amir Fuzail Markazi
ترغیبات

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….! دینی مدارس و مکاتب قوم مسلم کے قلعے،شریعت مطہرہ کے محافظ اور امت کے فکری نگراں ہیں ان کا قیام محض...

Md Razaullah Quadri Markazi
رد دیوبندیت ووہابیت

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی کل امتیاز پلاموی دیوبندی کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں اس نے فقیر قادری کی...

Amir Fuzail Markazi
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب...

Amir Fuzail Markazi
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟ روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد...

Amir Fuzail Markazi
ادبیات

سخنِ دل

#سخنِ دل دنیا ایک ایسی مسافر سرائے ہے، جہاں ہر راہی اپنے حصے کا سفر طے کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لمحے کے لیے کسی کے ساتھ چلتا...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم @از قلم: محمد جسیم اکرم مرکزی تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف 9523788434 @ گستاخ چار یار تبرائی رافضی تیرا ٹھکانہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال وطن

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا انداز عشق سب کا الگ الگ ہوتا ہے کوئی قریب رہ کر بھی بہت دور ہوتا ہے کوئی دور ہو کر...

Mufti Jasim Akram Markazi
شخصیات اسلاف واخلاف

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری) مہینوں بعد امید کی کرن پھوٹی غنچۂ دل کھل اٹھا پژمردہ چمن شاداب ہوا کشت ویراں میں...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ ملک کے ناگفتہ بہ حالات کسی پر مخفی نہیں ہیں ہر طرف سے مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟

*فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟* اللہ جل و علا کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب سرکار کائنات فخر موجودات انیس بے کساں وجہ تخلیق جہاں صلی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اشک فشاں گفت و شنید

اشک فشاں گفت و شنید آج بتاریخ 5 ذو القعدہ 1445ھ بمطابق 15 مئ 2024ء امیر القلم ماہر رضویات شمس الملت علامہ ڈاکٹر غلام جابر مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ سے...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں

*تکفیر اصول تکفیر [تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں]* "بسم الله الرحمن الرحيم الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات

*اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات* "لك الحمد يا الله والصلاۃ والسلام علیك یا رسول اللہ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
ادبیات

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی "الله الله اللهُ مَالِي رَبِّ إِلَّا هُوَ يَفْنَى الْكُلُّ وَيَبْقَى هُوَ لَيْسَ الْبَاقِي إِلَّا هُوَ" "اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم...

Mufti Jasim Akram Markazi
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 9
اصلاح معاشرہ 9
ادبیات 8
احوال قوم وملت 8
نمایاں مضامین 6
احوال وطن 5
فقہ، اصول فقہ 3
تاریخی حقائق 3
فقہ وفتاویٰ 3
عقائد و نظریات 2
اوراد و وظائف 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
سیرت النبی ﷺ 1
روداد مناظرہ 1
ترغیبات 1
عبادات 1
تحقیق و تعاقب 1
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 1
دفاع اہل سنت 1
معاملات 1
رد دیوبندیت ووہابیت 1
حکایات 1
متفرقات 1
[markazi_authors]
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح *عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد ہمیشہ فقط داہنی جانب انحراف کرتے ہیں، وہ بھی برائے نام یعنی بعد نماز بس تھوڑے ترچھے ہو جاتے ،یعنی بع...
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذ...
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب اللہ محمد ﷺ فھویعلم ماکان ومایکون وھذاالامر ثابت بالنصوص ال...
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ تاہم، ہر ملت و مسلک میں "عبادت" کا مفہوم اور "مرکزِ عقیدت" کا دائرۂ ک...
معاملات

تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ایک نافع کتاب

* تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں* ایک نافع کتا- سیرت نبوی ﷺ نہ صرف عبادات و معاملات بلکہ معاشرت و معیشت کے ہر گوشے میں بنی نوع انسان کے لیے کامل و اکمل رہنمائی کا منبع ہے۔اسی سنہری کڑی کی وضاحت میں زیر نظر کتاب *تجار...
اصلاح معاشرہ

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورتمدارسِ اسلامیہ امتِ مسلمہ کے وہ مقدس قلعے ہیں جہاں سے صدیوں سے دینِ متین کی آبیاری ہو رہی ہے۔ انہی مدارس کے فیض سے ائمۂ ہدیٰ، محدثینِ عظام، فقہا و مفسرین اور مجاہدینِ دین پیدا ہوئے ج...
کامیابی!
×
Total Profiles: 0