یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

شخصیات اسلاف واخلاف
ایثار علامہ شاہ تراب الحق_
ایثار علامہ شاہ تراب الحق_
علامہ شاہ تراب الحق رضی اللہ عنہ نے ایسی حالت میں ڈھائی گھنٹہ شان رسالت میں تقریر کی کہ بدن سے خون جاری تھا نیک کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی سر لہو لہان تھا
خود حضرت کی زبانی ملاحظہ فرمائیں جو آپ نے ایک انٹرویو میں اس روداد کو بیان فرمایا
خود حضرت کی زبانی ملاحظہ فرمائیں جو آپ نے ایک انٹرویو میں اس روداد کو بیان فرمایا
سوال: جلسوں کی زندگی میں کوئی یادگار موقع ؟
جواب: جی ہاں ١٣ یا ۱۸ مارچ ۱۹۷۴ء کو حیدر آباد میں ایک بڑا میلاد شریف کا جلسہ تھا۔ وہاں مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور اپنے طور پر تو ان لوگوں نے مجھے مار ہی دیا تھا۔ پورا جسم اور لباس خون میں تر بتر ہو گیا، بازو کی ہڈی دو جگہ سے ٹوٹ گئی ناک کی ہڈی تو بالکل چکنا چور ہو گئی ، سر پھٹ گیا اور بھی کئی زخم آئے ۔ بزرگان دین کی دعائیں بالخصوص قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی دعائیں (جو آپ کے استاد، اور سسر، خالو بھی تھے ) اور اللہ کا فضل شامل حال تھا کہ اللہ نے نئی زندگی عطا فرمائی ۔ اسی حالت میں ATI کے نو جوانوں نے بڑی مشکل سے وہاں سے نکالا اور تانگے میں بٹھا کر سول ہسپتال لے گئے ۔ وہاں ڈاکٹروں نے یہ کہہ کر کہ یہ تو پولیس کیس ہے مرہم پٹی سے انکار کر دیا۔ اب اسکے بعد یہ ہوا کہ میں نے محسوس کیا کہ سانس وغیرہ ٹھیک آرہی ہے تو میں نے میڈیکل اسٹور سے روئی لی اور رگڑ کر اپنا منہ وغیرہ صاف کیا اور پھر جلسہ گاہ پہنچ گیا اس وقت تک یہ بات مشہور ہو چکی تھی کہ شاہ تراب الحق کو مار دیا گیا ہے۔ لہذا مجمع حد شمار سے باہر ہو چکا تھا۔ بہر حال اسی حالت میں پھر میں نے ڈھائی گھنٹہ تقریر کی ، پورے جسم سے خون نکل نکل کر تالاب کی شکل اختیار کر گیا مگر زباں ذکر مصطفی صلی علیہ وسلم میں مصروف ثنا رہی۔
جواب: جی ہاں ١٣ یا ۱۸ مارچ ۱۹۷۴ء کو حیدر آباد میں ایک بڑا میلاد شریف کا جلسہ تھا۔ وہاں مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور اپنے طور پر تو ان لوگوں نے مجھے مار ہی دیا تھا۔ پورا جسم اور لباس خون میں تر بتر ہو گیا، بازو کی ہڈی دو جگہ سے ٹوٹ گئی ناک کی ہڈی تو بالکل چکنا چور ہو گئی ، سر پھٹ گیا اور بھی کئی زخم آئے ۔ بزرگان دین کی دعائیں بالخصوص قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی دعائیں (جو آپ کے استاد، اور سسر، خالو بھی تھے ) اور اللہ کا فضل شامل حال تھا کہ اللہ نے نئی زندگی عطا فرمائی ۔ اسی حالت میں ATI کے نو جوانوں نے بڑی مشکل سے وہاں سے نکالا اور تانگے میں بٹھا کر سول ہسپتال لے گئے ۔ وہاں ڈاکٹروں نے یہ کہہ کر کہ یہ تو پولیس کیس ہے مرہم پٹی سے انکار کر دیا۔ اب اسکے بعد یہ ہوا کہ میں نے محسوس کیا کہ سانس وغیرہ ٹھیک آرہی ہے تو میں نے میڈیکل اسٹور سے روئی لی اور رگڑ کر اپنا منہ وغیرہ صاف کیا اور پھر جلسہ گاہ پہنچ گیا اس وقت تک یہ بات مشہور ہو چکی تھی کہ شاہ تراب الحق کو مار دیا گیا ہے۔ لہذا مجمع حد شمار سے باہر ہو چکا تھا۔ بہر حال اسی حالت میں پھر میں نے ڈھائی گھنٹہ تقریر کی ، پورے جسم سے خون نکل نکل کر تالاب کی شکل اختیار کر گیا مگر زباں ذکر مصطفی صلی علیہ وسلم میں مصروف ثنا رہی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com

ایثار علامہ شاہ تراب الحق_
مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi
ایثار علامہ شاہ تراب الحق_
علامہ شاہ تراب الحق رضی اللہ عنہ نے ایسی حالت میں ڈھائی گھنٹہ شان رسالت میں تقریر کی کہ بدن سے خون جاری تھا نیک کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی سر لہو لہان تھا
خود حضرت کی زبانی ملاحظہ فرمائیں جو آپ نے ایک انٹرویو میں اس روداد کو بیان فرمایا
خود حضرت کی زبانی ملاحظہ فرمائیں جو آپ نے ایک انٹرویو میں اس روداد کو بیان فرمایا
سوال: جلسوں کی زندگی میں کوئی یادگار موقع ؟
جواب: جی ہاں ١٣ یا ۱۸ مارچ ۱۹۷۴ء کو حیدر آباد میں ایک بڑا میلاد شریف کا جلسہ تھا۔ وہاں مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور اپنے طور پر تو ان لوگوں نے مجھے مار ہی دیا تھا۔ پورا جسم اور لباس خون میں تر بتر ہو گیا، بازو کی ہڈی دو جگہ سے ٹوٹ گئی ناک کی ہڈی تو بالکل چکنا چور ہو گئی ، سر پھٹ گیا اور بھی کئی زخم آئے ۔ بزرگان دین کی دعائیں بالخصوص قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی دعائیں (جو آپ کے استاد، اور سسر، خالو بھی تھے ) اور اللہ کا فضل شامل حال تھا کہ اللہ نے نئی زندگی عطا فرمائی ۔ اسی حالت میں ATI کے نو جوانوں نے بڑی مشکل سے وہاں سے نکالا اور تانگے میں بٹھا کر سول ہسپتال لے گئے ۔ وہاں ڈاکٹروں نے یہ کہہ کر کہ یہ تو پولیس کیس ہے مرہم پٹی سے انکار کر دیا۔ اب اسکے بعد یہ ہوا کہ میں نے محسوس کیا کہ سانس وغیرہ ٹھیک آرہی ہے تو میں نے میڈیکل اسٹور سے روئی لی اور رگڑ کر اپنا منہ وغیرہ صاف کیا اور پھر جلسہ گاہ پہنچ گیا اس وقت تک یہ بات مشہور ہو چکی تھی کہ شاہ تراب الحق کو مار دیا گیا ہے۔ لہذا مجمع حد شمار سے باہر ہو چکا تھا۔ بہر حال اسی حالت میں پھر میں نے ڈھائی گھنٹہ تقریر کی ، پورے جسم سے خون نکل نکل کر تالاب کی شکل اختیار کر گیا مگر زباں ذکر مصطفی صلی علیہ وسلم میں مصروف ثنا رہی۔
جواب: جی ہاں ١٣ یا ۱۸ مارچ ۱۹۷۴ء کو حیدر آباد میں ایک بڑا میلاد شریف کا جلسہ تھا۔ وہاں مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور اپنے طور پر تو ان لوگوں نے مجھے مار ہی دیا تھا۔ پورا جسم اور لباس خون میں تر بتر ہو گیا، بازو کی ہڈی دو جگہ سے ٹوٹ گئی ناک کی ہڈی تو بالکل چکنا چور ہو گئی ، سر پھٹ گیا اور بھی کئی زخم آئے ۔ بزرگان دین کی دعائیں بالخصوص قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی دعائیں (جو آپ کے استاد، اور سسر، خالو بھی تھے ) اور اللہ کا فضل شامل حال تھا کہ اللہ نے نئی زندگی عطا فرمائی ۔ اسی حالت میں ATI کے نو جوانوں نے بڑی مشکل سے وہاں سے نکالا اور تانگے میں بٹھا کر سول ہسپتال لے گئے ۔ وہاں ڈاکٹروں نے یہ کہہ کر کہ یہ تو پولیس کیس ہے مرہم پٹی سے انکار کر دیا۔ اب اسکے بعد یہ ہوا کہ میں نے محسوس کیا کہ سانس وغیرہ ٹھیک آرہی ہے تو میں نے میڈیکل اسٹور سے روئی لی اور رگڑ کر اپنا منہ وغیرہ صاف کیا اور پھر جلسہ گاہ پہنچ گیا اس وقت تک یہ بات مشہور ہو چکی تھی کہ شاہ تراب الحق کو مار دیا گیا ہے۔ لہذا مجمع حد شمار سے باہر ہو چکا تھا۔ بہر حال اسی حالت میں پھر میں نے ڈھائی گھنٹہ تقریر کی ، پورے جسم سے خون نکل نکل کر تالاب کی شکل اختیار کر گیا مگر زباں ذکر مصطفی صلی علیہ وسلم میں مصروف ثنا رہی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
یہاں تک کہ احد یوسف وغیرہ پاؤں میں گر گئے کہ شاہ صاحب بس کریں ہم کراچی والوں کو کیا جواب دیں گے پھر وہ مجھے تھانے لے گئے جہاں ایف آئی آر درج ہوئی اور میں تین دن تک سول ہسپتال میں داخل رہا مگر سب سے زیادہ حسین پہلو یہ ہے کہ جلسہ کروانے والوں نے پلٹ کر خبر تک نہ لی۔ مولانا محمد علی رضوی صاحب اور ایک لڑکا تھا ایئر فورس ، میں اس کا نام تھا شفاعت ، یہ میری تیمار داری اور دیکھ بھال کرتے رہے اور جب میں چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو بس میں سوار کر کے کراچی روانہ کیا ۔ اب بھی جب کوئٹہ کی ٹھنڈی ہوا چلتی ہے تو کافی تکلیف ہوتی ہے اور وہ ساری یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔
[داعیان فکر رضا نمبر ص ٥٦-٥٧]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
از: محمد جسیم اکرم مرکزی










