صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Loading
[custom_header]
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
Featured Banner
شخصیات اسلاف واخلاف

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)
مہینوں بعد امید کی کرن پھوٹی غنچۂ دل کھل اٹھا پژمردہ چمن شاداب ہوا کشت ویراں میں بہار آئی یعنی مبلغ دین خدا محافظ ناموس مصطفی گلِ سر سبدِ جامعۃ الرضا مفتی محمد سلمان ازہری حفظہ اللہ جل و علا کو تقریبا آٹھ دس ماہ بعد رہائی ملی جس سے ہر طرف خوشیوں کی لہر دوڑ گئی مرجھائے ہوئے چہرے گلابوں کی طرح کھل اٹھے ہر طرف عجب ہی رنگت چھائی ہوئی تھی جس کی نقشہ کشی حقیر فقیر جسیم اکرم مرکزی پورنوی غفر لہ المولی القدیر نے اس طرح سے کی
گلشن و گلزار کی پھر تازہ رنگت ہو گئی
چاند نکلا چاندنی سے دور ظلمت ہو گئی
شکر ہے اللہ تعالیٰ کا جسیم قادری
مفتی سلماں شیر دوراں کی ضمانت ہو گئی
جس پر بعض حضرات نے بطور طعن و تشنیع کہا کہ یہ شیر پھر دھاڑے گا اور اندر چلا جائے گا جس سے دلی تکلیف ہوئی اور میں گھنٹوں سوچتا رہا کہ سنی کہلانے والوں میں بھی اس طرح کی ذہنیت رکھنے والے لوگ موجود ہیں کیا انھیں پتہ نہیں؟
دو عالم سے کرتی ہے بے گانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
جس کے دل میں عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع فروزاں ہو جس کے وجود میں حب نبی کا رنگ چڑھا ہو پھر وہ کسی اور رنگ کی طرف نظر نہیں کرتا کیونکہ
اُنہیں کی بُو مایۂ سمن ہے اُنہیں کا جلوہ چمن چمن ہے
اُنہیں سے گلشن مہک رہے ہیں اُنہیں کی رنگت گلاب میں ہے
اس عشق کا مزہ اسی کو ملے گا جس نے اپنی زندگی حضور کے لیے وقف کر دی ہو بیوی اولاد ماں باپ سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کو فوقیت دی ہو تو اس کی صدا یہی ہوتی ہے
جلی جلی بُو سے اُس کی پیدا ہے سوزش عشقِ چشم والا
کبابِ آہُو میں بھی نہ پایا مزہ جو دل کے کباب میں ہے
جو لذت آشنا نہیں ہے عشق سرکار میں سرشار نہیں ہے مدینے والے کی محبت میں گرفتار نہیں ہے وہی کہتا ہے کہ شیر دھاڑے گا پھر اندر چلا جائے گا چلا جائے گا میں کہتا ہوں اگر چلا بھی گیا تو کیا ہوا یہ جان تو آقا کی محبت میں قربان ہونے کے لیے ہمیشہ تیار ہے بلکہ مفتی اعظم ہند رضی اللہ عنہ کے عشق کی زبان میں سنو
یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروروں
ترے نام پر سب کو ورا کروں میں
نیز حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی زبان فیض ترجمان سے یوں سنو
کروں تیرے نام پہ جاں فدانہ بس ایک جاں دو جہاں فِدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروروں جہاں نہیں
عاشقان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک بار نہیں بلکہ ان کے عشق میں ہزار بار بھی جیل جانے کو تیار ہیں کیونکہ
زندگی جینا جسے ہے وہ جیے شوق سے پر
ہم تو پیدا ہی ہوئے آپ پہ مرنے کے لیے
پھر کس چیز کا خوف کس چیز کا ڈر ہمیں اپنی جان سے بھی پیاری ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہے
کسی کو دوستی پیاری کسی کو زندگی پیاری
خدا کا شکر ہے ہم کو ہے ناموس نبی پیاری
احقاق حقائق کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا یہ تو انبیاء کرام و اولیاء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سنتیں ہیں
حضرت یوسف علیہ السلام اور قید خانہ ________
حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں قرآن مقدس سورۂ یوسف آیت نمبر ٣٣_٣٤_٣٥ میں ہے
یوسف نے عرض کی اے میرے رب مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر نہ پھیرے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوں گا اور نادان بنوں گا۔تو اس کے رب نے اس کی سن لی اور اس سے عورتوں کا مکر پھیردیا بیشک وہی ہے سنتا جانتا ۔پھر سب کچھ نشانیاں دیکھ دکھا کر پچھلی مت انہیں یہی آئی کہ ضرور ایک مدت تک اسے قیدخانہ میں ڈالیں۔ [کنز الایمان]
حضرت یوسف علیہ السلام سات سال یا اس سے زائد قید میں رہے پھر باہر تشریف لائے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر حضرت یوسف علیہ السلام نے قید و بند کی صعوبتیں کیوں برداشت کیں تو جواب یہی ہے کہ صرف رضائے الٰہی کے لیے
اس سے ثابت ہوتا ہے رضائے الٰہی کے لیے قید و بند اختیار کرنا انبیاء کرام علیہم السلام کی سنتوں میں سے ہے اسی لیے جب تک جان میں جان ہے ہے تو ناموس رسالت پر پہرا دیں گے اللہ کی رضا کے لیے جیں گے ایک بار کیا ہزار بار بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالیں گے تو جانے کے لیے تیار ہیں یہی
عاشقوں کی آواز صدائے دلنواز ہے
ناموس رسالت کی حفاظت کے واسطے
ہم جام شہادت کا بصد شان پییں گے
حضرت امام مالک اور حق گوئی_______
حق گوئی و بے با کی امام مالک رضی اللہ عنہ کا طرۂ امتیاز تھا، وہ جابر امرا اور خلفا کے رو برو حق بات کہنے سے باز نہ رہتے، بلکہ ان لوگوں سے ملنے کا بنیادی مقصد ان کی تنبیہ اور ان کے سامنے کلمۂ حق کا اعلان کرنا ہوتا ، ان سے پوچھا گیا، آپ اہل دول سے کیوں ملتے ہیں ، تو فرمایا کہ يرحمك الله فاين التكلم بالحق “ ان کے یہاں نہیں تو کہاں حق بات کہی جائے گی ؟ حق گوئی کے نتیجے میں آپ پر شاہی عتاب ہوا، مگر حق و صداقت کی راہ میں آپ کے قدموں میں لغزش نہ آئی، امام صاحب کے حاسدوں نے ایک مرتبہ ابو جعفر منصور کے پاس جا کر کہا، کہ مالک ! آپ لوگوں کی بیعت کو جائز نہیں سمجھتے ہیں اور عباسی خلافت کے منکر ہیں، یہ سن کر ابو جعفر منصور غصہ ہوا اور امام صاحب کے کپڑے اتروا کر کوڑے مارے اس میں آپ کا ہا تھ اکھڑ گیا اور بڑی زیادتی کی۔ (ابن خلکان ج ۲ ص ۳۰۱)
اتنے ظلم و ستم کے باوجود آپ خوف نہیں کھائے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے دوبارہ سزا دی جائے گی لہذا حق گوئی سے باز آجاتے ہیں بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا
مرد حق باطل کے آگے مات کھا سکتا نہیں
سر کٹا سکتا ہے لیکن سر جھکا سکتا نہیں
حضرت امام احمد بن حنبل اور حق گوئی______
کتب سیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اسحاق بن ابراہیم نے مامون کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، فقہا و محدثین اور اصحاب فتوی کو بلا کر دھمکی دی، کہ اگر انہوں نے خلق قرآن کے عقیدے کو نہ مانا تو انہیں شدید آلام و مصائب سے دوچار ہونا پڑے گا، چنانچہ سب نے بلا روک ٹوک یہ باطل نظریہ تسلیم کر لیا اور اعلانیہ خلق قرآن کے قائل ہو گئے۔
لیکن اس کڑی آزمائش میں صرف چار علمی شخصیتیں اپنے موقف پر جمی رہیں وہ حکم خداوندی پر قانع رہے، ان کے پایۂ ثبات میں ذرا بھی لغزش نہ آئی ، وہ چار بزرگ یہ تھے (۱) امام احمد بن خلیل (۲) محمد بن نوح (۳) قواریری (۴) سجادہ۔
ان چاروں کو بیڑیاں پہنا کر قید خانے میں بھیج دیا گیا، جہاں انہوں نے رات گزاری، جب صبح ہوئی، تو سجادہ نے معتزلہ کی دعوت پر لبیک کہہ دی اور وہ بیڑیوں سے آزاد کر دیا گیا، باقی اسی طرح مقید رہے، اگلے دن ان سے خلق قرآن کے بارے میں دریافت کیا گیا، قواریری کا عقیدہ متزلزل ہو گیا اور اس نے نظریۂ خلق قرآن قبول کر لیا، اسے بھی آزادی مل گئی ، اب صرف دو مردان حق قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کے لیے باقی رہ گئے، جنہیں طوق و سلاسل میں جکڑ کر مامون کے پاس روانہ کیا گیا، جو اس وقت طرطوس میں مقیم تھا۔
یہ لوگ کوفہ کے علاقے میں تھے، تو بدووں کا ایک غلام جابر بن عامر ان کے پاس آیا اور اس نے سلام کیا اور کہنے لگا، آپ ارباب اقتدار کے پاس جانے والے ہیں، ان کے لیے منحوس نہ بنیں، آج آپ مسلمانوں کے سردار ہیں اور جس بات کی طرف آپ کو دعوت دیتے ہیں، اس کا جواب دینے سے بچیں، ورنہ قیامت کے دن آپ ان کے گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے اور اگر آپ اللہ سے محبت کرتے ہیں، تو آپ جس حالت میں ہیں، اس پر صبر کیجیے، آپ کے بعد جنت کے درمیان صرف آپ کا قتل ہونا ہی باقی ہے اور اگر آپ زندہ رہے، تو قابل تعریف حالت میں زندہ رہیں گے۔
(ابن کثیر ج ۱۰ ص ۸۸۵)
امام احمد کا بیان ہے، کہ اس غلام کی گفتگو نے میرے عقیدے اور عزم کو قوت عطا کی ، آپ کہتے ہیں:
سمعت كلمة منذ وقعت في هذا الأمر الذي وقعت فيه اقوى من كلمة اعرابي كلمنى فيها في رحبة طوق قال لي يا احمد ان يقتلك الحق مت شهيدا وان عشت عشت حميدا قال فقوی قلبی - (مناقب ص (۳۹)
جب سے میں اس آزمائش میں مبتلا کیا گیا اس اعرابی کی گفتگو سے زیادہ قوت دینے والی کوئی بات نہیں سنی ، جس نے مجھ سے اسیری کی حالت میں کہا ، احمد ! اگر حق پر قتل کیے جاؤ گے تو شہید ہو گے اور اگر زندہ رہے تو تمہاری ستائش کی جائے گی احمد کہتے ہیں اس بات نے میرے دل کو مضبوط کر دیا۔ راہ حق کے دونوں با عظمت قیدی جب خلیفہ کی قیام گاہ سے ایک دن کی مسافت پر تھے، تو ایک خادم اپنے آنسو پوچھتے ہوئے حاضر ہوا اور کہنے لگا اے ابو عبد اللہ ! مجھ پر یہ بات گراں گزرتی ہے، کہ مامون نے ایک تلوار سونتی ہے، جو اس سے پہلے کبھی نہیں سونتی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت داری کی قسم کھا کر کہتا ہے، کہ احمد بن حنبل نے اگر خلق قرآن کے قول کو قبول نہ کیا تو اسے اپنی تلوار سے قتل کر دے گا۔
امام صاحب اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور آپ نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا، اے میرے اللہ ! تیرے حلم نے اس فاجر کو فریب دیا ہے، حتی کہ اس نے تیرے اولیا کے ضرب و قتل پر جرات کی ہے، اے اللہ ! اگر قرآن جو تیرا کلام ہے، غیر مخلوق ہے، تو ہمیں اس کی مشقت سے کفایت کر۔
رات کے آخری پہر خبر آئی، کہ مامون مر گیا اور معتصم کو خلیفہ بنا دیا گیا۔
(ابن کثیر ج ۱۰ ص ۸۸۹ ماخوز از سیرت امام احمد بن حنبل)
یہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کی ذات مبارکہ ہے کہ قتل کی دھمکی سننے کے باوجود حق گوئی سے باز نہ آئے بلکہ دنیا کو بتا دیا
آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
حضور تاج الشریعہ کی حق گوئی____
تیسری مرتبہ١٩٨٦ء/١٤٠٦ھ حج کے موقع پرسعودی حکومت نے حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کو بیجا گرفتار کرلیا اس موقع پر آپ نے حق گوئی و بے باکی کا جو مظاہرہ کیا وہ آپ ہی کا حصہ تھا۔ سعودی مظالم کے متعلق حضور تاج الشریعہ خود فرماتے ہیں:
مختصر یہ کہ مسلسل سوالات کے باوجود میرا جرم میرے بار بار پوچھنے کے بعد بھی مجھے نہ بتایا بلکہ یہی کہتے رہے کہ ”میرا معاملہ اہمیت نہیں رکھتا۔” لیکن اس کے باوجود میری رہائی میں تاخیر کی گئی اور بغیر اظہار جرم مجھے مدینہ منورہ کی حاضری سے موقوف رکھا اور١١/ دنوں کے بعد جب مجھے جدہ روانہ کیا گیا تو میرے ہاتھوں میں جدہ ائیر پورٹ تک ہتھکڑی پہنائے رکھی اور راستے میں نماز ظہر کے لیے موقع بھی نہ دیا گیا اس وجہ سے میری نماز ظہر قضاہو گئی۔
[مفتئ اعظم ہند اور ان کے خلفاء صفحہ :١٥٠/جلد :١]
اسی کی عکاسی کرتے ہوئے سرکار تاج الشریعہ نے فرمایا ۔
نہ رکھا مجھ کو طیبہ کی قفس میں اس ستم گر نے
ستم کیسا ہوا بلبل پہ یہ قید ستم گر میں
ستم سے اپنے مٹ جاؤ گے تم خود اے ستمگارو
سنو ہم کہہ رہے ہیں بے خطر دورِ ستم گر میں
مدینے سے رہیں خود دور اس کو روکنے والے
مدینے میں خود اختر ہے مدینہ چشم اختر میں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اسی مرد خدا قلندر بریلوی سیدنا سندنا مرشدنا سرکار تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کے تلمیذ رشید مفتی سلمان ازہری دام ظلہ العالی کو بغیر جرم کے تقریبا آٹھ دس مہینے تک جیل میں رکھا بالآخر بحمدہ تعالیٰ ١٤ ربیع الآخر ١٤٤٦ھ بمطابق ١٨ اکتوبر ٢٠٢٤ء بروز جمعہ ضمانت ملی اور ١٥ ربیع الآخر اپنے گھر تشریف لائے جس میں لوگوں نے اسقبالیہ نعرہ لگاتے ہوئے کہا شیر آیا شیر آیا تو اس کے جواب میں مفتی سلمان ازہری صاحب نے فرمایا شور بھی آئے گا جو اس بات کی طرف مشیر ہے کہ یہ شیر پھر دھاڑے گا اور اگر ایسی آزمائشیں لاکھوں بھی آ جائیں تو سب کو ہنستے ہوئے گلے سے لگا لے گا کیونکہ
آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
دار ؤ سکندر سے وہ مرد فقیر اولی
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہی
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)
مہینوں بعد امید کی کرن پھوٹی غنچۂ دل کھل اٹھا پژمردہ چمن شاداب ہوا کشت ویراں میں بہار آئی یعنی مبلغ دین خدا محافظ ناموس مصطفی گلِ سر سبدِ جامعۃ الرضا مفتی محمد سلمان ازہری حفظہ اللہ جل و علا کو تقریبا آٹھ دس ماہ بعد رہائی ملی جس سے ہر طرف خوشیوں کی لہر دوڑ گئی مرجھائے ہوئے چہرے گلابوں کی طرح کھل اٹھے ہر طرف عجب ہی رنگت چھائی ہوئی تھی جس کی نقشہ کشی حقیر فقیر جسیم اکرم مرکزی پورنوی غفر لہ المولی القدیر نے اس طرح سے کی
گلشن و گلزار کی پھر تازہ رنگت ہو گئی
چاند نکلا چاندنی سے دور ظلمت ہو گئی
شکر ہے اللہ تعالیٰ کا جسیم قادری
مفتی سلماں شیر دوراں کی ضمانت ہو گئی
جس پر بعض حضرات نے بطور طعن و تشنیع کہا کہ یہ شیر پھر دھاڑے گا اور اندر چلا جائے گا جس سے دلی تکلیف ہوئی اور میں گھنٹوں سوچتا رہا کہ سنی کہلانے والوں میں بھی اس طرح کی ذہنیت رکھنے والے لوگ موجود ہیں کیا انھیں پتہ نہیں؟
دو عالم سے کرتی ہے بے گانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
جس کے دل میں عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع فروزاں ہو جس کے وجود میں حب نبی کا رنگ چڑھا ہو پھر وہ کسی اور رنگ کی طرف نظر نہیں کرتا کیونکہ
اُنہیں کی بُو مایۂ سمن ہے اُنہیں کا جلوہ چمن چمن ہے
اُنہیں سے گلشن مہک رہے ہیں اُنہیں کی رنگت گلاب میں ہے
اس عشق کا مزہ اسی کو ملے گا جس نے اپنی زندگی حضور کے لیے وقف کر دی ہو بیوی اولاد ماں باپ سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کو فوقیت دی ہو تو اس کی صدا یہی ہوتی ہے
جلی جلی بُو سے اُس کی پیدا ہے سوزش عشقِ چشم والا
کبابِ آہُو میں بھی نہ پایا مزہ جو دل کے کباب میں ہے
جو لذت آشنا نہیں ہے عشق سرکار میں سرشار نہیں ہے مدینے والے کی محبت میں گرفتار نہیں ہے وہی کہتا ہے کہ شیر دھاڑے گا پھر اندر چلا جائے گا چلا جائے گا میں کہتا ہوں اگر چلا بھی گیا تو کیا ہوا یہ جان تو آقا کی محبت میں قربان ہونے کے لیے ہمیشہ تیار ہے بلکہ مفتی اعظم ہند رضی اللہ عنہ کے عشق کی زبان میں سنو
یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروروں
ترے نام پر سب کو ورا کروں میں
نیز حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی زبان فیض ترجمان سے یوں سنو
کروں تیرے نام پہ جاں فدانہ بس ایک جاں دو جہاں فِدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروروں جہاں نہیں
عاشقان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک بار نہیں بلکہ ان کے عشق میں ہزار بار بھی جیل جانے کو تیار ہیں کیونکہ
زندگی جینا جسے ہے وہ جیے شوق سے پر
ہم تو پیدا ہی ہوئے آپ پہ مرنے کے لیے
پھر کس چیز کا خوف کس چیز کا ڈر ہمیں اپنی جان سے بھی پیاری ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہے
کسی کو دوستی پیاری کسی کو زندگی پیاری
خدا کا شکر ہے ہم کو ہے ناموس نبی پیاری
احقاق حقائق کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا یہ تو انبیاء کرام و اولیاء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سنتیں ہیں
حضرت یوسف علیہ السلام اور قید خانہ ________
حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں قرآن مقدس سورۂ یوسف آیت نمبر ٣٣_٣٤_٣٥ میں ہے
یوسف نے عرض کی اے میرے رب مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر نہ پھیرے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوں گا اور نادان بنوں گا۔تو اس کے رب نے اس کی سن لی اور اس سے عورتوں کا مکر پھیردیا بیشک وہی ہے سنتا جانتا ۔پھر سب کچھ نشانیاں دیکھ دکھا کر پچھلی مت انہیں یہی آئی کہ ضرور ایک مدت تک اسے قیدخانہ میں ڈالیں۔ [کنز الایمان]
حضرت یوسف علیہ السلام سات سال یا اس سے زائد قید میں رہے پھر باہر تشریف لائے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر حضرت یوسف علیہ السلام نے قید و بند کی صعوبتیں کیوں برداشت کیں تو جواب یہی ہے کہ صرف رضائے الٰہی کے لیے
اس سے ثابت ہوتا ہے رضائے الٰہی کے لیے قید و بند اختیار کرنا انبیاء کرام علیہم السلام کی سنتوں میں سے ہے اسی لیے جب تک جان میں جان ہے ہے تو ناموس رسالت پر پہرا دیں گے اللہ کی رضا کے لیے جیں گے ایک بار کیا ہزار بار بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالیں گے تو جانے کے لیے تیار ہیں یہی
عاشقوں کی آواز صدائے دلنواز ہے
ناموس رسالت کی حفاظت کے واسطے
ہم جام شہادت کا بصد شان پییں گے
حضرت امام مالک اور حق گوئی_______
حق گوئی و بے با کی امام مالک رضی اللہ عنہ کا طرۂ امتیاز تھا، وہ جابر امرا اور خلفا کے رو برو حق بات کہنے سے باز نہ رہتے، بلکہ ان لوگوں سے ملنے کا بنیادی مقصد ان کی تنبیہ اور ان کے سامنے کلمۂ حق کا اعلان کرنا ہوتا ، ان سے پوچھا گیا، آپ اہل دول سے کیوں ملتے ہیں ، تو فرمایا کہ يرحمك الله فاين التكلم بالحق “ ان کے یہاں نہیں تو کہاں حق بات کہی جائے گی ؟ حق گوئی کے نتیجے میں آپ پر شاہی عتاب ہوا، مگر حق و صداقت کی راہ میں آپ کے قدموں میں لغزش نہ آئی، امام صاحب کے حاسدوں نے ایک مرتبہ ابو جعفر منصور کے پاس جا کر کہا، کہ مالک ! آپ لوگوں کی بیعت کو جائز نہیں سمجھتے ہیں اور عباسی خلافت کے منکر ہیں، یہ سن کر ابو جعفر منصور غصہ ہوا اور امام صاحب کے کپڑے اتروا کر کوڑے مارے اس میں آپ کا ہا تھ اکھڑ گیا اور بڑی زیادتی کی۔ (ابن خلکان ج ۲ ص ۳۰۱)
اتنے ظلم و ستم کے باوجود آپ خوف نہیں کھائے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے دوبارہ سزا دی جائے گی لہذا حق گوئی سے باز آجاتے ہیں بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا
مرد حق باطل کے آگے مات کھا سکتا نہیں
سر کٹا سکتا ہے لیکن سر جھکا سکتا نہیں
حضرت امام احمد بن حنبل اور حق گوئی______
کتب سیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اسحاق بن ابراہیم نے مامون کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، فقہا و محدثین اور اصحاب فتوی کو بلا کر دھمکی دی، کہ اگر انہوں نے خلق قرآن کے عقیدے کو نہ مانا تو انہیں شدید آلام و مصائب سے دوچار ہونا پڑے گا، چنانچہ سب نے بلا روک ٹوک یہ باطل نظریہ تسلیم کر لیا اور اعلانیہ خلق قرآن کے قائل ہو گئے۔
لیکن اس کڑی آزمائش میں صرف چار علمی شخصیتیں اپنے موقف پر جمی رہیں وہ حکم خداوندی پر قانع رہے، ان کے پایۂ ثبات میں ذرا بھی لغزش نہ آئی ، وہ چار بزرگ یہ تھے (۱) امام احمد بن خلیل (۲) محمد بن نوح (۳) قواریری (۴) سجادہ۔
ان چاروں کو بیڑیاں پہنا کر قید خانے میں بھیج دیا گیا، جہاں انہوں نے رات گزاری، جب صبح ہوئی، تو سجادہ نے معتزلہ کی دعوت پر لبیک کہہ دی اور وہ بیڑیوں سے آزاد کر دیا گیا، باقی اسی طرح مقید رہے، اگلے دن ان سے خلق قرآن کے بارے میں دریافت کیا گیا، قواریری کا عقیدہ متزلزل ہو گیا اور اس نے نظریۂ خلق قرآن قبول کر لیا، اسے بھی آزادی مل گئی ، اب صرف دو مردان حق قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کے لیے باقی رہ گئے، جنہیں طوق و سلاسل میں جکڑ کر مامون کے پاس روانہ کیا گیا، جو اس وقت طرطوس میں مقیم تھا۔
یہ لوگ کوفہ کے علاقے میں تھے، تو بدووں کا ایک غلام جابر بن عامر ان کے پاس آیا اور اس نے سلام کیا اور کہنے لگا، آپ ارباب اقتدار کے پاس جانے والے ہیں، ان کے لیے منحوس نہ بنیں، آج آپ مسلمانوں کے سردار ہیں اور جس بات کی طرف آپ کو دعوت دیتے ہیں، اس کا جواب دینے سے بچیں، ورنہ قیامت کے دن آپ ان کے گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے اور اگر آپ اللہ سے محبت کرتے ہیں، تو آپ جس حالت میں ہیں، اس پر صبر کیجیے، آپ کے بعد جنت کے درمیان صرف آپ کا قتل ہونا ہی باقی ہے اور اگر آپ زندہ رہے، تو قابل تعریف حالت میں زندہ رہیں گے۔
(ابن کثیر ج ۱۰ ص ۸۸۵)
امام احمد کا بیان ہے، کہ اس غلام کی گفتگو نے میرے عقیدے اور عزم کو قوت عطا کی ، آپ کہتے ہیں:
سمعت كلمة منذ وقعت في هذا الأمر الذي وقعت فيه اقوى من كلمة اعرابي كلمنى فيها في رحبة طوق قال لي يا احمد ان يقتلك الحق مت شهيدا وان عشت عشت حميدا قال فقوی قلبی - (مناقب ص (۳۹)
جب سے میں اس آزمائش میں مبتلا کیا گیا اس اعرابی کی گفتگو سے زیادہ قوت دینے والی کوئی بات نہیں سنی ، جس نے مجھ سے اسیری کی حالت میں کہا ، احمد ! اگر حق پر قتل کیے جاؤ گے تو شہید ہو گے اور اگر زندہ رہے تو تمہاری ستائش کی جائے گی احمد کہتے ہیں اس بات نے میرے دل کو مضبوط کر دیا۔ راہ حق کے دونوں با عظمت قیدی جب خلیفہ کی قیام گاہ سے ایک دن کی مسافت پر تھے، تو ایک خادم اپنے آنسو پوچھتے ہوئے حاضر ہوا اور کہنے لگا اے ابو عبد اللہ ! مجھ پر یہ بات گراں گزرتی ہے، کہ مامون نے ایک تلوار سونتی ہے، جو اس سے پہلے کبھی نہیں سونتی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت داری کی قسم کھا کر کہتا ہے، کہ احمد بن حنبل نے اگر خلق قرآن کے قول کو قبول نہ کیا تو اسے اپنی تلوار سے قتل کر دے گا۔
امام صاحب اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور آپ نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا، اے میرے اللہ ! تیرے حلم نے اس فاجر کو فریب دیا ہے، حتی کہ اس نے تیرے اولیا کے ضرب و قتل پر جرات کی ہے، اے اللہ ! اگر قرآن جو تیرا کلام ہے، غیر مخلوق ہے، تو ہمیں اس کی مشقت سے کفایت کر۔
رات کے آخری پہر خبر آئی، کہ مامون مر گیا اور معتصم کو خلیفہ بنا دیا گیا۔
(ابن کثیر ج ۱۰ ص ۸۸۹ ماخوز از سیرت امام احمد بن حنبل)
یہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کی ذات مبارکہ ہے کہ قتل کی دھمکی سننے کے باوجود حق گوئی سے باز نہ آئے بلکہ دنیا کو بتا دیا
آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
حضور تاج الشریعہ کی حق گوئی____
تیسری مرتبہ١٩٨٦ء/١٤٠٦ھ حج کے موقع پرسعودی حکومت نے حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کو بیجا گرفتار کرلیا اس موقع پر آپ نے حق گوئی و بے باکی کا جو مظاہرہ کیا وہ آپ ہی کا حصہ تھا۔ سعودی مظالم کے متعلق حضور تاج الشریعہ خود فرماتے ہیں:
مختصر یہ کہ مسلسل سوالات کے باوجود میرا جرم میرے بار بار پوچھنے کے بعد بھی مجھے نہ بتایا بلکہ یہی کہتے رہے کہ ”میرا معاملہ اہمیت نہیں رکھتا۔” لیکن اس کے باوجود میری رہائی میں تاخیر کی گئی اور بغیر اظہار جرم مجھے مدینہ منورہ کی حاضری سے موقوف رکھا اور١١/ دنوں کے بعد جب مجھے جدہ روانہ کیا گیا تو میرے ہاتھوں میں جدہ ائیر پورٹ تک ہتھکڑی پہنائے رکھی اور راستے میں نماز ظہر کے لیے موقع بھی نہ دیا گیا اس وجہ سے میری نماز ظہر قضاہو گئی۔
[مفتئ اعظم ہند اور ان کے خلفاء صفحہ :١٥٠/جلد :١]
اسی کی عکاسی کرتے ہوئے سرکار تاج الشریعہ نے فرمایا ۔
نہ رکھا مجھ کو طیبہ کی قفس میں اس ستم گر نے
ستم کیسا ہوا بلبل پہ یہ قید ستم گر میں
ستم سے اپنے مٹ جاؤ گے تم خود اے ستمگارو
سنو ہم کہہ رہے ہیں بے خطر دورِ ستم گر میں
مدینے سے رہیں خود دور اس کو روکنے والے
مدینے میں خود اختر ہے مدینہ چشم اختر میں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اسی مرد خدا قلندر بریلوی سیدنا سندنا مرشدنا سرکار تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کے تلمیذ رشید مفتی سلمان ازہری دام ظلہ العالی کو بغیر جرم کے تقریبا آٹھ دس مہینے تک جیل میں رکھا بالآخر بحمدہ تعالیٰ ١٤ ربیع الآخر ١٤٤٦ھ بمطابق ١٨ اکتوبر ٢٠٢٤ء بروز جمعہ ضمانت ملی اور ١٥ ربیع الآخر اپنے گھر تشریف لائے جس میں لوگوں نے اسقبالیہ نعرہ لگاتے ہوئے کہا شیر آیا شیر آیا تو اس کے جواب میں مفتی سلمان ازہری صاحب نے فرمایا شور بھی آئے گا جو اس بات کی طرف مشیر ہے کہ یہ شیر پھر دھاڑے گا اور اگر ایسی آزمائشیں لاکھوں بھی آ جائیں تو سب کو ہنستے ہوئے گلے سے لگا لے گا کیونکہ
آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
دار ؤ سکندر سے وہ مرد فقیر اولی
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہی
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
Author Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate
اس کاتب کی جملہ مضامین 39

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

اوراد و وظائف

سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات

#سید الایام اور نغمۂ درود: فضائل و برکات ​کائنات کی بساط پر جب جمعہ کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ صرف ایک دن کا آغاز نہیں ہوتا بلکہ رحمتوں...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟

برسات کی کمی، اعمال کی کمی کا نتیجہ؟ @مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 جب زمین کی پیاسی مٹی آسمان کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے، جب...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
اصلاح معاشرہ

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب

کربلا اسلام کی بقا کا روشن باب مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 8446974711 تاریخِ انسانی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے بلند...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
فقہ وفتاویٰ

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا

مذاق میں طلاق دینا، طلاق کی ریل بنانا اے قومِ مسلم! طلاق جیسے نازک مسئلہ کو مذاق نہ بناؤ #✍️ مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی 📱8446974711📱 👈 آج کے...

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
تاریخی حقائق

دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی

#دہشت گردی کی اصل نظریاتی جڑ: ڈارون ازم اور مادہ پرستی (اسلام دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کا واحد حل ہے) ​اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تاریخی حقائق

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج

دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج @از: محمد انس رضا حامؔی برکاتی متعلم: جماعت-خامسہ، جامعۃ الرضا، بریلی شریف جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں اور خلافت...

Muhammad Anas Raza Haami
متفرقات

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف

موجودہ صدی کا عظیم فتنہ سیکولرازم: ایک تعارف اللہ جل جلالہ کا فضل و احسان عظیم کہ ہمیں تمام تر گمراہیوں سے نکال کر راہِ ہدایت کا راہی بنایا اور...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح * عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے...

Amir Fuzail Markazi
حکایات

حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ

#حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ [رضی اللہ عنھما] از: محمد جسیم اکرم مرکزی نزیل: دراسہ، قاہرہ، مصر رابطہ: 9523788434 قاہرہ، مصر میں موجود حضرت سیدہ نفیسہ رضی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

فقہ حنفی کی جامعیت

فقہ حنفی کی جامعیت اسلامی شریعت کے استنباط اور عملی تطبیق کے لیے جو فقہی مکاتبِ فکر وجود میں آئے، ان میں فقہ حنفی کو ایک مرکزی اور تاریخی امتیاز...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی...

Amir Fuzail Markazi
ترغیبات

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….!

یوم آزادی یا مدارس میں دین سے بے وفائی….! دینی مدارس و مکاتب قوم مسلم کے قلعے،شریعت مطہرہ کے محافظ اور امت کے فکری نگراں ہیں ان کا قیام محض...

Md Razaullah Quadri Markazi
رد دیوبندیت ووہابیت

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی

دیوبندی مدارس کا فتنہ انگیز کردار اور امتیاز پلاموی وہابی کی دوغلی پالیسی کل امتیاز پلاموی دیوبندی کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں اس نے فقیر قادری کی...

Amir Fuzail Markazi
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب...

Amir Fuzail Markazi
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟ روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد...

Amir Fuzail Markazi
ادبیات

سخنِ دل

#سخنِ دل دنیا ایک ایسی مسافر سرائے ہے، جہاں ہر راہی اپنے حصے کا سفر طے کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لمحے کے لیے کسی کے ساتھ چلتا...

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم @از قلم: محمد جسیم اکرم مرکزی تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف 9523788434 @ گستاخ چار یار تبرائی رافضی تیرا ٹھکانہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال وطن

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا انداز عشق سب کا الگ الگ ہوتا ہے کوئی قریب رہ کر بھی بہت دور ہوتا ہے کوئی دور ہو کر...

Mufti Jasim Akram Markazi
شخصیات اسلاف واخلاف

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری) مہینوں بعد امید کی کرن پھوٹی غنچۂ دل کھل اٹھا پژمردہ چمن شاداب ہوا کشت ویراں میں...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ ملک کے ناگفتہ بہ حالات کسی پر مخفی نہیں ہیں ہر طرف سے مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟

*فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟* اللہ جل و علا کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب سرکار کائنات فخر موجودات انیس بے کساں وجہ تخلیق جہاں صلی اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اشک فشاں گفت و شنید

اشک فشاں گفت و شنید آج بتاریخ 5 ذو القعدہ 1445ھ بمطابق 15 مئ 2024ء امیر القلم ماہر رضویات شمس الملت علامہ ڈاکٹر غلام جابر مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ سے...

Mufti Jasim Akram Markazi
فقہ، اصول فقہ

تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں

*تکفیر اصول تکفیر [تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں]* "بسم الله الرحمن الرحيم الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا...

Mufti Jasim Akram Markazi
احوال قوم وملت

اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات

*اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات* "لك الحمد يا الله والصلاۃ والسلام علیك یا رسول اللہ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ...

Mufti Jasim Akram Markazi
ادبیات

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی "الله الله اللهُ مَالِي رَبِّ إِلَّا هُوَ يَفْنَى الْكُلُّ وَيَبْقَى هُوَ لَيْسَ الْبَاقِي إِلَّا هُوَ" "اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم...

Mufti Jasim Akram Markazi
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 9
اصلاح معاشرہ 9
ادبیات 8
احوال قوم وملت 8
نمایاں مضامین 6
احوال وطن 5
فقہ، اصول فقہ 3
تاریخی حقائق 3
فقہ وفتاویٰ 3
عقائد و نظریات 2
اوراد و وظائف 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
سیرت النبی ﷺ 1
روداد مناظرہ 1
ترغیبات 1
عبادات 1
تحقیق و تعاقب 1
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 1
دفاع اہل سنت 1
معاملات 1
رد دیوبندیت ووہابیت 1
حکایات 1
متفرقات 1
[markazi_authors]
اصلاح معاشرہ

بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح

* بعدِ نماز ائمۂ کرام کی ایک قابلِ توجہ غلطی اور اس کی اصلاح *عصر حاضر میں بہت سے ائمۂ کرام کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد ہمیشہ فقط داہنی جانب انحراف کرتے ہیں، وہ بھی برائے نام یعنی بعد نماز بس تھوڑے ترچھے ہو جاتے ،یعنی بع...
تحقیق و تعاقب

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ

دیوبندی اقرار کہ کوا کھانے میں اللہ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے، رشید گنگوہی اوراعلی حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کے درمیان ایک تحقیقی موازنہ میں اکثر کہتا ہوں" دیوبندی ہونے کے لیے دوغلا اور کذاب ہونا شرط اول ہے جو جتنا بڑا دیوبندی وہ اتنا بڑا کذ...
عقائد و نظریات

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اثبات علم ماکان وما یکون للنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" باسمه تعالى ونصلى على نبيه الاعلى اتفقت الامةقاطبۃعلی ان العلم بالغیب ثابت للانبیاءعلیھم السلام ولا سیما لحبیب اللہ محمد ﷺ فھویعلم ماکان ومایکون وھذاالامر ثابت بالنصوص ال...
دفاع اہل سنت

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟

کیا مندر اور مزارات پر ایک جیسے کام ہوتے ہیں ؟روحانیت اور عبادت، نوعِ انسانی کی قلبی و باطنی تسکین کا وہ سرچشمہ ہے جسے ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ تاہم، ہر ملت و مسلک میں "عبادت" کا مفہوم اور "مرکزِ عقیدت" کا دائرۂ ک...
معاملات

تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ایک نافع کتاب

* تجارت سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں* ایک نافع کتا- سیرت نبوی ﷺ نہ صرف عبادات و معاملات بلکہ معاشرت و معیشت کے ہر گوشے میں بنی نوع انسان کے لیے کامل و اکمل رہنمائی کا منبع ہے۔اسی سنہری کڑی کی وضاحت میں زیر نظر کتاب *تجار...
اصلاح معاشرہ

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورت

مدارس کے ذمہ داروں کی کوتاہی اور مدارس میں لائبریری کی ناگزیرضرورتمدارسِ اسلامیہ امتِ مسلمہ کے وہ مقدس قلعے ہیں جہاں سے صدیوں سے دینِ متین کی آبیاری ہو رہی ہے۔ انہی مدارس کے فیض سے ائمۂ ہدیٰ، محدثینِ عظام، فقہا و مفسرین اور مجاہدینِ دین پیدا ہوئے ج...
کامیابی!
×
Total Profiles: 0