یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

ادبیات
_انتظار
_انتظار ____
کل قُبیل عٙشائیہ انہوں نے فون کیا اور اپنی مدبھری آواز میں یہ مژدہ جاں فِزا سنایا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں میں تھا کہ ان کے چاشنی سے لبریز الفاظ سن کر بے خود ہوگیا اور دل مانند فاختہ خیالوں میں پرواز کرنے لگا جیسے تیسے رات بسر ہوئی! دل تھا کہ ان سے ملنے کو بے چین و بے قرار تھا جیسے ہی موذّن نے اذان صبیح کے پاکیزہ کلمات سے فضا کو معطر کیا ادھر فوراً میں اپنی خوابگاہ سے اٹھا، وضو کیا اور نماز صبح سے فارغ البال ہوا اب کیا تھا ! دل میں وہی امنگ کہ ان سے ملنا ہے ان سے ملنا ہے
لیکن آج کا دن اتنا طویل محسوس ہورہا تھا جیسے پچاس برس کا ہو کاٹے نہ کٹے !
لیکن آج کا دن اتنا طویل محسوس ہورہا تھا جیسے پچاس برس کا ہو کاٹے نہ کٹے !
بڑی بیتابی سے وقتِ عصر کا انتظار تھا جوں جوں عصر کا وقت قریب ہورہا تھا ادھر دل کی دھڑکنوں میں اضافہ ہورہا تھا
لیکن خال خال دلِ مضطر کو قابو میں لیا اور جوں ہی عصر کا وقت ہوا نماز عصر ادا کی اور مانندِ برق جائے معھود پر جا پہنچا
اب آنکھیں ان کی راہ تکنےلگیں اس حال میں کہ ہمہ تن گوش ہوکر میں بیٹھا تھا اب انتظار کی گھڑیاں شروع ہوگئیں دھیرے دھیرے وقت سمٹنے لگا ، اور یوں ہی وقت گزرتا جارہا تھا یہاں تک وہ پرندے جو وقتِ صبح اپنے اپنے آشیانوں سے برائے خورد و نوش نکلے تھے اب وہ بھی اپنے اپنے گھروں کو واپس ہونے لگے تھے اور شمسِ نہار شفقِ احمر میں جانے کے لیے الودع کہنے کے درپئے ہونے لگا ،
لیکن خال خال دلِ مضطر کو قابو میں لیا اور جوں ہی عصر کا وقت ہوا نماز عصر ادا کی اور مانندِ برق جائے معھود پر جا پہنچا
اب آنکھیں ان کی راہ تکنےلگیں اس حال میں کہ ہمہ تن گوش ہوکر میں بیٹھا تھا اب انتظار کی گھڑیاں شروع ہوگئیں دھیرے دھیرے وقت سمٹنے لگا ، اور یوں ہی وقت گزرتا جارہا تھا یہاں تک وہ پرندے جو وقتِ صبح اپنے اپنے آشیانوں سے برائے خورد و نوش نکلے تھے اب وہ بھی اپنے اپنے گھروں کو واپس ہونے لگے تھے اور شمسِ نہار شفقِ احمر میں جانے کے لیے الودع کہنے کے درپئے ہونے لگا ،
اور تاریکی نے اپنے ڈورے ڈالنا شروع کردیے حتّی کہ اس نے اپنے مکمل پنکھ پھیلا دیے یہاں تکہ دل اداسیوں کے آغوش میں جانے کے درپئے ہونے لگا اور آنکھیں ان کے انتظار میں پتھرا گئیں لیکن وہ ابھی تک نہ آئے تھے --------------

_انتظار
مضمون نگار: Mufti Rashid Raza Markazi
_انتظار ____
کل قُبیل عٙشائیہ انہوں نے فون کیا اور اپنی مدبھری آواز میں یہ مژدہ جاں فِزا سنایا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں میں تھا کہ ان کے چاشنی سے لبریز الفاظ سن کر بے خود ہوگیا اور دل مانند فاختہ خیالوں میں پرواز کرنے لگا جیسے تیسے رات بسر ہوئی! دل تھا کہ ان سے ملنے کو بے چین و بے قرار تھا جیسے ہی موذّن نے اذان صبیح کے پاکیزہ کلمات سے فضا کو معطر کیا ادھر فوراً میں اپنی خوابگاہ سے اٹھا، وضو کیا اور نماز صبح سے فارغ البال ہوا اب کیا تھا ! دل میں وہی امنگ کہ ان سے ملنا ہے ان سے ملنا ہے
لیکن آج کا دن اتنا طویل محسوس ہورہا تھا جیسے پچاس برس کا ہو کاٹے نہ کٹے !
لیکن آج کا دن اتنا طویل محسوس ہورہا تھا جیسے پچاس برس کا ہو کاٹے نہ کٹے !
بڑی بیتابی سے وقتِ عصر کا انتظار تھا جوں جوں عصر کا وقت قریب ہورہا تھا ادھر دل کی دھڑکنوں میں اضافہ ہورہا تھا
لیکن خال خال دلِ مضطر کو قابو میں لیا اور جوں ہی عصر کا وقت ہوا نماز عصر ادا کی اور مانندِ برق جائے معھود پر جا پہنچا
اب آنکھیں ان کی راہ تکنےلگیں اس حال میں کہ ہمہ تن گوش ہوکر میں بیٹھا تھا اب انتظار کی گھڑیاں شروع ہوگئیں دھیرے دھیرے وقت سمٹنے لگا ، اور یوں ہی وقت گزرتا جارہا تھا یہاں تک وہ پرندے جو وقتِ صبح اپنے اپنے آشیانوں سے برائے خورد و نوش نکلے تھے اب وہ بھی اپنے اپنے گھروں کو واپس ہونے لگے تھے اور شمسِ نہار شفقِ احمر میں جانے کے لیے الودع کہنے کے درپئے ہونے لگا ،
لیکن خال خال دلِ مضطر کو قابو میں لیا اور جوں ہی عصر کا وقت ہوا نماز عصر ادا کی اور مانندِ برق جائے معھود پر جا پہنچا
اب آنکھیں ان کی راہ تکنےلگیں اس حال میں کہ ہمہ تن گوش ہوکر میں بیٹھا تھا اب انتظار کی گھڑیاں شروع ہوگئیں دھیرے دھیرے وقت سمٹنے لگا ، اور یوں ہی وقت گزرتا جارہا تھا یہاں تک وہ پرندے جو وقتِ صبح اپنے اپنے آشیانوں سے برائے خورد و نوش نکلے تھے اب وہ بھی اپنے اپنے گھروں کو واپس ہونے لگے تھے اور شمسِ نہار شفقِ احمر میں جانے کے لیے الودع کہنے کے درپئے ہونے لگا ،
اور تاریکی نے اپنے ڈورے ڈالنا شروع کردیے حتّی کہ اس نے اپنے مکمل پنکھ پھیلا دیے یہاں تکہ دل اداسیوں کے آغوش میں جانے کے درپئے ہونے لگا اور آنکھیں ان کے انتظار میں پتھرا گئیں لیکن وہ ابھی تک نہ آئے تھے --------------
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
جاری____________
✍️___راشد رضا










