صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
فقہ حنفی کی جامعیت
فقہ، اصول فقہ

فقہ حنفی کی جامعیت

✍️ Mufti Noor Nawaz Nashid Markazi

فقہ حنفی کی جامعیت
فقہ اسلامی قانون کے اس مجموعہ کا نام ہے جو ہدایت الٰہی کی روشنی میں حالات اور تقاضوں کا لحاظ کرکے مرتب و مدون کیا گیا ہو جیسا کہ فقہ کی کتابوں میں درج ہے الفقه مجموعة الاحكام المشروعة في الاسلام یعنی شرعی قوانین کے مجموعہ کا نام فقہ ہے۔
فقہ مسلم معاشرے کی حیات مستعار کا جزو لاینفک ہے فقہ اسلامی اک ایسا علمی ڈھانچہ ہے۔ جس کو قرآن، سنت، اجماع اور قیاس کے خمیر سے بنایا اور سنوارا گیا ہے جو کہ ہر موڑ پر نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کرتا ہے کیوں کہ انسان جس طرح عبادات میں اسلام کا پابند ہے اسی طرح اخلاقیات، معاملات، معاشیات اور سیاسیات میں بھی لحظہ لحظہ قدم بقدم اسلام کا پابند ہے اور فقہ ہی معالم حلال و حرام ہے جس کو جان کر حلال کام کا بجالانا اور حرام چیز کے ارتکاب سے بچا جاتا ہے اور یہی اک مسلم اور مسلم معاشرے کا بنیادی مقصد ہے اور ہر دور میں اس کی ضرورت متحقق و مسلم رہی ہے جب اس کی حاجت عھد رسالت مأب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں ہوئی تو لوگوں نے براہ راست آقائے نعمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اپنی حاجت برآری کی یونہی قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے صحابہ کرام سے اپنی دینی تشنگی کو بجھاتے ہوۓ نظر آۓ لیکن جب اسلام کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا اور لوگوں کے درمیان اختلاف ہونے لگے نۓ نۓ فتنے ابھر نے لگے تب کئ ائمۂ کرام نے اس کام کو اپنے ذمۂ کرم پر لیا اور لوگوں کو قرآن و حدیث اور اقوال صحابہ کرام کے مطابق وضع کۓ ہوے قواعد و ضوابط کی رو سے احکام اسلام سے روشناس کرتے رہے لیکن ان تمام میں سے صرف چار مذاہب پر ائمۂ امت کا اجماع قائم ہوا یعنی امام اعظم امام مالک اور امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم لیکن ان چاروں میں سے جو مقبولیت خاص و عام اور شہرت دوام و استقرار مذہب حنفی کے دامن کرم میں آئی ایسی شہرت و مقبولیت کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔

فقہ حنفی کا تعارف

فقہ اسلامی کی تاریخ میں چار عظیم مذاھب میں سے جو مقام و مرتبہ
شہرت و مقبولیت و اشاعت فقہ حنفی کو حاصل ہے وہ محتاج تعارف نہیں اس عظیم مذہب کی بنیاد سراج الامۃ کاشف الغمۃ نے اپنے دور کے چالیس عالی مرتبت بلند فکر حساس و فعال علماۓ ذوی الاحترام جو کہ اپنے اپنے فن میں گوہر نایاب کی حیثیت رکھتے تھے ایسی عظیم شخصیات کے ساتھ ملکر مذہب حنفی کی بنیاد رکھی اور قرآن و سنت و اجماع کے مطابق قواعد و ضوابط معرض وجود میں لائے اور ایسے ایسے عقد لاینحل مسائل کا حل فرمایا جسے دیکھ کر زمانہ حیران و ششدر رہ گیا اور اصحاب مذہب حنفیہ کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کے ائمہ بھی اس عظیم مذہب کی فوقیت و جامعیت کے معترف ہوگۓ جیسا کہ بانی فقہ حنفی سراج الامۃ کاشف الغمۃ کی وسعت فکر و فوقیت علم کا اعتراف کرتے ہوے امام شافعی فرماتے ہیں ۔ الناس فى الفقه عيال على ابى حنيفة اور عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں انه مخ العلم أي انه يصل دائماالى الباب الخالص من العلم في غير انحرافـ ـ مقدمه ردالمحتار ـ اور امام اوزاعی تحریر فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ مشکل سے مشکل مسائل کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے تبییض الصحیفہ صفحہ ۳۴ میں ابوحنیفہ کے علم کی کثرت اور عقل کی وسعت پر رشک کرتا ہوں الخیرات الحسان [صفحہ ۱۰۸]
فقہ حنفی کی جامعیت سے مراد یہ ہے کہ زندگی کے تمام گوشوں عبادات سے لیکر معاملات تک اور عائلی مسائل سے لیکر سیاسی مسائل تک کا حل جس طرح مبرہن و مدلل انداز میں فقہ حنفی میں ہے اس جیسے پیچیدہ مسائل کا حل دوسرے مذہب میں مثل عنقاء ہے فقہ حنفی کی جامعیت کی بنیاد صرف مسائل کی زیادت و کثرت پر ہی نہیں بلکہ سب سے جداگانہ طرزِ استدلال علم کی گہرائی فکر کی وسعت و فقہی بصیرت پر رکھی گئ ہے اور امام اعظم کے بعد آپ کے تلامذہ نے مذہب حنفی کی باگ ڈور سنبھالی اور انہوں نے آپ کے قرآن و سنت و اجماع کے مطابق وضع کۓ ہوے اصول و ضوابط کی پیروی کرتے ہوے ہر طرح کے مشکل سے مشکل مسائل کا حل فرما کر مذہب حنفی کو وسعت عطاء کی جس کے نتیجے میں دو تہائی مسلم آبادی اس مذہب کے پیرو ہوے اور اکثر ممالک میں خلافت عباسیہ سے لیکر مغلیہ سلطنت تک سرکاری مذہب اور عدالتی و ریاستی قانون کے طور پر جاری و ساری کیا گیا اور آج بھی مسلم معاشرہ اکثریت کے ساتھ اسی مذہب کے دامن کرم سے منسلک ہیں اور انشاءاللہ تا قیام قیامت رہیں گے۔

طرز استدلال و طریق استنباط

فقہ حنفی کی فوقیت و جامعیت کی وجوہات میں سے ایک نمایاں وجہ طریق استدلال و طرز استنباط ہے ان کا طریق استنباط اور طرز استدلال یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے پیش آمدہ مسائل کا حل قرآن مجید و برہان رشید سے تلاش کرتے اور قرآن پاک میں نہ ملنے پر وہ احادیث پاک کی طرف رجوع کرتے اور مسائل کو حدیث پاک سے مدلل و مبرہن و مفصل انداز میں بیان کرتے اور احادیث وآثار میں نہ ملنے کی صورت میں اقوال صحابہ سے اپنا فرمان عالیشان جاری فرماتے جیسا کہ ردالمحتار کے مقدمہ میں امام اعظم سے ایک روایت مذکور و مسطور ہے کہ امام اعظم فرماتے ہیں آخذ بكتاب الله فان لم أجد فبسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم فان لم أجد فى كتاب الله تعالى ولا سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذت بقول اصحابه آخذ من شئت منهم و ادع من شئت منهم ولا اخرج عن قولهم الى قول غيرهم فاما إذا أنتهى الأمر الى ابراهيم ـ اى النخعي ـ و الشعبي و ابن سيرين والحسن و العطاء و سعيد بن المسيب قوم اجتهدوا فاجتهد كما اجتهدوا
تو سراج الامۃ کاشف الغمۃ کی اس فرمان عالیشان سے پتہ چلا کہ آپ پہلے کتاب اللہ سے استدلال و استنباط کا کام لیتے پھر سنت رسول سے اور ان دونوں میں نہ پائے جانے کی صورت میں اقوال صحابہ کرام سے مزین کر کے اپنے موقف کو ثابت کرتے یہ نہج تھا ایسے مسائل کے اجتہاد و استنباط کا جو کہ منصوص ہو اور رہے ایس مسائل جو کہ منصوص نہیں ہے تو اس سلسلے میں امام اعظم کے منہج استدلال کے تعلق سے مناقب میں امام مکی نے اپنے زمانے کے ایک مستند ذات کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ امام اعظم کا کلام مضبوط و مستحکم دلائل سے ہوتے اور آپ کمزور دلائل سے کتراتے اور لوگوں کے معاملات پر گہری نظر ڈالتے اور لوگوں کو اسی چیز کا حکم دیتے جو اس کے لۓ بہتر و مناسب ہوتا اور معاملات کو قیاس سے حل کرتے اگر قیاس بھی مناسب نہیں ہوتا تو استحسان سے ثابت کرتے ۔حنفیوں کا یہ طرز استدلال و طریق استنباط بالمقابل دیگر مذاہب کے کئ گنا اعلی و ارفع و ارجح ہے

قرآن مجید سے مطابقت

مذہب حنفی کی جامعیت و فوقیت کی اہم خصوصیات میں سے ایک یہ ہے قرآن حکیم کے موافق احکام کے استخراج و استنباط کرنے میں ان کے دلائل دیگر مذاہب کے مقابل زیادہ وسعت و جامعیت کے حامل ہیں
مثال کے طور پر قرأت خلف الامام اختلافی مسئلہ ہے امام اعظم کا مذہب یہ ہے کہ مقتدیوں پر قرأت واجب نہیں چاہے نماز سری ہو یا جہری اور امام شافعی کے نذدیک تمام نمازوں میں قرأت واجب ہے اور ان کا مستدل یہ حدیث پاک جو کہ عبادہ بن ثابت سے مروی ہے لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب اس حدیث پاک میں نفی کو نفی جواز پر محمول کرتے ہیں اسی لۓ وہ کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے بھی سورۂ فاتحہ کا پڑھنا جواز صلاۃ کے لۓ واجب ہے
اور حنفیوں کا مستدل یہ آیت پاک ہے إذا قري القرآن فاستمعوا له وانصتوا لعلكم ترحمون سورۂ اعراف اس آیت کریمہ سے واضح ہوتاہے کہ قرأت خلف الامام چاہے سری نماز میں ہو یا جہری نماز دونوں صورتوں میں منع ہے اور آیت کی تأئید میں کثیر احادیث پاک شاہد ہیں جیساکہ ابن ماجہ کی روایت ہے عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من كان له امام فان قراءة الإمام قراءة له
اور دوسری حدیث پاک میں ہے جو کہ ابن عباس سے مروی ہے عن الني صلى الله عليه وسلم قال يكفيك قراءة الإمام خافت أو جهر اور امام شافعی کا مستدل خود متعارض ہے کیوں کہ اس میں نفی سے نفی کمال اور نفی جواز دونوں کا احتمال ہے اور جس میں دو چیزوں کا احتمال ہو اسے دلیل کے طور پر پیش نہیں کر سکتے اگر ہم نفی والی حدیث کو مستدل مان بھی لیں تب بھی اس صورت میں نفی کو نفی کمال کی طرف پھیرنا زیادہ صحیح ہے اس کی کئ ساری مثالیں احادیث پاک میں موجود ہیں جیساکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً روایت ہے لا صلاۃ بحضرۃ الطعام اس میں نفی کمال کی ہے نہ کہ جواز کی [ملخص من تقریرات الالمعی فی کشف مافی جامع الترمذی]
اگر دوسرے کی طرف پھیرا جاۓ تو اس میں دونوں کی نفی ہو جائے گی کیوں کہ جس میں نفی جواز ہو اس میں نفی کمال بدرجہا اولی پایا جاۓگا اور اس صورت میں زیادہ اختلاف ہو گا۔اور یہ نفی کمال اس صورت میں ہے جبکہ مصلی منفرد ہو لیکن اگر خلف الامام ہو تو نفی کمال بھی نہیں بلکہ مقتدی کے لۓ ضروری ہے کہ وہ غور سنے اور خاموش رہے

مثال ثانی

والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء سورۂ بقرہ

ترجمہ۔ مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھے ۔اس آیت میں موجود لفظ قروء جمع ہے اور دو معنوں کے درمیان مشترک ہے یعنی حیض اور طلاق ۔ امام اعظم کے نزدیک قروء سے مراد حیض ہے اور امام شافعی کے نزدیک طھر ہے اور طھر کے مراد لینے سے آیت کریمہ کے موجب پر عمل نہیں ہو پارہا ہے کیوں کہ آیت میں موجود لفظ ثلاثۃ عدد معین خاص ہے جو کہ تین کے عدد کو بتانے کے لۓ وضع کیا گیا ہے اور خاص کا حکم یہ ہے کہ اس کے کل افراد پر عمل کرنا واجب ہے نہ ہی نقصان کے ساتھ اور نہ ہی زیادتی کے ساتھ ۔اس حکم پر اسی وقت عمل کرنا پایا جاۓگا جبکہ اس سے مراد حیض لیا جاۓ اور یہی حنفیوں کا مذہب ہے لیکن یہیں اگر طھر مراد لیا جاۓ جو کہ امام شافعی کا موقف ہے تو وہ طھر جس میں طلاق کا وقوع ہوا ہے اس کو عدت میں شامل کیا جائے گا یا نہیں ۔اگر کیا جائے تو دو طھر اور تیسرے کا بعض ہوگا اور اگر شمار نہ کیا جاۓ تو تین طھر اور بعض ہوگا جبکہ دونوں صورتوں میں خاص کے موجب پر عمل نہیں ہو پا رہا ہے تو اس موقف کے اعتبار سے مسئلہ متفرع ہوگا کہ جب مطلقہ عورت تیسرے طھر میں سے بعض کا شمار کر لے تو اس کا دوسرے شوہر سے نکاح کر نا جائز ہوگا جبکہ یہ اجماع کے خلاف ہے ۔۔[ملخص من التوضیح فی حل غوامض التنقیح]
ان دونو مثالوں سے واضح ہو گیا کہ امام اعظم کا قرآن پاک کے موافق استدلال بالمقابل دیگر مذاہب کے زیادہ اوفق و ارجح ہے

مذہب حنفی کا استدلال صحیح احادیث سے

مذہب حنفی کی بنیاد ہی صحیح احادیث پر ہی رکھی گئ ہے جیساکہ امام اعظم کا ارشاد ہے إذا صح الحديث فهو مذهبي يعنى جو صحیح حدیث ہو وہی میرا مذہب ہے ۔تبییض الصحیفہ
اور غسان کہتے ہیں کہ میں نے اسرائیل سے کہتے ہوے سنا ۔كان نعم الرجل النعمان ما كان احفظه لكل حديث فيه فقه واشد فحصه عنه فاكرمه الخلفاءوالامراء و الوزراء یعنی نعمان بن ثابت اچھے آدمی ہیں احادیث فقہ کے کیسے زبردست حافظ ہیں اور ان احادیث کی بہترین جانچ اور چھان بین کرنے والا آپ سے زیادہ کوئی نہیں ہے جن میں مسائل فقہیہ ہیں اسی وجہ خلفا امیروں وزیروں نے ان کی تعظیم کی جیساکہ مسئلہ رفع یدین سے ظاہر و باہر ہے کہ اس مسئلہ میں نفی رفع یدین اور اثبات رفع یدین دونوں طرح کی حدیثیں پائی جاتی ہیں لیکن احناف نے جس پہلو کو اختیار کیا ہے وہ زیادہ راجح ہے ان احادیث کے روایوں کے فقیہ ہونے اور ان احادیث کااختلاف و اضطراب سے خالی و عاری ہونے اور قرآن کی آیت قوموا لله قانتين سے زیادہ موافق ہونےکے اعتبار سے اور جو حضرات کہتے ہیں کہ احناف نص کے مقابلے میں قیاس کو ترجیح دیتے ہیں یہ بے بنیاد اور کھلا افتراءہے جیساکہ حضرت ابو جعفر اپنی سند متصل کے ساتھ امام اعظم سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے تھے ۔بخدا اس نے مجھ پر افترا کیا جو کہتا ہے کہ میں قیاس کو نص پر مقدم کرتا ہوں ۔جہان امام اعظم صفحہ ۴۴۳ ۔بھول کر کھانے پینے کے مسئلہ میں احناف کا موقف خود اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔ کیوں کہ قیاس تو یہی چاہتا ہے کہ روزہ ٹوٹ جائے گا نماز میں عمدا و سہوا کلام کرنے پر نماز کے باطل ہونے پر قیاس کرتے ہوئے جیساکہ امام مالک کا مذہب ہے لیکن احناف نے اس مسئلہ میں نص صریح عن ابى هريرة عن الني صلى الله عليه وسلم قال ـ اذا نسي فأكل أو شرب فليتم صومه فانما اطعمه الله و سقاه ـ صحيح بخارى
یہاں پر استحسانا اس حدیث پر عمل کرتے ہوے قیاس کے مقابل حدیث کو ترجیح دیۓ ہیں

آسانی اور سہولت

مذہب حنفی کے قواعد و ضوابط يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر کے مصداق سہولت و آسانی پر مبنی ہے الاشباہ والنظائر میں ہے ۔ وسع أبو حنيفة فى العبادات كلها فلم يقل ان مس المرأة و الذكر ناقض ولم يشترط النية في الطهارة ولاالدلك ووسع في المياه ففوضه الى رأى المبتلى به ولم يشترط مقارنة النية للتكبير و لم يعين من القرآن شيئا حتى الفاتحة عملا بقوله تعالى ـ فاقرءوا ما تيسر من القرآن صفحه ٢٣٢

شورائی مذہب

اس مذہب کی اہم خصوصیات میں سے مجلسِ شوریٰ سے مسائل کا استنباط و استخراج ہے جو کہ قرآن پاک کی آیت ـ وامرهم شورٰىبينهم و مما رزقنٰهم ينفقون ۔کے عین مصداق ہے امام اعظم نے قرآن حدیث اقوال صحابہ و تابعین کی پیروی کرتے ہوۓ مسائل کا استنباط و استخراج اور قرآن و حدیث و اجماع کے مطابق قواعد وضوابط وضع کرنے میں مجلس شوریٰ کا انتخاب کیا کیونکہ اجتماعی طور پر مسائل کو حل کرنے میں خطا و لغزش کا امکان بہت کم ہوتاہے گویا فقہ حنفی کو یہ اعزاز و افتخار حاصل ہے کہ انفرادی نہیں بلکہ شورائی فقہ ہے جبکہ دیگر ائمۂ کرام کے فقہ ان کے انفرادی اجتہاد کا نتیجہ ہے ۔انہیں اسباب و علل کی وجہ سے عالم اسلام میں مذہب حنفی کو وہ مقبولیت و شہرت حاصل ہوئی جس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں لائی جا سکتی

اختتام

الغرض فقہ اسلامی کی اس طویل تاریخ کے اندر فقہ حنفی میں جو عظیم الشان خدمت، بے مثال أصول و ضوابط پیچیدہ اور لاینحل مسائل کے استنباط و استخراج اور قرآن و سنت اجماع کے موافق استدلال کا منہج پایا جاتا ہے اس جامعیت و فوقیت و برتری کے ساتھ کسی اور مذہب میں نظر نہیں آتا ہے ۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
امام اعظم اور انکے تلامذہ کے مقرر کۓ ہوۓ اصول و ضوابط نہ صرف قرآن و سنت و روایت کے آئنہ دار ہیں بلکہ فطرت عقل سلیم و درایت کے بھی مطابق و موافق ہے یہی وجہ ہے کہ قرون اولیٰ سے لیکر آج تک دو تہائی سے زیادہ مسلمانوں نے اپنے انفرادی و اجتماعی فیصلے کا محور بھی اسی مذہب کو بنایا اور اس مذہب کو قانون ریاست و عدالت کے طور پر بھی منتخب کیا گیا ۔
اور فقہ حنفی کی خصوصیات یعنی قرآن کے عین موافق اور سنت رسول پر اعتماد اور صحابہ و تابعین سے گہرا ربط و ضبط قیاس استحسان عرف اور تعامل ناس کے موافق اور ضرورت کے پاۓ جانے پر آسانی اور سہولت کا فراہم کرنا یہی اہم خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے اس عظیم مذہب کو جامعیت و فوقیت حاصل ہے

فقہ حنفی کی جامعیت

مضمون نگار: Mufti Noor Nawaz Nashid Markazi

فقہ حنفی کی جامعیت
فقہ اسلامی قانون کے اس مجموعہ کا نام ہے جو ہدایت الٰہی کی روشنی میں حالات اور تقاضوں کا لحاظ کرکے مرتب و مدون کیا گیا ہو جیسا کہ فقہ کی کتابوں میں درج ہے الفقه مجموعة الاحكام المشروعة في الاسلام یعنی شرعی قوانین کے مجموعہ کا نام فقہ ہے۔
فقہ مسلم معاشرے کی حیات مستعار کا جزو لاینفک ہے فقہ اسلامی اک ایسا علمی ڈھانچہ ہے۔ جس کو قرآن، سنت، اجماع اور قیاس کے خمیر سے بنایا اور سنوارا گیا ہے جو کہ ہر موڑ پر نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کرتا ہے کیوں کہ انسان جس طرح عبادات میں اسلام کا پابند ہے اسی طرح اخلاقیات، معاملات، معاشیات اور سیاسیات میں بھی لحظہ لحظہ قدم بقدم اسلام کا پابند ہے اور فقہ ہی معالم حلال و حرام ہے جس کو جان کر حلال کام کا بجالانا اور حرام چیز کے ارتکاب سے بچا جاتا ہے اور یہی اک مسلم اور مسلم معاشرے کا بنیادی مقصد ہے اور ہر دور میں اس کی ضرورت متحقق و مسلم رہی ہے جب اس کی حاجت عھد رسالت مأب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں ہوئی تو لوگوں نے براہ راست آقائے نعمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اپنی حاجت برآری کی یونہی قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے صحابہ کرام سے اپنی دینی تشنگی کو بجھاتے ہوۓ نظر آۓ لیکن جب اسلام کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا اور لوگوں کے درمیان اختلاف ہونے لگے نۓ نۓ فتنے ابھر نے لگے تب کئ ائمۂ کرام نے اس کام کو اپنے ذمۂ کرم پر لیا اور لوگوں کو قرآن و حدیث اور اقوال صحابہ کرام کے مطابق وضع کۓ ہوے قواعد و ضوابط کی رو سے احکام اسلام سے روشناس کرتے رہے لیکن ان تمام میں سے صرف چار مذاہب پر ائمۂ امت کا اجماع قائم ہوا یعنی امام اعظم امام مالک اور امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم لیکن ان چاروں میں سے جو مقبولیت خاص و عام اور شہرت دوام و استقرار مذہب حنفی کے دامن کرم میں آئی ایسی شہرت و مقبولیت کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔

فقہ حنفی کا تعارف

فقہ اسلامی کی تاریخ میں چار عظیم مذاھب میں سے جو مقام و مرتبہ
شہرت و مقبولیت و اشاعت فقہ حنفی کو حاصل ہے وہ محتاج تعارف نہیں اس عظیم مذہب کی بنیاد سراج الامۃ کاشف الغمۃ نے اپنے دور کے چالیس عالی مرتبت بلند فکر حساس و فعال علماۓ ذوی الاحترام جو کہ اپنے اپنے فن میں گوہر نایاب کی حیثیت رکھتے تھے ایسی عظیم شخصیات کے ساتھ ملکر مذہب حنفی کی بنیاد رکھی اور قرآن و سنت و اجماع کے مطابق قواعد و ضوابط معرض وجود میں لائے اور ایسے ایسے عقد لاینحل مسائل کا حل فرمایا جسے دیکھ کر زمانہ حیران و ششدر رہ گیا اور اصحاب مذہب حنفیہ کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کے ائمہ بھی اس عظیم مذہب کی فوقیت و جامعیت کے معترف ہوگۓ جیسا کہ بانی فقہ حنفی سراج الامۃ کاشف الغمۃ کی وسعت فکر و فوقیت علم کا اعتراف کرتے ہوے امام شافعی فرماتے ہیں ۔ الناس فى الفقه عيال على ابى حنيفة اور عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں انه مخ العلم أي انه يصل دائماالى الباب الخالص من العلم في غير انحرافـ ـ مقدمه ردالمحتار ـ اور امام اوزاعی تحریر فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ مشکل سے مشکل مسائل کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے تبییض الصحیفہ صفحہ ۳۴ میں ابوحنیفہ کے علم کی کثرت اور عقل کی وسعت پر رشک کرتا ہوں الخیرات الحسان [صفحہ ۱۰۸]
فقہ حنفی کی جامعیت سے مراد یہ ہے کہ زندگی کے تمام گوشوں عبادات سے لیکر معاملات تک اور عائلی مسائل سے لیکر سیاسی مسائل تک کا حل جس طرح مبرہن و مدلل انداز میں فقہ حنفی میں ہے اس جیسے پیچیدہ مسائل کا حل دوسرے مذہب میں مثل عنقاء ہے فقہ حنفی کی جامعیت کی بنیاد صرف مسائل کی زیادت و کثرت پر ہی نہیں بلکہ سب سے جداگانہ طرزِ استدلال علم کی گہرائی فکر کی وسعت و فقہی بصیرت پر رکھی گئ ہے اور امام اعظم کے بعد آپ کے تلامذہ نے مذہب حنفی کی باگ ڈور سنبھالی اور انہوں نے آپ کے قرآن و سنت و اجماع کے مطابق وضع کۓ ہوے اصول و ضوابط کی پیروی کرتے ہوے ہر طرح کے مشکل سے مشکل مسائل کا حل فرما کر مذہب حنفی کو وسعت عطاء کی جس کے نتیجے میں دو تہائی مسلم آبادی اس مذہب کے پیرو ہوے اور اکثر ممالک میں خلافت عباسیہ سے لیکر مغلیہ سلطنت تک سرکاری مذہب اور عدالتی و ریاستی قانون کے طور پر جاری و ساری کیا گیا اور آج بھی مسلم معاشرہ اکثریت کے ساتھ اسی مذہب کے دامن کرم سے منسلک ہیں اور انشاءاللہ تا قیام قیامت رہیں گے۔

طرز استدلال و طریق استنباط

فقہ حنفی کی فوقیت و جامعیت کی وجوہات میں سے ایک نمایاں وجہ طریق استدلال و طرز استنباط ہے ان کا طریق استنباط اور طرز استدلال یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے پیش آمدہ مسائل کا حل قرآن مجید و برہان رشید سے تلاش کرتے اور قرآن پاک میں نہ ملنے پر وہ احادیث پاک کی طرف رجوع کرتے اور مسائل کو حدیث پاک سے مدلل و مبرہن و مفصل انداز میں بیان کرتے اور احادیث وآثار میں نہ ملنے کی صورت میں اقوال صحابہ سے اپنا فرمان عالیشان جاری فرماتے جیسا کہ ردالمحتار کے مقدمہ میں امام اعظم سے ایک روایت مذکور و مسطور ہے کہ امام اعظم فرماتے ہیں آخذ بكتاب الله فان لم أجد فبسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم فان لم أجد فى كتاب الله تعالى ولا سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذت بقول اصحابه آخذ من شئت منهم و ادع من شئت منهم ولا اخرج عن قولهم الى قول غيرهم فاما إذا أنتهى الأمر الى ابراهيم ـ اى النخعي ـ و الشعبي و ابن سيرين والحسن و العطاء و سعيد بن المسيب قوم اجتهدوا فاجتهد كما اجتهدوا
تو سراج الامۃ کاشف الغمۃ کی اس فرمان عالیشان سے پتہ چلا کہ آپ پہلے کتاب اللہ سے استدلال و استنباط کا کام لیتے پھر سنت رسول سے اور ان دونوں میں نہ پائے جانے کی صورت میں اقوال صحابہ کرام سے مزین کر کے اپنے موقف کو ثابت کرتے یہ نہج تھا ایسے مسائل کے اجتہاد و استنباط کا جو کہ منصوص ہو اور رہے ایس مسائل جو کہ منصوص نہیں ہے تو اس سلسلے میں امام اعظم کے منہج استدلال کے تعلق سے مناقب میں امام مکی نے اپنے زمانے کے ایک مستند ذات کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ امام اعظم کا کلام مضبوط و مستحکم دلائل سے ہوتے اور آپ کمزور دلائل سے کتراتے اور لوگوں کے معاملات پر گہری نظر ڈالتے اور لوگوں کو اسی چیز کا حکم دیتے جو اس کے لۓ بہتر و مناسب ہوتا اور معاملات کو قیاس سے حل کرتے اگر قیاس بھی مناسب نہیں ہوتا تو استحسان سے ثابت کرتے ۔حنفیوں کا یہ طرز استدلال و طریق استنباط بالمقابل دیگر مذاہب کے کئ گنا اعلی و ارفع و ارجح ہے

قرآن مجید سے مطابقت

مذہب حنفی کی جامعیت و فوقیت کی اہم خصوصیات میں سے ایک یہ ہے قرآن حکیم کے موافق احکام کے استخراج و استنباط کرنے میں ان کے دلائل دیگر مذاہب کے مقابل زیادہ وسعت و جامعیت کے حامل ہیں
مثال کے طور پر قرأت خلف الامام اختلافی مسئلہ ہے امام اعظم کا مذہب یہ ہے کہ مقتدیوں پر قرأت واجب نہیں چاہے نماز سری ہو یا جہری اور امام شافعی کے نذدیک تمام نمازوں میں قرأت واجب ہے اور ان کا مستدل یہ حدیث پاک جو کہ عبادہ بن ثابت سے مروی ہے لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب اس حدیث پاک میں نفی کو نفی جواز پر محمول کرتے ہیں اسی لۓ وہ کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے بھی سورۂ فاتحہ کا پڑھنا جواز صلاۃ کے لۓ واجب ہے
اور حنفیوں کا مستدل یہ آیت پاک ہے إذا قري القرآن فاستمعوا له وانصتوا لعلكم ترحمون سورۂ اعراف اس آیت کریمہ سے واضح ہوتاہے کہ قرأت خلف الامام چاہے سری نماز میں ہو یا جہری نماز دونوں صورتوں میں منع ہے اور آیت کی تأئید میں کثیر احادیث پاک شاہد ہیں جیساکہ ابن ماجہ کی روایت ہے عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من كان له امام فان قراءة الإمام قراءة له
اور دوسری حدیث پاک میں ہے جو کہ ابن عباس سے مروی ہے عن الني صلى الله عليه وسلم قال يكفيك قراءة الإمام خافت أو جهر اور امام شافعی کا مستدل خود متعارض ہے کیوں کہ اس میں نفی سے نفی کمال اور نفی جواز دونوں کا احتمال ہے اور جس میں دو چیزوں کا احتمال ہو اسے دلیل کے طور پر پیش نہیں کر سکتے اگر ہم نفی والی حدیث کو مستدل مان بھی لیں تب بھی اس صورت میں نفی کو نفی کمال کی طرف پھیرنا زیادہ صحیح ہے اس کی کئ ساری مثالیں احادیث پاک میں موجود ہیں جیساکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً روایت ہے لا صلاۃ بحضرۃ الطعام اس میں نفی کمال کی ہے نہ کہ جواز کی [ملخص من تقریرات الالمعی فی کشف مافی جامع الترمذی]
اگر دوسرے کی طرف پھیرا جاۓ تو اس میں دونوں کی نفی ہو جائے گی کیوں کہ جس میں نفی جواز ہو اس میں نفی کمال بدرجہا اولی پایا جاۓگا اور اس صورت میں زیادہ اختلاف ہو گا۔اور یہ نفی کمال اس صورت میں ہے جبکہ مصلی منفرد ہو لیکن اگر خلف الامام ہو تو نفی کمال بھی نہیں بلکہ مقتدی کے لۓ ضروری ہے کہ وہ غور سنے اور خاموش رہے

مثال ثانی

والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء سورۂ بقرہ

ترجمہ۔ مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھے ۔اس آیت میں موجود لفظ قروء جمع ہے اور دو معنوں کے درمیان مشترک ہے یعنی حیض اور طلاق ۔ امام اعظم کے نزدیک قروء سے مراد حیض ہے اور امام شافعی کے نزدیک طھر ہے اور طھر کے مراد لینے سے آیت کریمہ کے موجب پر عمل نہیں ہو پارہا ہے کیوں کہ آیت میں موجود لفظ ثلاثۃ عدد معین خاص ہے جو کہ تین کے عدد کو بتانے کے لۓ وضع کیا گیا ہے اور خاص کا حکم یہ ہے کہ اس کے کل افراد پر عمل کرنا واجب ہے نہ ہی نقصان کے ساتھ اور نہ ہی زیادتی کے ساتھ ۔اس حکم پر اسی وقت عمل کرنا پایا جاۓگا جبکہ اس سے مراد حیض لیا جاۓ اور یہی حنفیوں کا مذہب ہے لیکن یہیں اگر طھر مراد لیا جاۓ جو کہ امام شافعی کا موقف ہے تو وہ طھر جس میں طلاق کا وقوع ہوا ہے اس کو عدت میں شامل کیا جائے گا یا نہیں ۔اگر کیا جائے تو دو طھر اور تیسرے کا بعض ہوگا اور اگر شمار نہ کیا جاۓ تو تین طھر اور بعض ہوگا جبکہ دونوں صورتوں میں خاص کے موجب پر عمل نہیں ہو پا رہا ہے تو اس موقف کے اعتبار سے مسئلہ متفرع ہوگا کہ جب مطلقہ عورت تیسرے طھر میں سے بعض کا شمار کر لے تو اس کا دوسرے شوہر سے نکاح کر نا جائز ہوگا جبکہ یہ اجماع کے خلاف ہے ۔۔[ملخص من التوضیح فی حل غوامض التنقیح]
ان دونو مثالوں سے واضح ہو گیا کہ امام اعظم کا قرآن پاک کے موافق استدلال بالمقابل دیگر مذاہب کے زیادہ اوفق و ارجح ہے

مذہب حنفی کا استدلال صحیح احادیث سے

مذہب حنفی کی بنیاد ہی صحیح احادیث پر ہی رکھی گئ ہے جیساکہ امام اعظم کا ارشاد ہے إذا صح الحديث فهو مذهبي يعنى جو صحیح حدیث ہو وہی میرا مذہب ہے ۔تبییض الصحیفہ
اور غسان کہتے ہیں کہ میں نے اسرائیل سے کہتے ہوے سنا ۔كان نعم الرجل النعمان ما كان احفظه لكل حديث فيه فقه واشد فحصه عنه فاكرمه الخلفاءوالامراء و الوزراء یعنی نعمان بن ثابت اچھے آدمی ہیں احادیث فقہ کے کیسے زبردست حافظ ہیں اور ان احادیث کی بہترین جانچ اور چھان بین کرنے والا آپ سے زیادہ کوئی نہیں ہے جن میں مسائل فقہیہ ہیں اسی وجہ خلفا امیروں وزیروں نے ان کی تعظیم کی جیساکہ مسئلہ رفع یدین سے ظاہر و باہر ہے کہ اس مسئلہ میں نفی رفع یدین اور اثبات رفع یدین دونوں طرح کی حدیثیں پائی جاتی ہیں لیکن احناف نے جس پہلو کو اختیار کیا ہے وہ زیادہ راجح ہے ان احادیث کے روایوں کے فقیہ ہونے اور ان احادیث کااختلاف و اضطراب سے خالی و عاری ہونے اور قرآن کی آیت قوموا لله قانتين سے زیادہ موافق ہونےکے اعتبار سے اور جو حضرات کہتے ہیں کہ احناف نص کے مقابلے میں قیاس کو ترجیح دیتے ہیں یہ بے بنیاد اور کھلا افتراءہے جیساکہ حضرت ابو جعفر اپنی سند متصل کے ساتھ امام اعظم سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے تھے ۔بخدا اس نے مجھ پر افترا کیا جو کہتا ہے کہ میں قیاس کو نص پر مقدم کرتا ہوں ۔جہان امام اعظم صفحہ ۴۴۳ ۔بھول کر کھانے پینے کے مسئلہ میں احناف کا موقف خود اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔ کیوں کہ قیاس تو یہی چاہتا ہے کہ روزہ ٹوٹ جائے گا نماز میں عمدا و سہوا کلام کرنے پر نماز کے باطل ہونے پر قیاس کرتے ہوئے جیساکہ امام مالک کا مذہب ہے لیکن احناف نے اس مسئلہ میں نص صریح عن ابى هريرة عن الني صلى الله عليه وسلم قال ـ اذا نسي فأكل أو شرب فليتم صومه فانما اطعمه الله و سقاه ـ صحيح بخارى
یہاں پر استحسانا اس حدیث پر عمل کرتے ہوے قیاس کے مقابل حدیث کو ترجیح دیۓ ہیں

آسانی اور سہولت

مذہب حنفی کے قواعد و ضوابط يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر کے مصداق سہولت و آسانی پر مبنی ہے الاشباہ والنظائر میں ہے ۔ وسع أبو حنيفة فى العبادات كلها فلم يقل ان مس المرأة و الذكر ناقض ولم يشترط النية في الطهارة ولاالدلك ووسع في المياه ففوضه الى رأى المبتلى به ولم يشترط مقارنة النية للتكبير و لم يعين من القرآن شيئا حتى الفاتحة عملا بقوله تعالى ـ فاقرءوا ما تيسر من القرآن صفحه ٢٣٢

شورائی مذہب

اس مذہب کی اہم خصوصیات میں سے مجلسِ شوریٰ سے مسائل کا استنباط و استخراج ہے جو کہ قرآن پاک کی آیت ـ وامرهم شورٰىبينهم و مما رزقنٰهم ينفقون ۔کے عین مصداق ہے امام اعظم نے قرآن حدیث اقوال صحابہ و تابعین کی پیروی کرتے ہوۓ مسائل کا استنباط و استخراج اور قرآن و حدیث و اجماع کے مطابق قواعد وضوابط وضع کرنے میں مجلس شوریٰ کا انتخاب کیا کیونکہ اجتماعی طور پر مسائل کو حل کرنے میں خطا و لغزش کا امکان بہت کم ہوتاہے گویا فقہ حنفی کو یہ اعزاز و افتخار حاصل ہے کہ انفرادی نہیں بلکہ شورائی فقہ ہے جبکہ دیگر ائمۂ کرام کے فقہ ان کے انفرادی اجتہاد کا نتیجہ ہے ۔انہیں اسباب و علل کی وجہ سے عالم اسلام میں مذہب حنفی کو وہ مقبولیت و شہرت حاصل ہوئی جس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں لائی جا سکتی

اختتام

الغرض فقہ اسلامی کی اس طویل تاریخ کے اندر فقہ حنفی میں جو عظیم الشان خدمت، بے مثال أصول و ضوابط پیچیدہ اور لاینحل مسائل کے استنباط و استخراج اور قرآن و سنت اجماع کے موافق استدلال کا منہج پایا جاتا ہے اس جامعیت و فوقیت و برتری کے ساتھ کسی اور مذہب میں نظر نہیں آتا ہے ۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
امام اعظم اور انکے تلامذہ کے مقرر کۓ ہوۓ اصول و ضوابط نہ صرف قرآن و سنت و روایت کے آئنہ دار ہیں بلکہ فطرت عقل سلیم و درایت کے بھی مطابق و موافق ہے یہی وجہ ہے کہ قرون اولیٰ سے لیکر آج تک دو تہائی سے زیادہ مسلمانوں نے اپنے انفرادی و اجتماعی فیصلے کا محور بھی اسی مذہب کو بنایا اور اس مذہب کو قانون ریاست و عدالت کے طور پر بھی منتخب کیا گیا ۔
اور فقہ حنفی کی خصوصیات یعنی قرآن کے عین موافق اور سنت رسول پر اعتماد اور صحابہ و تابعین سے گہرا ربط و ضبط قیاس استحسان عرف اور تعامل ناس کے موافق اور ضرورت کے پاۓ جانے پر آسانی اور سہولت کا فراہم کرنا یہی اہم خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے اس عظیم مذہب کو جامعیت و فوقیت حاصل ہے
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Noor Nawaz Nashid Markazi

Student - Takhassus 2nd | Jamiatur Raza
18
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 2
Kalam 0
Mufti Noor Nawaz Nashid Markazi
زمرہ جات

شب برأت

امام محمد بن حسن شیبانی اور فقہ حنفی کی خدمات

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢